خلافت آدم کا مفہوم
اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو دیکھو کہ اس نے آدم کو پیدا کرنے سے پہلے فرشتوں میں ان کا ذکر کیا جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ فرماتا ہے کہ اے نبی تم یاد کرو اور اپنی امت کو یہ خبر پہنچاؤ۔ ابو عبیدہ تو کہتے ہیں کہ لفظ " اذ " یہاں زائد ہے لیکن ابن جریر وغیرہ مفسرین اس کی تردید کرتے ہیں خلیفہ سے مراد یہ ہے کہ ان کے یکے بعد دیگرے بعض کے بعض جانشین ہوں گے اور ایک زمانہ کے بعد دوسری زمانہ میں یونہی صدیوں تک یہ سلسلہ رہے گا۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے۔ آیت (هُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ) 35۔ فاطر :39) دوسری جگہ فرمایا آیت (وَيَجْعَلُكُمْ خُلَـفَاۗءَ الْاَرْضِ) 27۔ النمل…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 36
اُوپر کے رکوع میں بندگیِ رب کی دعوت اس بنیاد پر دی گئی تھی کہ وہ تمہارا خالق ہے، پروردگار ہے، اسی کے قبضہ قدرت میں تمہاری زندگی و موت ہے، اور جس کائنات میں تم رہتے ہو، اس کا مالک و مدبّر وہی ہے، لہٰذا اس کی بندگی کے سوا تمہارے لیے اور کوئی دوسرا طریقہ صحیح نہیں ہو سکتا۔ اب اس رکوع میں وہی دعوت اس بنیاد پر دی جارہی ہے کہ اس دنیا میں تم کو خدا نے اپنا خلیفہ بنایا ہے، خلیفہ ہونے کی حیثیت سے تمہارا فرض صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ اس کی بندگی کرو، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مطابق کام کرو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا اور اپنے ازلی دشمن شیطان کے اشاروں پر چلے، تو بدترین…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جس وقت ارشاد فرمایا آپ کے رب نے فرشتوں سے (تاکہ وہ اپنی رائے ظاہر کریں جس میں حکمت و مصلحت تھی مشورہ کی حاجت سے تو حق تعالیٰ بالا و برتر ہیں غرض اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ) ضرور میں بناؤں گا زمین میں ایک نائب (یعنی وہ میرا نائب ہوگا کہ اپنے احکام شرعیہ کے اجراء ونفاذ کی خدمت اس کے سپرد کروں گا) کہنے لگے کیا آپ پیدا کریں گے زمین میں ایسے لوگوں کو جو فساد کریں گے اس میں اور خوں ریزیاں کریں گے اور ہم برابر تسبیح کرتے رہتے ہیں بحمد اللہ اور آپ کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں (فرشتوں کی یہ گذارش نہ بطور اعتراض اور نہ اپنا استحقاق جتانے کے لئے بلکہ فرشتوں کو کسی طرح یہ معلوم…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ: عربی زبان میں جب کلام کا آغاز“اذ”سے ہوتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس سے پہلے خیال کرو، تصور کرو، یاد کرو یا ان کے ہم معنی کوئی فعل یہاں محذوف ہے۔ عموماً اس کے بعد کسی ایسی ہی سرگزشت یا واقعہ کا حوالہ آتا ہے جو یا تو مخاطب کے علم میں ہو یا خود متکلم اس کی قطعیت پر اس درجہ مطمئن ہو کہ ایک معلوم ومعروف حقیقت کی حیثیت سے اس کا حوالہ دے سکے۔ یہاں اگرچہ آدم، ملائکہ اور ابلیس سے متعلق ایک ایسے ماجرے کا حوالہ دیا گیا ہو جو عالم غیب میں پیش آیا ہے اور جس کا علم خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے۔ لیکن مخاطب یہاں اول تو آنحضرت ﷺ ہیں جن کے لئے زبان وحی کی ہر بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
30۔ 1 مَلاَئِکَۃُ (فرشتے) فرشتے اللہ کی نوری مخلوق ہیں جن کا مسکن آسمان ہے جو احکامات کے بجا لانے اور اس کی تحمید و تقدیس میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے کسی حکم سے سرتابی نہیں کرتے۔
30۔ 2 خَلِیْفَۃُ سے مراد ایسی قوم ہے جو ایک دوسرے کے بعد آئے گی اور یہ کہنا کہ انسان اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اور نائب ہے غلط ہے۔
30۔ 3 فرشتوں کا یہ کہنا حسد یا اعتراض کے طور پر نہ تھا بلکہ اس کی حقیقت اور حکمت معلوم کرنے کی غرض سے تھا کہ اے رب اس مخلوق کے پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے جب کہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہونگے جو فساد پھیلائیں گے اور خون ریزی کریں گے ؟ اگر مقصود یہ ہے کہ تیری عبادت ہو تو اس کام کے لئے…
Read the full tafseer →27: آیت نمبر 22 میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت واجب ہونے کی نہایت مختصر اور سادہ مگر مضبوط دلیل یہ دی گئی تھی کہ جس نے تمہیں وہی پیدا کیا عبادت کا مستحق ہے۔ آیت نمبر 28 میں کافروں کے کفر پر تعجب کا اظہار بھی اسی بنا پر کیا گیا تھا۔ اب انسان کی پیدائش کا پورا واقعہ بیان کرکے اس دلیل کو مزید پختہ کیا جارہا ہے آیت میں خلیفہ سے مراد انسان ہے اور اس کے خلیفہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کے احکام پر خود بھی عمل کرے اور اپنی طاقت کے مطابق دوسروں سے بھی عمل کروانے کی کوشش کرے۔
28: فرشتوں کے اس سوال کا منشاء خدا نخواستہ کوئی اعتراض کرنا نہیں تھا بلکہ وہ حیرت کررہے تھے کہ ایک ایسی مخلوق…
Read the full tafseer →وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأرْضِ خَلِيفَةً ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو ، جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ “ تو معلوم ہوا کہ یہ عالم بالا کی خاص مشیئت ہے کہ اس کائنات میں پیدا کئے جانے والے اس نئے موجود (انسان ) کو اس زمین کے تمام اختیارات دے دیئے جائیں ۔ اسے اس دنیا میں آزاد چھوڑ دیا جائے اور اس کائنات کے مقصد تخلیق اور اسے عدم سے وجود میں لانے کی غرض وغایت کا اظہار اور اس کے بروئے کار لانے کا کام اس انسان کے سپرد کردیا جائے اور اس انسان کو اس زمین کی تحلیل و ترکیب ، اس کی تبدیلی اور ترقی ، اس کے اندر پوشیدہ خزانوں کا…
Read the full tafseer →13 اب ایک بڑی نعمت کا ذکر کیا جاتا ہے جو جملہ بنی آدم پر کی گئی اور وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی آفرنیش کا قصہ ہے جو تفصیل سے بیان کیا گیا اور ان کو خلیفتہ اللہ بنایا گیا۔ پہلی آیت میں جو خلق لکم مافی الارض جمیعا فرمایا تھا۔ اس میں کسی کو انکار پیش آئے تو قصہ حضرت آدم سے اس کا جواب بھی بخوبی ہوگیا۔
1 ملائکہ کو جب یہ خلجان ہوا کہ ایسی مخلوق کہ جس میں مفسد اور خونریز تک ہوں گے ہم ایسے مطیع اور فرمانبردار کے ہوتے ان کو خلیفہ بنانا اس کی وجہ کیا ہوگی ؟ تو بطریق استفادہ یہ سوال کیا۔ اعتراض ہرگز نہ تھا رہا یہ امر کہ ملائکہ کو بنی آدم کا حال کیونکر معلوم ہوا، اس میں بہت سے احتمال ہیں۔ جنات پر قیاس…
Read the full tafseer →آیت 30 وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلآءِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً ط
خلیفہ درحقیقت نائب کو کہتے ہیں۔ عام طور پر لوگوں کو مغالطہ لاحق ہوتا ہے کہ خلیفہ اور جانشین کسی کی موت کے بعد مقرر ہوتا ہے ‘ زندگی میں نہیں ہوتا۔ لیکن اس دنیا میں انسان کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے وائسرائے کا تصور ذہن میں رکھیے۔ 1947 ء سے پہلے ہم انگریز کے غلام تھے۔ ہمارا اصل حاکم بادشاہ یا ملکہ انگلستان میں تھا ‘ جبکہ دہلی میں وائسرائے ہوتا تھا۔ وائسرائے کا کام یہ تھا کہ His Majesty یا Her Majesty کی حکومت کا جو بھی حکم موصول ہو اسے بلا چون و چرا بغیر کسی تغیر اور تبدلّ کے نافذ کرے۔ البتہ وائسرائے کو…
Read the full tafseer →38 فرشتوں کی مستقل حیثیت : آج کل بعض ملحدین کی طرف سے یہ شبہ وارد کیا گیا ہے کہ فرشتوں سے مراد وہ مجرد قوتیں ہیں جو اس کارگاہ کائنات میں کارفرما ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ فرشتے ایسی ہستیاں ہیں جو مستقل شخصیت رکھتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان مکالمہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں بعض ہستیوں کے قرآن میں نام بھی مذکور ہیں۔
39 آدم (علیہ السلام) خلیفہ کس کا ؟ یہاں علی الاطلاق خلیفہ (نائب، قائمقام) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ صراحتاً یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ آدم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے یا کسی دوسری مخلوق کا۔ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ خلیفہ چونکہ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی کے مرنے یا عدم…
Read the full tafseer →108 ۔ اذظرف زمان ہے، کسی گزشتہ واقعہ کی یاد دلانے کے موقع پر آتا ہے۔ جس طرح (آیت) ” اذا “ کسی واقعہ مستقبل پر آتا ہے۔ اذ ظرف موضوع لزمان نسبۃ ماضیۃ وقع فیھا نسبۃ اخری مثلھا (ابوسعود) بعض نے اذکر اس کے قبل مقدر مانا ہے۔ ھو نصب باضمار الذکر والمعنی اذکرلھم (کبیر) واذکروا فعلی بابیکم (کبیر) ابوعبیدہ لغوی نے کہیں کہہ دیا تھا کہ اذ یہاں زائد ہے۔ اس کی شدومد سے تردید اہل لغت وائمہ تفسیر دونوں نے کی ہے۔ قال ابن اسحاق ھذا اقدام عن ابی عبیدہ (لسان) قال الزجاج ھذا اجتراء عن ابی عبیدۃ (ابن کثیر) ردہ ابن جریر قال القرطبی وکذاردہ جمیع المفسرین (ابن کثیر)
109 (آفرینش آدم (علیہ السلام) کے وقت) سورة کے رکوع…
Read the full tafseer →آیت نمبر 30 تا 33
ترجمہ : اے محمد ﷺ ! اس وقت کو یاد کرو، جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا تھا کہ میں زمین میں ایک نائب بنائوں گا، جو زمین میں میرے احکام نافذ کرنے میں میری نیابت کرے گا اور وہ آدم علیہ الصلاة والسلام ہے، تو فرشتوں نے عرض کیا، کیا آپ زمین میں ایسے شخص کو مقرر فرمائیں گے جو زمین میں معاصی کے ذریعہ خون خرابہ کرے گا ؟ یعنی قتل کے ذریعہ خون ریزی کرے گا، جیسا کہ جناب نے کیا اور وہ زمین میں پہلے سے (مقیم) تھے، چناچہ جن انہوں نے فسادبرپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف فرشتوں کو بھیجا تو فرشتوں نے ان کو جزیروں اور پہاڑوں کی طرف دھکیل دیا، اور ہم آپ کی حمد وثناتو کر ہی رہے ہیں، یعنی…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ ( اور یاد کیجئے اے محمد ﷺ اس وقت کا تذکرہ جبکہ تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا) اب یہاں سے جناب باری ایک تیسری نعمت کو بیان فرماتے ہیں کیونکہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کرنا اور انہیں تمام فرشتوں پر فضیلت کا دینا ایسی نعمت ہے کہ کل اولاد آدم کو شامل ہے اور اس کلام سے طاعات کے ادا کرنے اور معاصی سے اجتناب کرنے کی ترغیب مستفاد ہوتی ہے۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ حق تعالیٰ نے اوّل آسمان اور زمین اور ملائکہ کو پیدا کیا ملائکہ کو آسمان میں اور جنوں کو زمین میں بسایا۔ جن ایک مدت دراز تک زمین میں آباد رہے۔ پھر ان میں حسد، عداوت اور بغاوت پھیل گئی اور آپس میں…
Read the full tafseer →(30) اب اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کا واقعہ بیان کرتے ہیں، جنہیں آدم ؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں سے جو کہ زمین میں رہنے والے تھے، فرمایا میں تمہارے بدلے زمین پر ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں، انہوں نے کہا کہ کیا آپ ایسے لوگوں کو پیدا کرنے والے ہیں جو گناہ اور ظلم کا ارتکاب کریں گے اور ہم آپ کے حکم کے مطابق عبادت کرتے ہیں اور پاکی کے ساتھ آپ کا ذکر کرتے ہیں، ارشاد ہوا کہ میں اس خلیفہ (آدم علیہ السلام) کی حکمتوں کو زیادہ جانتا ہوں۔
Read the full tafseer →ان آیات سے معلوم ہوا کہ فرشتے ایک الگ مخلوق ہیں اور وہ انسان کی پیدائش سے پہلے موجود تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی تعریف میں اللہ پر ایمان کے بعد فرشتوں پر ایمان کا ذکر فرمایا۔ [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبی ﷺ۔۔ : 50 ] نیک انسانوں یا نیکی کی قوتوں کو فرشتے قرار دینا درحقیقت ان کے وجود سے انکار ہے، جو ایمان کے منافی ہے۔
خلیفہ وہ ہے جو کسی کی موت کے بعد یا اس کے غائب ہونے کی صورت میں اس کا جانشین بنے، یا تمام امور خود سر انجام نہ دے سکنے کی صورت میں بعض معاملات میں اس کا نائب ہو۔ یہاں خلیفہ سے اللہ کا خلیفہ مراد لینا درست نہیں، کیونکہ نہ اللہ تعالیٰ پر موت آئے گی نہ وہ غائب ہے اور نہ وہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 30
اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے : واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ اس میں سترہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واذ قال ربک للملئکۃ اذ اور اذا دونوں حرف توقیت ہیں اذ ماضی کے لئے ہے اور اذا مستقبل کے لئے ہے کبھی یہ ایک دوسرے کی جگہ استعمال کئے جاتے ہیں۔ المبرد نے کہا : اذ جب مضارع کے ساتھ آئے تو اس کا معنی ماضی ہوتا ہے جیسے واذ یمکربک (الانفال :30) (واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ) اس کا معنی اذ مکروا ہے اور واذ قلت ہے یعنی مضارع کو ماضی کے معنی میں کردیتا ہے اور جب اذا ماضی پر داخل ہو تو اسے مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فاذا جاءت الطامۃ…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ جہاں کہیں قرآن میں ” اذ “ ہے وہ معاملہ ہوچکا ہوتا ہے۔
(2) امام جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انی جاعل “ سے مراد ہے فاعل یعنی کرنے والا۔
(3) ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہر چیز قرآن میں ” جعل “ خلق (کے معنی میں) ہے یعنی پیدا کیا گیا۔
(4) امام وکیع، عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن لمنذر اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو ان کے پیدا کرنے سے پہلے جنت سے نکالا پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت ” انی جاعل فی الارض خلیفۃ “۔
(5) امام حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ قَالَ : اور جب کہا ] [ رَبُّكَ : تیرے رب نے ] [ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [ اِنِّىْ جَاعِلٌ: کہ میں بنانے والا ہوں ] [ فِى الْاَرْضِ : زمین میں ] [ خَلِيْفَةً ۭ : ایک خلیفہ ] [ قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ اَتَجْعَلُ فِيْهَا : کیا تو بناتا ہے اس میں ] [ مَنْ : اس کو جو ] [ يُّفْسِدُ فِيْهَا : توازن بگاڑے گا اس میں ] [ وَيَسْفِكُ الدِّمَاۗءَ ۚ : اور بہائے گا خون ] [ وَ : درنحالی کہ کہ ] [ نَحْنُ نُسَبِّحُ : ہم پاکی بیان کرتے ہیں ] [ بِحَمْدِكَ : تیری حمد کے ساتھ ] [ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۭ : اور ہم تیری پاکیزگی کا اقرار کرتے ہیں ] [ قَالَ : اس نے کہا ] [ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ : میں…
Read the full tafseer →حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت کا اعلان اور فرشتوں کی معروض
انسان کی تخلیق سے پہلے اس زمین میں جنات رہتے تھے۔ وہ آگ سے پیدا کیے گئے تھے ان کے مزاج میں شر ہے، زمین میں بہت فساد کرتے رہے اور خون بہاتے رہے۔ اللہ جل شانہٗ نے زمین میں اپنا خلیفہ پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں۔ فرشتوں نے جنات کا حال دیکھ رکھا تھا، انہوں نے سمجھا کہ زمین کا مزاج ایسا ہی ہے کہ جو اس میں رہے گا فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ گویا فرشتوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ ہونے والے خلیفہ میں تین قوتیں ہوں گی۔ (جن کا وجود خلافت کے لیے ضروری ہے) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
ذکر تخلیق سامان حیات روحانی واعطاء خلافت ربانی
قال تعالیٰ واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ انہ ھو التواب الرحیم
گزشتہ آیات میں زمین و آسمان اور دیگر مخلوقات کی پیدائش کو بیان فرمایا کہ ہم نے ان تمام مخلوقات کو تمہارے نفع کے لیے پیدا کیا ہے۔ آئندہ آیات میں ان مخلوقات سے منتفع ہونے والی مخلوق یعنی انسان کا ذکر فرماتے ہیں۔ انسان سے پہلے دو قسم کی مخلوق موجود تھی۔ ایک فرشتے دوسرے جن اور یہ دونوں قسمیں علوی اور سفلی۔ ارضی اور سماوی اشیاء سے متمتع اور منتفع نہیں ہوسکتیں۔ فرشتوں کا نہ منتفع ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ فرشتوں کو نہ زن اور فرزند کی ضرورت اور نہ طعام و شراب اور نہ طعام و شراب…
Read the full tafseer →ف 74 ۔ اِذْ ظرف کا عامل یہاں محذوف ماننے کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے یہاں اذکر محذوف مانا ہے۔ کیونکہ بعد میں آنے والا قَالُوا اس میں عامل ہے۔ اور ظروف کے عوامل کا ان پر مقدم ہونا جائز ہے۔ خَلِیْفَةً ۔ خلیفہ اسے کہتے ہیں جو کسی دوسرے کے بعد اس کی جگہ اس کے فرائض سنبھالے۔ الخلیفة من یخلف غیرہ ویقوم مقامہ (کبیر ص 381 ج 1)
75 ۔ فرشتوں کا سوال بطور اعتراض یا بنی آدم سے بوجہ حسد کے نہیں تھا بلکہ محض استفسار اور استکشاف کے طور پر تھا۔ لیس علی وجہ الاعتراض علی اللہ وال علی وجہ الحسد لبنی ادم کما قد یتوھمہ بعض المفسرین (ابن کثیر ص 69 ج 1) اور بنی آدم کے متعلق فساد برپا کرنے اور خون ریزی کرنے…
Read the full tafseer →گزشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے چار بنیادی مسائل یعنی توحید ، رسالت ، ایمان بالقرآن اور معاد (قیامت) کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کے بعد قرآن و رسالت میں شک کرنے والے لوگوں کا رد فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کی صفات کمال کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان بیشمار انعامات کا بھی تذکرہ فرمایا۔ جو اس نے بنی نوع انسان پر کئے۔ ان میں خصوصاً مادی انعامات کا بیان تھا ۔ جس میں انسان کا اپنا وجود ، زمین و آسمان کی تخلیق ، زمین میں پیدا ہونے والی تمام چیزیں شامل ہیں۔ بالخصوص زمین سے نکلنے والے پانی کا ذکر تھا۔ جس سے انسان فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی سے نباتات پیدا ہوتے ہیں جو انسان کی روزی…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 4
وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَۃً 0 ۭ قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِيْہَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْہَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاۗءَ 0 ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ 0 ۭ قَالَ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 30
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ…
Read the full tafseer →ترکیب : اذ مفعول بہ ہے اذکر محذوف کا بعض کہتے ہیں مبتداء محذوف کی خبر ہے تقدیرہ و ابتدا خلقی اذقال بعض کہتے ہیں زائدہ ہے قال فعل ربک فاعل للملئکۃ متعلق ہے فعل کے انی جاعل فی الارض خلیفۃ جملہ مقولہ ہے قول کا یعنی مفعول قال کا جاعل مستقبل کے معنی ہیں اسی لیے عمل کرتا ہے ممکن ہے کہ بمعنی خالق ہو تو ایک مفعول چاہے گا جو خلیفہ ہے اور ممکن ہے کہ بمعنی مصیّرہو تو اس تقدیر پر فی الارض مفعول ثانی ہوگا قالوا فعل ضمیر فاعل اہمزہ استفہام ارشاد کے لیے تجعل فعل انت فاعل من یفسدو یسفک الدما سب اس کا مفعول پھر یہ تمام جملہ مفعول ہوا قالو اکا ونحن نسبح الخ جملہ اسمیہ حال ہے فاعل تجعل سے یہ حال جہت اشکال کو…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّی جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَۃًط قَالُوْآ اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآئَ ج وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ط قَالَ اِنِّیٓ اَعْلَمُ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ ۔
(اور یاد کرو ! جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، انھوں نے عرض کیا، کیا آپ زمین میں اس کو خلیفہ مقرر کریں گے، جو اس میں فساد مچائے اور خوں ریزیاں کرے، آپ کی حمد وثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں، فرمایا : میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے) (البقرۃ : 30)
گزشتہ رکوع میں پروردگار نے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس مکین کے لیے ہر چیز بنائی اور سجائی گئی اس کی تخلیق کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔
زمین و آسمان کو بنانے اور سجانے کے بعد کائنات کی اعلیٰ ترین مخلوق ملائکہ کے پر شکوہ اجتماع میں پورے جلال و کمال کے ساتھ رب کائنات نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور خلافت کا اعلان فرمایا۔ اللہ اللہ کیا احترام و مقام ہے جناب آدم (علیہ السلام) کا ! اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اس کو بہترین سانچے میں استوار فرمایا۔ اپنی روح کو اس میں القاء کیا اور پھر خلافت کے منصب پر فائز فرما کر اعلیٰ ترین مخلوق سے سجدہ کروایا اور اس کی خلافت کا اعلان فرمایا خلافت کا اعلان سنتے ہی ملائکہ نے…
Read the full tafseer →سابقہ آیات سے ربط :
ربط : جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا اس میں جنات کو بسا دیا۔ اور آسمان میں فرشتوں کو ٹھہرایا جنات نے زمین میں فساد کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک جماعت بھیج کر ان کو سمندروں کے جزائر اور پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف بھگا دیا۔ ان فرشتوں نے جنات کی جگہ اقامت اختیار کی، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ( علیہ السلام) کو انکا واقعہ ذکر فرمانے کا حکم دیا۔
وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰپکَۃِ : (اور جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں کو) اِذْ اذکر کی وجہ سے منصوب ہے الملٰٓئکۃ۔ جمع ملاک شمائل جمع شمال تاء تانیث جمع کے لیے ہے۔
اِنِّیْ جَاعِلٌ : (بےشک میں بنانے والا ہوں) بنانے والا ہوں یہ…
Read the full tafseer →خاصیت آیت 30 تا 32۔
(آیت) وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (30) وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلاَئِکَۃِ فَقَالَ أَنبِئُونِیْ بِأَسْمَاء ہَـؤُلاء إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (31) قَالُواْ سُبْحَانَکَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّکَ أَنتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ (32)
ان آیات سے جن و انسان مسخر ہوتے ہیں اور علوم ومکاشفات حاصل ہوتے ہیں ،…
Read the full tafseer →حضرت عبد اللہ بن مسعود اور سلف سے اس قصہ کی روایات جو آئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے دو ہزار برس پہلے زمین پر جنات رہتے تھے انہوں نے زمین پر طرح طرح کے فساد کئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ایک گروہ کو جنات کی تنبیہ اور سرکوبی کے لیے بھیجا۔ ان فرشتوں نے جنات کو مار کر دریا کے ٹائپوں اور جزیروں میں نکال دیا 3 اب بنی آدم کی پیدائش کا حال سن کر فرشتوں نے اسی قیاس پر یہ بات کہی تھی کہ جنات کی طرح بنی آدم بھی زمین میں فساد پھیلادیں گے لیکن فرشتوں کی یہ بات کچھ اعتراض کے طور پر نہیں تھی کیونکہ خلافت مرضی اللہ تعالیٰ کے وہ کوئی بات منہ سے نکالنے میں معصوم ہیں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
آیت 30 تا 34
(آیت) ” اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا، میں زمین میں ایک خلیفہ بناؤں گا “ یہ ابوالبشر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی ابتدا اور ان کی فضیلت کا ذکر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کا ارادہ کیا تو اس نے فرشتوں کو آگاہ کیا اور فرمایا کہ وہ آدم کو زمین کے اندر خلیفہ بنائے گا۔ اس پر تمام فرشتوں نے کہا (اتجعل فیگھا من یفسد فیھا) ” کیا تو زمین میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا “ یعنی گناہوں کا ارتکاب کرکے زمین پر فساد برپا کرے گا (ویسفک الدماء) ” اور خون بہائے گا “ یہ عموم کے بعد تخصیص ہے اور اس کا مقصد قتل کے مفاسد کی شدت کو بیان کرنا ہے اور یہ فرشتوں کے گمان کے مطابق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
قول باری ہے :
(علم آدم الاسماء کلھا ثم عرضھم علی الملٓئکۃ فقال انبونی باسماء ھولآء ان کنتم صدقین۔ (اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا : اگر تمہارا خیال صحیح ہے کہ (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتائو اگر تم سچے ہو) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کو تمام اشایء کے نام سکھا دیئے، یعنی اجنسا کا ان کے معانی کے ساتھ کیونکہ اسماء کے ذکر میں لفظ کے اندر عموم ہے اور قو ل باری : ثم عرضھم علی المٓئکۃ کے اندر اس بات پر دلالت ہے کہ اللہ نے حضرت آدم کی اولاد کے ناموں کا ارادہ کیا تھا…
Read the full tafseer →97 تخلیق آدم کے قصے کی یاد دہانی : کہ اس میں بھی بڑے عظیم الشان درس ہائے عبرت و بصیرت ہیں، اور ایسی عظیم الشان روحانی اور معنوی نعمتیں، جن سے اس وحدہ لا شریک نے محض اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے حضرت انسان کو نوازا ہے۔ پس یہ قصہ آدم اور تکریم آدم یاد کرو اور کراؤ، تاکہ لوگ اس سے سبق لیں اور اس طرح ہر قسم کے شرک اور شائبہ شرک سے بچ کر، خالص اپنے رب کی رضا کے لئے، دل و جان سے اس کے حضور جھک جائیں، جو اس وحدہ لاشریک کا تم پر حق ہے، اور جس میں خود تمہارا ہی بھلا اور فائدہ ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، کہ اس سے انسان اپنے مرتبہ و مقام کو پہچان سکے، اور صدق دل سے اپنے رب کے حضور جھک…
Read the full tafseer →فرشتوں کی گزارش
تشریح : اس آیت مبارکہ کا رابطہ پچھلی آیت سے ہے۔ زمین و آسمان کو تخلیق کرلینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ارادہ کیا۔ قرآن مجید میں مخاطب تبدیل ہوتا رہتا ہے، کبھی انسان مخاطب ہوتا ہے، کبھی محمد ﷺ اور کبھی اللہ خود ہی مخاطب ہوتا ہے تو یہاں اللہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ جب میں نے انسان کی تخلیق کے ارادے سے فرشتوں کو مطلع کیا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے با ادب عرض کیا کہ کیا آپ زمین میں ایسی مخلوق کو مقرر کرنا چاہتے ہیں جو فساد پھیلائے گی، خونریزی کرے گی، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرشتوں کو انسانی فطرت کا علم کیسے ہوا کہ فساد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–39
آیات 30- 39
اسرارو معارف
یہاں تک دعوت الی اللہ اور عبادت کا ضروری ہونا بطور شکر کے اور اس درجہ میں کہ اللہ کا حق ہے بندے پر ارشاد ہوا پھر اس کے نتائج اور نافرمانی کی سزا کا ذکر اس انداز میں تھا کہ اللہ تمہارا رب ہے خالق ہے مگر یہاں سے اسی دعوت پر دوسری دلیل شروع فرمائی اور ایک اور طرح سے دعوت فکر دی ہے کہ ابتدائے نوع انسان کو دیکھو ، اللہ نے پیدائشی طور پر اسے کیا فضیلت بخشی اور کس طرح سے شیطان اس کے خلاف ہوا۔ اب اگر تم اللہ کی اطاعت نہ کرو گے تو یقینا تم اس کے پیچھے چلو گے کہ دوسری راہ اسی کی ہے جو بحیثیت انسان بھی تھیں کسی طرح زیب نہیں دیتا۔
انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے :
سو یہاں حضرت آدم…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ اس آیت اور دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائ کہ انسان سے الگ اور مستقل ایک مخلوق ہیں اور تدبیر عالم ان کے سپرد ہے۔ اس کا ثبوت بہت سی احادیث سے ملتا ہے حکمائے اشراق بھی ملائکہ کو ایک مستقل نوع مانتے ہیں اس زمانہ کے طبیعین کہتے ہیں کہ ملائکہ کائنات عالم کو قوائے فطر یہ کا نام ہے یہ نظریہ دراصل قدیم علمائے طبیعین کا ہے جن سے آجکل کے تجدد پسند حضرات نے اخذ کیا ہے شیخ بو علی سینا اپنے رسالہ النبوت میں لکھتے ہیں فمن العادہ فی الشر یعتہ تسمتہ القوی اللطیفتہ الغیر المحسو ستہ ملائکتہ۔ شریعت اپنی اصطلاح میں قو سی لطیفہ غیر محسوستہ کو ملائ کہ سے تعبیر کرلیتی ہے مگر اس نظر یہ کو مان لینے سے ایمان…
Read the full tafseer →(2:30) واذا قال ربک ۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اذ بالعمول بطور اسم ظرف زمان مستعمل ہے۔ لیکن بطور ظرف مکان یا حرف مفاجات مؤکد بھی استعمال ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی واذ آیا ہے تو وہاں لفظ اذکر محذوف ہے۔ ای واذکراذ۔ اور آپ اس سے بیان کر دیجئے کہ جب (یا جبکہ ۔ جس وقت) آپ کے رب نے فرمایا۔
الملئکۃ۔ ملاک سے جمع ہے، جیسے شمل کی جمع شمائل ہے۔ الملئکۃ میں ۃ تانیث الجمع کی ہے ۔ ملک وملاک بھی بصیغہ واحد بمعنی فرشتہ ہے۔
انی جاعل فی الارض خلیفۃ یہ جملہ مقولہ ہے قول قال ربک للملئکۃ کا ۔ جاعل واحد مذکر ۔ اسم فاعل جعل سے۔ بنانے والا ۔ کرنے والا ۔ خلیفۃ مفعول بہ ہے جاعل کا ۔ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 33
(خلیفہ): نائب، جو کسی کا قائم مقام ہو۔ (اتجعل): کیا تو بناتا ہے (ا، کیا ، تجعل تو بناتا ہے) ۔ (یفسد): فساد مچائے گا، تباہی پھیلائے گا۔ (یسفک ): خون بہائے گا، اسی سے لفظ آتا ہے ” سفاک “ ۔ (الدماء) : خون (دم، خون ) ۔ (نسبح): ہم تسبیح کرتے ہیں۔ (نقدس): ہم پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ (علم): اس نے سکھایا۔ (الاسماء) : نام (اسم، نام ) ۔ (عرض): اس نے سامنے رکھا۔ (انبئونی ): مجھے بتاؤ (انبئی ، بتا دے، انبئو، بتادو، ن، وقایہ، ی مجھے) ۔ (صدقین ): سچ بولنے والے۔ (سبحن ) : پاک اور بےعیب ذات۔ (علمتنا): تو نے ہمیں سکھا دیا۔ (الم اقل): کیا میں نے نہیں کہا تھا۔ (تبدون ): تم ظاہر…
Read the full tafseer →حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے زمین پر جنات تھے
شان نزول : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں فرقوں کو جتلایا کہ پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ مٹی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، ان کی راحت کی چیزیں جو کچھ دنیا میں ہیں پیدا کیں، کل چیز کا ذرا ذرا حال اس کو معلوم ہے، اپنے علم میں جس قدر عمر ان لوگوں کی اس نے لکھی ہے اس کے ختم ہوجانے کے بعد ان کو مارے گا اور پھر حشر کے دن ان کو زندہ کرکے ذرہ ذرہ کا حساب لیوے گا۔ غرض لوگوں سے لوگ اپنے دل کی باتیں چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔
پیدائش حضرت آدم (علیہ السلام) پر فرشتوں کا اعتراض
حضرت عبداللہ بن…
Read the full tafseer →[26] تسبیح کے معنی پاکی بیان کرنا اور سرگرمی کے ساتھ کام کرنا۔ تقدیس کے معنی ہیں، تقدس کا اظہار اور پاکی بیان کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(ف 1) پہلا انسان :
سلسلہ انسانیت کا پہلا بطل وہ ہے جسے کائنات ارض کا مالک بنانے والا ہے ۔ اللہ کی عنایات اسے زمین کا تاج وتخت بخشنے والی ہیں ۔ اس کی استعداد وقوت فرشتوں سے بھی زیادہ شاندار ہے ۔
وہ اس لئے بنایا جارہا ہے تاکہ خدا کے جلال و جمال کو دنیا کے کونوں تک پہنچائے اور ساری زمین پر خدا کی بادشاہت ہو ۔
یعنی وہ خلیفۃ اللہ فی الارض ہے ۔
(ف 2) فرشتوں کو اعتراض ہے کہ ایسے انسان کی کیا ضرورت ہے وہ کہتے ہیں ، جب کائنات کے روحانی نظام کو ہم چلا رہے ہیں ، تیری تسبیح و تقدیس کے کلمے ہر وقت ہمارے لبوں پر نغمہ زن رہتے ہیں جب تیری حمد و ستائش کے بےریا ترانے ہم ہر وقت الاپتے رہتے ہیں اور جب ہماری…
Read the full tafseer →ف 3۔ اور وہ واقعہ قابل ذکر ہے ۔ جب اے پیغمبر آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ یقینا میں زمین پر ایک نائب بنانے والا ہوں ۔ اس پر فرشتوں نے عرض کیا کیا آپ زمین پر ایسے لوگوں کو پیدا کریں گے ، جو اس میں فساد کریں گے اور خون ریزی کے مرتکب ہوں گے ، حالانکہ ہم آپکی حمد وثناء کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور آپکی طنزیہ اور تقدیس کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ، اس کے پیدا کرنے کی جو حکمت و مصلحت میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب زمین میں آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنا چاہا اور ملائکہ اور جنات کی موجودگی کے باوجود ایک ایسی مخلوق کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی وہ میرا نائب ہوگا کہ اپنے احکام شرعیہ کے اجرا ونفاذ کی خدمت اس کے سپرد کروں گا۔
5۔ یہ بطور اعتراض کے نہیں کہا نہ اپنا حق جتلایا بلکہ یہ فرشتوں کی عرض معروض اظہار نیاز مندی کے واسطے تھی۔
6۔ یعنی جو امر تمہارے نزدیک مانع تخلیق بنی آدم ہے وہی واقع میں باعث انکی تخلیق کا ہے۔
Read the full tafseer →ابتداء قِصّہ آدم g :
69: آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین کے اندر ہے اس کی پیدائش کے بعد آیت 29 سے وہ ذکر شروع ہورہا ہے جو آدم (علیہ السلام) کا قِصّہ کہلاتا ہے۔ عوام اس کو ایک واقعی جھگڑا یا مباحثہ سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے فرشتوں کے درمیان ہوا۔ تعالیٰ شانہ عما یقولون۔
اور خواص جانتے ہیں کہ یہ انسانی فطرۃ کا بیان ہے جو متضاد قوتوں کا حامل ہے یعنی خیر و شر دونوں کے مجموعے کا نام انسان ہے اور خیر و شر دونوں ہی کا خالق اللہ ہے اور وہی ہے جو انسان کے وجود میں ان متضاد قوتوں کا رکھنے والا ہے اس نے اس جگہ خیر کو ملک اور شر کو شیطان یا ابلیس کا نام دیا ہے تاکہ انسان کو اپنی تخلیق کا سمجھنا…
Read the full tafseer →The preceding verses recounted the general and some of the particular blessings of Allah, and asked man to recognize them and not to be ungrateful and disobedient to his Benefactor. Now, ten verses, beginning with the 30th, tell the story of the father of mankind, Adam (علیہ السلام) ، in continuation of this theme and also by way of illustration. For, blessings are of two kinds - tangible and intangible. Food, water, money, houses, or lands are some of the tangible blessings; while honour, happiness or knowledge are intangible ones. The earlier verses were concerned with blessings of the…
Read the full tafseer →36. Thus far man has been summoned to serve and obey God on the grounds that God is his creator and sustainer, that in His grasp lies man's life and death, that He alone is the Lord Who rules over the entire universe in which he lives. In view of this, the only attitude which can be deemed appropriate for man is one of service and subjection to God.
The same idea is presented in the following section, but supported on slightly different grounds
In this connection the Qur'an defines precisely the true nature of man and his correct position in the universe. It also enlightens us to a period of…
Read the full tafseer →