Explained with ayahs 40–41
بنی اسرائیل سے خطاب
ان آیتوں میں بنی اسرائیل کو اسلام قبول کرنے اورحضور ﷺ کی تابعداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انتہائی لطیف پیرایہ میں انہیں سمجھایا گیا ہے کہ تم ایک پیغمبر کی اولاد میں سے ہو تمہارے ہاتھوں میں کتاب اللہ موجود ہے اور قرآن اس کی تصدیق کر رہا ہے پھر تمہیں نہیں چاہئے کہ سب سے پہلے انکار تمہیں سے شروع ہو۔ اسرائیل حضرت یعقوب ؑ کا نام تھا تو گویا ان سے کہا جاتا ہے کہ تم میرے صالح اور فرمانبردار بندے کی اولاد ہو۔ تمہیں چاہیے کہ اپنے جدِامجد کی طرح حق کی تابعداری میں لگ جاؤ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ تم سخی کے لڑکے ہو سخاوت میں آگے بڑھو تم پہلوان کی اولاد ہو داد شجاعت دو۔ تم عالم کے بچے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 56
اسرائیل کے معنی ہیں عبد اللہ یا بندہ خدا۔ یہ حضرت یعقوب ؑ کا لقب تھا، جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا۔ وہ حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے اور حضرت ابراہیم ؑ کے پوتے تھے۔ انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں۔ پچھلے چار رکوعوں میں تمہیدی تقریر تھی، جس کا خطاب تمام انسانوں کی طرف عام تھا۔ اب یہاں سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریر اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے چلتی ہے جس میں کہیں کہیں عیسائیوں اور مشرکین عرب کی طرف بھی کلام کا رخ پھر گیا ہے اور موقع موقع سے ان لوگوں کو بھی خطاب کیا گیا ہے جو حضرت محمد ﷺ کی دعوت پر ایمان لائے تھے۔ اس تقریر کو پڑھتے ہوئے حسب ذیل باتوں کو خاص طور پر…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے بنی اسرائیل (یعنی حضرت یعقوب ؑ کی اولاد) یاد کرو تم لوگ میرے ان احسانوں کو جو کئے ہیں میں نے تم پر (تاکہ حق نعمت سمجھ کر ایمان لانا تمہارے لئے آسان ہوجائے، آگے اس یاد کرنے کی مراد بتلاتے ہیں) اور پورا کرو تم میرے عہد کو (یعنی تم نے جو تورات میں مجھ سے عہد کیا تھا جس کا بیان قرآن کی اس آیت میں ہے، وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۚ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيْبًا (12: 5) پورا کروں گا میں تمہارے عہد کو (یعنی میں نے جو عہد تم سے کیا تھا ایمان لانے پر جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ اور صرف مجھ ہی سے ڈرو (اپنے…
Read the full tafseer →یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ: اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے، یہودی علما اس کے معنی بطل اللہ کے بتاتے ہیں۔ یہ معنی لینے میں غالباً اس روایت کو بڑا دخل ہو گا جو یہود نے تورات میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کشتی لڑنے کی داخل کر رکھی ہے۔
استاذ امام مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ عبرانی زبان سے بھی واقف تھے۔ ان کی تحقیق میں یہ دولفظ دو جزوں سے مرکب ہے۔ اِسر اور اِیل۔ اِسر کے معنی ان کی تحقیق میں بندہ کے ہیں اور ایل عبرانی میں الٰہ کے معنی کے لئے مشہور رہی ہے۔ اس طرح مولانا کے نزدیک اسرائیل کے معنی عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ کے ہوئے۔
یہود نے اسرائیل کی وجہ تسمیہ…
Read the full tafseer →40۔ 1 اسرا ئِیْلُ (بمنعی عبداللہ) حضرت یعقوب ؑ کا لقب تھا۔ یہود کو بنو اسرائِیْل کہا جاتا تھا یعنی یعقوب ؑ کی اولاد۔ کیونکہ حضرت یعقوب ؑ کے بارہ بیٹے تھے جس میں یہود کے بارہ قبیلے بنے اور ان میں بکثرت انبیاء اور رسل تھے۔ یہود کو عرب میں اس کی گزشتہ تاریخ اور علم و مذہب سے وابستگی کی وجہ سے ایک خاص مقام حاصل تھا اس لئے انہیں گزشتہ انعامات الٰہی یاد کرا کے کہا جا رہا ہے کہ تم میرا وہ عہد پورا کرو جو تم سے نبی آخر زمان کی نبوت اور ان پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا تھا۔ اگر تم اس عہد کو پورا کرو گے تو میں اپنا عہد پورا کروں گا کہ تم سے وہ بوجھ اتار دئیے جائیں گے اور جو تمہاری غلطیاں اور کوتاہیوں…
Read the full tafseer →ف 37 اسرائیل حضرت یعقوب ؑ کا دوسرا نام ہے ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے، تمام تر یہودی اور اکثر عیسائی اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے، مدینہ منورہ میں یہودیوں کی اچھی خاصی تعداد آباد تھی اور رسول اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد نہ صرف ان کو اسلام کی دعوت دی تھی بلکہ ان سے امن کا معاہدہ بھی فرمایا تھا، لہذا اس مدنی سورت میں زیرنظر آیت سے آیت نمبر : 143 تک مسلسل بنی اسرائیل کا تذکرہ ہے، جس میں انہیں اسلام کی دعوت بھی دی گئی ہے اور ان کو نصیحت کرنے کے ساتھ ان کی بد عنوانیوں پر متنبہ بھی کیا گیا ہے، شروع میں ان کو یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کیسے کیسے انعامات فرمائے تھے، اس…
Read the full tafseer →جو لوگ بنی اسرائیل کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں ‘ وہ حیران رہ جاتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے اس قوم کو کن کن نعمتوں سے نوازا۔ اور یہ کہ نعمتوں کی اس مسلسل بارش کے مقابلے میں وہ کس مکروہ انداز میں بار بار حق کا انکار کرتے رہے ۔ یہاں ابتداء میں اللہ تعالیٰ اجمالاً ان نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہیں جو اس نے ان پر کیں۔ اس کے بعد آنے والے پیرا گرافوں میں بالتفصیل ان کا ذکر آتا ہے ۔ یہ انعامات انہیں اس لئے یاد دلائے جاتے ہیں تاکہ انہیں اس بات کی دعوت دی جائے کہ جو عہد تم نے اللہ سے باندھا تھا اسے پورا کرو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کا سلسلہ جاری رکھے اور اپنی نعمتوں سے انہیں نوازدے ۔
يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
5 اول یایھا الناس اعبدوا خطاب عام تھا اور ان نعمتوں کا ذکر فرمایا تھا جو تمام بنی آدم پر عام تھیں مثلا زمین و آسمان و جملہ اشیاء کا پیدا کرنا۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کر کے ان کو خلیفہ بنانا اور بہشت میں داخل کرنا وغیرہ۔ اب ان میں سے خاص بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا، اور خاص نعمتیں جو وقتا فوقتا پشت در پشت ان پر ہوتی چلی آئیں اور انہوں نے جو کفران نعمت کیا ان سب باتوں کو مفصل ذکر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ بنی اسرائیل تمام فرقوں سے بنی آدم میں ممتاز اور اہل علم و کتاب و نبوت اور انبیاء کو پہچاننے والے سمجھے جاتے تھے کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک چار ہزار…
Read the full tafseer →اب یہاں سے بنی اسرائیل سے خطاب شروع ہو رہا ہے۔ یہ خطاب پانچویں رکوع سے چودہویں رکوع تک ‘ مسلسل دس رکوعات پر محیط ہے۔ البتہ ان میں ایک تقسیم ہے۔ پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے ‘ اور جب کسی گروہ کو دعوت دی جاتی ہے تو تشویق و ترغیب ‘ دلجوئی اور نرمی کا انداز اختیار کیا جاتا ہے ‘ جو دعوت کے اجزاء لاینفک ہیں۔ اس انداز کے بغیر دعوت مؤثرّ نہیں ہوتی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ سات آیات پانچواں رکوع ان دس رکوعوں کے لیے بمنزلۂ فاتحہ ہیں۔ بنی اسرائیل کی حیثیت سابقہ امت مسلمہ کی تھی ‘ جن کو یہاں دعوت دی جا رہی ہے۔ وہ بھی مسلمان ہی تھے ‘ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کا انکار کر کے کافر ہوگئے۔ ورنہ وہ حضرت موسیٰ علیہ…
Read the full tafseer →59 بنی اسرائیل سے خطاب کا آغاز :۔ یہاں سے خطاب کا رخ عوام الناس کے بجائے بنی اسرائیل کی طرف ہوگیا ہے جو چودھویں رکوع تک چلتا ہے۔ یہود مدینہ میں بکثرت آباد تھے۔ چونکہ سیدنا اسحاق (علیہ السلام) سے لے کر ان میں تقریباً چار ہزار نبی آچکے تھے۔ اس لیے تمام عرب پر ان کے علم و فضل کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے بیشمار انعامات کئے تھے۔ مگر کچھ مدت گزرنے پر ان میں بہت سے عیوب پیدا ہوگئے تھے اپنے اس علمی تفوق کی بنا پر اور اس حسد کی بنا پر کہ آنے والا نبی اسحاق کی اولاد سے نہیں، انہوں نے دعوت اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا۔ چناچہ اگلی آیات میں ان کا مفصل ذکر آ رہا ہے۔
اسرائیل کا معنی…
Read the full tafseer →146 (آیت) ” بنی اسر آء یل۔ “ مشہور ونامور پیمبر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عراقی ثم شامی ثم حجازی (2 160 تا 1985 ق۔ م) سے مشہور ونامور دو نسلیں چلیں۔ ایک بی بی ہاجرہ (علیہا السلام) مصری کے بطن کے فرزند حضرت اسمعیل (علیہ السلام) سے۔ یہ نسل بن اسمعیل کہلائی۔ اور آگے چل کر قریش اسی کی ایک شاخ پیدا ہوئی۔ ان کا وطن عرب رہا۔ دوسری ، ، بی بی سارہ (علیہا السلام) عراقی کے بطن کے فرزند حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے فرزند حضرت یعقوب عرف حضرت اسرائیل (علیہ السلام) سے۔ یہ نسل بنی اسرائیل کہلائی۔ اس کا وطن شام رہا۔ قدیم جغرافیہ میں فلسطین کوئی الگ الگ ملک نہ تھا ، ، شام ہی کا جزو تھا۔ ایک تیسری نسل، تیری…
Read the full tafseer →یٰبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا ....... الیٰ ..... وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔
ترجمہ : اے بنی اسرائیل اولاد یعقوب میری ان نعمتوں کو یاد کرو، جو میں نے تم کو عطا کیں، یعنی تمہارے آباء و اجداد کو مثلاً فرعون سے نجات دینا اور دریا کو پھاڑ دینا اور بادل کو سایہ فگن بنانا، وغیرہ وغیرہ بایں طور کہ میری اطاعت کرکے میری نعمتوں کا شکریہ ادا کرو، اور تم میرے عہد کو پورا کرو، جو میں نے تم سے لیا اور وہ محمد ﷺ پر ایمان لانے کے متعلق ہے میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا، جو میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی ایمان لانے پر جنت میں داخل کرکے ثواب عطا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرو، یعنی عہد شکنی کرنے میں مجھ سے ڈرو…
Read the full tafseer →یٰبَنبِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ ( اے اسرائیل کی اولاد) بنی اصل میں بَنِیْنَ تھا نون اضافۃ کی وجہ سے گرگیا بنین ابن کی جمع ہے اور ابن بناء سے مشتق ہے جس کے معنی بنا اور تعمیر کرنے کے ہیں کیونکہ ابن (پسر) بھی باپ کا بنا کیا ہوا ہوتا ہے ( یعنی باپ ایک ظاہری سبب اس کی بنا کا بن جاتا ہے) اسرائیل حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کا لقب ہے۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے اس کے معنے ہیں عبد اللہ ( اللہ کا بندہ) اِسْرَاء بمعنی عبد اور ایل بمعنی اللہ بعض نے کہا ہے کہ اسرائیل کے معنی ہیں صفوۃ اللہ ( اللہ کا برگزیدہ) ابو جعفر نے اسرائیل کو بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے۔
اذْکُرُوْا ( یاد کرو) ذکر اصل میں دل سے یاد کرنے کو کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 40) اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو انعامات کیے، اب ان کی یاددہانی کروائی جاتی ہے کہ اے اولاد یعقوب ! میرے انعامات پر اللہ کا شکر کرو اور میرے احسانات کو محفوظ رکھو جو میں نے تم پر کتاب نازل کرکے اور رسول بھیج کر اور ایسے ہی فرعون اور اس کی آل کو غرق کرکے اور تمہیں اس سے نجات دے کر اور بطور انعام ”من وسلوی“۔ وغیرہ نازل کرکے کیے اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں میرے عہد ومیثاق کو پورا کرو اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں جنت میں داخل کروں گا اور بدعہدی کرنے سے مجھ سے ڈرو میرے علاوہ اور کسی سے نہ ڈرو اور میں نے جبریل امین ؑ کے ذریعے سے جو کتاب نازل کی ہے اور اس کتاب کے جو کہ تمہارے پاس ہے توحید،…
Read the full tafseer →اس سے پہلے ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ تمام لوگوں کو دعوت تھی، اب بنی اسرائیل کو خصوصی خطاب ہے، کیونکہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ان کا زیادہ حق ہے کہ وہ نبی ﷺ پر ایمان لائیں۔ یہ خطاب کبھی انعامات یاد دلا کر ہے جو ان پر کیے گئے، کبھی ان کی بد اعمالیوں پر ڈانٹ کے ساتھ ہے اور کبھی ان سزاؤں کے ذکر کے ساتھ ہے جو ان کی نافرمانیوں پر انھیں دی گئیں۔ یہاں سے لے کر آیت ایک سو سینتالیس تک ان پر دس انعامات، ان کی دس بد اعمالیوں اور انھیں دی جانے والی دس سزاؤں کا ذکر ہے۔ (التسہیل)
اسرائیل یعقوب ؑ کا دوسرا نام یا لقب ہے، جس کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔ اس لیے ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ بنی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 40
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یبنی اسرائیل یہ ندا مضاف ہے اس میں نصب کی علامت یاء ہے۔ اضافت کی وجہ سے اس سے نون حذف کیا گیا ہے۔ بنین کا واحد ابن ہے اس میں اصل بنی ہے بعض نے فرمایا : بنوٌ ہے۔ جنہوں نے فرمایا : اس میں واو حذف کی گئی ہے انہوں نے بنوۃ سے حجت پکڑی ہے، اس میں کوئی حجت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کہا ہے : الفتوۃ میں اصل یاء ہے۔ زجاج نے کہا : میرے نزدیک یاء حذف ہے گویا یہ بنیت سے مشتق ہے۔ اخفش نے اس سے واو کے حذف کو پسند کیا ہے کیونکہ واؤ کے ثقل کی وجہ سے واو کا حذف اکثر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : ابن بینٌ، البنوۃ۔ اور تصغیر بنی فراء نے کہا : یا بنی یا بنی دونوں لغتیں ہیں جیسے یا ابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
(1) امام عبد بن حمید اور ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اسرائیل سے مراد یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ عبد بن حمید ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن مسعود سے روایت کیا کہ اسرائیل سے مراد یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔
(2) عبد بن حمید اور ابن المنذر نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) سخت گرفت کرنے والے آدمی تھے۔ ایک دفعہ کی ملاقات ایک فرشتے سے ہوئی وہ ان سے لڑ پڑے فرشتے نے ان کو بچھاڑ دیا اور ان کی ران پر مارا جب یعقوب (علیہ السلام) نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور فرمانے لگے میں تجھ کو چھوڑنے والا نہیں ہوں یہاں تک کہ تو میرا کوئی نام…
Read the full tafseer →[ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : اے اسرائیل کے بیٹو ] [ اذْكُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ] [ نِعْمَتِىَ : میری نعمت کو ] [ الَّتِىْٓ: جس کو کہ ] [ اَنْعَمْتُ : میں نے انعام کیا ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ وَاَوْفُوْا : اور تم لوگ پورا کرو ] [ بِعَهْدِىْٓ: میرے عہد کو ] [ اُوْفِ : تو میں پورا کروں گا ] [ بِعَهْدِكُمْ ۚ : تمہارے عہد کو ] [ وَاِيَّاىَ : اور صرف مجھ سے ہی ] [ فَارْھَبُوْنِ : تم لوگ خوف کرو میرا ]
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کو انعامات کی یاد دہانی
بنی اسرائیل ( اسرائیل کی اولاد) اس سے یہودی مراد ہیں۔ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے جو عبرانی زبان کا لفظ ہے۔ اسرائیل کا معنی ہے صفوۃ اللہ یعنی اللہ کا برگزیدہ بندہ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کا معنی ہے عبداللہ ( اللہ کا بندہ) ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے۔ جن کی اولاد بارہ قبیلوں پر منقسم ہے اور بنی اسرائیل کا خطاب ان سب کو شامل ہے۔ بنی اسرائیل مدینہ منورہ میں اور خیبر میں اور شام میں اور ان کے علاوہ مختلف علاقوں میں آباد تھے۔ سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ عربی تھے۔ آپ کی بعثت تو سارے ہی انسانوں کے لیے ہے لیکن آپ کے اولین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
تذکیر اجمالی انعامات خاصہ بر اسلاف یہود و امر ایشاں بایفاء عہود ونہی از دین فروشی وحق پوشی (یعنی) ان نعمتوں کا بیان جو خاص بنی اسرائیل پر مبذول ہوئیں (یعنی در جمیع حاجات و مصائب واللہ اعلم۔ فتح الرحمن)
(ربط) شروع سورت میں حق تعالیٰ نے متقین اور کافرین اور منافقین کے اوصاف اور احوال بیان کیے۔ بعد ازاں یا ایہا الناس اعبدوا۔ میں خطاب عام فرمایا اور کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں کیا پھر توحید اور رسالت اور قیامت کے دلائل بیان کیے تاکہ عبادت کر کے آخرت کی تیاری کرسکیں بعد ازاں اپنے انعامات کو بیان کیا جو تمام بنی آدم کو عام اور شامل ہیں۔ اب عنان خطاب ایک خاص گروہ یعنی بنی اسرائیل کی طرف پھیرتے ہیں…
Read the full tafseer →ف 96 ۔ اسرائیل عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں " اللہ کا بندہ " یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ اور بنی اسرائیل سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد مراد ہے۔ اور یہاں بنی اسرائیل سے ان یہودیوں کو خطاب کیا گیا ہے جو مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں آباد تھے۔ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ پندونصیحت سے پہلے انعامات کا ذکر نہایت ہی مؤثر حکمت عملی ہے اور یہاں نعمت ہم جنس ہے اور اس سے مراد وہ مادی اور روحانی انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر کیے۔ مثلاً دولت، حکومت، نبوت اور دوسرے وقتی انعامات جیسا کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
تاریخ بنی اسرائیل : “ یایھا الناس اعبدوا ” سے تمام بنی نوع انسان سے عمومی خطاب تھا۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور خلافت ارضی کا ذکر تھا۔ اس کے بعد “ واذ قال ربک للمئکۃ ” میں بھی عمومی نعمت کا ذکر ہوا۔ جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے ذریعے تمام انسانوں کو حاصل ہوئی۔ اب یہاں سے بنی اسرائیل کو خصوصی خطاب ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائی ہیں۔ اور ان معجزات کا ذکر کیا ہے۔ جو ان میں ظاہر ہوئے۔ بنی اسرائیل کے بالکل شکوک و شبہات کا ازالہ بھی کیا ہے۔ اور اس قوم میں جو خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ ان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ یہ بیان یہاں سے شروع ہو کر “ واذابتلی ابراھیم ربہ بکلمت ” تک…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 5
يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِىْٓ اُوْفِ بِعَہْدِكُمْ 0 ۚ وَاِيَّاىَ فَارْھَبُوْنِ 40
اِسْرَاۗءِيْلَ
( بني) ، جمع ابن، والألف في ابن عوض من لام الکلمة المحذوفة فأصلها بنو .
(إسرائيل) ، علم أعجمي، وقد يلفظ بتخفیف الهمزة إسراييل، وقد تبقی الهمزة وتحذف الیاء أي إسرائل، وقد تحذف الهمزة والیاء معا أي : إسرال .
ذكر ( نصیحت)
وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ترکیب : یا حرف ندا بنی منادی مضاف اسرائیل مضاف الیہ اذکروا فعل انتم ضمیر فاعل نعمتی مفعول موصوف التی انعمت الخ موصول وصلہ جملہ خبریہ بن کر اس کی صفت واو حرف عطف براذکروا اوتوا فعل انتم ضمیر فاعل بعہدی مفعول اوف بعہدکم جملہ جزا ہے جملہ اولیٰ کی کہ جو شرطیہ کی بودے رہا ہے اور اسی لیے اوف میں سے ی حذف ہوگئی ایای منصوب ہے فعل محذوف سے کہ جس پر فارھبون دلالت کرتا ہے تقدیرہ ایای فارہبوا اور فارہبون کی اصل فارہبونی ہے وقف آیت سے ی گر پڑی نون وقایہ باقی رہ گیا مگر زیر اس پر رکھا تاکہ دلالت کرے حذف ی پر وآمنوا عطف ہے اوفوا پر فعل بافاعل بما انزلت (تقدیرہ بماانزلتہ) الخ صلہ موصول مفعول مصدقاً حال مؤکد…
Read the full tafseer →یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَھْدِیْٓ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْج وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنَ ۔ (البقرۃ : 40)
(اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میری اس نعمت کو جو میں نے تم کو عطا کی اور میرے عہد کو پوراکرو، میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو)
گزشتہ رکوع سے پیوستہ رکوع میں انسانوں کو اللہ نے اپنی عبادت اور بندگی کی دعوت دی تھی اور بتایا تھا کہ ہر انسان اپنی ذات میں اللہ کا بندہ اور اس کا غلام ہے اور اللہ اس کا معبود اس کا آقا اور حاکم حقیقی ہے۔ اس کے بعد گذشتہ رکوع میں مزید یہ حقیقت واضح کی گئی کہ تم صرف اللہ کے بندے ہی نہیں ہو بلکہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کی نسل میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کو امت محمدیہ سے پہلے دنیا میں سب سے زیادہ عزت و عظمت اوراقتدارو اختیار ملا مگر انہوں نے اس کی ناقدری اور ناشکری کی جس کی وجہ سے وہ ذلیل و خوار ہوئے ان کی ذلت و رسوائی کے اسباب کی تفصیل سورة البقرۃ کی سو آیات میں بیان ہوئی ہے۔ (عہد کی تفصیل دیکھیں البقرۃ : 83)
ہر دور میں اہل علم کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے جس کا عبرانی زبان میں معنٰی ہے۔ ” اللہ کا بندہ “ لہٰذا بنی اسرائیل کا معنٰی ہوا کہ اللہ کے بندے کی اولاد۔ تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ…
Read the full tafseer →تفسیر یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ :
یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ : (اے بنی اسرائیل) اسرائیل یعقوب ( علیہ السلام) یہ ان کا لقب ہے ان کی زبان میں اس کا معنی صفوۃ اللہ یا عبد اللہ ہے۔ اسراء کا معنی بندہ یا چنا ہوا۔ ایلؔ۔ عبرانی زبان میں اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہ غیر منصرف ہے کیونکہ عجمہ اور علم ہے۔
انعامات کی مراد :
اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ : (تم میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم پر کیں) ان کو نعمتیں یاد دلائیں تاکہ وہ ان کے شکریہ سے خالی نہ رہیں۔ اور دینے والے کی اطاعت کریں۔ اس سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو ان کے آبائو اجداد پر کیں۔ جن کو شمار کیا وہ یہ ہیں۔ فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →خاصیت آیت 40 تا 42۔
(آیت)” یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اذْکُرُواْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْ أَنْعَمْتُ عَلَیْْکُمْ وَأَوْفُواْ بِعَہْدِیْ أُوفِ بِعَہْدِکُمْ وَإِیَّایَ فَارْہَبُونِ (40) وَآمِنُواْ بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَکُمْ وَلاَ تَکُونُواْ أَوَّلَ کَافِرٍ بِہِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآیَاتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً وَإِیَّایَ فَاتَّقُونِ (41) وَلاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُواْ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (42)
اگر کسی عورت سے کوئی بات حاصل کرنا مقصود ہو اور وہ نہ بتارہی ہو تو اس آیت کو کسی کنواری لڑکی کے کپڑے کے ٹکڑے پر لکھ لے اور جب وہ عورت سوئی ہوئی ہو تو اسے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
(40 ۔ 41): اسرائیل حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ( علیہ السلام) کا نام ہے۔ بنی اسرائیل اور یہود حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے ہیں۔ اسرائیل کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔ ان آیتوں میں ان یہود کا ذکر ہے جو مدینہ کے اطراف میں رہتے تھے جن سے مدینہ کے منافق لوگ سازش رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو فرعون کی قید سے چھڑایا اور ملک شام میں ان کو آباد کیا۔ یہی ملک حضرت یعقوب کا وطن ہے جب حضرت یوسف مصر کو گئے تھے تو ان کے سبب سے اور اولاد یعقوب کا بھی مصر کو جانا ہوا تھا پھر حضرت یوسف کی وفات کے بعد یہ لوگ فرعون کی قید میں پھنس گئے۔ فرعون ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں اور اپنے احسانات کا ذکر شروع کیا۔ فرمایا :
آیت 40-43
یہاں اسرائیل سے مراد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب بنی اسرائیل کے ان گروہوں سے ہے جو مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں آباد تھے۔ اس خطاب میں بعد میں آنے والے اسرائیلی بھی شامل ہیں۔ پس ان کو ایک عام حکم دیا ہے۔ فرمایا : (آیت) اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ ” میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیں “ ان نعمتوں میں تمام نعمتیں شامل ہیں۔ ان میں سے بعض کا ذکر عنقریب اس سورت میں آئے گا۔ یہاں ان نعمتوں کے یاد کرنے سے مراد دل میں ان نعمتوں کا اعتراف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
قول باری ہے : وامنوا بما انزلت مصدقاً لما معکم ولاتکونوا اول کافر بہ (اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لائو۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جائو) ایک قول کے مطابق قول باری : ولاتکونوا اول کافربہ کا فائدہ یہ ہے کہ اگرچہ سب سے پہلے اور سب سے آخر دونوں سے کفر کا صدور قبیح ہے اور سب کو اس سے روکا گیا ہے، تاہم کفر کے اندر سابق شخص کی پیروی دوسرے لوگ کریں گے جس کی بنا پر اس کا جرم اور گناہ دوسروں کے جرم اور گناہ سے بڑھ کر ہوگا۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ولیحملن اثقالھم و اتقا لا مع اثقالھم (اور یہ لوگ ضرور اپنے گناہوں کا بوجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
122 اسرائیل کا معنیٰ اور اس لفظ سے خطاب کرنے کی وجہ ؟ : اسرائیل دراصل عبرانی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی عبداللہ کے آتے ہیں، یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام ہے اور یعقوب کی بجائے اس نام کے ذریعے خطاب کرکے دراصل بنی اسرائیل کو اس عقیدئہ توحید کی یاد دہانی کرائی جارہی ہے، جس کی دعوت حضرت یعقوب زندگی بھر دیتے رہے، مگر بنی اسرائیل نے بعد میں طرح طرح کی شرکیہ آمیزشوں سے بگاڑ کر اسے کچھ کا کچھ بنادیا تھا۔ اور اسطرح عقیدئہ توحید کی اس اصل اساس و بنیاد ہی کو ان لوگوں نے بدل کر رکھ دیا تھا جس پر دین کی پوری عمارت کا مدارو انحصار ہے، اور اس طرح ان ناہنجاروں نے دین توحید کو دین شرک بنادیا ۔…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کو تنبیہ
تشریح : اب پانچویں رکوع سے بنی اسرائیل کی تاریخ ہمارے لئے عبرت کا نشان ہے، کیونکہ پانچویں رکوع سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریرجاری ہے جو اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے کی جارہی ہے جس میں بنی اسرائیل کی شرانگیزیوں، لغزشوں، گناہوں، نافرمانیوں، ہٹ دھرمیوں اور سرکشیوں کا ذکر ہے اس کے بعد ان سے تمام فضیلتیں چھن جانے کا بیان ہے۔
اسرائیل کے معنی ہیں اللہ کا بندہ ! یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب تھا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے تھے انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دو بیٹے ہوئے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
آیات 40- 46
اسرارو معارف
جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ سورة بلحاظ نزول مدنی ہے اور مدینہ منورہ میں یہود کا کافی تسلط تھا۔ قلعے اور جاگیریں بھی تھیں کاروباری لحاظ سے بھی بہت بڑھے ہوئے تھے اور ان میں بڑے بڑے علماء بھی تھے نیز وہ اپنے آسمانی مذہب پر ہونے اور حق پر ہونے کے مدعی بھی تھے۔
لہٰذا اللہ کریم نے سب سے پہلے مومن کے اوصاف ، پھر کافر اور منافق کے حالات بیان فرمائے پھر عمومی دعوت تمام انسانیت کو دی اور آپ روئے سخن براہ راست یہود کی طرف ہے کہ اسے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کہتے ہیں اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ان سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام نبی بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →ف 2 بعض نے عہد اول سے خاص کر آنحضرت ﷺ کی اتباع کا عہد مراد لیا ہے مگر عموم پر محمول کرنا بہتر ہے۔ (قرطبی) بنی اسرائیل کی طرح متعدد آیات میں امت محمدی سے بھی ایفائے عہد کا تقاضا کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(2:40) یبنی اسرائیل۔ یاء حرف نداء بنی اسرائیل مضاف، مضاف الیہ مل کر منادی۔ بنی اسرائیل اصل میں بنیں تھا۔ ن جمع اضافت کے سبب گرگیا۔ اسرائیل منصوب بوجہ غیر منصرف عجمہ و معرفہ ہونے کے ہے۔ اسرائیل کے معنی عبد اللہ۔ یعنی اللہ کا بندہ ہے یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے بنی اسرائیل اے اسرائیل کے بیٹو، یا اسے اسرائیل کی اولاد۔ اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔
اذکروا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ذکر (باب نصر) تم یاد کرو۔
نعمتی۔ مضاف مضاف الیہ ۔ میری نعمتیں، میرے احسان۔ یہاں نعمت لفظاً واحد ہے لیکن اس کے معنی جمع کے ہیں کیونکہ نعمت ایک نہ تھی بلکہ غیر متناہی تھیں۔ ی ضمیر واحد متکلم کی ہے۔ میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
لغات القرآن : آیت نمبر 40 تا 46
(بنی) : بیٹے، اولاد، ابن کی جمع بنین ہے، اضافت کی وجہ سے نون گر گیا۔ (اسرائیل): حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ترجمہ : اللہ کا بندہ ۔ (اوفوا) : پوراکرو۔ (عھد): وعدہ، معاہدہ۔ (ارھبون ) : مجھ سے ڈرو۔ (ارھبوا۔ ۔۔ ۔ تم ڈرو، وقایہ ، فارھبونی، ” ی “ گرگئی ) ۔ (مصدق): تصدیق کرنے والا، سچا بتانے والا۔ (لا تکونوا): تم نہ ہو۔ (کافر): انکار کرنے والا۔ (لا تشتروا): تم فروخت نہ کرو۔ (ثمنا قلیلاً ): تھوڑی قیمت، گھٹیا قیمت۔ (فاتقون): مجھ سے ڈرو، (یہ بھی ارھبون کی طرح ہے) ۔ (لا تلبسوا): نہ ملاؤ۔ (الحق): سچ۔ (الباطل): جھوٹ۔ (تکتموا): تم نہ چھپاؤ۔ (یہاں اصل میں لفظ ہے لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
حضرت آدم (علیہ السلام) نے زمین میں آنے کے بعد تین سو برس تک شرم کے مارے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو تمام اہل زمین کے آنسؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن)
وسیلہ نام مصطفیٰ ﷺ
طبرانی و حاکم و ابونعیم و بیہقی نے حضرت علی المرتضی ؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے۔ اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا تھا " لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " میں سمجھا تھا کہ بارگاہ الہی میں وہ رتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حاصل ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →[34] بنی اسرائیل کے لفظی معنی ہیں اسرائیل کے بیٹے۔ اسرائیل کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔ یہ یعقوب (علیہ السلام) کا لقب تھا اور بنی اسرائیل یعنی یہود نسل یعقوب ٹھہرے۔ مدینہ منورہ اور اس کے قرب و جوار میں یہودیوں کی بڑی تعداد آباد تھی۔ اس لئے ان کو خطاب کیا جا رہا ہے۔
[35] یعنی اطاعت الٰہی و اطاعت انبیاء کا عہد۔
[36] یعنی دنیوی و اخروی فوزو فلاح سے ہمکنار کرنے کا عہد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(ف 2) اولاد یعقوب (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، ان میں متعدد رسول آئے ہیں اور ان پر بیشمار نعمتیں ہیں کہ جن کا ظہور ہوا ، لیکن یہ ویسے کے ویسے ہی رہے ، ان آیات میں زمانہ رسالت کے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مت بھولو ۔ اس کے عہد کی تصدیق کرو ، یعنی تم میں سے وعدہ تھا کہ ہر سچائی کو قبول کرو گے ، پھر تمہیں یہ کیا ہوگیا ہے کہ اس بہت بڑی صداقت کا انکار کرتے ہو ۔
Read the full tafseer →ف 4۔ اے اولاد یعقوب ! تم میرے ان احسانات کو جو میں نے تم پر کئے ہیں یاد کرو اور تم میرے اس عہد کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو میں بھی اس عہد کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا ہے اور تم مجھ ہی سے ڈرو۔ ( تیسیر)
اسرائیل عبرانی زبان میں خدا کے بندے کو کہتے ہیں ۔ یہ حضرت یعقو ب (علیہ السلام) کا نام ہے ان کی اولاد کو خطاب فرمایا ہے اور اس عہد کے پورا کرنیکا مطالبہ کیا ہے جو انہوں نے کیا تھا۔ اس عہد کے متعلق مفسرین کے بہترین سے اقوال ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ، بنی اسرائیل کہتے ہیں اولاد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ان ہی میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور توریت اتری اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ف 2۔ یعنی وہاں بھی جاکر دوام نہ ملے گا بعد چندے وہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →یہود کی علمی خرابی :
88: بنی اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کو کہتے ہیں کیونکہ ان کا دوسرا نام اسرائیل ہی ہے۔ قرآن کریم ان کی خرابیاں ذکر کرنے سے قبل تذکیر بالاء اللہ یعنی اپنا انعامات کا ذکر کر کے ان کے اندر حس و بیداری پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایک شریف انسان کی تنبیہ کے لئے صرف اتنا ہی کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ تم شریف زادے ہو۔ چناچہ اس آیت میں بھی انہیں بتایا گیا ہے کہ تمہارے آبائے کرام وہ لوگ تھے جن پر ہر قسم کی نعمتیں نازل ہوئیں ان کو نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ حکومت نوازش کی گئی اور یہی سب سے بڑی نعمت ہے کہ کسی امت کو ایسے اعلیٰ ترین عقائد و اخلاق کی تعلیم دی جائے کہ ان کا لازمی اور…
Read the full tafseer →The Surah Al-Baqarah begins by speaking of the Holy Qur'an itself, and tells us that although it provides guidance to all men, yet only true Muslims will derive a full benefit from it. The Sarah proceeds to warn the disbelievers against the grievous punishment which awaits them in the other world, and also to delineate the misdeeds of the two kinds of disbelievers - those who deny openly, and the hypocrites. Then, addressing all the three groups, it urges upon them to worship Allah alone, and, presenting the Holy Qur'an as a miracle which cannot be imitated by man, invites them to have faith…
Read the full tafseer →56. 'Israel' means the slave of God. This was the title conferred on Jacob (Ya'qub) by God Himself. He was the son of Isaac and the grandson of Abraham. His progeny are styled the 'Children of Israel'.
Turning to the Qur'anic text itself, it is noteworthy that the foregoing verses have been in the nature of introductory remarks addressed to all mankind. From the present section up to and including the fourteenth (verses 40 discourse, the reader should be particularly aware of the following purposes:
The first purpose of this discourse is to invite those followers of the earlier Prophets who…
Read the full tafseer →