اعمال وجہ بشارت
چونکہ پہلے کافروں اور دشمنان دین کی سزا عذاب اور رسوائی کا ذکر ہوا تھا اس لئے یہاں ایمانداروں اور نیک صالح لوگوں کی جزا ثواب اور سرخروئی کا بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کے مثانی ہونے کے ایک معنی یہ بھی ہیں جو صحیح تر قول بھی ہے کہ اس میں ہر مضمون تقابلی جائزہ کے ساتھ ہوا ہے اس کا مفصل بیان بھی کسی مناسب جگہ آئے گا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ ہی کفر کا۔ کفر کے ساتھ ایمان کا۔ نیکوں کے ساتھ بدوں کا۔ اور بدوں کے ساتھ نیکوں کا ذکر ضرور آتا ہے جس چیز کا بیان ہوتا ہے اس کے مقابلہ کی چیز کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے چاہے معنی میں متشابہ ہوں، یہ دونوں لفظ قرآن کے اوصاف میں وارد ہوئے ہیں اسے مثانی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 26
یعنی نرالے اور اجنبی پھل نہ ہوں گے، جن سے وہ نامانوس ہوں۔ شکل میں انہی پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے جن سے وہ دنیا میں آشنا تھے۔ البتہ لذّت میں وہ ان سے بدرجہا زیادہ بڑھے ہوئے ہوں گے۔ دیکھنے میں مثلاً آم اور انار اور سنترے ہی ہوں گے۔ اہل جنّت ہر پھل کو دیکھ کر پہچان لیں گے کہ یہ آم ہے اور یہ انار ہے اور یہ سنترا۔ مگر مزے میں دنیا کے آموں اور اناروں اور سنتروں کو ان سے کوئی نسبت نہ ہوگی۔
سورة الْبَقَرَة 27
عربی متن میں ازدواج کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں
”جوڑے“۔ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شوہر کے لیے بیوی ”زوج“ ہے اور بیوی کے لیے شوہر ”زوج“۔…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور خوش خبری سنا دیجئے آپ ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور کام کئے اچھے اس بات کی کہ بیشک ان کے واسطے بہشتیں ہیں کہ چلتی ہوں گی ان کے نیچے سے نہریں جب کبھی دیئے جاویں گے وہ لوگ ان بہشتوں میں سے کسی پھل کی غذا تو ہر بار میں یہی کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہم کو ملا تھا اس سے پہلے اور ملے گا بھی ان کو دونوں بار کا پھل ملتا جلتا اور ان کے واسطے ان بہشتوں میں بیبیاں ہوں گی صاف پاک کی ہوئی اور وہ لوگ ان بہشتوں میں ہمیشہ کو بسنے والے ہوں گے (ہر بار میں ملتا جلتا پھل ملنا لطف کے واسطے ہوگا کہ دونوں مرتبہ پھلوں کی صورت ایک سی ہوگی جس سے وہ سمجھیں گے کہ یہ پہلی ہی قسم کا پھل ہے مگر کھانے میں…
Read the full tafseer →جَنّٰتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهٰرُ: باغ میں سب سے زیادہ دلکش تصور یہ ہے کہ وہ بلندی پر ہو اور اس کے نیچے نہر جاری ہو۔ بلندی اس منظر کی دلکشی میں اضافہ کرتی ہے اور سیلاب وغیرہ کی آفتوں سے محفوظ رکھتی ہے اور نیچے بہنے والی نہر اس کی شادابی کی ضمانت دیتی ہے۔ بلندی کے باغ کی تمثیل اسی سورہ کی آیت ۲۶۵ میں بھی موجود ہے کَمَثَلِ جَنَّۃٍ بِرَبۡوَۃٍ الآیۃ۔ زیر بحث آیت میں تَحْتِهَا الأنْهٰرُ کے الفاظ سے یہ بات خود بخود واضح ہو رہی ہے کہ یہ باغ بلندی پر ہوں گے۔
قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ: قول کی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔ ایک قول وہ ہوتا ہے جو سنا جاتا ہے۔ ایک قول وہ ہوتا ہے جو سراً…
Read the full tafseer →25۔ 1 قرآن کریم نے ہر جگہ ایمان کے ساتھ عمل صالح کا تذکرہ فرما کر اس بات کو واضح کردیا کہ ایمان اور عمل صالح ان دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ عمل صالح کے بغیر ایمان کا ثمر اور نہیں مل سکتا اور ایمان کے بغیر اعمال خیر کی عند اللہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ اور عمل صالح کیا، جو سنت کے مطابق ہو اور خالص رضائے الٰہی کی نیت سے کیا جائے۔ خلاف سنت عمل بھی نامقبول اور نمود و نمائش اور ریاکاری کے لئے کئے گئے عمل بھی مردود و مطرود ہیں۔
25۔ 2 مُتشَابِھَا کا مطلب یا تو جنت کے تمام میووں کا آپس میں ہم شکل ہونا ہے یا دنیا کے میووں کے ہم شکل ہونا ہے۔ تاہم یہ مشابہت صرف شکل یا نام کی حد تک ہی ہوگی ورنہ جنت کے…
Read the full tafseer →(20) یہ اسلام کے تیسرے عقیدے یعنی آخرت پر ایمان کا بیان ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی آنے والی ہے جس میں ہر انسان کو اپنے تمام اعمال کا جواب دینا ہوگا اگر ایمان کے ساتھ نیک عمل کئے ہوں گے تو وہ جنت نصیب ہوگی جس کی ایک جھلک اس آیت میں دکھائی گئی ہے۔
(21) اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جنت میں جب اہل جنت کو پھل دیا جائے گا تو وہ کہیں گے : یہ وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے کھانے کو دیا گیا، اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ جنت میں وقفہ وقفہ سے ایسے پھل دئے جائیں گے جو دیکھنے میں بالکل ملتے جلتے ہوں گے، مگر لذت اور ذائقے میں ہر پھل نیا ہوگا اور دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے کہ جنت کے…
Read the full tafseer →اس خوفناک اور وحشتناک منظر کے بالمقابل ذرا دوسرا رخ بھی دیکھئے کہ انعامات واکرامات کی کیا فروانی ہے جو مومنین کا انتظار کررہی ہے ؟
وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (25)
” اور اے پیغمبر جو لوگ کتاب پر ایمان لے آئیں ، اور اس کے مطابق اپنے عمل درست کرلیں ، انہیں خوشخبری دے دو کہ ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ ان باغوں…
Read the full tafseer →6 جنت کے میوے دنیا کے میووں سے شکل و صورت میں ملتے جلتے ہوں گے مگر لذت میں زمین و آسمان کا فرق ہوگا یا جنت کے میوے باہم ایک شکل و صورت کے ہوں گے اور مزا جدا جدا تو جب کسی میوے کو دیکھیں گے تو کہیں گے وہی قسم ہے جو پہلے دنیا میں یا جنت میں کھاچکے ہیں۔ اور چکھیں گے تو مزا اور ہی پائیں گئے۔
1 جنت کی عورتیں نجاسات ظاہرہ و باطنہ (اخلاق رذیلہ) سے سب سے پاک وصاف ہونگی۔
فائدہ : یہاں تک تین چیزیں جن کا جاننا ضروری تھا بیان فرمائیں اول مبدا (یعنی ہم کہاں سے آئے اور کیا تھے) دوسرے معاش (کہ کیا کھائیں اور کہاں رہیں) تیسرے معاد (کہ ہمارا انجام کیا ہے) ۔
Read the full tafseer →آیت 25 وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ط یہ لفظی ترجمہ ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔ اس لیے کہ فطری باغ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جس میں ذرا اونچائی پر درخت لگے ہوئے ہیں اور دامن میں ندی بہہ رہی ہے ‘ جس سے خود بخود آب پاشی ہو رہی ہے اور درختوں کی جڑوں تک پانی پہنچ رہا ہے۔
کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْھَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا لا
قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُلا وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًا ط
اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جنت میں اہل جنت کی جو ابتدائی دعوت یا ابتدائی ضیافت نُزُل…
Read the full tafseer →30 قرآن کریم میں آپ اکثر یہ بات ملاحظہ کریں گے کہ جہاں کہیں کفار اور ان کی وعید کا ذکر آتا ہے وہاں ساتھ ہی مومنوں اور ان کی جزا کا ذکر بھی ساتھ ہی کردیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی یہی صورت ہوتی ہے، کیونکہ انسان کی ہدایت کے لیے ترغیب اور ترہیب دونوں باتیں ضروری ہیں۔
31 یعنی شکل و صورت دیکھ کر وہ یہ تو کہہ دیں گے کہ یہ آم ہے یا انگور یا انار ہے مگر ان کا ذائقہ بالکل الگ اور اعلیٰ درجہ کا ہوگا اور ان کا سائز بھی دنیا کے پھلوں کی نسبت بہت بڑا ہوگا۔
32 جنتی لوگ سب کے سب خواہ مرد ہوں یا عورتیں، بول و براز اور رینٹ وغیرہ نیز اخلاق رذیلہ سے پاک صاف ہوں گے اور ان کی بیویاں حیض و نفاس کی نجاستوں سے…
Read the full tafseer →79 ۔ (اے ہمارے پیغمبر ! ) (آیت) ” بشر “ گویا مومنین صالحین اس کے مستحق ہیں کہ مخاطب انہیں مبارکباد پہنچائے، اور اس میں ان لوگوں کی تکریم زائد ہے بمقابلہ اس کے کہ انہیں براہ راست خود ہی بشارت دے دی جاتی۔ (آیت) ” امنوا “ یعنی توحید و رسالت پر ایمان لے آئے۔ (آیت) ” عملوا الصلحت “ یعنی عمل مطابق شریعت اسلام کیے۔ نیک عمل کے سمجھنے میں بہتوں کو دھوکا ہوا ہے، اور یہ مغالطہ آج کل بہت ہوگیا ہے۔ سمجھا یہ جانے لگا ہے کہ نیکی اور ایمان ایک دوسرے سے بالکل الگ اور بےتعلق چیزیں ہیں۔ اور پھر اس مفروضہ کی ایک فرع یہ قائم کی گئی ہے کہ کوئی شخص ممکن ہے کہ بہت صالح اعمال کا ہو، لیکن ایمان سے یکلخت محروم ہے۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر 25
ترجمہ : اور (اے نبی) خوشخبری دے دیجئے ان لوگوں کو جو ایمان لائے (یعنی) اللہ کی (توحید) کی تصدیق کی، اور نیک اعمال کئے کہ وہ فرائض اور نوافل ہیں، ان کے لئے درختوں والے اور محلوں والے باغات ہیں کہ ان باغوں اور محلوں کے نیچے نہریں جاری ہیں یعنی ان نہروں میں پانی جاری ہے اور نہر وہ جگہ ہے کہ جس میں پانی جاری ہوتا ہے (نہر کو نہر اس لئے کہتے ہیں) کہ پانی اس نہر کو کھود دیتا ہے اور جریان کی اسناد نہر کی جانب اسناد مجازی ہے جب ان باغوں میں سے کوئی پھل ان کو کھانے کے لئے بطور غذا دیا جائے گا تو کہیں گے کہ یہ تو اسی جیسا ہے جو ہم کو اس سے پہلے کھانے کے لیے دیا گیا، یعنی جو اس سے پہلے جنت…
Read the full tafseer →وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ( اور اے پیغمبر انہیں بشارت دو جو ایمان لائے) یہ جملہ جملۂ سابقہ پر عطف ہے۔ عادت الٰہی قرآن پاک میں اسی طرح جاری ہے کہ ترہیب کے بعد ترغیب اور ترغیب کے بعد ترہیب ذکر کی جاتی ہے عطف فعل کا فعل پر نہیں تاکہ دونوں میں کوئی وجہ مشارکت تلاش کرنے کی ضرورت پڑے۔ یا فاتّقُوْا پر عطف ہے یعنی مراد یہ ہے کہ ایمان لے آؤ اور آگ سے بچو اور ڈرو اور جنت کی بشارت پاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے خود ان ہی کو براہ راست بشارت سے یاد نہیں فرمایا یعنی اس طرح نہیں فرمایا کہ بشارت پاؤ بلکہ فرمایا کہ ” بشارت دو “ وجہ یہ کہ ایمان اور تقویٰ کے سبب ان کی تعظیم شان منظور ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ اب یہ…
Read the full tafseer →(25) اس کے بعد مومنین کی جنت میں عزت و عظمت کا بیان ہے، ان لوگوں کو جو کہ اللہ تعالیٰ کے ان احکامات کے جو کہ ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہیں بجا آوری کرتے ہیں اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ وہ اعمال صالحہ کرتے ہیں یعنی اہل ایمان کو اعمال صحالحہ کے سبب حضرت محمد ﷺ اور قرآن حکیم کے ذریعے بشارت و خوشخبری حاصل کر لینی چاہئے کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں ایسے باغات ہیں کہ وہاں درختوں اور ان کے مکانات کے کے نیچے سے شراب، دودھ، شہد، اور پانی کی نہریں بہتی ہیں، جب ان کو جنت میں مختلف قسم کے پھل اور میوے کھانے کو ملیں گے تو وہ کہیں گے کہ اس جیسے ہمیں اس سے پہلے بھی کھانے کے لیے دیے گئے، کیوں کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →کفار کو آگ سے ڈرانے کے بعد اب ایمان لانے پر جنت کی بشارت دی جا رہی ہے۔ قرآن مجید میں عموماً یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : (كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ) [ الزمر : 23 ] میں صحیح ترین قول کے مطابق ”مَّثَانِی“ سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کے ساتھ اس کا مقابل بھی مذکور ہو، مثلاً ایمان کے ساتھ کفر، جنت کے ساتھ جہنم کا ذکر ہو۔
ایمان دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور اس کے مطابق عمل کا نام ہے، یہاں ایمان پر عمل صالح کے عطف کا یہ مطلب نہیں کہ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، بلکہ ایمان کے بعد عمل صالح کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے کہ عموماً اس میں کوتاہی کی جاتی ہے، حالانکہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 25
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وبشر الذین امنوا اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: جب اللہ تعالیٰ نے کفار کی جزا کا ذکر فرمایا تو مومنین کی جزا کا بھی ذکر فرمایا، تبشیر کا مطلب ہے : ایسی چیز کی خبر دینا جس کا اثر جلد پر ظاہر ہو۔ پہلی خبر جو تجھ پر وارد ہوتی ہے اس کے ساتھ جلد میں تبدیلی ظاہر ہوتی ہے پھر یہ عام طور پر خوشی کے لئے استعمال ہونے لگا ایسی خبر کی قید کے ساتھ جس کی بشارت دی گئی ہو اور کبھی غیر مقید بھی استعمال ہوتا ہے اور غم اور شر کے لئے تبشیر استعمال نہیں ہوتا مگر اس شر پر قید کے ساتھ جس کی بشارت دی گئی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فبشرھم بعذاب الیم۔ (الانشقاق) (تو…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ماجہ، ابن ابی الدنیا نے صفۃ الجنۃ میں البزار، ابن ابی حاتم، ابن حیان، ابن ابی داؤد اور بیہقی دونوں نے البعث میں ابو الشیخ نے العظمہ میں اور ابن مردویہ نے امسامہ بن زید ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ! خبردار کیا کوئی جنت کے لئے تیار ہے بلاشبہ جنت کے لئے کوئی خطرہ نہیں رب کعبہ کی قسم یہ (جنت) نور ہے چمکئتا ہوا اور مہکتی ہوئی خوشبو اور مضبوط محل اور بہتی ہوئی نہر ہے اور پکے ہوئے پھل اور بہت ہی حسین اور جمیل بیوی اور بہت سے لباس اور جگہیں ہیں ہمیشہ رہنے کی جس میں میوے ہیں اور سلامتی کا گھر ہے اور ہرے بھرے پھل، خیر اور نعمت ہے۔ اونچی خوشگوار جگہوں میں صحابہ ؓ نے عرض…
Read the full tafseer →[ وَبَشِّرِ : اور آ ] بشارت دیجیے ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور نیک عمل کیے ] [ اَنَّ : کہ ] [ لَھُمْ : ان کے لیے ] [ جَنّٰتٍ : باغات ہیں ] [ تَجْرِىْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : جن کے دامن میں ] [ الْاَنْهٰرُ ۭ : نہریں ] [ كُلَّمَا : جب بھی ] [ رُزِقُوْا : ان کو دیا جائے گا ] [ مِنْهَا : اس میں ] [ مِنْ ثَمَـــرَةٍ : کوئی پھل ] [ رِّزْقًا ۙ : رزق ہوتے ہوئے ] [ قَالُوْا : وہ لوگ کہیں گے ] [ ھٰذَا الَّذِىْ : یہ ہے جو ] [ رُزِقْنَا : ہم کو دیا گیا ] [ مِنْ قَبْلُ ۙ : اس سے پہلے ] [ وَاُتُوْا بِهٖ : اور وہ لایا جائے گا ] […
Read the full tafseer →اہل ایمان کو جنت کی بشارت
کافروں کی سزا بتانے کے بعد (جو اوپر کی آیت میں مذکورہوئی) اس آیت میں اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں کی جزاذ کر فرمائی ہے جو طرح طرح کی نعمتوں کی صورتوں میں ظاہرہو گی۔
(اوّل): تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ باغوں میں رہیں گے یہ باغات دارالنعیم میں ہوں گے جسے جنت کہا جاتا ہے، ان باغوں میں رہنے کے لیے مکان بھی ہوں گے جیسا کہ سورة صف میں (وَ مَسَاکِنَ طَیّْبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ) فرمایا ہے، ان باغات میں نہریں جاری ہوں گی۔ جو صاف ستھرے پانی کی ہوں گی جس میں کسی طرح کا تغیر نہ ہوا ہوگا، اور دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا مزہ تبدیل نہ ہوا ہوگا۔ اور شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارۃ اعدت للکفرین۔ اور اگر تم تنہا اس کے مثل لانے پر قادر نہیں تو اس کا علاج یہ ہے کہ تم سوائے خدا تعالیٰ کے اپنے تمام اعوان وانصار کو بلا لو اگر تم اپنے اس اعتقاد میں سچے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں تاکہ وہ تمہاری اس کام میں مدد کرسکیں اور اس مشکل کو حل کرسکیں اور سب مل کر قرآن کے ہم پلہ کلام لاسکیں۔ پس اگر تم سب مل کر بھی ایسا نہ کرسکو۔ یعنی اس کے مثل کوئی چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی نہ لاسکو اور ہم پیشینگوئی کیے دیتے ہیں کہ تم ہرگز نہ لا سکو گے۔ قرآن کا ایک اعجاز تو یہ تھا کہ کوئی اس کے مثل نہیں لاسکتا۔ دوسرا اعجاز یہ ہے کہ پہلے ہی…
Read the full tafseer →ف 57 ۔ جو لوگ مسئلہ توحید و رسالت پر ایمان لائے اور قرآن کو خدا کا کلام مانا اور اس کے مطابق عمل کیا انہیں خوشخبری سنا دیجئے۔
58 ۔ جو لوگ مسئلہ توحید و رسالت پر ایمان لائے اور قرآن کو خدا کا کلام مانا اور اس کے مطابق عمل کیا انہیں خوشخبری سنا دیجئے۔
59 ۔ منھا اور اور من ثمرۃ میں من ابتدائیہ ہے۔ اور رِزْقاً رُزِقُوْا کا مفعول ثانی ہے اور مفعول اول اس کا نائب فاعل ہے یعنی جب بھی انہیں جنت کے پھلوں سے کچھ کھانے کے لیے دیا جائیگا۔
60 ۔ وہ اسے دیکھتے ہی بول اٹھیں گے کہ یہ تو وہی مزیدار پھل ہے جو پہلے بھی ہم کھاچکے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کریں گے۔
61 ۔ جنت میں جو پھل جنتیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
گزشتہ سے پیوستہ : سورة کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے “ اھدنا الصراط المستقیم ” کا جواب “ ذلک الکتب لاریب فیہ ” سے دیا۔ پھر انسانون کے تین گروہ بیان فرمائے۔ پہلا مومنین ، متقین کا گروہ۔ اور اس کے اوصاف بیان فرمائے۔ اس کے بعد دوسرے گروہ کفار کا ذکر کیا جو ظاہراً اور باطناً اللہ تعالیٰ کی توحید اس کے دین اور قیامت کے منکر ہیں اس کے بعد تیرہ آیات میں منافقین کا حال ذکر کیا۔ جو سب سے زیادہ خطرناک گروہ ہے ان کی علامات کارنامے اور ان کی ذہنیت کا بیان ہوا۔ اس کے بعد مثالوں کے ذریعے ہر قسم کے منافقوں کی نشاندہی کی ۔ جو کفر میں پکے ہوچکے ہیں یا پھر ابھی متردد ہیں۔ اور پھر ان کے برے انجام کا بھی ذکر…
Read the full tafseer →وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ 0 ۭ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْہَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا 0 ۙ قَالُوْا ھٰذَا الَّذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ 0 ۙ وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِہًا 0 ۭ وَلَھُمْ فِيْہَآ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ 0 ۤۙ وَّھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ 25
بشر
واستبشر :
إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ […
Read the full tafseer →ترکیب : الذین فعل بافاعل الذین آمنوا وعملو الصالحات صلہ و موصول جملہ اس کا مفعول جنت اسم ہے ان کا موصوف تجری من تحتہا الانہار جملہ فعلیہ اس کی صفت لہم خبر ان کی پس یہ ان اپنے اسم و خبر کے ساتھ مجرور ہے باء کا تقدیرہ بان اور متعلق ہے بشر کے کلما شرط رزقوا جزا الخ قالوا ھذا الذی رزقنا من قبل جملہ فعلیہ اس کا جواب شرط و جزا مل کر دوسری صفت ہوئی جنت کی یا خبر مبتداء محذوف کی ای ہم اوہی یا جملہ مستانفہ ہے رزقاً مفعول بہ ہے رزقوا کا اور منہا من ثمرۃ میں من ابتدائیہ ہے دونوں حال ہیں رزقاً سے علی سبیل تداخل یہ تمام جملہ عطف ہے جملہ سابقہ پر واتوابہ متشابہا جملہ معترضہ ہے گویا اس کہنے کا سبب اس میں…
Read the full tafseer →وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُط کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْھَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًالا قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًا ط وَلَھُمْ فِیْھَآ اَزْوَاجٌ مُّطَھَّرَۃٌ وَّھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔
(البقرۃ : 25)
(اور بشارت دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کیے، اس بات کی کہ ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جب جب ان کے پھل ان کو کھانے کو ملیں گے تو کہیں گے کہ یہ وہی ہیں جو اس سے پہلے ہمیں عطا ہوا تھا، حالانکہ وہ دئیے گئے اس سے ملتا جلتا، اور ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قرآن مجید اور نبوت کے بارے میں شک و انکار کرنے والوں کو سخت ترین عذاب کا انتباہ کرنے کے بعد اب ان لوگوں کو کامیابی کی نوید اور پیغام مسرت دیا جا رہا ہے جو ایمان خالص کے ساتھ نیک عمل کرتے ہیں۔
یاد رہے نیکی میں ایمان باللہ کے بعد تین چیزیں لازم ہیں :
(1) ۔ اخلاصِ نیّت (2) ۔ سنت کی اتباع
(3) ۔ فرائض کی ہمیشہ ادائیگی
نوافل میں پہلی دو شرائط لازمی ہیں اور تیسری شرط افضل ہے ضروری نہیں۔
جنت کے پھل شکل و صورت کے اعتبار سے دنیا کے پھلوں سے ہم رنگ اور ہم شکل ہوں گے۔ جنہیں دیکھتے ہی اہل جنت پکار اٹھیں گے کہ ان جیسے پھل تو دنیا میں بھی ہمیں دیے گئے تھے۔ شاید…
Read the full tafseer →سابقہ آیات سے ربط :
ربط : اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے کہ ترغیب کو ترہیب کے ساتھ ذکر کرتے ہیں تاکہ جو پیش کیا جاتا ہے۔ وہ خوش اسلوبی سے حاصل ہو اور جو چیز ہلاک کرنے والی ہے اس کے ارتکاب سے بچا جائے۔
جب کفار اور ان کے اعمال کا ذکر کیا۔ اور ان کو عقاب سے ڈرایا۔ تو اس کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا ذکر کیا اور ان کو اپنے اس ارشاد سے خوش خبری دی۔
بشارت :
وَبَشِّرِالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : (اور خوش خبری دیں ایمان لانے والوں اور اچھے عمل کرنے والوں کو) بَشِّرْ کا حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا۔ یا پھر ہر ایک کو اور یہ زیادہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہ اعلان کرتے ہیں۔ کہ یہ معاملہ اپنی عظمت و…
Read the full tafseer →خاصیت آیت 25۔
(آیت) وَبَشِّرِ الَّذِیْن آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ کُلَّمَا رُزِقُواْ مِنْہَا مِن ثَمَرَۃٍ رِّزْقاً قَالُواْ ہَـذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُواْ بِہِ مُتَشَابِہاً وَلَہُمْ فِیْہَا أَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ (25)
اگر کوئی درخت پھل نہ اٹھاتا ہو تو اس کے لیے یہ آیت بہت مفید ہے ، طریقہ یہ ہے کہ جمعرات کے دن روزہ رکھے اور وہ روزہ کا سنی یا کسی اور کچے سبزہ سے افطار کرے اور نماز مغرب سے فارغ ہو کر ان آیات کو کاغذ کے ایک ٹکڑے پر لکھے لکھتے وقت کوئی بات نہ کرے، پھر اس کاغذ کو اس درخت…
Read the full tafseer →قرآن شریف میں جہاں کافروں کا ذکر آتا ہے اس سے پہلے یا اس کے بعد مومنوں کا ذکر ضرور آتا ہے تاکہ عقبیٰ کی راحت و تکلیف کا حال ساتھ کے ساتھ معلوم ہوجاوے۔ ایک حال کے مقابلہ کی آیتیں دوسری جگہ ڈھونڈنی نہ پڑیں۔ قرآن شریف کے بیان کی اور خوبیوں میں سے یہ بھی ایک بیان مطلب کی خوبی ہے۔ اسی طرز بیان کے موافق اوپر کافروں کے انجام کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں مومنوں کا ذکر فرمایا ہے جنت کی راحتوں اور دوزخ کے عذابوں کے بیان میں اس قدر کثرت سے صحیح حدیثیں ہیں کہ ان کو بیان کرنا مشکل ہے۔ اسی واسطے صحیح حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جنت کی نعمتیں نہ کبھی آنکھ نے دیکھیں نہ کان نہ سنیں۔ نہ کسی کے دل…
Read the full tafseer →آیت 25
جب اللہ تعالیٰ نے کفار کی جزا کا ذکر کیا تو اعمال صالحہ سے آراستہ اہل ایمان کی جزا بھی بیان فرما دی، جیسا کہ قرآن مجید میں اس کا طریقہ ہے کہ وہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا بیان کرتا ہے، تاکہ بندہ مومن اللہ کی رحمت کی رغبت بھی رکھے اور اس کے عذاب سے ڈرتا بھی رہے۔ اس کے دل میں عذاب کا خوف ہو تو رحمت و مغفرت کی امید سے بھی سرشار ہو۔
(وبشر) یعنی اے رسول ! آپ اور آپ کا قائم مقام خوشخبری دے دے۔
(الذین امنوا) ” یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے “ (وعملوا الصلحت) اور انہوں نے اپنے جوارح سے نیک کام سر انجام دیئے۔ پس انہوں نے اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ اللہ تعالیٰ نے اعمال خیر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
عقلی دلائل کے استعمال اور ان سے استدلال
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیر بحث آیات دلائل توحید اور اثبات نبوت کے ان مضامین کو متضمن ہونے کے ساتھ ساتھ جن کا ہم نے گزشتہ سطور میں ذکر کیا ہے عقلی دلائل اور ا ندلائل سے استدلال کرنے کے حکم کو بھی متضمن ہیں۔ یہ بات ان لوگوں کے مسلک کو باطل قرار دیتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مہیا کردہ دلائل سے استدلال کرنے کی نفی کرتے اور اپنے زعم میں اللہ کی معرفت کے لئے خبر اور رسول اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے علم پر اقتصار کرتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی معرفت اور اپنے رسول ﷺ کی صداقت کی گواہی کے لئے لوگوں کو جو دعوت دی ہے اس میں صرف خبر پر اقتصار نہیں کیا…
Read the full tafseer →72 ضرورت عمل کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دعوی ایمان کے ساتھ عمل کی بھی ضرورت ہے : یعنی انہوں نے صرف زبانی کلامی ایمان کا دعوی ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے عمل و کردار سے بھی اپنے عقیدے و ایمان کا ثبوت فراہم کیا۔ سو ایمان کا صرف زبانی کلامی دعوی ہی کافی نہیں بلکہ اس دعوی کی تصدیق کے لیے عمل صالح کا پایا جانا بھی ضروری ہے، سو ایمان کی مثال اس صالح بیج کی سی ہے جو زمین کے اندر ہوتا ہے، اور عمل صالح کی مثال اس پودے کی سی ہے جو اس بیج سے پھوٹ کر باہر نکلتا ہے۔ پس جس طرح بیج کے بغیر کوئی پودا پیدا ہی نہیں ہوسکتا، اسی طرح ایمان کے بیج کے بغیر کسی عمل صالح کے وجود کا کوئی سوال ہی…
Read the full tafseer →مومنوں کو خوش خبری
تشریح : اس آیت میں جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے اور مومنین کے لیے خوش خبری ہے۔ گزشتہ آیات میں کفار مشرکین اور منافقین کا ذکر خوب وضاحت سے کردیا گیا ہے اور پھر ان کو عذاب جہنم سے بھی اچھی طرح آگاہ کردیا گیا ہے۔ اب اللہ جل شانہ اپنے ان بندوں کے لئے خوشخبری کی وعید دیتا ہے جو نیکوکار ہیں، متقی ہیں، صابر ہیں، شاکر ہیں، اللہ کی وحدانیت کو دل سے مانتے ہیں جن کے دل ہر وقت نیکی بھلائی ذکر اللہ اور شکر سے معمور رہتے ہیں جو اللہ کی وحدانیت اور عظمت کا اقرار بالقلب کرتے ہیں، گناہوں سے بچتے ہیں اور محمد ﷺ کو آخری بنی دل کی گہرائیوں اور پورے یقین سے مانتے ہیں اور اس قرآن کو حق سمجھتے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیات 21- 29
اسرارو معارف
تفسیر : دنیا میں صرف دو قومیں ہیں :
یا ایھا الناس اعبدوار بکم…وانتم تعلمون۔
ایمان وکفر کا فرق اور مومن کے اوصاف اور کافر کی عادات ارشاد فرما کر پوری آبادی میں صرف دو قومیں مقرر فرمائی ہیں۔ ایک مومن دوسری کافر جو محض دعویٰ کرنے سے نہیں بن سکتا بلکہ ایمان اور کفر کا معیار بھی ارشاد ہوا اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے ان کافروں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی جو عقائد تو کفر یہ رکھتے ہیں مگر مدعی اسلام کے ہیں ۔ ان کی حرکات فساد کا سبب ہیں جس کو وہ اصلاح کا نام دیتے ہیں یہ کفر ہی کی خطرناک تر قسم ہے کوئی تیسری قوم نہیں جب حق و باطل واضح ہوگیا تو اب صلائے عام ہے ساری نوع انسانی کو…
Read the full tafseer →ف 7 کفار کو تہدید کے بعد اب ترغیب دی جا رہے ہے اور قرآن میں عمو ما یہ دونوں مقردن ہیں۔ اس اسلوب بیان کی وجہ سے اسے المثانی کہا جاتا ہے ( ابن کثیر) ایمان کے ساتھ عمل صالح کی تصریح سے مقصد یہ ہے کہ جنت میں جانے کے لیے عمل صالح بھی ضروری ہے۔ کسی عمل کے صالح ہونے کے یہ معنی ہیں کہ خلوص نیت کے ساتھ ہو اور سنت کے مطابق ہو۔ سنت کی مخالفت سے نیک عمل بدعت بن جاتا اور عدم خلوص سے نفاق پیا ہوتا ہے۔ اسی کو دوسرے الفاظ میں اسلام اور احسان سے تعبیر فرمایا ہے۔ (دیکھئے حاشیہ آیت 112) نفاق اور بدعت سے عمل برباد ہوجاتا ہے۔ (ابن کثیر)8 دینا کے میووں کے ہم صورت ہوں گے یا آپس میں ہم شکل ہوں گے حضرت ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(2:24) فان۔عاطفہ ہے۔ ان شرطیہ۔ لم تفعلوا مضارع نفی تاکید بلن فاتقوالنار التی وقودھا الناس والحجارۃ۔جزائیہ ہے، جملہ جواب شرط ہے (جزائیہ) اتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، اتقاء (افتعال) مصدر ۔ تم ڈرو، تم بچو، تم پرہیزگاری اختیار کرو
وقود ایندھن جس سے آگ جلائی جاتی ہے۔ وقد یقد (باب ضرب) آگ کا سلگنا۔ باب اقعال سے اوقد یوقد آگ جلانا۔ روشن کرنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ النار کے لئے ہے۔
اعدت للکافرین جملہ خبر یہ ہے اور النار سے موضع حال میں ہے اعدت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب اعداد (باب افعال) سے مصدر۔ وہ تیار کی گئی ع دد مادہ۔
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 25
(بشر): خوش خبری سنادے۔ (عملوا) : انہوں نے کام کئے۔ عمل کئے۔ (الصلحت ): بھلے، بہتر، نیک۔ (جنت): جنتیں۔ (تجری): جاری، (بہتی ہوں گی) ۔ (تحت): نیچے ۔ (کلما ): جب، جب بھی۔ (رزقوا): دئیے گئے۔ (ھذا الذی): یہ تو وہی ہے۔ (اتوا): دئیے گئے۔ (متشابھا) : ملتے جلتے، ایک جیسے۔ (ازواج): (زوج) جوڑے ، بیویاں، ساتھی۔ (مطھرۃ) پاک صاف، ہر طرح صاف ستھری، پاکیزہ۔ (خلدون) : ہمیشہ رہنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 25
اس سے پہلے یہ ذکر ہو رہا تھا کہ وہ لوگ جو قرآن کریم جیسا کلام نہیں لاسکتے وہ اپنی عاقبت خراب نہ کریں کیونکہ جن بتوں اور انسانوں کو وہ اپنا سہارا اور معبود سمجھتے ہیں وہ خود جہنم کا…
Read the full tafseer →حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنت کی نعمتیں نہ کبھی آنکھ نے دیکھیں، نہ کان نے سنیں، نہ کسی کے دل پر ان کا تصور گزر سکتا ہے۔ یہ حدیث صحیحین وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے آئی ہے۔ ایمان کے ساتھ نیک کاموں کے ذکر سے معلوم ہوا کہ جنب جب ملے گی کہ ایمان اور نیک عمل دونوں ہوں۔ جنت کی نہروں کے کنارے نہیں ہیں، برابر زمین پر جاری ہیں ان میں سے دودھ، شہد، شراب جنتی لوگ بلا دقت لے سکیں گے۔ جنت کی بیبیاں حیض و نفاس سے پاک ہوں گی، اس لیے ان کو ستھری فرمایا۔ جنت کے میوے دنیا کے میووں کے مشابہ سمجھیں گے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جنبی جنت اور دوزخی دوزخ میں…
Read the full tafseer →[20] یعنی شکل میں ان پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے جن سے وہ دنیا میں آشنا تھے۔ البتہ لذت میں وہ ان سے بدرجہا زیادہ بڑھے ہوئے ہوں گے۔ اور جنتی انہیں کھا کر زیادہ خوش ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
جنت (ف 1) و دوزخ کی حقیقت :
جس طرح دنیا میں دو جماعتیں ہیں ، ایک ماننے اور عمل کرنے والی ، دوسری انکار کرنے والی اور فسق وفجور میں مبتلا رہنے والی ۔ اسی طرح اللہ کی رضا اور غضب کے دو مقام ہیں ، دوزخ یا جہنم نام ہے کے مقام غضب و جلال کا اور جنت کہتے ہیں اس کی رضا و محبت کے مظہر اتم کو ۔
چونکہ انسان روح و مادہ سے مرکب حقیقت کا نام ہے اور اس میں دونوں کے الگ الگ مقتضیات ہیں ‘ اس لئے ضروری ہے کہ سزا اور جزا میں دونوں چیزوں کا خیال رکھا جائے ، نہ صرف مادہ متاثر ہو اور نہ صرف روح منفعل ۔ قرآن حکیم نے اس نکتے کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے ، وہ کہتا ہے جہنم میں تمہارے جسم کو بھی ایذا دی جائے گی اور…
Read the full tafseer →ف 2۔ اور اے نبی آپ ان لوگوں کو جو ایمان لا چکے ہیں اور وہ نیک اعمال کے پابند ہیں ۔ یہ مسرت آمیز خبر دے دیجئے کہ ان کے واسطے آخرت میں ایسی بہشتیں اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ۔ جب کبھی بھی ان کو ان بہشتوں میں سے کوئی پھل کھانے کو پیش کیا جائے گا تو وہ اس پیش کردہ پھل کو دیکھ کر ہر بار یہی کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو اس سے پیشتر ہم کو دیا جا چکا ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ ان کو ونوں دفعہ کے پھل صورت میں باہم ملتے جلتے دیئے جائیں گے اور ان لوگوں کے لئے جنت کے باغوں میں پاک و صاف عورتیں ہوں گی اور یہ لوگ ان بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ( تیسیر)
بشارت ایک ایسی خبر کو کہتے ہیں جو سننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 8۔ دونوں بار کے پھلوں کی صورت ایک سی ہوگی جس سے وہ یوں سمجھیں گے کہ یہ پہلی ہی قسم کا پھل ہے مگر کھانے میں مزہ دوسرا ہوگا، جس سے خط و سرور مضاعف ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →جنت اور وراثت جنت کا ذکر :
58: گزشتہ آیت میں منکرین اور ان کے انکار کا نتیجہ بیان کیا گیا تھا۔ ضروری تھا کہ اس کے بعد مؤمنین اور ان کے ایمان کے نتیجہ کو بھی بیان کیا جاتا چناچہ اس پوری آیت میں یہ بتایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور اس قانون کو اپنی زندگی کا دستور العمل بنا لیا وہ جنت میں داخل ہوں گے اور اس طرح کہ گویا جنت ان کی وراثت تھی یعنی ان کا حق تھا سب سے پہلے ان کے اعمال صالحہ کی جزا اسی دنیا میں انہیں ملے گی۔ یعنی بہشت زا اراضی کے مالک وہ بنادیئے جائیں گے اور خلافت و نیابت الٰہی کے مستحق قرار پائیں گے یہ خیال بالکل غلط اور بےبنیاد ہے کہ نیک کاموں کا بدلہ دنیا میں نہیں ملتا۔ نہیں ، نہیں…
Read the full tafseer →Verse 24 spoke of the fire of hell which has been prepared to punish those who do not believe in the Holy Qur'an; the present verse announces the reward for those who believe.
As for the fruits with which believers will be regaled in Paradise, some commentators say that this concerns only the fruits of Paradise which would be alike in shape, but each time different in taste. Others say that these fruits would resemble the fruits of the earth in shape alone, but their taste would be totally different. Anyhow, the point is that the believers would have a kind of joy in Paradise they had never…
Read the full tafseer →26. The fruits of Paradise will not be so exotic in appearance as to be unfamiliar to people. They will resemble the fruits to which human beings are accustomed in this world, though infinitely excelling them in delicacy of taste. In appearance they may resemble, say mangoes, pomegranates and oranges, and the people of Paradise will be able to identify them as such. In taste, however, there will be no comparison between the terrestrial and heavenly fruits.
27. The Qur'anic text has the Arabic word azwaj which means 'spouses' or 'couples', and embraces both husband and wife. The husband is the…
Read the full tafseer →