Explained with ayahs 35–36
اعزاز آدم ؑ
حضرت آدم ؑ کی یہ اور بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فرشتوں سے سجدہ کرانے کے بعد انہیں جنت میں رکھا اور ہر چیز کی رخصت دے دی ابن مردویہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا حضرت آدم نبی تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! نبی بھی، رسول بھی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے آمنے سامنے بات چیت کی اور انہیں فرمایا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ عام مفسرین کا بیان ہے کہ آسمانی جنت میں انہیں بسایا گیا تھا لیکن معتزلہ اور قدریہ کہتے ہیں کہ یہ جنت زمین پر تھی۔ سورة اعراف میں اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس عبارت قرآنی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 48
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین، یعنی اپنی جائے تقرّر پر خلیفہ کی حیثیت سے بھیجے جانے سے پہلے ان دونوں کو امتحان کی غرض سے جنت میں رکھا گیا تھا تاکہ ان کے رحجانات کی آزمائش ہوجائے۔ اس آزمائش کے لیے ایک درخت کو چُن لیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اس کے قریب نہ پھٹکنا، اور اس کا انجام بھی بتادیا گیا کہ ایسا کرو گے تو ہماری نگاہ میں ظالم قرار پاؤ گے۔ یہ بحث غیر ضروری ہے کہ وہ درخت کونسا تھا اور اس میں کیا خاص بات تھی کہ اس سے منع کیا گیا۔ منع کرنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ اس درخت کی خاصیّت میں کوئی خرابی تھی اور اس سے آدم و حوّا کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ اصل غرض اس بات کی آزمائش تھی کہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم رہا کرو تم اور تمہاری بی بی (جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے آدم ؑ کی پسلی سے کوئی مادہ لے کر بنادیا تھا) بہشت میں پھر کھاؤ دونوں اس میں سے بافراغت جس جگہ سے چاہو اور نزدیک نہ جائیو اس درخت کے ورنہ تم بھی انہی میں شمار ہوجاؤ گے جو اپنا نقصان کر بیٹھے ہیں (خدا جانے وہ کیا درخت تھا مگر اس کے کھانے سے منع فرما دیا اور پھر آقا کو اختیار ہے کہ اپنے گھر کی چیزوں سے غلام کو جس چیز کے برتنے کی چاہے اجازت دیدے اور جس چیز کو چاہے منع کردے) پس لغزش دے دیآدم وحوا کو شیطان نے اس درخت کی وجہ سے سو برطرف کرکے رہا ان کو اس عیش سے جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کہ…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ: شجرہ پر الف لام داخل ہے جس سے یہ بات تو واضح ہے کہ جہاں تک آدم اور حوا علیہما السلام کا تعلق ہے، ان کو یہ درخت تعین اور تخصیص کے ساتھ بتا دیا گیا تھا۔ رہا یہ سوال کہ یہ درخت کس چیز کا تھا؟ تو اس سوال کا جواب نہ تو قرآن مجید نے دیا ہے اور نہ کسی صحیح حدیث ہی میں اس کا جواب موجود ہے اس وجہ سے اس کو معلوم کرنے کی کوشش ایک لاحاصل کوشش ہے۔ ہمارے نزدیک اس بارے میں صحیح مسلک امام ابن جریر کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ“ہم تعین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ درخت کس چیز کا تھا کیونکہ اس کے تعین کے لئے کوئی دلیل نہ تو ہمیں قرآن ہی میں ملتی ہے اور نہ حدیث ہی میں، پھر آخر…
Read the full tafseer →35۔ 1 یہ حضرت آدم ؑ کی تیسری فضیلت ہے جو جنت کو ان کا مسکن بنا کر عطا کی گئی۔
35۔ 2 یہ درخت کس چیز کا تھا ؟ اس کی بابت قرآن و حدیث میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔ اس کو گندم کا درخت مشہور کردیا گیا ہے جو بےاصل بات ہے ہمیں اس کا نام معلوم کرنے کی ضرورت ہے نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے۔
Read the full tafseer →33: یہ کونسا درخت تھا ؟ قرآن کریم نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی نہ اس کے جاننے کی ضرورت ہے اتنا جان لینا کافی ہے کہ جنت کے درختوں میں ایک درخت ایسا تھا جس کا پھل کھانے سے انہیں روک دیا گیا تھا، بعض روایات میں ہے کہ یہ گندم کا درخت تھا بعض میں انگور کا ذکر ہے مگر کوئی روایت ایسی نہیں جس پر پورا بھروسہ کیا جاسکے۔
Read the full tafseer →اس تقریب کے بعد اب ہمارے سامنے میدان کارزار ہے جس میں خلیفہ شر ‘ ابلیس ‘ اور خلیفہ خدا انسان ہے اور دونوں کے درمیان مسلسل جنگ ہورہی ہے ۔ یہ جنگ درحقیقت انسانی ضمیر اور اس کے دل و دماغ کے میدانوں میں لڑی جارہی ہے اور اس میں وہی انسان کامیاب ہوتے ہیں جو پختہ ارادے کے مالک ہوتے ہیں ۔ وہی سرخرو ہوتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں ۔ جوں جوں انسان اپنی خواہشات نفس کا بندہ بنتا چلا جاتا ہے اللہ تعالیٰ سے دورہوتا جاتا ہے۔ شر کی قوتوں کو پیش قدمی حاصل ہوتی جاتی ہے۔
وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلا…
Read the full tafseer →7 مشہور ہے کہ وہ درخت گیہوں کا تھا یا بقول بعض انگور یا انجیر، یا ترنج وغیرہ کا واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 35 وَقُلْنَا یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جنت کون سی ہے ؟ اکثر حضرات کے نزدیک یہ جنت کہیں آسمان ہی میں تھی اور آسمان ہی میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی۔ البتہ یہ سب مانتے ہیں کہ یہ وہ جنت الفردوس نہیں تھی جس میں جانے کے بعد نکلنے کا کوئی سوال نہیں۔ اس جنت میں تو آخرت میں لوگوں کو جا کر داخل ہونا ہے اور اس میں داخلے کے بعد پھر وہاں سے نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے ‘ اور میرا رجحان اسی رائے کی طرف ہے ‘ کہ تخلیق آدم علیہ السلام اسی زمین پر ہوئی ہے۔ وہ تخلیق جن مراحل سے گزری وہ اس وقت ہمارا موضوع بحث نہیں ہے۔ بائیولوجی اور وحی…
Read the full tafseer →48 آدم (علیہ السلام) اور نظریہ ارتقاء :۔ واضح رہے کہ آدم (علیہ السلام) سلسلہ ارتقاء کی کڑی نہیں جیسا کہ آج کل ڈارون کا نظریہ ارتقاء کالجوں وغیرہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ انسان بندر کی اولاد یا اس کا چچیرا بھائی ہے۔ جب کہ آدم (علیہ السلام) کا پتلا اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا (38 : 75) پھر اس میں اپنی روح میں سے پھونکا (15 : 19، 38 : 72) اسی نفخ روح سے انسان میں فہم، قوت ارادہ و اختیار وتمیز و استنباط پیدا ہوئی، جو دوسری کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔
49 حوا کی پیدائش پر ایک اعتراض اور اس کا جواب :۔ سیدہ حوا جنہیں سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ بعض مساوات مرد و زن کو شریعت…
Read the full tafseer →129 ۔ (آیت) ” جنۃ “ لفظی معنی ہر اس باغ کے ہیں جس کے درخت زمین کو چھپا لیں۔ کل بستان ذی شجر یستر باشجارہ الارض (راغب) (آیت) ” الجنۃ “ سے اصطلاح شرعی میں مراد وہ عظیم الشان باغ ہے جو بیشمار نعمتیں لیے ہوئے عالم آخرت میں نیک کاروں کے لیے مخصوص ہے اور آج نظروں سے مستور ہے، اس کا نام جنت یا تو اس لیے پڑا کہ وہ دنیا کے باغوں سے مشابہ ہے۔ گومشابہت بہت دور کی سہی۔ اور یا اس لیے کہ اس کی نعمتیں ابھی مستور ہیں۔ سمیت الجنۃ اما تشبیھا بالجنۃ فی الارض وان کان بینھما بون واما السترہ نعمھا عنا (راغب) (آیت) ” انت “ اس صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب اصلی حضرت آدم (علیہ السلام) تھے۔ حضرت حوا کی حیثیت تابع کی…
Read the full tafseer →اُسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ ، لفظ انت کی صراحت سے معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب اصلی حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام تھے، حضرت حواء کی حیثیت تابع کی تھی، مذکورہ آیت میں حضرت آدم و حوا (علیہما السلام) دونوں کے لئے جنت کو مسکن بنانے کا ارشاد ہے جس کو مختصر لفظوں میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے، اُسْکُنَا الجنةَ یعنی دونوں جنت میں رہو جیسا کہ : وَکُلَا، اور لَا تَقْرَبَا، میں دونوں کو ایک صیغہ میں جمع کیا گیا ہے مگر یہاں اس کے خلاف اَنْتَ وَزَوْجُکَ ، کے الفاظ اختیار کرنے میں مخاطب صرف حضرت آدم علیہ الصلوٰة والسلام کو قرار دیا ہے اور انہی سے فرمایا کہ تمہاری زوجہ بھی جنت میں رہیں اس میں دو مسئلوں کی طرف اشارہ…
Read the full tafseer →وَ قُلْنَا یَآ اٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ ( اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں بسو) بغوی نے فرمایا ہے کہ جنت میں حضرت آدم ( علیہ السلام) کا کوئی ہم جنس نہ تھا ( اس لیے اکثر ان کی طبیعت ہم جنس نہ ہونے کے سبب گھبرایا کرتی تھی) ایک دن وہ سو رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بائیں جانب سے حضرت حوّ ا کو پیدا کیا جب سو کر اٹھے تو دیکھا کہ سر کے قریب ایک خوبصورت عورت بیٹھی ہوئی ہے حضرت آدم ( علیہ السلام) نے پوچھا تو کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں حوا آپ کی بیوی ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لیے پیدا کیا ہے کہ آپ کو میری وجہ سے آرام ہو اور مجھے آپ کی وجہ سے چین ہو۔ اللہ…
Read the full tafseer →(35) اس کے بعد اللہ تعالیٰ آدم ؑ اور حوا (علیہا السلام) کا قصہ خاص بیان کرتے ہیں کہ تم آدم ؑ اور حوا (علیہا السلام) جنت میں جاؤ تمہارے لیے وہاں بہت فراخی ہے اور جہاں تمہارا دل چاہے پھرو، باقی اس درخت میں سے مت کھانا ورنہ تم اپنے نفسوں کو نقصان پہنچانے ہوجاؤگے۔
Read the full tafseer →اس آیت میں آدم ؑ کی تیسری فضیلت کا بیان ہے کہ فرشتوں سے سجدہ کروانے کے بعد انھیں جنت کی سکونت عطا فرمائی۔ آیت کا ظاہر یہ ہے کہ حوا [ اس وقت پیدا ہوچکی تھیں، ان کی پیدائش کے متعلق تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نساء (1) اور سورة اعراف (189)۔
یہ کون سا درخت تھا ؟ اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا، نہ نبی کریم ﷺ نے بتایا، اگر اس کی ضرورت ہوتی، یا اس سے کوئی فائدہ ہوتا تو ضرور بتادیا جاتا۔ بعض مفسرین نے گندم یا انگور یا انجیر وغیرہ کا نام لیا ہے، مگر یہ سب اقوال بلا دلیل ہیں۔
وَلَا تَـقْرَبَا اس درخت کے کھانے سے بچنے کے لیے اس کے قریب جانے سے بھی منع فرما دیا۔ اس سے شریعت کا قاعدہ سد ذرائع ثابت ہوتا ہے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 35
اس میں تیرہ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقلنا یادم اسکن اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اس کے کفر کرنے کے وقت اپنی بارگاہ سے نکال دیا اور اسے جنت سے دور کردیا اور اس کو نکالنے کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) سے فرمایا (اسکن) یعنی ٹھہرو اور جنت کو مسکن بناؤ۔ سکن الیہ یسکن سکون (کسی کے پاس ٹھہرنا) السکن آگ کو بھی کہتے ہیں۔ شاعر نے کہا :
قد قومت بسکن وادھان
آگ اور تیل لگانے کے ساتھ سیدھے کئے گئے۔
اور السکن ہر وہ چیز جس کی طرف سکون حاصل کیا جائے، السکین چھری کو کہتے ہیں اور چھری کو سکین کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہر مذبوح کی حرکت کو ساکن کردیتی ہے،…
Read the full tafseer →(1) امام طبرانی، ابن ابی شیبہ، ابو الشیخ نے العظمہ میں ابن مردویہ نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے بتائیے کیا آدم (علیہ السلام) انبیاء میں سے تھے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! نبی (اور) رسول تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے بالمشابہ بات کی، اور ان سے فرمایا لفظ آیت ” یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ “ (اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہے) ۔
(2) امام ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! انبیاء میں سے پہلے کون تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) ۔ میں نے عرض کیا کیا وہ نبی تھے ؟ آپ آپ نے فرمایا ہاں جو (اللہ تعالیٰ سے براہ راست)…
Read the full tafseer →[ وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [ يٰٓاٰدَمُ : اے آدم ] [ اسْكُنْ : سکونت اختیار کرو ] [ اَنْتَ وَزَوْجُكَ : تم اور تمہاری زوجہ ] [ الْجَنَّةَ : اس جنت میں ] [ وَكُلَا : اور تم دونوں کھاؤ ] [ مِنْهَا : اس میں سے ] [ رَغَدًا : جی بھر کے ] [ حَيْثُ شِـئْتُمَـا ۠ : جہاں سے تم دونوں چاہو ] [ وَلَا تَـقْرَبَا : اور تم دونوں نزدیک مت جانا ] [ ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ : اس درخت کے ] [ فَتَكُوْنَا : ورنہ تم دونوں ہوجاؤ گے ] [ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم اور ایک خاص درخت سے بچنے کی ہدایت
اس آیت شریف میں یہ فرمایا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم دیا اور خوب بافراغت اچھی طرح کھانے کا کھلا اختیار دے دیا۔ لیکن خاص ایک درخت کے بارے میں فرمایا کہ اس کے پاس نہ پھٹکنا۔ مقصد تو یہ تھا کہ اس میں سے مت کھانا لیکن بطور مبالغہ اچھی طرح اہتمام کے ساتھ اس سے بچنے کے لیے یہ فرمایا کہ اس کے پاس بھی نہ جانا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اگر تم نے اس میں سے کھالیا تو ظالموں میں شمار ہوجاؤ گے۔ اس سے دو طرح کا ظلم مراد ہوسکتا ہے۔ اوّل تو یہ کہ اس کے کھانے سے جو ممانعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس ابی واستکبر وکان من الکفرین۔ اور اے بنی آدم تم خاص طور پر اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جس وقت ہم نے تمام فرشتوں کو تمہارے باپ کی تعظیم و تکریم کا ھکم دیا کہ سب مل کر آدم کو سجدہ کرو تاکہ تمہارے باپ کی فضیلت اور فوقیت عملی طور پر علی الاعلان ظاہر ہوجائے بادشاہ جب کسی کو اپنا خلیفہ بناتا تو ارکان دولت کو حکم دیتا ہے کہ اس کو نذریں پیش کریں اور فوج کو سلامی کا حکم دیتا ہے تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ اس خلیفہ کی فرمانبرداری کرنا ہوگی تو سب سجدہ میں گر گئے، بعض روایات میں ہے کہ سب سے پہلے اسرافیل (علیہ السلام) نے سجدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مرتبہ عطاء…
Read the full tafseer →ف 86 ۔ زوجہ سے مراد مائی حوا ہیں جنہیں اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی دلجوئی اور تسکینِ خاطر کے لیے پیدا فرمایا۔ وَكُلَامِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا۔ اور جنت کے پھلوں اور میووں میں سے جہاں سے چاہو فراخی سے کھاؤ۔ وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِهِ الشَّجَرَةَ ۔ قرآن سے صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ حضرت آدم وحوا (علیہما السلام) کو جنت کے ایک مخصوص و متعین درخت سے روکا گیا مگر قرآن یا حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ کونسا درخت تھا اور نہ ہی اس تعیین کی کوئی ضرورت ہے۔ واعلم انہ لیس فی الظاھر ما بدل علی التعیین فلاحاجۃ ایضا الی بیانہ (کبیر ص 456 ج 1) فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ۔ ظالمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
فرشتوں کی سجدہ ریزی : حضرت آدم (علیہ السلام) کو خلافت عطا کرنے پر فرشتوں کو آپ کی فضیلت کا علم ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ
نے فرشتوں سے آدم (علیہ السلام) کی تعظیم کرائی۔ تاکہ ان کی نیابت واضح ہوجائے۔ تو فرشتوں کو حکم ہوا۔ “ واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم ” کہ آدم (علیہ السلام) کے لیے سجدہ کرو “ فسجدو الا ابلیس ” تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔
مفسرین کرام نے اس مسئلہ میں بڑی بحث کی ہے۔ کہ جو سجدہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے آدم (علیہ السلام) کے لیے کرایا ، وہ کس قسم کا سجدہ تھا۔ انتہائی درجے کی حاضری ، تذلل اور تواضح کے ساتھ پیشانی کو زمین پر رکھ دینا سجدہ کہلاتا ہے۔ اور اس کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلاً…
Read the full tafseer →وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّۃَ وَكُلَا مِنْہَا رَغَدًا حَيْثُ شِـئْتُمَـا 0 ۠ وَلَا تَـقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِــمِيْنَ 35
آدم
آدم أبو البشر، قيل : سمّي بذلک لکون جسده من أديم الأرض، وقیل : لسمرةٍ في لونه . يقال : رجل آدم نحو أسمر، وقیل : سمّي بذلک لکونه من عناصر مختلفة وقوی متفرقة، كما قال تعالی: مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشاجٍ نَبْتَلِيهِ [ الإنسان/ 2] . ويقال : جعلت فلاناً أَدَمَة أهلي، أي : خلطته بهم وقیل : سمّي بذلک لما طيّب به من الروح المنفوخ فيه المذکور في قوله تعالی: وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، وجعل له العقل والفهم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ترکیب : واؤ حرف عطف کہ عطف جملہ کا پہلے جملہ پر ہے۔ قلنا فعل ضمیر فاعل یا حرف ندا آدم منادی اسکن فعل ضمیر مستتر اس کی فاعل انت اس کی تاکید تاکہ ضمیر مستتر پر عطف صحیح ہوجاوے و حرف عطف زوجک معطوف برانت الجنۃ مفعول یہ تمام جملہ معطوف علیہ وکلا الخ جملہ معطوف رغدًا صفت ہے مصدر محذوف کی اے اکلاً رغداً اے طیباً ہنیئًا حیث ظرف مکان اور عامل اس میں کلا ہے اور ممکن ہے کہ جنت سے بدل ہو کر مفعول بہ ہوجاوے ولا تقربا فعل نہی انما ضمیر اس کا فاعل ھذہ موصوف الشجرۃ اس کی صفت یہ دونوں مفعول بہ ہیں یعنی منہی عنہما فتکونا جواب نہی ہے اسی لیے نون حالت جری میں گر پڑا۔ تقدیرہ ان تقربا تکون۔
فازلّ مشدد زلت بمعنی…
Read the full tafseer →وَقُلْنَا یٰٓـاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّـۃَ وَکُلاَ مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَاص وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَـکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (البقرۃ : 35)
(اور ہم نے کہا اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس میں سے کھائو جتنا چاہو اور جہاں سے چاہو اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاؤ گے)
اس آیت کریمہ میں تین باتیں نمایاں ہیں۔
1 حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ اور آپ کی زوجہ محترمہ جنت میں سکونت اختیار کریں اور جنت چونکہ ایسی جگہ ہے جس میں محنت سے کوئی چیز حاصل کرنا نہیں پڑتی بلکہ وہاں ہر نعمت کی فراوانی ہے۔ جنت کے باسی کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مسجود ملائکہ بننے کے بعد آدم (علیہ السلام) کے جنت میں قیام و طعام کا انتظام و انصرام اور خاص درخت سے احتیاط کا حکم۔
ارشاد ہوا کہ اے آدم ! تو اور تیری بیوی جنت میں قیام کرو اور اس درخت کے سوا تم جو چاہو کھا پی سکتے ہو۔ ہاں اگر تم اس کے قریب چلے گئے تو ظالموں کی صف میں شامل ہوجاؤ گے۔ 1 جنت میں رکھنے کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ جنت کی سہولتوں، بہاروں اور نعمتوں کو اچھی طرح دیکھ لیں اور ان سے لطف اندوز ہولیں۔ تاکہ دنیا کی عارضی نعمتوں کو جنت کے مقابلے میں خاطر میں نہ لائیں اور دوبارہ یہاں آنے کی کوشش کریں۔ 2 شاید یہ اس لیے بھی موقع دیا…
Read the full tafseer →وَقُلْنَا یٰٓادَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ : (اور ہم نے کہا اے آدم رہ تو اور تیری بیوی جنت میں)
نحو : یہ سکن الدار یسکنھا سکنٰی سے امر ہے۔ جب وہ مکان میں اقامت اختیار کرے۔ کہا جاتا ہے سکن المتحرک سکونا۔ حرکت والے نے سکون وٹھہرائو اختیار کیا۔ انت اسکن کی ضمیر سے تاکید ہے اس لیے لائے تاکہ عطف فعل کا وزوجک پر صحیح ہوجائے۔
جنت کی تحقیق :
الجنۃ : وہ جنت خلدہی تھی جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا۔ جیسا نقل مشہور میں ہے۔ الف لام تعریف کا ہے۔
معتزلہ کا قول :
یہ یمن کا ایک باغ تھا۔ کیونکہ جنت میں تکلیف نہیں اور نہ اس سے نکلنا ہے۔
جواب معتزلہ : جنت سے وہ نہیں نکلے گا جو جزاء کے طور پر داخل ہوا…
Read the full tafseer →35۔ (آیت)” وقلنا یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ “ اور یہ اس لیے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت میں کسی ایسے شخص کے ساتھ نہ تھے جس سے میل ملاپ کرتے ، پس سوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بیوی حواء کو بائیں جانب کی چھوٹی پسلی سے پیدا کیا اور اس کا نام حواء اس لیے رکھا گیا کہ وہ زندہ سے پیدا کی گئی ، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس طرح پیدا کیا کہ آدم (علیہ السلام) کو احساس تک نہ ہوا اور نہ ان کو درد ہوا اور اگر حضرت آدم (علیہ السلام) درد پاتے تو کوئی بھی مرد عورت کی طرف ہرگز مائل نہ ہوتا ۔
جب آدم (علیہ السلام) نیند سے جاگے تو حضرت حواء کو سر کی جانب بہت ہی خوبصورت شکل میں جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35 ۔ 36): ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے جنت میں جانے سے پہلے حوا پیدا ہوئی ہیں اور پھر دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس عبد اللہ بن مسعود اور صحابہ کی ایک جماعت کا قول ہے کہ پہلے تن تنہا حضرت آدم کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا تھا۔ حضرت آدم جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے سبب سے اکثر گھبرایا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت آدم سو رہے تھے تو ان کی نیند کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا کو حضرت آدم کی بائیں پسلی سے پیدا کردیا 2۔ اور ان دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم دیا۔ بخاری مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پسلی کی ہڈی سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت 35-36
(آیت) ’ وَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَامِنْهَا رَغَدًا) ’ اور ہم نے کہا، اے آدم ! رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ تم اس سے خوب سیر ہو کر۔ “ جب اللہ تعالیٰ نے آدم ( علیہ السلام) کو تخلیق کیا، اس کو فضیلت عطا کی، تو خود اسی میں سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے اس پر اپنی نعمت کا اتمام کردیا تاکہ وہ اپنی بیوی کے پاس سکون، راحت اور انس حاصل کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ جنت میں رہیں اور جنت میں مزے سے بےروک ٹوک کھائیں پئیں۔
(آیت) حَيْثُ شِـئْتُمَـا یعنی جہاں سے چاہو، مختلف اصناف کے پھل اور میوے کھاؤ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ’ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–41
قول باری ہے : وامنوا بما انزلت مصدقاً لما معکم ولاتکونوا اول کافر بہ (اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لائو۔ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جائو) ایک قول کے مطابق قول باری : ولاتکونوا اول کافربہ کا فائدہ یہ ہے کہ اگرچہ سب سے پہلے اور سب سے آخر دونوں سے کفر کا صدور قبیح ہے اور سب کو اس سے روکا گیا ہے، تاہم کفر کے اندر سابق شخص کی پیروی دوسرے لوگ کریں گے جس کی بنا پر اس کا جرم اور گناہ دوسروں کے جرم اور گناہ سے بڑھ کر ہوگا۔ جس طرح یہ قول باری ہے : ولیحملن اثقالھم و اتقا لا مع اثقالھم (اور یہ لوگ ضرور اپنے گناہوں کا بوجھ…
Read the full tafseer →109 آدم و حوا کے لیے جنت کی نعمتوں کی اباحت و اجازت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت آدم و حوا کو جنت کی نعمتوں سے متمتع ہونے کی پوری آزادی : پس تم اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق جہاں سے چاہو کھاؤ پیو اور جیسے چاہو فائدہ اٹھاؤ، نہ کسی محنت کی ضرورت، نہ مشقت کی، نہ ختم ہوجانے کا کوئی ڈر، نہ کسی کمی کا کوئی خطرہ، کہ جنت کی نعمتوں کی شان یہی ہے کہ نہ وہاں کوئی روک ہے نہ ٹوک، اور ان کی شان ہے۔ { لامَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃ } ۔ اور یہ اس لئے کہ جنت اور اس کی یہ نعمتیں اس اکرم الاکرمین کی طرف سے ضیافت و مہمانی ہیں جس کی رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آدم کی لغزش اور وحی کی ضرورت
تشریح : حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد حضرت حوا کو پیدا کیا گیا یہ واضح کرکے قرآن میں نہیں بتایا گیا مفسرین کا خیال ہے اور قرین قیاس بھی یہی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی تنہائی اور اداسی کو دور کرنے کے لئے اور ویسے بھی ہر چیز جوڑوں میں ہی ہوتی ہے جنت میں تمام نعمتیں تھیں بیوی کی نعمت بھی ان کو عطا کردی گئی، اللہ نے ان دونوں کو جنت میں ٹھکانہ دیا ظاہر ہے یہ عارضی ٹھکانہ تھا اور پھر بندے کو بتانا تھا کہ یہ بھی تیری میراث ہے مگر فی الحال تم یہاں رہو کھاؤ پیؤ اور اس درخت کے قریب مت جانا۔ معلوم ہوا کہ انسان کی آزمائش شروع سے ہے۔ فرمایا کہ ” اگر تم اس درخت کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–39
آیات 30- 39
اسرارو معارف
یہاں تک دعوت الی اللہ اور عبادت کا ضروری ہونا بطور شکر کے اور اس درجہ میں کہ اللہ کا حق ہے بندے پر ارشاد ہوا پھر اس کے نتائج اور نافرمانی کی سزا کا ذکر اس انداز میں تھا کہ اللہ تمہارا رب ہے خالق ہے مگر یہاں سے اسی دعوت پر دوسری دلیل شروع فرمائی اور ایک اور طرح سے دعوت فکر دی ہے کہ ابتدائے نوع انسان کو دیکھو ، اللہ نے پیدائشی طور پر اسے کیا فضیلت بخشی اور کس طرح سے شیطان اس کے خلاف ہوا۔ اب اگر تم اللہ کی اطاعت نہ کرو گے تو یقینا تم اس کے پیچھے چلو گے کہ دوسری راہ اسی کی ہے جو بحیثیت انسان بھی تھیں کسی طرح زیب نہیں دیتا۔
انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے :
سو یہاں حضرت آدم…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ اس آیت میں آدم (علیہ السلام) کی تیسری فضیلت کا بیان ہے کہ فرشتوں سے سجدہ کروانے کے بعد انہیں جنت میں سکونت کی اجازت دی بعض نے اس جنت سے زمین پر کوئی باغ مراد لیا ہے مگر صحیح یہ ہے یہ جنت آسمان پر تھی پھر جس درخت کے قریب جا نے سے آدم کو منع فرمایا ہے اس کی تعبین میں اختلاف ہے حافظ ابن کثیر مختلف اقوال نقل کرنے بعد لکھتے ہیں قرآن نے اس کے نام یا خاصیت کی کوئی تصریح نہیں فرمائی اور نہ کسی حدیث سے اس کی تعیین ہوتی ہے پھر نہ اس کے جاننے میں کوئی علمی یا اعتقادی فائدہ پہناں ہے اور نہ اس کے نہ جاننے میں کوئی ضرور ہے لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کی تعبین سے احتراز کیا جائے یہی رائے حافظ ابن القیم اور…
Read the full tafseer →(2:35) اسکن امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر انت ضمیر اسکن کی تاکید کے لئے ہے۔ الجنۃ مفعول فیہ اسکن کا۔ یعنی تو اور تیری بیوی جنت میں رہو۔
انت وزوجک ۔ انت معطوف علیہ۔ د حرف عطف۔ زدجک مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف تو اور تیری بیوی۔
کلا۔ امر کا صیغہ تثنیہ مذکر حاضر ، تم دونوں کھاؤ۔ منھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الجنۃ کے لئے ہے۔
حیث : جہاں ۔ جس جگہ ظرف مکان ہے ۔ مبنی برضمہ۔ مکان مبہم کے لئے آتا ہے جس کی جملہ مابعد سے تشریح ہوتی ہے ۔ سئتما۔ ماضی تثنیہ مذکر حاضر، مشیئۃ (باب سمع) مصدر سے شائ، یشائ۔ شاء اصل میں شیء تھا۔ ی متحرک ماقبل مفتوح اس لئے ی کو الف سے بدل دیا گیا۔ تم دونوں نے چاہا۔ حیث شئتما جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 36
(اسکن): تو آباد ہوجا۔ (زوج): بیوی۔ (کلا): تم دونوں کھاؤ۔ (رغد): اچھی طرح (بافراغت) ۔ (حیث): جیسے۔ (شئتما): تم دونوں نے چاہا (تم دونوں چاہو) ۔ (لا تقربا): تم دونوں قریب مت جانا۔ (الشجرۃ): درخت۔ (تکونا): تم دونوں ہوجاؤ گے (تم ہوگے) ۔ (الظلمین ): بےانصاف حد سے نکل جانے والے۔ (ازل): اس نے ڈگمگا دیا۔ (اخرج): اس نے نکلوا دیا۔ (اھبطوا): تم اتر جاؤ۔ (بعضکم لبعض): تم میں ایک دوسرے کے لئے۔ (عدو): دشمن۔ (مستقر): ٹھکانا۔ (متاع): سامان (زندگی گزارنے کا سامان) ۔ (حین): وقت، زمانہ، مدت۔
تشریح : آیت نمبر 35 تا 36
دنیا میں بھیجے جانے سے پہلے اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
حضرت آدم کے جنت میں جانے اور حضرت حوا سلام اللہ علیہما کی پیدائش کا ذکر، عورت کی بد مزاجی کا سبب۔
ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے جنت میں جانے سے پہلے حضرت حوا سلام اللہ علیہا پیدا ہوئی ہیں اور پھر دونوں کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا ہے۔ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ ؓ کی ایک جماعت کا یہ قول ہے کہ پہلے تن تنہا حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں رہنے کا حکم ہوا تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جنت میں رہتے تھے مگر تنہائی کے سبب سے اکثر گھبرایا کرتے تھے۔ ایک دن حضرت آدم (علیہ السلام) جب سو رہے تھے تو ان کی نیند کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →[29] ظلم حق تلفی کو کہتے ہیں۔ ظالم وہ ہے جو کسی کا حق تلف کرے۔ اللہ کی نافرمانی سے تین بنیادی حقوق تلف ہوتے ہیں۔ اول اللہ کا حق کیونکہ وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے۔ دوم ان تمام چیزوں کے حقوق جن کو اس نے اس نافرمانی کے ارتکاب میں استعمال کیا۔ چاہے وہ اس کے اپنے اعضاء ہوں یا دوسرے انسان اور اشیاء ان کا اس پر یہ حق تھا کہ وہ صرف اللہ کی ہی مرضی کے مطابق ان کو استعمال کرے مگر جب اس کی مرضی کے خلاف ان کو استعمال کیا تو درحقیقت ان پر ظلم کیا۔ سوم خود اپنا حق کیونکہ اس پر اس کی ذات کا یہ حق ہے کہ اسے تباہی سے بچائے مگر اللہ کی نافرمانی کر کے اپنے آپ کو سزا کا مستحق بناتا ہے تو…
Read the full tafseer →(ف 2) : پہلے انسان کی پہلی جگہ :
قرآن حکیم ، انسانی خلافت ‘ انسانی علم کے بعد پہلے انسان کے لئے جو جگہ تجویز فرماتا ہے ، وہ جنت ہے یعنی رضائے الہی کا آخری مظہر ۔
یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ انسان کی اصلی جگہ جنت ہے فطرت نے پیدا اسے اس لئے کیا ہے کہ وہ بارگارہ رحمت وفیض میں عیش وخلود کی زندگی بسر کرے ، چناچہ ارشاد باری ہے کہ تم یہیں رہو ۔ مگر اس درخت کو استعمال میں نہ لانا ورنہ رحمت باری سے دور ہوجاؤ گے اور تمہیں کچھ عرصے کے لئے اپنے اصلی مقام سے الگ رہنا پڑے گا ۔
یہ قید اس لئے لگا دی تاکہ آدم (علیہ السلام) کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ بعض افعال کے ارتکاب سے ناراض ہوجاتا ہے ، اس کا خیال رہے…
Read the full tafseer →ف 3۔ اور ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو بسو اور جنت کی نعمتوں میں سے جہاں سے چاہو خوب اچھی طرح کھائو ، مگر ہاں دیکھو اس فلاں درخت کے قریب نہ پھٹکنا ورنہ تم دونوں ان لوگوں میں سے ہو جائو گے جو اپنے حق میں ظلم کرنے والے ہیں۔ ( تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد حق تعالیٰ نے ان کی پسلی سے انکی بیوی حوا کو پیدا کیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنی بیوی کے ہمراہ جنت میں رہنے کا حکم دیا گیا اور جنت کی تمام نعمتیں اور وہاں کے پھل ان پر حلال کردیئے گئے ۔ البتہ ایک خاص درخت کے قریب جانے کی ممانعت کردی گئی اور قریب جانے سے مراد اس کے کھانے کی ممانعت…
Read the full tafseer →ف 1۔ خدا جانے وہ کیا درخت تھا۔
Read the full tafseer →آدم (علیہ السلام) کی جنت اول :
82: یہاں دراصل فطرۃ انسانی کی اس کمزوری کو بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار لیتا ہے۔ اور خلق انسانی کا پہلا مرتبہ علم تھا۔ دوسرے مرتبہ میں اس کو بزرگی اور رفعت عطا ہوئی کہ اس عالم دنیا میں جتنی مخلوق ہے ، اس میں سب سے زیادہ شرف اس انسان کو حاصل ہے یعنی وہ اشرف المخلوقات ہے ، پھر تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ اسے راحت و آرام کی زندگی میسر آئے اور یہی اس کی جنت اول ہے۔ پھر غور کرو کہ جب تیسرے مرتبہ یعنی آرام و سکون کی زندگی بسر کرنے کا ذکر آیا تو ساتھ ہی آدم کی بی بی بھی شامل ہوگئیں جس سے اس بات کی تفہیم کرائی گئی کی راحت و آرام کی زندگی اکیلا انسان…
Read the full tafseer →This is a continuation of the story of Adam (علیہ السلام) . When his superiority over the angels and his fitness for the role of vice regent had been announced to the angels and been acknowledged by them, and Iblis had been condemned as an infidel and expelled from Paradise on account of his pride and his defiance of divine authority, Adam and Hawwa حوّا (علیہما السلام) (Eve), his wife, received a command from Allah to live in Paradise and enjoy its blessings. But they were also instructed not to eat the fruit of a particular tree. Now, having been disgraced because of Adam (علیہ السلام) ،…
Read the full tafseer →48. This indicates that before man was sent to earth Moreover, for this kind of test Paradise was the best possible place. What God wanted to impress on man was that the only place that befits man's station is Paradise, and that if man turns from the course of obedience to God as a result of Satanic allurements, he will remain deprived of it in the Next Life even as he was deprived of it once before. The only way he can recover his true status and reclaim the lost Paradise is by resisting effectively the enemy who is alway's trying to drive him off the course of obedience to God.
49. The use…
Read the full tafseer →