Al-Baqara 2:43

Al-Baqara · from ayah 43

2:43

وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ ۟وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَارۡكَعُوۡا مَعَ الرّٰكِعِيۡنَ

اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And establish prayer and give zakah and bow with those who bow [in worship and obedience].

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:43

نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں اُن کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ (مل کر) رکوع کیا کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ تم بھی رکوع کیا کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور قائم کرو تم نماز کو ایمان (لا کر) اور ادا کرو زکوٰۃ (طیب خاطر) کے ساتھ اور (دل و جان سے) جھک جاؤ تم اپنے (مالک حقیقی کے حضور) دوسرے جھکنے والوں کے ساتھ

— مولانا اسحاق مدنی

۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور (نماز میں) جھکنے والوں کے ساتھ جھکتے رہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور جھکو (نماز میں) جھکنے والوں کے ساتھ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والے یعنی جھکنے والوں کے ساتھ جھکو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Establish the Salat, pay the Zakat and bow down before Me along with those who bow down.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And be steadfast in Salah (prayer) , and pay Zakah, and bow down with those who bow down.

— Muhammad Taqi Usmani

And be steadfast in Salah (prayer) , and pay Zakah, and bow down with those who bow down.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And perform As-Salah, and give Zakah, and bow down along with Ar-Raki`in.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Establish worship, pay the poor-due, and bow your heads with those who bow (in worship).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And establish prayer and give zakah and bow with those who bow [in worship and obedience].

— Saheeh International

Be steadfast in prayer, pay the religious tax (zakat) and bow down in worship with those who do the same.

— Muhammad Sarwar

And keep up prayer and pay the poor-rate and bow down with those who bow down.

— Muhammad Habib Shakir

And establish prayer, and give the poor-rate, and bow down with those who bow down.

— Abdul Majid Daryabadi

And be steadfast in prayer; practise regular charity; and bow down your heads with those who bow down (in worship).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–43

بدخو یہودی یہودیوں کی اس بدخصلت پر ان کو تنبہہ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ جاننے کے باوجود کبھی تو حق و باطل کو خلط ملط کردیا کرتے تھے کبھی حق کو چھپالیا کرتے تھے۔ کبھی باطل کو ظاہر کرتے تھے۔ لہذا انہیں ان ناپاک عادتوں کے چھوڑنے کو کہا گیا ہے اور حق کو ظاہر کرنے اور اسے کھول کھول کر بیان کرنے کی ہدایت کی حق و باطل سچ جھوٹ کو آپس میں نہ ملاؤ اللہ کے بندوں کی خیر خواہی کرو۔ یہودیت و نصرانیت کی بدعات کو اسلام کی تعلیم کے ساتھ نہ ملاؤ۔ رسول اللہ ﷺ کی بابت پیشنگوئیاں جو تمہاری کتابوں میں پاتے ہو انہیں عوام الناس سے نہ چھپاؤ تکتموا مجزوم بھی ہوسکتا ہے اور منصوب بھی یعنی اسے اور اسے جمع نہ کرو۔ ابن مسعود…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–44

سورة الْبَقَرَة 59 نماز اور زکوٰۃ ہر زمانے میں دین اسلام کے اہم ترین ارکان رہے ہیں۔ تمام انبیا کی طرح انبیائے بنی اسرائیل نے بھی اس کی سخت تاکید کی تھی۔ مگر یہودی ان سے غافل ہوچکے تھے۔ نماز باجماعت کا نظام ان کے ہاں تقریباً بالکل درہم برہم ہوچکا تھا۔ قوم کی اکثریت انفرادی نماز کی بھی تارک ہوچکی تھی، اور زکوٰۃ دینے کے بجائے یہ لوگ سود کھانے لگے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور نماز قائم کرو تم لوگ نماز کو (یعنی مسلمان ہو کر) اور زکوٰۃ دو اور عاجزی کرو عاجزی کرنے والوں کے ساتھ (علماء بنی اسرائیل کے بعض اقارب مسلمان ہوگئے تھے جب ان سے گفتگو ہوتی تو خفیہ طور پر یہ علماء ان سے کہتے تھے کہ بیشک محمد ﷺ رسول برحق ہیں ہم لوگ تو کسی مصلحت سے مسلمان نہیں ہوتے مگر تم اس مذہب اسلام کو نہ چھوڑنا اسی بنا پر حق تعالیٰ نے فرمایا) کیا غضب ہے کہ کہتے ہو اور لوگوں کو نیک کام کرنے کو (یعنی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے کو) اور اپنی خبر نہیں لیتے حالانکہ تم تلاوت کرتے رہتے ہو کتاب کی (یعنی تورات کی جس میں جابجا ایسے عالم بےعمل کی مذمتیں مذکور ہیں) تو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَآتُوا الزَّكٰوةَ وَارْكَعُوۡا مَعَ الرَّاكِعِيۡنَ: اقامت صلوٰۃ کی پوری تحقیق شروع میں بیان ہو چکی ہے۔ یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ زکوٰۃ: زکوٰۃ کا لفظ زکا – یزکوا سے ہےجس کے معنی پاک ہونے کے ہیں۔ عربی میں نفس زکیہ اس نفس کو کہتے ہیں جو گناہوں سے پاک صاف ہو۔ دوسرا مفہوم اس مادے کے اندر بڑھنے اور نشوونما پانے کا ہے۔ زَکَا الزَّرۡعُ کے معنی ہوں گے، کھیتی بڑھی اور اپجی۔ زکوٰۃ کے اندر پاکیزگی اور نشوونما دونوں کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لئے کہ زکوۃ نفس اور مال دونوں کو پاکیزگی بھی بخشی ہے اور اس سے مال میں برکت اور بڑھوتری بھی ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی بعض آیات سے اس حقیقت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 41–44

41۔ 1 بِہِ کی ضمیر قرآن کی طرف یا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے۔ دونوں ہی قول صیح ہیں کیونکہ دونوں آپس میں لازم اور ملزوم ہیں، جس نے قرآن کے ساتھ کفر کیا اس نے محمد رسول اللہ کے ساتھ کفر کیا، جس نے قرآن کے ساتھ کفر کیا، اس نے محمد رسول ﷺ ساتھ کفر کیا (ابن کثیر) پہلے کافر نہ بنو کا مطلب ہے ایک تو تمہیں جو علم ہے دوسرے اس سے محروم ہیں، اس لئے تمہاری ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے مدینہ میں یہود کو سب سے پہلے دعوت ایمان دی گئی، ورنہ ہجرت سے پہلے بہت سے لوگ قبول اسلام کرچکے ہوتے، اس لئے انہیں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ یہودیوں میں تم اولین کافر مت بنو۔ اگر ایسا کرو گے تو تمام یہودیوں کے کفر کا وبال…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–48

39: رکوع کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ یہودیوں کی نماز میں رکوع نہیں ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں دعوت دیتے ہیں کہ بدبختو قافلہ ایمان جارہا ہے ، اس میں شامل ہوجاؤ، جماعت کا ساتھ دو ، ورنہ مٹ جاؤگے ، مذموم تعصبات کو چھوڑ دو اور اس انفرادیت کو ترک کرکے مسلمانوں کے ساتھ اجتماعی عبادات اور فرائض ادا کرو۔ اس لئے کہ علیحدگی پسندی زمانہ قدیم سے یہودیوں کی عادت مستمر چلی آرہی ہے ۔ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ ” نماز قائم کرو ۔ زکوٰۃ دو اور جو لوگ میرے آگے جھک رہے ہیں ، ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 42–43

11 یعنی باجماعت نماز پڑھا کرو پہلے کسی دین میں باجماعت نماز نہیں تھی اور یہود کی نماز میں رکوع نہ تھا۔ خلاصہ آیت کا یہ ہوا کہ صرف امور مزکورہ بالا نجات کے لئے تم کو کافی نہیں بلکہ تمام اصول میں نبی آخرالزمان کی پیروی کرو۔ نماز بھی ان کے طور پر پڑھو جس میں جماعت بھی ہو اور رکوع بھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43 وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ” یعنی باجماعت نماز ادا کیا کرو۔ اوّل تو یہود نے رکوع کو اپنے ہاں سے خارج کردیا تھا ‘ ثانیاً باجماعت نماز ان کے ہاں ختم ہوگئی تھی۔ چناچہ انہیں رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ گویا صراحت کی جا رہی ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ پر صرف ایمان لانا ہی نجات کے لیے کافی نہیں ‘ بلکہ تمام اصول میں آپ ﷺ ‘ کی پیروی ضروری ہے۔ نماز بھی آپ ﷺ کے طریقے پر پڑھو جس میں رکوع بھی ہو اور جو باجماعت ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

62 نماز اور زکوٰۃ، ہر زمانہ میں دین اسلام کے اہم ارکان رہے ہیں۔ لیکن یہود میں نماز باجماعت کا اہتمام نہیں تھا اور ان کی نماز میں رکوع بھی نہیں تھا۔ یہود نے نماز ادا کرنا بالکل چھوڑ ہی دیا تھا اور زکوٰۃ ادا کرنے کے بجائے سود کھانا شروع کردیا تھا۔ اس آیت میں انہیں تنبیہہ کی جا رہی ہے۔ کہ اب تمام امور میں نبی آخر الزمان ﷺ کی اتباع کرو۔ اس آیت اور اس سے اگلی تین آیات میں خطاب یہود اور مسلمانوں میں مشترک ہے۔ ہماری شریعت میں بھی نماز باجماعت ادا کرنا بہت فضیلت رکھتا ہے اور بلا عذر ترک جماعت کبیرہ گناہ ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ نماز باجماعت کی فضیلت اور فوائد :۔ 1۔ سیدنا عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

156 ۔ یعنی ایمان کے بعد عملا بھی ارکان اسلام کی پابندی کرو۔ ایمان لانے کا حکم ابھی ایک آیت قبل (آیت) ” وامنوا بماانزلت “ میں مل چکا ہے۔ اب تعلیم اہم جزئیات احکام کی ہورہی ہے۔ (آیت) ” اقیموا الصلوۃ “ نماز کے پابند ہوجاؤ کہ اس سے مرض حب جاہ کا علاج ہوجائے گا (تھانوی (رح)) (آیت) ” اتوالزکوۃ۔ زکوٰۃ دیتے رہو کہ اس سے مرض حب مال کی اصلاح ہوجائے گی۔ (تھانوی (رح)) (آیت) ” ارکعوا مع الراکعین “ جھکنے والوں کے ساتھ جھکو کہ تواضع باطنی کے حصول میں بڑا دخل اہل تواضع کی معیت کو ہوتا ہے (تھانوی (رح)) (آیت) ” ارکعوا “۔ رکوع اسلامی نماز کے ایک معروف رکن کا نام ہے۔ مقصد ارشاد یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ نماز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–46

آیت نمبر 43 تا 46 وَاَقِیْمُوا الصَّلوٰةَ وَاتُوا الزَّکوٰةَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ .... الیٰ .... وَاَنَّہُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔ ترجمہ : اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو، نماز پڑھنے والوں (یعنی) محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کے ساتھ نماز پڑھو، اور (آئندہ) آیت ان علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے رشتہ داروں سے کہا کرتے تھے، کہ دین محمد پر قائم رہو اس لئے کہ وہ حق ہے، کیا تم لوگوں کو نیکی (یعنی) محمد ﷺ پر ایمان کا حکم کرتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو، کہ خود کو ایمان کا حکم نہیں کرتے باوجود یکہ تم کتاب تورات پڑھتے ہو اور اس میں قول و فعل کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَ اَقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَ اٰتُو الزَّکٰوۃَ ( اور قائم کرو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ) مراد یہ ہے کہ جیسی نماز مسلمان پڑھتے اور جیسی زکوٰۃ مسلمان دیتے ہیں ایسی ہی نماز اور زکوٰۃ تم بھی پڑھو اور ادا کرو۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار جس طرح اصول 1 ؂ کے مکلف ہیں اسی طرح فروع ( یعنی احکام مثل نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہا) کے بھی ادا کرنے کے مخاطب اور مکلف ہیں۔ لفظ زکوٰۃ یا توز کا الزرع ( بڑھی کھیتی) سے مشتق ہے اور یا تزکی (پاک ہوا) سے مشتق ہے کیونکہ زکوٰۃ میں مال پاک بھی ہوجاتا ہے اور بڑھتا بھی ہے چناچہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے : یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقَات یعنی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(43) ایمان کے بعد اللہ تعالیٰ اب ان پر بعض احکام شریعت کی فرضیت کو بیان کرتے ہیں کہ پانچ نمازوں کو پورا کرو اور اپنے اموال کی زکوٰۃ دو اور رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ پانچ وقت کی نمازیں باجماعت پڑھو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اپنے عہد کے مطابق نبی کریم ﷺ پر ایمان لا کر یہ تینوں کام اہتمام سے کرو۔ اس آیت سے باجماعت نماز کی تاکید ظاہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں نے ارادہ کیا کہ ایندھن کا حکم دوں، وہ اکٹھا کیا جائے، پھر نماز کا حکم دوں، اس کے لیے اذان کہی جائے، پھر کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو امامت کروائے، پھر ان آدمیوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔“ [ بخاری، الأذان، باب وجوب صلٰوۃ الجماعۃ : 644۔ مسلم : 651۔ عن أبی ہریرۃ ؓ ] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص اذان سنے اور سن کر (نماز کے لیے مسجد میں) نہ آئے تو اس کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 43 اس میں چونتیس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واقیموا الصلوٰۃ امر ہے اور وجوب کے لئے ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اقامۃ الصلوٰۃ اور اس کے اشتقاق اور اس کے تفصیلی احکام پہلے گزر چکے ہیں۔ والحمد للہ۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واتوا الزکوٰۃ یہ امر بھی وجوب کے لئے ہے۔ الایتاء کا مطلب عطا کرنا ہے آیتتہ کا معنی آعطیتہ میں نے اسے عطا کیا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لئن اتنا من فضلہ لنصدقن (توبہ : 75) (اگر اس نے دیا ہمیں اپنے فضل سے تو ہم دل کھول کر خیرات دیں گے) ۔ آتیتہ۔ قصر کے ساتھ بغیر مد کے ہے اس کا معنی ہے میں اس کے پاس آیا۔ جب اتی استقبال کے معنی میں ہو تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–43

(1) امام عبد بن حمید اور ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اسرائیل سے مراد یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ عبد بن حمید ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن مسعود سے روایت کیا کہ اسرائیل سے مراد یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ (2) عبد بن حمید اور ابن المنذر نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) سخت گرفت کرنے والے آدمی تھے۔ ایک دفعہ کی ملاقات ایک فرشتے سے ہوئی وہ ان سے لڑ پڑے فرشتے نے ان کو بچھاڑ دیا اور ان کی ران پر مارا جب یعقوب (علیہ السلام) نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور فرمانے لگے میں تجھ کو چھوڑنے والا نہیں ہوں یہاں تک کہ تو میرا کوئی نام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَقِيْمُوا : اور تم لوگ قائم کرو ] [ الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ وَاٰتُوا : اور تم لوگ پہنچاؤ ] [ الزَّكٰوةَ : زکوۃ کو ] [ وَارْكَعُوْا : اور تم لوگ رکوع کرو ] [ مَعَ الرّٰكِعِيْنَ : رکوع کرنے والوں کے ساتھ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

نماز اور زکوٰۃ کا حکم اس آیت میں نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نماز قائم کرنے کا مطلب سورة البقرہ کے شروع میں بیان ہوچکا ہے۔ نماز بدنی عبادت ہے اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے۔ قرآن مجید میں بکثرت دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ آیا ہے۔ نماز میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ اللہ کا ذکر کرنے کی توفیق ہوتی ہے۔ نفس میں رجوع الی اللہ اور تواضع پیدا ہوتی ہے۔ اور نماز کی برکات اور ثمرات بہت ہیں جو علماء اسلام نے اپنی کتابوں میں بیان کی ہیں۔ زکوٰۃ سے نفس کی کنجوسی دور ہوتی ہے اور مال کا خبث بھی دور ہوتا ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ یعنی نماز باجماعت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–43

ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکموا الحق وانتم تعلمون۔ اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور نہ حق کو چھپاؤ حالانکہ تم جانتے ہو کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا کس قدر مذمورم ہے۔ زہر کو زہر جان کر کھانا انتہائی نادانی ہے۔ گزشتہ آیت میں بنی اسرائیل کو یہ حکم تھا کہ تم خود گمراہی سے باز آؤ اور ایمان اور ہدایت کو قبول کرو۔ اس آیت میں یہ حکم ہے کہ دوسروں کو گمراہ نہ کرو۔ جن لوگوں کے کان کچھ حق سے آشنا ہوچکے ہوں اور کلمۂ حق ان کے کان میں پڑچکا ہو ان کو گمراہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ حق اور باطل صدق اور کذب ہدایت اور ضلالت کو ان کے سامنے خلط ملط کردیا جائے تاکہ حق کے قبول کرنے میں متردد ہوجائیں۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–43

ف 101 ۔ یہ تیسری نہی ہے۔ وَتَکْتُمُوْا الْحَقَّ اس کا عطف تَلْبِسُوْا اور یہ چوتھی نہی ہے۔ یہودی خود بھی کفر اور گمراہی میں مبتلا تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی ہر ممکن طریقہ سے گمراہ کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ اس سے پہلی آیت میں خود یہود کو کفر وضلالت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔ اب اس آیت میں انہیں دوسرے لوگوں کو گمراہ کرنے سے روکا گیا ہے۔ اعلم ان قولہ سبحانہ وامنوا با انزلت امر یترک الکفر والضلال وقولہ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ ۔ علمائے یہود عوام کو گمراہ کرنے کے لیے دو طرح کے حربے استعمال کرتے تھے جن لوگوں کوحضور ﷺ کی تورات میں بیان کی گئی صفات و علامات کا تھوڑا بہت علم تھا ان کے دلوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–46

گزشتہ سے پیوستہ : اس رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت کا ذکر فرمایا ۔ پھر زمین پر اترنے کا حکم دیا۔ اور ہدایت و راہنمائی کا وہ اصول ہی بتلا دیا۔ جس پر جنت میں دوبارہ داخلے کا دار و مدار ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل سے خطاب ہوا۔ دوسری قوموں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کو مدت دراز تک فضیلت حاصل رہی۔ نبوت اور حکومت ان میں رہی۔ ان میں بڑے بڑے عابد و زاہد لوگ پیدا ہوئے۔ مگر ایک طویل عرصہ کے بعد اس قوم میں خرابیاں پیدا ہوگئیں ۔ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خلافت ارضی بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل کردی۔ گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کو خطاب کرکے ان پر کیے گئے انعامات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِيْنَ۝ 43 اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43] ، في غير موضع وَالْمُقِيمِينَ الصَّلاةَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–43

ترکیب : و حرف عطف برکلام سابق اذکروا لاتلبسوا الحق جملہ فعل فاعل و مفعول سے مرکب بالباطل متعلق ہے فعل مذکور سے وتکتموا فعل ضمیر انتم فاعل عطف ہے تلبسوا پر مجزوم ہے لانہی سے الحق اس کا مفعول وانتم تعلمون جملہ اسمیہ حال ہے۔ اقیموا الصلوۃ جملہ انشائیہ معطوف اور معطوف علیہ وآتوالزکوٰۃ معطوف اور معطوف علیہ وارکعوا معطوف اور مع الراکعین ظرف متعلق ہے۔ ارکعوا سے۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اصول ایمان اعنی نظریات سے مخاطب کیا اور ایمان لانے کا حکم دیا تو اس کے بعد عملیات کا بھی حکم دیا اور جو باتیں بری تھیں پیشتر ان سے منع کردیا۔ علمائِ یہود کا قدیم دستور اور جبلی عادت تھی کہ وہ کتب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ اَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوْا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ۔ (البقرۃ : 43) (اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) اس آیت کریمہ میں تین حکم دیئے گئے ہیں۔ (1) اقامتِ صلوٰۃ (2) اِیتاء زکوٰۃ (3) رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع۔ جہاں تک پہلے دونوں حکموں کا تعلق ہے اس کا ذکر ہم سورة فاتحہ کے درس میں تفصیل سے کرچکے ہیں۔ جہاں تک تیسرے حکم کا تعلق ہے، اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ رکوع کے معنی تو ہوتے ہیں،” آگے کی طرف جھک جانے، تواضع ظاہر کرنے اور فقر وغربت سے پست ہوجانے کے “۔ قرآن مجید میں تو عام طور پر اس سے مراد نماز ہوتی ہے۔ لیکن یہاں چونکہ مع…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

یہاں نماز کی تلقین اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دے کر انہیں سبق دیا جا رہا ہے۔ تمہیں اپنے مفادات کے سامنے جھکنے کی بجائے اللہ کے حضور سر نگوں ہونا چاہیے اور لوگوں سے مال بٹورنے کی بجائے زکوٰۃ کی صورت میں خرچ کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ کیونکہ اللہ کی رضا کی خاطر پوری زکوٰۃ ادا کرنے والا نہ بخیل ہوتا اور نہ لوگوں کا مال بٹورتا ہے۔ تنہا نماز پڑھنے کے بجائے مسلمانوں کے ساتھ مل کر رکوع کیا کرو۔ یہودیوں نے اپنی نماز میں رکوع کو خارج کردیا تھا۔ اس لیے رکوع کی ادائیگی کا بالخصوص ذکر فرما کر جماعت کی اہمیت کا احساس دلایا جارہا ہے کہ دین میں صرف نماز پڑھ لینا ہی کافی نہیں بلکہ نماز با جماعت ادا کرنے کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 42–43

کتمان و لبس کا معنی : وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ : (اور نہ لاحق کرو حق کو باطل کے ساتھ) لبس الحق بالباطل کا مطلب ان کا آپس میں ملانا ہے۔ نمبر 1: اگر باء صلہ کی مانیں تو اس قول کی طرح ہے لبست الشیء بالشیئ۔ میں نے دونوں چیزوں کو ملایا۔ اب مطلب یہ ہوا کہ تورات میں وہ چیزیں مت لکھو۔ جو اسمیں نہیں اسی طرح اتارا ہوا حق اس باطل سے مل جل جائے گا۔ جو تم نے لکھا ہے یہاں تک کہ اس کے حق و باطل میں تمہارے لیے تمیز نہ رہے گی۔ نمبر 2: اگر یہ باء استعانت ہو تو اس قول کی طرح ہوگا۔ کتبت بالقلم۔ اب معنی یہ بنے گا ولا تجعلوا الحق ملتبسا مشتبھا بباطلکم الذی تکتبونہ۔ حق کو ملتبس اور مشتبہ مت کرو اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

43۔ (آیت)” واقیموا الصلوۃ “ یعنی پانچ نمازیں ان کے وقتوں اور پابندیوں کے ساتھ (آیت)” واتوالزکاۃ “ اپنے مالوں کی فرضی زکوۃ ادا کرو ، لفظ زکوۃ الزرع سے لیا گیا ہے ، زکوۃ الزرع کے معنی ہے کھیتی بڑھی زیادہ ہوئی اور بعض نے کہا زکوۃ تزکی سے ماخوذ ہے یعنی پاک ہوا ، شرعی اصلاحی لفظ زکوۃ میں دونوں معنی موجود ہیں کیونکہ زکوۃ دینے سے مال پاک بھی ہوتا ہے اور بڑھتا بھی ہے ۔ (آیت)” وارکعوا مع الراکعین “۔ یعنی نماز پڑھو۔ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ جو کہ محمد کریم ﷺ اور اصحاب رسول اکرم ﷺ ہیں ، نماز کو لفظ رکوع سے تعبیر کیا گیا ، کیونکہ رکوع ارکان نماز میں سے (اہم ترین) رکن ہے نیز یہود کی نماز میں رکوع نہ تھا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–43

(42 ۔ 43): تورات میں نبی آخر الزمان ﷺ کے اوصاف کی جو آیتیں تھیں ان کو یہود نے بدل ڈالا تھا اور بعض مفسروں کا قول ہے کہ یہود لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ اخیر زمانہ میں دجال جو آوے گا وہ نبی آخر الزمان ہوگا۔ تورات کی آیتیں اس کی شان میں ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے کلام میں اپنی طرف سے جھوٹی باتیں نہ ملاؤ۔ اور دنیا کے تھوڑے سے لالچ کے لئے حق بات کو نہ چھپاؤ کہ جان بوجھ کر حق بات کا چھپانا بڑے وبال کی بات ہے۔ پھر فرمایا کہ تورات کے معاہدہ کے موافق نبی آخر الزمان کی اطاعت قبول کر کے قرآن کے حکم کے موافق نماز اور زکوٰۃ ادا کرو کہ تورات کے نماز اور زکوٰۃ کے احکام شریعت محمدی سے اب منسوخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–43

پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں اور اپنے احسانات کا ذکر شروع کیا۔ فرمایا : آیت 40-43 یہاں اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب بنی اسرائیل کے ان گروہوں سے ہے جو مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھے۔ اس خطاب میں بعد میں آنے والے اسرائیلی بھی شامل ہیں۔ پس ان کو ایک عام حکم دیا ہے۔ فرمایا : (آیت) اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ ” میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیں “ ان نعمتوں میں تمام نعمتیں شامل ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذکر عنقریب اس سورت میں آئے گا۔ یہاں ان نعمتوں کے یاد کرنے سے مراد دل میں ان نعمتوں کا اعتراف…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–43

قول باری ہے : واقیمو الصلوۃ واتوا الزکوۃ وارکعوا مع الرکعین۔ (اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) آیت میں مذکورہ صلوۃ و زکوۃ یا تو مہود و معلوم صلوۃ و زکوۃ کی طرف راجع ہیں جنہیں اللہ نے بیان کردیا ہے۔ یا یہ اس مجمل صلوۃ اور مجمل زکوۃ کو شامل ہیں جو بیان پر موقوف تھیں۔ البتہ ہمیں اب یہ معلوم ہے کہ ان سے وہ فرض نمازیں اور وہ مفروض زکوۃ مراد ہیں جن کا ہم سے خطاب کیا گیا ہے، یا تو خطاب کے درود کے وقت یہ باتیں مخاطبین کو معلوم تھیں یا یہ کہ مذکورہ باتیں مجمل تھیں اور اس کے بعد ان سے مراد کا بیان وارد ہوگیا اور اس طرح یہ معلوم بن گئیں۔ قول باری : وارکعوا معن الرکعین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

130 زکوٰۃ بطیب خاطر ادا کرنے کی ہدایت : کیونکہ " ایتاء " کا استعمال بطبب خاطر دینے ہی کے لئے ہوتا ہے، جیسا کہ " اتیان " بطبب خاطر آنے کے لئے۔ پس زکوٰۃ کی ادائیگی اپنے مالک کا حق سمجھ کر، اور اپنی بہتری و بھلائی کا ذریعہ جان کر بطبب خاطر کرو، نہ کہ بوجھ سمجھ کر ۔ وَالْعِیَاذ باللَّہ الْعَظِیْمِ ۔ سو زکوٰۃ کی ادائیگی ایک عظیم الشان عبادت وسعادت ہے کہ اس سے ایک طرف تو اس خالق ومالک کا حق ادا ہوتا ہے جس نے مال و دولت کی ان تمام نعمتوں سے نوازا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کے نتیجے میں اس کی رضاء و خوشنودی حاصل ہوتی ہے، اور دوسری طرف اس سے اپنے باطن کا تزکیہ اور اس کی صفائی ہوتی ہے، اور تیسری طرف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

نماز، زکوٰۃ اور اتحاد تشریح : اس آیت میں یہودی علماء کو عمل و عبادت کی تلقین کی جاتی ہے، اسلام میں نماز اہم ترین ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے۔ انبیاء بنی اسرائیل کو بھی اس کی سخت تاکید کی گئی ہے کیونکہ یہودی نماز باجماعت سے بالکل دور ہوچکے تھے۔ نماز کی برکات پہلے بھی بیان کی جا چکی ہیں مزید دہرا دینا مناسب ہے۔ نماز بنیادی عبادت ہے اس سے جسمانی طہارت اور روحانی بلندی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا ایک ذریعہ ہے، دعا مانگنے کا ایک نادر موقعہ ہے۔ انسان کو نیکی کے قریب اور گناہوں سے دور کرتی ہے اور نماز انسان کو متقی بنا دیتی ہے۔ متقی کی تعریف حضرت علی ؓ نے یوں کی ہے۔ فرماتے ہیں : ” متقی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 40–46

آیات 40- 46 اسرارو معارف جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ سورة بلحاظ نزول مدنی ہے اور مدینہ منورہ میں یہود کا کافی تسلط تھا۔ قلعے اور جاگیریں بھی تھیں کاروباری لحاظ سے بھی بہت بڑھے ہوئے تھے اور ان میں بڑے بڑے علماء بھی تھے نیز وہ اپنے آسمانی مذہب پر ہونے اور حق پر ہونے کے مدعی بھی تھے۔ لہٰذا اللہ کریم نے سب سے پہلے مومن کے اوصاف ، پھر کافر اور منافق کے حالات بیان فرمائے پھر عمومی دعوت تمام انسانیت کو دی اور آپ روئے سخن براہ راست یہود کی طرف ہے کہ اسے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کہتے ہیں اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ان سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام نبی بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 42–43

ف 4 ۔ یعنی نماز باجماعت ادا کرو بعض علمانے اس آیت سے نماز باجماعت کا وجوب ثابت کیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ سنت مؤکدہ ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ فتح القدیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:43) اقیموا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، اقامۃ (افعال) جس کے معنی ٹھیرنے قائم کرنے اور درست رکھنے کے ہیں نماز کے ساتھ اقام یقیم کا مطلب ہے نماز پر دوام اور اس کے ارکان کی حفاظت کرنا ۔ سو اقیموا الصلوۃ کے معنی ہوئے نماز کو باقاعدہ اور ہمیشگی کے ساتھ ادا کیا کرو۔ ق و م مادہ سے مختلف مشتقات مختلف معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔ اتو۔ فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ایتاء (افعال) مصدر ، تم دو ۔ الزکوۃ۔ مادہ۔ ز ک ی، اس کی اصل معنی اس نمو (افزونی، بڑھوتری) کے ہیں جو برکت الٰہیہ سے حاصل ہو اور اس کا تعلق دنیاوی چیزوں سے بھی ہے اور اخروی امور کے ساتھ بھی۔ شرع میں زکوۃ وہ حصہ مال ہے برمال سے حق الٰہی کے طور پر نکال…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 40–46

لغات القرآن : آیت نمبر 40 تا 46 (بنی) : بیٹے، اولاد، ابن کی جمع بنین ہے، اضافت کی وجہ سے نون گر گیا۔ (اسرائیل): حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ترجمہ : اللہ کا بندہ ۔ (اوفوا) : پوراکرو۔ (عھد): وعدہ، معاہدہ۔ (ارھبون ) : مجھ سے ڈرو۔ (ارھبوا۔ ۔۔ ۔ تم ڈرو، وقایہ ، فارھبونی، ” ی “ گرگئی ) ۔ (مصدق): تصدیق کرنے والا، سچا بتانے والا۔ (لا تکونوا): تم نہ ہو۔ (کافر): انکار کرنے والا۔ (لا تشتروا): تم فروخت نہ کرو۔ (ثمنا قلیلاً ): تھوڑی قیمت، گھٹیا قیمت۔ (فاتقون): مجھ سے ڈرو، (یہ بھی ارھبون کی طرح ہے) ۔ (لا تلبسوا): نہ ملاؤ۔ (الحق): سچ۔ (الباطل): جھوٹ۔ (تکتموا): تم نہ چھپاؤ۔ (یہاں اصل میں لفظ ہے لا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 43–46

سچی نماز کا ذکر فوائد القرآن : مسند امام احمد اور ابوداؤد میں حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کا دل جب کسی بات سے پریشان ہوتا تو آپ نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح کی نماز جس سے بری خصلت چھوٹ جاوے اور دل کی پریشانی رفع ہوجاوے انہی لوگوں کی ہے جو نماز پڑھتے وقت خدا کا خوف دل میں رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–44

[37] حق کو کسی دنیوی مادی مصلحت کی بنا پر چھوڑ دینا حق فروشی ہے اس کے معاوضے میں انسان خواہ دنیا بھر کی دولت لے لے بہرحال وہ تھوڑی قیمت ہی ہے کیونکہ حق سے زیادہ گراں کوئی چیز نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) جماعتی زندگی ہمیشہ سے ایک ممدوح اور شان وار زندگی رہی ہے ۔ کوئی قوم جماعتی احساس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ، قرآن حکیم نے اس ظرف بالخصوص توجہ فرمائی ہے ، غور کرو ، جماعتوں کو اپنے بقا و تحفظ کے لئے دو چیزوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ، اتحاد کی اور سرمایہ کی یعنی ایسے اسباب و عوامل پیدا ہوجائیں جس سے تمام افراد جماعت ایک مسلک میں منسلک ہوجائیں اور ساری جماعت میں ایک وحدت قومی نظر آئے ، پھر ایسا مشترک سرمایہ ہو جس کو قومی ضروریات پر خرچ کیا جاسکے ، تاکہ قوم بحیثیت ایک قوم کے دوسروں سے بالکل بےنیاز ہوجائے ، سوچو کیا نماز باجماعت سے زیادہ کوئی موثر بہتر اور آسان طریق تنظیم وملت کا ہو سکتا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 42–44

ف 1۔ اور حق کو باطل اور ناحق کے ساتھ مخلوق نہ کرو اور حق بات کو جان بوجھ کر چھپائو نہیں اور نماز کی پابندی کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھا کرو کیا تم اور لوگوں کو بھلے اور نیک کام کرنی کی تعلیم دیتے ہو اور حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو اس بھلے کام سے فراموش کئے بیٹھے ہو حالانکہ تم کتاب توریت پڑھتے ہو تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ دوسروں کو نیک کام کی ترغیب دینا اور خود اس کام کو نہ کرنا کیسا برا ہے۔ ( تیسیر) خود غرض اور حرض و ہوا کے بندے احکام شرعیہ کو دو طرح بدلتے تھے ایک تو حق بات کو چھپالیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بات توریت میں نہیں ہے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ نماز زے ان کی حب جاہ کم ہوگی زکوة سے ان کی حب مال گھٹنے گی۔ تواضع سے باطنی امراض وغیرہ میں کمی آئے گی یہی مرض ان میں زیادہ تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہود کی عملی کمزوری : 96: گزشتہ آیات میں یہود اور علمائے یہود کی علمی کمزوریوں کا ذکر تھا اب ان کی عملی کمزوری واضح کی جا رہی ہے ۔ صلوٰۃ و زکوٰۃ ہر زمانے میں اسلام کے اہم ارکان ہیں لیکن یہودی ان سے غافل ہوچکے تھے۔ قوموں کے عروج وزوال کے جو اصولی اسباب و مراتب ہیں ان میں بنیادی چیز یہی ہے کہ سب ایک ہو کر رہیں ان کی قوتوں میں اجتماع و انضمام ہو۔ جہاں انتشار و اختلاف ہوا قوم برباد ہوگئی۔ اس لئے کہ علیحدہ ہونے کی صورت میں عوام الناس اور تعلیم یافتہ اشخاص میں بعد و ہجر کی خلیج حائل ہوگئی۔ تمام لوگ بغیر سردار اور امیر کے رہ جائیں گے اور اہل فضل و کمال کے پاس دماغ تو ہوگا مگر دست وبازو نہ ہوں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the last three verses and of these four, Allah reminds the Israelites of the blessings He has bestowed upon them, and invites them to Islam and to good deeds. The earlier three verses were concerned with the true faith and doctrines; the present verses speak of good deeds, mentioning only the most important of them. It was usually the love of money and power that made it difficult for the Jews, especially for their scholars, to accept Islam. The verses prescribe the remedy for the twin diseases - they should fortify themselves with Sabr صبر (patience) and Salah نماز (prayer). "Patience"…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–44

59. Prayer and Purifying Alms (Zakah) have always been among the most important pillars of the Islamic faith. Like other Prophets, the Prophets of Israel laid great stress upon them. The Jews had, however, become very negligent about these duties. Congregational Prayer had all but ceased among them; in fact, a great majority of the Jews did not perform Prayers even individually. They had also not only ceased to pay Purifying Alms, but some had even gone so far as to make their living out of interest.

Read the full tafseer →