Explained with ayahs 42–43
بدخو یہودی
یہودیوں کی اس بدخصلت پر ان کو تنبہہ کی جا رہی ہے کیونکہ وہ جاننے کے باوجود کبھی تو حق و باطل کو خلط ملط کردیا کرتے تھے کبھی حق کو چھپالیا کرتے تھے۔ کبھی باطل کو ظاہر کرتے تھے۔ لہذا انہیں ان ناپاک عادتوں کے چھوڑنے کو کہا گیا ہے اور حق کو ظاہر کرنے اور اسے کھول کھول کر بیان کرنے کی ہدایت کی حق و باطل سچ جھوٹ کو آپس میں نہ ملاؤ اللہ کے بندوں کی خیر خواہی کرو۔ یہودیت و نصرانیت کی بدعات کو اسلام کی تعلیم کے ساتھ نہ ملاؤ۔ رسول اللہ ﷺ کی بابت پیشنگوئیاں جو تمہاری کتابوں میں پاتے ہو انہیں عوام الناس سے نہ چھپاؤ تکتموا مجزوم بھی ہوسکتا ہے اور منصوب بھی یعنی اسے اور اسے جمع نہ کرو۔ ابن مسعود…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 58
اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اہل عرب بالعمُوم ناخواندہ لوگ تھے اور ان کے مقابلے میں یہودیوں کے اندر ویسے بھی تعلیم کا چرچا زیادہ تھا، اور انفرادی طور پر ان میں ایسے ایسے جلیل القدر عالم پائے جاتے تھے جن کی شہرت عرب کے باہر تک پہنچی ہوئی تھی۔ اس وجہ سے عربوں پر یہودیوں کا علمی رعب بہت زیادہ تھا۔ پھر ان کے علما اور مشائخ نے اپنے مذہبی درباروں کی ظاہری شان جما کر اور اپنی جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کا کاروبار چلا کر اس رعب کو اور بھی زیادہ گہرا اور وسیع کردیا تھا۔ خصُوصیت کے ساتھ اہل مدینہ ان سے بےحد مرعوب تھے، کیونکہ ان کے آس پاس بڑے بڑے یہودی قبائل…
Read the full tafseer →(7) حق بات کو چھپانا یا اس میں خلط ملط کرنا حرام ہے
آیت وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ الخ سے ثابت ہوا کہ حق بات کو غلط باتوں کے ساتھ گڈمڈ کرکے اس طرح پیش کرنا جس سے مخاطب مغالطہ میں پڑجائے جائز نہیں اسی طرح کسی خوف یا طمع کی وجہ سے حق بات کا چھپانا بھی حرام ہے مسئلہ واضح ہے اس میں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں حق کو چھپانے سے پرہیز کرنے کا ایک واقعہ اور مفصل مکالمہ حضرت ابو حازم تابعی اور خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کا نقل کیا ہے جو بہت سے فوائد کی وجہ سے قابل ذکر ہے،
حضرت ابو حازم تابعی سلیمان ابن عبد الملک کے دربار
مسند دارمی میں سند کے ساتھ مذکور ہے کہ ایک…
Read the full tafseer →وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ: لبس الثوب کے معنی ہیں اس نے کپڑا پہن لیا۔ لبس الامر علیہ کے معنی ہیں اس نے معاملہ کو گڈمڈ کر دیا۔ لَبَسَھُمۡ کے معنی ہوں گے، ان کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کر دیا یا باہمدگر ٹکرا دیا۔ قرآن مجید میں ہے اَوۡیَلۡبِسَکُمۡ شِیَعًا (یا تمہیں گروہ در گروہ کر کے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے)۔
لبس الشیئی بالشیئی کے معنی ہوتے ہیں جو ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ خلط ملط اور گڈ مڈ کر دیا۔ آیت زیر بحث میں حق پر باطل کو ڈھانک دینے کا مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے۔ لبس کے اصل معنی میں یہ دونوں مفہوم مضمر ہیں اور یہاں یہ دونوں ہی بنتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ اسلوب دوسری جگہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41۔ 1 بِہِ کی ضمیر قرآن کی طرف یا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے۔ دونوں ہی قول صیح ہیں کیونکہ دونوں آپس میں لازم اور ملزوم ہیں، جس نے قرآن کے ساتھ کفر کیا اس نے محمد رسول اللہ کے ساتھ کفر کیا، جس نے قرآن کے ساتھ کفر کیا، اس نے محمد رسول ﷺ ساتھ کفر کیا (ابن کثیر) پہلے کافر نہ بنو کا مطلب ہے ایک تو تمہیں جو علم ہے دوسرے اس سے محروم ہیں، اس لئے تمہاری ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے مدینہ میں یہود کو سب سے پہلے دعوت ایمان دی گئی، ورنہ ہجرت سے پہلے بہت سے لوگ قبول اسلام کرچکے ہوتے، اس لئے انہیں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ یہودیوں میں تم اولین کافر مت بنو۔ اگر ایسا کرو گے تو تمام یہودیوں کے کفر کا وبال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
38: بنی اسرائیل کو یاد دلایا جارہا ہے کہ قرآن کریم وہی دعوت لے کر آیا ہے جو تورات اور انجیل کی دعوت تھی اور جن آسمانی کتابوں پر وہ ایمان رکھتے ہیں قرآن کریم انہیں جھٹلانے کے بجائے دو طرح سے ان کی تصدیق کرتا ہے ایک اس لحاظ سے کہ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ کتابیں اللہ ہی کی نازل کی ہوئی تھیں (یہ اور بات ہے کہ بعد کے لوگوں نے ان میں کافی رد وبدل کرڈالا جس کی حقیقت قرآن نے واضح فرمائی) اور دوسرے قرآن اس حیثیت سے ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے کہ ان کتابوں میں آخری نبی کی تشریف آوری کی جو پیشینگوئیاں کی گئی تھیں قرآن کریم نے انہیں سچا کر دکھایا اس کا تقاضا یہ تھا کہ بنی اسرائیل عرب کے بت پرستوں سے پہلے…
Read the full tafseer →اگلے فقرے میں انہیں ان کی دوسری بری خصلت سے روکا جاتا ہے ، ان کی عادت تھی کہ وہ باطل کو حق کا رنگ دے کر پیش کرتے تھے اور سچائی کو چھپاتے تھے ، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کیا کررہے ہیں ، ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اسلامی معاشرے کے اندر فکری انتشار پیدا ہو اور مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات کا ایک طوفان کھڑا ہوجائے۔ وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔ “ یہودیوں نے ہر موقع اور ہر مناسبت میں سے حق کو چھپایا ، اس میں باطل کی رنگ آمیزی کی اور جب بھی انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
11 یعنی باجماعت نماز پڑھا کرو پہلے کسی دین میں باجماعت نماز نہیں تھی اور یہود کی نماز میں رکوع نہ تھا۔ خلاصہ آیت کا یہ ہوا کہ صرف امور مزکورہ بالا نجات کے لئے تم کو کافی نہیں بلکہ تمام اصول میں نبی آخرالزمان کی پیروی کرو۔ نماز بھی ان کے طور پر پڑھو جس میں جماعت بھی ہو اور رکوع بھی۔
Read the full tafseer →آیت 42 وَلاَ تَلْبِسُوا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
یہ بات اچھی طرح نوٹ کر لیجیے کہ مغالطے میں غلط راہ پر پڑجانا ضلالت اور گمراہی ہے ‘ لیکن جانتے بوجھتے حق کو پہچان کر اسے ردّ کرنا اور باطل کی روش اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ اسی سورة البقرۃ میں آگے چل کر آئے گا کہ علماء یہود محمد رسول اللہ ﷺ کو اور قرآن کو اس طرح پہچانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے : یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ھُمْ ط آیت 146 لیکن اس کے باوجود انہوں نے محض اپنی دنیوی مصلحتوں کے پیش نظر آپ ﷺ اور قرآن کی تکذیب کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
61 عقائد، اخبار انبیاء اور احوال آخرت تمام الہامی کتابوں میں تقریباً ایک ہی جیسے ہیں۔ فرق ہوتا ہے تو صرف بعض احکام میں جو احوال و ظروف کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔ لہذا قرآن جب تورات کی تصدیق کر رہا ہے تو اس کے پہلے منکر تم ہی نہ بن جاؤ۔ امی اہل عرب اور تمہاری اولاد تو تمہاری ہی روش پر چلیں گے۔ اس طرح سب کے گناہ کا حصہ تم پر بھی ہوگا۔ اور حدیث میں ہے کہ :
اہل کتاب کے ایمان لانے پر دوہرا اجر :۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین آدمیوں کے لیے دوہرا ثواب ہے ایک تو وہ اہل کتاب جو اپنے پیغمبر پر ایمان لایا، پھر محمد ﷺ پر ایمان لایا۔ دوسرے وہ غلام جو اللہ کا بھی حق ادا…
Read the full tafseer →153 ۔ (کلام الہی میں لفظی یا معنوی تحریف کرکے) (آیت) ” لاتلبسوا “ تلبیس کے اصلی معنی ہیں کسی چیز کو ڈھانپ لینا، چھپالینا۔ واصل اللبس ستر الشئی (راغب) ادھوری بات کہنا کہ مطلب کچھ کا کچھ ہوجائے، یا جھوٹ کو لفظی اور ظاہری سچائی کا رنگ دے دینا، بعض اوقات بالکل گھڑے ہوئے جھوٹ سے کہیں بڑھ کر دھوکے اور مغالطہ کا سبب بن جاتا ہے۔ اسی سے ملتی جلتی ہوئی شے کا نام آج کی اصطلاح میں پروپیگنڈہ ہے۔ موجودہ فرنگیوں کی طرح یہود بھی اس فن میں استاد رہ چکے ہیں۔
154 ۔ احکام الہی کو بدل دینے کی ممکن صورتیں دو ہیں۔ ایک ان میں اندرونی تحریف، تلبیس وتخلیط۔ دوسرے ان کا سرے سے اخفاوکتمان۔ یہود نے اپنے دینی صحیفوں میں…
Read the full tafseer →وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوا الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : اس آیت کو سمجھنے سے پہلے تمہید کے طور پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے، کہ اہل عرب '' بالعموم '' ناخواندہ تھے، ان کے مقابلہ میں یہود تعلیم یافتہ تھے، اس وجہ سے عربوں پر یہودیوں کا علمی رعب بہت زیادہ تھا، اس کے علاوہ ان کے علماء اور مشائخ نے اپنے مذہبی درباروں کی ظاہری شان جما کر اور اپنی جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کا کاروبار چلا کر اس رعب کو اور بھی زیادہ وسیع کردیا تھا، ان حالات میں جب نبی ﷺ نے اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کیا اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دینی شروع کی، تو قدرتی بات تھی کہ ان پڑھ عرب اہل کتاب…
Read the full tafseer →وَلَا تَلْبِسُوْا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ ( اور نہ ملاؤ سچ میں جھوٹ) لَبْسٌ کے معنی لغت میں خلط ( ملانا) ہے اور یہاں ایک بات کو دوسری کے ساتھ ایسی طرح رلانا ملانا مراد ہے جس سے دونوں میں کچھ فرق اور تمیز نہ رہے۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ اے بنی اسرائیل جو سچی بات یعنی محمد ﷺ کی نعت اور صفت میں نے تم پر اتاری ہے اسے باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اس کو اپنے ہاتھوں متغیر نہ کرو کہ حق اور باطل میں بالکل تمیز نہ رہے۔ مقاتل نے فرمایا ہے کہ توراۃ میں جو سرور کائنات خلاصہ موجودات محمد ﷺ کی صفت اور نعت وارد ہوئی تھی اس میں سے یہود نے بعض چیزوں کا تو اقرار کیا اور بعض کو چھپالیا اور یہ انہوں نے اس لیے کیا تاکہ اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41) باطل کو حق کے ساتھ نہ ملاؤ کہ دجال کی صفت کو العیاذ باللہ رسول اکرم ﷺ کی صفت کے ساتھ مخلوط کرنے لگو اور تم اپنے پوشیدہ کرنے کو جانتے ہوئے حق بات کو مت چھپاؤ۔ (اور حضور ﷺ پر ایمان لے آؤ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
سب سے پہلے کافر بننے سے مراد یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں، تمہیں تو سب سے پہلے ایمان لانا چاہیے تھا۔
اس کے برعکس اگر تم ان کے ساتھ کفر کرتے ہو تو تم پہلے کافر ہوئے جو جانتے بوجھتے ہوئے کفر کر رہے ہو، اپنے آپ پر یہ ظلم نہ کرو۔ اس سے پہلے مشرکین مکہ نے جو کفر کیا تھا وہ جہالت کی وجہ سے تھا۔ اس لیے اشکال لازم نہیں آتا کہ کفار مکہ نے ان سے پہلے کفر کیا تھا۔ (بیضاوی)
(وَلَا تَشْتَرُوْا) اس سے مراد دنیاوی مفاد کے لیے آیات الٰہی کو چھپانا ہے۔ یہ مسلم قاعدہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ دوسرے مقامات پر اللہ کی آیات کے بدلے کم قیمت خریدنے کا ذکر جہاں آیا ہے اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 42
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تلبسوا الحق بالباطل، اللبس کا معنی خلط ملط ہونا ہے۔ لبست علیہ الامر والبسہ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو اس کی دلیل کو اس کی مشکل کے ساتھ ملا دے اور اس کے حق کو اس کے باطل کے ساتھ ملا دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وللبسنا علیھم ما یلبسون۔ (الانعام)
وفی الامر لبسۃٌ، یعنی امر واضح نہیں ہے۔ اسی مفہوم میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے جو آپ نے حارث بن حوط کو کہا تھا : یا حارث انہ ملبوس علیک ان الحق لا یعرف بالرجال اعرف الحق تعرف اھلہ۔ اے حارث ! معاملہ تجھ پر خلط ملط ہوگیا ہے حق مردوں کے ساتھ نہیں پہچانا جاتا میں حق کو پہچانتا ہوں تو حق والوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
(1) امام عبد بن حمید اور ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اسرائیل سے مراد یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ عبد بن حمید ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن مسعود سے روایت کیا کہ اسرائیل سے مراد یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔
(2) عبد بن حمید اور ابن المنذر نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) سخت گرفت کرنے والے آدمی تھے۔ ایک دفعہ کی ملاقات ایک فرشتے سے ہوئی وہ ان سے لڑ پڑے فرشتے نے ان کو بچھاڑ دیا اور ان کی ران پر مارا جب یعقوب (علیہ السلام) نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور فرمانے لگے میں تجھ کو چھوڑنے والا نہیں ہوں یہاں تک کہ تو میرا کوئی نام…
Read the full tafseer →[ وَلَا تَلْبِسُوا : اور تم لوگ خلط ملط مت کرو ] [ الْحَقَّ : حق کو ] [ بِالْبَاطِلِ : باطل کے ساتھ ] [ وَتَكْتُمُوا : اور تم لوگ مت چھپاؤ ] [ الْحَــقَّ : حق کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جانتے ہو ]
Read the full tafseer →حق کو باطل کے ساتھ مت ملاؤ اور حق کو مت چھپاؤ
اس آیت میں بھی علماء یہود کو خطاب ہے یہ لوگ توریت شریف میں تحریف کرچکے تھے اور اس میں سے کچھ صحیح باتیں ان کے پاس باقی تھیں ان میں بھی خلط ملط کرتے تھے۔ اوّل تو تعلیم عام نہیں تھی اپنی قوم کے تمام افراد کو دین اور کتاب نہیں سکھاتے تھے اور توریت شریف کے اوراق منتشر کر کے رکھ رکھے تھے۔ (تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَھَا وَ تُخْفُوْنَ کَثِیْرًا) جو شخص کوئی بات پوچھتا تو کوئی ایک ورقہ نکال کر اس کا مطلب جو چاہتے بتا دیتے تھے۔ اور پوچھنے والے کو خوش کرنے اور اس سے رشوت لینے کے لیے اس کی مرضی کے مطابق توریت شریف کے مضامین کی تشریح کردیتے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکموا الحق وانتم تعلمون۔ اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور نہ حق کو چھپاؤ حالانکہ تم جانتے ہو کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا کس قدر مذمورم ہے۔ زہر کو زہر جان کر کھانا انتہائی نادانی ہے۔
گزشتہ آیت میں بنی اسرائیل کو یہ حکم تھا کہ تم خود گمراہی سے باز آؤ اور ایمان اور ہدایت کو قبول کرو۔ اس آیت میں یہ حکم ہے کہ دوسروں کو گمراہ نہ کرو۔ جن لوگوں کے کان کچھ حق سے آشنا ہوچکے ہوں اور کلمۂ حق ان کے کان میں پڑچکا ہو ان کو گمراہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ حق اور باطل صدق اور کذب ہدایت اور ضلالت کو ان کے سامنے خلط ملط کردیا جائے تاکہ حق کے قبول کرنے میں متردد ہوجائیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ف 101 ۔ یہ تیسری نہی ہے۔ وَتَکْتُمُوْا الْحَقَّ اس کا عطف تَلْبِسُوْا اور یہ چوتھی نہی ہے۔ یہودی خود بھی کفر اور گمراہی میں مبتلا تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی ہر ممکن طریقہ سے گمراہ کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ اس سے پہلی آیت میں خود یہود کو کفر وضلالت سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔ اب اس آیت میں انہیں دوسرے لوگوں کو گمراہ کرنے سے روکا گیا ہے۔ اعلم ان قولہ سبحانہ وامنوا با انزلت امر یترک الکفر والضلال وقولہ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ ۔ علمائے یہود عوام کو گمراہ کرنے کے لیے دو طرح کے حربے استعمال کرتے تھے جن لوگوں کوحضور ﷺ کی تورات میں بیان کی گئی صفات و علامات کا تھوڑا بہت علم تھا ان کے دلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
تاریخ بنی اسرائیل : “ یایھا الناس اعبدوا ” سے تمام بنی نوع انسان سے عمومی خطاب تھا۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور خلافت ارضی کا ذکر تھا۔ اس کے بعد “ واذ قال ربک للمئکۃ ” میں بھی عمومی نعمت کا ذکر ہوا۔ جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے ذریعے تمام انسانوں کو حاصل ہوئی۔ اب یہاں سے بنی اسرائیل کو خصوصی خطاب ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں۔ اور ان معجزات کا ذکر کیا ہے۔ جو ان میں ظاہر ہوئے۔ بنی اسرائیل کے بالکل شکوک و شبہات کا ازالہ بھی کیا ہے۔ اور اس قوم میں جو خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ ان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ یہ بیان یہاں سے شروع ہو کر “ واذابتلی ابراھیم ربہ بکلمت ” تک…
Read the full tafseer →وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَــقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 42
لبس
لَبِسَ الثّوب : استتر به، وأَلْبَسَهُ غيره، ومنه :
يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] واللِّبَاسُ واللَّبُوسُ واللَّبْسُ ما يلبس . قال تعالی: قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] وجعل اللّباس لكلّ ما يغطّي من الإنسان عن قبیح، فجعل الزّوج لزوجه لباسا من حيث إنه يمنعها ويصدّها عن تعاطي قبیح . قال تعالی:
هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَ [ البقرة/ 187] فسمّاهنّ لباسا کما سمّاها الشاعر إزارا في قوله :
402-
فدی لک من أخي ثقة إزاري«1» وجعل التّقوی لِبَاساً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ترکیب : و حرف عطف برکلام سابق اذکروا لاتلبسوا الحق جملہ فعل فاعل و مفعول سے مرکب بالباطل متعلق ہے فعل مذکور سے وتکتموا فعل ضمیر انتم فاعل عطف ہے تلبسوا پر مجزوم ہے لانہی سے الحق اس کا مفعول وانتم تعلمون جملہ اسمیہ حال ہے۔ اقیموا الصلوۃ جملہ انشائیہ معطوف اور معطوف علیہ وآتوالزکوٰۃ معطوف اور معطوف علیہ وارکعوا معطوف اور مع الراکعین ظرف متعلق ہے۔ ارکعوا سے۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اصول ایمان اعنی نظریات سے مخاطب کیا اور ایمان لانے کا حکم دیا تو اس کے بعد عملیات کا بھی حکم دیا اور جو باتیں بری تھیں پیشتر ان سے منع کردیا۔ علمائِ یہود کا قدیم دستور اور جبلی عادت تھی کہ وہ کتب…
Read the full tafseer →وَلاَتَلْبِسُوْا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَْکْتُمُوْا الْحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 42)
(اور حق اور باطل کو گڈمڈ نہ کرو اور حق کو نہ چھپائو دراں حالیکہ تم جانتے ہو)
لا تلبسوا الحق بالباطلکا مفہوم
لا تلبسوا۔ لبس سے ہے۔ یہ لفظ مختلف معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن تمام معانی میں ایک تشابہ اور مناسبت بھی پائی جاتی ہے۔ مثلاً لَبِسَ الثَّوبَ کا معنی ہے ” اس نے کپڑاپہن لیا۔ “ لبس الامرُعَلَیہ کا معنی ہے ” اس نے معاملہ کو گڈمڈ کردیا “۔ کبھی اس کا معنی ہوتا ہے ” ایک دوسرے سے ٹکرادینا “۔ جیسے قرآن کریم میں ہے :
قُل ھُوَالْقَادِرُعَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کو خطاب جا ری ہے۔ دنیا کے فائدے کی خاطر حق و باطل کا التباس نہ کرو۔ بلکہ نماز کی صورت میں حقوق اللہ اور زکوٰۃ کی شکل میں حقوق العباد کا اہتمام کرتے ہوئے نماز میں رکوع کرتے ہوئے اسے جماعت کے ساتھ پڑھا کرو۔
بنی اسرائیل کے علماء اور سیاسی رہنما نہ صرف اپنے مفادات پر شریعت کے احکامات قربان کرتے بلکہ جو احکامات ان کی ” انا “ گروہی مفادات اور سیاسی سوچ کے خلاف ہوتے ان کو ہر ممکن چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ بصورت دیگر اپنے دھڑے کی حمایت کی خاطر ان کی تاویلات کرتے ہوئے اس طرح اپنے عقیدے کے سانچے میں ڈھالتے اور اس طرح التباسِ حق و باطل کرتے کہ پڑھنے اور سننے والا آسمانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
کتمان و لبس کا معنی :
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ : (اور نہ لاحق کرو حق کو باطل کے ساتھ) لبس الحق بالباطل کا مطلب ان کا آپس میں ملانا ہے۔
نمبر 1: اگر باء صلہ کی مانیں تو اس قول کی طرح ہے لبست الشیء بالشیئ۔ میں نے دونوں چیزوں کو ملایا۔ اب مطلب یہ ہوا کہ تورات میں وہ چیزیں مت لکھو۔ جو اسمیں نہیں اسی طرح اتارا ہوا حق اس باطل سے مل جل جائے گا۔ جو تم نے لکھا ہے یہاں تک کہ اس کے حق و باطل میں تمہارے لیے تمیز نہ رہے گی۔
نمبر 2: اگر یہ باء استعانت ہو تو اس قول کی طرح ہوگا۔ کتبت بالقلم۔ اب معنی یہ بنے گا ولا تجعلوا الحق ملتبسا مشتبھا بباطلکم الذی تکتبونہ۔ حق کو ملتبس اور مشتبہ مت کرو اپنے…
Read the full tafseer →42۔ (آیت)” ولا تلبسوالحق بالباطل “ یعنی خلط ملط نہ کرو ۔ کہا جاتا ہے ” لبس الثوب یلبس لبسا “ اور کہا جاتا ہے ” لبس علیہ الامر لبسا “ یعنی خلط ہوا ۔ (گویا لباس پہننے کے لیے لبس باب سمع سے آتا ہے اور اس کی مصدر لبس آتی ہے لام کی پیش اور خلط ملط کے معنی کے لیے ” لبس “ باب ضرب سے آتا ہے اس کی مصدر ” لبس “ آتی ہے لام کی زبر کے ساتھ ۔
کہا جاتا ہے خلط نہ کرو اس حق کو جو میں نے تم پر اتارا جس کا تعلق صفات محمدیہ سے ہے، باطل کے ساتھ جس کو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہو محمد کریم ﷺ کی صفت کو تبدیل کرکے ۔۔۔۔ اکثر حضرات اس پر ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ اسلام کو (جو کہ حق ہے) یہودیت کے ساتھ خلط ملط نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
(42 ۔ 43): تورات میں نبی آخر الزمان ﷺ کے اوصاف کی جو آیتیں تھیں ان کو یہود نے بدل ڈالا تھا اور بعض مفسروں کا قول ہے کہ یہود لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ اخیر زمانہ میں دجال جو آوے گا وہ نبی آخر الزمان ہوگا۔ تورات کی آیتیں اس کی شان میں ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے کلام میں اپنی طرف سے جھوٹی باتیں نہ ملاؤ۔ اور دنیا کے تھوڑے سے لالچ کے لئے حق بات کو نہ چھپاؤ کہ جان بوجھ کر حق بات کا چھپانا بڑے وبال کی بات ہے۔ پھر فرمایا کہ تورات کے معاہدہ کے موافق نبی آخر الزمان کی اطاعت قبول کر کے قرآن کے حکم کے موافق نماز اور زکوٰۃ ادا کرو کہ تورات کے نماز اور زکوٰۃ کے احکام شریعت محمدی سے اب منسوخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں اور اپنے احسانات کا ذکر شروع کیا۔ فرمایا :
آیت 40-43
یہاں اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب بنی اسرائیل کے ان گروہوں سے ہے جو مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھے۔ اس خطاب میں بعد میں آنے والے اسرائیلی بھی شامل ہیں۔ پس ان کو ایک عام حکم دیا ہے۔ فرمایا : (آیت) اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ ” میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیں “ ان نعمتوں میں تمام نعمتیں شامل ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذکر عنقریب اس سورت میں آئے گا۔ یہاں ان نعمتوں کے یاد کرنے سے مراد دل میں ان نعمتوں کا اعتراف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
قول باری ہے : واقیمو الصلوۃ واتوا الزکوۃ وارکعوا مع الرکعین۔ (اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) آیت میں مذکورہ صلوۃ و زکوۃ یا تو مہود و معلوم صلوۃ و زکوۃ کی طرف راجع ہیں جنہیں اللہ نے بیان کردیا ہے۔ یا یہ اس مجمل صلوۃ اور مجمل زکوۃ کو شامل ہیں جو بیان پر موقوف تھیں۔ البتہ ہمیں اب یہ معلوم ہے کہ ان سے وہ فرض نمازیں اور وہ مفروض زکوۃ مراد ہیں جن کا ہم سے خطاب کیا گیا ہے، یا تو خطاب کے درود کے وقت یہ باتیں مخاطبین کو معلوم تھیں یا یہ کہ مذکورہ باتیں مجمل تھیں اور اس کے بعد ان سے مراد کا بیان وارد ہوگیا اور اس طرح یہ معلوم بن گئیں۔
قول باری : وارکعوا معن الرکعین…
Read the full tafseer →129 کتمان حق سے ممانعت : ۔ بوجھ کر حق کو چھپانے کے ہولناک جرم سے ممانعت : سو جان بوجھ کر حق کو چھپانے کا جرم ایک ہولناک جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ جان بوجھ کر حق کو چھپانا اور حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور گڈ مڈ کرنا، دو ہرا جرم ہے، کہ اس میں اپنی محرومی کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی حق سے محروم کرنا ہے۔ (معارف للکاندہلوی (رح) ) ۔ یعنی حق کو مت چھپاؤ اس حال میں کہ تم جانتے ہو کہ یہ حق ہے اور یہ باطل۔ اور یہ کہ حق کو چھپانا بڑا سنگین جرم ہے کہ ایسے میں کتمان حق یعنی حق کو چھپانا اور بھی سنگین جرم بن جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس تم لوگ حضرت خاتم الانبیائ ﷺ سے متعلق ان نعوت اور صفات کو مت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
تقویٰ کی ہدایت
تشریح : اس آیت میں بھی بدستور یہودیوں کو مخاطب کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کتاب ” قرآن مجید “ میں نے حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے اس کو دل و جان سے سچ مان لو کیونکہ اس کی تصدیق تمہاری کتابوں میں کی جا چکی ہے اور قرآن مجید تمہاری کتابوں کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ بنی اسرائیل اہل کتاب ہیں اور مدینہ کے لوگ ان پڑھ جاہل ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل سے بہت مرعوب تھے اہل مدینہ حضرت محمد ﷺ اور قرآن کی تصدیق کے لئے یہودی علماء و مشائخ کے پاس جاتے تھے۔ وہ محض دنیاوی مصلحتوں کی بناء پر اسلام و قرآن کے بارے میں ٹھیک ٹھیک ان کو بتاتے نہ تھے، بلکہ بہت کچھ چھپاتے اور جو کچھ بتاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
آیات 40- 46
اسرارو معارف
جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ سورة بلحاظ نزول مدنی ہے اور مدینہ منورہ میں یہود کا کافی تسلط تھا۔ قلعے اور جاگیریں بھی تھیں کاروباری لحاظ سے بھی بہت بڑھے ہوئے تھے اور ان میں بڑے بڑے علماء بھی تھے نیز وہ اپنے آسمانی مذہب پر ہونے اور حق پر ہونے کے مدعی بھی تھے۔
لہٰذا اللہ کریم نے سب سے پہلے مومن کے اوصاف ، پھر کافر اور منافق کے حالات بیان فرمائے پھر عمومی دعوت تمام انسانیت کو دی اور آپ روئے سخن براہ راست یہود کی طرف ہے کہ اسے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کہتے ہیں اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ان سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام نبی بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ف 4 ۔ یعنی نماز باجماعت ادا کرو بعض علمانے اس آیت سے نماز باجماعت کا وجوب ثابت کیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ سنت مؤکدہ ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ فتح القدیر )
Read the full tafseer →(2:42) لا تلبسوا الحق۔ لاتلبسوا فعل نہی جمع مذکر حاضر، لیس مصدر (باب ضرب) سے دراصل لیس کے معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں لیکن دوسرے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً الذین امنوا اولم یلبسوا ایمانہم بظلم (6:82) جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک کے ظلم سے محفوظ نہیں کیا۔ یا آیت ہذا لا تلبسوا الحق بالباطل تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ مت ملاؤ۔
لیس الثوب کے معنی کپڑا پہننے کے ہیں ۔ اور جو چیز پہنی جائے اسے لباس کہتے ہیں۔ تمثیل اور تشبیہ کے طور پر تقویٰ کو بھی لباس کہا ہے مثلاً و لباس التقوی (7:26) اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے۔
وتکتموا الحق ای ولا تکتموا الحق اور حق بات کو نہ چھپاؤ۔ اس جملہ کا عطف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
لغات القرآن : آیت نمبر 40 تا 46
(بنی) : بیٹے، اولاد، ابن کی جمع بنین ہے، اضافت کی وجہ سے نون گر گیا۔ (اسرائیل): حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ترجمہ : اللہ کا بندہ ۔ (اوفوا) : پوراکرو۔ (عھد): وعدہ، معاہدہ۔ (ارھبون ) : مجھ سے ڈرو۔ (ارھبوا۔ ۔۔ ۔ تم ڈرو، وقایہ ، فارھبونی، ” ی “ گرگئی ) ۔ (مصدق): تصدیق کرنے والا، سچا بتانے والا۔ (لا تکونوا): تم نہ ہو۔ (کافر): انکار کرنے والا۔ (لا تشتروا): تم فروخت نہ کرو۔ (ثمنا قلیلاً ): تھوڑی قیمت، گھٹیا قیمت۔ (فاتقون): مجھ سے ڈرو، (یہ بھی ارھبون کی طرح ہے) ۔ (لا تلبسوا): نہ ملاؤ۔ (الحق): سچ۔ (الباطل): جھوٹ۔ (تکتموا): تم نہ چھپاؤ۔ (یہاں اصل میں لفظ ہے لا…
Read the full tafseer →شان نزول : یہ آیت کعب بن اشرف اور دوسرے رؤسا اور علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کے جاہلوں اور کمینوں سے سکے (رقم) وصول کرتے اور ان پر سالانہ مقرر کرتے تھے اور وہ پھلوں اور نقد مالوں میں اپنے حق معین کرلیتے تھے۔ انہیں اندیشہ ہوا کہ توریت میں جو حضور سید عالم ﷺ کی نعت و صفت ہے۔ اگر اس کو ظاہر کریں تو قوم آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے گی اور ان کی کچھ پرسش نہ ہوگی، یہ تمام منافع جاتے رہیں گے۔ اس لیے انہوں نے اپنی کتابوں میں تغیر کیا اور آنحضرت ﷺ کی نعت و صفت کو بدل ڈالا۔ جب ان سے لوگ دریافت کرتے کہ توریت میں آنحضرت ﷺ کے کیا اوصاف مذکور ہیں تو وہ چھپا لیتے اور ہر گز نہ بتاتے۔ اس پر یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
[37] حق کو کسی دنیوی مادی مصلحت کی بنا پر چھوڑ دینا حق فروشی ہے اس کے معاوضے میں انسان خواہ دنیا بھر کی دولت لے لے بہرحال وہ تھوڑی قیمت ہی ہے کیونکہ حق سے زیادہ گراں کوئی چیز نہیں۔
Read the full tafseer →(ف 4) اپنے مطالب اور اپنی خواہشات کے لئے نفس مذہب کو بدل دنیا بہت بری عادت ہے ، یہودی اس میں مبتلا تھے اسی طرح کتمان حق کسی حالت میں بھی درست نہیں لیکن یہودی اس سے بھی باز نہیں آتے تھے ، قرآن حکیم نے انہیں اس عادت پر متنبہ کیا اور کہا تم جانتے بوجھتے اس قسم کی بدقماشی کا ارتکاب کیوں کرتے ہو ، یہ تو گوارا کیا جاسکتا ہے کہ تم مجرم بن جاؤ ، اللہ کے حکموں کی مخالفت کرو ، لیکن اللہ تعالیٰ کے حکموں کو تاویل وتعمق سے بدل ڈالنا تو کسی طرح برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔
حل لغات :
اولئک اصحاب النار : جہنم میں رہنے والے ۔ اول : پہلے یعنی تم کفر میں اوروں کے لئے نمونہ نہ بنو ، اول کے معنی ہیں ، من یؤول الیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 1۔ اور حق کو باطل اور ناحق کے ساتھ مخلوق نہ کرو اور حق بات کو جان بوجھ کر چھپائو نہیں اور نماز کی پابندی کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھا کرو کیا تم اور لوگوں کو بھلے اور نیک کام کرنی کی تعلیم دیتے ہو اور حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو اس بھلے کام سے فراموش کئے بیٹھے ہو حالانکہ تم کتاب توریت پڑھتے ہو تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ دوسروں کو نیک کام کی ترغیب دینا اور خود اس کام کو نہ کرنا کیسا برا ہے۔ ( تیسیر)
خود غرض اور حرض و ہوا کے بندے احکام شرعیہ کو دو طرح بدلتے تھے ایک تو حق بات کو چھپالیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بات توریت میں نہیں ہے اور…
Read the full tafseer →ف 4۔ احکام شرعیہ کی تبدیل دو طرح کیا کرتے ہیں ایک تو یہ کہ اس کو ظاہر ہی نہ ہونے دیا۔ یہ کتمان ہے اور اگر چھپائے نہ چھپ سکا اور ظاہر ہوگیا تو پھر اس میں خلط ملط کردیا یہ لبس ہے حق تعالیٰ نے دونوں سے منع کیا۔
Read the full tafseer →علمائے بنی اسرائیل کی یہ گمراہی کہ وہ حق کو باطل کے ساتھ ملانے کے عادی تھے :
94: علمائے یہود کی اس شقاوت کا ذکر کہ انہوں نے کبھی حق کی آواز کو لبیک نہیں کہا بلکہ اپنے دنیاوی فائدوں کی خاطر برابر سچائی کو قربان کرتے رہے حالانکہ انہیں خوب یقین تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی وہ نبی ہیں جن کی پہچان ان کی کتاب تورات میں کرائی گئی ہے اور وہ ایک ایک صفت اور نشان آپ ﷺ میں دیکھ چکے ہیں چناچہ قرآن کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : یَعْرِفُوْنَهٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ 1ؕ (البقرہ 2 : 146) وہ پیغمبر اسلام کو ویسے ہی پہچان گئے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو جانتے پہچانتے ہیں۔ قرآن کریم نے بار بار ان کی اسی غلط…
Read the full tafseer →(6) Verse 42 explicitly shows that it is not permissible to mix truth and falsehood together in such a way that the addressee falls into a confusion as to what the truth is, and that it is forbidden to conceal the truth because of fear or greed.
Imam al-Qurtubi (رح) has, in his commentary, related a very illuminating story in this context - a story which has come down to us through a chain of reliable reporters, and has been taken from the "Musnad" of Darimi.
During one of his visits to the Holy town of Madinah, the Ummayyid Caliph Sulayman ibn ` Abd al-Malik (رح) wanted to meet someone who…
Read the full tafseer →58. For the proper understanding of this verse we need to recall that in the time of the Prophet the Jews of Arabia were more learned than the Arabs. In fact, there were some Jewish scholars of Arabia whose fame had spread even beyond the confines of that land. For this reason the Arabs tended to be intellectually overawed by them. In addition, the influence of the Jews had become pervasive and profound by virtue of the pomp and pageantry of their religious rites, and the magical crafts and feats of exorcism for which they were famous. The people of Madina, in particplar, were greatly under…
Read the full tafseer →