Al-Baqara 2:27

Al-Baqara · from ayah 27

2:27

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ ۪— وَیَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۟الَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيُفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who break the covenant of Allah after contracting it and sever that which Allah has ordered to be joined and cause corruption on earth. It is those who are the losers.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:27

اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اُسے کاٹتے ہیں، اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پختہ کرنے کے بعد بھی توڑ دیتے ہیں اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹ ڈالتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں ایسے ہی لوگ بڑا نقصان اٹھانے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد، اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ نافرمان وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو، اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو قطع کرتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یعنی) جو لوگ اللہ سے عہد کو پختہ کرنے کے بعد اسے توڑ دیتے ہیں۔ اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں قطع کرتے ہیں اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو اللہ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا اس کو کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو نامراد ہونے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو توڑتے ہیں اللہ کے عہد کو اس کے پختہ کرنے کے بعد اور جو قطع کرتے ہیں ان (تعلقات اور رشتوں) کو جن کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور وہ فساد پھیلاتے ہیں (اللہ کی) زمین میں یہی لوگ ہیں خسارے والے

— مولانا اسحاق مدنی

جو اللہ سے اپنے معاہدہ کو اس کے استحکام کے بعد توڑتے ہیں۔ اور جس چیز کو اللہ نے حکم دیا تھا جوڑے رکھنے کا اسے کاٹتے ہیں۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ تو بس یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو توڑ دیتے ہیں اللہ کے (ساتھ کیے ہوئے) عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد۔ اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں۔ اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

who break Allah's covenant after ratifying it; who cut asunder what Allah has ordered to be joined, and who produce chaos on the Earth. These are the people who are indeed the losers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

— those who break the Covenant of Allah after it has been made binding, and cut off the relations Allah has commanded to be joined, and spread disorder on the earth - it is these who are the losers.

— Muhammad Taqi Usmani

— those who break the Covenant of Allah after it has been made binding, and cut off the relations Allah has commanded to be joined, and spread disorder on the earth - it is these who are the losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who break Allah's covenant after ratifying it, and sever what Allah has ordered to be joined and do mischief on earth, it is they who are the losers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who break the covenant of Allah after ratifying it, and sever that which Allah ordered to be joined, and (who) make mischief in the earth: Those are they who are the losers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who break the covenant of Allah after contracting it and sever that which Allah has ordered to be joined and cause corruption on earth. It is those who are the losers.

— Saheeh International

who break their established covenant with Him and the relations He has commanded to be kept and who spread evil in the land. These are the ones who lose a great deal.

— Muhammad Sarwar

Who break the covenant of Allah after its confirmation and cut asunder what Allah has ordered to be joined, and make mischief in the land; these it is that are the losers.

— Muhammad Habib Shakir

Who break the covenant of Allah after the ratification thereof, and sunder that which Allah hath commanded should be joined, and act corruptly on the earth. These! they are the losers.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who break Allah's Covenant after it is ratified, and who sunder what Allah Has ordered to be joined, and do mischief on earth: These cause loss (only) to themselves.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–27

اللہ جل شانہ کی مثالیں اور دنیا ابن عباس ابن مسعود اور چند صحابہ ؓ سے روایت ہے کہ جب اوپر کی تین آیتوں میں منافقوں کی دو مثالیں بیان ہوئیں یعنی آگ اور پانی کی تو وہ کہنے لگے کہ ایسی ایسی چھوٹی مثالیں اللہ تعالیٰ ہرگز بیان نہیں کرتا۔ اس پر یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں جب قرآن پاک میں مکڑی اور مکھی کی مثال بیان ہوئی تو مشرک کہنے لگے بھلا ایسی حقیر چیزوں کے بیان کی قرآن جیسی اللہ کی کتاب میں کیا ضرورت تو جواباً یہ آیتیں اتریں اور کہا گیا کہ حق کے بیان سے اللہ تعالیٰ نہیں شرماتا خواہ وہ کم ہو یا زیادہ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکہ میں اتری حالانکہ ایسا نہیں واللہ اعلم۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة الْبَقَرَة 31 بادشاہ اپنے ملازموں اور رعایا کے نام جو فرمان یا ہدایت جاری کرتا ہے، ان کو عربی محاورے میں عہد سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ ان کی تعمیل رعایا پر واجب ہوتی ہے۔ یہاں عہد کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے، جس کی رو سے تمام نوع انسانی صرف اسی کی بندگی، اطاعت اور پرستش کرنے پر مامور ہے۔ ”مضبُوط باندھ لینے کے بعد“ سے اشارہ اس طرف ہے کہ آدم کی تخلیق کے وقت تمام نوع انسانی سے اس فرمان کی پابندی کا اقرار لے لیا گیا تھا۔ سُورہ اعراف، آیت 172 میں اس عہد و اقرار پر نسبتًہ زیادہ تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ سورة الْبَقَرَة 32 یعنی جن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ سے ثابت ہوا کہ عہد و معاہدہ کی خلاف ورزی شدید گناہ ہے، جس کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تمام نیکیوں سے محروم ہوجائے۔ تعلقات کے حقوق شرعیہ ادا کرنا واجب ہے اس کے خلاف کرنا گناہ عظیم وَ يَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ سے معلوم ہوا کہ جن تعلقات کو قائم رکھنے کا شریعت اسلام نے حکم دیا ہے ان کا قائم رکھنا ضروری اور قطع کرنا حرام ہے، غور کیا جائے تو دین و مذہب نام ہی ان حدود وقیود کا ہے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادایئگی کے لئے مقرر کی گئی ہیں، اور اس عالم کا صلاح و فساد انہیں تعلقات کو درست رکھنے یا توڑنے پر موقوف ہے، اسی لئے ان تعلقات کے قطع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رشتۂ رحم کی اہمیت: وَیَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ: اور اس چیز کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، ہمارے نزدیک اس سے مراد رشتۂ رحم اور رشتۂ قرابت کا کاٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے عہد و پیمان توڑنے کے بعد دوسرا قدم جو ایک نافرمان اٹھاتا ہے وہ حقوق رحم سے بے پروائی یا ان میں بے اعتدالی اور نا انصافی ہے۔ چونکہ تمام صلاح و فلاح اور تمام تمدن و معاشرت کی بنیاد اسلام نے اللہ تعالیٰ سے تقویٰ پر اور رشتہ رحم کے احترام پر رکھی ہے اس وجہ سے جو شخص ان دونوں پابندیوں سے آزاد ہوا اس کا ہر اقدام لازماً فساد فی الارض کا موجب ہو گا۔ چناں چہ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 مفسرین نے عَھْدَ کے مختلف مفہوم بیان کئے ہیں۔ مثلا اللہ تعالیٰ کی وہ وصیت جو اس نے اپنے اوامر بجا لانے اور نواہی باز رکھنے کے لئے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعے سے مخلوق کو کی۔ 2۔ وہ عہد جو اہل کتاب سے تورات میں لیا گیا کہ نبی آخر الزمان ﷺ کے آجانے کے بعد تمہارے لئے ان کی تصدیق کرنا اور ان کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہوگا جو اولاد آدم کے بعد تمام ذریت آدم سے لیا گیا۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ (وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ) 7:172 نقض عہد کا مطلب عہد کی پرواہ نہ کرنا (ابن کثیر) 27۔ 2 ظاہر بات ہے کہ نقصان اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کو ہی ہوگا اللہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–28

(24) عہد سے مراد اکثر مفسرین نے وہ عہد الست لیا ہے جس کا ذکر سورة اعراف (7: 172) میں ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کرنے سے بہت پہلے آنے والی تمام روحوں کو جمع کرکے ان سے پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، سب نے اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے کا اقرار کرکے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے، پھر اس آیت میں عہد کو پختہ کرنے سے مراد بظاہر یہ ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے رسول آتے رہے جو اس عہد کو یاد دلاکر اللہ تعالیٰ کے خالق ومالک ہونے پر دلائل قائم کرتے رہے۔ اس عہد کی ایک اور تشریح بھی ممکن ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد وہ عملی اور خاموش عہد (tacit covenant)…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جس طرح اس سورت کے آغاز میں متقین کی صفات کو تفصیل سے بیان کیا گیا تھا اسی طرح یہاں فاسقین کی خصوصیات کو بھی قدرے تفصیل سے لیا جاتا ہے ۔ کیونکہ اس پوری سورت میں روئے سخن ایسے ہی لوگوں کی طرف رہے گا ۔ نیز انسان ہر زمانے میں انہی ہر طبقات میں منقسم رہتے ہیں اور وہ یہ ہیں ۔ الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (27) ” جو اللہ کے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں ، اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ، حقیقت میں یہی لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 جیسے قطع رحم کرنا، انبیاء اور علماء اور واعظین، اور مومنین اور نماز اور دیگر جملہ امور خیر سے اعراض کرنا۔ 5 فساد سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو ایمان سے نفرت دلاتے تھے اور مخالفان اسلام کو ورغلا کر مسلمانوں سے مقاتلہ کراتے تھے اور حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور صلحائے امت کے عیب نکال کر تشہیر کرتے تھے تاکہ آپ کی اور دین اسلام کی بےوقعتی لوگوں کے ذہن نشین ہوجائے۔ اور مسلمانوں کا راز مخالفوں تک پہنچاتے تھے اور طرح طرح کی رسوم و بدعات خلاف طریقہ اسلام پھیلانے میں سعی کرتے تھے۔ 6 مطلب یہ ہے کہ ان حرکات ناشائستہ سے اپنا ہی کچھ کھوتے ہیں، توہین اسلام اور تحقیر صلحائے امت کچھ بھی نہ ہو سکے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مِیْثَاقِہٖص اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان سب سے بڑا عہد ”عہد الست“ ہے ‘ جس کا ذکر سورة الاعراف میں آئے گا۔ یہ عہد عالم ارواح میں تمام ارواح انسانیہ نے کیا تھا ‘ ان میں میں بھی تھا ‘ آپ بھی تھے ‘ سب تھے۔ الغرض تمام کے تمام انسان جتنے آج تک دنیا میں آ چکے ہیں اور جو قیامت تک ابھی آنے والے ہیں ‘ اس عہد کے وقت موجود تھے ‘ لیکن صرف ارواح کی شکل میں تھے ‘ جسم موجود نہیں تھے۔ اور یہ بات یاد رکھیے کہ انسان کا روحانی وجود مکمل وجود ہے اور اوّلاً تخلیق اسی کی ہوئی تھی۔ ”عہدالست“ میں تمام بنی آدم سے اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا : اَلَسْتُ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

35 صلہ رحمی کی تاکید اوراقرباء سے حسن سلوک :۔ اس آیت میں فاسقوں کی پوری تعریف بیان فرما دی۔ یعنی ایک تو اللہ سے کیے ہوئے عہد (عہد الست بربکم) (172: 7) کو توڑ دیتے ہیں جو یہ تھا کہ ہم صرف اللہ ہی کی بندگی کریں گے اور دوسرے جن جن چیزوں، بالخصوص رشتوں ناطوں کو ملائے رکھنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا تھا وہ توڑ ڈالتے ہیں۔ پہلی قسم میں بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کا ذکر ہے اور دوسری قسم میں بندے اور بندے کے درمیان تعلق کا۔ اگر ان دونوں قسم کے تعلقات کا لحاظ نہ رکھا جائے تو یہیں سے فساد کی جملہ اقسام پیدا ہوجاتی ہیں۔ قرابت داری توڑنا کتنا بڑا گناہ ہے۔ یہ درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

94 ۔ (آیت) ” عھد اللہ “۔ یعنی معاہدۂ طاعت کو۔ عہد ایمان کو، توحید کے حاسۂ فطری کو، اقرار توحید ربوبیت تو ایسا سیدھا سادہ صاف مسئلہ ہے کہ ہر انسان کی فطرت سلیم اس عقیدہ پر گواہ ہے۔ نافرمان وفاسق خود اپنی اس فطرت سلیم سے، اقرارفطری سے بغاوت کرتا رہتا ہے۔ اور اس لیے یہاں فاسقین کے تحت میں ہر قسم کے اہل کفر آگئے۔ عنی بھذہ الایۃ جمیع اھل الکفر والشرک والنفاق وعہدہ الی جمیعھم فی توحیدہ ما وضع لھم من الادلۃ الدالۃ علی ربوبیتہ (ابن کثیر) (آیت) ” من بعد میثاقہ۔ اس عہد فطرت کی توثیق ہر دور اور ہر زمانہ میں پیغمبروں کی تعلیمات کے ذریعہ سے ہوتی رہی ہے۔ والمرادبہ ما وثق اللہ بہ عہدہ من الایات والکتب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ : (الآیة) مفسرین نے عہد کے مختلف مفہوم بیان کئے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کی وہ وصیت جو اس نے اپنے اوامر بجالانے اور نواہی سے باز رکھنے کے لئے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ مخلوق کو کی ہے، دوسرا وہ عہد جو اہل کتاب سے تورات میں لیا گیا کہ نبی آخر الزمان کے آجانے کے بعد تمہارے لئے ان کی تصدیق کرنا اور ان کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہوگا، تیسرے وہ عہد الست جو صلب آدم سے نکالنے کے بعد تمام ذریت آدم سے لیا گیا جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے : '' وَاِذْ اخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَلِی آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِہِمْ '' نقص عہد کا مطلب عہد کی پرواہ نہ کرنا ہے۔ (ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الَّذِيْنَ ( جو) یہ الفاسقین کی صفت ہے یا تو مذمت اور فسق کی تاکید کے لیے لائی گئی ہے اور اگر فاسقین سے کفار اور مسلمان عاصی مراد ہوں تو اس وقت فاسقین سے کفار اور مسلمان عامی مراد ہوں تو اس وقت فاسقین کو اس صفت سے مقید کرنا منظور ہے۔ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ ( اس کے عہد کو توڑتے ہیں) اللہ کے عہد سے یا تو وہ عہد مراد ہے جو اہل کتاب سے توراۃ میں لیا گیا تھا کہ محمد ﷺ پر ایمان لائیں اور جو نعت اس میں مذکور ہے اسے ظاہر کردیں اخفاء نہ کریں یا وہ عہد الست مراد ہے جو تمام بنی آدم سے لیا گیا تھا نقض کے اصلی معنی رسّی وغیرہ کے بل کھولنے کے ہیں پھر اسکا استعمال عہد توڑنے میں ہونے لگا کیونکہ عہد کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(27) اس قسم کی مثال سے یہودی گمراہ ہوتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے بہت تاکید وزور کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں اور پھر بدعہدی کا ارتکاب کرتے ہیں اہل ایمان اور رسول اکرم ﷺ کے ساتھ صلہ رحمی کو ختم کرتے ہیں اور لوگوں کو رسول اللہ ﷺ اور قرآن حکیم سے بدظن کرتے ہیں یہی لوگ دنیا وآخرت کے تباہ ہونے کی وجہ سے گھاٹے اور خسارے میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اللہ کی کتاب سے ہدایت پانے کے بجائے گمراہ ہونے والے فاسقوں کی تین صفات ذکر کی گئی ہیں، اللہ کے عہد کو توڑنا، رشتہ داری اور دوسرے باہمی تعلقات قطع کرنا اور زمین میں فساد کرنا، جیسا کہ مشرکین نے اس عہد کو توڑا جو (اَلَسْتُ بِرَبِّكم) کے ساتھ ان سے لیا گیا تھا۔ [ الأعراف : 172 ] یہود و نصاریٰ نے وہ عہد توڑا جو ان سے نبی ﷺ پر ایمان لانے کے لیے لیا گیا تھا، کفار قریش نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے رشتہ داری کو قطع کیا اور منافقین نے زمین میں فساد پھیلایا اور یہ تینوں صفات کفار کے تمام گروہوں میں پائی جاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 27 اس آیت میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین یہ فاسقین کی لغت ہونے کی بنا پر منصوب ہے اگر تو چاہے تو مبتدا محذوف کی خبر بنا کر حالت رفع میں کر دے یعنی ھم الذین۔ اس کی مزید بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ینقضون النقض کسی دیوار، یا رسی یا عہد کو توڑ دینا۔ النقاضۃ، بالوں کی رسی کو توڑ دینا۔ المناقضۃ، ایسا کلام جس کے معنی میں تناقض ہو۔ النقیضۃ فی الشعی ایسا شعر جو کسی کے جواب میں کہا جائے۔ النقض۔ توڑی ہوئی چیز۔ علماء کا اس عہد کی تعیین میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے لیا تھا جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–27

(1) ابن جریر نے اور ابن حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے منافقین کے لئے ان دونوں مثالوں کو بیان فرمایا قولہ لفظ آیت ” کمثل الذی اس تو قد نارا “ تو منافقین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ان اللہ لا یستحی ان یضرب مثلا “ الی قولہ ” اولئک ہم الخسرون “۔ (2) امام عبد الغنی نے اپنی تفسیر میں اور الواحدی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے معبودوں کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” وان یسلبھم الذباب شیئا “ (اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے) اور (جھوٹے) معبودوں کے مکر کو ذکر کرتے ہوئے ان کو مکڑی کے گھر سے تشبیہ دی تو مشرکین…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ الَّذِيْنَ : جو لوگ ] [ يَنْقُضُوْنَ : توڑتے ہیں ] [ عَهْدَ اللّٰهِ : اللہ کے وعدہ کو ] [ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِه ٖ ۠ : اس کی پختگی کے بعد ] [ وَ يَقْطَعُوْنَ : اور وہ لوگ کاٹتے ہیں ] [ مَآ : اس کو جس کا ] [ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ: حکم دیا اللہ نے ] [ اَنْ يُّوْصَلَ : کہ وہ جوڑا جائے ] [ وَيُفْسِدُوْنَ : اور وہ لوگ توازن بگاڑتے ہیں ] [ فِى الْاَرْضِ ۭ : زمین میں ] [ اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ : یہ لوگ ہی گھاٹا پانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قرآنی مثالیں فاسقوں کے لیے گمراہی کا سبب ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو طرح طرح کی مثالیں پیش فرمائی ہیں، سمجھانے کے لیے اور معاندین کو راہ حق پر لانے کے لیے ہیں لیکن ان لوگوں میں بہت سے لوگ ان مثالوں پر اعتراض کرتے ہیں اور ان کا یہ انکار اور عناد ضلال اور اضلال کا سبب ہوجاتا ہے اور جو اہل ایمان ہیں وہ مزید اپنے ایمان پر ثابت قدم ہوجاتے ہیں اور یہ جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے صحیح اور درست ہے، اور موقع کے مطابق ہے۔ جو لوگ اس مثال کو اپنے لیے ذریعہ کفر بنا لیتے ہیں یعنی مثال پر اعتراض کر کے اپنے کفر میں مزید اضافہ کرلیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو حکم عدولی پر کمر باندھے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–27

قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے پر کافروں کا ایک شبہ اور اسکا جواب قال تعالیٰ ان اللہ لا یستحیی ان یضرب مثلا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون گزشتہ آیات میں اعجاز قرآن کی دلیل مذکور تھی۔ یہاں منکرین کے ایک شبہ کا جواب مذکور ہے۔ شبہ کی تقریریہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے قران کریم میں کہیں مکھی اور کہیں مکڑی کی مثال دی ہے اس پر کافروں نے یہ اعتراض کیا کہ یہ قرآن اگر اللہ کا کلام ہے تو اس میں حقیر اور خسیس چیزوں کا ذکر نہ ہونا چاہئے کیونکہ ایسی خسیس اور حقیر چیزوں کا ذکر اس امر کی دلیل ہے کہ یہ اللہ کی کتاب نہیں ہے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ان اللہ لا یستحیی ان یضرب مثلاما بعوضۃ فما فوقھا فا ما الذین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 68 ۔ یہ الفاسقین کی صفت کاشفہ ہے یعنی اللہ کے عھد توحید کو توڑتے ہیں اللہ کے وصل کو کاٹ کر غیر اللہ کو پکار رہے ہیں اور زمین میں شرک کے ذریعے فساد پھیلا رہے ہیں۔ عہد اللہ سے مراد توحید اور احکام الٰہی کا عہد ہے۔ قال شیخ (رح) تعالیٰ ما عہد اللہ الیھم ای من التوحید والاحکام۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ وعھدہ الی جمیعھم فی توحید و ماوضع لھم من الادلۃ علی ربوبیتہ وعھدہ الیہم فی امرہ وخصہ ما احتج بہ لرسلہ من المعجزات الخ (ابن کثیر ص 66 ج 1) یعنی اس عہد کی توثیق ہمیشہ آفاقی اور انفسی دلائل سے کتب منزلہ اور معجزات انبیاء (علیہم السلام) سے ہوتی رہی المراد ما وثق اللہ بہ عھدہ من الایات والکتاب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–27

گزشتہ سے پیوستہ : پچھلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت ، صداقت اور اس کے منزل من اللہ ہونے اور حضور ﷺ کی رسالت کا ذکر کیا تھا۔ اس سے پہلے توحید اور ردشرک کے متعلق بیان تھا۔ لوگوں کے اس خیال کی تردید تھی کہ یہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام نہیں۔ بلکہ پیغمبر (علیہ السلام) کا اپنا وضع کردہ ہے۔ اور پھر اس ضمن قرآن پاک کے چیلنج کا ذکر تھا۔ کہ اگر تمہیں اس کے منزل من اللہ ہونے میں کسی قسم کا شک و بہ ہے۔ تو اس جیسی ایک ہی سورة بنا کر لاؤ۔ اس کے ساتھ پی گوئی کردی گئی تھی کہ قیامت تک تم اس قرآن کی مثل نہیں لاسکو گے لہٰذا یاد رکھو کہ جب ایسا کلام پیش کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے تو پھر اس کلام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَہْدَ اللہِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِہٖ ۝ 0 ۠ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللہُ بِہٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ۝ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ۝ 27 نقض النَّقْضُ : انْتِثَارُ العَقْدِ مِنَ البِنَاءِ والحَبْلِ ، والعِقْدِ ، وهو ضِدُّ الإِبْرَامِ ، يقال : نَقَضْتُ البِنَاءَ والحَبْلَ والعِقْدَ ، وقد انْتَقَضَ انْتِقَاضاً ، والنِّقْضُ المَنْقُوضُ ، وذلک في الشِّعْر أكثرُ ، والنَّقْضُ كَذَلِكَ ، وذلک في البِنَاء أكثرُ «2» ، ومنه قيل للبعیر المهزول : نِقْضٌ ، ومُنْتَقِض الأَرْضِ من الكَمْأَةِ نِقْضٌ ، ومن نَقْضِ الحَبْل والعِقْد استُعِيرَ نَقْضُ العَهْدِ.…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–27

ترکیب : اللہ اسم ان لایستحی الخ اس کی خبر جملہ اسمیہ مستانفہ ہوا لایستحیی بمعنی لایترک فعل بافاعل مثلاً مفعول یضرب ما ابہامیہ کہ جو نکرہ کو ابہام اور شیوع کو زیادہ دیتا ہے کقولک اعطنی کتابا ما ای ایّ کتاب کان یا زائدہ ہے جیسا کہ اس قول میں فبمارحمۃ من اللہ ای برحمۃ من اللہ بعوضۃ عطف بیان ہے مثلاً کا۔ ممکن ہے کہ مانکرہ کو موصوفہ اور بعوضۃ کو اس کی صفت قرار دیا جائے فما فای عطف کے لیے اور مانکرہ موصوفہ فوقہا اس کی صفت بعوضۃ معطوف علیہ پس یضرب اپنے فاعل اور مفعول اور اس کے متعلقات سے مل کر ان مصدریہ کی وجہ سے تاویل صدر میں ہو کر مفعول ہوا۔ لایستحیی کا فاما فائے تعقیبہ ہے کس لیے کہ مرتبہ تفصیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مِیْثَاقِہٖص وَیَقْطَعُوْنَ مَآاَمَرَاللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِیْ الْاَرْضِط اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 27) (جو اللہ کے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں نامراد ہونے والے) فسق کا معنی و مفہوم فِسقکامعنی ہے ،” نکل جانا “ بلکہ زیادہ واضح مفہوم میں ” اچھل کر نکل جانایا پھلانگتے ہوئے نکل جانا “۔ عربی کا ایک محاورہ ہے جس سے اس کے معنی پر روشنی پڑتی ہے۔ فسقت الرطبۃ عن القشرۃ ” کھجور (کی گُٹھلی) چھلکے سے پھدک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ قرآن مجید کی ابتدا اور البقرۃ کے آغاز میں ابتدائی ‘ بنیادی اور مرکزی باتوں کا بیان ہوا ہے یہاں اس عہد کا ذکر ہورہا ہے جس کی پاسداری کا حکم ہے جو روز اول ہی سے بنی نوع انسان سے لیا گیا تھا۔ تمام مفسرین نے اللہ کے عہد سے مراد وہی عہد لیا ہے جس کا تفصیلی تذکرہ سورة الاعراف : 172 میں آیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو آدم (علیہ السلام) اور اس کی پوری اولاد سے عہد لیا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں ؟ سب نے عہد کیا کہ تو ہی ہمارا رب ہے۔ اسی عہد کی یاد اور وفا داری کے لیے انبیاء عظام مبعوث فرمائے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نحو : ماذا اس کی دو صورتیں ہیں۔ نمبر 1 : ذا اسم موصول ہو اور الذی کے معنی میں ہو نمبر 2: ما استفہامیہ ہو۔ پس دونوں کلمے مل کر اسم استفہام بن گئے اور ایک کلمہ ہوئے۔ پہلی صورت میں ماؔ مبتدا اور ذا اس کی خبر ہے۔ اپنے جملہ صلہ یعنی اراد کے ساتھ مل کر اور ضمیر محذوف ہے۔ جب اسم استفہام مان لیں تو اراد کی وجہ سے محلًا منصوب ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے ایّ شیء اراداللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ نے کس چیز کا ارادہ کیا۔ الارادۃ۔ یہ مصدر ہے اَرَدت الشیٔ کہتے ہیں جب تیرا نفس اس کو طلب کرے اور اس کی طرف مائل ہو۔ متکلمین کے نزدیک ایک وجہ سے خاص کرتا ہے دوسری کی بجائے۔ معتزلہ کا عقیدہ : البتہ معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27۔ (آیت)” الذین ینقضون “۔ جو مخالفت کرتے ہیں اور چھوڑتے ہیں ۔ نقض کا معنی توڑنا ہے (عہد اللہ) اللہ تعالیٰ کا وہ امر جس کا ان سے میثاق کے دن عہد لیا ، اپنے اس قول کے ساتھ ” الست بربکم “ (قالوابلی) اور کہا گیا ، اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کے ذریعے (آیت)” واذ اخذاللہ میثاق النبیین “۔ الایۃ انبیاء کرام (علیہم السلام) اور تمام امتوں سے لیا اور کہا گیا ہے کہ اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جو تورات میں اللہ تعالیٰ نے لیا کہ حضور ﷺ پر ایمان لائیں گے اور اس کی صفت بیان کریں گے (آیت)” من بعد میثاقہ “ سابقہ مضمون کی تاکید ہے میثاق پختہ عہد (آیت)” ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل “ یعنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–27

(26 ۔ 27) اس مدنی سورت میں منافقین اور ان کے ساتھ یہود کے ذکر کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں فرمائیں تھیں۔ ایک جنگل اور اندہیرے میں آگ سلگانے کی دوسری کڑک اور بجلی کی۔ اور اس سورت سے پہلے مکہ میں جو قرآن کا حصہ نازل ہوا تھا اس میں مکھی اور مکڑی اور لکڑی کے گھر کی مثالیں تھیں۔ قرآن شریف کے منکر لوگ اس پر یہ طعن کرتے تھے کہ جس کلام میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر ہو وہ کلام الٰہی کیونکر کر ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کا جواب دیا ہے کہ مخلوق ہونے میں حقیر اور صاحب شان چیزیں سب برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے جس چیز کی چاہے مثال بیان کرے اس پر طعن نافہمی ہے۔ ترمذی میں مہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–27

آیت 26 تا 27 (ان اللہ لایستحی ان یضرب مثلاماً ) ” اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی سی بھی مثال بیان کرے “ خواہ وہ کسی قسم کی مثال ہو (بعوضۃ فمافوقھا) ” مچھر کی ہو یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہو “ کیونکہ مثال حکمت اور ایضا حق پر مبنی ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔ اس آیت کریمہ میں گویا اس شخص کو جواب دیا گیا ہے جو معمولی اور حقیر اشیاء کی مثال دینے کا منکر ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتا ہے، پس یہ اعتراض کا مقام نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو تعلیم دینا اور ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرنا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اسے شکر کرتے ہوئے قبول کیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 26–31

قول باری ہے : (علم آدم الاسماء کلھا ثم عرضھم علی الملٓئکۃ فقال انبونی باسماء ھولآء ان کنتم صدقین۔ (اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا : اگر تمہارا خیال صحیح ہے کہ (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتائو اگر تم سچے ہو) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کو تمام اشایء کے نام سکھا دیئے، یعنی اجنسا کا ان کے معانی کے ساتھ کیونکہ اسماء کے ذکر میں لفظ کے اندر عموم ہے اور قو ل باری : ثم عرضھم علی المٓئکۃ کے اندر اس بات پر دلالت ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کی اولاد کے ناموں کا ارادہ کیا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

85 اللہ کے عہد سے مراد اور اس کا عموم ؟ : " عَہْدُ اللّٰہ ِ " سے مراد ہر وہ عہد ہے جسکی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو، اور اس لفظ کا عموم ایسے سب ہی عہدوں اور وعدوں کو شامل ہے جو اس وحدہ لا شریک کے واسطے سے کئے گئے ہوں، خواہ وہ انسان نے اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ سے کئے ہوں، جیسے عہد فطرت اور عہد اَلَست اور عہد ایمان و اسلام، وغیرہ، اور خواہ وہ عہد ہوں جو انسان نے کسی دوسرے انسان سے اللہ کے نام پر کئے ہوں۔ سو اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کے نام پر باندھے گئے ان عہدوں کو توڑنا اور ان کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر من مانی کرنا ان فاسقوں، بدکاروں کا ہمیشہ کا طریقہ و وطیرہ رہا ہے۔ کل بھی یہی تھا، اور آج بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

گمراہ کون ہوتے ہیں تشریح : یہ آیت پچھلی آیات کے ساتھ منسلک ہے۔ اس میں مزید وضاحت در وضاحت کی گئی ہے کہ منافق، مشرک اور نافرمان کیسے لوگ ہوتے ہیں پہلی نشانی تو یہ ہے کہ انہوں نے جو وعدہ خدائے برتر وبالا سے کیا ہے وہ اس سے منکر ہوگئے ہیں وعدہ کونسا ہے جو خالق کائنات سے کیا گیا ؟ تو اس کے بارے میں اغلب خیال نہیں بلکہ بخاری شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمام روحوں کو پیدا کیا تو ان سے سوال کیا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں “ سب نے جواب دیا کیوں نہیں، اللہ نے فرمایا میں اس اقرار پر زمین و آسمان کو گواہ کرتا ہوں پھر اس عہد کی یاد دہانی کے لئے مختلف وقتوں میں رسول اور پیغمبر بھیجے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–29

آیات 21- 29 اسرارو معارف تفسیر : دنیا میں صرف دو قومیں ہیں : یا ایھا الناس اعبدوار بکم…وانتم تعلمون۔ ایمان وکفر کا فرق اور مومن کے اوصاف اور کافر کی عادات ارشاد فرما کر پوری آبادی میں صرف دو قومیں مقرر فرمائی ہیں۔ ایک مومن دوسری کافر جو محض دعویٰ کرنے سے نہیں بن سکتا بلکہ ایمان اور کفر کا معیار بھی ارشاد ہوا اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے ان کافروں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی جو عقائد تو کفر یہ رکھتے ہیں مگر مدعی اسلام کے ہیں ۔ ان کی حرکات فساد کا سبب ہیں جس کو وہ اصلاح کا نام دیتے ہیں یہ کفر ہی کی خطرناک تر قسم ہے کوئی تیسری قوم نہیں جب حق و باطل واضح ہوگیا تو اب صلائے عام ہے ساری نوع انسانی کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 27–28

ف 2 ۔ تعجب اور انکار کے طور پر فرمایا کہ توحید کے دلائل کی وضاحت کے بعد تمہارا شرک قابل تعجب ہے۔ (بیضاوی) یہاں دو موتوں اور دو زندگیوں کا ذکر ہے۔ انسان پہلے معدوم تھا پھر وجود میں آیا، عدم پہلی موت اور وجود پہلی زندگی ہے دوسری موت یہ معروف موت ہے اور دوسری زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:27) ینقضون مضارع جمع مذکر غائب ۔ نقض مصدر (باب نصر) وہ توڑتے ہیں۔ میثاقہ مضاف مضاف الیہ ۔ المیثاق اس عہد کو کہتے ہیں جو قسموں کے ساتھ مؤکد کیا گیا ہو، اسم واحد مذکر۔ اس کی جمع مواثیق ہے۔ بمعنی عہد۔ اوثق یوثق (باب افعال) رسی سے مضبوط باندھنا۔ زنجیر مین جکڑنا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ولا یوثق و ثاقۃ احد (89:66) اور نہ کوئی ایسا جکڑنا جکڑے گا : اور وثق یثق (ضرب) وثوق ۔۔ بفلان اعتبار کرنا۔ بھروسہ کرنا ۔ ثقۃ قابل بھروسہ آدمی۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع عھد ہے۔ من بعد میثاقہ اس (عہد) کو پختہ اور مضبوط باندھنے کے بعد یقطعون مضارع جمع مذکر غائب، قطع مصدر باب فتح، وہ کاٹتے ہیں۔ ما امر اللہ بہ ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–27

لغات القرآن : آیت نمبر 26 تا 27 (لایستحی): وہ نہیں شرماتا۔ (ان یضرب) : کہ وہ بیان کرے۔ (مثلا ما) کوئی مثال۔ (بعوضۃ): مچھر۔ (فوق): اوپر۔ اس سے بڑھ کر۔ (الحق): سچ، ٹھیک ٹھیک۔ (اراد): اس نے ارادہ کیا۔ (بھذا مثلاً ) : اس مال سے۔ (بے، سے، ھذا، یہ ، مثلا، مثال) ۔ (یضل) : وہ گمراہ کرتا ہے، راستہ بھلا دیتا ہے۔ (یھدی) : وہ ہدایت دیتا ہے، وہ راستہ دکھاتا ہے۔ (ینقضون ): وہ توڑتے ہیں۔ (عھد اللہ): اللہ کا وعدہ، عہد۔ (میثاق): پکا اور پختہ وعدہ ۔ (یقطعون): وہ قطع کرتے ہیں۔ کاٹتے ہیں۔ (امر اللہ ) : اللہ نے حکم دیا۔ (ان یوصل ): یہ کہ وہ ملائیں۔ (یفسدون): وہ فساد کرتے ہیں۔ (الارض): زمین ۔ (الخسرون ): نقصان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–29

قرآن کے منکر لوگ یہ طعن کرتے تھے کہ جس کلام میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر ہو وہ کلام الہی کیونکر ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کا جواب دیا کہ مخلوق ہونے میں حقیر اور صاحب شان چیزیں سب برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات سے جس چیز کی چاہے مثال بیان کرے اس پر طعن نافہمی ہے۔ بد عہد لوگوں سے مراد یہود لوگ ہیں کہ تورات میں ان سے حضور سید عالم ﷺ کی اطاعت اور رشتہ و قرابت کے تلقات، مسلمانوں کی دوتی و محبت، تمام انبیاء کا ماننا، تمام کتب الہی کی تصدیق، حق پر جمع ہونا وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا۔ ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا، تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 27–29

[23] اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے جس کی رو سے تمام انسانوں پر اس کی بندگی عائد ہوتی ہے اور مضبوط باندھ لینے سے اشارہ '' عہدالست '' کی طرف ہے جو روز ازل تمام نوع انسانی سے اس فرمان کی پابندی کا لیا گیا تھا۔ ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 172 صفحہ 273۔ [24] جن تمدنی و معاشرتی روابط و تعلقات پر انسان کی اجتماعی و انفرادی فلاح کا انحصار ہے اور جسے درست رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے انہیں یہ لوگ کاٹتے ہیں۔ [25] قرآن کی اصطلاح میں زمین میں فساد برپا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ زمین کا نظم و نسق اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین کے مطابق چلانے کی بجائے اس کو من مانے طریقے پر چلایا جائے۔ اس زمین…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حل لغات : ینفضون : مضارع معلوم ، مصدر نقض ، توڑنا ، قطع کرنا ۔ الخاسرون : گھاٹے میں رہنے والے جمع خاسر ۔ استوی : قصد کیا ، توجہ فرمائی ، اصلاح وتزئین کے لئے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 ۔ اور اللہ تعالیٰ اس مثال سے کسی کو گمراہ نہیں کرتا اور نہ کسی کو گمراہی پر قائم رکھتا ہے مگر صرف ان لوگوں کو جو ایسے نافرمان و بد کردار ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے عہد کو مضبوط و مستحکم کرنے کے بعد عہد شکنی اور نقص عہد کے مرتکب ہوتے ہیں اور وہ ان تعلقات کو توڑتے اور قطع کرتے ہیں جن کے ملانے اور جوڑنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور وہ زمین میں فساد برپا کرتے رہتے ہیں یعنی یہی لوگ حقیقی زیاں کار اور دیوا لیے ہیں۔ (تیسیر) ان آیتوں کا تعلق اوپر والی آیت سے ہے۔ ہر بحث میں یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ مدعی اپنے دعویٰ پر دلیل پیش کرتا ہے اور اسی کے ساتھ مقابل کی دلیل کا بھی جواب دیتا ہے یہاں بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–28

ف 1۔ اس میں تمام تعلقات شرعیہ داخل ہوگئے۔ 2۔ یہاں تک اس شبہ کے جواب کا سلسلہ تھا جو کفار نے پیش کیا تھا کہ کلام الہی میں ایسی کم قدر چیزوں کا ذکر کیوں آیا اب اس مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں جو اس سے اوپر والی آیت یا ایھا الناس اعبدوا میں متعلق توحید کے مذکور ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فاسق کون ہے ؟ : 63: وہی لوگ جو عہد کر کے اسے توڑ ڈالتے ہیں خصوصاً وہ لوگ جو احکام الٰہی کی اطاعت کا عہد کر کے پھر اسے توڑ دیں اور جن کاموں کے کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس سے قولی یا عملی انحراف کریں۔ عہد اس صورت معاملہ اور معاہدے کو کہا جاتا ہے جو دو شخصوں کے درمیان طے ہوجائیں ۔ میثاق ایسے معاہدے کو کہتے ہیں جو قسم کے ساتھ مضبوط و مستحکم کیا جائے ۔ اس آیت نے گویا پہلی آیت کی تشریح کردی اور بتا دیا کہ قرآن کریم ان مثالوں سے جن پر مشرکین و منافقین نے اعتراض کیا ہے صرف وہی لوگ گمراہ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری سے سرکشی کرتے ہیں جس کی دو وجوہ ہیں۔ پہلی یہ کہ ایسا کرنے والے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Islamic concern about relationship to others The cutting asunder of what Allah has commanded should be joined includes all kinds of relationships -- the one between Allah and His servant, the one between a man and his parents and relatives, between him and his neighbours and friends, between one Muslim and another, between one man and another. Actually, Islam means fulfilling one's obligations with regard to all these relationships,. And this is also the way to follow the Shari'ah. Deficiency in fulfilling these obligations produces all kinds of disorder among men, and thus the transgressors…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

31. The injunctions or ordinances issued by a sovereign to his servants and subjects are termed 'ahd in Arabic since compliance with them becomes obligatory for the latter. 'Ahd has been used here in this sense. The 'ahd referred to signifies God's eternal command that all human beings are obliged to render their service, obedience and worship to Him alone. 'After its binding' refers to the promise made by mankind to remain faithful to the injunctions of God at the time of Adam's creation. (For details see verse 7: 172) 32. That is, the transgressors strike their blows at those very…

Read the full tafseer →