کچھ اور دلائل
اوپر کی آیات میں ان دلائل قدرت کا بیان تھا جو خود انسان کے اندر ہیں اب اس مبارک آیت میں ان دلائل کا بیان ہو رہا ہے جو روز مرہ آنکھوں کے سامنے ہیں۔ " استوا " یہاں قصد کرنے اور متوجہ ہونے کے معنی میں ہے اس لئے کہ اس کا صلہ " الی " ہے " سوھن " کے معنی درست کرنے اور ساتوں آسمان بنانے کے ہیں سماء اسم جنس ہے۔ پھر بیان فرمایا کہ اس کا علم محیط کل ہے جیسے ارشاد آیت (اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ) 67۔ الملک :14) وہ بےعلم ہو کیسے سکتا ہے جو خالق ہو ؟ سورة سجدہ کی آیت (ائنکم لتکفرون) گویا اس آیت کی تفصیل ہے جس میں فرمایا ہے کیا تم اس اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟ جس نے زمین کو صرف دو دن میں پیدا…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 34
سات آسمانوں کی حقیقت کیا ہے، اس کا تعیّن مشکل ہے۔ انسان ہر زمانے میں آسمان، یا با لفاظ دیگر ماورائے زمین کے متعلق اپنے مشاہدات یا قیاسات کے مطابق مختلف تصوّرات قائم کرتا رہا ہے، جو برابر بدلتے رہے ہیں۔ لہٰذا ان میں سے کسی تصوّر کو بنیاد قرار دے کر قرآن کے ان الفاظ کا مفہُوم متعین کرنا صحیح نہ ہوگا۔ بس مجملاً اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ یا تو اس سے مراد یہ ہے کہ زمین سے ماوراء جس قدر کائنات ہے، اسے اللہ نے سات محکم طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے، یا یہ کہ زمین اس کائنات کے جس حلقہ میں واقع ہے، وہ سات طبقوں پر مشتمل ہے۔
سورة الْبَقَرَة 35
اس فقرے میں دو اہم حقیقتوں پر متنبّہ فرمایا…
Read the full tafseer →(آیت) ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب یہ اس نعمت عامہ کا ذکر ہے جس میں تمام انسان بلکہ حیوانات وغیرہ بھی شریک ہیں اور لفظ میں ان تمام نعمتوں کا اجمال آگیا جو دنیا میں کسی انسان کو حاصل ہوئیں یا ہوسکتی ہیں کیونکہ انسان کی غذا، لباس، مکان، اور دوا اور راحت کے کل سامان زمین ہی کی پیدوار ہیں،
ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ۭ وَھُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ استواء کے لفظی معنی سیدھا ہونے کے ہیں مراد یہ ہے کہ زمین کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق کا قصد راست…
Read the full tafseer →’استوا ‘ ’ تسویۃ‘ اور ’سماء‘ کا مفہوم: ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰبھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ: استوا کے معنی سیدھے کھڑے ہونے کے ہیں اور الٰی کے ساتھ اس کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ لفظ توجہ کرنے یا اس کے ہم معنی کسی مفہوم پر مشتمل ہے۔ مقصود یہ بتانا ہے کہ زمین کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بنایا۔ محض تصویرِ حال کے لیے یہ اسلوب کلام اختیار کیا گیا ہے۔ یہاں کھڑے ہونے یا متوجہ ہونے کا وہی مفہوم لینا چاہیے جو اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کے شایانِ شان ہے۔
تسویہ کے معنی کسی شے کو برابر کرنے، ہموار کرنے اور اعتدال و توازن کے ساتھ قائم کردینے کے ہیں۔ اس سقف نیلگوں کو جس حد تک ہماری…
Read the full tafseer →29۔ 1 اس سے استدلال کیا ہے کہ زمین کی اشیاء مخلوقہ کے لئے اصل حلت ہے الا یہ کہ کسی چیز کی حرمت قرآن پاک کے واضح احکام سے ثابت ہو (فتح القدیر) (2) بعض سلف امت نے اس کا ترجمہ پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا کیا ہے (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ کا آسمانوں کے اوپر عرش پر چڑھنا اور خاص خاص مواقع پر آسمان دنیا پر نزول اللہ کی صفات میں سے ہے جن پر اسی طرح بغیر دلیل کے ایمان رکھنا ضروری ہے جس طرح قرآن یا احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔
29۔ 3 اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ آسمان ایک حسی وجود اور حقیقت ہے۔ محض بلندی کو آسمان سے تعبیر نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ان کی تعداد سات ہے۔ اور حدیث کے مطابق دو…
Read the full tafseer →26: انسان کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ وہ کائنات کی جتنی چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے سب اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی ہیں، ان میں سے ہر چیز اس کی توحید کی گواہی دے رہی ہے اس کے باوجود اس کے ساتھ کفر کارویہ اختیار کرنا کتنی بڑی ناشکری ہے، اسی آیت سے فقہاء نے یہ اصول بھی مستنبط کیا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اصل میں حلال ہے اور جب تک کسی چیز کی حرمت پر کوئی دلیل نہ ہو اس وقت تک اس کو حلال ہی سمجھا جائے گا۔
Read the full tafseer →اس پہلی چمک کے متصلاً بعد روشنی کی ایک دوسری کرن آتی ہے جو پہلی کے لئے تکمیل کا درجہ رکھتی ہے ۔ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کی ہیں ، پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کئے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے ۔ “ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے بارے میں مفسرین اور متکلمین نے طویل بحثیں کی ہیں ، قبلیت ، وبعدیت اور استوا اور تسویہ اور دوسری کلامی بحثیں یہاں کی جاتی ہیں ۔ لیکن یہ حضرات اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ قبل وبعد ،…
Read the full tafseer →12 اس آیت میں دوسری نعمت بیان فرمائی یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا اور تمہاری بقاء اور انتفاع کے لئے زمین میں ہر طرح کی چیزیں بکثرت پیدا فرمائیں (مطعومات اور مشروبات اور ملبوسات اور ہر چیز کے لئے آلات و سامان) اس کے بعد متعدد آسمان بنائے گئے جس میں تمہارے لئے طرح طرح کے منافع ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 29 ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ق اس آیت میں خلافت کا مضمون شروع ہوگیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے : اِنَّ الدُّنْیَا خُلِقَتْ لَکُمْ وَاَنْتُمْ خُلِقْتُمْ لِلْآخِرَۃِ 4 ”یہ دنیا تمہارے لیے بنائی گئی ہے اور تم آخرت کے لیے بنائے گئے ہو۔“ اگلی آیت میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت ارضی کا ذکر ہے۔ گویا زمین میں جو کچھ بھی پیدا کیا گیا ہے وہ انسان کی خلافت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوّٰٹھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ط
یہ آیت تاحال آیات متشابہات میں سے ہے۔ سات آسمانوں کی کیا حقیقت ہے ‘ ہم ابھی تک پورے طور پر اس سے واقف نہیں ہیں۔
وَھُوَ بِکُلِّ شَیْ…
Read the full tafseer →37 اس آیت سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئی ہیں :
ہر چیز کی اصل اباحت ہے : 1۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی سب اشیاء انسان کی خاطر پیدا کی ہیں۔ لہذا انسان تمام مخلوقات سے اشرف (اشرف المخلوقات) ہوا۔
2۔ اور اسی فقرہ یا حصہ آیت سے یہ بھی نتیجہ نکلا کہ چونکہ انسان زمین کی ہر چیز سے استفادہ کا حق رکھتا ہے۔ لہذا ہر چیز کی اصل اباحت ہے اور حرام وہ چیز ہوگی جس کی شریعت نے وضاحت کردی ہو۔
3۔ زمین کی پیدائش سات آسمانوں کی پیدائش سے پہلے ہوچکی تھی۔
4۔ آسمان کوئی تصوراتی چیز نہیں۔ جیسا کہ آج کل ماہرین ہئیت کا خیال ہے۔ بلکہ ٹھوس حقیقت ہے اور ان کی تعداد سات ہے۔
Read the full tafseer →104 ۔ خطاب عام نوع انسانی سے ہے۔ ان سے ارشاد یہ ہو رہا ہے کہ تم تو خود ہی ساری کائنات ارضی کے مقصود ومطاع ہو۔ پھر یہ کیسی حماقت ہوگی کہ تم کسی اور مخلوق کو مقصود ومطاع بنالو، آیت ہر قسم کے شرک ، ، ہر قسم کی مخلوق پرستی کی جڑ کاٹ دینے کے لیے کافی ہے۔ اس فرش زمینی پر جو کچھ بھی ہے سب انسان ہی کے لیے ہے، نہ یہ کہ انسان کسی اور مخلوق کے لیے ہو، اور مشرک انسان اس فطری اور قدرتی ترتیب کو الٹ دیتا ہے۔ حدیث نبوی کا یہ ٹکڑا جو مسلمان ہر جمعہ کو خطیب کی زبان سے سنتا ہے کہ، ان الدنیا خلقت لکم وانکم خلقتم للاخرۃ (دنیا تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے اور تم پیدا کیے گئے ہو آخرت کے لیے) اسی مفہوم کا ترجمان ہے۔…
Read the full tafseer →ھُوَ الَّذِ یْ خَلَقَ لَکُمْ مَّافِی الْأَ رْضِ جَمِیْعًا : سا بقہ آیات میں انسان کی ذات سے متعلق انعامات و احسانات ذکر کرنے کے بعد اس آیت میں جو انسان کی بقا اور اس کے آرام و راحت کے لئے ضروری ہے، یعنی تم کو پیدا کیا، جو کہ تمام نعمتوں کی اصل ہے، پھر تمہاری بقاء اور انتقاع کے لئے زمین میں ہر طرح کی چیزیں بکثرت پیدا فرمائیں، اس کے بعد متعدد آسمان بنائے، جن میں تمہارے لئے طرح طرح کے منافع ہیں۔
اس آیت میں زمین کی پیدائش پہلے اور آسمانوں کی پیدائش بعد میں ہونا، ثُمَّ ، کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے اور یہی صحیح ہے اور سورة النازعات میں جو یہ ارشاد ہیں : '' وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذَالِکَ دَحَاہَا ''…
Read the full tafseer →ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ (وہی ہے جس نے بنایا تمہارے لیے) پھر متوجہ ہوا آسمان ( بنانے کی طرف) خَلَقَ لَکُمْ یعنی ( جو کچھ زمین میں ہے وہ دنیا و آخرت میں) تمہارے نفع اور فائدہ مند ہونے کے لیے پیدا کیا ہے دنیا میں ( اس کی تمام چیزوں سے سود مند ہونا تو محتاج دلیل نہیں) بواسطہ یا بلاواسطہ ( دنیا کی) سب چیزوں سے انسان منتفع ہوتا ہے۔ رہا آخرت کا نفع سو وہ یہ ہے کہ دنیا و ما فیہا کو دیکھ کر عبرت حاصل کی جاتی ہے۔
مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا (سب کا سب جو کچھ زمین میں ہے) اور اس آیۃ کریمہ میں جو نعمت بیان کی گئی ہے وہ نعم مذکورہ آیت سابقہ پر مرتب ہے ( کیونکہ دنیا کی اشیاء سے منتفع ہونا تو ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →(29) اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا (جو اس کے انسانوں پر ہیں) تذکرہ فرماتے ہیں کہ اس اللہ نے تمہارے لیے مختلف قسم کے جانوروں اور باغوں وغیرہ کو بنایا اور تمہارے تابع کیا پھر آسمان کو پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوا اور سات آسمان برابر زمین کے اوپر بنائے اور وہ ذات الہی آسمانوں اور زمینوں میں سے ہر ایک چیز پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔
Read the full tafseer →یہ انسان کے کفر پر تعجب کے لیے اللہ کے مزید احسانات کا ذکر ہے کہ زمین میں جو کچھ ہے سب اس اکیلے نے پیدا کیا اور تمہارے لیے پیدا کیا، پھر اس نے آسمانوں کو درست کر کے سات آسمان بنائے ایسے محسن سے تم کس طرح کفر کرتے ہو ؟ وہ تو ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، تمہارا کفر بھی اس سے مخفی نہیں، اپنا انجام خود سوچ لو۔
3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ زمین آسمان سے پہلے پیدا کی گئی، یہی بات سورة حم سجدہ کی آیات 9 تا 12 سے ثابت ہوتی ہے، مگر سورة نازعات میں : (وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا) بظاہر اس کے خلاف ہے، تطبیق کے لیے دیکھیے سورة نازعات (30)۔
3 ابن کثیر ؓ نے فرمایا : یہاں ”اسْتَوٰٓى“ کے ضمن میں ارادہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 29
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً (وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب۔ )
مسئلہ نمبر 1: خلق اس کا معنی عدم سے وجود میں لانا ہے۔ کبھی انسان کے لئے خلق بولا جاتا ہے جب وہ کسی چیز کو ایجاد کرے۔ شاعر کا قول ہے :
من کان یخلق ما یقول فحیلتی فیہ قلیلۃ (1)
جو وہ کر گزرتا ہے جو وہ کہتا ہے تو میرا حیلہ اس کے بارے میں کم ہے۔
یہ معنی گزر چکا ہے۔ ابن کیسان نے کہا : خلق لکم کا معنی ہے من اجلکم تمہارے لئے پیدا کیا۔ بعض نے فرمایا : معنی یہ ہے کہ جو کچھ زمین میں ہے تم پر وہ انعام کیا گیا ہے وہ تمہارے لئے ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ توحید اور اعتبار کی…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) و سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا “ سے مراد ہے کہ مسخر کردیا ہے تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے ساری کی ساری (چیزوں کو) یہ اکرام ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت ہے ابن آدم کے لئے۔ سازوسامان ہے (دنیا کا) اور گزارے کی روزی اور نفع بخش چیزیں ہیں ایک مدت تک۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے العظمہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا “ سے مراد ہے کہ مسخر کردیا تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے سارے کا سارا، لفظ آیت ” ثم استوی الی السماء “ یعنی اللہ…
Read the full tafseer →[ ھُوَ الَّذِىْ : وہ ہے جس نے ] [ خَلَقَ : پیدا کیا ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ مَّا فِى الْاَرْضِ : جو کچھ زمین میں ہے ] [ جَمِيْعًا ۤ : کل کا کل ] [ ثُمَّ : پھر ] [ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ : وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف ] [ فَسَوّٰ : تو اس نے ہموار کیے ] [ ىھُنَّ : ان میں سے ] [ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ۭ : سات آسمان ] [ وَھُوَ : اور وہ ] [ بِكُلِّ شَىْءٍ : ہر چیز کو ] [ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →ارض و سماء کی تخلیق کا بیان
اس آیت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اپنی شان خالقیت بیان فرمائی ہے کہ اس نے آسمان و زمین پیدا فرمائے جو مخلوقات میں بڑی چیزیں ہیں اور نظروں کے سامنے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کا بھی تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اس نے تمہیں صرف پیدا کر کے نہیں چھوڑ دیا بلکہ تمہاری حاجت کی چیزیں زمین میں پیدا فرمائیں، زمین میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے لیے ہے شرعی قواعد اور قوانین کے مطابق اس سے نفع حاصل کرسکتے ہو۔ خود زمین انسانوں کے لیے بہت بڑی نعمت اور رحمت ہے اور اس کی سطح پر اور اس کے اندر ان گنت چیزیں ہیں۔ انسان ان سب سے منتفع ہوتے ہیں۔ سورة رحمن میں ہے : (وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا…
Read the full tafseer →ذکر تخلیق سامان حیات جسمانی
قال تعالیٰ ھو الذی خلق لکم ما فی الارض۔۔ الی۔۔ وھو بکل شیئ علیم
حق تعالیٰ نے نعمت حیات کا ذکر فرمایا۔ اب ان آیات میں سامان حیات کا ذکر فرماتے ہیں جس پر حیات اور زندگی کا بقاء موقوف ہے اول حیات جسمانی کے سامان کا ذکر فرمایا یعنی تمہاری اس ظاہری اور جسمانی حیات کے بقاء کے لیے زمین اور آسمان کو پیدا کیا اور پھر زمین سے مطعومات ومشروبات اور لذائذ وطیبات اور قسم قسم کے ملبوسات تمہارے لیے پیدا کیے۔ اس کے بعد حیات روحانی کے سامان کا ذکر فرمایا یعنی آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور منصب خلافت پر سرفراز فرمایا اور ہدایت کے علوم عطاء فرمائے اور انبیاء ومرسلین کا سلسلہ جاری…
Read the full tafseer →ف 73 ۔ کائنات ارضی کو تمہارے لئے پیدا کیا تاکہ تم اس سے مادی فوائد حاصل کرو، اور اس میں غور وخوض کر کے خالق کی قدرت وصنعت کا اندازہ لگاؤ، زمین میں ہمارے صرف دنیوی فائدے ہی نہیں بلکہ اس میں دینی فائدے بھی ہیں اور سامانِ آخرت بھی۔ واما قولہ لکم فھو یدل علی ان المذکور بعد قولہ خلق لاجل اشفاعنا فی الدین والدنیا (کبیر ص 370 ج 1) ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ ۔ استوی کا صلہ جب الی ہو تو اس کے معنی قصد کرنے اور متوجہ ہونے کے ہیں۔ استوی الی ای اقبل (قرطبی ص 254 ج 1) زمین پیدا کرنے کے بعد وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا۔ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ۔ تسویہ سے مراد یہ ہے کہ آسمانوں کو بالکل اور مکمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
گزشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلی آیات میں ان لوگوں کا رد فرمایا۔ جو قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے کا انکار کرتے تھے کیونکہ اس کلام میں مچھر ، مکھی جیسی حقیر چیزوں کا بیان ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اعلیٰ وارفع ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مچھر یا اس سے بھی کم تر چیز کی مثال بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ کیونکہ اس کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اد نیٰ چیزوں میں بھی اہم باتیں ہوتی ہیں۔ اس لیے ایسی کسی چیز کے بیان سے اجتناب کرنا خلاف حکمت ہوتا ہے۔ معترضین کا اس قسم کا اعتراض ان کی ناسمجھی کی دلیل ہے۔ البتہ ایمان والے خوب سمجھتے ہیں کہ قرآن پاک ان کے رب کی…
Read the full tafseer →ھُوَالَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا 0 ۤ ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ 0ۭ وَھُوَبِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ 29 ۧ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور…
Read the full tafseer →ترکیب : ھو مبتدا الذی موصول خلق فعل بافاعل لکم متعلق ہے خلق کے ما موصول ثانی ذی الحال فی الارض ثبت کے متعلق ہو کر اس کا صلہ ہوا جمیعا بمعنی مجتمعاً حال ہے یہ ما اپنے صلہ اور حال سے مل کر مفعول ہوا خلق کا اور پھر خلق تمام جملہ مل کر صلہ ہوا الذی کا پھر الذی خبر ہوئی ھو کی ثم کلمہ تراخی استوی بمعنی قصد فعل بافاعل الی السماء متعلق ہے استوی کے فسوھن میں سوی بمعنی عدل و خلق فعل ضمیر اس کی فاعل ھن ضمیر جمع مؤنت راجع ہے السماء کی طرف اگر اس سے مراد اجرام لیا جاوے ورنہ مبہم ہے اس کی تفسیر سبع سمٰوات ہے اور اول تقدیر پر بدل ہے ھو مبتداء بکل شیء علیم خبر۔
تفسیر : یہ دوسری نعمت خدا تعالیٰ یاد دلاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَا کُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّافِیْ الْاَرْضِ جَمِیْعًاق ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ فَسَوّٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍط وَھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔
(البقرۃ : 28 تا 29)
(تم اللہ کا کس طرح انکار کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے، تو اس نے تم کو زندہ کیا۔ پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے، پھر آسمان کی طرف توجہ کی اور سات آسمان استوار کردئیے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ موت وحیات کا مالک ہے اس نے انسان کو بےاختیار خلیفہ نہیں بنایا بلکہ سب کو اس کے لیے پیدا کیا اور ایک حد تک زمین کا نظام انسان کے حوالے کیا تاکہ اس کی آزمائش کرے۔
اس رکوع کی ابتدا توحید اور انسانی تخلیق کے تذکرے سے ہوئی تھی اب اس خطاب کا اختتام اللہ کی توحید پر کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ وہی تمہاری موت وحیات اور فناو بقا کا مالک ہے اور اسی کے سامنے تم نے پیش ہونا ہے۔ اس نے فقط تمہیں ہی پید انہیں فرمایا بلکہ زمین کی ہر چیز تمہارے لیے پیدا فرمائی۔ اس کے بعد عرش معلّٰی پر متمکن ہوا۔ جس طرح اس کی شایان شان ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے احترام و مقام کے پیش نظر…
Read the full tafseer →لام کی حکمت :
ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ : (وہ وہی ذات ہے جس نے تمہارے لیے سب کچھ بنایا)
نمبر 1: لکم کی لام اجلیہ ہے تمہاری خاطر۔
نمبر 2: اور تمہارے دین دنیا میں فائدہ پہنچانے کے لیے پیدا کیا۔ اول تو ظاہر ہے اور دوسرے قول میں غور کرو۔ اس میں جو عجائبات ہیں وہ صانع قادر حکیم علیم کی ہستی پر دلالت کرنے والے ہیں اور اس میں آخرت کی یاد ہے۔ کیونکہ زمین کی پناہ گاہ اس کے ثواب کو یاد دلانے والی ہے اور اس کی ناپسندیدہ چیزیں اس کے عقاب کو یاد دلانے والی ہیں۔ علامہ کرخی۔ ابوبکر رازی اور معتزلہ کا استدلال ہے کہ خلق لکم بتلا رہا ہے کہ تمام اشیاء صحیحہ مباح الاصل ہیں۔
جَمِیْعًا (سب کچھ)…
Read the full tafseer →29۔ (آیت)” ھوالذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا “ تمام زندہ انسانوں کے لیے تاکہ تم عبرت حاصل کرو اور دلیل پکڑو اور کہا گیا تاکہ تم نفع اٹھاؤ ۔ (آیت)” ثم استوی الی السماء “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور سلف صالحین کے اکثر مفسرین نے فرمایا یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں کی طرف بلند ہوا اور ابن کیسان۔
اور فراء اور نحویوں کی ایک جماعت فرماتی ہے (آیت)” ثم استوی “ کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان کے پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوا اور بعض نے کہا کہ ارادہ کیا اس لیے اس نے پہلے زمین کو پیدا کیا ، پھر آسمان کو پیدا کرنے کی طرف ارادہ کیا ۔ (آیت)” فسواھن سبع سموت “ ان کے برابر پیدا کیا نہ اس میں کوئی شگاف اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(28 ۔ 29): اوپر یہود اور منافقوں کی بد عہدی کا ذکر تھا کہ کفر عنادی کے سبب سے یہود نے تورات کے عہد کو پورا نہیں کیا بلکہ نبی آخر الزمان کے اوصاف کو چھپا کر منافقوں کو طرح طرح سے بہکایا اور ان کو بھی یہ عہدی سکھائی کہ مسلمانوں کے رو و برو وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور اپنی خاص مجلسوں میں اس زبانی عہد سے بھی پھرجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں سے دل لگی کرتے تھے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں فرقوں کو جتلایا کہ پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ مٹی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ان کی راحت کی چیزیں جو کچھ دنیا میں ہیں ان سب کو پیدا کیا سب چیز کا ذرا ذرا حال اس کو معلوم ہے۔…
Read the full tafseer →آیت 29
(ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً ” وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے واسطے جو کچھ زمین ہے سب کا سب “ یعنی اس نے تم پر احسان اور رحم کرتے ہوئے تمہارے فائدے، تمہارے تمتع اور تمہاری عبرت کے لئے زمین کی تمام موجودات کو پیدا کیا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اشیاء میں اصل، اباحت اور طہارت ہے۔ (یعنی ہر چیز جائز اور پاک ہے) کیونکہ یہ آیت احسان جتلانے کے سیاق میں ہے۔ اس جواز سے تمام ناپاک چیزیں نکل جاتی ہیں، اس لئے کہ ان کی حرمت بھی فحوائے آیت اور بیان مقصود سے ماخوذ ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کو ہمارے فائدے کے لئے تخلیق فرمایا ہے، لہٰذا ان میں سے جس کسی چیز میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
قول باری ہے :
(علم آدم الاسماء کلھا ثم عرضھم علی الملٓئکۃ فقال انبونی باسماء ھولآء ان کنتم صدقین۔ (اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا : اگر تمہارا خیال صحیح ہے کہ (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتائو اگر تم سچے ہو) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کو تمام اشایء کے نام سکھا دیئے، یعنی اجنسا کا ان کے معانی کے ساتھ کیونکہ اسماء کے ذکر میں لفظ کے اندر عموم ہے اور قو ل باری : ثم عرضھم علی المٓئکۃ کے اندر اس بات پر دلالت ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کی اولاد کے ناموں کا ارادہ کیا تھا…
Read the full tafseer →94 سب نعمتیں انسان کے لئے : ۔ سو زمین کی یہ سب عظیم الشان، اور گوناگوں نعمتیں حضرت ِحق جل مجدہ نے انسان ہی کیلئے پیدا فرمائی ہیں۔ اور جس سے تم لوگ ہر لمحہ و لحظہ اور طرح طرح سے مستفید و فیض یاب ہوتے رہتے ہو، اور اس قدر کہ اس کا احصاء و شمار بھی کسی کے بس اور اختیار میں نہیں۔ سو اس سے تم اندازہ کرلو کہ وہ وحدہ لا شریک کس قدر علیم و قدیر، کتنا رحیم و کریم، اور کتنا فیاض و مہربان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پھر اس کے ساتھ کفر و انکار کا معاملہ کرنا کس قدر ظلم اور کتنی بڑی بےانصافی ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ دوسروں کو اس وحدہ لاشریک کا شریک مانا جائے جن کا اس میں کوئی دخل ہی نہیں، کتنا بڑا ظلم اور کس…
Read the full tafseer →اللہ کی نشانیاں
تشریح : یہ آیت بھی گزشتہ سے پیوستہ ہے۔ اس میں اللہ کی کبریائی، قدرت اور وحدانیت کو اس انداز سے ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ وہی تو ہے جس نے انسان کے لئے زمین بنائی اور اس میں نباتات، جمادات اور حیوانات کے ڈھیر لگا دیئے کہ انسان اس سے بھرپور فائدے اٹھائے پھر اس میں دریا، سمندر، پہاڑ اور ہوائوں کا ایسا بندوبست کردیا جو اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا پھر انسان کے لئے سات آسمان بنا دیئے۔ اللہ کی دی ہوئی عقل و علم کے زور پر سائنس دانوں نے اس کی تحقیق کی ہے۔ اس کے لئے ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب کی کتاب ” قرآنی آیات اور سائنسی حقائق “ میں سے اقتباس پیش کرتی ہوں لکھتے ہیں۔
” جب آپ زمین سے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیات 21- 29
اسرارو معارف
تفسیر : دنیا میں صرف دو قومیں ہیں :
یا ایھا الناس اعبدوار بکم…وانتم تعلمون۔
ایمان وکفر کا فرق اور مومن کے اوصاف اور کافر کی عادات ارشاد فرما کر پوری آبادی میں صرف دو قومیں مقرر فرمائی ہیں۔ ایک مومن دوسری کافر جو محض دعویٰ کرنے سے نہیں بن سکتا بلکہ ایمان اور کفر کا معیار بھی ارشاد ہوا اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے ان کافروں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی جو عقائد تو کفر یہ رکھتے ہیں مگر مدعی اسلام کے ہیں ۔ ان کی حرکات فساد کا سبب ہیں جس کو وہ اصلاح کا نام دیتے ہیں یہ کفر ہی کی خطرناک تر قسم ہے کوئی تیسری قوم نہیں جب حق و باطل واضح ہوگیا تو اب صلائے عام ہے ساری نوع انسانی کو…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یہی معنی اما بخاری نے ابو العالیہ سے اور ابن جریر نے ربیع بن انس (رح) سے رایت کیے ہیں۔ یہ یعنی استوی الی السمآء یا اس تو علی العرش اللہ کی صفت ہے اور صفات الہیہ کے بارے میں سلف تاویل کے قائل نہیں بلکہ ان کو ظاہری معنی پر محمول کرتے ہیں۔ (ترمذی) اس ایت سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین آسمان سے پہلے پیدا کی گئی۔ اور یہی بات حم السجدہ کی آیات سے ثابت ہوتی ہے مگر سورة اناز عات میں والا رض بعد ذالک دحھا بظاہر اس کے خلاف ہے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ تخلیق تو پہلے ہے مگر وحو بعد میں ہے۔ (ابن کثیر)4 حدیث میں ہے کہ دو آسمانوں کے درمیان پانچ…
Read the full tafseer →(2:29) ثم استوی الی السماء پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا۔
ثم کی بحث کے لئے آیت (2:28) متذکرہ بالا ملاحظہ ہو۔ یہاں تراخی فی المرتبۃ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس سے بڑھ کر، مزید برآں۔
استوی : اس نے قصد کیا۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سنبھل گیا۔ وہ چڑھا۔ وہ سیدھا ہوا کر بیٹھا۔
استواء (افتعال) مصدر سے۔ ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔
استوی کے جب وہ فاعل ہوتے تو اس کے معنی دونوں کے برابر اور مساوی ہونے کے آتے ہیں ۔ جیسے لا یستوی اصحب النار واصحب الجنۃ (59:20) اہل دوزخ اور اہل جنت برابر نہیں۔ اور اگر فاعل دونہ ہوں تو سنبھلنے، درست ہونے، اور سیدھے ہونے کے معنی آتے ہیں جیسے فاستوی (6) وھو بالافق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 29
(کیف) : کیونکر، کس لئے، کیسے ؟ (اموات): مردے، بےجان (موتہ کی جمع ہے) ۔ (احیا): اس نے زندگی دی۔ (ثم) پھر، اس کے بعد ۔ (یمیت): وہ موت دے گا۔ (یحی) : وہ زندہ کرے گا۔ (الیہ) : اسی کی طرف (الیٰ ، طرف، تک ، ہ، وہ) ۔ (ترجعون): تم لوٹائے جاؤ گے۔ (ھو الذی) : وہی تو ہے (ھو، وہ ، الذی، جو، جس نے۔ ترجمہ ہوگا وہی تو ہے جس نے ) ۔ (جمیع): سب کا سب۔ (استوی): وہ برابر ہوا، اس نے توجہ کی۔ (سوی): اس نے برابر کیا۔ (سبع): اس نے برابر کیا۔ (سموت): آسمان (سماء کی جمع ہے ) ۔ (علیم): بہت زیادہ جاننے والا۔
تشریح : آیت نمبر 28 تا 29
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنی بےانتہا نعمتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
قرآن کے منکر لوگ یہ طعن کرتے تھے کہ جس کلام میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر ہو وہ کلام الہی کیونکر ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کا جواب دیا کہ مخلوق ہونے میں حقیر اور صاحب شان چیزیں سب برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات سے جس چیز کی چاہے مثال بیان کرے اس پر طعن نافہمی ہے۔ بد عہد لوگوں سے مراد یہود لوگ ہیں کہ تورات میں ان سے حضور سید عالم ﷺ کی اطاعت اور رشتہ و قرابت کے تلقات، مسلمانوں کی دوتی و محبت، تمام انبیاء کا ماننا، تمام کتب الہی کی تصدیق، حق پر جمع ہونا وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا۔ ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا، تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
[23] اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے جس کی رو سے تمام انسانوں پر اس کی بندگی عائد ہوتی ہے اور مضبوط باندھ لینے سے اشارہ '' عہدالست '' کی طرف ہے جو روز ازل تمام نوع انسانی سے اس فرمان
کی پابندی کا لیا گیا تھا۔ ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 172 صفحہ 273۔
[24] جن تمدنی و معاشرتی روابط و تعلقات پر انسان کی اجتماعی و انفرادی فلاح کا انحصار ہے اور جسے درست رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے انہیں یہ لوگ کاٹتے ہیں۔
[25] قرآن کی اصطلاح میں زمین میں فساد برپا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ زمین کا نظم و نسق اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین کے مطابق چلانے کی بجائے اس کو من مانے طریقے پر چلایا جائے۔ اس زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(ف 1) پہلا انسان :
سلسلہ انسانیت کا پہلا بطل وہ ہے جسے کائنات ارض کا مالک بنانے والا ہے ۔ اللہ کی عنایات اسے زمین کا تاج وتخت بخشنے والی ہیں ۔ اس کی استعداد وقوت فرشتوں سے بھی زیادہ شاندار ہے ۔
وہ اس لئے بنایا جارہا ہے تاکہ خدا کے جلال و جمال کو دنیا کے کونوں تک پہنچائے اور ساری زمین پر خدا کی بادشاہت ہو ۔
یعنی وہ خلیفۃ اللہ فی الارض ہے ۔
(ف 2) فرشتوں کو اعتراض ہے کہ ایسے انسان کی کیا ضرورت ہے وہ کہتے ہیں ، جب کائنات کے روحانی نظام کو ہم چلا رہے ہیں ، تیری تسبیح و تقدیس کے کلمے ہر وقت ہمارے لبوں پر نغمہ زن رہتے ہیں جب تیری حمد و ستائش کے بےریا ترانے ہم ہر وقت الاپتے رہتے ہیں اور جب ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 2۔ بھلا کیونکر اللہ تعالیٰ کی نا شکری اور نا سپاسی کرتے ہو حالانکہ تم بالکل بےجان تھے۔ پھر تم کو اس خدا نے زندہ کیا ، پھر اس زندگی کے بعد وہ تم کو موت دے گا ، پھر تم کو دوبارہ زندہ کرے گا ، پھر اسی کی خدمت میں تم سب کی باز گشت ہوگی۔ وہ قادر مطلق ایسا ہے جس نے زمین کی تمام موجودات تمہارے نفع اور تمہارے فائدے کیلئے پیدا کی پھر اس نے آسمانوں کی تکمیل کی جانب توجہ فرمائی اور ان کو ٹھیک اور درست کیا اور ان کو سات آسمان بنادیا اور وہ ہر ایک چیز کا خواب جاننے والا ہے۔ ( تیسیر)
ان آیتوں کا تعلق رکوع کی ابتدائی آیت کے ساتھ ہے۔ بیچ میں قرآن اور رسالت کی دلیل تھی ۔ پھر کفار کے معارضہ کا جواب تھا ، اب…
Read the full tafseer →ف 3۔ اول زمین میں مادہ بنا اور ہنوز اس کی ہیبت موجودہ نہ بنی تھی کہ اسی حالت میں آسمان کا مادہ بنا جو صورت دخان تھا۔ اس کے بعد زمین کی جو ہییت موجود پر پھیلادی گئی پھر اس پر پہاڑ درخت وغیرہ پیدا کیے گئے پھر اس مادہ سیالہ کے سات آسمان بنادیے گئے۔
Read the full tafseer →تخلیق کائنات صرف اور صرف انسان کی خاطر ہے :
67: خطاب عام نوع انسانی کو ہے کہا یہ جارہا ہے کہ تم خودہی ساری کائنات ارضی کے مقصود ومطاع ہو۔ پھر یہ کیسی حماقت ہوگی کہ تم کسی اور مخلوق کو مقصود ومطاع بنالو ؟ یعنی اس آیت نے ہر قسم کے شرک ، ہر قسم کی مخلوق پرستی کی جڑ ہی کاٹ دی۔ فرمایا اس دھرتی پر ، اس فرش و زمین پر جو کچھ بھی ہے سب انسان ہی کے لئے ہے۔ یعنی مخلوق سب اللہ کی۔ خالق پوری کائنات کا صرف اور صرف ایک اللہ ! اللہ کی تخلیق میں سے تخلیق کو خود اس تخلیق کے لئے بھی نہیں تخلیق کیا گیا۔ بلکہ جو کچھ ہے وہ سب کا سب انسان کی خاطر ہے ایسا ہرگز نہیں کہ انسان کسی اور مخلوق کے لئے ہو ، اور مشرک انسان…
Read the full tafseer →In recounting the blessings which man has received from Allah, verse 29 refers to Allah having created for man "all that the earth contains." This small phrase comprehends all kinds of benefits which accrue to him from the earth and its produce. Then, the verse speaks of the creation of the sky and its division into seven skies or heavens, as they are usually called in English. In this context, the Holy Qur'an uses the Arabic word, Istawaإستوا which initially means 'to stand upright, to climb', and thence signifies 'to turn or pay attention to something', and, in a wider sense, 'to take a…
Read the full tafseer →34. It is difficult to explain precisely what is meant by the 'seven heavens'. In all ages man has tried, with the help of observation and speculation, to conceptualize the 'heavens', i.e. that which lies beyond and above the earth. As we well know, the concepts that have thus developed have constantantly changed. Hence it would be improper to tie the meaning of these words of the Qur'an to any one of these numerous concepts. What might be broadly inferred from this statement is that either God has divided the universe beyond the earth into seven distinct spheres, or that this earth is…
Read the full tafseer →