Al-Baqara 2:28

Al-Baqara · from ayah 28

2:28

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ ۚ— ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ۟كَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَڪُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡيَاکُمۡ‌ۚ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ

(کافرو!) تم خدا سے کیوں کر منکر ہو سکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

How can you disbelieve in Allah when you were lifeless and He brought you to life; then He will cause you to die, then He will bring you [back] to life, and then to Him you will be returned.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:28

تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے، اس نے تم کو زندگی عطا کی، پھر وہی تمھاری جان سلب کرے گا، پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(کافرو!) تم خدا سے کیوں کر منکر ہو سکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حاﻻنکہ تم مرده تھے اس نے تمہیں زنده کیا، پھر تمہیں مار ڈالے گا، پھر زنده کرے گا، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم اللہ کے ساتھ کفر کا طرز عمل آخر کیسے اختیار کرلیتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے اسی نے تمہیں زندگی بخشی پھر وہی تمہیں موت دے گا پھر وہی تم کو (دوبارہ) زندہ کرے گا اور پھر تم اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بھلا تم کیونکر خدا کے منکر ہو گے، حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر تمہیں موت سے ہمکنار کرے گا اور پھر تمہیں زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تم کیسے اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہو، حالانکہ تم بےجان تھے تو اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہ تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(لوگو !) تم اللہ کا انکار کیسے کرتے ہو۔ حالانکہ تم مردہ (معدوم) تھے تو اس نے تمہیں زندہ کیا۔ پھر وہی تمہیں موت دے گا، پھر زندہ کر دے گا۔ پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم اللہ کا کس طرح انکار کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تم مردہ تھے تو اس نے تم کو زندہ کیا۔ پھر وہ تم کو موت دیتا ہے پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تم کیسے کفر کرتے ہو اللہ کے ساتھ (اے منکرو !) حالانکہ تم بےجان تھے تو اس نے تمہیں زندگی (کی یہ عظیم الشان نعمت) بخشی پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے (اور دے گا) اور وہی تمہیں زندگی بخشتا ہے (اور بخشے گا) پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاتے ہو (اور لوٹائے جاؤ گے)

— مولانا اسحاق مدنی

تم لوگ کس طرح کفر کرسکتے ہو اللہ سے درآنحالیکہ تم بےجان تھے۔ سو اس نے تمہیں جاندار کیا۔ پھر وہی تمہیں موت دے گا۔ پھر وہی تمہیں زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم واپس کئے جاؤگے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم کیسے کفر کرتے ہو اللہ کا حالانکہ تم مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کیا۔ ُ پھر وہ تمہیں مارے گا پھر جلائے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے۔ ُ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو، حالانکہ تم بےجان تھے اس نے تم کو زندگی عطا کی پھر وہی تمہاری جان سلب کرے گا پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

How is it that you adopt the attitude of disbelief towards Allah when the fact is that you were lifeless and He gave you life, and He will take away life from you and will again restore you to life: then you shall ultimately return to Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

:How is it that you deny Allah, while you were lifeless and He gave you life; then He will make you die, and then He will make you live again, and then to Him you will be returned?

— Muhammad Taqi Usmani

:How is it that you deny Allah, while you were lifeless and He gave you life; then He will make you die, and then He will make you live again, and then to Him you will be returned?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

How can you disbelieve in Allah seeing that you were dead and He gave you life Then He will give you death, then again will bring you to life (on the Day of Resurrection) and then unto Him you will return.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

How disbelieve ye in Allah when ye were dead and He gave life to you! Then He will give you death, then life again, and then unto Him ye will return.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

How can you disbelieve in Allah when you were lifeless and He brought you to life; then He will cause you to die, then He will bring you [back] to life, and then to Him you will be returned.

— Saheeh International

How dare you deny the existence of God Who gave you life when you initially had no life. He will cause you to die and bring you to life again. Then you will return to His Presence.

— Muhammad Sarwar

How do you deny Allah and you were dead and He gave you life? Again He will cause you to die and again bring you to life; then you shall be brought back to Him.

— Muhammad Habib Shakir

How will ye disbelieve in Allah whereas ye were lifeless and he quickened you; thereafter He will cause you to die, thereafter He will give you life, thereafter unto Him ye shall be returned!

— Abdul Majid Daryabadi

How can ye reject the faith in Allah?- seeing that ye were without life, and He gave you life; then will He cause you to die, and will again bring you to life; and again to Him will ye return.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

ٹھوس دلائل پر مبنی دعوت اس بات کا ثبوت دیتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے وہ قدرتوں والا ہے۔ وہی پیدا کرنے والا اور اختیار والا ہے۔ اس آیت میں فرمایا تم اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکار کیسے کرسکتے ہو ؟ یا اس کے ساتھ دوسرے کو عبادت میں شریک کیسے کرسکتے ہو ؟ جبکہ تمہیں عدم سے وجود میں لانے والا ایک وہی ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کیا یہ بغیر کسی چیز کے پیدا کئے گئے ؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں ؟ انہوں نے زمین و آسمان بھی پیدا کیا ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ بےیقین لوگ ہیں۔ اور جگہ ارشاد ہوتا ہے آیت (ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیأ مذکورا) یقینا انسان پر وہ زمانہ بھی آیا ہے جس وقت یہ قابل ذکر چیز…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة الْبَقَرَة 31 بادشاہ اپنے ملازموں اور رعایا کے نام جو فرمان یا ہدایت جاری کرتا ہے، ان کو عربی محاورے میں عہد سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ ان کی تعمیل رعایا پر واجب ہوتی ہے۔ یہاں عہد کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے، جس کی رو سے تمام نوع انسانی صرف اسی کی بندگی، اطاعت اور پرستش کرنے پر مامور ہے۔ ”مضبُوط باندھ لینے کے بعد“ سے اشارہ اس طرف ہے کہ آدم کی تخلیق کے وقت تمام نوع انسانی سے اس فرمان کی پابندی کا اقرار لے لیا گیا تھا۔ سُورہ اعراف، آیت 172 میں اس عہد و اقرار پر نسبتًہ زیادہ تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ سورة الْبَقَرَة 32 یعنی جن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بھلا کیوں کر ناشکری کرتے ہو اللہ کے ساتھ (کہ اس کے احسانات کو بھلا دیتے ہو اور غیروں کا کلمہ پڑہتے ہو) حالانکہ (اس پر دلائل واضحہ قائم ہیں کہ صرف ایک اللہ ہی مستحق عبادت ہے مثلا یہ کہ) تھے تم بےجان (یعنی نطفہ میں جان پڑنے سے پہلے) سو تم کو جاندار کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے (یعنی قیامت کے دن) پھر انہی کے پاس لے جائے جاؤ گے (یعنی میدان قیامت میں حساب کتاب کے لئے حاضر کئے جاؤ گے) وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے فائدہ کے لئے جو کچھ بھی زمین میں موجود ہے سب کا سب (یہ فائدہ عام ہے کھانے پینے کا ہو یا پہننے اور برتنے کا یا نکاح اور روح کو تازگی بخشنے کا اس سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کفر کا ایک خاص پہلو: کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ: کفر کے معنی کی تحقیق آٹھویں فصل میں بیان ہو چکی ہے۔ یہاں اس لفظ کے ایک خاص پہلو کی طرف توجہ دلانی ہے وہ یہ کہ یہ لفظ ان لوگوں کو مخاطب کرکے استعمال کیا گیا ہے جو خدا کے منکر نہیں تھے بلکہ صرف اس کے شریک ٹھہراتے تھے۔ البتہ قیامت کے یا تو وہ منکر تھے یا کم از کم یہ کہ اس کو بہت ہی بعید از قیاس اور بعید از عقل چیز سمجھتے تھے۔ ان لوگوں کو مخاطب کرکے سوال یہ کیا گیا ہے کہ تم اللہ کا کفر کس طرح کرتے ہو؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں اس لفظ کا استعمال وسیع معنوں میں ہوا ہے جس طرح خدا کا صریح انکار کفر ہے اسی طرح اس کا وہ ماننا بھی کفر ہے جو اس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 آیت میں دو موتوں اور دو زندگیوں کا تذکرہ۔ پہلی موت سے مراد عدم (نیست یعنی نہ ہونا) ہے اور پہلی زندگی ماں کے پیٹ سے نکل کر موت سے ہمکنار ہونے تک ہے۔ پھر موت آجائے گی پھر آخرت کی زندگی دوسری زندگی ہوگی جس کا انکار کفار اور منکرین قیامت کرتے ہیں بعض علماء کی رائے ہے کہ قبر کی زندگی (کَمَا ھِیَ) دنیوی زندگی میں ہی شامل ہوگی (فتح القدیر) صحیح یہ ہے کہ برزخ کی زندگی حیات آخرت کا پیش خیمہ اور اس کا سرنامہ ہے اس لئے اس کا تعلق آخرت کی زندگی سے ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–28

(24) عہد سے مراد اکثر مفسرین نے وہ عہد الست لیا ہے جس کا ذکر سورة اعراف (7: 172) میں ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کرنے سے بہت پہلے آنے والی تمام روحوں کو جمع کرکے ان سے پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، سب نے اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے کا اقرار کرکے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے، پھر اس آیت میں عہد کو پختہ کرنے سے مراد بظاہر یہ ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے رسول آتے رہے جو اس عہد کو یاد دلاکر اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے پر دلائل قائم کرتے رہے۔ اس عہد کی ایک اور تشریح بھی ممکن ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد وہ عملی اور خاموش عہد (tacit covenant)…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان قوی دلائل کے ہوتے ہوئے اللہ کا انکار کرنا ، کفر و انکار کی وہ قبیح اور ناپسندیدہ روش ہے جس کی پشت پر کوئی سند و دلیل نہیں ہے ۔ قرآن کریم یہاں ایک ایسی حقیقت پیش کرتا ہے جس سے ان کے لئے کوئی راہ فرار نہیں ہے۔ وہ اس بات پر مجبور ہیں کہ اس حقیقت اور اس کے لازمی نتائج کو تسلیم کرلیں ۔ قرآن ان کے سامنے قافلہ حیات اور اس کے مختلف حالات و کیفیات لاکر رکھ دیتا ہے تاکہ وہ اس پر غور کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان مردہ حالت میں تھے ، اللہ نے انہیں زندگی سے نوازا ، اللہ ہی انہیں حالت موت سے حالت حیات کی طرف لایا ، یہ ایک ایسی روشن حقیقت ہے کہ سوائے قدرت الٰہی اور تخلیق الٰہی کے اس کی کوئی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اجسام بےجان کہ حس و حرکت کچھ نہ تھی۔ اول عناصر تھے اس کے بعد والدین کی غذا بنے، پھر نطفہ، پھر خون بستہ پھر گوشت۔ 8 یعنی حالات سابقہ کے بعد نفخ روح کیا گیا جس سے رحم مادر اور اس کے بعد دنیا میں زندہ رہے۔ 9 یعنی جب دنیا میں وقت مرنے کا آئے گا۔ 10 یعنی قیامت کو زندہ کئے جاؤ گے حساب لینے کے واسطے۔ 11 یعنی قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حساب و کتاب کے واسطے کھڑے کئے جاؤ گے۔ سو اب انصاف کرو کہ جب تم اول سے آخر تک اللہ تعالیٰ کے احسانات کے مرہون ہو اور ہر حالت اور حاجت میں اس کے محتاج اور اس کے متوقع ہو۔ پھر اس پر بھی کفر کرنا اور اس کی نافرمانی کرنا کس قدر تعجب خیز امر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ اس مقام پر ایک بڑی گہری حکمت اور فلسفے کی بات بیان کی گئی ہے جو آج نگاہوں سے بالکل اوجھل ہوچکی ہے۔ وہ یہ کہ ہم دنیا میں آنے سے پہلے مردہ تھے کُنْتُمْ اَمْوَاتًا۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ یہ مضمون سورة غافر؍سورۃ المؤمن میں زیادہ وضاحت سے آیا ہے ‘ جو سورة البقرۃ سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ لہٰذا یہاں اجمالی تذکرہ ہے۔ وہاں اہل جہنم کا قول بایں الفاظ نقل ہوا ہے : رَبَّنَا اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَھَلْ اِلٰی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 زندگی اور موت کے چار مراحل :۔ اس آیت میں انسان پر وارد ہونے والی چار کیفیات کا ذکر ہے۔ پہلے موت، پھر زندگی، پھر موت، پھر زندگی۔ روح اور جسم کے اتصال کا نام زندگی اور ان کے انفصال کا نام موت ہے۔ پہلی حالت موت ہے یعنی جملہ انسانوں کی ارواح تو پیدا ہوچکی تھیں۔ لیکن جسم اپنے اپنے وقت پر عطا ہوئے، اسی عرصہ میں عہد الست لیا گیا تھا۔ دوسری حالت انسان کی پیدائش سے لے کر اس کے مرنے تک ہے، جس میں وہ اچھے یا برے اعمال کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ تیسری حالت موت سے لے کر حشر تک اور چوتھی اور آخری حالت دوبارہ جی اٹھنے (حشر) کے بعد لامتناہی زندگی ہے۔ یاد رہے کہ جن حالتوں کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

98 ۔ (اے کافرو اور منکرو ! ) یعنی کفروانکار کی جرأت وہمت کس طرح رکھتے ہو ؟ سوال سے مقصود ان کی جسارت پر استعجاب ہے۔ علی وجہ التعجب (ابن عباس ؓ فالمرادبہ التکبیت والتعفیف (کبیر) لفظ (آیت) ” کیف “ کا استعمال قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی حق تعالیٰ کے سلسلہ میں آیا ہے، سیاق ہمیشہ تنبیہ یا تو بیخ ہی کا رہا ہے۔ وکل ما اخبر اللہ تعالیٰ بلفظۃ کیف عن نفسہ فھو استخبار علی طریق التنبیہ للمخاطب اوتوبیخا (راغب) 99 (صلب پدر میں) یعنی ابھی تمہاری تشکیل ہوئی بھی نہ تھی۔ 100 (رحم مادر میں) نعمتوں میں سب سے مقدم صفت حیات ہے کہ دوسری ساری نعمتوں سے استفادہ اسی کے بعد ممکن ہے۔ اس لیے ذکر میں بھی اسے یہاں سے مقدم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 28 ترجمہ : اے مکہ والو ! تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیوں اختیار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم پشتوں میں بےجان نطفے تھے، اس نے ماؤں کے رحموں میں اور دنیا میں تمہارے اندر روح پھونک کر تم کو زندگی بخشی، اور استفہام ان کے کفر پر اظہار تعجب کے لئے ہے اور توبیخ کے لئے ہے، قیام دلیل کے باوجود پھر وہ تم کو موت دے گا، تمہاری مدت حیات ختم ہونے کے وقت پھر تم کو وہی مرنے کے بعد دوبارہ زندگی عطا کرے گا، پھر زندہ ہونے کے بعد اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، سو وہ تم کو تمہارے اعمال کی جزاء دے گا، چناچہ جب انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر دلیل کے طور پر فرمایا، وہی تو ہے، جس نے تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ( تم کیونکہ خدا کا انکار کرسکتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے پھر اسی نے تم میں جان ڈالی پھر وہی تمہیں مارتا ہے پھر وہی تمہیں (قیامت میں دوبارہ جلائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) یعنی باوجود اسکے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود پر بےانتہا دلائل ہیں پھر کیونکر انکار کرسکتے ہو۔ اَمْوَاتًا سے مراد عناصر غذائیں، اخلاط اور نطفے، خون بستہ، گوشت کے ٹکڑے اور جسم بلا روح ہے ( کیونکہ جان پڑنے سے پہلے آدمی ان ہی اشیاء میں سے کوئی شئے ہوگا۔ جاننا چاہئے کہ انسان دس چیزوں سے مرکب ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) اب اللہ تعالیٰ حیرانگی سے ان کی حقیقت کو واضح فرماتے ہیں کہ تم نطفہ کی صورت میں اپنے باپوں کی پشتوں میں موجود تھے، اس کے بعد اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے رحم میں زندہ کیا، پھر تمہاری عمر کے پورا ہونے پر تمہیں موت دی، اس کے بعد قیامت میں تمہیں زندہ کرے گا اور آخرت میں پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا، جہاں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا) کے ساتھ توحید کی جو بات شروع ہوئی تھی وہی بات آگے بڑھائی جا رہی ہے کہ اللہ کے ساتھ تمہارے کفر پر تعجب ہے، جس نے تمہیں اس وقت زندگی بخشی جب تم بےجان تھے، یعنی موجود ہی نہ تھے، پھر وہ تمہیں موت دے گا۔ زندگی اور موت کا یہ سلسلہ جو تمہارے سامنے ہے یہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید کی بھی دلیل ہے اور تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اپنے سامنے حاضر کرنے کی بھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 28 کیف حالت کے متعلق سوال ہے۔ یہ اسم ہے اور تکفرون کی وجہ سے محل نصب میں ہے یہ مبنی برفتحہ ہے اس کو ساکن ہونا تھا کیونکہ اس میں اس استفہام کا معنی ہے جس کا معنی تعجب ہے۔ پس اس کو حروف سے مشابہت دی گئی اور فتح کی خفت کی وجہ سے اس کے لئے فتحہ اختیار کیا گیا یعنی یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن پر تعجب کرنا واجب ہے جب انہوں نے کفر کیا حالانکہ ان پر حجت ثابت ہوچکی ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ خطاب اہل کتاب کو ہونا کیسے جائز ہے کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کا انکار نہیں کرتے تھے۔ اس کا جواب پہلے گزر چکا ہے کہ جب انہوں نے محمد ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہ کیا اور جو کچھ آپ احکام لے کر آئے اس کی تصدیق نہ کی تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر (رح) نے حضرت ابن مسعود ؓ اور کئی دوسرے صحابہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم “ سے مراد ہے کہ تم کچھ بھی نہ تھے پھر تم کو پیدا فرمایا لفظ آیت ” ثم یمیتکم ثم یحیکم “ پھر تم کو موت دے گا۔ پھر تم کو زندہ کرے گا۔ (2) امام ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا لفظ آیت ” وکنتم امواتا “ یعنی تم اپنے باپوں کی پشتوں میں مردہ تھے کچھ بھی نہ تھے پھر تم کو پیدا فرمایا پھر تم کو موت دے گا سچی موت پھر تم کو زندہ کرے گا سچی زندگی (دے کر) جب تم کو (قیامت کے دن) اٹھائے گا۔ (3) عبد بن حمید اور ابن جریر نے حضرت قتادہ (رح) سے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ : تم لوگ کیسے انکار کرتے ہو اللہ کا ] [ وَكُنْتُمْ : درآنحالیکہ تم لوگ تھے ] [ اَمْوَاتًا : مردہ حالت میں ] [ فَاَحْيَاكُمْ ۚ : تو اس نے زندہ کیا تم نے ] [ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ : پھر وہ موت دے گا تم کو ] [ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ : پھر وہ زندہ کرے گا تم کو ] [ ثُمَّ اِلَيْهِ : پھر اس ہی کی طرف ] [ تُرْجَعُوْنَ : تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مکرر دعوت توحید اس آیت میں پھر توحید کی دعوت دی گئی جو (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا) میں دی گئی تھی اور ارشاد ہو رہا ہے کہ تم اپنے خالق ومالک کے کیسے منکر ہو رہے ہو اور اس کی توحید سے کیسے انحراف کر رہے ہو حالانکہ اس نے تم کو وجود بخشا ہے۔ تم نطفے کی حالت میں بےجان تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے تم کو زندگی دی تمہارا جسم بنایا اور اس میں روح پھونکی۔ عقل کا تقاضا ہے کہ ایسی ذات پاک پر ایمان لائیں اور کفر اختیار نہ کریں اور بات اتنی ہی نہیں ہے کہ مردہ تھے اس کے بعد اس نے زندگی بخشی بلکہ اس کے بعد یہ بھی ہے کہ جب تمہاری اجل مقررہ ختم ہوگی وہ تمہیں موت دے گا اس کے بعد پھر زندگی بخشے گا، اس زندگی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

استعجاب بر کفر ونافرمانی وتذکیر انعامات ربانی اور مبداء ومعاد کی یاد دھانی قال تعالیٰ کیف تکفرون باللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ثم الیہ ترجعون حق جل شانہ جب دلائل توحید ونبوت و معاد بیان کرچکے اور عبادت کا حکم دے چکے تو اب آئندہ آیات میں اس پر تفریع فرماتے ہیں کہ ایسے قدیر وعظیم اور رحیم وکریم پروردگار سے سرکشی سراسر تعجب خیز ہے ان انعامات و احسانات کا مقتضی تو یہ تھا کہ تم شکر کرتے نہ کہ کفر۔ حیرت ہے کہ ان انعامات اور احسانات کے بعد تم کو کفر پر جرات کیسے ہوئی اور اس توبیخ اور عتاب میں دوسرے عنوان اور دوسرے رنگ میں اس دلیل سابق کا اعادہ فرمایا پھر اس سلسلہ تذکیر میں اولا نعم عامہ کو بیان فرمایا یعنی ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 72 ۔ مشرکین کے دونوں شبہات کا جواب دینے کے بعد یہاں سے پھر اصل دعویٰ توحید کی طرف رجوع ہے اور مزید دلائل سے اسے ثابت کیا گیا ہے۔ استفہام تعجب اور انکار کیلئے ہے اور تکفرون کے معنی تشرکون کے ہیں یعنی ایسے واضح دلائل کی موجودگی میں تم کس طرح اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہو۔ کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللہ بعد نصب الدلائل ووضوع البرھان ثم ذکر الدلائل (معالم ص 37 ج 1) کیف تکفرون باللہ ای کیف تعبدون معہ غیرہ (ابن کثیر ص 67 ج 1) دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ کی موجودگی میں تمہارا شرک کرنا نہایت ہی قابل تعجب ہے۔ تم جانتے ہو کہ محیی وممیت، خالق ارض وسماء اور عالم کل شئی اللہ ہی ہے اور یہ اوصاف کسی میں نہیں پائے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 28–29

گزشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلی آیات میں ان لوگوں کا رد فرمایا۔ جو قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے کا انکار کرتے تھے کیونکہ اس کلام میں مچھر ، مکھی جیسی حقیر چیزوں کا بیان ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اعلیٰ وارفع ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مچھر یا اس سے بھی کم تر چیز کی مثال بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔ کیونکہ اس کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اد نیٰ چیزوں میں بھی اہم باتیں ہوتی ہیں۔ اس لیے ایسی کسی چیز کے بیان سے اجتناب کرنا خلاف حکمت ہوتا ہے۔ معترضین کا اس قسم کا اعتراض ان کی ناسمجھی کی دلیل ہے۔ البتہ ایمان والے خوب سمجھتے ہیں کہ قرآن پاک ان کے رب کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللہِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ۝ 0 ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ۝ 28 كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : کیف استفہام حال کے لیے ہے اور یہاں استفہام انکاری ہے تکفرون باللہ جملہ استفہامیہ اور ضمیر انتم جو تکفرون کا فاعل ہے ذی الحال اور یہ جملے معطوف مع معطوف علیہ وکنتم امواتا الخ حال واقع ہوئے ہیں۔ تفسیر : جب مسئلہ توحید اور مسئلہ نبوت و مسئلہ معادبخوبی مسلسل ثابت ہوچکے اور اس کے ضمن میں خطرات و شبہات کے جواب بھی گزر گئے تب ان معاندین کو جو اپنے انکار پر اڑے ہوئے ہیں بالخصوص مخاطب کرکے ایک نئی دلیل نئے اسلوب سے بیان فرماتا ہے جو ان کے قوی انکار کا ازالہ کر دے۔ کس لیے کہ جس قدر مرض قوی ہوتا ہے دوا بھی ویسی ہی قوی دی جاتی ہے اور لطف بیان یہ ہے کہ اپنے انعامات حال و آیندہ کا بھی بضمن دلیل ذکر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–29

کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَا کُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ھُوَالَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّافِیْ الْاَرْضِ جَمِیْعًاق ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ فَسَوّٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍط وَھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ (البقرۃ : 28 تا 29) (تم اللہ کا کس طرح انکار کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے، تو اس نے تم کو زندہ کیا۔ پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے، پھر آسمان کی طرف توجہ کی اور سات آسمان استوار کردئیے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : بنی آدم کا اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد توڑنے یعنی توحید کا انکار کرنے کا کوئی جواز نہیں اس پر سوا لیہ انداز میں انتباہ کیا گیا ہے کہ تمہارے پاس اس سے انکار کی کوئی عقلی، نقلی اور فطری دلیل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفروشرک، رسالت مآب ﷺ کا انکار، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے ابدی اور ازلی عہد کو توڑنا، باہمی تعلقات کو قطع کرنا اور زمین پر دنگا فساد کرنا یہ ایسے کام ہیں جن میں اعتقادی اور عملی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور انکار پایا جاتا ہے۔ جس کا انسان کو کسی اعتبار سے حق نہیں پہنچتا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عدم سے وجود بخشا اور اس کے بعد موت سے ہمکنار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قطع کی حقیقت : نمبر 1: قطع رحمی کرنا اور مسلمانوں سے دوستی منقطع کرنا۔ نمبر 2: انبیاء ( علیہ السلام) میں سے بعض پر ایمان اور بعض کا انکار کر کے ان کی اجتماعیت علی الحق کو ختم کیا۔ گویا ان یوصل سے مراد اجتماعیت علی الحق اور قطع سے مراد بعض کی تصدیق اور بعض کی تکذیب ہے۔ تعریف امر : الامرؔ۔ کسی چیز پر استعلاء کے طور پر مخصوص قول سے فعل کا مطالبہ کرنا۔ نحو : مَانکرہ موصوفہ ہے یا الذی کے معنی میں ہے ان یوصل نمبر 1: موضع جر میں ہے ھا سے بدل ہے یعنی بوصلہ نمبر 2: موضع رفع میں ہے ای ھوان یوصل وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ : (وہ زمین میں فساد کرتے ہیں) ڈاکہ ڈال کر اُولٰٓپکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ : (اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 28۔ (آیت)” کیف تکفرون باللہ “ ؟ دلیلوں کے قائم ہونے اور برہان کے واضح ہونے کے بعد تم ذات باری تعالیٰ کا انکار کیسے کرو گے ۔ (آیت)” وکنتم امواتا “ اپنے باپوں کی پیٹھ میں نطفے تھے ۔ (آیت)” فاحیاکم “ رحم (مادر) میں اور دنیا میں (آیت)” ثم یمیتکم “ (تمہیں موت دے گا) جب تمہاری مدت عمر گزر جائے گی ۔ (آیت)” ثم یحییکم “ (تمہیں زندہ کرے گا) آخرت میں اٹھنے کے لیے (آیت)” ثم الیہ ترجعون “ یعنی آخرت میں لوٹائے جاؤ گے پس (اللہ تعالیٰ ) تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق بدلہ دیں گے ، حضرت یعقوب نے (ترجعون) پورے قرآن میں ” یرجعون ترجعون “ میں یاء اور تاء کی زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں ، یعنی فعل کو معروف پڑھ کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 28–29

(28 ۔ 29): اوپر یہود اور منافقوں کی بد عہدی کا ذکر تھا کہ کفر عنادی کے سبب سے یہود نے تورات کے عہد کو پورا نہیں کیا بلکہ نبی آخر الزمان کے اوصاف کو چھپا کر منافقوں کو طرح طرح سے بہکایا اور ان کو بھی یہ عہدی سکھائی کہ مسلمانوں کے رو و برو وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور اپنی خاص مجلسوں میں اس زبانی عہد سے بھی پھرجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں سے دل لگی کرتے تھے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں فرقوں کو جتلایا کہ پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ مٹی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ان کی راحت کی چیزیں جو کچھ دنیا میں ہیں ان سب کو پیدا کیا سب چیز کا ذرا ذرا حال اس کو معلوم ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 28 اس آیت میں استفہام تعجب، زجر و توبیخ اور انکار کے معنی میں ہے۔ یعنی تم کیسے اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو جو تمہیں عدم میں سے وجود میں لایا اور اس نے تمہیں انواع و اقسام کی نعمتوں سے نوازا پھر وہ تمہارے وقت پورا ہونے پر تمہیں موت دے گا اور قبروں کے اندر تمہیں جزا دے گا پھر قیامت کے برپا ہونے پر تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے تصرف میں ہو، اس کی تدبیر اور اس کے احسان کے تحت زندگی بسر کر رہے ہو، اور تم (دنیا میں) اس کے احکام دینیہ اور اس کے بعد (آخرت میں) اس کے قانون جزا و سزا کے تحت زندگی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 26–31

قول باری ہے : (علم آدم الاسماء کلھا ثم عرضھم علی الملٓئکۃ فقال انبونی باسماء ھولآء ان کنتم صدقین۔ (اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا : اگر تمہارا خیال صحیح ہے کہ (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتائو اگر تم سچے ہو) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کو تمام اشایء کے نام سکھا دیئے، یعنی اجنسا کا ان کے معانی کے ساتھ کیونکہ اسماء کے ذکر میں لفظ کے اندر عموم ہے اور قو ل باری : ثم عرضھم علی المٓئکۃ کے اندر اس بات پر دلالت ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کی اولاد کے ناموں کا ارادہ کیا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

89 انسان کا وجود عنایت خداوندی کا ایک عظیم الشّان مظہر : کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کتم عدم سے نکال کر خلعت وجود سے نوازنے کا عظیم الشان اور بےمثل انعام و احسان اس پر فرمایا، سو تم لوگ سوچو کہ اس دنیا میں آنے سے پہلے تم لوگ مختلف اجزاء و ذرات کی شکل میں پھیلے بکھرے تھے، جو کہیں پانی اور ہوا میں پرا گندہ و منتشر تھے، اور کہیں مٹی اور دوسرے مختلف غذائی اجناس واقسام میں پھیلے ہوئے، اور مختلف درجات و طبقات میں اور مختلف حالات میں تھے، اور اس قدر پراگندہ و منتشر اور پر دئہ عدم میں مخفی و مستور، کہ اس حضرت انسان کا کہیں کوئی نام و نشان اور ذکر تک موجود نہ تھا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا : { ہَلْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اللہ کا انکار کیسے تشریح : بار بار اس بات کی تاکید کی جاتی ہے کہ کفر و بےیقینی سے باز آجاؤ اپنے خالق ومالک کو پہنچان لو۔ پچھلی آیت میں گمراہوں کی صفات بیان کرکے ان کے برے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی حیثیت اور مہربانی جو اس نے انسان کو زندگی عطا کرکے دی، یاد دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم لوگ اگر اس حقیقت پر غور کرو تو کبھی کفر نہ کرو۔ اللہ فرماتا ہے کہ تم بالکل بےجان تھے یہ عالم ارواح کی طرف اشارہ ہے ہم نے تمہیں مادی وجود دیکر دنیا میں بھیج دیا یہاں تم اپنے جسم کے ساتھ ایک زندگی گزار رہے ہو پھر تمہیں اس جسم سے جدا کردیا جائے گا اور تم عالم برزخ میں منتقل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–29

آیات 21- 29 اسرارو معارف تفسیر : دنیا میں صرف دو قومیں ہیں : یا ایھا الناس اعبدوار بکم…وانتم تعلمون۔ ایمان وکفر کا فرق اور مومن کے اوصاف اور کافر کی عادات ارشاد فرما کر پوری آبادی میں صرف دو قومیں مقرر فرمائی ہیں۔ ایک مومن دوسری کافر جو محض دعویٰ کرنے سے نہیں بن سکتا بلکہ ایمان اور کفر کا معیار بھی ارشاد ہوا اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے ان کافروں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی جو عقائد تو کفر یہ رکھتے ہیں مگر مدعی اسلام کے ہیں ۔ ان کی حرکات فساد کا سبب ہیں جس کو وہ اصلاح کا نام دیتے ہیں یہ کفر ہی کی خطرناک تر قسم ہے کوئی تیسری قوم نہیں جب حق و باطل واضح ہوگیا تو اب صلائے عام ہے ساری نوع انسانی کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 27–28

ف 2 ۔ تعجب اور انکار کے طور پر فرمایا کہ توحید کے دلائل کی وضاحت کے بعد تمہارا شرک قابل تعجب ہے۔ (بیضاوی) یہاں دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر ہے۔ انسان پہلے معدوم تھا پھر وجود میں آیا، عدم پہلی موت اور وجود پہلی زندگی ہے دوسری موت یہ معروف موت ہے اور دوسری زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:28) کیف حرف استفہام ہے۔ کیسے، کیونکر، کس طرح۔ یہاں سوال سے مقصود کفار کی جرأت انکار پر استعجاب ہے یا برائے زجر و توبیخ آیا ہے۔ کیف کا استعمال قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی آیا ہے سیاق ہمیشہ توبیخ و تنبیہ ہی رہا ہے۔ وکنتم ۔۔ الخ جملہ حالیہ ہے۔ جملہ کیف تکفرون سے ھال ہے (توجہیہ کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر حقانی آیتہ ہذا) الف : کنتم امواتا (حالانکہ) تم بےجان تھے۔ پیدائش سے پہلے، صلب پدر میں تشکیل سے پہلے۔ ثم حرف عطف ہے ماقبل سے مابعد کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے خواہ یہ متاخر ہونا۔ بالذات ہو۔ مثلاً اثم اذا ماوقع امنتم بہ (10:51) کیا جب وہ آواقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے۔ یا یہ متاخر ہونا رتبہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 28–29

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 29 (کیف) : کیونکر، کس لئے، کیسے ؟ (اموات): مردے، بےجان (موتہ کی جمع ہے) ۔ (احیا): اس نے زندگی دی۔ (ثم) پھر، اس کے بعد ۔ (یمیت): وہ موت دے گا۔ (یحی) : وہ زندہ کرے گا۔ (الیہ) : اسی کی طرف (الیٰ ، طرف، تک ، ہ، وہ) ۔ (ترجعون): تم لوٹائے جاؤ گے۔ (ھو الذی) : وہی تو ہے (ھو، وہ ، الذی، جو، جس نے۔ ترجمہ ہوگا وہی تو ہے جس نے ) ۔ (جمیع): سب کا سب۔ (استوی): وہ برابر ہوا، اس نے توجہ کی۔ (سوی): اس نے برابر کیا۔ (سبع): اس نے برابر کیا۔ (سموت): آسمان (سماء کی جمع ہے ) ۔ (علیم): بہت زیادہ جاننے والا۔ تشریح : آیت نمبر 28 تا 29 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنی بےانتہا نعمتوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–29

قرآن کے منکر لوگ یہ طعن کرتے تھے کہ جس کلام میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر ہو وہ کلام الہی کیونکر ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کا جواب دیا کہ مخلوق ہونے میں حقیر اور صاحب شان چیزیں سب برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات سے جس چیز کی چاہے مثال بیان کرے اس پر طعن نافہمی ہے۔ بد عہد لوگوں سے مراد یہود لوگ ہیں کہ تورات میں ان سے حضور سید عالم ﷺ کی اطاعت اور رشتہ و قرابت کے تلقات، مسلمانوں کی دوتی و محبت، تمام انبیاء کا ماننا، تمام کتب الہی کی تصدیق، حق پر جمع ہونا وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا۔ ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا، تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 27–29

[23] اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے جس کی رو سے تمام انسانوں پر اس کی بندگی عائد ہوتی ہے اور مضبوط باندھ لینے سے اشارہ '' عہدالست '' کی طرف ہے جو روز ازل تمام نوع انسانی سے اس فرمان کی پابندی کا لیا گیا تھا۔ ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 172 صفحہ 273۔ [24] جن تمدنی و معاشرتی روابط و تعلقات پر انسان کی اجتماعی و انفرادی فلاح کا انحصار ہے اور جسے درست رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے انہیں یہ لوگ کاٹتے ہیں۔ [25] قرآن کی اصطلاح میں زمین میں فساد برپا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ زمین کا نظم و نسق اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین کے مطابق چلانے کی بجائے اس کو من مانے طریقے پر چلایا جائے۔ اس زمین…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ زبان سے تو اللہ تعالیٰ کا انکار کیا جاسکتا ہے ، مگر حقیقتا انکار ممکن نہیں ، جب تک موت وحیات کا ہمہ گیر قانون موجود ہے اور فنا وزیست کے واقعات سے بہرحال مفر نہیں ‘ اس وقت تک ایک زبردست حی وقیوم خدا پر ایمان ضروری ہے ۔ پھر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کائنات کی تمام چیزیں انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں ، آفتاب سے لے کر ذرہ تک اور ذرہ سے پہاڑ تک سب اسی کے لئے زندہ ومصروف عمل ہیں ، تو ہمیں واشگاف طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سارے نظام آفادہ کے پس پردہ کوئی رحمن ورحیم کرم فرما ہے ۔ (آیت) ” خلق لکم ما فی الارض جمیعا “۔ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان ساری…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 28–29

ف 2۔ بھلا کیونکر اللہ تعالیٰ کی نا شکری اور نا سپاسی کرتے ہو حالانکہ تم بالکل بےجان تھے۔ پھر تم کو اس خدا نے زندہ کیا ، پھر اس زندگی کے بعد وہ تم کو موت دے گا ، پھر تم کو دوبارہ زندہ کرے گا ، پھر اسی کی خدمت میں تم سب کی باز گشت ہوگی۔ وہ قادر مطلق ایسا ہے جس نے زمین کی تمام موجودات تمہارے نفع اور تمہارے فائدے کیلئے پیدا کی پھر اس نے آسمانوں کی تکمیل کی جانب توجہ فرمائی اور ان کو ٹھیک اور درست کیا اور ان کو سات آسمان بنادیا اور وہ ہر ایک چیز کا خواب جاننے والا ہے۔ ( تیسیر) ان آیتوں کا تعلق رکوع کی ابتدائی آیت کے ساتھ ہے۔ بیچ میں قرآن اور رسالت کی دلیل تھی ۔ پھر کفار کے معارضہ کا جواب تھا ، اب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–28

ف 1۔ اس میں تمام تعلقات شرعیہ داخل ہوگئے۔ 2۔ یہاں تک اس شبہ کے جواب کا سلسلہ تھا جو کفار نے پیش کیا تھا کہ کلام الہی میں ایسی کم قدر چیزوں کا ذکر کیوں آیا اب اس مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں جو اس سے اوپر والی آیت یا ایھا الناس اعبدوا میں متعلق توحید کے مذکور ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے انکار کا مطلب رسول کی رسالت کا انکار ہے : 64: مخاطب وہی لوگ ہیں جو عہد تو ڑنے والے اور فساد فی الارض کرنے والے ہیں۔ ان لوگوں نے اگرچہ بظاہر اللہ کا انکار نہیں کیا مگر یہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا یا تو اقرار ہی نہیں کیا اور اگر اقرار کیا تو بھی سچے دل سے اقرار کرنے والے نہ تھے یہی وجہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا انکار کرنے والوں کو اللہ ہی کا انکار کرنے والے قرار دیا اور پھر مخاطب فرما کر پوچھا کہ تم اللہ کا کیسے انکار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تم کو زندہ کیا یعنی پیدا کیا۔ تم مردہ تھے یعنی تمہارا وجود موجود نہ تھا۔ اگر انسان اوّل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The earlier verses affirmed the existence and the Oneness of Allah, and prophethood, giving self-evident proofs and refuting the whimsical and false notions of the doubters and the disbelievers. These two verses speak of the blessings which Allah has showered on man, pointing out that all the same there are men who do not recognize the bounty of Allah and persist in their denial -- the suggestion being that if they do not want to take the trouble of considering the arguments which have been advanced by the Holy Qur'an in the earlier verses, they should, as every man with an undistorted nature…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

31. The injunctions or ordinances issued by a sovereign to his servants and subjects are termed 'ahd in Arabic since compliance with them becomes obligatory for the latter. 'Ahd has been used here in this sense. The 'ahd referred to signifies God's eternal command that all human beings are obliged to render their service, obedience and worship to Him alone. 'After its binding' refers to the promise made by mankind to remain faithful to the injunctions of God at the time of Adam's creation. (For details see verse 7: 172) 32. That is, the transgressors strike their blows at those very…

Read the full tafseer →