موت اور زندگی :
ابن عباس فرماتے ہیں یہ لوگ چار ہزار تھے اور روایت میں ہے کہ آٹھ ہزار تھے، بعض تو ہزار کہتے ہیں، بعض چالیس ہزار بتاتے ہیں، بعض تیس ہزار سے کچھ اوپر بتاتے ہیں، یہ لوگ ذرو روان نامی بستی کے تھے جو واسط کی طرف ہے، بعض کہتے ہیں اس بستی کا نام اذرعات تھا، یہ لوگ طاعون کے مارے اپنے شہر کو چھوڑ کر بھاگے تھے، ایک بستی میں جب پہنچے وہیں اللہ کے حکم سے سب مرگئے، اتفاق سے ایک نبی اللہ کا وہاں سے گزرا، ان کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر دوبارہ زندہ کردیا، بعض لوگ کہتے ہیں ایک چٹیل صاف ہوادار کھلے پر فضا میدان میں ٹھہرے تھے اور دو فرشتوں کی چیخ سے ہلاک کئے گئے تھے جب ایک لمبی مدت گزر چکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
سورة الْبَقَرَة 265
یہاں سے ایک دوسرا سلسلہ تقریر شروع ہوتا ہے، جس میں مسلمانوں کو راہ خدا میں جہاد اور مالی قربانیاں کرنے پر ابھارا گیا ہے اور انہیں ان کمزوریوں سے بچنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، جن کی وجہ سے آخر کار بنی اسرائیل زوال و انحطاط سے دوچار ہوئے۔ اس مقام کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ مسلمان اس وقت مکہ سے نکالے جا چکے تھے، سال ڈیڑھ سال سے مدینے میں پناہ گزیں تھے، اور کفار کے مظالم سے تنگ آکر خود بار بار مطالبہ کرچکے تھے کہ ہمیں لڑنے کی اجازت دی جائے۔ مگر جب انہیں لڑائی کا حکم دے دیا گیا، تو اب ان میں بعض لوگ کسمسا رہے تھے، جیسا کہ چھبیسویں رکوع کے آخر میں ارشاد ہوا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
خلاصہ تفسیر
(اے مخاطب) کیا تجھ کو ان لوگوں کا قصہ تحقیق نہیں ہوا جو کہ اپنے گھروں سے نکل گئے اور وہ لوگ ہزاروں ہی تھے موت سے بچنے کے لئے سو اللہ نے ان کے لئے (حکم) فرمادیا کہ مرجاؤ (سب مرگئے) پھر ان کو جلا دیا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والے ہیں لوگوں (کے حال) پر مگر اکثر شکر نہیں کرتے اور (اس واقعہ پر غور کرکے) اللہ کی راہ میں قتال کرو اور یقین رکھو اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں (جہاد کرنے اور نہ کرنیوالوں کی باتیں سنتے اور ہر ایک کی نیت جانتے ہیں اور سب کو مناسب جزادیں گے)
معارف و مسائل
یہ تین آیتیں جو اوپر مذکورہوئی ہیں ان میں ایک عجیب بلیغ انداز میں اللہ…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ کا خطاب ضروری نہیں کہ واحد کے لیے ہو بلکہ یہ عموماً ، جیسا کہ استاذ امام نے سورة فیل کی تفسیر میں واضح کیا ہے، جمع کے لیے آتا ہے اور خطاب اس میں گویا مخاطب گروہ کے ہر شخص سے فرداً فرداً ہوتا ہے۔ اس کے بعد جس واقعہ کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ یا تو مخاطب گروہ کا عینی مشاہدہ ہوتا ہے یا واقعے کی شہرت اس درجے کی ہوتی ہے کہ اس کی نسبت یہ باور کیا جاتا ہے کہ اس سے مخاطب باخبر ہیں یا انہیں باخبر ہیں یا انہیں باخبر ہونا چاہئے۔ یا متکلم کو یہ اعتماد ہوتا ہے کہ واقعے کی صداقت ایسی مسلم ہے کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
الفاظ ’ موت وحیات ‘ کا مفہوم : موت کے لفظ پر اسی سورة کی آیت 56…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
243۔ 1 یہ واقعہ سابقہ کسی امت کا ہے جس کی تفصیل کسی حدیث میں بیان نہیں کی گئی تفسیری روایات اسے بنی اسرائیل کے زمانے کا واقعہ اور اس پغمبر کا نام جس کی دعا سے انہیں اللہ تعالیٰ نے دوبارہ زندہ کیا یہ جہاد میں قتل کے ڈر سے یا وبائی بیماری طاعون کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے تاکہ موت کے منہ میں جانے سے بچ جائیں اللہ تعالیٰ نے انہیں مار کر ایک تو یہ بتلا دیا کہ اللہ کی تقدیر سے تم بچ کر نہیں جاسکتے دوسرا یہ کہ انسانوں کی آخری جائے پناہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے اور وہ تمام انسانوں کو اسی طرح زندہ فرمائے گا جس طرح اللہ نے ان کو مار کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
163: یہاں سے آیت نمبر : 260 تک دو مضمون ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں، بنیادی مقصد جہاد کی ترغیب دینا ہے لیکن بعض منافقین اور کمزور طبیعت کے لوگ جہاد میں جانے سے اس لئے کتراتے تھے کہ انہیں موت کا خوف تھا، اس لئے دوسرا مضمون ساتھ ساتھ بیان ہوا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ موت اور زندگی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو جنگ کے بغیر بھی موت دیدے اور چاہے تو شدید جنگ کے درمیان بھی انسانوں کی حفاظت کرلے ؛ بلکہ اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی انسانوں کو زندہ کردے، اس قدرت کا عمومی مظاہرہ تو آخرت میں ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی چند ایسے نمونے دنیا کو دکھادئیے ہیں جن میں بعض لوگوں…
Read the full tafseer →درس 16 ایک نظر میں
اس سبق کی اہمیت اور اس میں امم سابقہ کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان کی صحیح قدروقیمت تب ہی ذہن میں بیٹھ سکتی ہے ، جب ہم پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ قرآن امت مسلمہ کی ایک زندہ کتاب ہے ، یہ کتاب اس کے لئے ایک رہنما ئے ناصح ہے ۔ یہ اس کی مرشد ہے ۔ یہ اس کا مدرسہ ہے جہاں وہ امن سے زندگی کا سبق حاصل کرتی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی اسلامی جماعت کے لئے اس کتاب کو ضابطہ ترتیب قرار دیا ۔ جس نے اپنے وقت پر اس کتاب کی روشنی میں اسلامی نظام قائم کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا اور یہ کہ پہلی اسلامی جماعت کو اس منصب پر اس وقت فائز کیا گیا ، جب اس کتاب کے مطابق اسے اچھی تیار…
Read the full tafseer →2 یہ پہلی امت کا قصہ ہے کہ کئی ہزار شخص گھر بار کو ساتھ لیکر وطن سے بھاگے۔ ان کو ڈر ہوا تھا غنیمت کا اور لڑنے سے جی چھپایا یا ڈر ہوا تھا وباء کا اور تقدیر پر توکل اور یقین نہ کیا پھر ایک منزل پر پہنچ کر بحکم الہٰی سب مرگئے پھر سات دن کے بعد پیغمبر کی دعا سے زندہ ہوئے کہ آگے کو توبہ کریں۔ اس حال کو یہاں اس واسطے ذکر فرمایا کہ کافروں سے لڑنے یا فی سبیل اللہ مال خرچ کرنے میں جان اور مال کی محبت کے باعث دریغ نہ کریں اور جان لیویں کہ اللہ موت بھیجے تو چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں اور زندگی چاہے تو مردہ کو دم کے دم میں زندہ کر دے زندہ کو موت سے بچا لینا تو کوئی چیز ہی نہیں پھر اس کی تعمیل حکم میں موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
اب جو دو رکوع زیر مطالعہ آ رہے ہیں یہ اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ ان میں اس جنگ کا تذکرہ ہے جس کی حیثیت گویا تاریخ بنی اسرائیل کے غزوۂ بدر کی ہے۔ قبل ازیں یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل نے یوشع بن نون کی سرکردگی میں جہاد و قتال کیا تو فلسطین فتح ہوگیا۔ لیکن انہوں نے ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی بارہ حکومتیں بنا لیں اور آپس میں لڑتے بھی رہے۔ لیکن تین سو برس کے بعد پھر یہ صورت حال پیدا ہوئی کہ جب ان کے اوپر دنیا تنگ ہوگئی اور آس پاس کی کافر اور مشرک قوموں نے انہیں دبا لیا اور بہت سوں کو ان کے گھروں اور ان کے ملکوں سے نکال دیا تو پھر تنگ…
Read the full tafseer →340 اس آیت سے آگے جہاد کا مضمون شروع ہو رہا ہے اور بطور تمہید اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ واقعہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ کسی شہر میں رہتے تھے۔ وہاں طاعون کی وبا پھیل گئی تو یہ طاعون کی وبا کا شکار ہو کر مرجانے کے خطرہ کی بنا پر اپنا بوریا بستر لپیٹ کر ہزاروں کی تعداد میں شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور سمجھے کہ اس طرح موت سے بچ جائیں گے، ابھی کسی منزل پر بھی نہ پہنچنے پائے تھے کہ راہ میں انہیں موت نے آلیا اور سب کے سب مرگئے۔ ممکن ہے وہ طاعون کے جراثیموں سے ہی مرے ہوں۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ نہ کیا اور بزدلی دکھائی، لہذا اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر…
Read the full tafseer →917 ۔ (اے مخاطب) (آیت) ” الم تر “۔ عربی میں یہ طرز خطاب ایسے موقع پر آتا ہے۔ جب مخاطب کو کسی بڑے اہم اور معروف واقعہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے۔ رؤیت سے ہمیشہ چشم بصارت سے دیکھنا مراد نہیں ہوتا بلکہ وہم و تخیل اور غور وفکر اور عقل کی راہ سے بھی مطالعہ ومشاہدہ مراد ہوتا ہے۔ اور جب اس فعل کا صلہ الی کے ساتھ آتا ہے، تو کوئی مقصود کوئی نتیجہ نکالنا یا عبرت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ واذا عدی رأیت بالی اقتضی معنی النظر المؤدی الاالاعتبار (راغب)
918 ۔ (عین موقع جہاد پر) (آیت) ” حذر الموت “ یہ تصریح ہے کہ اس کی کہ اتنی بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے باہر نکل جانا محض امر اتفاقی نہ تھا، موت کے خوف سے تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
آیت نمبر 243 تا 248
ترجمہ : کیا تم کو ان کے بارے میں معلوم نہیں استفہام تعجب دلانے اور مابعد کو سننے کا شوق دلانے کے لئے ہے یعنی تم کو اس کا علم نہیں ہے جو ہزاروں کی تعداد میں موت سے ڈر کر اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے، ان کی تعداد چار ہزار، یا آٹھ ہزار، یا بارہ ہزار یا تیس ہزار یا چالیس ہزار یا ستر ہزار تھی، (حَذَرَ الْمَوْتِ ) خَرَجوا کا مفعول لہ ہے، وہ بنی اسرائیل کی ایک قوم تھی کہ جن کے شہروں میں طاعون پھوٹ پڑا تھا، تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تو اللہ نے ان کو حکم دیا مرجاؤ تو سب کے سب مرگئے، پھر آٹھ یوم یا اس سے زیادہ کے بعد ان کے نبی حز قیل (علیہ السلام) کی دعاء سے (اللہ تعالیٰ نے) ان کو…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ ( کیا تم نے نہیں دیکھا) یہ لفظ ما بعد کا حال سنانے کے لیے شوق اور تعجب دلاتا ہے پس (الم ترکہنا) تعجب دلانے میں ایک مثل ہوگیا اور اس سے ایسے شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ جس نے اس سے پہلے یہ واقعہ نہ سنا ہو اور نہ دیکھا ہو یا یہ تقریر (اور تاکید) ہے ایسے شخص کے لیے جس نے ان کا قصہ اہل کتاب اور اہل تواریخ سے سن لیا ہو یا اس کے یہ معنی ہیں کہ ( اے مخاطب) کیا تو میرے بتانے سے بھی نہیں سمجھتا اور اس میں بھی ایک قسم کا تعجب دلانا ہے اور قرآن شریف میں جہاں کہیں الم ترکا لفظ آیا ہے اور اس کو نبی ﷺ نے نہیں دیکھا وہاں سب جگہ اسی قسم کے معنی مراد ہیں۔
اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ…
Read the full tafseer →(243) اب اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی ایک جہاد والی جماعت کا ذکر کرتے ہیں، اے محمد ﷺ قرآن کریم میں آپ کو ان لوگوں کا واقعہ نہیں معلوم ہو اجو اپنے گھروں سے اپنے دشمنوں سے لڑائی کرنے کے لیے گئے تھے اور وہ تقریبا تعداد میں آٹھ ہزار تھے پھر موت کے ڈر سے انہوں نے قتال نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اسی جگہ پر موت دے دی اور پھر آٹھ دن کے بعد ان کو حیات بخش دی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو زندہ کرکے ان پر بڑا فضل و احسان کیا ہے مگر یہ لوگ زندگی کی قدر نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →یہ واقعہ سابقہ کسی امت کا ہے، جس کی تفصیل کسی صحیح حدیث میں بیان نہیں کی گئی۔ یہ لوگ دشمن کے حملے کے وقت قتل ہونے کے خوف سے ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باوجود مقابلہ کرنے کے بجائے شہر چھوڑ کر بھاگ پڑے، یا وبا واقع ہونے پر تقدیر پر صابر رہنے کے بجائے موت سے بچنے کے لیے گھر بار چھوڑ کر نکل گئے، لیکن وہ بھاگ کر موت سے نہ بچ سکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب پر موت طاری کردی، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر کرم فرمایا اور انھیں زندہ کردیا۔ اس سے اگلی آیت (244) میں اللہ کی راہ میں قتال یعنی لڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس حکم سے پہلے اس واقعہ کے بیان میں یہی حکمت ہے کہ جہاد سے جی مت چراؤ، موت تو اللہ کے ہاتھ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 243۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” الم تر “۔ رؤیت قلب مراد ہے، اس کا معنی ہے (آیت) ” الم تعلم “ کیا آپ نہیں جانتے اور سیبویہ کے نزدیک اس کا معنی ہے : کیا آپ آگاہ نہیں ان لوگوں کے معاملہ کے بارے، (یعنی الم تتبہ) اور یہ رؤیت (یعنی الم تر) دو مفعولوں کا محتاج نہیں ہے۔
ابو عبدالرحمن السلمی نے ” الم ترراء کی جزم کے ساتھ پڑھا ہے اور القائے حرکت کے بغیر ہی ہمزہ کو حذف کردیا گیا ہے کیونکہ اس کی اصل ہے : الم ترء۔
ان لوگوں کا قصہ یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کی ایک قوم ہے، ان میں وبا پھیل گئی، یہ ایک گاؤں میں تھے جسے داوردان کہا جاتا ہے (یہ گاؤں واسط کے مشرقی نواح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
(1) وکیع، الفریابی، ابن جریر، ابن المنذر، حاکم نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے (اس آیت) ” الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ چار ہزار تھے جو طاعون (کے ڈر) سے نکلے تھے اور کہنے لگے ہم ایسی زمین میں جائیں گے جس میں موت نہیں آئے گی یہاں تک کہ وہ لوگ ایسی جگہ پر نہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا مرجاؤ (تو مرگئے) پھر انبیاء میں سے ایک نبی ان پر گزرے اور اپنے رب سے دعا کی کہ ان کو زندہ فرما دیجئے۔ تاکہ وہ آپ کی عبادت کریں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا۔
(2) عبد بن حمید، ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس…
Read the full tafseer →[ اَلَمْ تَرَ : کیا تو نے غور ہی نہیں کیا ] [ اِلَی الَّذِیْنَ : ان لوگوں (کی حالت) کی طرف جو ] [ خَرَجُوْا : نکلے ] [ مِنْ دِیَارِہِمْ : اپنے گھروں سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ ہُمْ اُلُوْفٌ : وہ ہزاروں تھے ] [ حَذَرَ الْمَوْتِ : موت کا ڈر کرتے ہوئے ] [ فَقَالَ : تو کہا ] [ لَہُمُ : ان سے ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ مُوْتُوْا : تم لوگ مر جائو (تو وہ مرگئے) ] [ ثُمَّ اَحْیَاہُمْ : پھر اس نے زندہ کیا ان کو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [ لَذُوْ فَضْلٍ : فضل والا ہے ] [ عَلَی النَّاسِ : لوگوں پر ] [ وَلٰـکِنَّ : اور لیکن ] [ اَکْثَرَ النَّاسِ : لوگوں کی اکثریت ] [ لاَ یَشْکُرُوْنَ : شکر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
بنی اسرائیل کا ایک واقعہ
علامہ بغوی (رح) معالم التنزیل ص 223 ج 1 میں لکھتے ہیں کہ اکثر اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک بستی جس کا نام داور دان تھا اس میں طاعون واقع ہوگیا، اس موقعہ پر ایک جماعت وہاں سے نکل گئی اور ایک جماعت بستی میں رہ گئی۔ جو لوگ بستی میں رہ گئے تھے ان میں سے اکثر ہلاک ہوگئے اور جو لوگ بستی چھوڑ کر چلے گئے تھے وہ صحیح سلامت رہے اور پھر بستی میں آگئے، جو لوگ بستی میں رہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہ ساتھی ہم سے زیادہ ہوشیار رہے۔ آئندہ ہم ایسی زمین کی طرف نکل جائیں گے جہاں وباء نہ ہو چناچہ آئندہ سال طاعون واقع ہوا تو بستی کے تقریباً سب ہی لوگ چلے گئے اور ایک وسیع میدان…
Read the full tafseer →خاتمہ احکام معاشرت برتذکیر آخرت۔
حکایت قصہ گریز ندگاں از موت دوبابرائے تنبیہ شیفتگان حیات دنیا وتمہید تشجیع برجہاد و قتال وترغیب انفاق مال۔
قال تعالی، الم تر الذین۔۔۔ الی۔۔۔ لایشکرون۔
ربط) ۔ یہاں تک ابواب البر والصلہ کے متعلق الانواع اور مختلف الاقسام احکام مذکور ہوئے مگر ان احکام میں سب سے زیادہ اہم اور مہتم بالشان اور نفس پر شاق اور گراں دو حکم ہیں ایک جہاد و قتال کا اور دوسرا انفاق مال کا چناچہ اصول بر کے بیان میں واتی المال علی حبہ ا لصابرین فی الباساء والضراء وحین الباس، کا خاص طور پر ذکر فرمایا اس لیے کہ انسان کو خداوند ذوالجلال کی اطاعت سے روکنے والی زیادہ تردو ہی چیزیں ہوتی ہیں ایک حب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
476 یہاں سے پھر اصل موضوع یعنی مسئلہ جہاد کا بیان شروع کیا جارہا ہے۔ درمیان میں امور انتظامیہ اور امور مصلحہ بیان کیے گئے ہیں۔ مسئلہ جہاد کو دوبارہ ذکر کرنے سے پہلے ایک قدیم واقعہ بطور عبرت اور تخویف بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کے کسی قبیلہ کا ہے۔ جب ان کو جہاد کا حکم ملا تو وہ گھروں سے بھاگ نکلے کہ کہیں وہ جہاد میں شریک ہو کر لقمہ اجل نہ بن جائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کردی اور وہ مرگئے۔ وہ نکلے تھے جان بچانے کے لیے مگر یہ تدبیر ان کے کام نہ آئی جس موت سے بھاگتے تھے۔ اسی کا لقمہ بن گئے۔ ھم قوم من بنی اسرائیل دعاھم ملکھم الی الجھاد فھربوا حذر الموت فاماتھم اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–245
ربطہ آیات
ولیس البر بان تانو البیوت من ظھورھا سے لے کر اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرماتے ہیں جن کا تعلق بر یعنی نیکی کے ساتھ ہے۔ ان میں نکاح ، طلاق ، عدت اور ان کے متعلقات بیان ہوئے ہیں۔ حلت اور حرمت کا مسئلہ بھی آیا ہے۔ اس کے علاوہ عبادات ، معاملات اور اخلاق سے متعلق مسائل کا بیان ہوا ہے۔ اب یہاں سے جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کا تذکرہ شروع ہورہا ہے۔ پہلی آیت مسئلہ جہاد فی سبیل اللہ میں تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بعد حاکم کے انتخاب اور اس کے تحت جہاد میں حصہ لینے کا تذکرہ ہے کسی پہلی امت کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ لوگ جہاد سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ وَھُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ 0 ۠ فَقَالَ لَہُمُ اللہُ مُوْتُوْا 0 ۣ ثُمَّ اَحْيَاھُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ 243
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ،…
Read the full tafseer →ترکیب : الم استفہام تقریری کے لیے تر فعل اصل میں تریٰ مثل ترعی کے تھا مگر عرب مستقبل میں ہمزہ حذف کردیتے ہیں جب ہمزہ حذف ہوئی تو الف منقلبہ اخیر باقی رہ گیا جو جزم کے وقت حذف ہوگیا۔ ضمیر انت اس کا فاعل الذین متعلق ہے فعل سے۔ وھم الوف جملہ حال ہے فاعل خرجوا سے حذر الموت مفعول لہ خرجوا سے۔
تفسیر : پیشتر خدا تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ مخالفوں سے خدا تعالیٰ کی جماعت بن کر جہاد کرنا باہمی اتفاق پر مبنی ہے اور زیادہ تر اتفاق میں خلل ڈالنے والی باتیں جو روزمرہ پیش آتی ہیں ‘ میاں بیوی کا جھگڑا اور میراث وصیت کے متعلق امور ہیں۔ اس لیے بیچ میں چند احکام ان جھگڑوں کے دفع کرنے والے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَھُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَالْمَوْتِ ص فَقَالَ لَھُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْا قف ثُمَّ اَحْیَاہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْفَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَشْکُرُوْنَ ۔
(کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو بھاگ کھڑے ہوئے اپنے گھروں سے حالانکہ وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا مرجاؤ۔ پھر اللہ نے ان کو زندہ کیا۔ بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکرگزار نہیں ہوتے) (243)
ربطِ آیات
گزشتہ آیات کی تشریح میں ہم یہ عرض کرچکے ہیں کہ احکام و قوانین کا جو باب آیت نمبر 163 سے شروع ہوا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
فہم القرآن
ربط کلام : نیاخطاب بدر، احد سے پہلے مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے سورة البقرۃ آیت : 191 تا 193 میں دفاعی جنگ کا حکم دیا گیا تھا اور یہاں بھی ایسے تناظر میں جہاد کا ذکر ہورہا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی جائے تو انہیں موت کی پروا کیے بغیردشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانا چاہیے۔ کیونکہ بات کا آغاز ہی بنی اسرائیل کے اس واقعے سے کیا جارہا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے صرف اس لیے نکلے تھے کہ کہیں یہاں رہتے ہوئے انہیں موت نہ دبوچ لے۔ چند اہل علم کو چھوڑ کر باقی سب نے ایک خاص واقعے اور علاقے کا ذکر کیا ہے کہ وہاں بنی اسرائیل پر طاعون کی وبا…
Read the full tafseer →آیت 243 :
اَلَمْ تَرَ (کیا آپ نے نہیں دیکھا) یہ ہمزہ تقریر و تاکید کے لئے ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اہل کتاب اور احبار اولین سے یہ واقعہ سن رکھا تھا اور ان کی حالت پر تعجب کے اظہار کے لئے بھی ہے۔
دوسرا قول : یہ کلام تعجب دلانے میں ایک مثل بن گیا۔ اس سے ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا۔ جنہوں نے اس واقعہ کو نہ دیکھا اور نہ سنا تھا۔ تاکہ مثل سے بیخبر ہونے سے ان پر تعجب کا اظہار ہو۔
دیار سے مراد :
اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ (ان لوگوں کو جو اپنے گھروں سے نکلے) یعنی اپنی بستی و شہر سے بعض نے کہا یہ بستی واسط ہے جہاں طاعون پڑنے پر لوگ وہاں سے بھاگ نکلے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دے…
Read the full tafseer →طاعون سے بھاگنے والوں کا ایک قصہ :
(تفسیر) 243۔:
(آیت)” الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم “۔ اکثر اہل تفسیر فرماتے ہیں کہ ” واسط “ کی طرف ایک بستی تھی جسے داوردان کہا جاتا تھا وہاں طاعون واقع ہوا تو لوگوں کا ایک گروہ اس علاقہ سے نکل بھاگا اور ایک گروہ باقی رہ گیا تو بستی میں رہنے والوں کی اکثریت ہلاک ہوگئی اور نکلنے والے صحیح سالم رہے ، جب طاعون ختم ہوا تو وہ صحیح سالم واپس آگئے جو بستی میں رہ کر باقی بچ گئے تھے وہ نکلنے والوں کے بارے میں کہنے لگے ، ہمارے نکلنے والے بھائی تو ہم سے زیادہ محتاط اور سمجھدار نکلے ، اگر ہم بھی ایسا کرتے جس طرح انہوں نے کیا تو ہم بھی بچ جاتے ، اگر اب کے دوبارہ طاعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–245
(243 ۔ 244) ۔ جہاد کے حکم کے نازل ہونے کے بعد جان کے خوف سے کچھ لوگ جہاد میں جانے سے پہلوتہی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر جہاد کی تاکید فرمائی اور اس تاکید سے پہلے ایک قصہ فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں کے ایک بستی کے آٹھ ہزار کے قریب آدمی وبا سے ڈر کر اپنی بستی چھوڑ بھاگے اور بستی کو چھوڑ کر جہاں گئے تھے وہاں اللہ کے حکم سے ایک دم میں سب مرگئے اور پھر ایک نبی کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر زندہ کیا 1۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ موت جب آنے والی ہوتی ہے تو وہ ہر حال میں آتی ہے موت سے ڈر کر بستی کا چھوڑنا جس طرح اس قصہ کے لوگوں کے کچھ کام نہیں آیا۔ اسی طرح موت کا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا واقعہ بیان فرما رہا ہے جو ایک متفقہ مقصد کے تحت کثیر تعداد میں اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے نکلنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ وبایا کسی اور وجہ سے مرجانے کا خوف رکھتے تھے۔ گھروں سے نکلنے سے ان کا مقصود موت سے بچنا تھا، لیکن تقدیر کے آگے تدبیر نہیں چلتی چناچہ : (آیت) فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا ۣ” اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : مرجاؤ۔ “ تو وہ مرگئے۔ : (آیت) ثم ” پھر اللہ تعالیٰ نے : (آیت) اَحْيَاھُمْ ۭ” انہیں زندہ کردیا۔ “ یا نبی کی دعا کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے یہ ان پر حمت، مہربانی اور حلم کا اظہار تھا اور مردوں کو زندہ کرنے کی ایک نشانی دکھانا مقصود تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–243
طاعون سے بھاگ نکلنے کا بیان
قول باری ہے (الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم، (a) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے موت کے خوف سے نکل پڑے حالانکہ ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا جائو۔ پھر انہیں زندہ کردیا) ۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ان کی تعداد چار ہزار تھی اور یہ لوگ طاعون سے بھاگ نکلنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے پھر سب کے سب مرگئے۔ ان پر اللہ کے ایک نبی کا گذر ہوا۔ انہوں نے اللہ سے انہیں انہیں زندہ کردینے کی دعا کی ، اللہ نے انہیں زندہ کردیا۔ حسن بصری سے بھی منقول ہے کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →692 " اَلَمْ تَرَ " کا خطاب اور اس کے مخاطب ؟ : خطاب اگرچہ بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے کہ وحیء الٰہی کے اولین مخاطب تو بہرحال آپ ہی ہیں ﷺ مگر اصل مقصود اس سے ہر مخاطب ہوتا ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو، اور کہیں کا بھی ہو، کہ مقصود ایسے کلام سے اسی کو تنبیہ کرنا ہوتا ہے۔ اور رؤیت سے یہاں پر مراد علم ہے، جس کو اس کی غایت شہرت کی بنا پر اس لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (صفوۃ البیان، المراغی، الجواہر، معارف القران، وغیرہ) ۔ بہرکیف اس خطاب میں دعوت غور و فکر ہے کہ کیا تم نے ان لوگوں کو دیکھا نہیں اور ان کے حال و مآل میں غور و فکر سے کام نہیں لیا۔ یعنی اس بارے غور و فکر سے کام لینا چاہیئے کہ اس میں بڑے درسہائے…
Read the full tafseer →موت سے بھاگنے والے
تشریح : اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جہاد سے بھاگ کر یا وباء سے ڈر کر شہر سے بھاگ جانا عقل مندی نہیں۔ جہاں وباء پھوٹ پڑے، وہاں سے بھاگ کر دوسری جگہ چلے جانا نقصان دہ بات ہے ہوسکتا ہے وباء کے جراثیم سب میں ہی چلے گئے ہوں تو اس طرح دوسری جگہ بھی وباء پھیل جانے کا خطرہ ہے وہاں کے مریض کی تیمار داری اور علاج ومعالج کون کرائے گا اس لئے حکم ہے کہ اللہ پر یقین رکھو جب موت نے آنا ہے تو وہ آکر رہے گی۔ جہاد میں مرگئے تو شہادت پائی اور اگر وباء سے مرگئے تو اللہ نے اس کو شہادت ہی کہا ہے۔ جہاد سے بھاگ جانا وبا سے بھاگ جانا موت سے نہیں بچا سکتا۔ جیسا کہ اس واقعہ کو اس آیت میں یاد دلایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–248
آیات 243- 248
اسرارو معارف
الم ترالی الذین………………ان کنتم مومنین۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ احکام الٰہی کی اطاعت کرنے سے زندگی مشکل ہوجائے گی یا زندہ رہنا محال ہوجائے گا۔ تو یہ اس کی بھول ہے کہ زندگی کے مصائب خود اس آدمی کے پیدا کردہ ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی چھوڑ دے تو اللہ قادر ہے کہ اس کے لئے ہر طرح راحت پیدا فرمائے۔
اس بات کو واضح کرنے کے لئے بطور مثال ارشاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے اور حضور ﷺ سے ارشاد ہے کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ؟ تو مراد حضور ﷺ کا وہ قطعی اور یقینی علم ہے جو آپ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 242–243
۔5 یہ لوگ کون تھے اور کہاں سے نکلے تھے اس بارے میں آنحضرت ﷺ سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہے البتہ حضرت ابن عباس ؓ اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اسرائلی تھے۔ جہاد میں قتل کے خوف یا طاعون سے بچنے کے لیے اپنے شہر سے بھاگے جن ایک مقام پر پہنچے تو اللہ کے حکم سے سب مرگئے، اتفاق سے اللہ تعالیٰ کے ایک نبی وہاں سے گزر ہوا اس نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کیا۔ (قرطبی۔ رازی) یو آیت کے شرو میں لفظ الم تر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قصہ نزول آیت کے وقت عام طور پر مشہور و معروف تھا۔ (فتح القدیر) یہ قصہ قیامت یے روز معاد جسمانی کی قطعی دلیل ہے اور جہاں ذکر کرنے سے مقصد جہاد کی ترغیب ہے۔ صحیحین…
Read the full tafseer →(2:243) الم تر۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لم تر۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ واحد مذکر حاضر۔ کیا تو نے نہیں دیکھا۔ صاحب تفسیر مظہری اس کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : یہ لفظ ما بعد کا حال سنانے کے لئے شوق اور تعجب دلاتا ہے۔ پس الم تر کہنا تعجب دلانے میں ایک مثل ہوگیا۔ اور اسے سے ایک ایسے شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ جس نے اس سے پہلے یہ واقعہ نہ سنا ہو اور نہ دیکھا ہو یا یہ تقریر اور تاکید ہے ایسے شخص کے لئے جس نے ان کا قصہ اہل کتاب اور اہل تاریخ سے سن لیا ہو۔
یا اس کے معنی یہ ہیں کہ (اے مخاطب) کیا تم میرے بتانے سے بھی نہیں سمجھتا اور اس میں ایک قسم کا تعجب دلانا ہے۔ اور قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی الم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–245
لغات القرآن : آیت نمبر 243 تا 245
الوف (ہزاروں، (الف، ہزار) ۔ حذر الموت (موت کا خوف) ۔ موتوا (مرجاؤ) ۔ احیا (اس نے زندہ کیا) ۔ ذو فضل (فضل و کرم والا) ۔ یقرض (قرض دیتا ہے) ۔ قرضا حسنا (قرض حسن، بہترین قرض ) ۔ یضعفہ (وہ اس کو دوگنا کردیتا ہے ) ۔ اضعاف کثیر (دوگنے سے بھی زیادہ) ۔ یقبض (روکتا ہے ) ۔ یبسط (کھولتا ہے ) ۔
تشریح : آیت نمبر 243 تا 245
اب ان آیات سے جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے احکام بیان کئے جا رہے ہیں جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ انسان لاکھ موت سے ڈر کر کہیں بھی چلا جائے۔ جہاں بھی وہ جائے گا اور اس کی موت کا وقت آجائے گا تو مضبوط قلعوں میں بھی موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
شان نزول : جہاد کے حکم نازل ہونے کے بعد جان کے خوف سے کچھ لوگ جہاد میں جانے سے پہلو تہی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر جہاد کی تاکید فرمائی اور اس تاکید سے پہلے ایک قصہ کو بیان فرمایا، جس کا حاصلیہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بستی کے آٹھ ہزار کے قریب آدمی وبا سے ڈر کر دوسری بستی میں بھاگ گئے تھے۔ وہاں اللہ کے حکم سے ایک دم سب مر گئے، اور پھر ایک نبی کی دعا سے اللہ نے ان کو زندہ کیا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ موت جب آنے والی ہوتی ہے تو ہر حال میں آتی ہے۔ جہاد کی پہلو تہی اس کو روک نہیں سکتی اس لئے اس وقت موت سے ڈرنا اور جہاد سے پہلو تہی کرنا بےفائدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
[168] اشارہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کی عبرت انگیز سرگزشت کی طرف ہے جس نے باوجود کثرت تعداد کے جہاد سے اعراض کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 242–243
(ف 1) اس سے پیشتر کی آیات میں قوم بنی اسرائیل کا واقعہ ذکر فرمایا ہے کہ کس طرح وہ جہاد سے ڈر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور کس طرح موت کے چنگل میں گرفتار ہوگئے اور پھر کیونکر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی بخشی مقصد یہ ہے کہ جہاد کی اہمیت بتلائی جاوے اور یہ بتلایا جاوے کہ موت بہرحال آنے والی چیز ہے ، اس سے مفر نہیں ، اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ موت خدا کی راہ میں آئے ۔
اس کے بعد دعوت جہاد ہے اور اس کا ذکر ہے ، کہ خدا کو قرض دو ، تاکہ قیامت کے دن اسے کئی گنا زیادہ کرکے تمہیں اجر کی صورت میں بدل دے ۔
اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے ۔ اسے ہمارے مال و دولت کی ضرورت نہیں ، اس کے خزانے بھرے پڑے ہیں ، البتہ ہمیں توشہ…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ اے پیغمبر ! کیا آپ نے ان لوگوں کا واقعہ ملاحظہ نہیں فرمایا اور کیا آپ کو ان لوگوں کا واقعہ معلوم نہیں ہوا ۔ جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل گئے تھے حالانکہ وہ ہزاروں کی تعداد تھے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ تم سب مر جائو ، چناچہ وہ مرگئے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو جلا دیا ، ی قین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے حال پر بڑا فضل فرماتا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں بجا لاتے یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل و انعامات پر اس کا شکر ادا نہیں کرتے ( تیسیر)
الم تر میں خطاب یا تو نبی کریم ﷺ کو ہے یا ہر مخاطب کو عام ہے اور چونکہ یہ یہ قصہ بنی اسرائیل میں بہت مشہور تھا اور ان کی کتابوں اور تاریخوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–244
ف 4۔ جب آیت میراث نازل ہوگئی گھر بار سب ترکہ میں سے عورت کا حق مل گیا اور یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
5۔ یہاں ایک عجیب نکتہ قابل توجہ یہ ہے کہ احکام نکاح و طلاق میں جابجا اتقواللہ اور حدود اللہ اور سمیع علیم وارعزیز حکیم اور بصیر اور فقد ظلم نفسہ وغیرہا کا ذکر آنا دلیل قطعی ہے کہ یہ سب احکام شریعت میں مقصود اور واجب ہیں۔ بطور مشورہ کے نہیں جن میں ترمیم و تبدیل کرنے کا یا عمل نہ کرنے کا ہم نعوذ باللہ اختیار حاصل ہو۔
Read the full tafseer →سلسلہ کلام پھر جہاد کی طرف پھیرا جا رہا ہے :
409: یہاں سے سلسلہ بیان پھر اسی طرف پھرتا ہے جہاں سے نکاح و طلاق کا بیان شروع ہوا تھا یعنی جہاد کے احکام و مصالح کی طرف اور فرمایا جا رہا ہے کہ جو جماعت موت سے ڈرتی ہے وہ کبھی زندگی کی کامرانیاں حاصل نہیں کرسکتی۔ بنی اسرائیل کی ایک عبرت انگیز سرگزشت جس نے باوجود کثرت تعداد کے جہاد سے اعراض کیا تھا۔
” اَلَمْ تَرَ “ عربی میں یہ طرز خطاب ایسے موقع پر آتا ہے جب مخاطب کو کسی بڑے اہم اور معروف واقعہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے۔ رؤیت سے ہمیشہ چشم بصارت ہی سے دیکھنا مراد نہیں ہوتا بلکہ وہم و تخیل اور غور و فکر اور عقل کی راہ سے بھی مطالعہ و مشاہدہ مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–244
Commentary
In a uniquely eloquent manner, the two verses (243, 244) appearing above and verse 245 which follows, present guidance that prompts the sacrifice of one's life and possessions in the way of Allah Almighty. Consequently, before stating related injunctions, an important event of history has been taken up which makes it clear that death and life are subservient to the destiny determined by Allah. Going into a battle in jihad is not the cause of death, and running away from it, out of cowardice, is not the means to avoid death.
On the authority of revered Companions (Sahabah) and…
Read the full tafseer →265. Here begins a fresh discourse, in which Muslims are urged to struggle and make financial sacrifices for God's cause. Moreover, they have been warned to avoid those forms of corruption which eventually led the Children of Israel into decline and degeneration. In order to appreciate this discourse it should be borne in mind that it was revealed when the Muslims had been driven out of Makka and had lived in Madina for year and a half. Exasperated by the wrongs to which the unbelievers subjected them, the Muslims had again and again asked the Prophet to permit them to fight. But when they…
Read the full tafseer →