بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر اللہ تعالیٰ کے انعامات
بنی اسرائیل کے آباؤ اجداد پر جو نعمت الٰہیہ انعام کی گئی تھی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان میں سے رسول ہوئے ان پر کتابیں اتریں انہیں ان کے زمانہ کے دوسرے لوگوں پر مرتبہ دیا گیا جیسے فرمایا آیت (وَلَــقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰي عِلْمٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ) 44۔ الدخان :32) یعنی انہیں ان کے زمانے کے (اور لوگوں پر) ہم نے علم میں فضیلت دی۔ اور فرمایا آیت (وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ)…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 62
یہ اس دور کی طرف اشارہ ہے جب کہ تمام دنیا کی قوموں میں ایک بنی اسرائیل کی قوم ہی ایسی تھی، جس کے پاس اللہ کا دیا ہوا علم حق تھا اور جسے اقوام عالم کا امام و رہنما بنادیا گیا تھا، تاکہ وہ بندگیِ رب کے راستے پر سب قوموں کو بلائے اور چلائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
خلاصہ تفسیر
اے اولاد یعقوب ؑ کہ تم لوگ میری اس نعمت کو یاد کرو (تاکہ شکر اور اطاعت کی تحریک ہو) جو میں نے تم کو انعام میں دی تھی اور اس (بات) کو (یاد کرو) کہ میں نے تم کو (خاص خاص برتاؤ میں) تمام دنیا جہان والوں پر فوقیت دی تھی (اور ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تم کو ایک بڑے حصہ مخلوق پر فوقیت دی تھی مثلاً اس زمانہ کے لوگوں پر)۔
فائدہاس آیت میں خطاب چونکہ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ کے یہودیوں کو ہے اور عموما ایسا ہوتا ہے کہ باپ دادا پر جو احسان و اکرام کیا جائے اس سے اس کی اولاد بھی فائدہ حاصل کرتی ہے جس کا عام طور پر مشاہدہ ہوتا رہتا ہے اس لئے ان کو بھی اس آیت میں مخاطب سمجھا جاسکتا…
Read the full tafseer →لفظ نعمت کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ یہاں اس پر وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ کو عطف کیا ہے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر اس اجمال کی وضاحت کر رہا ہے جو نعمت کے لفظ کے اندر موجود ہے۔ اس فضیلت سے مراد قوموں کی ہدایت ورہنمائی کا وہ منصب ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک خاص دور میں منتخب فرمایا۔ جو فضیلت کسی منصب کی ذمہ داری کو ادا کرتی ہے تو یہ فضیلت اس کو حاصل رہتی ہے اور اگر اس کو چھوڑ بیٹھتی ہے تو صرف اس فضیلت ہی سے محروم نہیں ہو جاتی جو اسے بخشی گئی تھی بلکہ کفران نعمت کی پاداش میں اس کو مزید براں ذلت بھی نصیب ہوتی ہے۔ یہاں بنی اسرائیل کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
47۔ 1 یہاں سے دوبارہ اسرائیل کو وہ انعامات یاد کرائے جا رہے ہیں جو ان پر کئے گئے اور ان کو قیامت کے دن سے ڈرایا جا رہا ہے جس دن نہ کوئی کسی کے کام آئے گا نہ سفارش قبول ہوگی نہ معاوضہ دے کر چھٹکارہ ہو سکے گا، اور نہ کوئی مددگار آگے آئے گا۔ ایک انعام یہ بیان فرمایا کہ ان کو تمام جہانوں پر فضیلت دی گئی یعنی امت محمدیہ سے پہلے افضل العالمین ہونے کی یہ فضیلت بنواسرائیل کو حاصل تھی جو انہوں نے معصیت الٰہی کا ارتکاب کرکے گنوالی اور امت محمدیہ کو خیرامۃ کے لقب سے نوازا گیا۔ اس میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ انعامات الٰہی کسی خاص نسل کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایمان اور عمل کی بنیاد پر ملتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
39: رکوع کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ یہودیوں کی نماز میں رکوع نہیں ہوتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
بنی اسرائیل کو تمام مخلوق پر فضیلت دنیا ، اس وقت کی بات ہے جب وہ صحیح معنوں میں ، اس زمین پر اللہ کے نائب اور خلیفہ تھے ، لیکن جب انہوں نے اپنے رب اور مالک کے احکامات سے منہ پھیرلیا ، اپنے انبیاء کی نافرمانی کرنے لگے ، اللہ نے ان پر جو انعامات کئے تھے ان کی ناشکری کی اور یہ کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کر رکھے تھے ، اور جو ذمہ داریاں لے رکھی تھیں ان کا پورا تدارک کردیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی فیصلہ کیا کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ملعون مغضوب اور ذلیل و خوار رہیں گے ، ان کی جلاوطنی اور دربدر ہونے کا فیصلہ ہوا اور وہ اللہ کے عتاب کے مستحق ہوگئے۔
انہیں یہاں یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک وقت وہ تھا کہ اللہ…
Read the full tafseer →4 چونکہ تقوی اور کمال ایمان کا حاصل کرنا، صبرو حضور استغراق عبادات کے ذریعہ سے دشوار تھا۔ اس لئے اس کا سہل طریقہ تعلیم فرماتے ہیں اور وہ شکر ہے۔ اس وجہ سے حق تعالیٰ اپنے احسانات و انعامات جو ان پر وقتا فوقتا ہوئے تھے ان کو یاد دلاتا ہے اور ان کی بدکرداریاں بھی ظاہر فرماتا ہے۔ انسان بلکہ حیوانات تک میں یہ مضمون موجود ہے کہ اپنے منعم کی محبت اور اس کی اطاعت دل نشین ہوجاتی ہے اور چند رکوع میں اس مضمون کو شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔
فائدہ : اہل عالم پر فضیلت کا یہ مطلب ہے کہ جس وقت سے بنی اسرائیل کا وجود ہوا تھا اس وقت سے لے کر اس خطاب کے نزول تک تمام فرقوں سے افضل رہے کوئی ان کا ہم پلہ…
Read the full tafseer →جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ‘ سورة البقرۃ کے پانچویں رکوع سے چودہویں رکوع تک ‘ بلکہ پندرہویں رکوع کی پہلی دو آیات بھی شامل کر لیجیے ‘ یہ دس رکوعوں سے دو آیات زائد ہیں کہ جن میں خطاب کل کا کل بنی اسرائیل سے ہے۔ البتہ ان میں سے پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے ‘ جس میں انہیں نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کی پرزور دعوت دی گئی ہے ‘ جبکہ بقیہ نو رکوع اس فرد قرارداد جرم پر مشتمل ہیں جو بنی اسرائیل پر عائد کی جا رہی ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ یہ احسان و اکرام کیا ‘ تم پر یہ فضل کیا ‘ تم پر یہ کرم کیا ‘ تمہیں یہ حیثیت دی ‘ تمہیں یہ مقام دیا اور تم نے اس اس طور سے اپنے اس مشن کی خلاف ورزی کی جو تمہارے سپرد کیا گیا…
Read the full tafseer →66 یعنی ایک وہ وقت تھا جب تمام اقوام پر بنی اسرائیل کے علم و فضیلت کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ لیکن اللہ کی اس نعمت کا ان پر الٹا اثر ہوا، بجائے اس کے کہ وہ شکر ادا کرتے اور اس کے حضور سرنگوں ہوتے اور تقویٰ اختیار کرتے وہ ازراہ تکبر یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں۔ لہذا اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ لہذا ہمیں عذاب نہیں ہوگا اور یہ بات ان کے عقیدہ میں راسخ ہوگئی تھی۔
Read the full tafseer →16 1 ۔ ملاحظہ ہوں حواشی نمبر 146، نمبر 162 ۔
162 ۔ خوب خیال رہے کہ یہاں ذکر مذہب یہود کا نہیں ایک مخصوص قوم ونسل کا ہے۔ بنی اسرائیل نام کسی مذہب یا فرقہ یا عقیدہ کا نہیں، ایک خاص نسل کا ہے۔ افضیلت یہاں مذہب یہودیت کی نہیں نسل اسرائیل کی بیان ہورہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس نسل کی افضیلت سارے عالم پر، کس معنی میں ارشاد ہورہی ہے ؟ اور وہ کونسی ایسی نعمت تھی جو بہ حیثیت نسل بنی اسرائیل کے ساتھ بلاشرکت غیرے ، ، مدتوں مخصوص رہی ؟ اگر کہیے کہ دولت یا حکومت یا تجارت یا کثرت آبادی۔ تو اول تو یہ انعامات اللہ کے خود اس درجہ کے نہیں کہ ان کا ذکر اس شان واہتمام کے ساتھ کیا جائے، اور انہیں کو معیار فضیلت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 47 تا 54
یٰبَبِیْ اِسْرَائِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ .... الیٰ .... اِنَّہ ھُوْ التَوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔
ترجمہ : اے اولاد یعقوب میری اس نعمت کو یاد کرو، جس سے میں نے تم کو نوازا تھا، یعنی ان نعمتوں پر شکر گزاری کے ذریعہ اطاعت کرکے اور میں نے تم کو یعنی تمہارے آباء کو عالم والوں پر (یعنی) اس زمانہ کے عالم والوں پر فضیلت عطاء کی تھی اور اس دن سے ڈرتے رہو، جس دن کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا، اور وہ قیامت کا دن ہے، اور نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول کی جائے گی، (یُقْبَلُ ) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، یعنی اس کے لئے سفارش ہی نہیں ہوگی، کہ قبول کی جائے، جیسا…
Read the full tafseer →یٰبَنِیْ ٓ اِسْرَآءِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ ( اے بنی اسرائیل یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا) حق تعالیٰ نے اس مضمون کو تاکید کے لیے مکرر ذکر فرمایا اور اس میں ایک نعمت اور زیادہ یاد دلائی کہ تمہیں اوروں پر فضیلت دی اور یہ نعمت سب نعمت سے زیادہ ہے اور اسے بڑی سخت وعید کے ساتھ مربوط فرمایا ہے ( چناچہ آگے ارشاد ہوتا ہے)
وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُکُم ( اور میں نے تمہیں فضیلت دی) ان کو فضیلت دینے سے ان کے آباؤ اجداد کا فضیلت دینا مراد ہے ( جیسے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تم لوگوں کو ہمیشہ دیتے لیتے رہے ہیں یعنی تمہارے باپ دادا کے ساتھ سلوک کرتے رہے ہیں) آباؤ اجداد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(46۔ 47) اے یعقوب ؑ کی اولاد ! میرے ان انعامات کو یاد رکھو جو میں نے تم پر کیے ہیں اور میں نے تمہیں کتاب، رسول اور اسلام کے ذریعے تمہارے زمانے کے جہان پر تمہیں فضیلت دی ہے۔
Read the full tafseer →اوپر آیت 40 میں اختصار کے ساتھ بنی اسرائیل کو اپنے احسانات یاد دلائے تھے، اب تفصیل کے ساتھ ان کا بیان شروع کرنے کے لیے دوبارہ خطاب کیا ہے اور وعظ کا یہ انداز نہایت بلیغ اور مؤثر ہوتا ہے۔ (المنار) نیز ان کو توجہ دلائی ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ کی مخالفت اور دوسری بےہودگیوں سے باز آجاؤ۔
جہانوں پر فضیلت بخشی، اس سے مراد رسول اللہ ﷺ سے پہلے زمانوں کے لوگ ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کے تشریف لانے پر یہ فضیلت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ) [ آل عمران : 110 ] فرما کر اس امت کو عطا کردی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ)”سب سے بہتر میرے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 47
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یبنی اسراء یل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ وانی فضلتکم علی العلمین اس سے مراد ان کے اپنے زمانہ کے لوگ ہیں اور ہر زمانہ کے لوگ ایک عالم ہیں۔ بعض نے فرمایا : تمام لوگوں پر فضیلت مراد ہے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء بنائے، یہ ان کا خلاصہ ہے۔ دوسروں کے لئے یہ شرف نہیں۔
Read the full tafseer →(1) امام ابن المنذر نے ابن ابی حاتم ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ جب بھی یہ آیت لفظ آیت ” اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم “ تلاوت کرتے تھے تو یہ فرماتے تھے کہ وہ قوم گزر چکی اب تم مراد ہو۔
(2) امام ابن جریر نے سفیان بن عینیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اذکروا نعمتی “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے جو تم پر احسانات ہیں اور اس کے دنوں کو جو تمہیں عطا فرماتے ہیں ان کو یاد کرو۔
(3) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یبنی اسراء یل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر شمار فرمائیں یا جو ان کے علاوہ ہیں ان کے لیے پتھر سے…
Read the full tafseer →[ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : اے اسرائیل کے بیٹو ] [ اذْكُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ] [ نِعْمَتِىَ : میری نعمت کو ] [ الَّتِىْٓ: جس کو کہ ] [ اَنْعَمْتُ : میں نے انعام کیا ] [ عَلَيْكُمْ : تم پر ] [ وَاَنِّىْ : اور یہ کہ ] [ فَضَّلْتُكُمْ : میں نے فضیلت دی تم لوگوں کو ] [ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ : سب جہانوں پر ]
ض ل
فضلا (ن): کسی چیز کا اوسط یا حق سے زیادہ ہونا، یہ پسندیدہ بھی ہے جیسے علم یا رتبہ میں زیادہ ہونا، اور ناپسندیدہ بھی ہے جیسے غصے وغیرہ میں زیادہ ہونا، عام طور پر پسندیدہ چیز کے لیے فضل اور ناپسندیدہ چیز کے لیے فضول کا لفظ استعمال ہوتا ہے، قرآن مجید میں ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد حاصل کرو
اس آیت شریفہ میں صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا طریقہ بتایا ہے، لفظ صبر تین معنی میں آتا ہے۔ (اوّل) طاعات پر جما رہنا، خاص کر فرائض اور واجبات کو پابندی سے ادا کرنا۔ (دوم) گناہوں سے پوری طرح اہتمام کے ساتھ بچنا۔ (سوم) جو مصائب اور مشکلات در پیش ہوں ان پر صبر کرنا۔
عام طور سے لوگوں میں یہ تیسرا معنی ہی زیادہ معروف ہے۔ تینوں قسم کا صبر اللہ تعالیٰ کی مدد کو لانے والا ہے۔ زندگی میں عموماً صبر کے مواقع پیش آتے رہتے ہیں۔ عبادات بھی صبر ہی سے ادا ہوتی ہیں۔ نفس عبادت کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اگر تیار ہوتا ہے تو صحیح طریقہ سے ادا کرنے سے بچتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
تفصیل انعامات و عنایات خداوند جلیل وشرح جنایات وتقصیرات قوم بنی اسرائیل وحکم مراقبہ عنایات و ملاحظہ جنایات کہ در حیاء حکم اکسیر دارد
قال تعالیٰ یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم۔۔ الی۔۔ ولاتعثوا فی الارض مفسدین۔
(ربط): گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کو اجمالی طور پر اپنی نعمتیں یاد دلائیں اب آئندہ آیات میں ان کی تفصیل ہے جو دور تک چالی گئی اور تفصیل میں سب سے پہلی نعمت تفضیل کو ذکر فرمایا اس لیے کہ تفضیل علی العالمین سب سے افضل نعمت ہے پھر لطف یہ کہ اپنے الطاف و عنایات کے بعد ان کی جنایات اور تقصیرات کو ذکر فرمایا اس لیے کہ جب ایک طرف خداوند کریم کی عنایتوں کو دیکھیں گے اور ددوسری طرف…
Read the full tafseer →ف 105 ۔ یہ ترغیب ہے۔ اس کی تفسیر گزر چکی ہے۔ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ یہاں عالمین سے مراد صرف اس زمانے کے تمام لوگ ہیں یعنی اس آیت میں نزول قرآن کے وقت موجودہ یہودیوں کے باپ دادوں کی، ان کی تمام ہم عصر اقوام پر فضیلت کا اظہار مقصود ہے۔ المراد فضلتکم علی عالمی زمانکم (کبیر ص 500 ج 1، قرطبی ص 376 ج 1، معالم ص 47 ج 1) المراد بالعلمین سائر الموجودین فی وقت التفضیل (روح ص 250 ج 1) لہذا اس سے بنی اسرائیل کی آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت پر فضیلت لازم نہیں آتی۔ اور وجہ افضلیت کے لیے ہمیشہ کوئی امتیازی خوبی ہونی چاہیے اور وہ عقیدہ توحید ہے۔ زمانہ فترت میں صرف بنی اسرائیل ہی ایک ایسی قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ربط آیات : پہلے رکوع میں اجمال تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ بنی اسرائیل کا ذکر کیا ہے۔ اور انہیں وہ انعامات یاد دلائے ہیں جو ان پر ظاہر کیے گئے تھے ، نزول قرآن کے زمانے کے بنی اسرائیل کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ایمان قبول کرلیں۔ نیز اس قوم میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ساتھ ساتھ اہل ایمان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی روش سے بچتے رہیں۔ کہیں ان کی خرابیوں میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ فرعون کی غلامی میں عرصہ دراز تک رہنے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بیشمار خربیاں اور سرکشی کا مادہ پیدا ہوگیا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بیشمار انبیاء (علیہم السلام) تشریف…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 6
يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ 47
اِسْرَاۗءِيْلَ
( بني) ، جمع ابن، والألف في ابن عوض من لام الکلمة المحذوفة فأصلها بنو .
(إسرائيل) ، علم أعجمي، وقد يلفظ بتخفیف الهمزة إسراييل، وقد تبقی الهمزة وتحذف الیاء أي إسرائل، وقد تحذف الهمزة والیاء معا أي : إسرال .
ذكر ( نصیحت)
وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ترکیب : یا حرف ندا بنی اسرائیل مضاف اور مضاف الیہ منادی اذکروا فعل ضمیر انتم فاعل نعمتی التی انعمت علیکم صفت و موصوف معطوف علیہ و انی فضلتکم علٰی العالمین تمام جملہ اسمیہ ہو کر معطوف یہ دونوں اذکروا کے مفعول یہ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ اسمیہ انشائیہ ہو کر ندا ہوا واتقوا فعل انتم ضمیر فاعل یومًا مفعول بہ موصوف ولاتجزی نفس الخ اور لایقبل اور لایؤخذ الخ ولاھم الخ چاروں جملے معطوف بری کے دیگر اس کی صفت اور سب میں عائد محذوف ہے اے لایتجزی فیہ و قس علیہ البواقی۔ اس جملہ اتقوا کا عطف اذکروا پر ہواعن نفس موضع نصب میں ہے تجزی سے اور ممکن ہے کہ حال ہو کر موضع نصب میں ہو تقدیرہ شیئاعن نفس…
Read the full tafseer →یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔
(اے بنی اسرائیل ! میرے اس احسان کو یاد کروجو میں نے تم پر بطور انعام کیا اور اس بات کو یاد کرو کہ میں نے تمہیں دنیا والوں پر فضیلت دی) (البقرۃ : 47)
سابقہ رکوع کے آغاز میں بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا گیا ہے۔ اب بارے دگر اسی انداز میں خطاب فرمایا جارہا ہے۔ اس پر غور کرنے سے کئی باتیں کھلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
1 جو ذات یا جو گروہ بہت عزیز ہو جب اس کے اندر بگاڑ پیدا ہو تو اس کا چاہنے والا اس کے بگاڑ کو سب سے زیادہ محسوس کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اسے نہایت پیار اور محبت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کو دوسراخطاب۔
بنی اسرائیل سے پہلے خطاب میں کچھ باتوں کا حکم دیا اور کچھ کاموں سے منع کیا تھا۔ اب دوسرے خطاب کا آغاز بھی نہایت دل کش انداز میں کرتے ہوئے نعمتوں کی یاد دہانی کروانے کے بعد قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے ڈراتے ہوئے بتلایا ہے کہ دنیا کی عدالتوں میں اثر ورسوخ، سفارش، رشوت یا جرمانہ دے کر تم چھوٹ جاتے ہو۔ رب کبریا کی عدالت میں مجرموں کا چھوٹنا محال اور ناممکن ہے وہاں سچا ایمان اور نیک اعمال کے علاوہ کچھ بھی کام نہیں آئے گا۔ یہاں سے بنی اسرائیل کے عدالتی نظام کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کس قدر اسے تباہی کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ آدمی کے ضمیر کو راغب کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
یٰبَنِیْٓ اِسْرَائِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ : (اے بنی اسرائیل تم یاد کرو میری وہ نعمتیں جو میں نے تم پر کیں) دوبارہ تاکید کے لیے لائے۔
وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : (اور میں نے تمہیں فضیلت دی لوگوں کے جم غفیر پر) یعنی نعمتوں اور فضیلت عنایت کرنے کو یاد کرو۔ عالم یعنی لوگوں کے جم غفیر پر۔ کہا جاتا ہے۔
رایت عالما من الناس۔ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا۔ مراد کثرت ہے۔
وَاتَّقُوْا یَوْمًا : (اور تم اس دن سے ڈرو) قیامت کے دن سے ڈرو۔
نحو : یومًا مفعول بہٖ ہے ظرف نہیں۔
لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ : (نہ کام آئے گا کوئی نفس) مومن نفس۔
عَنْ نَّفْسٍ : (کسی نفس…
Read the full tafseer →47۔ (آیت)” یا بنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم وانی فضلتکم علی العالمین “ یعنی اس وقت کے تمہارے زمانے کے جہاں والوں پر فضیلت دی ، یہ فضیلت اگرچہ موجودہ زمانے کے بنو اسرائیل کے آباء کو نصیب ہوئی مگر اس فضیلت کا شرف وفخر اس اولاد کو جواب موجود ہے حاصل ہے۔
Read the full tafseer →ایک مدت تک اولاد یعقوب میں نبوت بادشاہت اور بڑی بڑی نعمتیں اللہ تعالیٰ کی رہی ہیں حال کے بنی اسرائیل کو جو نبی آخر الزمان ﷺ کے زمانہ میں مدینہ منورہ کے گردونواح میں رہتے تھے۔ ان کے بزرگوں کی حالت یاد دلانے کے لئے اور اس حالت سے ان حال کے یہود کو قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ یہ آیتیں نازل فرمائیں تاکہ یہ لوگ ذرا اپنے دل میں شرمائیں کہ وہ اللہ تعالیٰ جس نے آج ان کو نبی زادے اور بادشاہ زادے ہونے کا فخر عنایت فرمایا اس فخر کی شکر گذار کیا یہی ہے کہ اللہ کے رسول سے طرح طرح کی مخالفتیں کر کے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں یہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ کیا اپنے بزرگوں کے قصہ میں یہ بات ان کو یاد نہیں کہ فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیت 45-48
(آیت) 44 وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ” اور مدد حاصل کرو صبر سے اور نماز سے۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ تمام امور میں صبر کی تمام اقسام سے مدد لیں۔ صبر کی اقسام یہ ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اپنے نفس کو پابند کرنا۔ (2) اس کی نافرمانی سے اپنے آپ کو روکنا یہاں تک کہ اسے ترک کر دے۔ (3) اس کی تقدیر پر صبر کرنا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کرنا۔ ہر معاملے میں صبر کے ذریعے سے بڑی مدد ملتی ہے۔ جو کوئی صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صبر کرن کی تفویق سے نواز دیتا ہے۔
اسی طرح نماز ہے جو کہ ایمان کی میزان ہے اور فواحش و منکرات سے روکتی ہے۔ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل
قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
138 عقیدہ آخرت ایک انقلاب آفریں عقیدہ : سو ایمان بالآخرت یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا ایمان و یقین ایک عظیم الشان اور انقلاب آفرین عقیدہ۔ پس ایسے لوگوں کیلئے نماز کوئی بھاری نہیں بلکہ ان کیلئے ایک عظیم الشان قوت وسعادت ہے جن کو یہ یقین ہے کہ ان کو بہرحال لوٹ کر اپنے رب کے یہاں جانا ہے، اور وہاں پہنچ کر اپنے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے۔ اور وہاں کی کامیابی اور رب کی رضا سب سے بڑا مقصد اور سب سے بڑی اور حقیقی غایت اور اصل کامیابی ہے، جس کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ یہی نماز ہے۔ پس اس یقین و ایمان کی بناء پر نماز ان کے لئے ایک نہایت ہی محبوب عبادت اور لذیذ عمل بن جاتی ہے۔ سبحان اللہ ! کیسی دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
بنی اسرائیل کی فضیلت
تشریح : اس آیت میں بھی علماء بنی اسرائیل اور قوم کو مخاطب کرکے اللہ فرماتے ہیں کہ اس نعمت کو یاد کرو جس سے میں نے تمہیں نوازا۔ یہ اس وقت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب اقوام عالم گناہ، بت پرستی، جہالت اور انتہائی بےراہ روی میں بھٹک رہی تھیں اس وقت اللہ نے بنی اسرائیل کو آسمانی ہدایت نامہ عطا کیا جس میں توحید کا تصور تھا اور بنی اسرائیل کو اقوام عالم کا امام اور راہنما بنایا گیا تھا۔ یہ بہت بڑی فضیلت تھی جو ان کو دی گئی اس لئے کہ وہ لوگوں کو راہ راست دکھائیں دنیا کو فسق و فجور اور جہالت سے نکالیں، مگر وہ رفتہ رفتہ راہ راست سے بھٹک گئے اور دین اسلام کی مخالفت کرنے لگے۔ حالانکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
آیات 47- 59
تفسیر :
اسرارو معارف
گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔
زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ اوپر آیت 40، میں اجمالی طور پر بنی اسرائیل کو اپنے احسانات یاد دلائے اب تفصیل کے ساتھ ان کا بیان شروع کرنے کے لیے دوبارہ خطاب کیا ہے اور وعظ کا یہ انداز نہایت ملبوغ اور مؤثر ہوتا ہے (اللنار) نیز ان کو توجہ دلائی ہے کہ نبی آخرالزمان کی مخا لفت اور دوسری بیہود گیوں سے باز آجاؤ سارے جہان کے لوگوں پر بزرگی دی یعنی اس دور کے لوگوں پر اور بنی اسرائیل کی یہ فضیلت توحید کا داعی ہونے کی وجہ سے تھی اور امت محمد یہ سے پہلے یہ مرتبہ بنی اسرائیل کے سوا کسی دوسری قوم کو حاصل نہیں ہوا آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد کنتم خیر امتہ فرماکر امت محمدیہ کو فضیلت عنا یت کردی (وحیدی) بنی اسرائیل پر جو انعامات کئے…
Read the full tafseer →(2:47) علی العلمین۔ تمام عالموں پر، تمام جہانوں پر۔ اگرچہ عالم کا اطلاق ماسوی اللہ کے جمیع مخلوق پر ہوتا ہے۔ اور جب اس کو جمع کرکے عالمین بولا جائے تو اور بھی شمول اور عموم کا فائدہ دیتا ہے لیکن یہ ایک محاورہ ہے جس سے مراد اکثر لوگ ہیں۔ یعنی ہم نے تم کو دنیا کے اکثر لوگوں پر فضیلت بخشی ہے۔
اسی طرح کل بول کر اکثر چیزیں مراد لی جاتی ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ملکہ بلقیس کے متعلق وارد ہے واوتیت من کل شیء اور اسے دیا گیا تھا ہر چیز سے حصہ۔ حالانکہ بہت سی چیزیں اس کو نہ ملی تھیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ اسے اکثر چیزیں دی گئی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
تشریح : آیت نمبر 47 تا 50
ان آیات میں ایک مرتبہ پھر بنی اسرائیل کو بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی جس فضیلت و برتری پر تمہیں فخر وناز ہے وہ عظمتیں اللہ ہی نے تو عطا کی تھیں۔ اگر تم پھر وہی عظمتیں حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے دین سے پوری طرح وابستگی اختیار کرلو۔ اللہ سے اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن تمہارے یہ جھوٹے فخر و غرور کام نہ آسکیں گے نہ کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا، نہ کچھ دے دلا کر چھوٹ سکے گا اور نہ کسی کی طرف سے مدد کی جائے گی وہاں محض انبیاء کی نسبت پر نازل کرنا اور جھوٹے معبودوں کے وہ سہارے جنہوں نے تمہیں گناہوں کی دلدل میں پھنسا دیا ہے کسی کام نہ آسکیں گے وہاں صرف اللہ سے کیا ہوا عہدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
فرعون کا خواب اور عاشورہ کے روزہ کا ذکر : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کے محلہ کے اور مصر کے سب گھر جل گئے ۔ اس نے نجومیوں سے تعبیر پوچھی ۔ انہوں نے یہ تعبیر بتائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے وال ہے ۔ اس کے سبب سے فرعون کی سلطنت کو زوال ہوجاوے گا ۔ فرعون نے اس کی تعبیر سے بچنے کے لئے بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ، ان کے مار ڈالنے کا اور جس قدر لڑکیاں پیدا ہوں ان کے چھوڑنے کا حکم دیا ۔ مگر تقدیر الہی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور خود فرعون کے گھر میں پرورش پائی اور ان کو اللہ تعالیٰ نے نبی کیا ۔ اس کے بعد فرعونیوں کے ظلم ستم کو دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →[39] احسانات یہ تھے کہ انہیں علم حق سے نوازا گیا تھا اوراقوام عالم کا امام اور رہنما بنایا گیا تھا مزید برآں انبیاء اور رسل جہاں تک کہ نسل کا تعلق ہے نسل اسرائیل ہی میں مسلسل پیدا ہوتے رہے، چناچہ یعقوب (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک چار ہزار نبی ان میں آ چکے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
(ف 1) ان آیات میں دوبارہ بنی اسرائیل کو مخاطب کیا ہے تاکہ ان پر وہ تمام انعام جو کئے گئے ہیں ، گنائے جائیں اور انہیں دین حنیف کی طرف مائل کیا جائے ، اولا یہ فرمایا کہ تمہیں ہم نے اپنے تمام معاصرین پر مادی وروحانی فضیلت دی ، ثانیا ان کو ان کے موجودہ مزعومات سے باز رہنے کی تلقین فرمائی کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تمہارے احباء وعلماء تمہارے اولیاء وشہداء تمہیں مکافات عمل کے ہمہ گیر قانون کی گرفت سے بچا لیں گے ، اس قسم کی سفارش جو ذاتی عمل سے معرا ہو ۔ قطعا سود مند نہیں ہے ۔ قرآن حکیم نے عام طور پر شفاعت کی نفی کی ہے اور کہیں کہیں (آیت) ” الا من اذن لہ الرحمن “ کہہ کر ایک نوع کے لوگوں کو مستثنے قرار دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ف 3 ۔ اے یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ! میرے ان احسانات کو یاد کرو جو احسانات و انعامات میں نے تم پر کئے اور اس بات کو بھی یاد کرو کہ میں نے تم کو اقوام عالم پر خاص فوقیت اور فضیلت عطا کی تھی اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ تو کوئی کسی کے کام آسکے اور نہ کسی کی طرف سے کوئی سفارش قبول کی جاسکے اور نہ کسی کی طرف سے کوئی فدیہ اور معاوضہ حاصل کیا جاسکے اور نہ ان لوگوں کو کسی طرف دار کی طرف داری اور مددگار کی مدد پہنچ سکے۔ (تیسر)
چونکہ یہاں سے احسانات کی تفصیل شروع کرنی مقصود تھی اس لئے پھر ان کو تاکید کی غرض سے توجہ دلائی گئی اور اقوام عالم سے مراد یا تو ان کے زمانے کی اقوام ہیں اور یا پھر بزرگ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
ف 6۔ اس سے یہ مسئلہ نہیں نکلتا کہ بےعمل کو واعظ بننا جائز نہیں بلکہ یہ نکلتا ہے کہ واعظ کو بےعمل بننا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →اجمال کی تفصیل شروع ہورہی ہے :
101: جب بنی اسرائیل میں انبیاء و رسل کا سلسلہ برابر جاری تھا۔ مخاطبہ و مکالمہ الٰہی کے لئے یہی لوگ مخصوص تھے۔ حکومت بھی ان کے پاس تھی اس لئے اپنے زمانہ میں یہی سب سے زیادہ بزرگ و برتر تھے۔ بزرگ آبائے کرام کی اولاد میں ہونا خود ایک شرف و مجد ہے اور یہ بہت کم خوش نصیبوں کو حاصل ہوتا ہے مگر جس وقت انہوں نے اپنے فرائض تبلیغ و دعوت سے انحراف و تجاوز کیا تو ان سے یہ بزرگی جاتی رہی اور ان پر ذلت و مسکنت طاری ہوگئی۔ وہ اللہ کی رحمت بیکراں سے دور ہوگئے اور ان کی تمام فضیلت و بزرگی چھن گئی اور اب اللہ کے اس قانون مکافات کی گرفت میں آگئے کہ : وَ لَىِٕنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
Verse 47 asks the Israelites to call to their minds the blessing of Allah, so that the recognition of the benefits they have received may induce them to be thankful to Allah and thus to obey Him. The verse is addressed to the Jews contemporaneous with the Holy Prophet ﷺ while the blessing had been received by their forefathers. The point is that when a man receives a special favour, his children and grand children too usually partake of the benefits flowing from it; in this sense, the Jews who are being addressed may be said to have received the blessing themselves.
As for Allah giving…
Read the full tafseer →62. This refers to that period of human history when, of all nations, only the Children of Israel possessed that knowledge of Truth which comes from God alone. At that time they were entrusted with the task of directing the nations of the world to righteousness; they were expected to serve God and to invite the rest of the world to do the same.
Read the full tafseer →