Al-Baqara 2:242

Al-Baqara · from ayah 242

2:242

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ۟۠كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـکُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Thus does Allah make clear to you His verses that you might use reason.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 31 of surah · Ruku 15 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:242

اِس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی آیتیں تم پر ﻇاہر فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ اپنے احکام اسی طرح وضاحت سے تمہارے سامنے بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھ داری سے کام لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ یونہی بیان کرتا ہے تمہارے لئے اپنی آیتیں کہ کہیں تمہیں سمجھ ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ا سی طرح اﷲ تمہارے لئے اپنے احکام واضح فرماتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ اسی انداز سے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسی طرح اللہ اپنی آیتوں کی تمہارے لیے وضاحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اسی طرح اللہ بیان فرماتا ہے تمہارے بھلے کے لئے اپنے احکام تاکہ لوگ عقل سے کام لو

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ) پرہیزگاروں پر واجب ہے۔ اللہ اسی طرح تمہارے لئے کھول کر اپنے احکام بیان کرتا ہے شاید کہ تم سمجھو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح کر رہا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو (اور سمجھو)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus Allah makes clear His commandments for you: it is expected that you will use your common sense.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is how Allah makes His verses clear to you, so that you may understand.

— Muhammad Taqi Usmani

This is how Allah makes His verses clear to you, so that you may understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Thus Allah makes clear His Ayat (Laws) to you, in order that you may understand.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus Allah expoundeth unto you His revelations so that ye may understand.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Thus does Allah make clear to you His verses that you might use reason.

— Saheeh International

Thus does God explain His revelations to you so that perhaps you will have understanding.

— Muhammad Sarwar

Allah thus makes clear to you His communications that you may understand.

— Muhammad Habib Shakir

In this wise Allah expoundeth unto you His commandments, haply ye may reflect.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus doth Allah Make clear His Signs to you: In order that ye may understand.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:242

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی آیتیں حلال و حرام اور فرائض و حدود اور امرونہی کے بارے میں واضح اور مفسر بیان کرتا ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام اور اجمال باقی نہ رہے کہ ضرورت کے وقت اٹک بیٹھو بلکہ اس قدر صاف بیان ہوتا ہے کہ ہر شخص سمجھ سکے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 240–242

سورة الْبَقَرَة 264 سلسلہ تقریر اوپر ختم ہوچکا تھا، یہ کلام اس کے تتمے اور ضمیمے کے طور پر ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 241–242

(2) وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ مطلقہ عورتوں کو متعہ یعنی فائدہ پہچانا اس سے پہلی آیات میں بھی آچکا ہے مگر وہ صرف دو قسم کی مطلقات کے لئے تھا جن کو صحبت وخلوت سے پہلے طلاق ہوگئی ہو ایک کو فائدہ پہنچانا یہ تھا کہ جوڑا دیا جائے دوسری کو فائدہ پہنچانا یہ تھا کہ آدھا مہر دیا جائے اب وہ طلاق والیاں رہ گئیں جن کو صحبت یا خلوت کے بعد طلاق دی جاوے سو ان میں جس کا مہر مقرر کیا گیا ہو اس کو فائدہ پہنچانا یہ ہے کہ پورا مہر دینا چاہئے اور جس کا مہر مقرر نہ کیا جاوے اس کے لئے بعد دخول کے مہر مثل واجب ہے یہ متاع بمعنی مطلق فائدہ پہنچانا اس تفصیل سے تو واجب ہے اور اگر متاع سے مراد فائدہ خاص…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہاں كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ الایۃ کا ٹکڑا بطور اظہار احسان ہے اور اس سے، جیسا کہ ہم دوسری جگہوں پر واضح کرچکے ہیں، ان آیات کی نوعیت واضح ہوتی ہے جن کی طرف کذالک کا اشارہ ہے۔ ہم بیان کرچکے ہیں کہ عموماً یہ ٹکڑا ان آیات کے بعد آتا ہے جن کی حیثیت توضیح مزید کی ہوتی ہے اور جو اپنے باب کے اصل احکام کے بعد لوگوں کے اندر سوال یا مزید جستجو اور تلاش پیدا ہونے کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ نظمِ قرآن کے طالبوں کو بہت سے مقامات میں ان سے بڑی قیمتی رہنمائی ملتی ہے اس وجہ سے ان کو نگاہ میں رکھنا چاہیے۔ اگلی آیات 243 تا 253 کا مضمون : یہاں ذرا پیچھے مڑ کر سلسلہ کلام کو ذہن میں پھر تازہ کرلیجیے۔ ہم اوپر اشارہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 241–242

241۔ 1 یہ حکم عام ہے جو ہر متعلقہ عورت کو شامل ہے اس میں تفریق کے وقت جس حسن سلوک کا اہتمام کرنے کی تاکید کی گئی ہے اس کے بیشمار معاشی فوائد ہیں کاش مسلمان اس نہایت ہی اہم نصیحت پر عمل کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 241–242

162: مطلقہ عورتوں کو فائدہ پہنچانے کا لفظ بڑا عام ہے اس میں عدت کے دوران کا نفقہ بھی داخل ہے اور اگر ابھی مہر نہ دیا گیا ہو تو وہ بھی داخل ہے نیز اوپر آیت نمبر : 236 میں جس تحفے کا ذکر ہے وہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ تحفہ اس صورت میں بھی مستحب ہے کہ مطلقہ عورت کو مہر کے علاوہ یہ تحفہ بھی دیا جائے ان تمام احکام سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اول تو طلاق کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اقدام اسی وقت کرنا چاہیے جب کوئی اور صورت باقی نہ رہی ہو، دوسرے جب یہ اقدام کیا جائے تو نکاح کے تعلق کا اختتام بھی شرافت فراخ دلی اور احترام سے خوشگوار ماحول میں ہونا چاہیے، دشمنی کے ماحول میں نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب تیسری آیت اس میں ان تمام عائلی احکام پر تبصرہ ہے جو اس پورے سبق میں بیان کئے گئے ہیں ۔ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ” اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے ، امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کروگے۔ “ اسی طرح اس بیان کی طرح جو اس پورے سبق میں بیان احکام کے سلسلے میں تمہاری نظروں سے گزرا ، جو محکم ، دقیق ، الہامی اور اثر انگیز بیان ہے ۔ اس طرح ، اللہ صاف صاف اپنے احکام بیان کرتا ہے ، اس امید پر کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لوگے ، تمہیں عقل آجائے اور تم ان احکام میں تدبر کروگے ، غور وفکر سے کام لوگے ، ان کی تہہ میں جو حکمت کارفرما ہے اسے پانے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہاں نکاح طلاق عدت کے احکام بیان فرمائے ایسے ہی اپنے احکام و آیات کو واضح فرماتا ہے کہ تم سمجھ لو اور عمل کرسکو۔ یہاں نکاح و طلاق کے احکام ختم ہوچکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 241–242

آیت 241 وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌم بالْمَعْرُوْفِ ط حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ۔ واضح رہے کہ یہ ہدایت عدت کے وقت تک کے لیے ہے ‘ اس کے بعد نہیں۔ اسی معاملے میں کلکتہ ہائی کو رٹ نے شاہ بانو کیس میں جو ایک فیصلہ دیا تھا اس پر ہندوستان میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ اس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ کوئی مسلمان اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ بیوی اگر تو دوسری شادی کرلے تب تو بات دوسری ہے ‘ ورنہ جب تک وہ زندہ رہے گی اس کا نان نفقہ طلاق دینے والے کے ذمے ّ رہے گا۔ اس پر بھارت کے مسلمانوں نے کہا کہ یہ ہماری شریعت میں دخل اندازی ہے ‘ شریعت نے مطلقہ کے لیے صرف عدت تک نان نفقہ کا حق رکھا ہے۔ چناچہ مسلمانوں نے اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

339 یہاں نکاح، طلاق، عدت رضاعت وغیرہ عائلی زندگی سے متعلق احکام دینے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ احکام وضاحت سے بیان کردیئے گئے ہیں۔ لہذا انہیں اچھی طرح سمجھ کر ان پر عمل کیا کرو اور ان سے جو کچھ اللہ تعالیٰ کی منشا معلوم ہوتی ہے۔ اسی کے مطابق عمل کرو۔ اپنے لیے گنجائشیں نکالنے کی کوشش نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

915 ۔ (آیت) ” علی المتقین “۔ یعنی مسلمانوں پر، کہ اس درجہ میں پرہیزگار ہر مسلمان ہوتا ہے، اے متقی الشرک (بحر) علی کل من کان متقیا عن الکفر (کبیر) بمعنی ال مومنین المتقین الشرک (معالم) 916 ۔ (اور ان پر عمل کرو) مفسر تھانوی (رح) نے یہاں پر خوب لکھا ہے کہ ان احکام طلاق وغیرہ میں (آیت) ” اتقوا اللہ “۔ اور (آیت) ” حدود اللہ “ اور (آیت) ” سمیع علیم “ اور (آیت) ” عزیز حکیم “ اور (آیت) ” بصیر “ اور (آیت) ” خبیر “ اور (آیت) ” ھم الظلمون “ اور (آیت) ” فقد ظلم نفسہ “ وغیرہ کا اس کثرت سے آنا، جو سب سب مخالفت پر وعیدیں ہیں، اس امر پر دلیل قطعی ہیں، کہ یہ سب احکام شریعت میں مقصود اور واجب ہیں، محض مشورہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 241–242

وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ ، ان ہی الفاظ کے ساتھ ایک آیت سابق میں گذر چکی ہے مگر وہاں مطلقات سے وہ عورتیں مراد تھیں کہ جن کو قبل الدخول طلاق دیدی گئی ہو، اگر مہر متعین نہیں تھا تو متعہ کے ذریعہ فائدہ پہنچانا مراد ہے اور اگر مہر متعین تھا تو نصف مہر مراد ہے۔ اس آیت میں ان عورتوں کو فائدہ پہنچانا مراد ہے جن سے خلوت صحیحہ یا وطی ہوچکی ہے اس کے بعد طلاق دی ہے اگر مہر متعین تھا تو فائدہ کا مطلب ہوگا پورا مہر دینا اور جن کا مہر متعین نہیں ہے ان کو فائدہ پہنچانے کا مطلب ہے کہ مثل مہر دیا جائے۔ (خلاصۃ التفاسیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

كَذٰلِكَ ( اسی طرح) یہ اس طرف اشارہ ہے جو طلاق اور عدت کے احکام پہلے گذر چکے ہیں۔ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ ( اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے) یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے (فائدہ کے) لیے عنقریب وہ دلائل اور احکام بیان کریگا جن کی انہیں معاش اور معاد ( دونوں) کے لیے ضرورت ہوگی۔ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ( تاکہ تم سمجھو) اور ان میں عقل کو کام میں لاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 241–242

(241۔ 242) ان عورتوں کو کچھ فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا مقرر ہوا ہے، واجب نہیں کیوں کہ یہ بطور احسان کے حق مہر کے علاوہ ہے، اسی طرح حق تعالیٰ احکام الہی کو بیان کرتا ہے، جیسا کہ ان چیزوں کو بیان کیا ہے تاکہ تم اللہ کے حکموں کو سمجھو۔ شان نزول : (آیت) ”وللمطلقت متاع بالمعروف“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے ابن زید ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت کریمہ ”۔ ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ“۔ نازل ہوئی تو اس پر ایک شخص کہنے لگا کہ اگر اس نے بھلائی کی تو میں بھی ایسا کروں گا اور اگر اس نے بھلائی دیکھنے میں نہ آئی تو میں یہ سلوک نہیں کروں گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 241–242

آیت نمبر : 241 تا 242۔ اس آیت میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے، ابو ثور (رح) نے کہا ہے : یہ محکم آیت ہے اور متعہ ہر مطلقہ عورت کے لئے لازم ہے اسی طرح زہری نے کہا ہے (زہری نے کہا) یہاں تک کہ ایسی لونڈی کے لئے بھی جسے اس کا خاوند طلاق دے دیتا ہے۔ اسی طرح حضرت سعید بن جبیر ؓ نے کہا ہے، ہر مطلقہ کے لئے متعہ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 326 دارالکتب العلمیہ) اور اس آیت کی وجہ سے یہی امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک ہے۔ اور امام مالک نے کہا ہے : ہر مطلقہ کے لئے متعہ ہے چاہے اسے دو طلاقیں ہوں یا ایک طلاق وہ اس کے پاس جائے یا نہ جائے اس کے لئے مہر مقرر کرے یا نہ کرے، سوائے اس عورت کے جس کے پاس جانے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) ” متاعا بالمعروف حقا علی المحسنین “ نازل ہوئی تو ایک آدمی نے کہا اگر میں احسان کروں گا۔ تو ایسا کرلوں گا اور اگر میں نے احسان کا ارادہ نہ کیا تو نہ کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” وللمطلقت متاع بالمعروف، حقا علی المتقین “ (2) ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بعد والی آیت کو منسوخ کردیا (یعنی) لفظ آیت ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم “ (البقرہ آیت 237) نے ” وللمطلقات متاعا بالمعروف “ کو منسوخ کردیا۔ (3) عتاب بن خصیف (رح) نے لفظ آیت ” وللمطلقات متاع “ کے بارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ کَذٰلِکَ : اس طرح ] [ یُـبَـیِّنُ : واضح کرتا ہے ] [ اللّٰـہُ : اللہ ] [ لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [ اٰیٰتِہٖ : اپنی نشانیوں (یعنی ہدایات) کو ] [ لَـعَلَّـکُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَعْقِلُوْنَ : عقل (استعمال) کرو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 241–242

مطلقہ عورتوں کو متعہ دینے کی تاکید جن عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی جائے اور مہر مقرر نہ کیا گیا ہو ان کے لیے متعہ دینے کا حکم عنقریب گزر چکا ہے۔ اس آیت میں فرمایا کہ طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے نفع پہنچانا ہے، اس سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں بعض مفسرین نے تو یہ فرمایا ہے کہ اس سے پہلے جن عورتوں کو متعہ یعنی تین کپڑے دینے کا حکم ہوا تھا اس کو یہاں بطور تاکید دوبارہ بیان فرمایا ہے۔ صاحب روح المعانی ص 160 ج 2 لکھتے ہیں کہ اس کی تعیین اس روایت سے ہوتی ہے جو ابن جریر نے ابن زید سے روایت کی ہے اور وہ یہ کہ جب لفظ (حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ) نازل ہوا تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو احسان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 240–242

حکم سی وچہارم۔ وصیت برائے سکونت بیوہ۔ قال تعالی، والذین یتوفون منکم ویذرون۔۔۔ الی۔۔۔ عزیز حکیم۔ ربط) ۔ احکام معاشرت کے ضمن میں محافظت صلوات پر متنبہ فرمایا اب اس تنبیہ کے بعد پھر کچھ احکام بیان فرماتے ہیں گزشتہ آیات میں مطلقات کے متعہ کا ذکر تھا اب اس آیت میں بیوہ کے متعہ کے ذکر ہے اور جو لوگ تم میں سے اپنی عمر پوری کرکے دار دنیا سے دارآخرت کی طرف انتقال کرجائیں اور عورتوں کو دنیا میں چھوڑ جائیں تو ان پر یہ شرعا واجب ہے کہ وہ بیبیوں کے لیے ایک سال تک خرچ دینے کی وصیت کرجائیں اس طرح کہ وہ عورتیں انہیں کے مکان میں رہیں اور ایک سال تک ان کو نان نفقہ ملتا رہے بغیر اس کے کہ ان کو ایک سال کے اندر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 241–242

ف 475” متاع “ کا یہ حکم تمام مطلقات کے لیے ہے اور یہ حکم استحبابی ہے البتہ جس عورت کو دخول سے پہلے طلاق ہوجائے اور اس کا مہر مقرر نہ ہو اس کو متعہ کے کپڑے دینے واجب ہیں جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ ” کذلک یبین اللہ لکم ایتہ لعلکم تعقلون “ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے معاش و معاشرت کے احکام کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم انہیں سمجھو اور سمجھ کر ان پر عمل کرو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 238–242

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں طلاق ، عدت اور حق مہر کے مسائل ذکر ہوئے ہیں۔ اب درمیان میں د و آیتیں نماز کے متعلق ہیں۔ اور اس کے بعد پھر طلاق اور عدت کے مسائل ہیں بظاہر ایک ہی نوعیت کے مسائل کے درمیان نماز کی یہ آیتیں بےربطہ معلوم ہوتی ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) اور بعض دیگر بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہاں پر یہ بات سمجھاناچاہتا ہے کہ دیکھو ، نکاح ، طلاق ، عدت کے مسائل میں مشغول ہو کر کہیں نماز سے غافل نہ ہوجانا۔ نکاح طلاق کے مسائل ہی ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ بعض اوقات گفتگو طول پکڑ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں تمہاری نماز نہیں چھوٹنی چاہئے اس کا ہر حال میں خیال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللہُ لَكُمْ اٰيٰتِہٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۝ 242 ۧ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 240–242

اس کے بعد پھر احکام عدت اور طلاق کو ذکر فرماتا ہے والذین یتوفون منکم سے جمہور مفسرین نے یہ کہا کہ ابتدائِ اسلام میں بیوہ عورت کی عدت ایک برس 1 ؎ تک تھی اور جب اس کے لیے میراث بھی نہ تھی تو خاوند کو حکم تھا کہ مرض الموت میں برس بھر کے خرچ اور مکان کی وصیت کر جائے۔ پھر یہ حکم اس آیت سے جو پہلے آئی ہے اربعۃ اشہر و عشر امنسوخ ہوگیا دو باتیں تھیں ایک خرچ سال بھر کا دوسرے مکان سال بھر رہنے کیلئے۔ اب آیت میراث نے جبکہ بیوہ کا حق آٹھواں یا چوتھا حصہ مقرر کردیا۔ وصیت کرنا بھی جاتا رہا اور اسی طرح 2 ؎ مکان دینا بھی امام ابوحنیفہ 3 ؎ 1 ؎ سال بھر خاوند کے گھر میں رہے اور کسی سے نکاح نہ کرے مگر اس کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 241–242

وَلِلْمُطَلَّـقَاتِ مَتَاعٌ م بِالْمَعْرُوْفِ ط حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ۔ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمْ اٰیٰـتِـہٖ لَعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ ع (اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق کچھ دینا دلانا ہے۔ یہ خدا سے ڈرنے والوں پر حق ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کو بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو) (241 تا 242) ” مطلقات کو کچھ دینے کا حکم اس سے پہلے بھی گزر چکا ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف یاددہانی کے لیے اعادہ مقصود ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ پہلا حکم ان عورتوں کے لیے تھا جنھیں خلوت سے پہلے طلاق دے دی گئی۔ ان میں سے ایک تو وہ مطلقہ ہے جس کا مہر مقرر نہیں کیا گیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 240–242

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ مضمون۔ جس عورت کا خاوند فوت ہوتے وقت وصیت کرجائے کہ اسے ایک سال گھر سے نہ نکالا جائے تو اس صورت میں اسے شوہر کے گھر رہنے اور نان و نفقہ کی ذمہ داریاں وارثوں پر ہوں گی۔ اگر وہ اپنے طور پر اپنے میکے یا کہیں اور رہنے کا انتظام کرے تو وارثوں پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس حکم کے بارے میں تمام مفسرین کا خیال ہے کہ جب بیوہ کو باضابطہ طور پر اس کے فوت شدہ خاوند کی وراثت میں حصہ دار بنا دیا گیا تو یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے احکام کے بارے میں ترمیم واضافہ کرنے کا حق رکھنے اور ان کی حکمت کو سمجھنے والا ہے۔ آخر میں پھر ہدایت کی جارہی ہے کہ مطلقہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 242 : کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ ٰایٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (اسی طرح اللہ تعالیٰ کھول کر آیات بیان کرتے ہیں تاکہ تم سمجھو) اگر اس سے مراد متعہ ہو تو مراد مطلقہ مذکورہ کے علاوہ ہے اور یہ متعہ مستحب ہے۔ تَعْقِلُوْنَ یہ محل رفع میں اول کی خبر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 241–242

(تفسیر) 241۔: (آیت)” وللمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین “۔ متعہ کے ذکر کا اعادہ اللہ تعالیٰ نے محض اضافی معنی کی خاطر کیا اور وہ اس طرح کہ اس آیت کے علاوہ اور جگہ اس عورت کا ذکر ہے جو کہ غیر ممسوسہ ہو یعنی جس کے ساتھ خاوند نے صحبت نہ کی ہو اور اس آیت کریمہ میں متعہ کے حوالے سے تمام مطلقہ عورتوں کا حکم مذکور ہے اور کہا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ۔ (آیت)” ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ “۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد تک (آیت)” حقا علی المحسنین “۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اگر میں احسان کا معاملہ کرنا چاہوں گا تو کروں گا (یعنی متعہ دوں گا) ورنہ نہیں پس اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 240–242

240 ۔ 242) ۔ ابتداء اسلام میں بیوہ عورت کے لئے یہ بس دن کی عدت کا حکم تھا چارہ مہینے دس دن کی عدت کے حکم کی آیت سے جو پیچھے گذر چکی اب یہ برس دن کی عدت کا حکم منسوخ ہے اور حقا علی المتقین اس آیت سے متعلق ہے چس میں نکاح کے بعدبغیر مباشرت کے ایسی عورت کو طلاق دینے کا ذکر تھا جن کا مہر نہ ٹھہرا ہو اس آیت میں حقاعلی المحسنین کا لفظ جب نازل ہوا تو بعض لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اگر ہم کو ایسی عورتوں پر احسان کرنا ہوگا تو ہم کچھ دیویں گے نہیں تو اس پر یہ ٹکڑا آیت کا نازل فرما کر فرمایا کہ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کو ایسی عورتوں کو ضرور کچھ دینا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی ہر طلاق یافتہ عورت کو مناسب فائدہ دینا اس کا حق ہے جو ہر متقی پر واجب ہے، تاکہ عورت کی دلجوئی ہوسکے اور اس کے بعض حقوق ادا ہوسکیں۔ جس عورت کو خلوت سے پہلے طلاق دی جائے اسے یہ متعہ ( مثلاً کپڑوں کا جو ڑایا کچھ رقم وغیرہ) دینا واجب ہے۔ دوسری صورت میں پورا حق مہر ادا کرنا واجب ہے جیسے پہلے بیان ہوا۔ اس مسئلہ میں یہ قول زیادہ بہتر ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہر عورت کو طلاق کے بعد متعہ دینا واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے۔ (اس میں کوئی تخصیص نہیں کی گئیض لیکن قانون یہ ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے اور پہلے بیان ہوچکا ہے کہ متعہ اس عورت کے لئے واجب ہے جسے خلوت سے پہلے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 240–243

طاعون سے بھاگ نکلنے کا بیان قول باری ہے (الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم، (a) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے موت کے خوف سے نکل پڑے حالانکہ ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا جائو۔ پھر انہیں زندہ کردیا) ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ان کی تعداد چار ہزار تھی اور یہ لوگ طاعون سے بھاگ نکلنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے پھر سب کے سب مرگئے۔ ان پر اللہ کے ایک نبی کا گذر ہوا۔ انہوں نے اللہ سے انہیں انہیں زندہ کردینے کی دعا کی ، اللہ نے انہیں زندہ کردیا۔ حسن بصری سے بھی منقول ہے کہ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

691 غور و فکر سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : اور تم اپنے بھلے اور فائدے کیلئے سوچو اور غور و فکر کرو، اور عقل و دانش سے کام لو، کہ یہ احکام الہی کس قدر اہم مصالح اور فوائد مشتمل ہیں۔ اور یہ کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ اس دنیا میں بھی۔ اور اس کے بعد آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی۔ اور اس طرح تم لوگ ان کو دل و جان سے اپنا کر سعادت دارین سے سرفراز و بہرہ ور ہوسکو ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو عقل و فکر کا صحیح محمل و مصرف یہ ہے کہ انسان اپنے آغاز و انجام کے بارے میں سوچے، تاکہ اس طرح وہ اپنے خالق ومالک کو پہچان سکے اور اس کے نتیجے میں وہ حق و ہدایت کی اس راہ کو اپنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 240–242

بیوہ کے لیے وصیت تشریح : یہ ازدواجی مسائل کی آخری رہنمائی ہے اس میں حکم ہوا کہ شوہر اپنے آخری وقت میں بیوی کے لیے اپنے وارثوں کو وصیت کر جائے کہ اس کی بیوہ کو ایک سال تک گھر سے نہ نکالا جائے اور وہ مراعات کی حقدار ہوگی مہر مقرر ہوچکا ہو یا نکاح کے وقت مہر کی صراحت نہ ہوئی ہو۔ ہر حال میں اسلام حسن سلوک اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے بعد میں عورت کا حصہ اور عدت مقرر کردی گئی۔ بعض مفسرین نے ان آیات کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اگلی آیات میں جہاد اور مالی قربانیوں کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 236–242

آیات 236- 242 اسرارو معارف لاجناح علیکم…………………لعلکم تعقلون۔ یہاں طلاق کی ایک اور صورت ارشاد ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دے دے اور پھر اس میں بھی دو صورتیں مہر کی ہیں یا تو مہر مقرر ہوگا اور یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں ہے تو اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرو کہ انہیں کچھ خرچ دے دو ۔ صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق دیں۔ روایت ہے کہ حضرت حسن ؓ نے ایک ایسی طلاق کی صورت میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار درہم دیئے تھے اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑوں کا دے دے۔ لفظ متعہ کا معنی : یہاں لفظ ” متعہ “ واضح طور پر اس عورت کو گزارے کے لئے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 242–243

۔5 یہ لوگ کون تھے اور کہاں سے نکلے تھے اس بارے میں آنحضرت ﷺ سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہے البتہ حضرت ابن عباس ؓ اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اسرائلی تھے۔ جہاد میں قتل کے خوف یا طاعون سے بچنے کے لیے اپنے شہر سے بھاگے جن ایک مقام پر پہنچے تو اللہ کے حکم سے سب مرگئے، اتفاق سے اللہ تعالیٰ کے ایک نبی وہاں سے گزر ہوا اس نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کیا۔ (قرطبی۔ رازی) یو آیت کے شرو میں لفظ الم تر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قصہ نزول آیت کے وقت عام طور پر مشہور و معروف تھا۔ (فتح القدیر) یہ قصہ قیامت یے روز معاد جسمانی کی قطعی دلیل ہے اور جہاں ذکر کرنے سے مقصد جہاد کی ترغیب ہے۔ صحیحین…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:242) کذلک۔ ک تشبیہ کا ہے۔ ذلک کا اشارہ ان احکام کی طرف ہے جو طلاق، عدت اور متعہ کے متعلق اوپر بیان ہوچکے ہیں۔ اسی طرح۔ یبین۔ مضارع واحد مذکر غائب تبیین (تفعیل) مصدر۔ کھول کر بیان کرنا۔ لعلکم تعقلون۔ عقل الشی ادر کہ علی حقیقتہ کسی شی کی حقیقت کو سمجھ لینا (معجم الوسیط) تدبر کرنا (المنجد) مطلب یہ کہ کسی شے پر غور و فکر اور تدبر کرکے اس کی حقیقت سمجھ لینا۔ آیت کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ جس طرح اللہ نے متذکرہ بالا احکام کھول کھول کر بیان کر دئیے ہیں اسی طرح وہ اپنے تمام احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم ان پر غور وفکر کرو۔ اور ان کی حقیقت کو سمجھ پاؤ۔ ایتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنی آیات۔ اپنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 240–242

لغات القرآن : آیت نمبر 240 تا 242 یذرون (وہ چھوڑ جائیں ) ۔ متاع (خرچ دینا) ۔ الی الحول (ایک سال تک) ۔ غیر اخراج (نہ نکالنا) ۔ تشریح : آیت نمبر 240 تا 242 نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے زمانہ جاہلیت میں اگر کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو اس کی عدت ایک سال تک ہوا کرتی تھی، اس وقت تک عدت اور آیت میراث کے احکامات نازل نہیں ہوئے تھے۔ اسلام نے سب سے پہلے تو عورت کی عدت چار مہینے دس دن تک مقرر کردی چونکہ اس وقت تک میراث کی تقسیم سے متعلق احکامات نازل نہیں ہوئے تھے اس لئے یہ حکم دیا گیا کہ اگر عورت اپنی مصلحت سے خاوند کے ترکے کے گھر میں رہنا چاہے تو سال بھر تک اس کو رہنے دیا جائے اور ترکہ سے اس کے نان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 239–242

فائدہ : اوپر کی آیت میں محافظت نماز کا ذکر جو آیا اس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ دشمن کے خوف اور مقابلہ کے وقت بھی شاید یہی محافظت اوقات اور ارکان کی نماز میں قائم رہے گی۔ اس خیال کے رفع کرنے لے لئے آخر آیت میں یہ صلوٰۃ الخوف کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یعن لڑائی اور دشمن سے خوف کا وقت ہو تو لاچاری کو سواری پر اور پیادہ کی بھی اشارہ سے نماز درست ہے گو قبلہ کی طربھی منہ نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 238–242

[166] یعنی پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اس میں پانچوں نمازوں کی فرضیت کا بیان ہے۔ نیز اولاد و ازواج کے مسائل کے درمیان میں نماز کا ذکر فرمانا اس نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ نماز ہی وہ چیز ہے جو انسان کے دل میں اللہ کا خوف، نیکی و پاکیزگی کے جذبات اور احکام الٰہی کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہے اور اسے راستی پر قائم رکھتی ہے۔ [167] یعنی نماز عصر کہ یہ وقت دنیا کے کاروبار میں مشغول رہنے کا ہے۔ اسی وجہ سے اس نماز کی بڑی تاکید اور بڑی فضیلت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 242–243

(ف 1) اس سے پیشتر کی آیات میں قوم بنی اسرائیل کا واقعہ ذکر فرمایا ہے کہ کس طرح وہ جہاد سے ڈر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور کس طرح موت کے چنگل میں گرفتار ہوگئے اور پھر کیونکر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی بخشی مقصد یہ ہے کہ جہاد کی اہمیت بتلائی جاوے اور یہ بتلایا جاوے کہ موت بہرحال آنے والی چیز ہے ، اس سے مفر نہیں ، اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ موت خدا کی راہ میں آئے ۔ اس کے بعد دعوت جہاد ہے اور اس کا ذکر ہے ، کہ خدا کو قرض دو ، تاکہ قیامت کے دن اسے کئی گنا زیادہ کرکے تمہیں اجر کی صورت میں بدل دے ۔ اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے ۔ اسے ہمارے مال و دولت کی ضرورت نہیں ، اس کے خزانے بھرے پڑے ہیں ، البتہ ہمیں توشہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 241–242

ف 2 اور سب مطلقہ عورتوں کے لئے دستور کے مطابق متاع یعنی فائدہ پہنچانا اور سلوک کرنا ہے اور یہ متاع ان لوگوں پر ایک حق ہے جو کفر و شرک سے بچنے والے ہیں یعنی مسلمان ہیں ۔ خواہ یہ حق و جو بی ہو یا اس کا پورا کرنا مستحب ہو۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے تا کہ تم عقل سے کام لو اور ان احکام کو سمجھو اور عمل کرو۔ ( تیسیر) ہم نے اوپر متعلقہ عورتوں کی چار قسمیں بیان کی تھیں ۔ دو کا حکم بیان ہوچکا۔ باقی دو کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے چونکہ اس آیت کا مضمون اوپر والی آیتوں کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے اس لئے ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں اور سب مطلقہ عورتیں کہا ہے کیونکہ پہلی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 240–244

ف 4۔ جب آیت میراث نازل ہوگئی گھر بار سب ترکہ میں سے عورت کا حق مل گیا اور یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ 5۔ یہاں ایک عجیب نکتہ قابل توجہ یہ ہے کہ احکام نکاح و طلاق میں جابجا اتقواللہ اور حدود اللہ اور سمیع علیم وارعزیز حکیم اور بصیر اور فقد ظلم نفسہ وغیرہا کا ذکر آنا دلیل قطعی ہے کہ یہ سب احکام شریعت میں مقصود اور واجب ہیں۔ بطور مشورہ کے نہیں جن میں ترمیم و تبدیل کرنے کا یا عمل نہ کرنے کا ہم نعوذ باللہ اختیار حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

گزشتہ احکام کی تاکید مزید کا پیارا انداز : 408: فرمایا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ آیات میں معاشرتی زندگی کی اکائی کے متعلق تم کو مختلف احکام دیئے گئے ہیں ، ان احکام میں ذرا غور و فکر اور عقل و تدبر سے کام لو گے تو تمہارے لیے اجتماعی زندگی کے قانون بھی اسی سے استنباط ہو سکیں گے اور پھر ان خاص احکام میں بھی ازدواجی زندگی کے قائم کرنے اور منقطع کرنے کے مختلف طریقے اور صورتیں بیان کی گئی ہیں جن میں کسی قسم کا ابہام نہیں بلکہ ہم نے اپنی آیتیں واضح کردی ہیں ۔ تاہم کوئی بات کتنی ہی واضح کیوں نہ ہو ، پیچیدگیاں پیدا کرنے والے کوئی نہ کوئی حجت نکال ہی لیتے ہیں۔ عقل والوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بات میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 241–242

Verse 241: The divorced women deserve a benefit Providing compensatory benefits (` mata متاع `) for divorced women has also been dealt with in verses earlier than this, but that was restricted to two types of divorced women who were divorced before privacy and consummation. The first case of providing compensatory benefits was the giving of a set of clothes. The second case was of providing compensatory benefit in the form of half of the dower. Now remains the case of divorcees who were divorced after privacy and con-summation. Here, providing compensatory benefits to one whose dower has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 240–242

264. The main discourse has already come to an end (see verse 238 an n. 262 above.) These concluding remarks are supplementary,.

Read the full tafseer →