Explained with ayahs 38–39
جنت کے حصول کی شرائط
جنت سے نکالتے ہوئے جو ہدایت حضرت آدم حضرت حوا اور ابلیس کو دی گئی اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ ہماری طرف سے کتابیں انبیاء اور رسول بھیجے جائیں گے، معجزات ظاہر کئے جائیں گے، دلائل بیان فرمائے جائیں گے، راہ حقوق واضح کردی جائے گی، آنحضرت محمد ﷺ بھی آئیں گے، آپ پر قرآن کریم بھی نازل فرمایا جائے گا، جو بھی اپنے زمانے کی کتاب اور نبی کی تابعداری کرے گا اسے آخرت کے میدان میں کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ ہی دنیا کے کھو جانے پر کوئی غم ہوگا۔ سورة طہ میں بھی یہی فرمایا گیا ہے کہ میری ہدایت کی پیروی کرنے والے نہ گمراہ ہوں گے، نہ بدبخت و بےنصیب۔ مگر میری یاد سے منہ موڑنے والے دنیا کی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 54
آیات جمع ہے آیت کی۔ آیت کے اصل معنی اس نشانی یا علامت کے ہیں جو کسی چیز کی طرف رہنمائی کرے۔ قرآن میں یہ لفظ چار مختلف معنوں میں آیا ہے۔ کہیں اس سے مراد محض علامت یا نشانی ہی ہے۔ کہیں آثار کائنات کو اللہ کی آیات کہا گیا ہے، کیونکہ مظاہر قدرت میں سے ہر چیز اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو اس ظاہری پردے کے پیچھے مستور ہے۔ کہیں ان معجزات کو آیات کہا گیا ہے جو انبیاء (علیہم السلام) لے کر آتے تھے، کیونکہ یہ معجزے دراصل اس بات کی علامت ہوتے تھے کہ یہ لوگ فرمانروائے کائنات کے نمائندے ہیں۔ کہیں کتاب اللہ کے فقروں کو آیات کہا گیا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف حق اور صداقت کی طرف رہنمائی…
Read the full tafseer →آخری آیت والَّذِيْنَ كَفَرُوْا سے یہ بتلا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہوگا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس ہدایت کو ہدایت سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے سے انکار کردیں یعنی کفار اور مؤمنین جو ہدایت کو ہدایت ماننے کا اقرار کرتے ہیں وہ عملاً کیسے بھی گہنگار ہوں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد بالآخر جہنم سے نکال لئے جائیں گے، واللہ اعلم
Read the full tafseer →وَالَّذِينَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا: یہ آیت اوپر والی آیت کے بالمقابل ہے۔ اوپر والی آیت میں ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی ہدایت کی پیروی کریں گے۔ اس آیت میں ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کریں گے۔
آیات کا لفظ آیت کی جمع ہے۔ آیت کے اصل معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔
قرآن مجید میں یہ لفظ ان دلائل اور نشانیوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو آسمان وزمین اور آفاق ونفس کے ہر گوشے میں موجود ہیں اور جو خدا کی قدرت وحکمت اس کی توحید اور اس کے قانون جزاوسزا کی گواہی دے رہی ہیں۔
ان معجزات کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو حضرات انبیا علیہم…
Read the full tafseer →39۔ 1 قبولیت دعا کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ جنت میں آباد کرنے کے بجائے دنیا ہی میں رہ کر جنت کے حصول کی تلقین فرمائی اور حضرت آدم ؑ کے واسطے تمام بنو آدم کو جنت کا یہ راستہ بتلایا جا رہا ہے۔ کہ انبیاء علیہم کے ذریعے سے میری ہدایت (زندگی گزارنے کے احکام وضابطے) تم تک پہنچے گی جو اس کو قبول کرے گا وہ جنت کا مستحق اور بصورت دیگر عذاب الٰہی کا سزاوار ہوگا۔ ان پر خوف نہیں ہوگا۔ کا تعلق آخرت سے ہے۔ ای فیما یستقبلونہ من امر الاخرۃ اور حزن نہیں ہوگا کا تعلق دنیا سے۔ علی ما فاتھم من امورالدنیا (جو فوت ہوگیا امور دنیا سے یا اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آئے) جس طرح دوسرے مقام پر ہے آیت (فَمَنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
36 : جب آدم ؑ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ پریشان ہوگئے لیکن سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے کن الفاظ میں معافی مانگیں، اس لئے زبان سے کچھ نکل نہیں رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے جو دلوں کے حال سے بھی خوب واقف ہے اور رحیم وکریم بھی ہے ان کی اس کیفیت کے پیش نظر خود ہی ان کو توبہ کے الفاظ سکھائے جو سورة اعراف میں مذکور ہیں : قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (آیت نمبر : 23) اے ہمارے پروردگار ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔
اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
یہاں آکر یہ معرکہ اپنے اصلی میدان ‘ زمین کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور اس وقت سے شروع ہے ۔ لمحہ بھر کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا ۔ اور یوں انسان ‘ آغاز انسانیت سے یہ راز پالیتا ہے کہ اگر وہ اس دنیا میں سرخروئی اور کامرانی چاہتا ہے تو اس کے حصول کا طریقہ کیا ہے ؟ اور اگر وہ ذلت و خواری چاہتا ہے تو اس کی راہ کون سی ہے ؟
٭ ........ ٭ ........ ٭
لمحہ بھر کے لئے ذرا پیچھے کی طرف لوٹئے اور ابتدائی انسانیت کی اس کی دلچسپ کہانی کے بعض پہلوؤں کا جائزہ لیجئے ! اللہ تعالیٰ خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ معلوم ہوا کہ آدم پہلے ہی اس زمین کے لئے پیدا کئے گئے تھے ۔ سوال یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
5 اول یایھا الناس اعبدوا خطاب عام تھا اور ان نعمتوں کا ذکر فرمایا تھا جو تمام بنی آدم پر عام تھیں مثلا زمین و آسمان و جملہ اشیاء کا پیدا کرنا۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کر کے ان کو خلیفہ بنانا اور بہشت میں داخل کرنا وغیرہ۔ اب ان میں سے خاص بنی اسرائیل کو خطاب کیا گیا، اور خاص نعمتیں جو وقتا فوقتا پشت در پشت ان پر ہوتی چلی آئیں اور انہوں نے جو کفران نعمت کیا ان سب باتوں کو مفصل ذکر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ بنی اسرائیل تمام فرقوں سے بنی آدم میں ممتاز اور اہل علم و کتاب و نبوت اور انبیاء کو پہچاننے والے سمجھے جاتے تھے کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک چار ہزار…
Read the full tafseer →آیت 39 وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہماری اس ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کریں گے ‘ ناشکری کریں گے۔
وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ”اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے“
اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ’
یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نوع انسانی کو ابدی منشور charter عطا کردیا گیا جب زمین پر خلیفہ کی حیثیت سے انسان کا تقرر کیا گیا۔ ّ
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے ‘ سورة البقرۃ کے یہ ابتدائی چار رکوع قرآن کی دعوت اور قرآن کے بنیادی فلسفہ پر مشتمل ہیں ‘ اور ان میں مکی سورتوں کے مضامین کا خلاصہ آگیا ہے۔
Read the full tafseer →58 جنت میں دوبارہ داخلہ : ساتھ ہی یہ بھی وضاحت فرمائی کہ بنی نوع انسان کے لئے میری طرف سے ہدایت (وحی) آتی رہے گی اور جو لوگ اس کے مطابق عمل کریں گے۔ انہیں کچھ غم واندوہ نہ ہوگا اور وہ اس جنت کے وارث ہوں گے، جہاں سے آدم وغیرہم کو نکالا گیا تھا۔ البتہ جو لوگ ہماری وحی کا انکار کریں گے اور شیطان سے دوستی رکھیں گے تو وہ دائمی طور پر دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔
Read the full tafseer →144 ۔ (آیت) ” کذبوا بایتنا “ اہل جنت کے ذکر میں ذات حق کے لیے ضمیر متکلم صیغہ جمع میں ہوگئی ہے۔ (آیت) ” بایتنا “ اہل لطائف نے لکھا ہے کہ وہ موقع اظہار خصورصیت و شفقت کا تھا۔ اس لیے ” میری “ ہی مناسب تھا۔ اب محل حاکمانہ جلالت واقتدار کا ہے، اس لیے یہاں ” ہماری “ ہی موزوں ہے۔ (آیت) ” اصحب النار “ یعنی دوزخ والے۔ وہ لوگ جو دوزخ کے ہوچکے۔ گویا وہ دوزخ ہی کی آبادی ہیں۔ الصاحب الملازم (راغب) ومعنی الصحبۃ اقتران بالشئی والغالب فی العرف ان تطلق علی الملازمۃ (روح) گویا جو لوگ ضابطہ شریعت سے انکار اور قانون الہی کی تکذیب میں لگے ہوئے ہیں انہوں نے اپنا مستقل تعلق دوزخ اور آتش دوزخ سے پیدا کرلیا ہے۔ آخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا، جنت سے نیچے اترنے کا حکم حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) کے ساتھ ساتھ صلب آدم علیہ الصلوٰةو السلام میں موجود ذریعت کو بھی ہے اس لئے اِھْبِطُوا جمع کا صیغہ لایا گیا ہے۔
یہ حکم بطور سزا نہیں تھا : جنت سے نکلنے کا حکم بطور سزا و عتاب نہیں تھا، اس لئے کہ خطا تو معاف ہوچکی ہے، بلکہ یہ محض نتیجہ طبعی کا ظہور ہے، شجرہ ممنوعہ کا پھل کھا لینے سے جو طبعی اثرات مرتب ہو رہے تھے، ان کے لحاظ سے اب جنت میں قیام کی گجائش نہ تھی، روح کے داغ دھل جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جسم و مادہ سے بھی غلط کاری کے نقش مٹ جائیں، اگر کوئی شخص خود کشی کے ارادہ سے زہر کھالے اور معاً اسے…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ( اور جو نافرمانی کرینگے) : مَنْ تَبِعَ پر عطف ہے گویا یہ ارشاد ہے جو ہماری ہدایت کو نہ مانے بلکہ کفر کرے۔
وَ کَذَّبُوا بِاٰیَاتِنَآ ( اور ہماری آیتوں ( قرآن وغیرہ کتب) کو جھٹلائیں گے) ۔
اُوْلٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ( وہی دوزخی ہوں گے) قیامت میں۔
ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے) یعنی اس میں رہیں گے نہ نکلیں گے نہ مریں گے۔ اس قصہ سے تین باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ جنت پیدا کردی گئی ہے۔ دوسرے یہ کہ اوپر کی جانب ہے۔ تیسرے یہ کہ کافروں کو ہمیشہ ہمیشہ عذاب ہوگا کبھی نجات نہ پائیں گے۔ فرقہ حشویہ نے اس قصہ سے یہ نکالا ہے کہ حضرات انبیاء ( علیہ السلام) معصوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 40) اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو انعامات کیے، اب ان کی یاددہانی کروائی جاتی ہے کہ اے اولاد یعقوب ! میرے انعامات پر اللہ کا شکر کرو اور میرے احسانات کو محفوظ رکھو جو میں نے تم پر کتاب نازل کرکے اور رسول بھیج کر اور ایسے ہی فرعون اور اس کی آل کو غرق کرکے اور تمہیں اس سے نجات دے کر اور بطور انعام ”من وسلوی“۔ وغیرہ نازل کرکے کیے اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں میرے عہد ومیثاق کو پورا کرو اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں جنت میں داخل کروں گا اور بدعہدی کرنے سے مجھ سے ڈرو میرے علاوہ اور کسی سے نہ ڈرو اور میں نے جبریل امین ؑ کے ذریعے سے جو کتاب نازل کی ہے اور اس کتاب کے جو کہ تمہارے پاس ہے توحید،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(قُلْنَا مِنْهَا جَمِيْعًا ۚ) توبہ کی قبولیت کے بعد پھر پہلا حکم دہرایا، مقصد یہ کہ گناہ کی معافی کے باوجود اب تمہیں اور تمہاری اولاد سب کو زمین ہی پر رہنا ہوگا، جس کی خلافت کے لیے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔ جنت میں واپسی کے لیے تمہیں اس ہدایت اور راستے پر چلنا ہوگا جو میری طرف سے تمہارے پاس آئے گی۔
(فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى) مخاطب آدم ؑ اور ان کی بیوی ہیں، مگر مراد ان کی اولاد ہے، یعنی تمہارے پاس میری طرف سے انبیاء و رسل بذریعہ وحی ہدایت لے کر آتے رہیں گے۔ ہدایت کا یہ سلسلہ آدم ؑ سے شروع ہو کر محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگیا۔ آپ ﷺ آخری نبی ہیں، قرآن مجید اور حدیث نبوی آخری وحی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 39
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذین کفروا یعنی جنہوں نے شرک کیا، کیونکہ آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وکذبوا بایتنا اولئک اصحب النار صحبت کا مطلب ہوتا ہے ہر حالت میں اور ہر زمانہ میں کسی چیز سے ملا ہوا ہونا، اگر ملازمت اور اختلاط ہو تو یہ کمال صحبت ہے۔ اسی طرح یہ دوزخیوں کی دوزخ سے صحبت ہے، اس قول کی وجہ سے صحاب کا نام رکھنے میں اختلاف ختم ہوجاتا ہے کیونکہ مراتب مختلف ہیں (1) ۔ مزید تفصیل ہم انشاء اللہ سورة برأت میں بیان کریں گے۔ اس آیت کے باقی الفاظ کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(1) امام ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو یعلی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قلنا اھبطوا منھا جمیعا، فاما یاتینکم منی ھدی “ میں ” ھدی “ سے مراد انبیاء رسول اور بیان ہے۔
(2) حضرت ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” فمن تبع ھدی “ کے بارے میں روایت کیا کہ زمین میں ہمیشہ اللہ کے اولیاء (یعنی دوست) ہوتے ہیں جب سے آدم نیچے اتارے گئے اللہ تعالیٰ نے زمین کو خالی نہیں رکھا ابلیس کے لیے مگر یہ کہ اس (زمین) میں اولیاء ہوتے ہیں جو اس کی اطاعت کے ساتھ اللہ کے لئے عمل کرتے ہیں۔
(3) حضرت ابن الانباری نے المصاحف میں ابو الطفیل (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت ” فمن تبع ھدای “ کو یاء تنفیل اور اس…
Read the full tafseer →[ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور جن لوگوں نے انکار کیا ] [ وَكَذَّبُوْا : اور جھٹلایا ] [ بِاٰيٰتِنَآ : ہماری نشانیوں کو ] [ اُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ : آگ والے ہیں ] [ ھُمْ : وہ لوگ ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ہدایت قبول کرنے والوں کے لیے انعام اور کافروں کے لیے دوزخ کا داخلہ
اس سے پہلے حکم اِھْبِطُوْا (اُتر جاؤ) پہلی آیت میں مذکور ہے۔ اس کو دوبارہ لانا یا تو تاکید کے لیے ہے یا پہلا حکم یہ بتانے کے لیے تھا کہ تم یہاں سے جاؤ جہاں جا رہے ہو، مصیبت کی جگہ ہوگی آپس میں دشمنی ہوگی اور وہاں تھوڑی مدت رہنا ہوگا، ہمیشگی نہ ہوگی اور دوسرا حکم یہ بتانے کے لیے ہے کہ جہاں تم کو بھیجا جا رہا ہے وہ دارالتکلیف ہے۔ وہاں قیام کرنے کے بارے میں یہ بات ذہن میں رکھو اور یہیں سے سمجھتے جاؤ کہ تمہارے خالق اور مالک کی طرف سے وہاں ہدایات آئیں گی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر آئیں گے، اس کی کتابیں نازل ہوں گی۔ ان پیغمبروں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
اعادۂ حکم ہبوط
قال تعالیٰ قلنا اھبطوا منہا جمیعا۔۔ الی۔۔۔ ھم فیھا خلدون
گزشتہ آیت میں حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی توبہ کا قبول ہونا ذکر فرمایا اب آئندہ آیات میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ توبہ قبول ہونے کے بعد بھی آدم (علیہ السلام) کو بہشت میں آنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس لیے کہ دنیا میں ہدایت اور حضرات انبیاء ومرسلین کی بعثت کا سلسلہ جاری کرنا ہے تاکہ اطاعت اور نافرمانی کا مادہ ظہور میں آجائے۔ چناچہ ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم فی الحال اسی جگہ رہو جہاں تم کو بہشت سے اتارا گیا ہے، یعنی فی الحال دنیا ہی میں رہو۔ سر دست بہشت میں جانے کی اجازت نہیں، تم سب کے سب فی الحال اسی جگہ رہو اس لیے کہ اگر…
Read the full tafseer →ف 95 ۔ کفر سے مراد دل سے انکار ہے اور تکذیب سے زبانی انکار مراد ہے۔ فیراد بالکفر بالایات انکرھا بالقلب وابالتکذیب انکارھا باللسان۔ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ۔ خلود سے مراد یہاں دوام ہے یعنی وہ عذاب جہنم میں ابد الآباد مبتلا رہیں گے۔ والخلود ھھنا الدوام علی ما نعقد علیہ الاجماع (روح ص 241 ج 1)
بنی اسرائیل کو دعوت
شروع میں یَا اَیُّہَا النَّاسُ کے خطاب عام کے ذریعے تمام انسانوں کو توحید کی دعوت عام دی گئی عقلی دلیل سے دعوی توحید کو مدلل اور واضح کیا گیا۔ اور دعویٰ توحید سے متعلق دو شبہات کا نہایت تسلی بخش طریقہ سے ازالہ کر کے ثابت کیا گیا کہ نہ فرشتے پکارنے کے لائق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
گزشتہ سے پیوستہ : جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس درخت کا پھل کھالیا۔ جس سے انہوں منع کیا گیا تھا۔ تو ان سے انعام و اکرام لے لئے گئے۔ اور انہیں حکم ہوا کہ زمین پر اتر جاؤ۔ بعض تمہارے بعض کے دشمن ہیں۔ اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے۔ اور تمہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانا ہوگا۔ اب آدم (علیہ السلام) کو بڑی پریشانی ہوئی۔ کہ انہیں زمین پر اتر نے کا حکم مل گیا ہے۔ بعض روائتوں میں یہ بھی آتا ہے (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 182) کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) آئے اور آدم (علیہ السلام) کے سر سے تاج اتار لیا اور ان کے جسم سے بہشت کا لباس بھی اتار لیا اور انہیں برہنہ…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ 0 ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ 39 ۧ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ترکیب : قلنا فعل ضمیر نحن اس کا فاعل اھبطو امنھا جمیعًا اس کا مقولہ جمیعًا لفظاً تو اھبطوا سے حال ہے اور معناً تاکید ہے یعنی سب اترو خواہ مجتمع ہو کر خواہ الگ الگ فامّا ان ماتھا ان حرف شرط اور ما اس کی تاکید ہے ادغام ہو کر اما ہوگیا۔ یاتینکم میں یاتین فعل مضارع کم مفعول منی متعلق فعل سے ھدی فاعل یہ سارا جملہ شرطیہ ہوا۔ فمن میں فاتفریع کے لیے من شرطیہ مبتدا محلاً مرفوع طبع اس کی خبر اس کی ضمیر راجع ہے من کی طرف یہ محلاً مجزوم فلاخوف علیہم ولاھم یحزنون جملہ اسمیہ اس کا جواب پس من شرطیہ اپنے جواب سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر جواب ہوا امایاتینکم کا۔ والذین الخ عطف ہے فمن تبع الخ پر اس کا قسیم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًاج فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِنِّی ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْابِاٰیٰتِنَا اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔
” ہم نے کہا ! اترو یہاں سے سب، تو اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے، تو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جو کفر کریں گے اور جھٹلائیں گے میری آیتوں کو وہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ (البقرۃ : 38 تا 39)
حکم میں اعادہ کا مفہوم
اس آیت کریمہ کا پہلا جملہ گزشتہ سے پیوستہ آیت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی نہ کی ان کا انجام۔
قرآن مجید کا یہ انداز فکر اور اسلوب بیان ہے کہ جب انعام و اکرام کا تذکرہ کرتا ہے تو ساتھ ہی برائی کے مضمرات و عواقب کے انجام کے بارے میں بھی انتباہ کرتا ہے تاکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والا بیک وقت یہ سمجھ جائے کہ نیکی کے کیا فوائد اور برائی کے نقصانات کیا ہیں ؟ یہاں اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات کا انکار اور ان کی تکذیب کرنے والوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی ذات کے منکر اور اس کے احکامات کا انکارو تکذیب کرتے رہے تو تمہیں جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ : (آدم ( علیہ السلام) نے سیکھ لیے اپنے رب سے چند کلمے) ان کلمات کو قبول کیا حرز جان بنایا۔ اور ان پر عمل کیا۔
نحو : اٰدم منصوب کلمات مرفوع عندالم کی، یعنی ان کلمات نے آدم ( علیہ السلام) کا استقبال کیا۔ یعنی اس تک پہنچ گئے۔ اور اس سے مل گئے اور وہ کلمات سورة الاعراف آیت نمبر 23 میں مذکور ہیں۔ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ اس میں ان کی اولاد کو نصیحت کردی کہ انہوں نے گناہوں سے ہٹنے کا راستہ معلوم کرلیا۔
محبوب کلام :
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ کو محبوب…
Read the full tafseer →(تفسیر) 39۔:
(آیت)” والذین کفروا “ جنہوں نے انکار کیا (آیت)” وکذبوا بایاتنا “ قرآن کریم کے ساتھ (آیت)” اولئک اصحاب النار “ قیامت کے دن (آیت)” ھم فیھا خالدون “ نہ تو جنت سے نکلیں گے اور نہ انکواس میں موت آئے گی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(38 ۔ 39): جو علماء حضرت آدم کے قصہ میں سانپ کی شراکت کو صحیح کہتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ جو فرشتے جنت کے دروازے پر تعینات ہیں وہ شیطان کو جنت میں نہیں جانے دیتے تھے۔ اس لئے شیطان سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں گیا اور حضرت آدم و حوا کو بہکایا۔ ان کا یہ قول ہے کہ حضرت آدم ‘ حوا ‘ ابلیس ‘ سانپ ان چاروں کو { اِھْبِطُوْا مِنْہَا } فرمایا ہے اور جو علماء سانپ کی شراکت نہیں دیتے وہ آیت میں سانپ کے ذکر کو شامل نہیں رکھتے۔ اس باب کی روایات کا پورا ذکر سورة اعراف میں ہو وے گا کیوں کہ وہاں شیطان کا پورا قصہ ہے۔ اخیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جو قیامت تک پیدا ہوگی یہ جتلا دیا کہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت 38، 39
(آیت) قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا ” ہم نے کہا اتر و اس سے اکٹھے “۔ زمین پر اتارے جانے کا مکرر ذکر کیا، تاکہ اس پر وہ حکم مرتب کیا جائے جس کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے۔ (آیت) فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى یعنی اے جن وانس ! اگر تمہارے پاس میری طرف سے کسی وقت اور کسی بھی زمانے میں ہدایت پہنچے، یعنی کوئی رسول اور کوئی کتاب آئے جو اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرے جو تمہیں میرا تقرب عطا کرے، میرے اور میری رضا کے قریب کرے۔ پس جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرتے ہوئے میرے رسولوں اور میری کتابوں پر ایمان لائے اور ان رسولوں کو راہنما بنائے۔۔۔ اور اس سے مراد ہے کہ وہ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
قول باری ہے : وامنوا بما انزلت مصدقاً لما معکم ولاتکونوا اول کافر بہ (اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لائو۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جائو) ایک قول کے مطابق قول باری : ولاتکونوا اول کافربہ کا فائدہ یہ ہے کہ اگرچہ سب سے پہلے اور سب سے آخر دونوں سے کفر کا صدور قبیح ہے اور سب کو اس سے روکا گیا ہے، تاہم کفر کے اندر سابق شخص کی پیروی دوسرے لوگ کریں گے جس کی بنا پر اس کا جرم اور گناہ دوسروں کے جرم اور گناہ سے بڑھ کر ہوگا۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ولیحملن اثقالھم و اتقا لا مع اثقالھم (اور یہ لوگ ضرور اپنے گناہوں کا بوجھ…
Read the full tafseer →121 اِتّباع ہوی کا نتیجہ ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ھوی کے راستے کو اپنانے کا نتیجہ و انجام، دوزخ کا ہمیشہ کا عذاب اور ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے بدبختوں کو اپنے کفر و انکار اور تکذیب و اعراض کے نتیجے میں اس ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس معلوم ہوا کہ حق سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْمِ ۔ اور حق سے سرفرازی حقیقی کامیابی اور فائز المرامی کی شاہ کلید ہے۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ راستے دو ہی ہیں ایک اتباع ہدی یعنی حق و ہدایت کی پیروی کا راستہ، جو کہ سراسر خیر، سلامتی، اور حقیقی و ابدی کامیابی کا راستہ ہے، اور…
Read the full tafseer →منکرین وحی کا انجام
تشریح : ازل سے ابد تک انسان کے لئے اللہ کی طرف سے یہ فرمان ہے کہ اس راستے کی پیروی کرے جو اس کا رب اس کے لئے تجویز کرے یوں بھی بندہ اور خلیفہ ہونے کی حیثیت سے لازم ہے کہ بندہ یا خلیفہ اپنے مالک کا دیا ہوا فرمان عمل میں لائے اور اس کے لئے صرف دو ہی راستے ہیں یا تو براہ راست بندے کو فرمان وحی کیا جائے اور یا فرمان کسی نبی یا رسول کے ذریعہ سے بھیجا جائے جس پر من و عن عمل کرنا بندے کا نہ صرف فرض ہی ہے بلکہ انسان کی اپنی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ وحی الٰہی پر دل و جان سے عمل کرے۔ ہمارے لئے یہ وسیلہ آخری نبی حضرت محمد ﷺ بنے اور ان پر آخری کتاب قرآن مجید نازل ہوئی جو رشد و ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–39
آیات 30- 39
اسرارو معارف
یہاں تک دعوت الی اللہ اور عبادت کا ضروری ہونا بطور شکر کے اور اس درجہ میں کہ اللہ کا حق ہے بندے پر ارشاد ہوا پھر اس کے نتائج اور نافرمانی کی سزا کا ذکر اس انداز میں تھا کہ اللہ تمہارا رب ہے خالق ہے مگر یہاں سے اسی دعوت پر دوسری دلیل شروع فرمائی اور ایک اور طرح سے دعوت فکر دی ہے کہ ابتدائے نوع انسان کو دیکھو ، اللہ نے پیدائشی طور پر اسے کیا فضیلت بخشی اور کس طرح سے شیطان اس کے خلاف ہوا۔ اب اگر تم اللہ کی اطاعت نہ کرو گے تو یقینا تم اس کے پیچھے چلو گے کہ دوسری راہ اسی کی ہے جو بحیثیت انسان بھی تھیں کسی طرح زیب نہیں دیتا۔
انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے :
سو یہاں حضرت آدم…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یا یھا الناس سے لیے کر یہاں تک عمومی انعامات کا ذکر فرمائے ہیں اب خاص کر ان انعامات کا بیان ہے جو نبی اسرائیل پر کئے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا زمانہ یا لقب ہے جس کے معنی ہیں اللہ کا بندہ یا بر گزیدہ۔ بایں وجہ ان کی اولاد کی بنی اسرائیل کہا جاتا ہے بنی اسرائیل میں پہلے پیغمبر یوسف (علیہ السلام) اور آخرت پیغمبر عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ (قرطبی) یہاں سے لے کر ایک سو سنتالیس آیا تک دس انعامات دس قبائح اور دس سزاؤں کا ذکر ہے جو ان کی بد کر داریوں کی وجہ سے ان کو دی گئیں۔ (صفوہ)
Read the full tafseer →(2:39) خالدون ۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ خلود باب نصر سے مصدر ۔ ہمیشہ رہنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
لغات القرآن : آیت نمبر 37 تا 39
(تلقی): اس نے سیکھ لیا۔ (کلمت): (کلمۃ ) کلمات، الفاظ۔ (تاب علیہ ): وہ اس پر متوجہ ہوا (اس نے اس کی توبہ قبول کرلی) ۔ (التواب): بہت توبہ قبول کرنے والا۔ (یاتینکم ): تمہارے پاس آئے گا۔ (تبع): جس نے اتباع کی (جو پیچھے چلا) ۔ (لا یحزنون): وہ رنجیدہ نہ ہوں گے۔ (کذبوا): انہوں نے جھٹلایا۔ (ایاتنا): ہماری نشانیاں۔ (اصحب النار) : (جہنم والے (صاحب کی جمع ہے، ساتھی) ۔ (خلدون ): ہمیشہ رہنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 39
اس واقعہ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو چند ایسے کلمات سکھا دئیے جن کو ادا کرنے کے ساتھ ہی ان کی توبہ قبول کرلی گئی۔ حضرت ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
حضرت آدم (علیہ السلام) نے زمین میں آنے کے بعد تین سو برس تک شرم کے مارے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو تمام اہل زمین کے آنسؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن)
وسیلہ نام مصطفیٰ ﷺ
طبرانی و حاکم و ابونعیم و بیہقی نے حضرت علی المرتضی ؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے۔ اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا تھا " لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " میں سمجھا تھا کہ بارگاہ الہی میں وہ رتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حاصل ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
[33] یہ حکم دوسری مرتبہ بطور سزا و عتاب کے نہیں مل رہا ہے اس لئے کہ خطا تو معاف ہوچکی ہے بلکہ یہ نتیجہ ہے شجر ممنوع کا پھل کھا لینے کا، اس کے طبعی اثرات کی بنا پر اب جنت میں قیام کی گنجائش نہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(ف 2) اولاد یعقوب (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ، ان میں متعدد رسول آئے ہیں اور ان پر بیشمار نعمتیں ہیں کہ جن کا ظہور ہوا ، لیکن یہ ویسے کے ویسے ہی رہے ، ان آیات میں زمانہ رسالت کے بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مت بھولو ۔ اس کے عہد کی تصدیق کرو ، یعنی تم میں سے وعدہ تھا کہ ہر سچائی کو قبول کرو گے ، پھر تمہیں یہ کیا ہوگیا ہے کہ اس بہت بڑی صداقت کا انکار کرتے ہو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 3۔ ہم نے کہا اور ان کو حکم دیا کہ تم سب کے سب یہاں سے نیچے اتر جائو ، پھر اگر تم کو میری ہدایت و رہنمائی پہنچے اور میرا نام پیغام ہدات تم کو موصول ہو تو تم میں جو شخص بھی میری بھیجی ہوئی ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ ہر قسم کے خوف اور غم سے بےنیاز ہوگا اور ایسے لوگوں پر نہ کسی قسم کا ڈر ہوگا اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے مگر ہاں جو لوگ اس پیغام ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور میری نازل کردہ آیات اور براہین کو جھٹلائیں گے تو ایسے اہل جہنم اور دوزخی ہوں گے اور وہ اس دوزخ میں ہمیشہ پڑے ہیں گے۔ ( تیسیر)
یہ حکم محض پہلے حکم کی تاکید ہے اور جن کو حکم دیا گیا ان میں بھی دو احتمال ہیں یا تو آدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ف 2۔ یعنی وہاں بھی جاکر دوام نہ ملے گا بعد چندے وہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →ہدایت الٰہی کے منکرین کے لئے انتباہ :
87: آدم (علیہ السلام) کا قِصّہ جو دراصل فطرت انسانی کی حقیقی داستان ہے ، کے اختتام پر منکرین ہدایت الٰہی کو ایک بار متنبہ کیا جا رہا ہے کہ جس نے ہماری یاد سے روگردانی کی تو اس کی زندگی ضیق میں گزرے گی اور قیامت کے روز بھی ہم اس کو اندھا کر کے اٹھائیں گے اور عذاب ِجہنم میں وہ مسلسل تکلیف اٹھاتا رہے گا۔
جس سے یہ مسئلہ صاف ہوگیا کہ مذہب انسان کی فطرت میں داخل ہے اور اسی لئے وہ مجبور ہے کہ ناموس الٰہی کے آگے اپنی گردن جھکا دے۔ جس طرح ہمارے ماں باپ برابر پریشان و مضطرب پھرتے رہے تاآنکہ وحی الٰہی نے چند کلمات الہام کئے جو ان کے اطمینان قلب کا باعث بنے ۔ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
Descension of Adam was not a punishment
That is why the command for Adam (علیہ السلام) to go down to the earth was not withdrawn even when he had been pardoned: only the mode was now altered. Earlier the command had been given in the mode of authority, and the sending down to the earth intended as a punishment: hence the reference to the enmity among men. Now, it was in the mode of wisdom, and the sending down to the earth, an honour - the honour of vice regency. Hence the reference to things Viceregency involves. In commanding Adam and Hawwa (علیہما السلام) and their progeny to live on the…
Read the full tafseer →54. Ayat is the plural of ayah which means a 'sign' or 'token' which directs one to something important. In the Qur'an this word is used in four different senses. Sometimes it denotes a sign or indication. In certain other places the phenomena of the universe are called the ayat (signs) of God, for the reality to which the phenomena point is hidden behind the veil of appearances. At times the miracles performed by the Prophets are also termed ayat since they show that the Prophets were envoys of the Sovereign of the universe. Lastly, individual units of the Book of God are also called ayat…
Read the full tafseer →