مطلقہ عورت کو فائدہ دینے کے بارے میں لوگ کہتے تھے کہ اگر ہم چاہیں دیں، چاہیں نہ دیں، اس پر یہ آیت اتری، اسی آیت سے بعض لوگوں نے ہر طلاق والی کو کچھ نہ کچھ دینا واجب قرار دیا، اور بعض دوسرے بزرگوں نے اسے ان عورتوں کے ساتھ مخصوص مانا ہے جن کا بیان پہلے گزر چکا ہے یعنی جن عورتوں سے صحبت نہ ہوئی اور مہر بھی نہ مقرر ہوا ہو اور طلاق دے دی جائے لیکن پہلی جماعت کا جواب یہ ہے کہ عام میں سے ایک خاص صورت کا ذکر کرنا اسی صورت کے ساتھ اس حکم کو مخصوص نہیں کرتا جیسا کہ مشہور اور منصوص مذہب ہے واللہ اعلم،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–242
سورة الْبَقَرَة 264
سلسلہ تقریر اوپر ختم ہوچکا تھا، یہ کلام اس کے تتمے اور ضمیمے کے طور پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
(2) وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ مطلقہ عورتوں کو متعہ یعنی فائدہ پہچانا اس سے پہلی آیات میں بھی آچکا ہے مگر وہ صرف دو قسم کی مطلقات کے لئے تھا جن کو صحبت وخلوت سے پہلے طلاق ہوگئی ہو ایک کو فائدہ پہنچانا یہ تھا کہ جوڑا دیا جائے دوسری کو فائدہ پہنچانا یہ تھا کہ آدھا مہر دیا جائے اب وہ طلاق والیاں رہ گئیں جن کو صحبت یا خلوت کے بعد طلاق دی جاوے سو ان میں جس کا مہر مقرر کیا گیا ہو اس کو فائدہ پہنچانا یہ ہے کہ پورا مہر دینا چاہئے اور جس کا مہر مقرر نہ کیا جاوے اس کے لئے بعد دخول کے مہر مثل واجب ہے یہ متاع بمعنی مطلق فائدہ پہنچانا اس تفصیل سے تو واجب ہے اور اگر متاع سے مراد فائدہ خاص…
Read the full tafseer →صفات پر مبنی حقوق کا درجہ : اوپر آیت 236 میں مطلقہ عورتوں کو دے دلا کر رخصت کرنے کی جو ہدایت فرائی تھی آخر میں یہ پھر اس کی یاد دہانی کردی اور اس کو اہل تقوی پر ایک حق قرار دیا۔ جو حقوق وصفات و کردار پر مبنی ہوتے ہیں بعض حالات میں وہ اس دنیوی زندگی میں تو قانون کی گرفت کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں لیکن خدا کے ہاں ان صفات کے لیے وہ حقوق ہی معیار ٹھہریں گے۔ اگر ایک چیز مومنین یا محسنین یا متقین پر حق قرار دی گئی ہے تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ اسلام کا قانون اس دنیا میں اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کوئی گرفت نہ کرے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آخرت میں بھی ان کی خلاف ورزی پر کوئی اثر مترتب نہیں ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
241۔ 1 یہ حکم عام ہے جو ہر متعلقہ عورت کو شامل ہے اس میں تفریق کے وقت جس حسن سلوک کا اہتمام کرنے کی تاکید کی گئی ہے اس کے بیشمار معاشی فوائد ہیں کاش مسلمان اس نہایت ہی اہم نصیحت پر عمل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
162: مطلقہ عورتوں کو فائدہ پہنچانے کا لفظ بڑا عام ہے اس میں عدت کے دوران کا نفقہ بھی داخل ہے اور اگر ابھی مہر نہ دیا گیا ہو تو وہ بھی داخل ہے نیز اوپر آیت نمبر : 236 میں جس تحفے کا ذکر ہے وہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ تحفہ اس صورت میں بھی مستحب ہے کہ مطلقہ عورت کو مہر کے علاوہ یہ تحفہ بھی دیا جائے ان تمام احکام سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اول تو طلاق کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اقدام اسی وقت کرنا چاہیے جب کوئی اور صورت باقی نہ رہی ہو، دوسرے جب یہ اقدام کیا جائے تو نکاح کے تعلق کا اختتام بھی شرافت فراخ دلی اور احترام سے خوشگوار ماحول میں ہونا چاہیے، دشمنی کے ماحول میں نہیں۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں اللہ خوفی کی دعوت دیتے ہوئے حکم دیا گیا کہ ہر مطلقہ عورت کو رخصت کرتے وقت کچھ نہ کچھ سامان ضرور دیا جائے : وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ” جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر ۔ “
بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ چونکہ مطلقات کے بارے میں سابقہ آیات میں تفصیلی احکام آچکے ہیں ، اس لئے یہ آیت ان آیات کی وجہ سے منسوخ تصور ہوگی ۔ لیکن یہاں اسے منسوخ سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اس لئے کہ متاع یعنی کچھ نہ کچھ دے دینا نفقات واجبہ سے علیحدہ ایک چیز ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن مجید نے جو…
Read the full tafseer →6 پہلے خرچ یعنی جوڑا دینے کا حکم اس طلاق پر آچکا ہے کہ نہ مہر ٹھہرا ہو نہ زوج نے ہاتھ لگایا ہو اب اس آیت میں وہ حکم سب کے لئے آگیا مگر اتنا فرق ہے کہ سب طلاق والیوں کو جوڑا دینا مستحب ہے ضروری نہیں اور پہلی صورت میں ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
آیت 241 وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌم بالْمَعْرُوْفِ ط حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ۔
واضح رہے کہ یہ ہدایت عدت کے وقت تک کے لیے ہے ‘ اس کے بعد نہیں۔ اسی معاملے میں کلکتہ ہائی کو رٹ نے شاہ بانو کیس میں جو ایک فیصلہ دیا تھا اس پر ہندوستان میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ اس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ کوئی مسلمان اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ بیوی اگر تو دوسری شادی کرلے تب تو بات دوسری ہے ‘ ورنہ جب تک وہ زندہ رہے گی اس کا نان نفقہ طلاق دینے والے کے ذمے ّ رہے گا۔ اس پر بھارت کے مسلمانوں نے کہا کہ یہ ہماری شریعت میں دخل اندازی ہے ‘ شریعت نے مطلقہ کے لیے صرف عدت تک نان نفقہ کا حق رکھا ہے۔ چناچہ مسلمانوں نے اس…
Read the full tafseer →338 آیت نمبر 236 میں طلاق کے وقت کچھ دے دلا کر رخصت کرنے کا حکم صرف ایسی مطلقہ کے لیے ہے جس کا نہ تو حق مہر مقرر ہوا ہو۔ نہ ہی اس کے خاوند نے صحبت کی ہو اور وہ صحبت سے پیشتر ہی فوت ہوجائے۔ اب یہاں ایسا حکم ہر قسم کی مطلقہ کے لیے دیا جا رہا ہے اور اس کی تاکید بھی کردی گئی کہ پرہیزگاروں کا یہ شیوہ نہیں ہوتا کہ وہ طلاق دے کر مطلقہ کو خالی ہاتھ گھر سے نکال باہر کریں۔
Read the full tafseer →914 ۔ (کسی نہ کسی درجہ میں) مطلب یہ ہے کہ جس عورت کو طلاق دی ایک سہ ماہی کی مدت مقرر کی ہے کہ اتنی مدت تک کھانے پہننے اور رہنے سہنے کا انتظام شوہر پر واجب ہے مطلقہ پر تینوں طلاقیں اگر ابھی نہیں پڑی ہیں، جب تو یہ حکم متفق علیہ ہے، اور اگر پڑچکی ہیں تو حنفیہ کے ہاں جب بھی یہی حکم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ ، ان ہی الفاظ کے ساتھ ایک آیت سابق میں گذر چکی ہے مگر وہاں مطلقات سے وہ عورتیں مراد تھیں کہ جن کو قبل الدخول طلاق دیدی گئی ہو، اگر مہر متعین نہیں تھا تو متعہ کے ذریعہ فائدہ پہنچانا مراد ہے اور اگر مہر متعین تھا تو نصف مہر مراد ہے۔ اس آیت میں ان عورتوں کو فائدہ پہنچانا مراد ہے جن سے خلوت صحیحہ یا وطی ہوچکی ہے اس کے بعد طلاق دی ہے اگر مہر متعین تھا تو فائدہ کا مطلب ہوگا پورا مہر دینا اور جن کا مہر متعین نہیں ہے ان کو فائدہ پہنچانے کا مطلب ہے کہ مثل مہر دیا جائے۔ (خلاصۃ التفاسیر)
Read the full tafseer →وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ ( اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ان کو دستور کے مطابق فائدہ پہنچانا) یعنی دولتمند پر اس کی حیثیت کے موافق اور تنگدست پر اس کی حیثیت کے موافق واجب ہے۔
حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ ( یہ ان لوگوں پر لازم ہے جو ( شرک سے) پرہیز کرنے والے ہیں) بعض کہتے ہیں کہ اس آیت میں متاع سے مراد ایام عدت کا نفقہ ہے اور یہی مراد اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول میں ہے اور ان دونوں آیتوں کے ایک معنی مراد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں یعنی موت میں طلاق میں عورت شوہر کے حقوق کی وجہ سے مقید رہتی ہے اس لیے شوہر کے مال میں سے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
(241۔ 242) ان عورتوں کو کچھ فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا مقرر ہوا ہے، واجب نہیں کیوں کہ یہ بطور احسان کے حق مہر کے علاوہ ہے، اسی طرح حق تعالیٰ احکام الہی کو بیان کرتا ہے، جیسا کہ ان چیزوں کو بیان کیا ہے تاکہ تم اللہ کے حکموں کو سمجھو۔
شان نزول : (آیت) ”وللمطلقت متاع بالمعروف“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے ابن زید ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت کریمہ ”۔ ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ“۔ نازل ہوئی تو اس پر ایک شخص کہنے لگا کہ اگر اس نے بھلائی کی تو میں بھی ایسا کروں گا اور اگر اس نے بھلائی دیکھنے میں نہ آئی تو میں یہ سلوک نہیں کروں گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی…
Read the full tafseer →سورة بقرہ کی آیت (236) میں ان مطلقہ عورتوں کو سامان دینے کا حکم تھا جنھیں نہ خاوند نے ہاتھ لگایا ہو اور نہ مہر مقرر ہوا ہو، جبکہ اس آیت میں تمام مطلقہ عورتوں کو اچھے طریقے سے کچھ سامان، کپڑوں کا جوڑا وغیرہ دے کر رخصت کرنے کا حکم ہے، تاکہ عورت کی کچھ دل جوئی ہوجائے۔ یہ احسان کا تقاضا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
آیت نمبر : 241 تا 242۔
اس آیت میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے، ابو ثور (رح) نے کہا ہے : یہ محکم آیت ہے اور متعہ ہر مطلقہ عورت کے لئے لازم ہے اسی طرح زہری نے کہا ہے (زہری نے کہا) یہاں تک کہ ایسی لونڈی کے لئے بھی جسے اس کا خاوند طلاق دے دیتا ہے۔ اسی طرح حضرت سعید بن جبیر ؓ نے کہا ہے، ہر مطلقہ کے لئے متعہ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 326 دارالکتب العلمیہ) اور اس آیت کی وجہ سے یہی امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک ہے۔
اور امام مالک نے کہا ہے : ہر مطلقہ کے لئے متعہ ہے چاہے اسے دو طلاقیں ہوں یا ایک طلاق وہ اس کے پاس جائے یا نہ جائے اس کے لئے مہر مقرر کرے یا نہ کرے، سوائے اس عورت کے جس کے پاس جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–241
(1) بخاری، بیہقی نے سنن میں ابن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عثمان بن عفان ؓ سے عرض کیا کہپ لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا “ اس آیت (کے حکم) کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا۔ پھر تم اس کو کیوں لکھتے ہو یا آپ اس کو کیوں نہیں چھوڑتے۔ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اے میرے بھتیجے میں اس کہ جگہ سے کسی چیز کو نہیں بدلتا۔
(2) ابن ابی حاتم نے عطاء سے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عورت جس کا خاوند مرجاتا ہے۔ اس عورت کا نفقہ اور اس کی رہائش (خاوند کے) گھر ایک سال تک ہوتی تھی۔ پھر میراث والی آیت نے اس (آیت کے حکم) کو منسوخ کردیا۔ اب ان کے لئے چوتھائی یا…
Read the full tafseer →[ وَلِلْمُطَلَّقٰتِ : اور طلاق دی ہوئی خواتین کے لیے ] [ مَتَاعٌ : کچھ برتنے کا سامان (دینا) ہے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق ] [ حَقًّا : حق ہوتے ہوئے ] [ عَلَی الْمُتَّقِیْنَ : تقویٰ کرنے والوں پر ]
ترکیب : ” مُطَلَّقٰتِ “ اسم المفعول ہے اور یہ قائم مقام خبر مقدم ہے۔ ” مَتَاعٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ ” بِالْمَعْرُوْفِ “ متعلق خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
مطلقہ عورتوں کو متعہ دینے کی تاکید
جن عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی جائے اور مہر مقرر نہ کیا گیا ہو ان کے لیے متعہ دینے کا حکم عنقریب گزر چکا ہے۔ اس آیت میں فرمایا کہ طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے نفع پہنچانا ہے، اس سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں بعض مفسرین نے تو یہ فرمایا ہے کہ اس سے پہلے جن عورتوں کو متعہ یعنی تین کپڑے دینے کا حکم ہوا تھا اس کو یہاں بطور تاکید دوبارہ بیان فرمایا ہے۔ صاحب روح المعانی ص 160 ج 2 لکھتے ہیں کہ اس کی تعیین اس روایت سے ہوتی ہے جو ابن جریر نے ابن زید سے روایت کی ہے اور وہ یہ کہ جب لفظ (حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ) نازل ہوا تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو احسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–242
حکم سی وچہارم۔ وصیت برائے سکونت بیوہ۔
قال تعالی، والذین یتوفون منکم ویذرون۔۔۔ الی۔۔۔ عزیز حکیم۔
ربط) ۔ احکام معاشرت کے ضمن میں محافظت صلوات پر متنبہ فرمایا اب اس تنبیہ کے بعد پھر کچھ احکام بیان فرماتے ہیں گزشتہ آیات میں مطلقات کے متعہ کا ذکر تھا اب اس آیت میں بیوہ کے متعہ کے ذکر ہے اور جو لوگ تم میں سے اپنی عمر پوری کرکے دار دنیا سے دارآخرت کی طرف انتقال کرجائیں اور عورتوں کو دنیا میں چھوڑ جائیں تو ان پر یہ شرعا واجب ہے کہ وہ بیبیوں کے لیے ایک سال تک خرچ دینے کی وصیت کرجائیں اس طرح کہ وہ عورتیں انہیں کے مکان میں رہیں اور ایک سال تک ان کو نان نفقہ ملتا رہے بغیر اس کے کہ ان کو ایک سال کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
ف 475” متاع “ کا یہ حکم تمام مطلقات کے لیے ہے اور یہ حکم استحبابی ہے البتہ جس عورت کو دخول سے پہلے طلاق ہوجائے اور اس کا مہر مقرر نہ ہو اس کو متعہ کے کپڑے دینے واجب ہیں جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ ” کذلک یبین اللہ لکم ایتہ لعلکم تعقلون “ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے معاش و معاشرت کے احکام کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم انہیں سمجھو اور سمجھ کر ان پر عمل کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–242
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں طلاق ، عدت اور حق مہر کے مسائل ذکر ہوئے ہیں۔ اب درمیان میں د و آیتیں نماز کے متعلق ہیں۔ اور اس کے بعد پھر طلاق اور عدت کے مسائل ہیں بظاہر ایک ہی نوعیت کے مسائل کے درمیان نماز کی یہ آیتیں بےربطہ معلوم ہوتی ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) اور بعض دیگر بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہاں پر یہ بات سمجھاناچاہتا ہے کہ دیکھو ، نکاح ، طلاق ، عدت کے مسائل میں مشغول ہو کر کہیں نماز سے غافل نہ ہوجانا۔ نکاح طلاق کے مسائل ہی ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ بعض اوقات گفتگو طول پکڑ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں تمہاری نماز نہیں چھوٹنی چاہئے اس کا ہر حال میں خیال…
Read the full tafseer →وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ 0 ۭ حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ 241
طلق
أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1]
( ط ل ق )
ا لطلاق دراصل اس کے معنی کسی بندھن سے آزاد کرنا کے ہیں ۔ محاورہ الطلقت البعر من عقالہ وطلقۃ میں نے اونٹ کا پائے بند کھول دیا طالق وطلق وہ اونٹ جو مقید نہ ہو اسی سے خلی تھا کی طرح طلقت المرءۃ کا محاورہ مستعار ہے یعنی میں نے اپنی عورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–242
اس کے بعد پھر احکام عدت اور طلاق کو ذکر فرماتا ہے والذین یتوفون منکم سے جمہور مفسرین نے یہ کہا کہ ابتدائِ اسلام میں بیوہ عورت کی عدت ایک برس 1 ؎ تک تھی اور جب اس کے لیے میراث بھی نہ تھی تو خاوند کو حکم تھا کہ مرض الموت میں برس بھر کے خرچ اور مکان کی وصیت کر جائے۔ پھر یہ حکم اس آیت سے جو پہلے آئی ہے اربعۃ اشہر و عشر امنسوخ ہوگیا دو باتیں تھیں ایک خرچ سال بھر کا دوسرے مکان سال بھر رہنے کیلئے۔ اب آیت میراث نے جبکہ بیوہ کا حق آٹھواں یا چوتھا حصہ مقرر کردیا۔ وصیت کرنا بھی جاتا رہا اور اسی طرح 2 ؎ مکان دینا بھی امام ابوحنیفہ 3 ؎
1 ؎ سال بھر خاوند کے گھر میں رہے اور کسی سے نکاح نہ کرے مگر اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
وَلِلْمُطَلَّـقَاتِ مَتَاعٌ م بِالْمَعْرُوْفِ ط حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ۔ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمْ اٰیٰـتِـہٖ لَعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ ع
(اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق کچھ دینا دلانا ہے۔ یہ خدا سے ڈرنے والوں پر حق ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کو بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو) (241 تا 242)
” مطلقات کو کچھ دینے کا حکم اس سے پہلے بھی گزر چکا ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صرف یاددہانی کے لیے اعادہ مقصود ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ پہلا حکم ان عورتوں کے لیے تھا جنھیں خلوت سے پہلے طلاق دے دی گئی۔ ان میں سے ایک تو وہ مطلقہ ہے جس کا مہر مقرر نہیں کیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–242
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ مضمون۔
جس عورت کا خاوند فوت ہوتے وقت وصیت کرجائے کہ اسے ایک سال گھر سے نہ نکالا جائے تو اس صورت میں اسے شوہر کے گھر رہنے اور نان و نفقہ کی ذمہ داریاں وارثوں پر ہوں گی۔ اگر وہ اپنے طور پر اپنے میکے یا کہیں اور رہنے کا انتظام کرے تو وارثوں پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس حکم کے بارے میں تمام مفسرین کا خیال ہے کہ جب بیوہ کو باضابطہ طور پر اس کے فوت شدہ خاوند کی وراثت میں حصہ دار بنا دیا گیا تو یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے احکام کے بارے میں ترمیم واضافہ کرنے کا حق رکھنے اور ان کی حکمت کو سمجھنے والا ہے۔ آخر میں پھر ہدایت کی جارہی ہے کہ مطلقہ…
Read the full tafseer →آیت 241:
وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌم (مطلقہ عورتوں کو فائدہ دینا ہے) یعنی عدت کا نفقہ۔
بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ (دستور کے موافق یہ حق ہے متقین پر) حَقًّا یہ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
(تفسیر) 241۔:
(آیت)” وللمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین “۔ متعہ کے ذکر کا اعادہ اللہ تعالیٰ نے محض اضافی معنی کی خاطر کیا اور وہ اس طرح کہ اس آیت کے علاوہ اور جگہ اس عورت کا ذکر ہے جو کہ غیر ممسوسہ ہو یعنی جس کے ساتھ خاوند نے صحبت نہ کی ہو اور اس آیت کریمہ میں متعہ کے حوالے سے تمام مطلقہ عورتوں کا حکم مذکور ہے اور کہا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ۔ (آیت)” ومتعوھن علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ “۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد تک (آیت)” حقا علی المحسنین “۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ اگر میں احسان کا معاملہ کرنا چاہوں گا تو کروں گا (یعنی متعہ دوں گا) ورنہ نہیں پس اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–242
240 ۔ 242) ۔ ابتداء اسلام میں بیوہ عورت کے لئے یہ بس دن کی عدت کا حکم تھا چارہ مہینے دس دن کی عدت کے حکم کی آیت سے جو پیچھے گذر چکی اب یہ برس دن کی عدت کا حکم منسوخ ہے اور حقا علی المتقین اس آیت سے متعلق ہے چس میں نکاح کے بعدبغیر مباشرت کے ایسی عورت کو طلاق دینے کا ذکر تھا جن کا مہر نہ ٹھہرا ہو اس آیت میں حقاعلی المحسنین کا لفظ جب نازل ہوا تو بعض لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اگر ہم کو ایسی عورتوں پر احسان کرنا ہوگا تو ہم کچھ دیویں گے نہیں تو اس پر یہ ٹکڑا آیت کا نازل فرما کر فرمایا کہ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کو ایسی عورتوں کو ضرور کچھ دینا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–241
مطلب یہ ہے کہ جو مرد فوت ہوجاتے ہیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، تو مرنے سے پہلے ان کے لئے ضروری ہے : (آیت) وَّصِيَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ ۚ ” اپنی بیویوں کے حق میں وصیت کر جائیں سال بھر فائدہ اٹھانے کی، اور یہ کہ انہیں کوئی نہ نکالے۔ “ یعنی انہیں چاہیے کہ بیویوں کو سال بھر ان (شوہروں) کے گھروں میں رہنے کی وصیت کر جائیں۔ اس مدت میں عورتیں وہاں سے نکلیں۔ : (آیت) فَاِنْ خَرَجْنَ ” پس اگر وہ خود نکل جائیں۔ “ : (آیت) فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ” تو (اے وارثو ! ) تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں۔ “ : (آیت) فِيْ مَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–243
طاعون سے بھاگ نکلنے کا بیان
قول باری ہے (الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم، (a) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے موت کے خوف سے نکل پڑے حالانکہ ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا جائو۔ پھر انہیں زندہ کردیا) ۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ان کی تعداد چار ہزار تھی اور یہ لوگ طاعون سے بھاگ نکلنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے پھر سب کے سب مرگئے۔ ان پر اللہ کے ایک نبی کا گذر ہوا۔ انہوں نے اللہ سے انہیں انہیں زندہ کردینے کی دعا کی ، اللہ نے انہیں زندہ کردیا۔ حسن بصری سے بھی منقول ہے کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–241
688 بیوہ کیلئے وصیت کا عارضی حکم : یعنی خاوند کے ذمے لازم ہے کہ اپنی وصیت میں اس کی تصریح کر دے کہ سال بھر تک ان کو گھر سے نہیں نکالا جائیگا، اور اس دوران اس کو نان و نفقہ دیا جاتا رہے گا۔ سو جمہور کے نزدیک یہ حکم عارضی اور شروع کا ہے جبکہ مرنے والوں کے اقارب و رشتہ داروں کے حصے مقرر نہیں کیے گئے تھے۔ مگر بعد میں جب آیت میراث نازل ہوگئی اور اس میں سب کے حصے مقرر کردیئے گئے تو بیوہ کیلئے وصیت کا یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا جبکہ بعض حضرات اہل علم کا کہنا ہے کہ وصیت ازواج کا یہ حکم منسوخ نہیں محکم ہے۔ اور یہ اب بھی باقی ہے لیکن یہ وجوب کیلئے نہیں بلکہ بطور استجاب ہے۔ اور یہی مروی ہے مجاہد سے۔ (معارف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–242
بیوہ کے لیے وصیت
تشریح : یہ ازدواجی مسائل کی آخری رہنمائی ہے اس میں حکم ہوا کہ شوہر اپنے آخری وقت میں بیوی کے لیے اپنے وارثوں کو وصیت کر جائے کہ اس کی بیوہ کو ایک سال تک گھر سے نہ نکالا جائے اور وہ مراعات کی حقدار ہوگی مہر مقرر ہوچکا ہو یا نکاح کے وقت مہر کی صراحت نہ ہوئی ہو۔ ہر حال میں اسلام حسن سلوک اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے بعد میں عورت کا حصہ اور عدت مقرر کردی گئی۔ بعض مفسرین نے ان آیات کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اگلی آیات میں جہاد اور مالی قربانیوں کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–242
آیات 236- 242
اسرارو معارف
لاجناح علیکم…………………لعلکم تعقلون۔
یہاں طلاق کی ایک اور صورت ارشاد ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دے دے اور پھر اس میں بھی دو صورتیں مہر کی ہیں یا تو مہر مقرر ہوگا اور یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں ہے تو اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرو کہ انہیں کچھ خرچ دے دو ۔ صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق دیں۔
روایت ہے کہ حضرت حسن ؓ نے ایک ایسی طلاق کی صورت میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار درہم دیئے تھے اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑوں کا دے دے۔
لفظ متعہ کا معنی :
یہاں لفظ ” متعہ “ واضح طور پر اس عورت کو گزارے کے لئے…
Read the full tafseer →ف 3 اوپر کی آیت 236 میں خاص صورت میں متعہ طلاق کا حکم تھا اب اس آیت میں ہر مطلقہ کے لیے متاع یعنی متعہ طلاق کا حکم دیا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلقہ عورت کو کچھ دے کر رخصت کرنا چاہیے تاہم اس کے وجوب پر ارتفاق نہیں ہے۔ ( درمنشور۔ ابن کثیر) یہاں تک نکاح و طلاق وغیرہ سے متعلقہ مسائل ختم ہوئے۔ (موضح) آخر میں ان معا شرتی مسائل کی اہمیت کے پیش نظر اہل عقل کو مخاطب کیا ہے
Read the full tafseer →(2:241) وللمطلقت۔ لام استحقاق کا ہے المطلقت جمع ہے المطلقۃ کی جو اسم مفعول واحد مؤنث بمعنی طلاق دی گئی عورت ہے۔ یہاں المطلقت سے مراد جمیع مطلقات ہیں یعنی معروف قاعدہ کے مطابق جملہ مطلقہ عورتوں کو متعہ کا حق حاصل ہے۔
حقا علی المتقین۔ حقا۔ منصوب بوجہ مفعول مطلق کے ہے ملاحظہ ہو ،:238 متذکرہ بالا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ متعہ کا دینا متقین پر واجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–242
لغات القرآن : آیت نمبر 240 تا 242
یذرون (وہ چھوڑ جائیں ) ۔ متاع (خرچ دینا) ۔ الی الحول (ایک سال تک) ۔ غیر اخراج (نہ نکالنا) ۔
تشریح : آیت نمبر 240 تا 242
نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے زمانہ جاہلیت میں اگر کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو اس کی عدت ایک سال تک ہوا کرتی تھی، اس وقت تک عدت اور آیت میراث کے احکامات نازل نہیں ہوئے تھے۔ اسلام نے سب سے پہلے تو عورت کی عدت چار مہینے دس دن تک مقرر کردی چونکہ اس وقت تک میراث کی تقسیم سے متعلق احکامات نازل نہیں ہوئے تھے اس لئے یہ حکم دیا گیا کہ اگر عورت اپنی مصلحت سے خاوند کے ترکے کے گھر میں رہنا چاہے تو سال بھر تک اس کو رہنے دیا جائے اور ترکہ سے اس کے نان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 239–242
فائدہ : اوپر کی آیت میں محافظت نماز کا ذکر جو آیا اس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ دشمن کے خوف اور مقابلہ کے وقت بھی شاید یہی محافظت اوقات اور ارکان کی نماز میں قائم رہے گی۔ اس خیال کے رفع کرنے لے لئے آخر آیت میں یہ صلوٰۃ الخوف کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یعن لڑائی اور دشمن سے خوف کا وقت ہو تو لاچاری کو سواری پر اور پیادہ کی بھی اشارہ سے نماز درست ہے گو قبلہ کی طربھی منہ نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–242
[166] یعنی پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اس میں پانچوں نمازوں کی فرضیت کا بیان ہے۔ نیز اولاد و ازواج کے مسائل کے درمیان میں نماز کا ذکر فرمانا اس نتیجہ پر
پہنچاتا ہے کہ نماز ہی وہ چیز ہے جو انسان کے دل میں اللہ کا خوف، نیکی و پاکیزگی کے جذبات اور احکام الٰہی کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہے اور اسے راستی پر قائم رکھتی ہے۔
[167] یعنی نماز عصر کہ یہ وقت دنیا کے کاروبار میں مشغول رہنے کا ہے۔ اسی وجہ سے اس نماز کی بڑی تاکید اور بڑی فضیلت ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) (آیت) ” وللمطلقت متاع “۔ کے معنی ہیں کہ طلاق محض اختلاف رائے کا نتیجہ ہے ، کسی بغض وعناد کا نتیجہ نہیں ، یعنی اگر طلاق دو تو اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ تم بعض وجوہ کی بنا پر اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ نہ یہ کہ مطلقہ حسن سلوک کی مستحق نہیں رہی ، قرآن حکیم کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان بہرحال اخلاق عالیہ کا مظاہرہ کرے اور کسی حالت میں بھی حسن سلوک کی فضیلت کو فراموش نہ کرے ۔
حل لغات :
الوف : ہزاروں ، جمع الف ۔
حذر : خوف ، ڈر ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
ف 2 اور سب مطلقہ عورتوں کے لئے دستور کے مطابق متاع یعنی فائدہ پہنچانا اور سلوک کرنا ہے اور یہ متاع ان لوگوں پر ایک حق ہے جو کفر و شرک سے بچنے والے ہیں یعنی مسلمان ہیں ۔ خواہ یہ حق و جو بی ہو یا اس کا پورا کرنا مستحب ہو۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنے احکام صاف صاف بیان کرتا ہے تا کہ تم عقل سے کام لو اور ان احکام کو سمجھو اور عمل کرو۔ ( تیسیر)
ہم نے اوپر متعلقہ عورتوں کی چار قسمیں بیان کی تھیں ۔ دو کا حکم بیان ہوچکا۔ باقی دو کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے چونکہ اس آیت کا مضمون اوپر والی آیتوں کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے اس لئے ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں اور سب مطلقہ عورتیں کہا ہے کیونکہ پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–244
ف 4۔ جب آیت میراث نازل ہوگئی گھر بار سب ترکہ میں سے عورت کا حق مل گیا اور یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
5۔ یہاں ایک عجیب نکتہ قابل توجہ یہ ہے کہ احکام نکاح و طلاق میں جابجا اتقواللہ اور حدود اللہ اور سمیع علیم وارعزیز حکیم اور بصیر اور فقد ظلم نفسہ وغیرہا کا ذکر آنا دلیل قطعی ہے کہ یہ سب احکام شریعت میں مقصود اور واجب ہیں۔ بطور مشورہ کے نہیں جن میں ترمیم و تبدیل کرنے کا یا عمل نہ کرنے کا ہم نعوذ باللہ اختیار حاصل ہو۔
Read the full tafseer →طلاق دینے کے بعد بھی عورت کے فائدہ کا خیال رکھنا پرہیز گاری ہے :
407: طلاق کا مطلب ازدواجی زندگی کا انقطاع ہے کہ اب دونوں میاں بیوی نہیں رہے۔ ہر طلاق والی کی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کوئی عورت ایسے حالات رکھتی ہے کہ طلاق ہوجانے کے بعد بھی اس کے پاس دن گزارنے کے لئے اثاثہ موجود ہوتا ہے لیکن کوئی ایسی بھی ہو سکتی ہے کہ اس کے لئے ایک دن بھی گزارنا مشکل ہو۔ اب طلاق تو ہوگئی لیکن انسانی ہمدردی کے تحت جس نے طلاق دی ہے اس کا کوئی انتظام کر دے کہ وہ حالات کی سازگاری تک وقت گزار سکے تو یہ ایک اچھا اقدام ہے جس کا خیر مقدم کیا جائے گا اور یہ احسان اس طلاق دینے والے کا اس کی پرہیز گاری پر دال ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 241–242
Verse 241: The divorced women deserve a benefit
Providing compensatory benefits (` mata متاع `) for divorced women has also been dealt with in verses earlier than this, but that was restricted to two types of divorced women who were divorced before privacy and consummation. The first case of providing compensatory benefits was the giving of a set of clothes. The second case was of providing compensatory benefit in the form of half of the dower. Now remains the case of divorcees who were divorced after privacy and con-summation. Here, providing compensatory benefits to one whose dower has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 240–242
264. The main discourse has already come to an end (see verse 238 an n. 262 above.) These concluding remarks are supplementary,.
Read the full tafseer →