Explained with ayahs 35–36
اعزاز آدم ؑ
حضرت آدم ؑ کی یہ اور بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فرشتوں سے سجدہ کرانے کے بعد انہیں جنت میں رکھا اور ہر چیز کی رخصت دے دی ابن مردویہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا حضرت آدم نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! نبی بھی، رسول بھی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے آمنے سامنے بات چیت کی اور انہیں فرمایا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ عام مفسرین کا بیان ہے کہ آسمانی جنت میں انہیں بسایا گیا تھا لیکن معتزلہ اور قدریہ کہتے ہیں کہ یہ جنت زمین پر تھی۔ سورة اعراف میں اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس عبارت قرآنی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 50
یعنی انسان کا دشمن شیطان، اور شیطان کا دشمن انسان۔ شیطان کا دشمن انسان ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ اسے اللہ کی فرماں برداری کے راستے سے ہٹانے اور تباہی میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ رہا انسان کا دشمن شیطان ہونا، تو فی الواقع انسانیت تو اس سے دشمنی ہی کی مقتضی ہے، مگر خواہشات نفس کے لیے جو ترغیبات وہ پیش کرتا ہے، ان سے دھوکا کھا کر آدمی اسے اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ اس طرح کی دوستی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حقیقتًہ دشمنی دوستی میں تبدیل ہوگئی، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک دشمن دوسرے دشمن سے شکست کھا گیا اور اس کے جال میں پھنس گیا۔
Read the full tafseer →(آیت) فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْهَا۔ زلۃ کے معنی عربی میں لغزش کے ہیں ازلال کے معنی کسی کو لغزش دینا معنی یہ ہیں کہ شیطان نے آدم وحوا کو لغزش دے دی قرآن کے یہ الفاظ صاف اس کا اظہار کررہے ہیں کہ حضرت آدم وحوّا کی یہ خلاف ورزی اس طرح کی نہ تھی جو عام گناہگاروں کی طرف سے ہوا کرتی ہے بلکہ شیطانی تلبیس سے کسی دھوکہ فریب میں مبتلا ہو کر ایسے اقدام کی نوبت آگئی کہ جس درخت کو ممنوع قرار دیا تھا اس کا پھل وغیرہ کھا بیٹھے۔ عنہا میں لفظ عن بمعنی سبب ہے یعنی اس درخت کے سبب و ذریعہ سے شیطان نے آدم وحوّا کو لغزش میں مبتلا کردیا،
یہاں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب شیطان کو سجدے سے انکار کی بنا پر پہلے ہی…
Read the full tafseer →اِهْبِطُوۡا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ: اِهْبِطُوۡا کا یہ خطاب حضرت ابن عباسؓ ا ور بعض دوسرے اہل تاویل کے نزدیک حضرت آدم، حوا اور ابلیس سے ہے اور ابن زید کے نزدیک آدم وحوا اور ان کی ذریت سے۔ ہمارے نزدیک ان میں سے صحیح تاویل حضرت ابن عباس رضی اللہ کی ہے۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہاں یہ جو فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے تو یہ دشمنی اپنی فطری بنیاد اگر رکھتی ہے تو آدم اور ابلیس کے اندر ہی رکھتی ہے، آدم وحوا کے اندر نہیں رکھتی۔ آدم وحوا کے درمیان تو فطری ربط الفت اور مودت کا ہے،اسی طرح اولاد آدم کے اندر بھی فطری ربط وتعلق دراصل اخوت اور محبت کا ہے۔ ان کے اندر دشمنی اور عداوت کا بیج اگر…
Read the full tafseer →36۔ 1 شیطان نے جنت میں داخل ہو کر روبرو انہیں بہکایا یا وسوسہ اندازی کے ذریعے سے اس کی بابت کوئی وضاحت نہیں۔ تاہم یہ واضح ہے جس طرح سجدے کے حکم کے وقت اس نے حکم الٰہی کے مقابلے میں قیاس سے کام لے کر سجدے سے انکار کیا اسی طرح اس موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم (وَلَا تَقْرَبَا) کی تاویل کر کے حضرت آدم ؑ کو پھسلانے میں کامیاب ہوگیا جس کی تفصیل سورة اعراف میں آئے گی۔ گویا حکم الٰہی کے مقابلے میں قیاس اور نص کا ارتکاب بھی سب سے پہلے شیطان نے کیا۔
36۔ 2 مراد آدم ؑ اور شیطان ہیں جو ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔
Read the full tafseer →34 : یعنی شیطان نے انہیں بہکا کر اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کردیا اور بہانہ یہ بنایا کہ یوں تو یہ درخت بڑا مفید ہے کیونکہ اس کو کھانے سے ابدی زندگی حاصل ہوجاتی ہے ؛ لیکن شروع میں آپ کو اس لئے منع کیا گیا تھا کہ آپ کی جسمانی کیفیت اس کو برداشت نہ کرسکتی تھی اب چونکہ آپ جنت کے ماحول کے عادی ہوگئے ہیں اور آپ کے قوی مضبوط ہوچکے ہیں اس لئے اب وہ ممانعت باقی نہیں رہی۔ اس واقعے کی مزید تفصیل کے لئے دیکھئے سورة اعراف (7: 19 تا 23) اور سورة طہ (20 : 120)
35: مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کے نتیجے میں آدم ؑ اور ان کی اہلیہ کو جنت سے اور شیطان کو آسمانوں سے نیچے زمین پر اترنے کا حکم دے دیا گیا، ساتھ ہی یہ…
Read the full tafseer →فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ” آخرکار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹادیا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے ۔ “ ........ ذرا تعبیر کا شاہ کار دیکھئے ۔ شیطان نے انہیں پھسلایا ۔ “ پھسلانے کا لفظ ہی پوری صور تحال کی تصویر کھینچ دیتا ہے ۔ گویا ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں کہ شیطان انہیں دھکیل دھکیل کر جنت سے نکالنے کی کوشش کررہا ہے ۔ گویا وہ اچانک ان کی ثابت قدمی کو دھکا دیتا ہے اور وہ گرجاتے ہیں اور نیچے آرہتے ہیں ۔
یہاں آدم اور ابلیس کشمکش کا پہلاتجربہ مکمل ہوجاتا ہے ۔ آدم (علیہ السلام) اپنے عہد کو بھول…
Read the full tafseer →8 کہتے ہیں کہ حضرت آدم اور حوا بہشت میں رہنے لگے اور شیطان کو اس کی عزت کی جگہ سے نکال دیا، شیطان کو اور حسد بڑھا بالآخر مور اور سانپ سے مل کر بہشت میں گیا اور بی بی حوّا کو طرح طرح سے ایسا پھسلایا اور بہکایا کہ انہوں نے وہ درخت کھالیا اور حضرت آدم کو بھی کھلایا اور ان کو یقین دلا دیا تھا کہ اس کے کھانے سے اللہ کے ہمیشہ کو مقرب ہوجاؤ گے اور حق تعالیٰ نے جو ممانعت فرمائی تھی اس کی توجیہ گھڑ دی۔ آئیندہ یہ قصہ مفصل آئے گا۔
9 اس خطا کی سزا میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا اور جو اولاد پیدا ہونے والی تھی سب کی نسبت یہ حکم ہوا کہ بہشت سے زمین پر جاکر رہو۔ باہم ایک دوسرے کے دشمن ہو نگے جس کی وجہ…
Read the full tafseer →آیت 36 فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا
اس کی تفصیل سورة طٰہٰ میں آئی ہے کہ شیطان نے انہیں کس کس طریقے سے پھسلایا اور انہیں اس درخت کا پھل چکھنے پر آمادہ کیا۔
فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِص
وہ کیا کیفیت تھی کہ نہ کوئی مشقتّ ہے ‘ نہ کوئی محنت ہے اور انسان کو ہر طرح کا اچھے سے اچھا پھل مل رہا ہے ‘ تمام ضروریات فراہم ہیں اور خاص خلعت فاخرہ سے بھی نوازا گیا ہے ‘ جنت کا خاص لباس عطا کیا گیا ہے۔ لیکن ان کیفیات سے نکال کر انہیں کہا گیا کہ اچھا اب جاؤ اور زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرو۔ یاد رکھنا کہ شیطان تمہارا اور تمہاری نسل کا دشمن ہے اور وہ تمہیں پھسلائے گا جیسے آج پھسلایا ہے ‘ تم اس کی…
Read the full tafseer →53 شیطان کی حقیقت :۔ یہ شیطان دراصل ابلیس ہی تھا جو جنوں کی جنس سے تھا اور آگ سے پیدا ہوا تھا۔ شیطان کی حقیقت یوں سمجھئے کہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور جن آگ سے یا نار سے۔ اور نور اور نار دونوں کا مادہ ایک ہی ہے، یعنی نور اور روشنی نور میں بھی ہوتی ہے اور نار میں بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ اگر حدت اور تمازت (گرمی کی شدت) کم ہو یا ندارد ہو اور روشنی کا عنصر ہی غالب ہو تو یہ نور ہے اور روشنی کا عنصر کم اور حدت و تمازت کا عنصر غالب ہو تو یہ نار ہے۔ اب جنوں کی ایک قدر مشترک تو فرشتوں سے ملتی ہے یعنی وہ اپنی شکلیں بدل سکتے ہیں اور اسی بنا پر ابلیس فرشتوں میں شامل ہوجاتا تھا، اور ایک قدر مشترک…
Read the full tafseer →132 ۔ (آیت) ” الشیطن “ شیطان وہ ہے جو خیر اور رحمت الہی سے دور ہوگیا۔ شطن اے تباعد (راغب) الشیطن فیعال من شطن اے بعد ماسمی بہ لبعدہ عن الخیر وعن الرحمۃ (معالم) ابلیس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ وہی اب یہاں اپنے وصفی نام شیطان سے یاد کیا جارہا ہے۔ نافرمانی کی پاداش میں وہ جنت سے نکالا جا چکا ہے۔ اور بنی آدم (علیہ السلام) سے شدید حسد رکھے ہوئے ہے۔ اب اس کا نام شیطان ہے۔ اس کے پاس اور کوئی قوت نہیں۔ انسان کو مجبور ذرا بھی نہیں کرسکتا۔ البتہ پروپیگنڈے کے فن کا وہ امام ہے۔ ترغیب خوب دے سکتا ہے۔ سیاہ کو سفید کرکے خوب دکھا سکتا ہے۔ اور وسوسہ اندازی کی طاقت غضب کی رکھتا ہے۔ نزدیک اور دور اپنا عمل سب کہیں سے…
Read the full tafseer →فَاَزَلَّہُّمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا، زَلَّتْ لغت میں لغزش کو کہتے ہیں، اِزْلاَل، کے معنی ہیں لغزش دینا، مطلب یہ ہوا کہ شیطان نے آدم و حوا، (علیہما السلام) کو لغزش دیدی، قرآن کریم کے یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) کی یہ خلاف ورزی اس طرح کی نہ تھی، جو عام گناہ گاروں کی طرف سے ہوا کرتی ہے، بلکہ شیطان کی تلبیس سے کسی دھوکہ فریب میں مبتلا ہو کر ایسے اقدام کی نوبت آگئی کہ جس درخت کو ممنوع قرار ددیا تھا اس کا پھل وغیرہ کھا بیٹھے، عَنْھا میں، عَنْ بمعنی سبب ہے یعنی اس درخت کے سبب اور ذریعہ سے شیطان نے آدم و حواء (علیہما السلام) کو لغزش میں مبتلا کردیا
ایک سوال اور اس کا…
Read the full tafseer →فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطَانُ عَنْھَا ( پھر پھسلا دیا شیطان نے انہیں وہاں سے) عنہا میں ضمیر ھا یا تو شجرہ کی طرف راجع ہے اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ شیطان نے آدم و حوا (علیہما السلام) کو اس درخت کے کھانے کے سبب رستہ سے ڈگمگا دیا اور یا جنت کی طرف راجع ہے اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ شیطان نے انہیں جنت سے دور کردیا اور اس آخری معنی کی تائید حمزہ کی قرأت فَنَازَلَّھُمَا سے ہوتی ہے جس کے معنی ہیں : ” دور کیا ان دونوں کو “ شیطان شطن بمعنی بعدْ ( دوری) سے مشتق ہے کیونکہ شیطان بھی خیر اور رحمت سے دور اور پرے ہے اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب شیطان بارگاہ خداوندی سے ملعون اور راندۂ درگار ہوا اور اسے نکل جانے کا…
Read the full tafseer →(36) چناچہ ان دونوں (آدم وحواہ) کو شیطان نے جنت سے پھسلانے کی کوشش کی اور اس وسعت و کشادگی کی جگہ سے ان کو نکلوا دیا اور ہم نے حضرت آدم ؑ ، حوا، شیطان اور سانپ سے کہا، کہ زمین پر اترو جہاں تمہارے لیے موت تک ٹھکانا، فائدہ اور معیشت ہے۔
Read the full tafseer →شیطان کے اس پھسلانے کی تفصیل سورة اعراف (20) میں ہے۔
(بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۚ) یعنی آدم ؑ اور ابلیس اور ان کی اولاد ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ [ الکہف : 50، یٰسٓ : 60 ] یہ مطلب بھی درست ہے کہ اولاد آدم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں، جیسا کہ آدم ؑ کے دو بیٹوں کا قصہ ہے۔ [ المائدۃ : 27 ] فرشتوں نے بھی (وَيَسْفِكُ الدِّمَاۗءَ) میں اسی عداوت کا ذکر کیا تھا۔
(وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْـتَقَرٌّ) یہ الفاظ دلیل ہیں کہ آدم ؑ جس جنت میں رکھے گئے تھے وہ آسمان پر تھی، زمین پر جنت سے نکلنے کے بعد آئے۔ (اھْبِطُوْا) سے بھی یہی بات نکلتی ہے۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”سب سے بہتر دن جس میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 36
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فازلھما الشیطن عنھا فاخرجھما مما کا نا فیہ اس میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: فازلھما الشیطن عنھا جماعت نے فازلھا بغیر الف کے الزلۃ سے مشتق کر کے پڑھا ہے۔ الذلۃ کا معنی خطا ہے یعنی ان سے خطا کروائی اور انہیں خطا میں واقع کیا۔ حمزہ نے فازا لھما یعنی الف کے ساتھ پڑھا ہے، اس کا معنی ہے : اس نے انہیں دور کردیا۔ کہا جاتا ہے : ازلتہ فزال، میں نے اسے دور کیا تو وہ دور ہوگیا۔ ابن کیسان نے کہا : فازالھما، زوال سے مشتق ہے یعنی آدم وحوا طاعت پر تھے اس سے اس (شیطان) نے معصیت کی طرف پھیر دیا۔
میں کہتا ہوں : اس مفہوم پر دونوں قراءتوں کا معنی ایک ہوگا مگر جماعت کی…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فازلہما “ سے مراد ہے۔ ” فاغواھما “ پس ان کو اغوا کرلیا۔ (یعنی سیدھے راستے سے ہٹا دیا) ۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے عاصم بن بہدلہ (رح) سے روایت کیا کہ ” فازلہما “ سے مراد ہے فتحاھما یعنی ان سے ان دونوں کو ہٹا دیا۔
(3) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے روایت کیا کہ ہماری قرأت میں سورة بقرہ میں ” فازلہما “ کی جگہ فوسوس ہے۔ یعنی وسوسہ ڈالا۔
ابلیس نے وسوسہ کیسے ڈالا
(4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود اور دوسرے صحابہ ؓ سے روایت کیا جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے فرمایا لفظ آیت ” اسکن…
Read the full tafseer →[ فَاَزَلَّهُمَا : تو پھسلا دیا ان دونوں کو ] [ الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ] [ عَنْهَا : اس سے ] [ فَاَخْرَجَهُمَا : پھر اس نے نکالا ان دونوں کو ] [ مِمَّا كَانَا فِيْهِ ۠ : اس سے وہ دونوں تھے جس میں ] [ وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [ اھْبِطُوْا : تم لوگ اترو ] [ بَعْضُكُمْ : تم میں کا کوئی ] [ لِبَعْضٍ : کسی کے لیے ] [ عَدُوٌّ ۚ : دشمن ہے ] [ وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ : اور تمہارے لیے زمین میں ہے ] [ مُسْـتَقَرٌّ: ایک ٹھہرنے کی جگہ ] [ وَّمَتَاعٌ: اور برتنے کا کچھ سامان ] [ اِلٰى حِيْنٍ : ایک عرصہ کے لیے ]
Read the full tafseer →حضرت آدم (علیہ السلام) و حواء کو شیطان کا بہکانا اور جنت سے نکالا جانا
اللہ جل شانہٗ نے آدم (علیہ السلام) سے فرما دیا تھا کہ دیکھو ! یہ ابلیس تمہارا دشمن ہے تم دونوں کو جنت سے نہ نکال دے یعنی جنت سے نکال دیئے جانے کا ذریعہ نہ بن جائے، ادھر شیطان نے بھی دشمنی پر کمر باندھ لی تھی اور حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی اور ان کی ذریت کو تکلیف پہنچانے کا پکا ارادہ کرچکا تھا۔ وہ اس تاک میں رہا کہ ان کو کسی طرح جنت سے نکلواؤں اور یہاں کی نعمتوں سے محروم کروں۔ اسے یہ معلوم تھا کہ ان کو ایک درخت کے کھانے سے منع فرمایا گیا ہے، اگر کسی طرح ان سے اس ممانعت کی خلاف ورزی کرا دوں تو ضرور ان پر عتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی واستکبر وکان من الکفرین۔ اور اے بنی آدم تم خاص طور پر اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جس وقت ہم نے تمام فرشتوں کو تمہارے باپ کی تعظیم و تکریم کا ھکم دیا کہ سب مل کر آدم کو سجدہ کرو تاکہ تمہارے باپ کی فضیلت اور فوقیت عملی طور پر علی الاعلان ظاہر ہوجائے بادشاہ جب کسی کو اپنا خلیفہ بناتا تو ارکان دولت کو حکم دیتا ہے کہ اس کو نذریں پیش کریں اور فوج کو سلامی کا حکم دیتا ہے تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ اس خلیفہ کی فرمانبرداری کرنا ہوگی تو سب سجدہ میں گر گئے، بعض روایات میں ہے کہ سب سے پہلے اسرافیل (علیہ السلام) نے سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مرتبہ عطاء…
Read the full tafseer →ف 87 ۔ شیطان کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے بغض وحسد تو پہلے ہی سے پیدا ہوچکا تھا اس لیے وہ ہمیشہ تاک میں رہا کہ کسی نہ کسی طرح ان سے انتقام لے چناچہ اسے موقع ملا تو اس نے حضرت آدم وحواء کو پھسلانا اور بہکانا شروع کیا اور جھوٹی قسمیں کھا کھا کر انہیں یقین دلادیا کہ یہ درخت جس سے تمہیں منع کیا گیا ہے یہ شجرۃ الخلد ہے کہ اگر تم اسے کھالو گے تو تمہیں کبھی بھوک اور پیاس نہیں لگے گی۔ اور تم کبھی نہیں مروگے۔ چونکہ خدا کی صریح نہی کی مخالفت حضرت آدم (علیہ السلام) سے ممکن نہیں تھی اس لیے شیطان معلون نے اس کی ایک تاویل بھی سکھا دی اور کہا کہ ہٰذِہِ الشَّجَرَةَ کے ذریعے خدا نے تمہیں صرف اس خاص اور مشار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
فرشتوں کی سجدہ ریزی : حضرت آدم (علیہ السلام) کو خلافت عطا کرنے پر فرشتوں کو آپ کی فضیلت کا علم ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ
نے فرشتوں سے آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کرائی۔ تاکہ ان کی نیابت واضح ہوجائے۔ تو فرشتوں کو حکم ہوا۔ “ واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم ” کہ آدم (علیہ السلام) کے لیے سجدہ کرو “ فسجدو الا ابلیس ” تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔
مفسرین کرام نے اس مسئلہ میں بڑی بحث کی ہے۔ کہ جو سجدہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے آدم (علیہ السلام) کے لیے کرایا ، وہ کس قسم کا سجدہ تھا۔ انتہائی درجے کی حاضری ، تذلل اور تواضح کے ساتھ پیشانی کو زمین پر رکھ دینا سجدہ کہلاتا ہے۔ اور اس کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلاً…
Read the full tafseer →فَاَزَلَّہُمَا الشَّيْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِـمَّا كَانَا فِيْہِ 0 ۠ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ 0 ۚ وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُّسْـتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ 36
زل
الزَّلَّةُ في الأصل : استرسال الرّجل من غير قصد، يقال : زَلَّتْ رِجْل تَزِلُّ ، والْمَزِلَّةُ : المکان الزّلق، وقیل للذّنب من غير قصد : زَلَّةٌ ، تشبيها بزلّة الرّجل . قال تعالی: فَإِنْ زَلَلْتُمْ
[ البقرة/ 209] ، فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطانُ [ البقرة/ 36] ، واسْتَزَلَّهُ : إذا تحرّى زلّته، وقوله : إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطانُ [ آل عمران/ 155] ، أي : استجرّهم الشّيطان حتی زلّوا، فإنّ الخطيئة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ترکیب : واؤ حرف عطف کہ عطف جملہ کا پہلے جملہ پر ہے۔ قلنا فعل ضمیر فاعل یا حرف ندا آدم منادی اسکن فعل ضمیر مستتر اس کی فاعل انت اس کی تاکید تاکہ ضمیر مستتر پر عطف صحیح ہوجاوے و حرف عطف زوجک معطوف برانت الجنۃ مفعول یہ تمام جملہ معطوف علیہ وکلا الخ جملہ معطوف رغدًا صفت ہے مصدر محذوف کی اے اکلاً رغداً اے طیباً ہنیئًا حیث ظرف مکان اور عامل اس میں کلا ہے اور ممکن ہے کہ جنت سے بدل ہو کر مفعول بہ ہوجاوے ولا تقربا فعل نہی انما ضمیر اس کا فاعل ھذہ موصوف الشجرۃ اس کی صفت یہ دونوں مفعول بہ ہیں یعنی منہی عنہما فتکونا جواب نہی ہے اسی لیے نون حالت جری میں گر پڑا۔ تقدیرہ ان تقربا تکون۔
فازلّ مشدد زلت بمعنی…
Read the full tafseer →فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِص وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّج وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ (البقرۃ : 36)
(تو شیطان نے ان کو وہاں سے پھسلادیا اور ان کو نکلوا چھوڑا اس عیش و آرام سے جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کہ اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے )
حضرت آدم (علیہ السلام) کے گناہ کی حقیقت اور معصوم ہونے کا مفہوم
درخت کے قریب نہ جانے کا حکم دے کر اللہ نے حضرت آدم اور حضرت حوا کی جو آزمائش کی تھی وہ اس میں ناکام ہوگئے اور اس ممنوعہ درخت کا پھل…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) سے شیطان کا پہلا انتقام۔
حکم تھا کہ اے آدم ! تم میاں، بیوی نے اس درخت کے قریب نہیں جانا۔ اس کے باوجود دونوں نے درخت کا پھل کھالیا۔ اس طرح آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ کو بالآخر شیطان پھسلانے میں کامیاب ہوا۔ جس کی پاداش میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کو جنت سے نکل جانے کا حکم صادر ہوا۔ ان کے ساتھ ہی شیطان کو بھی زمین پر دھتکار دیا گیا۔ خروج کا حکم دیتے ہوئے پھر فرمایا تم ایک دوسرے کے دشمن ہو لہٰذا ایک مدت کے لیے اب زمین ہی تمہارے لیے جائے قرار ہوگی۔
سورۃ الاعراف کی آیت 189 میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ حضرت حوا ( علیہ السلام) کو آدم…
Read the full tafseer →فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا : (پس ان دونوں کو پھسلا یا شیطان نے اس درخت کے متعلق )
لغزش کی وضاحت :
ھا ضمیر شجرہ کی طرف جا رہی ہے یعنی اس درخت کے سبب ان دونوں کو شیطان نے لغزش پر آمادہ کیا۔
نمبر 1: اور تحقیق اس کی یہ ہے کہ شیطان نے درخت کی وجہ سے ان سے لغزش صادر کروائی۔
نمبر 2 یا : ان دونوں کو جنت سے پھسلا دیا۔ بمعنی نکلوادیا۔ اور دور کر ادیا۔
قراءت : حمزہ نے فازا لھما پڑھا۔ تاویل میں آدم ( علیہ السلام) کی لغزش خطاء ً تھی۔ خواہ نہی کو تنزیہ پر محمول کرو۔ یا لام کو عہد خارجی کا مانو۔ گویا اللہ تعالیٰ نے جنس آدم کا ارادہ فرمایا۔
مسئلہ : اس سے یہ ثابت ہوا کہ لغزش کے لفظ کا اطلاق انبیاء (…
Read the full tafseer →(شیطان کا پھسلانا)
(تفسیر) 36:
(آیت)” فازلھما “ اتارا (الشیطان) آدم وحواء کو یعنی ان دونوں کو بلایا لغزش کی طرف اور حضرت حمزہ ؓ نے (آیت)” فازلھما “ پڑھا یعنی ان دونوں کو ہٹا دیا ۔ شیطان بروزن فیعال شطن سے مشتق ہے یعنی دور ہوا شیطان کو خیر اور رحمت سے دور ہونے کی وجہ سے شیطان کہا جاتا ہے ۔ ” عنھا “ جنت سے (آیت)” فاخرجھمامما کانا فیہ “ نعمتوں سے اور یہ اس طرح ابلیس نے ارادہ کیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) وحضرت حواء (علیہ السلام) کی طرف وسوسہ ڈالے تو خزنہ جنت نے اسے روکا تو سپنی کے پاس آیا ، یہ سپنی ابلیس کی دوست تھی اور تمام جانوروں سے زیادہ خوبصورت اس کے چار پاؤں تھے جیسے اونٹ کے پاؤں اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35 ۔ 36): ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے جنت میں جانے سے پہلے حوا پیدا ہوئی ہیں اور پھر دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس عبد اللہ بن مسعود اور صحابہ کی ایک جماعت کا قول ہے کہ پہلے تن تنہا حضرت آدم کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا تھا۔ حضرت آدم جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے سبب سے اکثر گھبرایا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت آدم سو رہے تھے تو ان کی نیند کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا کو حضرت آدم کی بائیں پسلی سے پیدا کردیا 2۔ اور ان دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم دیا۔ بخاری مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پسلی کی ہڈی سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت 35-36
(آیت) ’ وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَامِنْهَا رَغَدًا) ’ اور ہم نے کہا، اے آدم ! رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ تم اس سے خوب سیر ہو کر۔ “ جب اللہ تعالیٰ نے آدم ( علیہ السلام) کو تخلیق کیا، اس کو فضیلت عطا کی، تو خود اسی میں سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے اس پر اپنی نعمت کا اتمام کردیا تاکہ وہ اپنی بیوی کے پاس سکون، راحت اور انس حاصل کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ جنت میں رہیں اور جنت میں مزے سے بےروک ٹوک کھائیں پئیں۔
(آیت) حَيْثُ شِـئْتُمَـا یعنی جہاں سے چاہو، مختلف اصناف کے پھل اور میوے کھاؤ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ’ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
قول باری ہے : وامنوا بما انزلت مصدقاً لما معکم ولاتکونوا اول کافر بہ (اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لائو۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جائو) ایک قول کے مطابق قول باری : ولاتکونوا اول کافربہ کا فائدہ یہ ہے کہ اگرچہ سب سے پہلے اور سب سے آخر دونوں سے کفر کا صدور قبیح ہے اور سب کو اس سے روکا گیا ہے، تاہم کفر کے اندر سابق شخص کی پیروی دوسرے لوگ کریں گے جس کی بنا پر اس کا جرم اور گناہ دوسروں کے جرم اور گناہ سے بڑھ کر ہوگا۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ولیحملن اثقالھم و اتقا لا مع اثقالھم (اور یہ لوگ ضرور اپنے گناہوں کا بوجھ…
Read the full tafseer →111 ازلال شیطانی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ شیطان کا آدم و حوا کو اسی درخت کی وجہ سے پھسلا دینا : " عنہا " کی ضمیر کے مرجع میں دو احتمال ہیں کہ یا تو اس کا مرجع جنت ہے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ مطلب یہ کہ شیطان نے آدم و حوا کو دھوکہ دے کر جنت سے پھسلا دیا، صاحب جلالین وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے، اور دوسرا احتمال اس ضمن میں یہ ہے کہ اس کا مرجع " الشَّجَرَۃُ " ہو، تب یہ " عَنْ اجْلِہ " ہوگا یعنی ابلیس لعین نے اسی شجرہ ممنوعہ کے ذریعے، اور اسی کی وجہ سے، حضرت آدم و حوا کو مبتلائ معصیت کردیا، جس سے وہ لغزش میں واقع ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ اس دوسرے احتمال میں جو معنویت اور قوت ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آدم کی لغزش اور وحی کی ضرورت
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد حضرت حوا کو پیدا کیا گیا یہ واضح کرکے قرآن میں نہیں بتایا گیا مفسرین کا خیال ہے اور قرین قیاس بھی یہی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی تنہائی اور اداسی کو دور کرنے کے لئے اور ویسے بھی ہر چیز جوڑوں میں ہی ہوتی ہے جنت میں تمام نعمتیں تھیں بیوی کی نعمت بھی ان کو عطا کردی گئی، اللہ نے ان دونوں کو جنت میں ٹھکانہ دیا ظاہر ہے یہ عارضی ٹھکانہ تھا اور پھر بندے کو بتانا تھا کہ یہ بھی تیری میراث ہے مگر فی الحال تم یہاں رہو کھاؤ پیؤ اور اس درخت کے قریب مت جانا۔ معلوم ہوا کہ انسان کی آزمائش شروع سے ہے۔ فرمایا کہ ” اگر تم اس درخت کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–39
آیات 30- 39
اسرارو معارف
یہاں تک دعوت الی اللہ اور عبادت کا ضروری ہونا بطور شکر کے اور اس درجہ میں کہ اللہ کا حق ہے بندے پر ارشاد ہوا پھر اس کے نتائج اور نافرمانی کی سزا کا ذکر اس انداز میں تھا کہ اللہ تمہارا رب ہے خالق ہے مگر یہاں سے اسی دعوت پر دوسری دلیل شروع فرمائی اور ایک اور طرح سے دعوت فکر دی ہے کہ ابتدائے نوع انسان کو دیکھو ، اللہ نے پیدائشی طور پر اسے کیا فضیلت بخشی اور کس طرح سے شیطان اس کے خلاف ہوا۔ اب اگر تم اللہ کی اطاعت نہ کرو گے تو یقینا تم اس کے پیچھے چلو گے کہ دوسری راہ اسی کی ہے جو بحیثیت انسان بھی تھیں کسی طرح زیب نہیں دیتا۔
انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے :
سو یہاں حضرت آدم…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ شیطان اس روغلانے کا سورت اعراف آیت :2) میں ذکر کیا ہے اس نے کچھ قسمیں کھا کر آدم اور حوا (علیہ السلام) کے دل میں وسوسہ پیدا کردیا اور الی حین کے معنی تاقیا مت کے ہے بعض علمانے یہاں شیطان کے جنت میں چلے جانے کے متعلق ایک عجیب و غریب قصہ نقل کیا ہے جو اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →ازلہما۔ ازل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ ازلال (افعال) مصدر سے۔ الزلۃ کے اصل معنی بلاقصد کے قدم پھسل جانے کے ہیں ۔ جو گناہ بلا قصد سرزد ہوجائے اسے بھی بطور تشبیہ زلۃ سے تعبیر کیا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے فان زللتم (2:209) اگر تم لغزش کھا جاؤ۔ ھما ضمیر مفعول بہ تثنیہ غائب ۔ حضرت آدم اور حضرت حوا کے لئے ہے۔ یعنی اس نے (شیطان نے) ان دونوں کو پھسلا دیا ان دونوں کے قدم ڈگمگا دیئے۔
عنھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب شجرۃ کی طرف راجع ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مرجع جنت ہے۔
مما کانا فیہ۔ مما مرکب ہے۔ من حرف جار اور ما اسم موصول سے۔ کانا فیہ صلہ ہے موصول کا ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب یا الجنۃ کے لئے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 36
(اسکن): تو آباد ہوجا۔ (زوج): بیوی۔ (کلا): تم دونوں کھاؤ۔ (رغد): اچھی طرح (بافراغت) ۔ (حیث): جیسے۔ (شئتما): تم دونوں نے چاہا (تم دونوں چاہو) ۔ (لا تقربا): تم دونوں قریب مت جانا۔ (الشجرۃ): درخت۔ (تکونا): تم دونوں ہوجاؤ گے (تم ہوگے) ۔ (الظلمین ): بےانصاف حد سے نکل جانے والے۔ (ازل): اس نے ڈگمگا دیا۔ (اخرج): اس نے نکلوا دیا۔ (اھبطوا): تم اتر جاؤ۔ (بعضکم لبعض): تم میں ایک دوسرے کے لئے۔ (عدو): دشمن۔ (مستقر): ٹھکانا۔ (متاع): سامان (زندگی گزارنے کا سامان) ۔ (حین): وقت، زمانہ، مدت۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 36
دنیا میں بھیجے جانے سے پہلے اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
حضرت آدم کے جنت میں جانے اور حضرت حوا سلام اللہ علیہما کی پیدائش کا ذکر، عورت کی بد مزاجی کا سبب۔
ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے جنت میں جانے سے پہلے حضرت حوا سلام اللہ علیہا پیدا ہوئی ہیں اور پھر دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا ہے۔ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ ؓ کی ایک جماعت کا یہ قول ہے کہ پہلے تن تنہا حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے سبب سے اکثر گھبرایا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت آدم (علیہ السلام) جب سو رہے تھے تو ان کی نیند کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →[30] یعنی جنت سے اتر جاؤ۔ خطاب محض آدم اور حوا سے نہیں بلکہ ابلیس سے بھی ہے، اسی لئے خطاب میں صیغہ تثنیہ کا نہیں جمع کا ہے۔
[31] دنیا میں انسان بھی انسان کا دشمن ہے لیکن اصل دشمنی تو ذریت آدم سے ذریت ابلیس کو ہے۔ انسانوں کے درمیان بھی اگر دشمنی و عداوت ہوتی ہے تو وہ بھی شیطان کی کوششوں سے ہوتی ہے ورنہ اولاد آدم کے اندر فطری ربط وتعلق دراصل اخوت و محبت کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
گناہ عارضی ہے :
(ف 2) : آدم (علیہ السلام) اجتہادی لغزش کی بنا پر جنت سے الگ کردیئے گئے اور انہیں کہہ دیا گیا کہ تم میں اور شیطان میں باہمی عداوت ہے ، اس لئے کچھ ومدت تک زمین پر رہو ‘ وہاں دونوں کا صحیح طور پر مقابلہ رہے گا ، پھر اگر تم وہاں اس کی گرفت سے بچ گئے تو اس اصلی و حقیقی مقام میں آجاؤ گے ، ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو شیطان کا ہوا ہے ۔
آدم (علیہ السلام) کو عارضی طور پر اس لئے بھی زمین پر اتارا گیا ، تاکہ وہ شیطان کی تمام گھاتوں سے واقف ہوجائے اور پھر کبھی اس کی گرفت میں نہ آئے اور مقابلہ سے اس میں روحانیت کی ایک خاص کیفیت پیدا ہوجائے جو اس کو بارگاہ قدس کے قریب ہونے کے لائق بنا…
Read the full tafseer →ف 1۔ پھر شیطان نے ان دونوں آدم و حوا کو اس درخت کی وجہ سے لغزش میں مبتلا کردیا اور وہ دونوں جس عیش و عشرت اور جس مرتبے اور شان میں تھے اس سے ان کو نکال کر چھوڑا ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم یہاں سے نیچے اتر جائو تمہاری حالت یہ ہوگی کہ تمہارے بعض بعض کے دشمن رہیں گے اور تم کو زمین میں ٹھہرائو ہے اور ایک مدت تک فائدہ اٹھانا ہے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ شیطان نے اپنے وسوسہ کی قوت اور طاقت سے حضرت آدم (علیہ السلام) پر اثر ڈالنا شروع کیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنت کے اندر داخل ہو کر آدم اور حوا سے گفتگو کی ہو اور ان کو اس شجر ممنوعہ کی جانب مائل کیا ہو جیسا کہ سورة اعراف کی آیت وقاسمھما انی لکما لمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ف 2۔ یعنی وہاں بھی جاکر دوام نہ ملے گا بعد چندے وہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →بھول چوک فطرت انسانی میں داخل ہے :
84: فَاَزَلَّهُمَا : کے الفاظ قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں۔ زلۃ اس قصور کو کہا جاتا ہے جو بغیر عزم و ارادہ کے سرزد ہوجائے۔ شیطان یعنی قوائے بہیمیہ جو فطرت انسانی میں داخل ہیں ، کے پھسلانے کی وجہ سے بغیر عمد و ارادہ کے آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ سے وہ قصور ہوگیا جس سے منع کیا گیا تھا۔ جب تک علم الٰہی میں آدم (علیہ السلام) کا اس جنت میں رہنا طے تھا رہ گئے اور جب ان کے نکلنے کا زمانہ آگیا تو ان سے وہ قصورہوگیا جس میں ان کا عزم و ارادہ شامل نہ تھا چناچہ خود قرآن کریم میں یہ ارشاد موجود ہے کہ :
وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
A question arises here as to how Satan got into Paradise for seducing Adam and Hawwa (علیہما السلام) when he had already been expelled from there for refusing to prostrate himself. There are many possible ways in which he can have played his trick. Possibly he never met them, but planted the suggestion in their minds from afar - a thing which Satan can always do, and of which we have a specimen in the work of the hypnotists. It is equally possible that Satan, being one of the jinns whom Allah has given certain unusual powers denied to man, assumed the shape of a snake or of something else,…
Read the full tafseer →50. This means that Satan is the enemy of man, and vice versa. That Satan is the enemy, of man is obvious enough, for he tries to drive him off the course of obedience to God and leads him to perdition, but one might wonder how man could be referred to as the enemy of Satan. The fact is that man's essential humanity makes this enmity incumbent upon him. Man, however, is often deceived by Satan and befriends him owing to the temptations that he holds out to him. This kind of friendship does not mean that the basic, irreconcilable clash of interests between man and Satan has been resolved. It…
Read the full tafseer →