Explained with ayahs 40–41
بنی اسرائیل سے خطاب
ان آیتوں میں بنی اسرائیل کو اسلام قبول کرنے اورحضور ﷺ کی تابعداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انتہائی لطیف پیرایہ میں انہیں سمجھایا گیا ہے کہ تم ایک پیغمبر کی اولاد میں سے ہو تمہارے ہاتھوں میں کتاب اللہ موجود ہے اور قرآن اس کی تصدیق کر رہا ہے پھر تمہیں نہیں چاہئے کہ سب سے پہلے انکار تمہیں سے شروع ہو۔ اسرائیل حضرت یعقوب ؑ کا نام تھا تو گویا ان سے کہا جاتا ہے کہ تم میرے صالح اور فرمانبردار بندے کی اولاد ہو۔ تمہیں چاہیے کہ اپنے جدِامجد کی طرح حق کی تابعداری میں لگ جاؤ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ تم سخی کے لڑکے ہو سخاوت میں آگے بڑھو تم پہلوان کی اولاد ہو داد شجاعت دو۔ تم عالم کے بچے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 57
تھوڑی قیمت سے مراد وہ دنیوی فائدے ہیں جن کی خاطر یہ لوگ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو رد کر رہے تھے۔ حق فروشی کے معاوضے میں خواہ انسان دنیا بھر کی دولت لے لے، بہر حال وہ تھوڑی قیمت ہی ہے، کیونکہ حق یقیناً اس سے گراں تر چیز ہے۔
Read the full tafseer →(اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ) کافر ہونا خواہ سب سے پہلے ہو یا بعد میں بہرحال انتہائی ظلم اور جرم ہے مگر اس آیت میں یہ فرمایا کہ پہلے کافر نہ بنو اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ جو شخص اول کفر اختیار کرے گا تو بعد میں اس کو دیکھ کر جو بھی کفر میں مبتلا ہوگا اس کا وبال جو اس شخص پر پڑے گا اس پہلے کافر پر بھی اس کا وبال آئے گا اس طرح یہ پہلا کافر اپنے کفر کے علاوہ بعد کے لوگوں کے کفر کا سبب بن کر ان سب کے وبال کفر کا بھی ذمہ دار ٹھہرے گا اور اس کا عذاب چند ورچند ہوجائے گا۔
فائدہاس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دنیا میں دوسروں کے لئے کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب بنتا ہے تو جتنے آدمی اس کے سبب سے مبتلائے گناہ ہوں…
Read the full tafseer →وَاٰمِنُوۡا بِمَآ اَنۡزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ: مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ اس چیز کی تصدیق کرتا ہوا جوتمہارے پاس ہے۔ یعنی قرآن مجید کی اس پیشین گوئی کو سچی ثابت کر رہا ہے جو تورات میں آخری نبی ﷺ کی بعثت اور اس بعثت کی خصوصیات سے متعلق وارد تھی۔ مقصود یہ ہے کہ اگر سمجھ سے کام لو تو قرآن مجید اور یہ پیغمبر تمہارے لئے چڑنے کی چیز نہیں ہیں بلکہ سر اور آنکھوں پر بٹھانے کی چیز ہیں کیوں کہ ان کے ظہور سے سب سے زیادہ تمہارا ہی سر بلند ہوا ہے۔ تمہارے صحیفوں میں ان کی پیشین گوئیاں موجود تھیں اور یہ پیشین گوئیاں اب تک اپنے حقیقی مصداق کے ظہور کی منتظر تھیں اب اس کتاب اور اس کے پیغمبر کے ظہور نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41۔ 1 بِہِ کی ضمیر قرآن کی طرف یا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے۔ دونوں ہی قول صیح ہیں کیونکہ دونوں آپس میں لازم اور ملزوم ہیں، جس نے قرآن کے ساتھ کفر کیا اس نے محمد رسول اللہ کے ساتھ کفر کیا، جس نے قرآن کے ساتھ کفر کیا، اس نے محمد رسول ﷺ ساتھ کفر کیا (ابن کثیر) پہلے کافر نہ بنو کا مطلب ہے ایک تو تمہیں جو علم ہے دوسرے اس سے محروم ہیں، اس لئے تمہاری ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے مدینہ میں یہود کو سب سے پہلے دعوت ایمان دی گئی، ورنہ ہجرت سے پہلے بہت سے لوگ قبول اسلام کرچکے ہوتے، اس لئے انہیں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ یہودیوں میں تم اولین کافر مت بنو۔ اگر ایسا کرو گے تو تمام یہودیوں کے کفر کا وبال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
38: بنی اسرائیل کو یاد دلایا جارہا ہے کہ قرآن کریم وہی دعوت لے کر آیا ہے جو تورات اور انجیل کی دعوت تھی اور جن آسمانی کتابوں پر وہ ایمان رکھتے ہیں قرآن کریم انہیں جھٹلانے کے بجائے دو طرح سے ان کی تصدیق کرتا ہے ایک اس لحاظ سے کہ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ کتابیں اللہ ہی کی نازل کی ہوئی تھیں (یہ اور بات ہے کہ بعد کے لوگوں نے ان میں کافی رد وبدل کرڈالا جس کی حقیقت قرآن نے واضح فرمائی) اور دوسرے قرآن اس حیثیت سے ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے کہ ان کتابوں میں آخری نبی کی تشریف آوری کی جو پیشینگوئیاں کی گئی تھیں قرآن کریم نے انہیں سچا کر دکھایا اس کا تقاضا یہ تھا کہ بنی اسرائیل عرب کے بت پرستوں سے پہلے…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کو دعوت دی جاتی ہے کہ ان معاہدوں کا تقاضا پورا کرتے ہوئے وہ اللہ کے نازل کردہ کلام پر ایمان لائیں ، جو ان کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پاس ہیں ، وہ اس کلام کا انکار کرنے اور کفر کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں ، کیونکہ ان کے لئے مناسب تو یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے اس پر ایمان لاتے ۔
وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ ” اور میں جو کتاب بھیجی ہے ، اس پر ایمان لاؤ۔ یہ اسی کتاب کی تائید میں ہے ، جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی ۔ لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔ “
اسلام ، جسے اب حضرت محمد ﷺ اپنی آخری صورت میں لے کر…
Read the full tafseer →9 توریت میں بتادیا گیا تھا کہ جو نبی آئے اگر تورات کی تصدیق کرے تو اس کو جانو سچا ہے نہیں تو جھوٹا ہے۔ جاننا چاہیے کہ احکام قرآنی دربارہ اعتقادات اور اخبار انبیاء و احوال آخرت واوامر و نواہی تورات وغیرہ کتب سابقہ کے موافق ہیں، ہاں بعض اوامرو نواہی میں نسخ بھی کیا گیا ہے مگر وہ تصدیق کے مخالف نہیں تصدیق کے مخالف تکذیب ہے اور تکذیب کسی کتاب الٰہی کی ہو بالکل کفر ہے۔ منسوخ تو بعض آیات قرآنی بھی ہیں مگر اس کو نعوذ باللہ کون تکذیب کہہ سکتا ہے۔
10 یعنی قرآن کی دیدہ و دانستہ تکذیب کرنے والوں میں اول مت ہو کہ قیامت تک کے منکرین کا وبال تمہاری گردن پر ہو، اور مشرکین مکہ نے جو انکار کیا ہے وہ جہل اور…
Read the full tafseer →آیت 41 وَاٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَکُمْ ”
ان الفاظ کے دو معنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایمان لاؤ اس قرآن پر جو تصدیق کرتا ہے تورات کی اور انجیل کی۔ ازروئے الفاظ قرآنی : اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّنُوْرٌ ج المائدۃ : 44 ”ہم نے نازل کی تورات جس میں ہدایت اور روشنی تھی“۔ وَاٰتَیْنٰہُ الْاِنْجِیْلَ فِیْہِ ھُدًی وَّنُوْرٌ المائدۃ : 46 ”اور ہم نے اس عیسیٰ علیہ السلام کو دی انجیل جس میں ہدایت اور روشنی تھی“۔ اور دوسرے یہ کہ قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ ان پیشین گوئیوں کے مصداق بن کر آئے ہیں جو تورات میں تھیں۔ ورنہ وہ پیشین گوئیاں جھوٹی ثابت ہوتیں۔
وَلاَ تَکُوْنُوْٓا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
61 عقائد، اخبار انبیاء اور احوال آخرت تمام الہامی کتابوں میں تقریباً ایک ہی جیسے ہیں۔ فرق ہوتا ہے تو صرف بعض احکام میں جو احوال و ظروف کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔ لہذا قرآن جب تورات کی تصدیق کر رہا ہے تو اس کے پہلے منکر تم ہی نہ بن جاؤ۔ امی اہل عرب اور تمہاری اولاد تو تمہاری ہی روش پر چلیں گے۔ اس طرح سب کے گناہ کا حصہ تم پر بھی ہوگا۔ اور حدیث میں ہے کہ :
اہل کتاب کے ایمان لانے پر دوہرا اجر :۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین آدمیوں کے لیے دوہرا ثواب ہے ایک تو وہ اہل کتاب جو اپنے پیغمبر پر ایمان لایا، پھر محمد ﷺ پر ایمان لایا۔ دوسرے وہ غلام جو اللہ کا بھی حق ادا…
Read the full tafseer →150 ۔ (آیت) ” بما انزلت “۔ اشارہ ہے قرآن کی طرف (آیت) ” لما معکم “ اشارہ ہے توریت کی طرف۔ (آیت) ” کافر۔ صورۃ واحد ہے۔ معنی جمع ہے یعنی یا تو تقدیر کلام یہ ہے۔ ولا تکونوا اول فریق کافر (قرطبی) اور یا بقول اخفش نحوی وفراء نحوی اعتبار معنی فعل کا کیا گیا ہے۔ لان المعنی اول من کفر بہ (قرطبی) (آیت) ” بہ “ ضمیر قرآن کی طرف ہے۔ (آیت) ” اول کافر بہ “ قرآن کا اولین منکر بنی اسرائیل کو اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ مشرکین عرب یہود کے تسلیم واقرار کے بعد جس طرح اس باب میں ان کی تقلید کرتے، اسی طرح یہود کے انکار ومخالفت کے بعد اسے بھی سند میں پیش کرتے اور خود بھی انہیں کی راہ پر چلتے، یہود بہرحال اہل کتاب…
Read the full tafseer →وَلَا تَکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرٍ بِہ، بِہ کی ضمیر قرآن یا محمد ﷺ کی طرف راجع ہے اور دونوں طرح صحیح ہے اس لئے کہ دونوں لازم و ملزوم ہیں، اس لئے کہ ایک کا کفر دوسرے کے کفر کو مستلزم ہے اول کافر نہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ یہود میں تم اول کافر نہ بنو ورنہ تو تمام یہودیوں کے کفر کا وبال تم پر پڑے گا، ہجرت سے پہلے مکہ میں بہت لوگ آپ کی دعوت کا انکار کرچکے تھے، اول منکرین کے مصداق اہل مکہ ہیں۔
وَلَا تَشْتَرُوْا بِآیَاتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلاً ، تھوڑی قیمت پر فروخت نہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ : اگر زیادہ معاوضہ مل جائے، تو احکام الٰہی کا سودا کرلو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی کے مقابلہ میں دنیاوی…
Read the full tafseer →وَ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ (اور مان لو جو میں نے اتارا ہے) اس سے مراد قرآن پاک ہے اس آیت کا اَوْفُوْا بِعَھْدِی پر عطف تفسیری ہے یا یہ آیت تخصیص بعد تمیم ہے یعنی اَوْفُوْا بِعَھْدِیسے عام شیئے یعنی مطلق ایمان لانے کا حکم ہوا تھا۔ اس کے بعد پھر خاص شے یعنی قرآن پاک پر ایمان لانے کا امر ہے۔
مُصَدِّقًا ( اس شے کی تصدیق کرنے والی) اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ قرآن پاک ان تمام امور کی تصدیق کرتا ہے جو تورات انجیل وغیرہ کتب سماویہ میں مذکورہ ہیں مثلاً مختلف قصص نبی ﷺ کی بعثت صفت اور بعث۔ دعوۂ ثواب وعید عذاب۔ بیان توحید تمام انبیاء پر بلا تفریق ایمان لانے کا حکم تمام احکام کا امتثال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41) باطل کو حق کے ساتھ نہ ملاؤ کہ دجال کی صفت کو العیاذ باللہ رسول اکرم ﷺ کی صفت کے ساتھ مخلوط کرنے لگو اور تم اپنے پوشیدہ کرنے کو جانتے ہوئے حق بات کو مت چھپاؤ۔ (اور حضور ﷺ پر ایمان لے آؤ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
سب سے پہلے کافر بننے سے مراد یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں، تمہیں تو سب سے پہلے ایمان لانا چاہیے تھا۔
اس کے برعکس اگر تم ان کے ساتھ کفر کرتے ہو تو تم پہلے کافر ہوئے جو جانتے بوجھتے ہوئے کفر کر رہے ہو، اپنے آپ پر یہ ظلم نہ کرو۔ اس سے پہلے مشرکین مکہ نے جو کفر کیا تھا وہ جہالت کی وجہ سے تھا۔ اس لیے اشکال لازم نہیں آتا کہ کفار مکہ نے ان سے پہلے کفر کیا تھا۔ (بیضاوی)
(وَلَا تَشْتَرُوْا) اس سے مراد دنیاوی مفاد کے لیے آیات الٰہی کو چھپانا ہے۔ یہ مسلم قاعدہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔ دوسرے مقامات پر اللہ کی آیات کے بدلے کم قیمت خریدنے کا ذکر جہاں آیا ہے اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 41
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وامنوا بما انزلت یعنی قرآن کی تصدیق کرو۔ مصدقاً یہ انزلت کی ضمیر سے حال ہے (1) ۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے : بما انزلتہ مصدقاً ۔ اس میں عامل انزلت ہے یہ بھی جائز ہے کہ ما سے حال ہو اور اس میں عامل امنوا ہو۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : آمنوا بالقرآن مصدقاً ۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ما مصدریہ ہو۔ تقدیر عبارت آمنوا بانزال۔ لما معکم، یعنی تورات میں سے جو تمہارے پاس ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تکونوا اول کافر بہ۔ بہ میں ضمیر کا مرجع نہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت محمد ﷺ ہیں۔ یہ ابو العالیہ نے کہا ہے اور ابن جریج نے کہا : اس کا مرجع قرآن ہے کیونکہ بما انزلت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
(1) امام عبد بن حمید اور ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اسرائیل سے مراد یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ عبد بن حمید ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن مسعود سے روایت کیا کہ اسرائیل سے مراد یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔
(2) عبد بن حمید اور ابن المنذر نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) سخت گرفت کرنے والے آدمی تھے۔ ایک دفعہ کی ملاقات ایک فرشتے سے ہوئی وہ ان سے لڑ پڑے فرشتے نے ان کو بچھاڑ دیا اور ان کی ران پر مارا جب یعقوب (علیہ السلام) نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور فرمانے لگے میں تجھ کو چھوڑنے والا نہیں ہوں یہاں تک کہ تو میرا کوئی نام…
Read the full tafseer →[ وَاٰمِنُوْا : اور تم لوگ ایمان لاؤ ] [ بِمَآ : اس پر جو ] [ اَنْزَلْتُ : میں نے نازل کیا ] [ مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ ہو ] [ وَلَا تَكُوْنُوْٓا : اور تم لوگ مت ہو ] [ اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ ۠ : اس کا انکار کرنے والے کے پہلے ] [ وَلَا تَشْتَرُوْا : اور تم لوگ مت خریدو ] [ بِاٰيٰتِىْ : میری آیات کے بدلے ] [ ثَـمَنًا قَلِيْلًا : تھوڑی قیمت کو ] [ وَاِيَّاىَ : اور صرف مجھ سے ہی ] [ فَاتَّقُوْنِ : میرا تقوی کرو ]
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کو اسلام قبول کرنے کی دعوت
بنی اسرائیل کو مزید خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم اس کتاب پر ایمان لاؤ، جو میں نے نازل کی ہے یعنی قرآن مجید، اور یہ کتاب اس کتاب کے معارض نہیں ہے جو تم کو دی گئی تھی (یعنی توریت شریف) بلکہ یہ کتاب تو اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے۔ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی جس کو تم جانتے ہو اور مانتے ہو۔ جو توریت و انجیل بزمانہ نزول قرآن اہل کتاب کے پاس تھیں اگرچہ ان لوگوں نے ان میں تحریفات کردی تھیں پھر بھی ان میں نبی آخر الزماں ﷺ کی صفات موجود تھیں۔ سورة اعراف میں فرمایا : (الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰیۃِ وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
تذکیر اجمالی انعامات خاصہ بر اسلاف یہود و امر ایشاں بایفاء عہود ونہی از دین فروشی وحق پوشی (یعنی) ان نعمتوں کا بیان جو خاص بنی اسرائیل پر مبذول ہوئیں (یعنی در جمیع حاجات و مصائب واللہ اعلم۔ فتح الرحمن)
(ربط) شروع سورت میں حق تعالیٰ نے متقین اور کافرین اور منافقین کے اوصاف اور احوال بیان کیے۔ بعد ازاں یا ایہا الناس اعبدوا۔ میں خطاب عام فرمایا اور کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں کیا پھر توحید اور رسالت اور قیامت کے دلائل بیان کیے تاکہ عبادت کر کے آخرت کی تیاری کرسکیں بعد ازاں اپنے انعامات کو بیان کیا جو تمام بنی آدم کو عام اور شامل ہیں۔ اب عنان خطاب ایک خاص گروہ یعنی بنی اسرائیل کی طرف پھیرتے ہیں…
Read the full tafseer →ف 98 ۔ یعنی جو کتاب میں نے اتاری ہے اور جو پیغمبر میں نے بھیجا ہے جن کا ذکر تورات اور انجیل میں موجود ہے ان پر ایمان لاؤ۔ یہ چوتھا امر ہے۔ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ ۔ اللہ تعالیٰ کا جو دین تورات کی صورت میں تمہارے پاس موجود ہے۔ قرآن اور حضرت محمد ﷺ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ تصدیق کرنے سے مراد یہ ہے کہ توحید و رسالت اور دیگر عقائد جو تورات میں پیش کیے گئے تھے حضرت محمد ﷺ نے بھی قرآن کے ذریعے وہی دعوت اور وہی عقائد پیش کیے ہیں۔ ای موافقا لما معکم من التورۃ فی التوحید والنبوۃ والاخبار ونعت النبی ﷺ (معالم ص 45 ج 1) اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
تاریخ بنی اسرائیل : “ یایھا الناس اعبدوا ” سے تمام بنی نوع انسان سے عمومی خطاب تھا۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور خلافت ارضی کا ذکر تھا۔ اس کے بعد “ واذ قال ربک للمئکۃ ” میں بھی عمومی نعمت کا ذکر ہوا۔ جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے ذریعے تمام انسانوں کو حاصل ہوئی۔ اب یہاں سے بنی اسرائیل کو خصوصی خطاب ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں۔ اور ان معجزات کا ذکر کیا ہے۔ جو ان میں ظاہر ہوئے۔ بنی اسرائیل کے بالکل شکوک و شبہات کا ازالہ بھی کیا ہے۔ اور اس قوم میں جو خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ ان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ یہ بیان یہاں سے شروع ہو کر “ واذابتلی ابراھیم ربہ بکلمت ” تک…
Read the full tafseer →وَاٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْٓا اَوَّلَ كَافِرٍؚ بِہٖ 0 ۠ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰــتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا 0 ۡ وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ 41
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ترکیب : یا حرف ندا بنی منادی مضاف اسرائیل مضاف الیہ اذکروا فعل انتم ضمیر فاعل نعمتی مفعول موصوف التی انعمت الخ موصول وصلہ جملہ خبریہ بن کر اس کی صفت واو حرف عطف براذکروا اوتوا فعل انتم ضمیر فاعل بعہدی مفعول اوف بعہدکم جملہ جزا ہے جملہ اولیٰ کی کہ جو شرطیہ کی بودے رہا ہے اور اسی لیے اوف میں سے ی حذف ہوگئی ایای منصوب ہے فعل محذوف سے کہ جس پر فارھبون دلالت کرتا ہے تقدیرہ ایای فارہبوا اور فارہبون کی اصل فارہبونی ہے وقف آیت سے ی گر پڑی نون وقایہ باقی رہ گیا مگر زیر اس پر رکھا تاکہ دلالت کرے حذف ی پر وآمنوا عطف ہے اوفوا پر فعل بافاعل بما انزلت (تقدیرہ بماانزلتہ) الخ صلہ موصول مفعول مصدقاً حال مؤکد…
Read the full tafseer →وَاٰمِنُوْابِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقَا لِّمَا مَعَکُمْ وَلاَتَکُوْنُوْااَوَّلَ کَافِرٍم بِہٖص وَلاَ تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ز وَاِیَّایَ فَاتَّقُوْن۔ (البقرۃ : 41)
(اور ایمان لائو اس چیز پر جو میں نے اتاری ہے، جو تصدیق کرنے والی ہے اس چیز کی جو تمہارے پاس ہے اور تم اس کے پہلے کافر نہ بنو، اور میری آیات کو حقیر پونجی کے عوض نہ بیچو اور میرے غضب سے بچو)
مَـآ اَنْزَلْتُسے مراد
اس آیت کریمہ میں اللہ کے آخری رسول اور قرآن کریم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ مَااَنْزَلْتُسے مراداگرچہ قرآن کریم ہے اور قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے اور یہ بات مسلمہ ہے کہ کوئی کتاب بھی کسی پیغمبر کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کو عظمت رفتہ کی یاد دہانی اور اللہ کا خوف دلانے کے بعد نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو بلا چون و چرا تسلیم کرو اور دنیا کے مفاد کی خاطر ان سے روگردانی نہ کرو۔
سچائی کو قبول کرنے میں سب سے پہلے جو رکاوٹ پیش آیا کرتی ہے وہ دنیاوی مفاد، گروہی تعصبات اور آدمی کا قدیم رسومات ونظریات پر قائم رہنا ہے جنہیں چھوڑنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے۔ اس میں انسان کو وقتی مفادات، ماضی کے نظریات، آباء و اجداد کی روایات اور معاشرے کی فرسودہ رسومات کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ ان کو چھوڑنے سے کئی قسم کے الزامات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ آدمی ہمیشہ سے انہی زنجیروں میں جکڑا رہتا ہے۔ ان جکڑ…
Read the full tafseer →وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ : (اور خاص مجھ ہی سے ڈرو) تم میرے وعدے کو نہ توڑو۔ جیسے تم کہو۔ زیداً رھبتہ۔ یہ خصوصیت کا فائدہ دینے میں ایاک نعبد سورة الفاتحہ سے بڑھ کر ہے
نحوی تحقیق :
نحو : ایّای فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اس کا ما بعد اس پر دلالت کرتا ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ فارھبوا ایای فارھبون۔ اول کو حذف کرلیا کیونکہ دوسرا اس پر دلالت کرتا ہے۔ یہ فارھبون کی وجہ سے منصوب نہیں کیونکہ اس نے تو اپنا مفعول لے لیا ہے اور وہ یاء محذوفہ ہے نون کا مک سورة ونا یہ یاء کی دلیل ہے جس طرح کہ زید کا نصب اس مثال میں زید افاضربہ۔ زیدا اضرب جو ظاہر ہے اس کی وجہ سے منصوب نہیں ہے بلکہ محذوف کی بناء پر منصوب…
Read the full tafseer →41۔ (آیت)” وامنوا بما انزلت “ یعنی قرآن (آیت)” مصدقالما معکم “ یعنی ان (مضامین) کے موافق جو تمہارے پاس تورات جو کہ یہودیوں کے عالم اور سردار قسم کے لوگ تھے (آیت)” ولا تکونوا اول کافر بہ “ یعنی قرآن کے ساتھ مراد اول ہونے سے اہل کتاب میں سے اول ہونا ہے ورنہ یہود سے پہلے مکہ مکرمہ میں قریش مکہ کفر کرچکے تھے ۔
اس کا معنی یہ ہے کہ تم قرآن کریم کے ساتھ اول کفر کرنے والے نہ بن جاؤ پس بقیہ یہود اس پر تمہاری پیروی کریں گے پس تم اپنے اور اپنے متبعین کے گناہ کو سمیٹنے والے بن جاؤ گے ۔ (آیت)” ولا تشتروا “ یعنی نہ بدلہ میں لو ” بایاتی “ جو نبی کریم ﷺ کے بیان صفات سے متعلق ہیں ۔ (آیت)” ثمنا قلیلا “ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
(40 ۔ 41): اسرائیل حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ( علیہ السلام) کا نام ہے۔ بنی اسرائیل اور یہود حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے ہیں۔ اسرائیل کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔ ان آیتوں میں ان یہود کا ذکر ہے جو مدینہ کے اطراف میں رہتے تھے جن سے مدینہ کے منافق لوگ سازش رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو فرعون کی قید سے چھڑایا اور ملک شام میں ان کو آباد کیا۔ یہی ملک حضرت یعقوب کا وطن ہے جب حضرت یوسف مصر کو گئے تھے تو ان کے سبب سے اور اولاد یعقوب کا بھی مصر کو جانا ہوا تھا پھر حضرت یوسف کی وفات کے بعد یہ لوگ فرعون کی قید میں پھنس گئے۔ فرعون ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں اور اپنے احسانات کا ذکر شروع کیا۔ فرمایا :
آیت 40-43
یہاں اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب بنی اسرائیل کے ان گروہوں سے ہے جو مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھے۔ اس خطاب میں بعد میں آنے والے اسرائیلی بھی شامل ہیں۔ پس ان کو ایک عام حکم دیا ہے۔ فرمایا : (آیت) اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ ” میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیں “ ان نعمتوں میں تمام نعمتیں شامل ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذکر عنقریب اس سورت میں آئے گا۔ یہاں ان نعمتوں کے یاد کرنے سے مراد دل میں ان نعمتوں کا اعتراف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
قول باری ہے : وامنوا بما انزلت مصدقاً لما معکم ولاتکونوا اول کافر بہ (اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لائو۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جائو) ایک قول کے مطابق قول باری : ولاتکونوا اول کافربہ کا فائدہ یہ ہے کہ اگرچہ سب سے پہلے اور سب سے آخر دونوں سے کفر کا صدور قبیح ہے اور سب کو اس سے روکا گیا ہے، تاہم کفر کے اندر سابق شخص کی پیروی دوسرے لوگ کریں گے جس کی بنا پر اس کا جرم اور گناہ دوسروں کے جرم اور گناہ سے بڑھ کر ہوگا۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ولیحملن اثقالھم و اتقا لا مع اثقالھم (اور یہ لوگ ضرور اپنے گناہوں کا بوجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
122 اسرائیل کا معنیٰ اور اس لفظ سے خطاب کرنے کی وجہ ؟ : اسرائیل دراصل عبرانی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی عبداللہ کے آتے ہیں، یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے اور یعقوب کی بجائے اس نام کے ذریعے خطاب کرکے دراصل بنی اسرائیل کو اس عقیدئہ توحید کی یاد دہانی کرائی جارہی ہے، جس کی دعوت حضرت یعقوب زندگی بھر دیتے رہے، مگر بنی اسرائیل نے بعد میں طرح طرح کی شرکیہ آمیزشوں سے بگاڑ کر اسے کچھ کا کچھ بنادیا تھا۔ اور اسطرح عقیدئہ توحید کی اس اصل اساس و بنیاد ہی کو ان لوگوں نے بدل کر رکھ دیا تھا جس پر دین کی پوری عمارت کا مدارو انحصار ہے، اور اس طرح ان ناہنجاروں نے دین توحید کو دین شرک بنادیا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
تقویٰ کی ہدایت
تشریح : اس آیت میں بھی بدستور یہودیوں کو مخاطب کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کتاب ” قرآن مجید “ میں نے حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے اس کو دل و جان سے سچ مان لو کیونکہ اس کی تصدیق تمہاری کتابوں میں کی جا چکی ہے اور قرآن مجید تمہاری کتابوں کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ بنی اسرائیل اہل کتاب ہیں اور مدینہ کے لوگ ان پڑھ جاہل ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل سے بہت مرعوب تھے اہل مدینہ حضرت محمد ﷺ اور قرآن کی تصدیق کے لئے یہودی علماء و مشائخ کے پاس جاتے تھے۔ وہ محض دنیاوی مصلحتوں کی بناء پر اسلام و قرآن کے بارے میں ٹھیک ٹھیک ان کو بتاتے نہ تھے، بلکہ بہت کچھ چھپاتے اور جو کچھ بتاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
آیات 40- 46
اسرارو معارف
جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ سورة بلحاظ نزول مدنی ہے اور مدینہ منورہ میں یہود کا کافی تسلط تھا۔ قلعے اور جاگیریں بھی تھیں کاروباری لحاظ سے بھی بہت بڑھے ہوئے تھے اور ان میں بڑے بڑے علماء بھی تھے نیز وہ اپنے آسمانی مذہب پر ہونے اور حق پر ہونے کے مدعی بھی تھے۔
لہٰذا اللہ کریم نے سب سے پہلے مومن کے اوصاف ، پھر کافر اور منافق کے حالات بیان فرمائے پھر عمومی دعوت تمام انسانیت کو دی اور آپ روئے سخن براہ راست یہود کی طرف ہے کہ اسے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کہتے ہیں اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ان سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام نبی بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی طلب دنیا کے لیے احکام الہی میں تبدل و تغیر نہ کرو، حسن بصری فرماتے ہیں آیات الہی کے بدلہ میں ساری دنیا بھی مل جائے تو متاع قلیل ہی ہے۔ ابن کثیر) اور ہر وہ شخص جو رشوت لے کر غلط فتوے دیتا ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ (فتح البیان) اور اول کافر ہونے سے مرا یہ ہے کہ دیدہ و دانستہ پہلے کافر نہ ہو مشرکین مکہ نے جو اس سے پہلے کفر کیا تھا وہ ازر جہل تھا دانستہ نہ تھا لہذا اشکال لازم نہیں آتا (بیضاوی)
Read the full tafseer →(2:41) ما انزلت ۔ ما موصولہ اور انزلت اس کا صلہ، اس کی تقدیر یوں ہے۔
بما انزلتہ جو میں نے نازل کیا ہے یعنی قرآن مجید۔
مصدقا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب تصویق (تفعیل) مصدر سے ۔ سچا ماننے والا، سچا کہنے والا ۔ تصدیق کرنے والا۔ یہ حال مؤکد ہے حال محذوفہ سے جو کہ انزلت میں ہے ای انزلتہ مصدقا۔
ما معکم ، ما موصولہ معکم مضاف مضاف الیہ مل کر صلہ اپنے موصول کا۔ مراد اس سے تورات ہے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما انزلتہ ہے، یعنی قرآن مجید۔
لاتشتروا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ اشتراء (افتصال) مصدر۔ تم مت خریدو۔ تم مت مول لو ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا اور میری آیات میں (تحریف کرکے) ان کے بدلے تھوڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
لغات القرآن : آیت نمبر 40 تا 46
(بنی) : بیٹے، اولاد، ابن کی جمع بنین ہے، اضافت کی وجہ سے نون گر گیا۔ (اسرائیل): حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ترجمہ : اللہ کا بندہ ۔ (اوفوا) : پوراکرو۔ (عھد): وعدہ، معاہدہ۔ (ارھبون ) : مجھ سے ڈرو۔ (ارھبوا۔ ۔۔ ۔ تم ڈرو، وقایہ ، فارھبونی، ” ی “ گرگئی ) ۔ (مصدق): تصدیق کرنے والا، سچا بتانے والا۔ (لا تکونوا): تم نہ ہو۔ (کافر): انکار کرنے والا۔ (لا تشتروا): تم فروخت نہ کرو۔ (ثمنا قلیلاً ): تھوڑی قیمت، گھٹیا قیمت۔ (فاتقون): مجھ سے ڈرو، (یہ بھی ارھبون کی طرح ہے) ۔ (لا تلبسوا): نہ ملاؤ۔ (الحق): سچ۔ (الباطل): جھوٹ۔ (تکتموا): تم نہ چھپاؤ۔ (یہاں اصل میں لفظ ہے لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
حضرت آدم (علیہ السلام) نے زمین میں آنے کے بعد تین سو برس تک شرم کے مارے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو تمام اہل زمین کے آنسؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن)
وسیلہ نام مصطفیٰ ﷺ
طبرانی و حاکم و ابونعیم و بیہقی نے حضرت علی المرتضی ؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے۔ اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا تھا " لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " میں سمجھا تھا کہ بارگاہ الہی میں وہ رتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حاصل ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
[37] حق کو کسی دنیوی مادی مصلحت کی بنا پر چھوڑ دینا حق فروشی ہے اس کے معاوضے میں انسان خواہ دنیا بھر کی دولت لے لے بہرحال وہ تھوڑی قیمت ہی ہے کیونکہ حق سے زیادہ گراں کوئی چیز نہیں۔
Read the full tafseer →قرآن حکیم تمام سچائیوں کا معترف ہے :
(ف 3) ان آیات میں بنی اسرائیل کو دعوت دی ہے کہ وہ قرآن کی آواز پر لبیک کہیں ، کیونکہ قرآن حکیم تمام پہلی کتابوں کا مصدق ہے تمام سبابقہ سچائیوں کا معترف ہے وہ اس پر ایمان لائیں ، کیونکہ اس میں وہی روشنی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو وادی ایمن میں نظر آئی اس میں وہی صداقت ہے ‘ جس کا اظہار صبح ناصری نے کیا ، اس کے بعد ان کے تجر قلبی پر انہیں ملامت کی اور فرمایا کہ دنیا طلبی کو صرف سفلی خواہشات تک محدود رکھو ، مذہب کو اور صداقت کو کسی قیمت پر بھی نہ بیچو ، اس لئے دیانتداری کو جس قیمت پر بھی فروخت کیا جائے گا وہ غلط ہوگی اور کم ہوگی اور فرمایا کہ صرف مجھ سے…
Read the full tafseer →ف 5۔ اور تم اس چیز پر جو میں نے نازل کی ہے جس کی حالت یہ یہ کہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرنیوالی ہے جو تمہارے پاس ہے ۔ ایمان لے آئو اور تم میری نازل کردہ چیز کے انکار کرنے میں پہل کرنے والے نہ بنو ، اور میری آیات و احکام کو تھوڑی اور معمولی قیمت پر فروخت نہ کرتے پھرو ، اور پھر صرف میری خفگی اور ناراضگی سے بچتے رہو۔ ( تیسیر)
کتب سابقہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ آخر زمانے میں جو رسول آئے گا وہ تمہاری کتاب کو سچا بتانے والا ہوگا۔ یہ ایک علامت تھی تا کہ بنی اسرائیل اس علامت کو دیکھ کر اس پر ایمان لے آئیں ۔
بما انزلت سے مراد یا تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور یا قرآن ہے ، ہم نے دونوں…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی میرے احکام چھوڑ کر اور ان کو بدل کر اور چھپا کر عوام الناس سے دنیائے ذلیل و قلیل کو وصول مت کرو جیسا کہ ان کی عادت تھی۔
Read the full tafseer →محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی پیشینگوئی :
92: پیشین گوئیوں کی ضرورت تصدیق کے لئے محسوس ہوا کرتی ہے آپ کو معلوم ہے کہ باوجود تحریفات لفظی ومعنوی کے پھر بھی کتب سابقہ میں رسول اللہ ﷺ کی آمد کے متعلق پیشینگوئیاں اب تک موجود ہیں چناچہ گزشتہ آیت میں اس کا ذکر کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا
ہے کہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے موسیٰ جیسا ایک پیغمبر بھیجا جائے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تک جتنے انبیاء و رسل مبعوث ہوئے کسی کا بھی مثیل موسیٰ ہونے کا دعویٰ نہ تھا۔ اس لئے کہ وہ سب کے سب ملت اسرائیلی کی تجدید و احیاء کے لئے بھیجے گئے تھے بلکہ خود مسیح (علیہ السلام) بھی اسی…
Read the full tafseer →(3) Verse 41 asks the Israelites not to be the first to deny the Holy Qur'an, although being a disbeliever is in itself the ultimate sin, whether one be the first or the last. The verse, in fact, suggests that the man who is the first to deny and disbelieve will not only incur the sin of his own denial but also bear the additional burden of the sin of misleading all those who follow his example; and will thus have to undergo a multiple punishment.
It follows from here that the man who is in any way responsible for others falling into any kind of sin will have to bear the burden of this sin…
Read the full tafseer →57. 'Trifling gain' refers to the worldly benefits for the sake of which they were rejecting God's directives. Whatever one may gain in exchange for the Truth, be it all the treasure in the world, is trifling; the Truth is of supreme value.
Read the full tafseer →