پھر فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں کا بھاگنا انہیں موت سے نہ بچا سکا اسی طرح جہاد سے منہ موڑنا بھی بیکار ہے۔ اجل اور رزق دونوں قسمت میں مقرر ہوچکے ہیں، رزق نہ بڑھے نہ گھٹے موت نہ پہلے آئے نہ پیچھے ہٹے، اور جگہ ارشاد ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اٹک بیٹھے ہیں اور اپنے ساتھیوں سے بھی کہتے ہیں کہ یہ مجاہد شہداء بھی اگر ہماری طرح رہتے تو مارے نہ جاتے، ان سے کہو اگر تم سچے ہو تو ذرا اپنی جانوں سے بھی موت کو ہٹا دو اور جگہ ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ، الہ ہم پر لڑائی کیوں لکھ دی کیوں نہ ہمیں ایک وقت تک فرصت دی، جس کے جواب میں فرمایا کہ مضبوط برج بھی موت کے سامنے ہیچ ہیں، اس موقع پر اسلامی لشکروں کے جیوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
سورة الْبَقَرَة 265
یہاں سے ایک دوسرا سلسلہ تقریر شروع ہوتا ہے، جس میں مسلمانوں کو راہ خدا میں جہاد اور مالی قربانیاں کرنے پر ابھارا گیا ہے اور انہیں ان کمزوریوں سے بچنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، جن کی وجہ سے آخر کار بنی اسرائیل زوال و انحطاط سے دوچار ہوئے۔ اس مقام کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ مسلمان اس وقت مکہ سے نکالے جا چکے تھے، سال ڈیڑھ سال سے مدینے میں پناہ گزیں تھے، اور کفار کے مظالم سے تنگ آکر خود بار بار مطالبہ کرچکے تھے کہ ہمیں لڑنے کی اجازت دی جائے۔ مگر جب انہیں لڑائی کا حکم دے دیا گیا، تو اب ان میں بعض لوگ کسمسا رہے تھے، جیسا کہ چھبیسویں رکوع کے آخر میں ارشاد ہوا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
خلاصہ تفسیر
(اے مخاطب) کیا تجھ کو ان لوگوں کا قصہ تحقیق نہیں ہوا جو کہ اپنے گھروں سے نکل گئے اور وہ لوگ ہزاروں ہی تھے موت سے بچنے کے لئے سو اللہ نے ان کے لئے (حکم) فرمادیا کہ مرجاؤ (سب مرگئے) پھر ان کو جلا دیا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والے ہیں لوگوں (کے حال) پر مگر اکثر شکر نہیں کرتے اور (اس واقعہ پر غور کرکے) اللہ کی راہ میں قتال کرو اور یقین رکھو اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں (جہاد کرنے اور نہ کرنیوالوں کی باتیں سنتے اور ہر ایک کی نیت جانتے ہیں اور سب کو مناسب جزادیں گے)
معارف و مسائل
یہ تین آیتیں جو اوپر مذکورہوئی ہیں ان میں ایک عجیب بلیغ انداز میں اللہ…
Read the full tafseer →جہاد کے لیے دو محرک : اوپر کی تاریخی تمہید کے بعد یہ مسلمانوں کو جنگ پر ابھارا ہے، اور اس ابھارنے کے لیے دو محرک یہاں نمایاں فرمائے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ جنگ اللہ کی راہ میں ہے، نفس یا شیطان کی راہ میں نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس میں ہر قدم پر بندے کو اللہ کی معیت حاصل ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے، تمہاری جانبازیاں اور قربانیاں، تمہاری دعائیں اور فریادیں، تمہارے دشمنوں کی چالیں اور تدبیریں سب اس کے علم میں ہیں اس وجہ سے اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ، (مصرع) مرگئے ہم انہیں خبر نہ ہوئی۔
ظاہر ہے کہ ان صفات کا حوالہ دینے سے مقصود یہاں اس کا لازم ہے یعنی جب اللہ سنتا اور جانتا ہے تو اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
243۔ 1 یہ واقعہ سابقہ کسی امت کا ہے جس کی تفصیل کسی حدیث میں بیان نہیں کی گئی تفسیری روایات اسے بنی اسرائیل کے زمانے کا واقعہ اور اس پغمبر کا نام جس کی دعا سے انہیں اللہ تعالیٰ نے دوبارہ زندہ کیا یہ جہاد میں قتل کے ڈر سے یا وبائی بیماری طاعون کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے تاکہ موت کے منہ میں جانے سے بچ جائیں اللہ تعالیٰ نے انہیں مار کر ایک تو یہ بتلا دیا کہ اللہ کی تقدیر سے تم بچ کر نہیں جاسکتے دوسرا یہ کہ انسانوں کی آخری جائے پناہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے اور وہ تمام انسانوں کو اسی طرح زندہ فرمائے گا جس طرح اللہ نے ان کو مار کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
163: یہاں سے آیت نمبر : 260 تک دو مضمون ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں، بنیادی مقصد جہاد کی ترغیب دینا ہے لیکن بعض منافقین اور کمزور طبیعت کے لوگ جہاد میں جانے سے اس لئے کتراتے تھے کہ انہیں موت کا خوف تھا، اس لئے دوسرا مضمون ساتھ ساتھ بیان ہوا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ موت اور زندگی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو جنگ کے بغیر بھی موت دیدے اور چاہے تو شدید جنگ کے درمیان بھی انسانوں کی حفاظت کرلے ؛ بلکہ اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی انسانوں کو زندہ کردے، اس قدرت کا عمومی مظاہرہ تو آخرت میں ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی چند ایسے نمونے دنیا کو دکھادئیے ہیں جن میں بعض لوگوں…
Read the full tafseer →یہاں اس حادثے کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے ، بلکہ اس کی مغز سامنے آجاتی ہے ۔ اور یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کی نسلوں میں سے پہلی نسل کے سامنے اس واقعہ کو کس غرض کے لئے بیان کیا گیا تھا۔ یہ کہ کہیں زندگی کی محبت کی وجہ سے تم گھروں ہی میں نہ بیٹھ جاؤ۔ موت کے ڈر سے کہیں پیچھے نہ ہٹ جاؤ۔ ان وجوہات سے کہیں جہاد فی سبیل اللہ ترک نہ کردو ۔ موت وحیات تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور تم صرف اللہ کی راہ میں لڑو۔ کسی اور مقصد کے لئے نہ لڑو۔ صرف اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجاؤ اور اس کے سوا تمام جھنڈوں کو ترک کردو ۔ اس کی راہ میں لڑو اور یاد رکھو وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” خوب جان رکھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–245
3 یعنی جب معلوم ہوچکا کہ اللہ کے حکم میں تمہاری جان اور مال ہے تو اب تم کو چاہیے کہ لڑو کافروں سے اللہ کے واسطے دین کے لئے جان لو کہ خدا تعالیٰ سنتا ہے بہانہ کرنیوالوں کی باتیں اور جانتا ہے ان کے منصوبوں کو اور چاہیے کہ خرچ کرو اللہ کے راستہ میں مال اور تنگی سے مت ڈرو کہ کشایش اور تنگی سب اس کے اختیار میں ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر سب کو جانا ہے۔ قرض حسنہ اسے کہتے ہیں جو قرض دیکر تقاضا نہ کرے اور اپنا احسان نہ رکھے اور بدلہ نہ چاہے اور اسے حقیر نہ سمجھے۔ اور خدا کو دینے سے جہاد میں خرچ کرنا مراد ہے یا محتاجوں کو دینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
اب جو دو رکوع زیر مطالعہ آ رہے ہیں یہ اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ ان میں اس جنگ کا تذکرہ ہے جس کی حیثیت گویا تاریخ بنی اسرائیل کے غزوۂ بدر کی ہے۔ قبل ازیں یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل نے یوشع بن نون کی سرکردگی میں جہاد و قتال کیا تو فلسطین فتح ہوگیا۔ لیکن انہوں نے ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی بارہ حکومتیں بنا لیں اور آپس میں لڑتے بھی رہے۔ لیکن تین سو برس کے بعد پھر یہ صورت حال پیدا ہوئی کہ جب ان کے اوپر دنیا تنگ ہوگئی اور آس پاس کی کافر اور مشرک قوموں نے انہیں دبا لیا اور بہت سوں کو ان کے گھروں اور ان کے ملکوں سے نکال دیا تو پھر تنگ…
Read the full tafseer →341 اس آیت میں موت سے نہ ڈرنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس سے پہلی آیت کا مفہوم یہ تھا کہ زندگی اور موت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو جہاد میں جانے والے کو بھی موت کے منہ سے بچا لے اور چاہے تو کسی کو گھر بیٹھے بیٹھے ہی موت دے دے یا جو موت سے بھاگ کر نکل کھڑا ہو اسے راہ میں ہی موت کی نیند سلا دے اور چاہے تو مردہ کو ازسر نو زندہ کر دے، موت اور زندگی صرف اسی کے اختیار میں ہے۔ لہذا تمہیں اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کرنا چاہیے۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے زندگی بھر جہاد نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کے دل میں جہاد کرنے کا خیال…
Read the full tafseer →923 ۔ (اے امت اسلامیہ ! ) حکم کی مخاطب امت بہ حیثیت جماعت ہے، افراد امت نہیں، کہ فردا فردا ہر شخص جب جی چاہے، تلوار اٹھا کر چلانا شروع کردے۔ اس تمہیدی حکایت کے بعد کہ موت وزیست سب کا آخری سررشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے، اب حکم ملتا ہے کہ اسی کے حکم سے، اسی کے دین وآئین کی خدمت ونصرت کے لیے، جہاد و قتال میں مشغول ہوجاؤ۔
924 ۔ (آیت) ” سمیع “ وہ خوب سن رہا ہے، جہاد کرنے والوں اور نہ کرنے والوں دونوں کی باتوں کو (آیت) ” علیم ‘ ‘۔ وہ خوب جانتا ہے جہاد کرنے والوں اور نہ کرنے والوں دونوں کی نیتوں کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
آیت نمبر 243 تا 248
ترجمہ : کیا تم کو ان کے بارے میں معلوم نہیں استفہام تعجب دلانے اور مابعد کو سننے کا شوق دلانے کے لئے ہے یعنی تم کو اس کا علم نہیں ہے جو ہزاروں کی تعداد میں موت سے ڈر کر اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے، ان کی تعداد چار ہزار، یا آٹھ ہزار، یا بارہ ہزار یا تیس ہزار یا چالیس ہزار یا ستر ہزار تھی، (حَذَرَ الْمَوْتِ ) خَرَجوا کا مفعول لہ ہے، وہ بنی اسرائیل کی ایک قوم تھی کہ جن کے شہروں میں طاعون پھوٹ پڑا تھا، تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تو اللہ نے ان کو حکم دیا مرجاؤ تو سب کے سب مرگئے، پھر آٹھ یوم یا اس سے زیادہ کے بعد ان کے نبی حز قیل (علیہ السلام) کی دعاء سے (اللہ تعالیٰ نے) ان کو…
Read the full tafseer →وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (اور اللہ کی راہ میں لڑو) کیونکہ موت سے بھاگنا فائدہ نہیں دیتا اور جو مقدر میں ہے وہ ضرور ہونے والا ہے پس اولیٰ درجہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے کیونکہ اگر موت آگئی تو اللہ کی راہ میں مریں گے ورنہ فتح ہوگی اور ثواب ملے گا۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ ( اور جان لو کہ اللہ سنتا ہے) اس کو جو ( جہاد سے) پیچھے رہنے والا اور آگے جانے والا کہتا ہے۔
عَلِيْمٌ ( جانتا ہے) یعنی جس بات کو وہ دونوں چھپاتے ہیں۔ وا اللہ اعلم۔
شان نزول امام بخاری نے اپنی صحیح ( بخاری) میں اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے کہ جب آیت : مثل الَّذِیْنَ…
Read the full tafseer →(244) ان کو زندہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں اپنے دشمن کے ساتھ لڑائی کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو سننے والا ہے اور تمہاری نیتوں کو جاننے والا ہے اگر تم اس چیز پر عمل نہ کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے تو اس پر تمہاری سزا کو بھی اچھی طرح جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه : حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، جس طرح جان بچانا تقدیر سے نہیں بچاتا، اسی طرح جہاد سے فرار اور اجتناب سے نہ موت قریب ہوتی ہے نہ دور، بلکہ اجل اور رزق کا فیصلہ ہوچکا ہے، اس میں کمی یا زیادتی نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَلَّذِيْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ۔۔) [ آل عمران : 168 ] اور فرمایا : (اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ)“ [ النساء : 78 ] ”تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔“
Read the full tafseer →آیت نمبر : 244۔
یہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑائی کرنے کا خطاب حضور نبی رحمت ﷺ کی امت کو ہے، یہ جمہور کا قول ہے اور اس سے ارادہ اور نیت یہ کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہی بلند ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 329 دارالکتب العلمیہ) اور اللہ تعالیٰ کے راستے کثیر ہیں اور یہ ہر راستے کو عام ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
(آیت) ” قل ہذہ سبیلی “۔
ترجمہ : آپ فرما دیجئے یہ میری راہ ہے)
امام مالکرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ کے راستے کثیر ہیں اور کوئی راستہ نہیں ہے مگر اس پر یا اس میں یا اس کے لئے قتال کیا جاتا ہے اور انمیں سب سے عظیم دین اسلام ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
(1) وکیع، الفریابی، ابن جریر، ابن المنذر، حاکم نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے (اس آیت) ” الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ چار ہزار تھے جو طاعون (کے ڈر) سے نکلے تھے اور کہنے لگے ہم ایسی زمین میں جائیں گے جس میں موت نہیں آئے گی یہاں تک کہ وہ لوگ ایسی جگہ پر نہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا مرجاؤ (تو مرگئے) پھر انبیاء میں سے ایک نبی ان پر گزرے اور اپنے رب سے دعا کی کہ ان کو زندہ فرما دیجئے۔ تاکہ وہ آپ کی عبادت کریں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا۔
(2) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس…
Read the full tafseer →[ وَقَاتِلُوْا : اور تم لوگ قتال کرو ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور جان لو ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰہَ : اللہ ] [ سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [ عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ]
نوٹ (1) : مادہ ” ق ت ل “ سے فَاعِلٌکے وزن پر اسم الفاعل ” قَاتِلٌ“ بنتا ہے۔ اس کی جمع ” قَاتِلُوْنَ “ سے جب نون اعرابی گرتا ہے تو ” قَاتِلُوْ “ استعمال ہوتا ہے ‘ یعنی واو الجمع کے الف کے بغیر۔ اور باب مفاعلہ سے اس کا فعلِ امر ” قَاتِلْ “ بنتا ہے جس کی جمع ” قَاتِلُوْا “ ہے۔ اس طرح دونوں میں فرق صرف واو الجمع کے الف کا ہے۔ اسی لیے ” قَاتِلُو الْمُشْرِکِیْنَ “ کا ترجمہ ہوگا ” مشرکوں کو قتل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
بنی اسرائیل کا ایک واقعہ
علامہ بغوی (رح) معالم التنزیل ص 223 ج 1 میں لکھتے ہیں کہ اکثر اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک بستی جس کا نام داور دان تھا اس میں طاعون واقع ہوگیا، اس موقعہ پر ایک جماعت وہاں سے نکل گئی اور ایک جماعت بستی میں رہ گئی۔ جو لوگ بستی میں رہ گئے تھے ان میں سے اکثر ہلاک ہوگئے اور جو لوگ بستی چھوڑ کر چلے گئے تھے وہ صحیح سلامت رہے اور پھر بستی میں آگئے، جو لوگ بستی میں رہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہ ساتھی ہم سے زیادہ ہوشیار رہے۔ آئندہ ہم ایسی زمین کی طرف نکل جائیں گے جہاں وباء نہ ہو چناچہ آئندہ سال طاعون واقع ہوا تو بستی کے تقریباً سب ہی لوگ چلے گئے اور ایک وسیع میدان…
Read the full tafseer →تشجیع شاکرین برجہاد و قتال کافرین۔
قال تعالی، وقاتلو فی سبیل اللہ واعلموا ان اللہ سمیع علیم۔
گزشتہ آیت میں حکم جہاد کی تمہید تھی اس آیت میں اصل مقصود کو بیان کرتے ہیں نیز گزشتہ آیت میں شاکرین اور غیر شاکرین کے بیان پر مشتمل تھی اب اس آیت میں شکر گزراوں کو ناشکروں سے جہاد و قتال کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اب تو تم نے دیکھ لیا کہ موت سے بھاگنا کچھ فائدہ نہیں دیتا لہذا خدا کی راہ میں خوب دل کھول کر لڑو، خدا کی راہ میں اگر موت بھی آتی ہے تو حقیقت، اس کی حیات ہوتی ہے اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سننے والا ہے اور جاننے والا ہے، جہاد میں جانے اور نہ جانے کی بابت جو باتیں کرتے ہو وہ سب سنتا ہے اور جو نیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
476 یہاں سے پھر اصل موضوع یعنی مسئلہ جہاد کا بیان شروع کیا جارہا ہے۔ درمیان میں امور انتظامیہ اور امور مصلحہ بیان کیے گئے ہیں۔ مسئلہ جہاد کو دوبارہ ذکر کرنے سے پہلے ایک قدیم واقعہ بطور عبرت اور تخویف بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کے کسی قبیلہ کا ہے۔ جب ان کو جہاد کا حکم ملا تو وہ گھروں سے بھاگ نکلے کہ کہیں وہ جہاد میں شریک ہو کر لقمہ اجل نہ بن جائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کردی اور وہ مرگئے۔ وہ نکلے تھے جان بچانے کے لیے مگر یہ تدبیر ان کے کام نہ آئی جس موت سے بھاگتے تھے۔ اسی کا لقمہ بن گئے۔ ھم قوم من بنی اسرائیل دعاھم ملکھم الی الجھاد فھربوا حذر الموت فاماتھم اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–245
ربطہ آیات
ولیس البر بان تانو البیوت من ظھورھا سے لے کر اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرماتے ہیں جن کا تعلق بر یعنی نیکی کے ساتھ ہے۔ ان میں نکاح ، طلاق ، عدت اور ان کے متعلقات بیان ہوئے ہیں۔ حلت اور حرمت کا مسئلہ بھی آیا ہے۔ اس کے علاوہ عبادات ، معاملات اور اخلاق سے متعلق مسائل کا بیان ہوا ہے۔ اب یہاں سے جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کا تذکرہ شروع ہورہا ہے۔ پہلی آیت مسئلہ جہاد فی سبیل اللہ میں تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بعد حاکم کے انتخاب اور اس کے تحت جہاد میں حصہ لینے کا تذکرہ ہے کسی پہلی امت کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ لوگ جہاد سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 244
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]
( ق ت ل ) القتل
( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/…
Read the full tafseer →ترکیب : وقاتلوا معطوف ہے محذوف فاطیعو پر۔ من استفہامیہ موضع رفع میں ہے بسبب مبتداء ہونے کے اور ذا اس کی خبر ہے اور الذی اس کی لغت یا بدل ہے یقرض جملہ الذی کا صلہ قرضا مفعول مطلق حسنا یہ اسم مصدر ہے اور وہ اقراض ہے فیضاعفہ معطوف ہے یقرض پر یا جملہ مستانفہ ہے اضعافا جمع ضعف اور صغف بفجہ عین مصدر نہیں کیونکہ مصدر اضعاف ہے یا مضاعفتہ اس تقدیر پہ یہ یضاعفہ کی ہا سے حال ہوسکتا ہے اور معنیً مفعول ثانی بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : ان تمام مسائل کے بعد پھر خدا کی راہ میں جان دینے اور مال دینے کی تاکید شروع ہوتی ہے کیونکہ دنیا میں کوئی قوم قوم نہیں رہ سکتی تاوقتیکہ اس قوم میں اپنے ناموس اور مذہب محفوظ رکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–245
وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَـہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً ط وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَـبْصُطُ س ص وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔
(اور قتال کرو اللہ کے راستے میں اور خوب جان لو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے، تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے، اللہ ہی گھٹاتا ہے اور اللہ ہی بڑھاتا ہے، اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) (244 تا 245)
قتال کا حکم
دوسروں کے واقعات سے مسلمانوں کے سامنے جہادو انفاق کی اہمیت اور اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
فہم القرآن
ربط کلام : نیاخطاب بدر، احد سے پہلے مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے سورة البقرۃ آیت : 191 تا 193 میں دفاعی جنگ کا حکم دیا گیا تھا اور یہاں بھی ایسے تناظر میں جہاد کا ذکر ہورہا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی جائے تو انہیں موت کی پروا کیے بغیردشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانا چاہیے۔ کیونکہ بات کا آغاز ہی بنی اسرائیل کے اس واقعے سے کیا جارہا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے صرف اس لیے نکلے تھے کہ کہیں یہاں رہتے ہوئے انہیں موت نہ دبوچ لے۔ چند اہل علم کو چھوڑ کر باقی سب نے ایک خاص واقعے اور علاقے کا ذکر کیا ہے کہ وہاں بنی اسرائیل پر طاعون کی وبا…
Read the full tafseer →244 : اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے لایا گیا۔ یہ بعد والا واقعہ لائے اور اس میں قتال کا حکم دیا۔ اور وہ یہ ارشاد ہے۔
آمادگی بر جہاد :
وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرو) اس میں جہاد پر آمادہ کیا گیا۔ یہ بتلانے کے بعد کہ موت سے فرار فائدہ مند نہیں۔
یہ خطاب امت محمد ﷺ کو فرمایا۔ یا
دوسرا قول : ان کو خطاب ہے جن کو زندہ کیا گیا۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ (اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والے ہیں) جو باتیں پیچھے رہنے والے اور سبقت کرنے والے کرتے ہیں۔
عَلِیْمٌ (جاننے والے ہیں) ان چیزوں کو جو انسان کو نقصان دینے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 244۔:
(آیت)” وقاتلوا فی سبیل اللہ “ اس کی اطاعت میں ان کے دشمنوں سے لڑو (آیت)” واعلموا ان اللہ سمیع علیم “۔ اکثر اہل تفسیر فرماتے ہیں یہ خطاب ان لوگوں کو تھا جو زندہ کیے گئے تھے ان کو فی سبیل اللہ قتال کرنے کا حکم دیا گیا تھا ، پس وہ گھروں سے جہاد سے فرار کرکے نکلے ، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دی ، پھر ان کو زندہ کیا اور ان کو حکم دیا کہ جہاد کریں اور کہا گیا ہے کہ یہ خطاب اس امت کو ہے کہ ان کو جہاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–245
(243 ۔ 244) ۔ جہاد کے حکم کے نازل ہونے کے بعد جان کے خوف سے کچھ لوگ جہاد میں جانے سے پہلوتہی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر جہاد کی تاکید فرمائی اور اس تاکید سے پہلے ایک قصہ فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں کے ایک بستی کے آٹھ ہزار کے قریب آدمی وبا سے ڈر کر اپنی بستی چھوڑ بھاگے اور بستی کو چھوڑ کر جہاں گئے تھے وہاں اللہ کے حکم سے ایک دم میں سب مرگئے اور پھر ایک نبی کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر زندہ کیا 1۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ موت جب آنے والی ہوتی ہے تو وہ ہر حال میں آتی ہے موت سے ڈر کر بستی کا چھوڑنا جس طرح اس قصہ کے لوگوں کے کچھ کام نہیں آیا۔ اسی طرح موت کا…
Read the full tafseer →چناچہ فرمایا :: (آیت) وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے۔ “ لہٰذا نیت درست رکھو، اور جہاد سے صرف اللہ کی رضا تمہارا مقصود ہونا چاہیے اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ سے پہلوتہی کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جنگ نہ کرنے کے نتیجے میں تم زیادہ عرصہ زندہ رہو گے تو حقیقت یوں نہیں ہے۔ اسی لئے اس حکم کی تمہید کے طور پر گزشتہ قصہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح ان کو موت کے ڈر سے جھگروں سے نکلنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ ان کا خطرہ ان کے سامنے آگیا جب کہ ان کو یہ گمان بھی…
Read the full tafseer →قول باری ہے (وقاتلوا فی سبیل اللہ واعلموٓا ان اللہ سمیع علیم۔ (a) اور اللہ کے راستے میں قتال کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے) اس آیت میں اللہ کے راستے میں قتال کا حکم ہے لیکن یہ حکم مجمل ہے کیونکہ اس میں اس سبیل کا ذکر نہیں ہے جس کے ذریعے قتال کیا جائے۔ البتہ دوسرے مواقع میں اس کا ذکر ہے۔ ہم جب ان مواقع میں پہنچیں گے تو انشاء اللہ تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
Read the full tafseer →694 اللہ تعالیٰ ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا ہے : یعنی وہ تمہاری ان باتوں کو بھی سنتا ہے جن کا اظہار تم لوگ اپنی زبان وبیان سے کرتے ہو، اور تمہاری ان پوشیدہ نیتوں اور خفیہ ارادوں کو بھی جانتا ہے، جن کو تم اپنے دلوں اور اپنے باطن میں چھپا کر رکھتے ہو۔ پس تم لوگ اپنے ان اقوال کا بھی خیال رکھا کرو جو تم منہ سے نکالتے ہو، اور اپنی ان نیتوں اور ارادوں کا بھی، جو تم اپنے باطن کے پردوں میں مخفی و مستور رکھتے ہوتے ہو، جیسا کہ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا کہ کوئی آدمی اپنی بہادری دکھانے کیلئے لڑتا ہے، کوئی قومی حمیت کیلئے، اور کوئی ریاء و سُمعہ یعنی دکھلاوے کے…
Read the full tafseer →قرض حسنہ
تشریح : اس آیت میں قرض حسنہ کا حکم دیا گیا ہے۔ قرض حسنہ اس قرض کو کہتے ہیں جو بغیر احسان اور بغیر معاوضہ کے کسی کو صرف مدد کے طور پر خوشی سے دیا جائے اور واپسی کے لئے مطالبہ بھی نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کو تو کسی سے قرض لینے کی ہرگز ضرورت نہیں، یہ تو انسان کے لئے ایک نیک کام کرنے کا راستہ بتایا گیا ہے کہ اگر انسان بغیر لالچ کے صرف اللہ کی خوشی حاصل کرنے کیلئے اپنا روپیہ پیسہ جہاد کے لئے یا کسی بھی فلاحی کام کے لئے خرچ کرے گا تو اللہ اس کو اس سے کئی گنا زیادہ ثواب اور اجر دے گا۔ اس لئے اللہ نے حکم دیا کہ دین اسلام کی خاطر دشمنوں سے لڑو، مرنے سے ہرگز نہ ڈرو جیسا کہ پچھلی آیت میں بتایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–248
آیات 243- 248
اسرارو معارف
الم ترالی الذین………………ان کنتم مومنین۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ احکام الٰہی کی اطاعت کرنے سے زندگی مشکل ہوجائے گی یا زندہ رہنا محال ہوجائے گا۔ تو یہ اس کی بھول ہے کہ زندگی کے مصائب خود اس آدمی کے پیدا کردہ ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی چھوڑ دے تو اللہ قادر ہے کہ اس کے لئے ہر طرح راحت پیدا فرمائے۔
اس بات کو واضح کرنے کے لئے بطور مثال ارشاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے اور حضور ﷺ سے ارشاد ہے کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ؟ تو مراد حضور ﷺ کا وہ قطعی اور یقینی علم ہے جو آپ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–245
ف 6 جو اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دے یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے مال خرچ کرے اور اس میں ریاکاری یا کسی کو ستانے اور اس پر احسان رکھنے کا جذبہ کا رفرمانہ ہو ایسے خرچ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ قرض دیا ہے اور اس پر کئی گنا اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک مرفوع حدیث میں ہے ان اللہ یضاعف الحسنتہ الفر ائف حسنتہ۔ اللہ تعالیٰ ایک کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کی بیش لاکھ نیکیاں بنا دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ایک شخص ابو الد حادح نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا ایک باغ جس میں کھجور کے چھ سودرخت تھے اللہ کی راہ میں…
Read the full tafseer →(2:244) وقاتلوا فی سبیل اللہ۔ اور اللہ کی راہ میں لڑائی لڑو (جہاد کرو) یہ بات ذہن نشین کرا دینے کے بعد کہ موت و حیات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے کوئی اپنے حیلہ سے موت کو ٹال نہیں سکتا۔ اور زندگی کو بڑھا سکتا ہے اب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی سربلندی کے لئے جہاد کی ترغیب دی جا رہی ہے جملہ کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے ای فاطیعوا وقاتلوا۔
سمیع علیم۔ سننے والا (سمع سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ اور جب یہ حق تعالیٰ کی شان میں ہو تو اس کے معنی ہیں ایسی ذات جس کی سماعت ہر شی پر حاوی ہو) ۔ علیم۔ خوب جاننے والا۔ علم سے مبالغہ کا صیغہ ہے بروزن فعیل یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–245
لغات القرآن : آیت نمبر 243 تا 245
الوف (ہزاروں، (الف، ہزار) ۔ حذر الموت (موت کا خوف) ۔ موتوا (مرجاؤ) ۔ احیا (اس نے زندہ کیا) ۔ ذو فضل (فضل و کرم والا) ۔ یقرض (قرض دیتا ہے) ۔ قرضا حسنا (قرض حسن، بہترین قرض ) ۔ یضعفہ (وہ اس کو دوگنا کردیتا ہے ) ۔ اضعاف کثیر (دوگنے سے بھی زیادہ) ۔ یقبض (روکتا ہے ) ۔ یبسط (کھولتا ہے ) ۔
تشریح : آیت نمبر 243 تا 245
اب ان آیات سے جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے احکام بیان کئے جا رہے ہیں جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ انسان لاکھ موت سے ڈر کر کہیں بھی چلا جائے۔ جہاں بھی وہ جائے گا اور اس کی موت کا وقت آجائے گا تو مضبوط قلعوں میں بھی موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
شان نزول : جہاد کے حکم نازل ہونے کے بعد جان کے خوف سے کچھ لوگ جہاد میں جانے سے پہلو تہی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر جہاد کی تاکید فرمائی اور اس تاکید سے پہلے ایک قصہ کو بیان فرمایا، جس کا حاصلیہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بستی کے آٹھ ہزار کے قریب آدمی وبا سے ڈر کر دوسری بستی میں بھاگ گئے تھے۔ وہاں اللہ کے حکم سے ایک دم سب مر گئے، اور پھر ایک نبی کی دعا سے اللہ نے ان کو زندہ کیا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ موت جب آنے والی ہوتی ہے تو ہر حال میں آتی ہے۔ جہاد کی پہلو تہی اس کو روک نہیں سکتی اس لئے اس وقت موت سے ڈرنا اور جہاد سے پہلو تہی کرنا بےفائدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
[168] اشارہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کی عبرت انگیز سرگزشت کی طرف ہے جس نے باوجود کثرت تعداد کے جہاد سے اعراض کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–246
بنی اسرائیل کی بزدلی :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب عنان نبوت حضرت شموئیل (علیہ السلام) کے ہاتھ میں آئی تو بنی اسرائیل نے کہا ، ہمیں جہاد کرنے میں کوئی تامل نہیں ، آپ ایک امیر مقرر فرما دیجئے ، اس پر کہا گیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے کہ تم بالضرور جہاد پر آمادہ ہوجاؤ گے ، تو ایسا تو نہیں کہ فرضیت جہاد کے بعد تمہاری ہمتیں جواب دے جائیں ، انہوں نے کہا ایسا کیونکر ممکن ہے ؟ جبکہ ہم مظلوم ہیں اور مہاجر ہیں ، مگر جب جہاد فرض کردیا گیا اور حکم آگیا کہ اب لڑو تو بجز چند بہادروں کے سب پھرگئے ،
اس سارے قصہ سے جو بہت طوالت کے ساتھ دہرایا گیا ہے مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر طرح جہاد کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–245
ف 1۔ جو قصہ مذکور ہوا اس پر غور کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرو اور اس بات کو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا اور سب کی نیتوں کو جانتا ہے کون ایسا شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھے طور پر یعنی اخلاص کے ساتھ قرض دے تو اللہ تعالیٰ اس کے قرض دینے کے اجر وثواب کو دگناکر دے اس طور پر کہ اس دگنے میں بہت سے دگنے ملا دے یعنی بےانتہا ثواب بڑھا دے اور اللہ تعالیٰ ہی تنگی دیتا ہے اور وہی کشائش عطاء کرتا ہے اور تم اسی کی طرف واپس کئے جائو گے۔ ( تیسیر)
ان دونوں آیتوں میں جہاد فی سبیل اللہ اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی قرض مجازا ً فرمایا ہے ورنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–244
ف 4۔ جب آیت میراث نازل ہوگئی گھر بار سب ترکہ میں سے عورت کا حق مل گیا اور یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
5۔ یہاں ایک عجیب نکتہ قابل توجہ یہ ہے کہ احکام نکاح و طلاق میں جابجا اتقواللہ اور حدود اللہ اور سمیع علیم وارعزیز حکیم اور بصیر اور فقد ظلم نفسہ وغیرہا کا ذکر آنا دلیل قطعی ہے کہ یہ سب احکام شریعت میں مقصود اور واجب ہیں۔ بطور مشورہ کے نہیں جن میں ترمیم و تبدیل کرنے کا یا عمل نہ کرنے کا ہم نعوذ باللہ اختیار حاصل ہو۔
Read the full tafseer →جہاد پیش آجائے تو بےخوف و خطر ہو کر لڑو :
410: اسلام کا نظریہ جہاد ملک گیری کی ہوس میں نہیں ہے بلکہ اشاعت دین الٰہی کی مزاحمت میں ہے ، دوسرے لفظوں میں ظلم و فساد کے مٹانے کی کوشش میں پیش آتا ہے کہ ظالم و فسادی ظلم اور اور فساد سے باز آنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جس کے نتیجہ میں تصادم ہوجاتا ہے کیونکہ ظلم و فساد کی راہ اللہ کی راہ نہیں ہوتی۔ اسلام کہتا ہے کہ ایک سچے مسلمان کا جو کچھ ہے وہ صرف اللہ ہی کے لیے ہے اس کی موت وحیات کا بھی وہی مالک ہے۔ پس جب موت وحیات کسی انسان کے قبضہ میں نہیں اور جہاد میں بھی مرنا یقینی نہیں تو اٹھ کھڑے ہوں ، کیوں ؟ اللہ کا قانون بلندو برتر کرنے کے لیے جہاد و قتال کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
Commentary
In a uniquely eloquent manner, the two verses (243, 244) appearing above and verse 245 which follows, present guidance that prompts the sacrifice of one's life and possessions in the way of Allah Almighty. Consequently, before stating related injunctions, an important event of history has been taken up which makes it clear that death and life are subservient to the destiny determined by Allah. Going into a battle in jihad is not the cause of death, and running away from it, out of cowardice, is not the means to avoid death.
On the authority of revered Companions (Sahabah) and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–245
267. 'Goodly loan' signifies whatever one gives to another person selflessly, and from absolutely pure motives. God describes whatever man spends in this manner as a loan made to none other than Him, and He undertakes to repay that loan and to repay it several-fold. The stipulation, however. is that the loan should be a 'goodly' one; that is, it should not he tainted with selfish designs and should be given for the sake of God, to be spent for purposes pleasing to Him
They said: 'And whv would we not fight in the way of Allah when we have been torn from our homes and our children?' But when…
Read the full tafseer →