Al-Baqara 2:26

Al-Baqara · from ayah 26

2:26

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا ؕ— فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ— وَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۘ— یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا ۙ— وَّیَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا ؕ— وَمَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ ۟ۙاِنَّ اللّٰهَ لَا يَسۡتَحۡـىٖۤ اَنۡ يَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا ‌بَعُوۡضَةً فَمَا فَوۡقَهَا ‌ؕ فَاَمَّا ‌الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ۚ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ڪَفَرُوۡا فَيَقُوۡلُوۡنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهٖ ڪَثِيۡرًا وَّيَهۡدِىۡ بِهٖ كَثِيۡرًا ‌ؕ وَمَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِيۡنَۙ

الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah is not timid to present an example - that of a mosquito or what is smaller than it. And those who have believed know that it is the truth from their Lord. But as for those who disbelieve, they say, "What did Allah intend by this as an example?" He misleads many thereby and guides many thereby. And He misleads not except the defiantly disobedient,

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:26

ہاں، اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں، وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے، اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟ اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہ راست دکھا دیتا ہے اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کرتا ہے، جو فاسق ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اللہ تعالیٰ کسی مثال کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا، خواه مچھر کی ہو، یا اس سے بھی ہلکی چیز کی۔ ایمان والے تو اسے اپنے رب کی جانب سے صحیح سمجھتے ہیں اور کفار کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ نے کیا مراد لی ہے؟ اس کے ذریعے بیشتر کو گمراه کرتا ہے اور اکثر لوگوں کو راه راست پر ﻻتا ہے اور گمراه تو صرف فاسقوں کو ہی کرتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ (کسی بات کو واضح کرنے کے لئے) کوئی بھی مثال دے، چاہے وہ مچھر (جیسی معمولی چیز) کی ہو، یا کسی ایسی چیز کی جو مچھر سے بھی زیادہ (معمولی) ہو اب جو لوگ مومن ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ایک حق بات ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے۔ البتہ جو لوگ کافر ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ بھلا اس (حقیر) مثال سے اللہ کا کیا مطلب ہے ؟ (اس طرح) اللہ اس مثال سے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کرتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے (مگر) وہ گمراہ انہی کو کرتا ہے جو نافرمان ہیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر تو وہ جو ایمان لائے، وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے رہے کافر، وہ کہتے ہیں ایسی کہاوت میں اللہ کا کیا مقصُود ہے، اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ (سمجھانے کے لئے) کوئی بھی مثال بیان فرمائے (خواہ) مچھر کی ہو یا (ایسی چیز کی جو حقارت میں) اس سے بھی بڑھ کر ہو، تو جو لوگ ایمان لائے وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ان کے رب کی طرف سے حق (کی نشاندہی) ہے، اور جنہوں نے کفر اختیار کیا وہ (اسے سن کر یہ) کہتے ہیں کہ ایسی تمثیل سے اللہ کو کیا سروکار؟ (اس طرح) اللہ ایک ہی بات کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ ٹھہراتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس سے صرف انہی کو گمراہی میں ڈالتا ہے جو (پہلے ہی) نافرمان ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ اس سے نہیں شرماتا کہ کوئی بھی مثال بیان کرے، مچھر کی ہو پھر اس کی جو اس سے اوپر ہے، پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے سو جانتے ہیں کہ بیشک ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور رہے وہ جنھوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں اللہ نے اس کے ساتھ مثال دینے سے کیا ارادہ کیا ؟ وہ اس کے ساتھ بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور اس کے ساتھ بہتوں کو ہدایت دیتا ہے اور وہ اس کے ساتھ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ قطعاً اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کسی مچھر یا اس سے بھی کسی حقیر تر چیز کی مثال بیان کرے۔ سو جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کے پروردگار کی طرف سے پیش کردہ مثال بالکل درست ہے، رہے کافر لوگ، تو وہ کہتے ہیں کہ ایسی حقیر چیزوں کی مثال دینے سے اللہ کو کیا سروکار ؟ اس طرح ایک ہی بات سے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا رہنے دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت بھی دے دیتا ہے۔ اور گمراہ تو وہ صرف فاسقوں کو ہی کرتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی تمثیل بیان کرے، خواہ وہ مچھر کی ہو یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ تو جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہی بات حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں کہ اس تمثیل کے بیان کرنے سے اللہ کا کیا منشا ہے ؟ اللہ اس چیز سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے اور وہ گمراہ نہیں کرتا مگر انہی لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اللہ (پاک سبحانہ و تعالی) شرماتا نہیں اس بات سے کہ وہ بیان فرمائے کوئی مثال (حقیقت حال کی توضیح کے لئے) مچھر کی یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی سو جو لوگ ایمان (کا نور) رکھتے ہیں وہ یقین جانتے ہیں کہ یہ (تمثیل) قطعی طور پر حق ہے ان کے رب کی طرف سے مگر جو لوگ کفر (کی ظلمت) والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کو کیا لگے اس طرح کی مثالوں سے اللہ اس سے بہتوں کو گمراہی کی (دلدل) میں ڈالتا ہے اور بہتوں کو ہدایت (کی عظیم الشان دولت) سے نوازتا ہے اور وہ اس سے گمراہ نہیں کرتا مگر ان ہی بدکاروں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ اس سے ذرا نہیں شرماتا۔ کہ کوئی مثال بیان کرے مچھر کی یا اس سے بھی بڑھ کر (کسی اور چیز کی) سو جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ تو یہی سمجھیں گے کہ وہ (مثال) یقیناً حق ہے ان کے پروردگار کی جانب سے۔ البتہ جو لوگ کفر اختیار کئے ہوئے ہیں وہ یہی کہتے رہیں گے۔ کہ اللہ کا اس مثال سے مطلب کیا تھا ؟۔ گمراہ بھی کرتا ہے بہتوں کو اسی سے۔ اور راہ بھی دکھاتا ہے بہتوں کو اسی سے۔ ہاں وہ گمراہ کسی کو (بھی) اس سے نہیں کرتا بجربے حکمی کرنے والوں کے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا اللہ اس سے نہیں شرما تاکہ بیان کرے کوئی مثال مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے۔ تو جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ یقیناً حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔ اور جنہوں نے کفر کیا سو وہ کہتے ہیں کہ کیا مطلب تھا اللہ کا اس مثال سے ؟ گمراہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بہتوں کو اور ہدایت دیتا ہے اسی کے ذریعے سے بہتوں کو۔ اور نہیں گمراہ کرتا وہ اس کے ذریعے سے مگر صرف سرکش لوگوں کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہاں) اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی کم تر کسی چیز کی تمثیلیں دے جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں وہ انہیں تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے اور جو ماننے والے نہیں ہیں وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار ؟ اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور بہتوں کو راہ راست دیکھا دیتا ہے اور گمراہی میں وہ انہیں کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Well, Allah is not ashamed to cite the similitude of a gnat or of something even more insignificant than this. As for those who believe, they come to know from the same similitude that it is the Revelation from their Lord; but those who disbelieve, say, "What does Allah mean by such similitudes?" Allah leads astray many and guides many to the right way by the same thing. And He leads astray only those who disobey Allah;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed, Allah does not feel shy in citing any parable, be it that of a gnat or of something above it (in meanness) . Now, as for those who believe, they know it is the truth from their Lord; while those who disbelieve say, :What could Allah have meant by this parable? By this He lets many go astray, and by this He makes many find guidance. But He does not let anyone go astray thereby except those who are sinful

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed, Allah does not feel shy in citing any parable, be it that of a gnat or of something above it (in meanness) . Now, as for those who believe, they know it is the truth from their Lord; while those who disbelieve say, :What could Allah have meant by this parable? By this He lets many go astray, and by this He makes many find guidance. But He does not let anyone go astray thereby except those who are sinful

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Allah is not ashamed to set forth a parable even of a mosquito or so much more when it is bigger (or less when it is smaller) than it. And as for those who believe, they know that it is the truth from their Lord, but as for those who disbelieve, they say: "What did Allah intend by this parable" By it He misleads many, and many He guides thereby. And He misleads thereby only the Fasiqin (the rebellious, disobedient to Allah).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah disdaineth not to coin the similitude even of a gnat. Those who believe know that it is the truth from their Lord; but those who disbelieve say: What doth Allah wish (to teach) by such a similitude? He misleadeth many thereby, and He guideth many thereby; and He misleadeth thereby only miscreants;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah is not timid to present an example - that of a mosquito or what is smaller than it. And those who have believed know that it is the truth from their Lord. But as for those who disbelieve, they say, "What did Allah intend by this as an example?" He misleads many thereby and guides many thereby. And He misleads not except the defiantly disobedient,

— Saheeh International

God does not hesitate to set forth parables of anything even a gnat. The believers know that it is the truth from their Lord, but those who deny the truth say, "What does God mean by such parables?" In fact, by such parables God misleads and guides many. However, He only misleads the evil doers

— Muhammad Sarwar

Surely Allah is not ashamed to set forth any parable-- (that of) a gnat or any thing above that; then as for those who believe, they know that it is the truth from their Lord, and as for those who disbelieve, they say: What is it that Allah means by this parable: He causes many to err by it and many He leads aright by it! but He does not cause to err by it (any) except the transgressors,

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah is not ashamed to propound a similitude, be it of a gnat or of aught above it. Then as to those who believe, they know that it is the truth from their Lord. And to those who disbelieve, they say what intendeth God by similitude? He sendeth many astray thereby, and He guideth many thereby, and He sendeth not astray thereby any except the transgressors,

— Abdul Majid Daryabadi

Allah disdains not to use the similitude of things, lowest as well as highest. Those who believe know that it is truth from their Lord; but those who reject Faith say: "What means Allah by this similitude?" By it He causes many to stray, and many He leads into the right path; but He causes not to stray, except those who forsake (the path),-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–27

اللہ جل شانہ کی مثالیں اور دنیا ابن عباس ابن مسعود اور چند صحابہ ؓ سے روایت ہے کہ جب اوپر کی تین آیتوں میں منافقوں کی دو مثالیں بیان ہوئیں یعنی آگ اور پانی کی تو وہ کہنے لگے کہ ایسی ایسی چھوٹی مثالیں اللہ تعالیٰ ہرگز بیان نہیں کرتا۔ اس پر یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں جب قرآن پاک میں مکڑی اور مکھی کی مثال بیان ہوئی تو مشرک کہنے لگے بھلا ایسی حقیر چیزوں کے بیان کی قرآن جیسی اللہ کی کتاب میں کیا ضرورت تو جواباً یہ آیتیں اتریں اور کہا گیا کہ حق کے بیان سے اللہ تعالیٰ نہیں شرماتا خواہ وہ کم ہو یا زیادہ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکہ میں اتری حالانکہ ایسا نہیں واللہ اعلم۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 28 یہاں ایک اعتراض کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے۔ قرآن میں متعدّد مقامات پر توضیح مدّعا کے لیے مکڑی، مکھّی، مچھّر وغیرہ کی جو تمثیلیں دی گئی ہیں، ان پر مخالفین کو اعتراض تھا کہ یہ کیسا کلام الہٰی ہے، جس میں ایسی حقیر چیزوں کی تمثیلیں ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو اس میں یہ فضولیات نہ ہوتیں۔ سورة الْبَقَرَة 29 یعنی جو لوگ بات کو سمجھنا نہیں چاہتے، حقیقت کی جستجو ہی نہیں رکھتے، ان کی نگاہیں تو بس ظاہری الفاظ میں اٹک کر رہ جاتی ہیں اور وہ ان چیزوں سے الٹے نتائج نکال کر حق سے اور زیادہ دور چلے جاتے ہیں۔ بر عکس اس کے جو خود حقیقت کے طالب ہیں اور صحیح بصیرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (بعض مخالفین نے قرآن کے کلام الہی ہونے پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس میں بہت ہی حقیر و ذلیل چیزوں کا ذکر تمثیلات میں کیا گیا ہے جیسے مچھر مکھی وغیرہ اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو ایسی حقیر چیزوں کا ذکر اس میں نہ ہوتا اس کا جواب دیا گیا کہ) ہاں واقعی اللہ تعالیٰ تو نہیں شرماتے کہ بیان کردیں کوئی مثال بھی خواہ مچھر ہو خواہ اس سے بھی بڑھی ہوئی ہو (یعنی حقیر ہونے میں مچھر سے بھی بڑھی ہوئی ہو) سو جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں (خواہ کچھ ہی ہو) وہ تو یہ یقین کریں گے کہ بیشک یہ مثال بہت ہی موقع کی ہے ان کے رب کی جانب سے اور رہ گئے وہ لوگ جو کافر ہوچکے ہیں (سو چاہے کچھ ہی ہوجائے) وہ یوں ہی کہتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تمثیل کی اصل قدر و قیمت: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلاً: ضرب مثل کے معنی ہیں کسی حقیقت کو تمثیل کے پیرایہ میں سمجھانا۔ اعلیٰ حقائق اور روحانی لطائف کو جب تک تمثیل کا جامہ نہ پہنایا جائے اس وقت تک وہ عام عقل کی گرفت میں نہیں آتے اس وجہ سے روحانی حقائق کی تعلیم میں اس صنفِ کلام کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ چناں چہ انبیا اور حکما کے کلام میں اس کی بڑی کثرت ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ تورات اور انجیل پر ایک نظر ڈالنے سے ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا کلام تمثیلات سے بھرا ہوا ہے۔ نبی ﷺ کی احادیث میں بھی بے شمار تمثیلات ہیں۔ قرآن میں بھی اس صنفِ کلام کی نہایت اعلیٰ مثالیں موجود…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26۔ 1 جب اللہ تعالیٰ نے دلائل سے قرآن کا معجزہ ہونا ثابت کردیا تو کفار نے ایک دوسرے طریقے سے معارضہ کردیا اور وہ یہ کہ اگر یہ کلام الہٰی ہوتا تو اتنی عظیم ذات کے نازل کردہ کلام میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مثالیں نہ ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ بات کی توضیح اور جسے حکمت بالغہ کے پیش نظر تمثیلات کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے اس میں حیا و حجاب بھی نہیں۔ فَوْقَھَا کے معنی اس سے بڑھ کر بھی ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں معنی مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کے ہونگے۔ لفظ فَوْقَھَا میں دونوں مفہوم کی گنجائش ہے۔ 26۔ 2 اللہ کی بیان کردہ مثالوں سے اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ اور اہل کفر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

(22) بعض کافروں نے قرآن کریم پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس میں کچھ مثالیں مکھی، مچھر، مکڑی وغیرہ کی دی گئی ہیں، اگر یہ واقعی خدا کا کلام ہوتا تو اس میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر نہ ہوتا، ظاہر ہے کہ یہ اعتراض بڑا بےتکا اعتراض تھا کیونکہ مثال ہمیشہ مضمون کی مناسبت سے دی جاتی ہے اگر کسی حقیر و ذلیل کی مثال دینی ہو تو ایسی ہی کسی چیز سے دی جائے گی جو حقیر و ذلیل ہو، یہ کسی کلام کا عیب تو کیا ہوتا اس کی فصاحت و بلاغت کی دلیل ہے مگر یہ بات انہی کی سمجھ میں آتی ہے جو طالب حق ہوں اور حق پر ایمان لاچکے ہوں لیکن جنہوں نے کفر کی قسم کھا رکھی ہے انہیں تو ہر بات پر ہر حالت میں اعتراض کرنا ہے اس لئے ایسی بےتکی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس سے قبل سورت کی ابتداء میں قرآن مجید یہود ومشرکین سے تعلق رکھنے والے منافقین کو اس شخص سے تشبیہ دی تھی جو آگ جلاتا ہے یا اس شخص کے ساتھ جو آسمانی بادلوں کی تاریکی اور گرج وچمک میں گھرا ہوا ہے ، نیز اس سے پہلے مکی دور کے نازل شدہ قرآن کریم میں بھی کئی تمثیلیں بیان کی گئی ہیں اور جو مدینہ میں عام طور پر پڑھی جاتی تھیں ۔ مثلاً جو لوگ رب العالمین کا انکار کرتے ہیں انہیں مکڑی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا ” ان کی مثال اس مکڑی کی طرح ہے کو اپنا گھر بناتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا جالاہوتا ہے ۔ کاش کے یہ لوگ جانتے ۔ “ ایک جگہ کہا گیا تھا جن کو یہ پکارتے ہیں ، ان کے عجز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 اس آیت میں اس معارضہ کا جواب دیا گیا جو کفار کی طرف سے پہلی آیت پر ہوا۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ جب چھوٹی سی سورت بھی اس کلام جیسی ان سے نہ ہوسکی جس سے اس کا کلام الٰہی ہونا ثابت ہوچکا تو کفار نے کہا ہر چند ہم اس کلام کے مقابلہ سے عاجز ہیں مگر ہم دوسری دلیل سے اس کا کلام الٰہی نہ ہونا اور کلام بشری ہونا ثابت کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ بڑے بزرگ عظیم الشان اپنے کلام میں ذلیل و حقیر چیزوں کے ذکر سے اجتناب کیا کرتے ہیں حق تعالیٰ جو سب بزرگوں سے برتر اور اعظم ہے اس نے کیسے اپنے کلام میں مکھی اور مکڑی کا ذکر فرمایا اس معارضہ کا جواب دیا گیا کہ اس میں کوئی شرم اور عار کی بات نہیں کہ حق تعالیٰ مچھر یا اس سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26 اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَھَا ط کفارّ کی طرف سے قرآن کے بارے میں کئی اعتراضات اٹھائے جاتے تھے۔ وہ کبھی بھی اس چیلنج کا مقابلہ تو نہ کرسکے جو قرآن نے انہیں فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ کے الفاظ میں دیا تھا ‘ لیکن خواہ مخواہ کے اعتراضات اٹھاتے رہے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے کسی مصورّ کی تصویر پر اعتراض کرنے والے تو بہت تھے لیکن جب کہا گیا کہ یہ برش لیجیے اور ذرا اس کو ٹھیک کردیجیے تو سب پیچھے ہٹ گئے۔ قرآن کے مقابلے میں کوئی سورت لانا تو ان کے لیے ممکن نہیں تھا لیکن ادھر ادھر سے اعتراضات کرنے کے لیے ان کی زبانیں کھلتی تھیں۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 مثال کے درست ہونے کی شرط :۔ کفار سے جب چیلنج کا کوئی جواب بن نہ پڑا تو انہوں نے کلام اللہ پر یہ اعتراض جڑ دیا کہ اللہ کو جو مالک الملک اور سب سے بڑا ہے، کیا ضرورت پڑی تھی کہ وہ اپنے کلام میں مکھی اور مکڑی جیسی حقیر چیزوں کی مثالیں بیان کرے اور (واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکھی کی مثال (22/73) اور مکڑی کی مثال (29: 41) کافروں کے معبودان باطل کی کمزوری کو واضح کرنے کے لیے دی تھی) اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات میں کوئی باک نہیں کہ وہ مکھی اور مکڑی تو درکنار، مچھر یا اس سے بھی کسی حقیر تر چیز کی مثال بیان کرے۔ کیونکہ اس کی مخلوق ہونے کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

86 ۔ (جیسا کہ بعض کج فہم اور معاند معترضین کے خیال میں شر مانا چاہیے) قرآن مجید میں اپنے اپنے موقع اور محل پر تذکرہ بڑی سے بڑی مخلوق کا بھی آیا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی کا بھی۔ جانوروں میں ایک طرف ہاتھی، اونٹ، شیر کا۔ اور دوسری طرف چیونٹی مکھی اور مچھر کا۔ اسی تذکرہ پر بعض نافہموں نے کہنا شروع کیا کہ واہ دعوی تو کلام الہی ہونے کا، اور مضامین اس کے اندر ایسے حقیر ! یہ نافہم اور کم عقل معترضین بعض روایتوں میں آتا ہے کہ یہود تھے، بعض میں کہ مشرکین تھے، بعض میں کہ منافقین، عجب نہیں کہ تینوں ہوں۔ نزلت فی الیھود (روح۔ عن ابن عباس ؓ نزلت فی المنفقین (روح۔ عن مجاہد) والقول الثالث ان ھذا الطعن کان من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَسْتَحْییْ : (الآیة) ممکن ہے کہ یہ لفظ خود معترضین نے استعمال کیا ہو کہ یہ کیسا محمد ﷺ کا خدا ہے کہ جو ایسی حقیر چیزوں کی مثال پیش کرتے بھی نہیں شرماتا اور قرآن مجید نے مشاکلت کی رعایت سے اس لفظ کو دہرایا ہو۔ یجوز اَنْ تَقَعَ ھذہ العبارة فی کلام الکفرة فقالوا أما یستحیی رب محمد ﷺ ان یَضْرِبَ مثلا بالذبابِ وَالْعَنْکَبُوْتِ فجاءت علی سبیل المقابلة واطباقِ الجواب علی السوال۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اعتراض کے دفعیہ کے طور پر خدا ہی کا کلام ہو قرآن مجید میں متعدد مقامات پر توضیح مدعا کے لئے بڑی اور عظیم مخلوق کا تذکرہ آیا ہے اور چھوٹی اور حقیر شئی کا بھی، قرآن مجید میں، جہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْىٖٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً ( بیشک اللہ کسی مثال کے بیان کرنے میں ( ذرہ بھی) نہیں جھینپتا ( خواہ وہ مثال مچھر کی ہو) یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی۔ بعض مفسرین نے اس کا شان نزول اس طرح بیان کیا ہے کہ جب حق تعالیٰ نے مشرکین کے بارے میں مکھی کا ذکر فرمایا جیسا کہ فرمایا ہے۔ وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْءًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ (اگر مکھی ان سے یعنی بتوں سے کچھ چھین لے جائے تو اس کو اس سے چھڑا نہیں سکتے) اور ان کے مکرو فریب کو مکڑی کے جالے کی مثل ارشاد فرمایا تو انہوں نے سن کر کہا دیکھو اللہ تعالیٰ باوجود اپنی اس علو شان کے اپنی کتاب میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(26) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہودیوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہیں جو انہوں قرآن کریم کی مثالوں پر تھا کہ اللہ تعالیٰ تو کیس مثال کے بیان کرنے کو نہیں چھوڑتا اور وہ کسی چیز کے تذکرہ سے شرمائے بھی کیوں۔ اس لیے کہ اگر تمام مخلوق بھی مل کر کسی کو پیدا کرنے چاہئے تو وہ سب ذرا سی چیز کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور مخلوق کے لئے کوئی مثال بیان کرنے میں اسے حیا رکاوٹ نہیں کہ وہ مچھر یا اس سے بڑی چیز مثلا مکھی اور مکڑی وغیرہ یا اس سے چھوٹی چیز کی مثال بیان کرے، جو لوگ رسول اللہ ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ مثال درست ہے اور جو رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

3 اس سے پہلے منافقین کی دو مثالیں بیان ہوئی ہیں، اس کے علاوہ قرآن مجید میں مکھی [ حج : 73 ] مکڑے [ عنکبوت : 41 ] کتے [ اعراف : 176 ] اور گدھے [ جمعہ : 5 ] کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔ کفار اور منافقین جب قرآن کے چیلنج کا جواب نہ دے سکے تو اعتراض جڑ دیا کہ اللہ تعالیٰ کو ایسی مثالوں کی کیا ضرورت تھی، فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو بطور مثال بیان کرسکتا ہے، یہ کوئی عیب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے حیا کرے، وہ مثال مچھر کی ہو یا پھر اس کی جو اس سے بھی بڑھ کر حقیر ہو، مثلاً مچھر کا پر یا ایک ذرہ۔ مچھر سے بڑھ کر ہونے سے مراد اس سے بڑی چیزیں مثلاً مکھی، مکڑا وغیرہ بھی ہوسکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 26 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ لا یستحی ان یضرب مثلاً حضرت ابن عباس نے حضرت ابو صالح کی روایت میں فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے منافقین کے لئے یہ دو مثالیں دیں (یعنی مثلھم کمثل الذی اس تو قد نارًا (البقرہ : 17) اورأو کصیب من السماء (البقرہ : 19) تو انہوں نے کہو : اللہ تعالیٰ کی ذات مثالیں بیان کرنے میں بلند اور اعلیٰ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔ عطا کی روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے، فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے خداؤں کا ذکر کیا اور فرمایا : یسلبھم الذباب شیئاً لا یستنقذوہ منہ (الحج : 73) (اور اگر چھین لے ان سے مکھی بھی کوئی چیز تو وہ نہیں چھڑا سکتے اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–27

(1) ابن جریر نے اور ابن حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے منافقین کے لئے ان دونوں مثالوں کو بیان فرمایا قولہ لفظ آیت ” کمثل الذی اس تو قد نارا “ تو منافقین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” ان اللہ لا یستحی ان یضرب مثلا “ الی قولہ ” اولئک ہم الخسرون “۔ (2) امام عبد الغنی نے اپنی تفسیر میں اور الواحدی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے معبودوں کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” وان یسلبھم الذباب شیئا “ (اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے) اور (جھوٹے) معبودوں کے مکر کو ذکر کرتے ہوئے ان کو مکڑی کے گھر سے تشبیہ دی تو مشرکین…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ لَا يَسْتَحْىٖٓ: حیا نہیں کرتا ] [ اَنْ يَّضْرِبَ : کہ وہ بیان کرے ] [ مَثَلًا مَّا : کوئی سی بھی مثال ] [ بَعُوْضَةً : مچھر کے بچے کی ] [ فَمَا فَوْقَهَا ۭ : یا جو اس سے بڑھ کر ہے (حقیر ہونے میں) ] [ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : پس وہ لوگ جو ایمان لائے ] [ فَيَعْلَمُوْنَ : وہ لوگ تو جانتے ہیں ] [ اَنَّهُ الْحَقُّ : کہ یہ سچائی ہے ] [ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ : ان کے رب سے ] [ وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ] [ فَيَقُوْلُوْنَ : وہ لوگ تو کہتے ہیں ] [ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ : اللہ نے کیا ارادہ کیا ] [ بِهٰذَا : اس سے ] [ مَثَلًا ۘ : بطور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قرآنی مثالوں سے مؤمنین کا ایمان پختہ ہونا اور منکرین کا بےجا اعتراض کرنا کتاب اللہ کے منکرین کی سزا اور اہل ایمان کی جزا بتانے کے بعد کتاب اللہ کے منکروں کے ایک اشکال اور اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے۔ مخالفین اور معاندین سے یہ تو نہ ہوسکا کہ کتاب اللہ کے مقابلہ میں کوئی سورت بنا کر لاتے لیکن انہوں نے ایک اعتراض کردیا اور اس اعتراض میں قرآن کے کتاب اللہ ہونے کا انکار مضمر ہے۔ حضرت قتادہ سے منقول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عنکبوت (مکڑی) اور ذباب (مکھی) کا قرآن مجید میں تذکرہ فرمایا تو مشرکین کہنے لگے کہ اس میں تو مکڑی اور مکھی کا تذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حقیر مثال سے کیا ارادہ کیا ہوگا۔ ( ابن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–27

قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے پر کافروں کا ایک شبہ اور اسکا جواب قال تعالیٰ ان اللہ لا یستحیی ان یضرب مثلا۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم الخسرون گزشتہ آیات میں اعجاز قرآن کی دلیل مذکور تھی۔ یہاں منکرین کے ایک شبہ کا جواب مذکور ہے۔ شبہ کی تقریریہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے قران کریم میں کہیں مکھی اور کہیں مکڑی کی مثال دی ہے اس پر کافروں نے یہ اعتراض کیا کہ یہ قرآن اگر اللہ کا کلام ہے تو اس میں حقیر اور خسیس چیزوں کا ذکر نہ ہونا چاہئے کیونکہ ایسی خسیس اور حقیر چیزوں کا ذکر اس امر کی دلیل ہے کہ یہ اللہ کی کتاب نہیں ہے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ان اللہ لا یستحیی ان یضرب مثلاما بعوضۃ فما فوقھا فا ما الذین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 64 ۔ مشرکین کے دوسرے شبہ کا جواب ہے۔ اور لا یستحی کے معنی ہیں لا یرک کیونکہ جب انسانوں سے مختصہ اوصاف کو خدا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو ان اوصاف سے ان کے نتائج مراد ہوتے ہیں اور حیا کا نتیجہ چونکہ ترک فعل ہے اس لیے یہاں یہی مراد ہے فاذا ورد الحیاء فی اللہ تعالیٰ فلیس المراد منہ ذلک الخوف الذی ھو مبداء الحیاء۔۔۔ و ترک الفعل الذی ھو منتہاہ وغایتہ (کبیر ص 350 ج 1) مثلاً کی تنوین تنکیر کے لیے ہے۔ مَا نکرہ کی صفت ہے جو اس میں مزید ابہام پیدا کرتا ہے۔ اور بعوضۃ اس سے بدل یا عطف بیان ہے۔ (کبیر ص 352 ج 1، روح ص 206 ج 1) فَمَا فَوْقَھَا یہاں فوقیت سے مراد اسی معنی میں زیادتی اور فوقیت ہے جس میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–27

گزشتہ سے پیوستہ : پچھلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت ، صداقت اور اس کے منزل من اللہ ہونے اور حضور ﷺ کی رسالت کا ذکر کیا تھا۔ اس سے پہلے توحید اور ردشرک کے متعلق بیان تھا۔ لوگوں کے اس خیال کی تردید تھی کہ یہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام نہیں۔ بلکہ پیغمبر (علیہ السلام) کا اپنا وضع کردہ ہے۔ اور پھر اس ضمن قرآن پاک کے چیلنج کا ذکر تھا۔ کہ اگر تمہیں اس کے منزل من اللہ ہونے میں کسی قسم کا شک و بہ ہے۔ تو اس جیسی ایک ہی سورة بنا کر لاؤ۔ اس کے ساتھ پی گوئی کردی گئی تھی کہ قیامت تک تم اس قرآن کی مثل نہیں لاسکو گے لہٰذا یاد رکھو کہ جب ایسا کلام پیش کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے تو پھر اس کلام…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ لَا يَسْتَحْىٖٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَـمَا فَوْقَہَا۝ 0 ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ۝ 0 ۚ وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللہُ بِہٰذَا مَثَلًا۝ 0 ۘ يُضِلُّ بِہٖ كَثِيْرًا۝ 0 ۙ وَّيَہْدِىْ بِہٖ كَثِيْرًا۝ 0 ۭ وَمَا يُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ۝ 26 ۙ حَياءُ : انقباض النّفس عن القبائح وترکه، لذلک يقال : حيي فهو حيّ واستحیا فهو مستحي، وقیل : استحی فهو مستح، قال اللہ تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقال عزّ وجلّ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–27

ترکیب : اللہ اسم ان لایستحی الخ اس کی خبر جملہ اسمیہ مستانفہ ہوا لایستحیی بمعنی لایترک فعل بافاعل مثلاً مفعول یضرب ما ابہامیہ کہ جو نکرہ کو ابہام اور شیوع کو زیادہ دیتا ہے کقولک اعطنی کتابا ما ای ایّ کتاب کان یا زائدہ ہے جیسا کہ اس قول میں فبمارحمۃ من اللہ ای برحمۃ من اللہ بعوضۃ عطف بیان ہے مثلاً کا۔ ممکن ہے کہ مانکرہ کو موصوفہ اور بعوضۃ کو اس کی صفت قرار دیا جائے فما فای عطف کے لیے اور مانکرہ موصوفہ فوقہا اس کی صفت بعوضۃ معطوف علیہ پس یضرب اپنے فاعل اور مفعول اور اس کے متعلقات سے مل کر ان مصدریہ کی وجہ سے تاویل صدر میں ہو کر مفعول ہوا۔ لایستحیی کا فاما فائے تعقیبہ ہے کس لیے کہ مرتبہ تفصیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَھَاط فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْج وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذَا مَثَلًام یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّیَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًاط وَمَا یُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ ۔ (البقرۃ : 26) (اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی تمثیل بیان کرے، خواہ وہ مچھر کی ہو یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ تو جو لوگ ایمان لائے ہیں، وہ جانتے ہیں یہی بات حق ہے، ان کے رب کی جانب سے۔ رہے وہ لوگ، جنھوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ اس تمثیل کے بیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی ابتدا میں مرکزی اور بنیادی باتوں کا تذکرہ ہوا یہاں قرآن مجید میں بیان ہونے والی امثال کی وضاحت اور ان کے ردِّ عمل کا بیان ہوتا ہے۔ انسانی فطرت شروع سے اس بات کی متقاضی رہی ہے کہ جو بات مشکل یا لطیف ہو وہ مثال کے ذریعے سمجھائی جائے تو نہ صرف بات اس کی سمجھ میں آجاتی ہے بلکہ وہ آدمی کو مدت تک یاد رہتی ہے۔ فطرت کے اس تقاضے اور فہم کی آسانی کے لیے قرآن مجید میں کئی مسائل کو امثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔ بالخصوص توحید کی حقانیت اور شرک کی ناپائیداری اور بےبضاعتی سمجھانے کے لیے جب یہ مثال دی گئی کہ شرک کا عقیدہ اور اس کے متعلقات مکڑی کے جالے کی طرح نا پائیدار اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تردید جہمیہ : اس میں جہمیہ فرقہ کی تردید ہے کیونکہ وہ جنت اور اہل جنت کے فناء کے قائل ہیں۔ دلیل جہمیہ۔ اللہ تعالیٰ ہی اول اور آخر ہیں اور اولیت کی حقیقت مخلوق سے پہلے ہونا تو بالا تفاق ہے پس ضروری ہے کہ آخریت کے وصف میں بھی وہ تمام سے آخر ہو اور یہ تبھی درست ہے جب سب کے سب فناء ہوجائیں پس ضرورۃً افناء کو ماننا پڑا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ باقی ہیں اور اسکی صفات بھی باقی ہیں اگر جنت بھی اپنے رہنے والوں کے ساتھ باقی رہنے والی ہو تو خالق و مخلوق میں مشابہت لازم آتی ہے اور یہ محال ہے جواب : اولیت اللہ تعالیٰ کے حق میں اس طرح کہ اس کے وجود کی ابتداء نہیں اور آخریت اس کے حق میں اس طرح کہ اس کی کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 26: (آیت)” ان اللہ لا یستحی ان یضرب مثلا مابعوضۃ اس آیت کریمہ کا شان نزول یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے (قرآن کریم میں) مکھی مکڑی کی مثالیں ذکر کیں ، پس فرمایا (آیت)” ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبا ولو اجتمعوا لہ “ اور فرمایا (آیت)” مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا “۔ یہود نے کہا اللہ تعالیٰ کا ارادہ ان خسیس چیزوں کے ذکر سے کیا ہے ۔ اور کہا گیا ہے کہ مشرکوں نے کہا کہ ہم ایسے معبود کی عبادت نہیں کرتے جو اس جیسی (حقیر) چیزوں کا ذکر کرے تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا (آیت)” ان اللہ لا یستحی “ یعنی (مثال بیان کرنا) نہیں چھوڑتا اور نہ اس کو حیاء مانع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–27

(26 ۔ 27) اس مدنی سورت میں منافقین اور ان کے ساتھ یہود کے ذکر کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں فرمائیں تھیں۔ ایک جنگل اور اندہیرے میں آگ سلگانے کی دوسری کڑک اور بجلی کی۔ اور اس سورت سے پہلے مکہ میں جو قرآن کا حصہ نازل ہوا تھا اس میں مکھی اور مکڑی اور لکڑی کے گھر کی مثالیں تھیں۔ قرآن شریف کے منکر لوگ اس پر یہ طعن کرتے تھے کہ جس کلام میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر ہو وہ کلام الٰہی کیونکر کر ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کا جواب دیا ہے کہ مخلوق ہونے میں حقیر اور صاحب شان چیزیں سب برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے جس چیز کی چاہے مثال بیان کرے اس پر طعن نافہمی ہے۔ ترمذی میں مہل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–27

آیت 26 تا 27 (ان اللہ لایستحی ان یضرب مثلاماً ) ” اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی سی بھی مثال بیان کرے “ خواہ وہ کسی قسم کی مثال ہو (بعوضۃ فمافوقھا) ” مچھر کی ہو یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہو “ کیونکہ مثال حکمت اور ایضا حق پر مبنی ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔ اس آیت کریمہ میں گویا اس شخص کو جواب دیا گیا ہے جو معمولی اور حقیر اشیاء کی مثال دینے کا منکر ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتا ہے، پس یہ اعتراض کا مقام نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو تعلیم دینا اور ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرنا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اسے شکر کرتے ہوئے قبول کیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 26–31

قول باری ہے : (علم آدم الاسماء کلھا ثم عرضھم علی الملٓئکۃ فقال انبونی باسماء ھولآء ان کنتم صدقین۔ (اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا : اگر تمہارا خیال صحیح ہے کہ (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتائو اگر تم سچے ہو) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کو تمام اشایء کے نام سکھا دیئے، یعنی اجنسا کا ان کے معانی کے ساتھ کیونکہ اسماء کے ذکر میں لفظ کے اندر عموم ہے اور قو ل باری : ثم عرضھم علی المٓئکۃ کے اندر اس بات پر دلالت ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کی اولاد کے ناموں کا ارادہ کیا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

78 کفر و باطل کی تحقیرو تذلیل کیلئے مثال کا بیان : یعنی کوئی ایسی مثال جو حقیقت امر کو پوری طرح واضح کردے، کہ مثال کا مدعا و مقصود یہی ہوتا ہے کہ کسی غیر محسوس چیز کو کسی محسوس چیز سے تشبیہ دے کر واضح کیا جائے، تاکہ اس کے سمجھنے میں کوئی دقت و دشواری باقی نہ رہے، اس لیے ضرب الامثال کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ عمدہ اور عظیم چیزوں کیلئے عمدہ اور عظیم چیزوں کی مثال دی جائے اور گھٹیا اور حقیر چیزوں کی توضیح کیلئے گھٹیا اور حقیر چیزوں کی مثال دی جائے، تاکہ مقصد پوری طرح واضح ہوجائے۔ لہذا قرآنی امثال اس کی عظمت شان کے خلاف نہیں بلکہ اس کی فصاحت و بلاغت کا تقاضا ہیں۔ جن لوگوں نے ان مثالوں کی بناء پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

ہدایت وگمراہی تشریح :۔ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو چیلنج کیا تھا کہ اگر وہ قرآن کی صداقت کو نہیں مانتے تو چلو ایسی چیز، کوئی آیت یا کلام ہی پیش کردیں وہ ایسا نہ کرسکے اور نہ ہی ہرگز وہ ایسا کرسکیں گے تو اپنی خفت مٹانے کے لئے حیل و حجت سے کام لینے لگے اور فضول باتوں سے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے لگے اور کہنے لگے کہ لو دیکھو ! اللہ کیسی باتیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ جواب میں لوگوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ مثال دینے کے لئے ضروری نہیں کہ بہت بڑی چیز کو ہی بطور مثال بیان کیا جائے مطلب تو مثال سے لوگوں کو سمجھانا ہوتا ہے اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لئے یہ کوئی شرمانے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–29

آیات 21- 29 اسرارو معارف تفسیر : دنیا میں صرف دو قومیں ہیں : یا ایھا الناس اعبدوار بکم…وانتم تعلمون۔ ایمان وکفر کا فرق اور مومن کے اوصاف اور کافر کی عادات ارشاد فرما کر پوری آبادی میں صرف دو قومیں مقرر فرمائی ہیں۔ ایک مومن دوسری کافر جو محض دعویٰ کرنے سے نہیں بن سکتا بلکہ ایمان اور کفر کا معیار بھی ارشاد ہوا اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے ان کافروں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی جو عقائد تو کفر یہ رکھتے ہیں مگر مدعی اسلام کے ہیں ۔ ان کی حرکات فساد کا سبب ہیں جس کو وہ اصلاح کا نام دیتے ہیں یہ کفر ہی کی خطرناک تر قسم ہے کوئی تیسری قوم نہیں جب حق و باطل واضح ہوگیا تو اب صلائے عام ہے ساری نوع انسانی کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر مدعا کو واضح کرنے کے کے لیے مکڑی اور مکھی وغیرہ کی مثالیں بیان کی گئی ہیں اور ابتدا میں منافقین کی حالت سمجھانے کے لیے ان کے متعلق مثالیں بیان کی ہیں۔ کفار اور منافقین اعتراض کرتے تھے کہ اگر یہ قرآن کتاب الہی ہوتی تو اس قسم کے حقیر جانور وغیرہ کی مثالیں بیان نہ ہوتیں ان آیات میں انہی کے اعتراض کا جواب دیا ہے عھد اللہ سے مراد وہ وصیت بھی ہوسکتی ہے جو انبیاء کی زبانی آسمانی کتابوں میں اپنے اوا مر ونواہی بجا لانے کے لیے کی ہے اور ہوسکتا ہے کہ تورات میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لا نے کا جو عہد اہل کتاب سے لایا گیا ہے وہ مراد ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:26) لا یستحی مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ استحیاء (استفعال) سے مصدر ۔ وہ نہیں جھجکتا ۔ وہ نہیں شرماتا۔ وہ نہیں جھینپتا ان یضرب : ان مصدر ہے۔ یضرب مضارع منصوب بوجہ عمل ان ہے۔ کہ وہ بیان کرے۔ مثلا ما۔ مثلا مفعول ہے۔ فعل یضرب کا۔ ما ابہامیہ ہے جو نکرہ کے ابہام کو زیادہ کرتا ہے۔ کوئی سی مثال۔ جیسے کہتے ہیں اعطی کتابا ما (ای ای کتابا) مجھے کوئی سی کتاب دیدو۔ بعوضۃ واحد اس کی جمع بعوض ہے بمعنی مچھر، یہ بعض سے مشتق ہے۔ چونکہ حیوانات کی نسبت اس کا جسم ذرا سا ہوتا ہے اس لئے اس کو بعوضۃ کہتے لگے۔ یہ مثلا کا عطف بیان ہے۔ فما فوقھا۔ فا عطف کے لئے ہے۔ ما موصولہ اور فوقھا مضاف، مضاف الیہ مل کر صلہ، موصول…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–27

لغات القرآن : آیت نمبر 26 تا 27 (لایستحی): وہ نہیں شرماتا۔ (ان یضرب) : کہ وہ بیان کرے۔ (مثلا ما) کوئی مثال۔ (بعوضۃ): مچھر۔ (فوق): اوپر۔ اس سے بڑھ کر۔ (الحق): سچ، ٹھیک ٹھیک۔ (اراد): اس نے ارادہ کیا۔ (بھذا مثلاً ) : اس مال سے۔ (بے، سے، ھذا، یہ ، مثلا، مثال) ۔ (یضل) : وہ گمراہ کرتا ہے، راستہ بھلا دیتا ہے۔ (یھدی) : وہ ہدایت دیتا ہے، وہ راستہ دکھاتا ہے۔ (ینقضون ): وہ توڑتے ہیں۔ (عھد اللہ): اللہ کا وعدہ، عہد۔ (میثاق): پکا اور پختہ وعدہ ۔ (یقطعون): وہ قطع کرتے ہیں۔ کاٹتے ہیں۔ (امر اللہ ) : اللہ نے حکم دیا۔ (ان یوصل ): یہ کہ وہ ملائیں۔ (یفسدون): وہ فساد کرتے ہیں۔ (الارض): زمین ۔ (الخسرون ): نقصان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–29

قرآن کے منکر لوگ یہ طعن کرتے تھے کہ جس کلام میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر ہو وہ کلام الہی کیونکر ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کا جواب دیا کہ مخلوق ہونے میں حقیر اور صاحب شان چیزیں سب برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات سے جس چیز کی چاہے مثال بیان کرے اس پر طعن نافہمی ہے۔ بد عہد لوگوں سے مراد یہود لوگ ہیں کہ تورات میں ان سے حضور سید عالم ﷺ کی اطاعت اور رشتہ و قرابت کے تلقات، مسلمانوں کی دوتی و محبت، تمام انبیاء کا ماننا، تمام کتب الہی کی تصدیق، حق پر جمع ہونا وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا۔ ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا، تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[21] قرآن میں لوگوں کو سمجھانے کے لئے جا بجا مچھر، مکھی، مکڑی وغیرہ کی تمثیلات ہیں۔ اس قسم کی آیات سن کر مخالفین اسلام اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا کلام الٰہی ہے جس میں حقیر چیزوں کی مثالیں بھی دی گئی ہیں۔ اس اعتراض کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔ [22] فاسق وہ ہے جو دائرہ اطاعت سے باہر نکل جائے یعنی نافرمان۔ فسق کے اصل معنی خروج کے ہیں، قرآن میں یہ لفظ معروف سے منکر اور اطاعت سے نافرمانی کی طرف نکل جانے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ معروف سے منکر اور اطاعت سے نافرمانی کی طرف نکل جانے کے مختلف مدارج ہوسکتے ہیں، منکر چھوٹا بھی ہوسکتا ہے اور بڑا بھی۔ اسی طرح نافرمانی معمولی درجے کی بھی ہوسکتی ہے اور بغاوت کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

خائب (ف 1) و خاسر لوگ : فلاح وسعادت کی راہ ایمان وعمل کی راہ ہے ۔ وہ جو فاسق ہیں اللہ کی حدود کی پرواہ نہیں کرتے ، ان کے لئے خسارہ ہے ۔ نہ دنیا میں وہ کامیابی کی زندگی بسر کرسکتے ہیں اور نہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ ہے ، منافق کی تین علامتیں ہیں : ۔ (ا) نقض عہد ، یعنی خدا کے بنائے ہوئے اور بندھے ہوئے قوانین کا توڑتا ۔ (ب) علائق ضرورت سے قطع تعلق یعنی ان تمام رشتوں سے تغافل جو انسانی فلاح و بہبود کے لئے از بس ضروری ہیں ۔ (ج) فساد فی الارض ۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ رب فاطر کے بتائے ہوئے قوانین کا خیال نہیں رکھتے جو اپنوں سے دشمنوں کا سا سلوک کرتے ہیں ، جو ساری زمین میں فتنہ و فساد کی آگ کو روشن رکھتے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3۔ ہاں بیشک اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ خواہ وہ کوئی سی مثال بیان کرے، وہ مثال مچھر کی ہو یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی ہو ، پھر جو اہل ایمان ہیں وہ تو خوب جانتے اور یقین کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور بیان کردہ مثال بالکل درست اور بہت با موقع ہے اور وہ لوگ جو کفر کی روش اختیار کرچکے ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ آخر اس مثال کے بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ کا کون سا مقصد اور مطلب ہے اللہ تعالیٰ اس نازل کردہ مثال سے بہتوں کو گمراہ رکھتا ہے اور اسی مثال سے بہت سوں کو ہدایت عطا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–26

ف 8۔ دونوں بار کے پھلوں کی صورت ایک سی ہوگی جس سے وہ یوں سمجھیں گے کہ یہ پہلی ہی قسم کا پھل ہے مگر کھانے میں مزہ دوسرا ہوگا، جس سے خط و سرور مضاعف ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کچھ بن نہ آیا تو نکتہ چینی شروع کردی : 60: قرآن کریم میں اپنے اپنے موقع پر تذکرہ بڑی سے بڑی مخلوق کا بھی آیا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی مخلوق کا بھی جانوروں میں ایک طرف ہاتھی ، اونٹ ، شیر کا بھی اور دوسری طرف چیونٹی ، مکھی اور مچھر کا بھی۔ اس تذکرہ پر بعض نافہموں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ دعویٰ تو کلام الٰہی ہونے کا اور مضمون اس کے ایسی حقیر چیزوں کے۔ ایسا کیوں کہا ؟ اس لئے کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکے جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں اور ہار ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔ غرور وسرکشی نے عجز و انکساری کے اظہار سے محروم رکھا جب کچھ نہ بن آیا تو نکتہ چینی شروع کردی۔ مثل ہے کہ ” ناچ نہ جانے آنگن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the foregoing verses, it was affirmed that the Holy Qur'an does not admit of any kind of doubt, and that if someone should have a suspicion as to its being the Word of God, he should try to produce even a small Surah comparable to it. These two verses refer to an objection raised by the disbelievers with regard to the Holy Qur'an, and provide an answer to them. They had been saying that had the Qur'an been the Word of Allah, it would not have employed contemptible creatures like an ant or a gnat in its parables, for such a thing goes against the sublimity and majesty of Allah, when it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28. Here an objection is indirectly refuted. At several places in the Qur'an, spiders, flies, gnats and so on are mentioned in order to elucidate certain points. Opponents objected to this on the grounds that such objects were too lowly to find a place in the Book of God. They indicated that had the Qur'an indeed been a revelation from God it would not have mentioned such trivial objects. 29. Those who do not wish to understand things and are not motivated by the urge to seek the truth become enmeshed in superficial questions relating to the Book of God, draw altogether erroneous conclusions…

Read the full tafseer →