اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ معافی نامہ کا متن
جو کلمات حضرت آدم نے سیکھے تھے ان کا بیان خود قرآن میں موجود ہے۔ آیت (قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 7۔ الاعراف :23) یعنی ان دونوں نے کہا اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو یقینا ہم نقصان والے ہوجائیں گے۔ اکثر بزرگوں کا یہی قول ہے۔ ابن عباس سے احکام حج سیکھنا بھی مروی ہے۔ عبید بن عمیر کہتے ہیں وہ کلمات یہ تھے کہ انہوں نے کہا الٰہی جو خطا میں نے کی کیا اسے میرے پیدا کرنے سے پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا گیا تھا ؟ یا…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 51
یعنی آدم کو جب اپنے قصور کا احساس ہوا اور انہوں نے نافرمانی سے پھر فرماں برداری کی طرف رجوع کرنا چاہا، اور ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اپنے رب سے اپنی خطا معاف کرائیں، تو انہیں وہ الفاظ نہ ملتے تھے جن کے ساتھ وہ خطا بخشی کے لیے دعا کرسکتے۔ اللہ نے ان کے حال پر رہم فرما کر وہ الفاظ بتا دیے۔
توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آگیا، طریق بندگی کی طرف پلٹ آیا۔ اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجّہ ہوگیا، پھر سے نظر عنایت اس کی طرف مائل ہوگئی۔
سورة الْبَقَرَة…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بعدازاں حاصل کرلئے حضرت آدم ؑ نے اپنے رب سے چند الفاظ (یعنی معذرت کے کلمات کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی سے حاصل ہوئے تھے حضرت آدم ؑ کی ندامت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوئی اور خود ہی معذرت کے الفاظ تلقین فرما دئیے) تو اللہ تعالیٰ نے رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی ان پر (یعنی توبہ قبول کرلی) بیشک وہی ہیں بڑی توبہ قبول کرنے والے بڑے مہربان (اور حضرت حوّا کی توبہ کا بیان سورة اعراف میں ہے قالا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا جس سے معلوم ہوا کہ وہ بھی توبہ اور قبول توبہ میں حضرت آدم ؑ کے ساتھ شریک رہیں مگر معاف فرمانے کے بعد بھی زمین پر جانے کے حکم کو منسوخ نہیں فرمایا کیونکہ اس میں ہزاروں…
Read the full tafseer →فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ: توبہ کے معنی رجوع کرنے کے ہیں۔ جب اس کا صلہ علیٰ کے ساتھ آتا ہے تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر رحم کا مضمون چھپا ہوا ہے۔
“تَلَقّٰی”کے لفظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کے یہ الفاظ حضرت آدم علیہ السلام کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ان الفاظ کا حوالہ بھی ہے۔
قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (اعراف : ۲۳)
اور ان دونوں نے دعا کی کہ اے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہ بخشے گا تو ہم برباد ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 1 حضرت آدم ؑ جب پشیمانی میں ڈوبے دنیا میں تشریف لائے تو توبہ و استغفار میں مصروف ہوگئے۔ اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی و دست گیری فرمائی اور وہ کلمات معافی سکھا دیئے جو الاعراف میں بیان کئے گئے ہیں (رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) 7:23 بعض حضرات یہاں ایک موضوع روایت کا سہارا لیئے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم نے عرش الہی پر لَا اِلٰہ اِلَا اللّٰہ مَحَمَد رَّسُوْلُ اللّٰہ لکھا ہوا دیکھا اور محمد رسول اللہ کے وسیلے سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا۔ یہ روایت بےسند ہے اور قرآن کے بھی معارض ہے۔ علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
36 : جب آدم ؑ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ پریشان ہوگئے لیکن سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے کن الفاظ میں معافی مانگیں، اس لئے زبان سے کچھ نکل نہیں رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے جو دلوں کے حال سے بھی خوب واقف ہے اور رحیم وکریم بھی ہے ان کی اس کیفیت کے پیش نظر خود ہی ان کو توبہ کے الفاظ سکھائے جو سورة اعراف میں مذکور ہیں : قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (آیت نمبر : 23) اے ہمارے پروردگار ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔
اس طرح…
Read the full tafseer →فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” اس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی ‘ جس کو اس کے رب نے قبول کرلیا ۔ کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ “ آدم اور نسل آدم کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک دآئمی معاہدہ ہے ۔ بات مکمل ہوگئی ۔ آدم اس زمین پر اللہ کا ایک بااختیار اور ذی ارادہ خلیفہ قرار پایا ۔ اس کا کام ہے کہ وہ فلاح کی راہ اختیار کرتا ہے یا ہلاکت و بربادی کی ۔
Read the full tafseer →2 جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے حق تعالیٰ کا حکم عتاب آمیز سنا اور جنت سے باہر آگئے تو بحالت ندامت و انفعال گریہ وزاری میں مصروف تھے اس حالت میں حق تعالیٰ نے اپنی رحمت سے چند کلمات ان کو القاء اور الہام کے طور پر بتلائے جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی وہ کلمات یہ ہیں ربنا ظلمنا انفسنا آخر آیت تک۔
Read the full tafseer →آیت 37 فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ ط
اس کی وضاحت سورة الاعراف میں ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا حکم عتاب آمیز سنا اور جنت سے باہر آگئے تو سخت پشیمانی اور ندامت پیدا ہوئی کہ یہ میں نے کیا کیا ‘ مجھ سے کیسی خطا سرزد ہوگئی کہ میں نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کر ڈالی۔ لیکن ان کے پاس توبہ و استغفار کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کن الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں۔ اللہ کی رحمت یہ ہوئی کہ اس نے الفاظ انہیں خود تلقین فرما دیے۔ یہ اللہ کی شان رحیمی ہے۔ توبہ کی اصل حقیقت انسان کے اندر گناہ پر ندامت کا پیدا ہوجانا ہے۔ اقبال نے عنفوان شباب…
Read the full tafseer →56 وہ کلمات یہ تھے آیت ( قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 23) 7 ۔ الاعراف :23) آدم و حوا دونوں کہنے لگے : اے ہمارے پروردگار ! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہیں اور اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں فرمائے گا تو ہم تو خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
ان کلمات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود ہی سورة اعراف کی آیت نمبر 23 میں کردیا ہے۔ اس کے باوجود بعض واعظ حضرات اس آیت کی تشریح میں ایک موضوع حدیث بیان کیا کرتے ہیں یہ حدیث مرفوع بنا کر پیش کی جاتی ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ :
جب سیدنا آدم (علیہ…
Read the full tafseer →137 ۔ توبہ وانابت کے) خطاوار کو توبہ وانابت کے الفاظ اپنی طرف سے تلقین کردینا خودایک بڑی فرد رحمت خداوندی اور مرحمت الہی کی ہے، اور پھر اس سے بڑھ کر بندہ نوازی کا کمال یہ ہے کہ اس تعلیم وتلقین کی نسبت تک اپنی جانب نہیں فرمائی گئی، بلکہ اسے آدم (علیہ السلام) کی جانب منسوب کردیا گیا کہ انہیں نے وہ الفاظ سیکھ لیے ! کیا حد ہے شفقت وبندہ پروری کی ! یہ کلمات والفاظ کیا تھے ؟ روایتیں جو اس باب میں نقل ہوئی ہیں مختلف ہیں۔ لیکن خود قرآن مجید میں تو یہ الفاظ حضرت آدم (علیہ السلام) وحوا (علیہ السلام) کی زبان سے نقل ہوئے ہیں (آیت) ” ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین۔
138 ۔ (اور…
Read the full tafseer →فَتَلَقّٰی آدَمُ مِنْ رَّبِّہ کَلِمَاتٍ (الآیة) حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام جب ندامت و پشیمانی میں ڈوبے ہوئے دنیا میں تشریف لائے، تو توبہ و استغفار میں مصروف ہوگئے، اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی اور وہ کلمات معافی سکھلا دئیے جو سورة اعراف میں بیان کئے گئے ہیں : '' رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْمَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ ''۔
قبولیت دعاء کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ جنت میں آباد کرنے کے بجائے دنیا ہی میں رہ کر جنت کے حصول کی تلقین فرمائی اور حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام کے واسطے سے تمام نبی آدم کو جنت کے حصول کا یہ…
Read the full tafseer →فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ پھر اسی کیلئے آدم نے اپنے رب سے ( معذرت کے) چند کلمے۔
ابن کثیر نے فَتَلَقّٰی اٰدَمُ میں آدم کو منصوب اور کَلِمَاتٍ کو مرفوع پڑھا ہے اس قرأت پر یہ معنی ہونگے کہ آدم کے پاس ان کے رب کی طرف سے کلمات آئے اور یہ کلمات حضرت آدم ( علیہ السلام) کی توبہ قبول ہونے کے سبب تھے۔ باقی اور قاریوں نے آدم کو مرفوع اور کلمات کو منصوب پڑھا ہے اس تقدیر پر تلقٰے کے معنی سیکھ لیے ہونگے اور وہ کلمات یہ ہے : رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ( اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو ہم کو نہ…
Read the full tafseer →(37) حضرت آدم ؑ کو وہ کلمات سکھائے گئے اور انہوں نے سیکھ لیے یا ان کو بطور الہام بتائے گئے تاکہ یہ کلمات حضرت آدم ؑ اور ان کی اولاد کے لئے تو بہ کا ذریعہ ہوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلطی کو معاف کردیا اور جو شخص بھی توبہ کی حالت میں مرجائے اللہ تعالیٰ اس کی غلطی کو معاف کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →کلمات یہ تھے : (رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ)[ الأعراف : 23 ]
مستدرک حاکم (2؍672، ح : 4228) میں ہے کہ آدم ؑ نے عرش پر ”لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ لکھا ہوا دیکھا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگی تو ان کی توبہ قبول ہوئی، مگر ذہبی نے اسے موضوع یعنی من گھڑت کہا ہے۔ اس روایت کے راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے متعلق خود امام حاکم نے ”المدخل إلی الصحیح“ میں فرمایا کہ وہ اپنے باپ سے موضوع روایات بیان کرتا ہے، جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی گھڑی ہوئی ہیں، یہ روایت بھی اس نے اپنے باپ سے بیان کی ہے۔ قرآن…
Read the full tafseer →آیت نمبر 37
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فتلقی ادم من ربہ کلمت بعض علماء نے فرمایا : تلقی کا معنی سمجھنا ہے۔ بعض نے فرمایا : قبول کرنا اور لینا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) یتلقی الوحی یعنی وحی حاصل کرتے تھے اسے لیتے تھے۔ تو کہتا ہے : خرجنا تتلقی الحجیج ہم نکلے تاکہ حاجیوں کا استقبال کریں۔ بعض نے فرمایا : تلقی کا معنی تلقین کرنا ہے، یہ معنی صحیح ہے لیکن اصل میں تلقی کا تلقن سے ہونا جائز نہیں کیونکہ جب دو حرف ہم جنس ہوں تو ایک کو یاء سے قلب کیا جاتا ہے مثلاً تظنی، یہ تظنن سے ہے تفضی یہ تفضص اس کی مثل ہے تسریت یہ تسررت سے ہے املیت یہ املک سے ہے اس کی قسم دوسری مثالیں بھی ہیں اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →(1) امام طبرانی المعجم الصغیر میں حاکم، ابو نعیم اور بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب آدم (علیہ السلام) نے وہ غلطی کی جو ان سے ہوگئی (تو) انہوں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور عرض کیا میں آپ سے محمد ﷺ کے طفیل سوال کرتا ہوں کہ مجھے بخش دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ محمد ﷺ کون ہیں ؟ تو انہوں نے عرض کیا (اے اللہ) آپ کا نام برکت والا ہے جب آپ نے مجھے پیدا فرمایا تو میں نے آپ کے عرش کی طرف سر اٹھایا تو اس میں لا الہ اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا تو میں نے یہ سمجھ لیا کہ آپ کے نزدیک قدرومنزلت میں ان سے بڑا…
Read the full tafseer →[ فَتَلَـقّيٰٓ: تو سیکھ لیے ] [ اٰدَمُ : آدم نے ] [ مِنْ رَّبِّهٖ : اپنے رب سے ] [ كَلِمٰتٍ : کچھ الفاظ ] [ فَتَابَ عَلَيْهِ ۭ : تو اس نے توبہ قبول کی ان کی ] [ اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ : یقینا وہ ہی بار بار توبہ قبول کرنے والا ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →حضرت آدم (علیہ السلام) کا توبہ کرنا اور توبہ قبول ہونا
حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی سے جو خطا ہوگئی اس کی وجہ سے انہیں بہت زیادہ ندامت تھی۔ اللہ جل شانہٗ کی طرف سے ان کو چند کلمات بتائے گئے کہ ان کے ذریعے توبہ کریں، یہ کون سے کلمات تھے بعض مفسروں نے فرمایا کہ سورة اعراف میں جو ان کی توبہ کے الفاظ مذکور ہیں وہی مراد ہیں یعنی : (رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا سکتہ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) ” اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہماری مغفرت نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ضرور ضرور ہم خسارے والوں میں سے ہوجائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی واستکبر وکان من الکفرین۔ اور اے بنی آدم تم خاص طور پر اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جس وقت ہم نے تمام فرشتوں کو تمہارے باپ کی تعظیم و تکریم کا ھکم دیا کہ سب مل کر آدم کو سجدہ کرو تاکہ تمہارے باپ کی فضیلت اور فوقیت عملی طور پر علی الاعلان ظاہر ہوجائے بادشاہ جب کسی کو اپنا خلیفہ بناتا تو ارکان دولت کو حکم دیتا ہے کہ اس کو نذریں پیش کریں اور فوج کو سلامی کا حکم دیتا ہے تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ اس خلیفہ کی فرمانبرداری کرنا ہوگی تو سب سجدہ میں گر گئے، بعض روایات میں ہے کہ سب سے پہلے اسرافیل (علیہ السلام) نے سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مرتبہ عطاء…
Read the full tafseer →ف 91 ۔ یہ اگرچہ ایک لغزش تھی لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) جو خدا کے برگزیدہ پیغمبر تھے اس لیے انہوں نے اسے بہت محسوس کیا اور اللہ کے حضور میں روئے تو اللہ نے اس دوران میں ان کے دل میں کچھ دعائیہ کلمات الہام فرمادئیے۔ یہ کلمات وہی ہیں جو قرآن مجید میں دوسری جگہ موجود ہیں جو پچھلے صفحے میں تحریر ہوئے۔ فتابہ علیہ تو اللہ نے انہیں اپنی رحمت میں لے لیا اور ان کی توبہ قبول فرمالی۔
92 ۔ وہ تائب کی صرف توبہ ہی قبول نہیں فرماتا بلکہ مزید مہربانی اور انعام سے نوازتا ہے۔ قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًایہ حکم حضرت آدم وحواء اور ان کی تبعیت میں ان کی اولاد کو مل رہا ہے یہ حکم دوبارہ اس لیے دہرایا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
گزشتہ سے پیوستہ : جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس درخت کا پھل کھالیا۔ جس سے انہوں منع کیا گیا تھا۔ تو ان سے انعام و اکرام لے لئے گئے۔ اور انہیں حکم ہوا کہ زمین پر اتر جاؤ۔ بعض تمہارے بعض کے دشمن ہیں۔ اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے۔ اور تمہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانا ہوگا۔ اب آدم (علیہ السلام) کو بڑی پریشانی ہوئی۔ کہ انہیں زمین پر اتر نے کا حکم مل گیا ہے۔ بعض روائتوں میں یہ بھی آتا ہے (1 ۔ تفسیر عزیزی فارسی پارہ 1 ص 182) کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) آئے اور آدم (علیہ السلام) کے سر سے تاج اتار لیا اور ان کے جسم سے بہشت کا لباس بھی اتار لیا اور انہیں برہنہ…
Read the full tafseer →فَتَلَـقّٰٓي اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْہِ 0 ۭ اِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِيْمُ 37
( لقی) تلقی
السّماحة منه والنّدى خلقاویقال : لَقِيتُه بکذا : إذا استقبلته به، قال تعالی: وَيُلَقَّوْنَ فِيها تَحِيَّةً وَسَلاماً [ الفرقان/ 75] ، وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] . وتَلَقَّاهُ كذا، أي : لقيه . قال : وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ [ الأنبیاء/ 103] ، وقال : وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ [ النمل/ 6]
وتلقی السماحۃ منہ والندیٰ خلقا سخاوت اور بخشش کرنا اس کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے ۔ لقیت بکذا ۔ میں فلاں چیز کے ساتھ اس کے سامنے پہنچا۔ قرآن میں ہے : وَيُلَقَّوْنَ…
Read the full tafseer →ربط : اس کے بعد خدا تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کی گریہ وزاری اور توبہ معاف ہونا فرماتا ہے :
ترکیب : تلقی فعل آدم فاعل کلمات مفعول بہ من ربہ کائنۃ کے متعلق ہو کر صفت کلمات کی مگر جب کہ اس کو مقدم کردیا گیا تو حال کی صورت میں منسوب المحل ہوا۔ فتاب فعل ضمیر ھو راجع رب کی طرف فاعل علیہ متعلق تاب کے ہے۔ انہ ھو ضمیر متصل کی تاکید التواب
1 ؎ کیونکہ خدا خود فرماتا ہے ولم تجد لہ عزما
الرحیم صفت و موصوف خبر۔
تفسیر : جب آدم جنت سے نکالے گئے تو مدت تک زمین پر بحالت پریشانی اپنے گناہ پر روتے رہے آخر خدا تعالیٰ کو اپنے بندہ کی آہ زاری و ندامت پر بیقراری پر رحم آیا ؎
اے خوشا چشمے کہ آں گریان اوست
وے…
Read the full tafseer →فَتَلَقّٰٓی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِط اِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
(پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب کی طرف سے چند کلمات، تو اس نے اس کی توبہ قبول کی، کیونکہ وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے) (البقرۃ۔ 37)
تلقی کا معنی اور مفہوم
تلقٰیکامعنی ہے ” سیکھ لینا یا پالینا “ اسی کے فعل متعدی کا معنی ہوتا ہے ” سکھانا “۔ تو اس کا معنی ہوگا کہ آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے۔ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ یہ کلمات اللہ نے سکھائے۔ حالانکہ امر واقعہ یہی ہے کہ یہ کلمات اللہ نے عطا فرمائے اور سکھائے۔ تو کلام کی یہ تعبیر یقینا اپنے اندر کوئی معنویت اور حکمت رکھتی ہے۔ حقیقت تو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کا سنبھلنا اور اپنے رب سے معافی کا خواستگار ہونا اور رب کریم کا انہیں معاف فرما دینا۔
جب آدم (علیہ السلام) کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو نہ صرف وہ اپنے رب کے حضور معافی کے خوستگار ہوئے بلکہ معافی کا طریقہ، انداز اور الفاظ کی درخواست بھی کر رہے تھے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی خطا کو اپنے بےپایاں کرم سے معاف کر دے۔ اس مقام پر تینوں بڑی مخلوقات کی فطرت کا فرق نمایاں ہوتا ہے۔ ملائکہ نے معمولی لغزش پر لفظ ” سبحان “ کے ذریعے معذرت کی اور انہیں اسی طرح تقرب حاصل رہا۔ شیطان اپنے جرم پر ڈٹا رہا تو ہمیشہ کے لیے پھٹکار کا مستحق اور راندۂ درگاہ ہوا۔ آدم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ : (آدم ( علیہ السلام) نے سیکھ لیے اپنے رب سے چند کلمے) ان کلمات کو قبول کیا حرز جان بنایا۔ اور ان پر عمل کیا۔
نحو : اٰدم منصوب کلمات مرفوع عندالم کی، یعنی ان کلمات نے آدم ( علیہ السلام) کا استقبال کیا۔ یعنی اس تک پہنچ گئے۔ اور اس سے مل گئے اور وہ کلمات سورة الاعراف آیت نمبر 23 میں مذکور ہیں۔ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ اس میں ان کی اولاد کو نصیحت کردی کہ انہوں نے گناہوں سے ہٹنے کا راستہ معلوم کرلیا۔
محبوب کلام :
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ کو محبوب…
Read the full tafseer →37۔ (آیت)” فتلقی “۔ تلقی کے معنی پوری فہم و دانش کے ساتھ قبول کرنا اور کہا گیا کہ تلقی کے معنی تعلم کے ہیں (یعنی سیکھنا (آیت)” آدم من ربہ کلمات “ عاصم کی قرآت آدم میم کی پیش کے ساتھ اور کلمات کا لفظ ت کی زیر کے ساتھ اور ابن کثیر نے آدم میم کی زبر کے ساتھ پڑھا اور کلمات کو ت کی پیش کے ساتھ پڑھا ۔
یعنی آدم (علیہ السلام) کے پاس اس کے رب کے پاس سے کچھ کلمات آئے جو ان کی توبہ کا سبب بنے ۔
(کلمات کیا تھے)
جو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سیکھے ، ان کلمات میں انہوں نے اختلاف کیا ، حضرت سعید بن جبیر ؓ حضرت مجاہد (رح) حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں کلمات سے مراد یہ قول ہے (آیت)” ربنا ظلمنا انفسنا “۔…
Read the full tafseer →اکثر سلف کے نزدیک وہ کلمات یہ تھے { رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ } 3 توبہ کا وقت زیست کی نا امیدی سے پہلے ہے۔ توبہ میں تین باتیں ضروری ہیں۔ ایک تو جو گناہ ہوگیا ہے اس پر سچے دل سے نادم اور پشیمان ہونا۔ دوسرے توبہ کے وقت دل میں خوب یہ ٹھان لینا کہ آئندہ گناہ سے باز رہوں گا۔ تیسرے توبہ کے بعد دل میں گناہ سے ایک نفرت کا پیدا ہوجانا۔
Read the full tafseer →آیت 37
آدم ( علیہ السلام) نے (کچھ کلمات) سیکھ لیے اور یاد کرلیے، اللہ تعالیٰ نے یہ کلمات آدم کو الہام کئے تھے۔ وہ کلمات یہ تھے (آیت) ربنا ظلمنا انفسنا۔۔ الخ (الاعراف 23) ” اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ “ آدم ( علیہ السلام) نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کا سوال کیا۔ (آیت) فَتَابَ عَلَيْهِ ۭ اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ) پس اللہ تعالیٰ نے آدم ( علیہ السلام) کی توبہ قبول کرلی اور اس پر رحم فرمایا جو کوئی توبہ کرتا اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
قول باری ہے : وامنوا بما انزلت مصدقاً لما معکم ولاتکونوا اول کافر بہ (اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لائو۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جائو) ایک قول کے مطابق قول باری : ولاتکونوا اول کافربہ کا فائدہ یہ ہے کہ اگرچہ سب سے پہلے اور سب سے آخر دونوں سے کفر کا صدور قبیح ہے اور سب کو اس سے روکا گیا ہے، تاہم کفر کے اندر سابق شخص کی پیروی دوسرے لوگ کریں گے جس کی بنا پر اس کا جرم اور گناہ دوسروں کے جرم اور گناہ سے بڑھ کر ہوگا۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ولیحملن اثقالھم و اتقا لا مع اثقالھم (اور یہ لوگ ضرور اپنے گناہوں کا بوجھ…
Read the full tafseer →115 آدم کے کلمات توبہ سے مراد ؟ : سو حضرت آدم کو کلمات توبہ کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی تاکہ وہ انکے ذریعے رب کی طرف رجوع کرسکیں، سو یہ اس وحدہ لا شریک نے اپنی شان کرم اور اپنی اس رحمت و عنایت کی بناء پر جو کہ اس کو اپنے بندوں سے ہے، حضرت آدم کو القاء والہام فرمادیئے تھے، تاکہ حضرت آدم ان پاکیزہ کلمات کے ذریعے اس کے حضور توبہ اور معافی کی درخواست پیش کرسکیں، چناچہ آدم نے ایسے ہی کیا، جس پر رحمت خداوندی نے ان کو پھر اپنی آغوش میں لے لیا، جیسا کہ { َتَابَ عَلَیْہ } کی تصریح سے ظاہر ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ وہ کلمات کونسے اور کیا تھے ؟ تو سورة اعراف کی تیئسویں آیت کریمہ میں خود حضرت حق جل مجدہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آدم کی لغزش اور وحی کی ضرورت
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد حضرت حوا کو پیدا کیا گیا یہ واضح کرکے قرآن میں نہیں بتایا گیا مفسرین کا خیال ہے اور قرین قیاس بھی یہی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی تنہائی اور اداسی کو دور کرنے کے لئے اور ویسے بھی ہر چیز جوڑوں میں ہی ہوتی ہے جنت میں تمام نعمتیں تھیں بیوی کی نعمت بھی ان کو عطا کردی گئی، اللہ نے ان دونوں کو جنت میں ٹھکانہ دیا ظاہر ہے یہ عارضی ٹھکانہ تھا اور پھر بندے کو بتانا تھا کہ یہ بھی تیری میراث ہے مگر فی الحال تم یہاں رہو کھاؤ پیؤ اور اس درخت کے قریب مت جانا۔ معلوم ہوا کہ انسان کی آزمائش شروع سے ہے۔ فرمایا کہ ” اگر تم اس درخت کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–39
آیات 30- 39
اسرارو معارف
یہاں تک دعوت الی اللہ اور عبادت کا ضروری ہونا بطور شکر کے اور اس درجہ میں کہ اللہ کا حق ہے بندے پر ارشاد ہوا پھر اس کے نتائج اور نافرمانی کی سزا کا ذکر اس انداز میں تھا کہ اللہ تمہارا رب ہے خالق ہے مگر یہاں سے اسی دعوت پر دوسری دلیل شروع فرمائی اور ایک اور طرح سے دعوت فکر دی ہے کہ ابتدائے نوع انسان کو دیکھو ، اللہ نے پیدائشی طور پر اسے کیا فضیلت بخشی اور کس طرح سے شیطان اس کے خلاف ہوا۔ اب اگر تم اللہ کی اطاعت نہ کرو گے تو یقینا تم اس کے پیچھے چلو گے کہ دوسری راہ اسی کی ہے جو بحیثیت انسان بھی تھیں کسی طرح زیب نہیں دیتا۔
انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے :
سو یہاں حضرت آدم…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ یہ کلمات وہی ہی جن کا ذکر سورة اعراف (آیت :23) میں ہے یعنی ربنا ظلمنا بعض تابعین نے کچھ ادعیہ ماثورہ بھی نقل کی ہیں اور ثلقی کے معنی بذریعہ وحی یا الہام اخذ کرلینے کے ہیں۔7 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کی تو بہ قبول فرمائی۔ خالص توبہ کے لیے تین امور شرط ہیں علم، حال اور عمل، گناہ کے ضرر کے احساس کو علم کہا جاتا ہے اور اس احساس کے بعد دل میں نو ندامت پیدا ہوتی ہے اسے حال کہتے ہیں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کہلا تا ہے اس جملہ معلوم ہو کہ گناہ کے اثرات لازمی اور طبعی نہیں جن کی لا محلا لہ سزا مل کر رہے گی کسی چیز کے مؤثر ہونے کا مدار اللہ تعالیٰ کے اختیار اور مشیت پر ہے۔ انسان کے تو بہ…
Read the full tafseer →فتلقی۔محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے۔ تلقی باب تفعل اور التقی (باب افتعال) الشیء منہ بمعنی اخذہ منہ۔ پانا ، وصول کرنا۔ جب بہشت سے نکل جانے کا حکم ہوا ۔ تو حضرت آدم (علیہ السلام) فرط ندامت سے مدت مدید و عرصہ بعید تک روئے اور اتنا روئے کہ رحمت خداوندی کو ترس آگیا۔ یا رحمت خداوندی جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر کلمات القار کئے جو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اخذ کر لئے، اور ان پر عمل کرتے ہوئے توبہ کی وہ کلمات کون سے تھے ؟ جمہور کا خیال ہے کہ وہ کلمات یہ تھے۔ ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین ۔ (7:23) اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
لغات القرآن : آیت نمبر 37 تا 39
(تلقی): اس نے سیکھ لیا۔ (کلمت): (کلمۃ ) کلمات، الفاظ۔ (تاب علیہ ): وہ اس پر متوجہ ہوا (اس نے اس کی توبہ قبول کرلی) ۔ (التواب): بہت توبہ قبول کرنے والا۔ (یاتینکم ): تمہارے پاس آئے گا۔ (تبع): جس نے اتباع کی (جو پیچھے چلا) ۔ (لا یحزنون): وہ رنجیدہ نہ ہوں گے۔ (کذبوا): انہوں نے جھٹلایا۔ (ایاتنا): ہماری نشانیاں۔ (اصحب النار) : (جہنم والے (صاحب کی جمع ہے، ساتھی) ۔ (خلدون ): ہمیشہ رہنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 39
اس واقعہ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو چند ایسے کلمات سکھا دئیے جن کو ادا کرنے کے ساتھ ہی ان کی توبہ قبول کرلی گئی۔ حضرت ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
حضرت آدم (علیہ السلام) نے زمین میں آنے کے بعد تین سو برس تک شرم کے مارے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو تمام اہل زمین کے آنسؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن)
وسیلہ نام مصطفیٰ ﷺ
طبرانی و حاکم و ابونعیم و بیہقی نے حضرت علی المرتضی ؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے۔ اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا تھا " لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " میں سمجھا تھا کہ بارگاہ الہی میں وہ رتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حاصل ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →[32] توبہ کے معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ نافرمانی سے باز آگیا اور اطاعت کی طرف پلٹ آیا اور اللہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار بندے کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
گناہ عارضی ہے :
(ف 2) : آدم (علیہ السلام) اجتہادی لغزش کی بنا پر جنت سے الگ کردیئے گئے اور انہیں کہہ دیا گیا کہ تم میں اور شیطان میں باہمی عداوت ہے ، اس لئے کچھ ومدت تک زمین پر رہو ‘ وہاں دونوں کا صحیح طور پر مقابلہ رہے گا ، پھر اگر تم وہاں اس کی گرفت سے بچ گئے تو اس اصلی و حقیقی مقام میں آجاؤ گے ، ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو شیطان کا ہوا ہے ۔
آدم (علیہ السلام) کو عارضی طور پر اس لئے بھی زمین پر اتارا گیا ، تاکہ وہ شیطان کی تمام گھاتوں سے واقف ہوجائے اور پھر کبھی اس کی گرفت میں نہ آئے اور مقابلہ سے اس میں روحانیت کی ایک خاص کیفیت پیدا ہوجائے جو اس کو بارگاہ قدس کے قریب ہونے کے لائق بنا…
Read the full tafseer →ف 2۔ اس واقعہ کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے چند کلمات حاصل کرلئے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کو در گذر فرمادیا ۔ بیشک وہ بڑی توبہ قبول کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ ( تیسیر)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو اس واقعہ پر بڑی ندامت اور پشیمانی ہوئی اور چاہتے ہوں گے کہ معافی طلب کروں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ حالت دیکھ کر ان کی رہنمائی فرمائی اور خود ہی ان کی معافی نامہ کے الفاظ سکھا دیئے۔
حضرت انس ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ جو کلمات حضرت آدم (علیہ السلام) نے حاصل کئے تھے وہ یہ تھے لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک عملت سوء ا وظلمت نفسی فارحمنی انک انت ارحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ف 2۔ یعنی وہاں بھی جاکر دوام نہ ملے گا بعد چندے وہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →بھول کا اعتراف اور وحی الٰہی کی راہنمائی :
85: ا جس وقت آدم (علیہ السلام) وہاں سے نکال دیئے گئے تو انہیں ایک دائمی قانون کی طرف متوجہ کردیا گیا اور وہ دستور العمل یہ تھا کہ دنیا دارالعمل ہے کوئی شخص یہاں تعطل و بیکاری کی زندگی بسر کرنے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا بلکہ ہر ایک کو محنت و مشقت کرنی پڑے گی۔ اسی سے وہ کمالات و فضائل حاصل کرے گا اسی پر اس کی فلاح و کامرانی کا دارومدار ہوگا۔ جہاں اس نے عیش و آرام کا خیال کیا تباہ و برباد ہوگیا اور جب تک اپنی حالت کے بدلنے کی خود کوشش نہ کرے گا اس کی حالت کبھی نہیں بدلے گی ، کامیابی انہیں کو نصیب ہوگی جو اس کو حاصل کرنے کی سرتوڑ کوشش کریں گے اور پھر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
A question arises here as to how Satan got into Paradise for seducing Adam and Hawwa (علیہما السلام) when he had already been expelled from there for refusing to prostrate himself. There are many possible ways in which he can have played his trick. Possibly he never met them, but planted the suggestion in their minds from afar - a thing which Satan can always do, and of which we have a specimen in the work of the hypnotists. It is equally possible that Satan, being one of the jinns whom Allah has given certain unusual powers denied to man, assumed the shape of a snake or of something else,…
Read the full tafseer →51. This means that when Adam became conscious of his act of sin and wanted to return from his state of disobedience to that of obedience, and when he tried to seek remission for his sin from God, he was unable to find the words to use in his prayer to God. In His Mercy God taught him the words with which he could pray.
The word tawbah basically denotes 'to come back, to turn towards someone'. Tawbah, on the part of man, signifies that he has given up his attitude of disobedience and has returned to submission and obedience to God. The same word used in respect of God means that He has…
Read the full tafseer →