اللہ کی راہ میں خرچ کرو :
پھر پروردگار اپنے بندوں کو اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے جو جگہ بہ جگہ دی جاتی ہے، حدیث نزول میں بھی ہے کون ہے جو ایسے اللہ کو قرض دے جو نہ مفلس ہے نہ ظالم، اس آیت کو سن کر حضرت ابو الاصداح انصاری نے کہا تھا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض طلب فرماتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ فرمایا اپنا ہاتھ دیجئے، پھر ہاتھ میں ہاتھ لے کر کہا حضور ﷺ میں اپنا باغ جس میں چھ کھجور کے درخت ہیں اللہ کو قرض دیا اور وہاں سے سیدھے اپنے باغ میں آئے اور باہر ہی کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی کہ بچوں کو لے کر باہر آجاؤ میں نے یہ باغ اللہ کی راہ میں دے دیا ہے (ابن ابی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 267
”قرض حسن“ کا لفظی ترجمہ ”اچھا قرض“ ہے اور اس سے مراد ایسا قرض ہے، جو خالص نیکی کے جذبے سے بےغرضانہ کسی کو دیا جائے۔ اس طرح جو مال راہ خدا میں خرچ کیا جائے، اسے اللہ تعالیٰ اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ میں نہ صرف اصل ادا کر دوں گا، بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ دوں گا۔ البتہ شرط یہ ہے کہ وہ ہو قرض حسن، یعنی اپنی کسی نفسانی غرض کے لیے نہ دیا جائے، بلکہ محض اللہ کی خاطر ان کاموں میں صرف کیا جائے، جن کو وہ پسند کرتا ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
جہاد وغیرہ کار خیر میں انفاق کی ترغیب
کون شخص ہے (ایسا) جو اللہ تعالیٰ کو قرض دے اچھے طور پر قرض دینا (یعنی اخلاص کے ساتھ) پھر اللہ تعالیٰ اس (قرض کے ثواب) کو بڑھا کر بہت سے حصے کو دیوے اور (اس کا اندیشہ مت کرو کہ خرچ کرنے سے مال کم ہوجائے گا کیونکہ یہ تو) اللہ (ہی کے قبضہ میں ہے وہی) کمی کرتے ہیں (وہی) فراخی کرتے ہیں (کچھ خرچ کرنے نہ کرنے پر اس کا اصلی مدار نہیں) اور تم اسی کی طرف (بعد مرنے کے) لے جائے جاؤ گے (سو اس وقت نیک کام میں خرچ کرنے کی جزاء اور واجب موقع پر خرچ نہ کرنے کی سزا تم کو ملے گی)
معارف و مسائل
(1) مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا قرض سے مراد نیک عمل…
Read the full tafseer →انفاق کے لیے قرض کی تعبیر : جانی قربانی کی دعوت کے بعد یہ مالی قربانی کی دعوت ہے اور اس کے لیے جو اسلوب اختیار فرمایا ہے وہ غایت درجہ مؤثر ہے۔ اول تو سوال کا یہ انداز ہی کہ“ کون ہے جو خدا کو قرض دینے کے لیے آگے بڑھتا ہے ”غایت درجہ شوق انگیز ہے، پھر یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کنے کو ‘ قرض دینے ’ سے تعبیر فرمایا ہے۔ قرض، قرضدار کے ذمہ واجب ہوتا ہے اور یہ رب کریم کا کتنا بڑا احسان ہے کہ جو مال اس نے خود بندوں کو عنایت فرمایا ہے وہی مال وہ جب ان سے اپنی راہ میں خرچ کرنے کے لیے کہتا ہے تو اس کو اپنے ذمہ قرض ٹھہراتا ہے یعنی اس کی واپسی از خود اپنے ذمہ واجب قرار دیتا ہے۔ پھر اس سے زیادہ روح و دل کو…
Read the full tafseer →245۔ 1 قرض حسنہ سے مراد اللہ کی راہ میں اور جہاد میں مال خرچ کرنا یعنی جان کی طرح مالی قربانی میں بھی تامل مت کرو۔ رزق کی کشادگی اور کمی بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ دونوں طریقوں سے تمہاری آزمائش کرتا ہے کبھی رزق میں کمی کر کے اور کبھی اس میں فراوانی کر کے۔ پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے تو کمی بھی نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس میں کئی کئی گنا اضافہ فرماتا ہے کبھی ظاہری طور پر کبھی معنوی و روحانی طور پر اس میں برکت ڈال کر اور آخرت میں تو یقینا اس میں اضافہ حیران کن ہوگا۔
Read the full tafseer →164: اللہ کو قرض دینے سے مراد اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ہے، اس میں غریبوں کی امداد بھی داخل ہے اور جہاد کے مقاصد میں خرچ کرنا بھی ہے، اسے قرض مجازاً کہا گیا ہے ؛ کیونکہ اس کا بدلہ ثواب کی صورت میں دیا جائے گا، اور اچھے طریقے کا مطلب یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے دیا جائے، دکھاوا یا دنیا میں بدلہ لینا مقصود نہ ہو، اور اگر جہاد کے لئے یا کسی غریب کی مدد کے طور پر قرض ہی دیا جائے تو اس پر کسی سود کا مطالبہ نہ ہو، کفار اپنی جنگی ضروریات کے لئے سود پر قرض لیتے تھے، مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اگرچہ دنیا میں تو انہیں سود نہیں ملے گا ؛ لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ اس…
Read the full tafseer →جس طرح موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اگر اللہ نے زندگی لکھی ہوئی ہے تو موت آہی نہیں سکتی ، اسی طرح مال انفاق فی سبیل اللہ سے نہیں جاتا ۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے نام قرض حسن ہوتا ہے ۔ اللہ اس کا ضامن ہے اور وہ اس قرض کو بڑھا چڑھا کر کئی گنادے گا۔ دنیا میں بھی ایسے شخص کا مال بڑھے گا اسے سعادت و برکت نصیب ہوگی اور آخرت میں بھی سکون اور راحت نصیب ہوگی ۔ اور آخرت میں تو ایسے شخص کے لئے بیشمار سازوسامان اور انعام واکرام ہوگا۔ اسے اللہ کا قرب نصیب ہوگا اور اللہ راضی ہوگا۔
انسان حرص اور بخل کی وجہ سے غنی نہیں ہوتا۔ غنا وفقر تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ انفاق اور خرچ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–245
3 یعنی جب معلوم ہوچکا کہ اللہ کے حکم میں تمہاری جان اور مال ہے تو اب تم کو چاہیے کہ لڑو کافروں سے اللہ کے واسطے دین کے لئے جان لو کہ خدا تعالیٰ سنتا ہے بہانہ کرنیوالوں کی باتیں اور جانتا ہے ان کے منصوبوں کو اور چاہیے کہ خرچ کرو اللہ کے راستہ میں مال اور تنگی سے مت ڈرو کہ کشایش اور تنگی سب اس کے اختیار میں ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر سب کو جانا ہے۔ قرض حسنہ اسے کہتے ہیں جو قرض دیکر تقاضا نہ کرے اور اپنا احسان نہ رکھے اور بدلہ نہ چاہے اور اسے حقیر نہ سمجھے۔ اور خدا کو دینے سے جہاد میں خرچ کرنا مراد ہے یا محتاجوں کو دینا۔
Read the full tafseer →آیت 245 مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً ط
جو انفاق خالص اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے کیا جاتا ہے اسے اللہ اپنے ذمے ّ قرض حسنہ سے تعبیر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم میرے دین کو غالب کرنا چاہتے ہو ‘ میری حکومت قائم کرنا چاہتے ہو ‘ تو جو کچھ اس پر خرچ کرو گے وہ مجھ پر قرض ہے ‘ جسے میں کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کروں گا۔
وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُطُ اور اللہ تنگ دستی بھی دیتا ہے اور کشادگی بھی دیتا ہے۔
اللہ ہی کے اختیار میں ہے کسی چیز کو سکیڑ دینا اور کھول دینا ‘ کسی کے رزق کو تنگ کردینا یا اس میں کشائش کردینا۔
وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ
یہاں…
Read the full tafseer →342 قرض حسنہ سے مراد ایسا قرضہ ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے فقراء اوراقربا و مساکین کو دیا جائے اور ادائیگی کے لیے انہیں تنگ نہ کیا جائے، نہ ہی قرضہ دینے کے بعد انہیں جتلایا جائے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی بیگار لی جائے اور اگر مقروض فی الواقعہ تنگ دست اور ادائیگی سے معذور ہو تو اسے معاف ہی کردیا جائے اور اللہ کو قرض حسنہ دینے کا مفہوم اس سے وسیع ہے۔ جس میں انفاق فی سبیل اللہ کی تمام صورتیں آجاتی ہیں اور اس میں جہاد کی تیاری پر خرچ کرنا اور مجاہدین کی مالی امداد بھی شامل ہے اور مضمون کی مناسبت سے یہاں یہی صورت درست معلوم ہوتی ہے۔ ایسے قرضہ کو اللہ تعالیٰ سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک…
Read the full tafseer →925 ۔ یعنی اللہ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ خرچ کرے، جہاد و قتال کا حکم ابھی ملا ہے۔ قدرۃ سامان جنگ کے لیے امت اسلامیہ کو بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوگی، اس لیے پہلے ہی نمبر پر امراء ملت کو اس میں حصہ لینے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ (آیت) ” قرضا حسنا “ اصطلاح قرآنی میں اس لفظ سے مراد ہر وہ رقم ہے۔ جو دین کی کسی مد میں خرچ ہوسکے۔ یہاں مراد مصارف جہاد ہیں۔ اس ملی چندہ کو، قرض اور پھر قرض حسنہ سے تعبیر کرنا عین محاورۂ عرب کے مطابق ہے کہ اہل عرب ہر اچھے معاوضہ والے عمل کو اچھے قرض اور ہر برے معاوضہ والے عمل کو برے قرض سے تعبیر کرتے تھے، والعرب تقول لکل من فعل الیہ خیرا قد احسنت قرضی وقد اقرضتنی قرضا حسنا (تاج)…
Read the full tafseer →قرض حسن سے کیا مراد ہے ؟ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا، قرض حسن سے مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے یعنی جانی قربانی کی طرف مالی قربانی میں بھی تاویل نہ کرو رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ دونوں طریقوں سے تمہاری آزمائش کرتا ہے کبھی رزق میں کمی کرکے اور کبھی فروانی کرکے، پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کمی نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس میں کئی کئی گنا اضافہ فرماتا ہے کبھی ظاہری طور پر اور کبھی باطنی طور پر۔
Read the full tafseer →مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ ( ہے کوئی ایسا جو اللہ کو قرض دے) مَنْ مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور ذا اس کی خبر ہے اور اَلَّذِیْ ذَا کی صفت یا اس سے بدل ہے۔ لغت میں قرض کے معنی قطع کرنے کے ہیں اور ایک آدمی جو اپنے مال میں سے دوسرے کو اس لیے دیتا ہے تاکہ اس کی برابر پھر اس کے پاس آجائے تو اس کو بھی قرض اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں اس کے مال سے قطع ہونا پایا جاتا ہے اور یہاں قرض سے مراد یا تو اس کے حقیقی معنی ٰ ہیں پس اس کلام میں مضاف مقدر ہونے کی وجہ سے مجاز ہے یعنی (یقرض اللہ سے یہ مراد ہے کہ) یقرض عباد اللہ جیسا کہ ایک حدیث میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً آیا ہے کہ قیات کے دن اللہ…
Read the full tafseer →(245) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومنین کو صدقہ و خیرات کی ترغیب دی جو شخص صدقہ وثواب کی امید رکھ کر خلوص اور سچائی کے ساتھ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو بڑھا کر ہزاروں تک پہنچا دیتا ہے اور دنیا میں جس پر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے، مال کی تنگی اور فراخی کردیتا ہے اور مرنے کے بعد جب حاضری ہوگی تو وہ تمہارے اعمال کا ثواب دے گا، یہ آیت مبارکہ ایک انصاری شخص ابوالدحداح یا ابو الدحداحتہ کے بارے میں اتری ہے۔
شان نزول : من ذالذی یقرض اللہ“۔ (الخ)
ابن حبان ؒ نے اپنی صحیح میں اور ابن ابی حاتم ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ ”۔ مثل الذین ینفقون اموالھم“۔ (الخ)…
Read the full tafseer →(مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) اس سے پہلی آیت میں اللہ کے راستے میں لڑنے کا حکم تھا، اب جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ قرض حسن سے مراد یہ ہے کہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے مال خرچ کرے اور اس میں ریاکاری یا کسی کو ستانے اور اس پر احسان رکھنے کی نیت نہ ہو۔ اللہ کا کرم دیکھیے کہ خود ہی سب کچھ عطا کرکے بندوں سے مانگ رہا ہے اور اسے اپنے ذمے قرض قرار دے رہا ہے۔ سورة توبہ میں مال کے ساتھ جان کا بھی ذکر ہے، فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ) [ التوبۃ : 111 ] ”بیشک اللہ نے مومنوں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 245۔
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ جب اللہ تعالیٰ نے حق کی راہ پر جہاد اور قتال کرنے کا حکم ارشاد فرمایا کیونکہ شریعت میں سے کوئی شے (حکم) نہیں ہے مگر اس کی حفاظت اور اس کے دفاع میں قتال جائز ہوتا ہے اور ان میں عظیم تر دین اسلام ہے جیسا کہ امام مالک نے کہا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں (اپنا مال) خرچ کرنے پر برانگیختہ کیا، پس اس خبر میں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جنگ کرنے والا بھی داخل ہے (اور لشکر کی تیاری میں سامان خرچ کرنے والا بھی) کیونکہ وہ بھی ثواب کی امید پر یہ مال دیتا ہے جیسا کہ حضرت عثمان غنی ؓ نے جیش عسرہ…
Read the full tafseer →(1) سعید بن منصور، ابن سعد، البزار، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ “ نازل ہوئی تو ابو الدحداح انصاری ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض لینے کا ارادہ فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اے ابو الدحداح۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے اپنا ہاتھ دیجئے۔ آپ نے اپنا ہاتھ مبارک دے دیا تو اس نے کہا میں اپنے رب کو اپنا باغ قرض دیتا ہوں اور وہ باغ بھی جس میں چھ سو کھجوروں کے درخت ہیں اور اس میں ام الدحداح بھی ہے اور اس کے بچے بھی…
Read the full tafseer →[ مَنْ ذَا الَّذِیْ : کون ہے وہ جو ] [ یُقْرِضُ : قرضہ دے ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ قَرْضًا حَسَنًا : ایک خوبصورت قرض ] [ فَیُضٰعِفَہٗ : اس سبب سے وہ ضرب دے کر بڑھائے اس کو ] [ لَہٗ : اس کے لیے ] [ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً : کئی گنا ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَقْبِضُ : سکیڑتا ہے ] [ وَیَبْصُطُ : اور کشادہ کرتا ہے (رزق کو) ] [ وَاِلَـیْہِ : اور اس کی طرف ہی ] [ تُرْجَعُوْنَ : تم لوگ لوٹائے جائو گے ]
ق ر ض
قَرَضَ (ض) قَرْضًا : (1) کسی سے بچتے ہوئے گزر جانا ‘ کترا جانا۔ (2) کسی کو بدلہ دینا۔ { وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُھُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ } (الکہف :17) ” اور جب وہ غروب ہوتا ہے تو وہ کترا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 245–246
اللہ کی رضا کے لیے صدقہ خیرات کرنے کی فضیلت
لباب النقول میں اس آیت کریمہ کا سبب نزول بتاتے ہوئے بحوالہ ابن حبان وغیرہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب آیت شریفہ (مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ ) (آخر تک) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا (رَبِّ زِدْاُمَّتِیْ ) (یعنی اے میرے رب میری امت کو اور زیادہ عطا فرما) اس پر آیت (مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا) نازل ہوئی۔ اس آیت میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے استفہام کا طریقہ اختیار فرمایا ہے ( جو ترغیب کا بہت عمدہ طریقہ ہے) کہ کون ہے جو اللہ کو قرض…
Read the full tafseer →ترغیب انفاق مال درراہ خداوندذو الجلال۔
قال تعالی، من ذالذی یقرض اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ترجعون۔
گزشتہ آیت میں خدا کی راہ میں جان دینے کا بیان تھا اب اس آیت میں مال دینے کا بیان ہے کون شخص ہے جو اللہ کو نہایت عمدہ اور اچھا قرض دے یعنی حلال مال سے اخلاص اور خوش دلی کے ساتھ دے پس اللہ تعالیٰ اس کو گوناگوں بڑھادیں گے دنیا کی طرح برابر سرابر نہیں دیا جائے گا خداوندذوالجلال معاذ اللہ حاجت کی بناء پر قرض نہیں مانگتا بلکہ تم سے اس لیے قرض مانگتا ہے کہ تم اسے ایک لے کر بیشمار اس کے عوض عطا کرے باپ کبھی اپنے خورد سال بچے کو ایک پیسہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ بیٹا یہ پیسہ ہم کو قرض دے دو جب وہ بچہ باپ کے ہاتھ…
Read the full tafseer →ف 478 حکم جہاد کے بعد یہ جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے اور اللہ کو قرض دینے سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مراد ہے۔ والمراد النفقة فی الجھاد لانہ لما امر بالقتال فی سبیل اللہ ویحتاج فیہ الی المال حث علی الصدقة لیتھیا اسباب الجھاد (مدارک ص 97 ج 1) ۔ فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭ۔ اللہ کی راہ میں دیا ہوا تمہارا مال ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اصل استحقاق سے کہیں زیادہ تمہیں اس کا اجر وثواب دیا جائے گا۔ وَاللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ ۔ جہاد میں خرچ کرنے کی وجہ سے دولت کی کمی کا خطرہ محسوس نہ کرو کیونکہ دولت کی کمی بیشی اور رزق کی فراخی وتنگی تو خدا کے اختیار میں ہے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–245
ربطہ آیات
ولیس البر بان تانو البیوت من ظھورھا سے لے کر اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرماتے ہیں جن کا تعلق بر یعنی نیکی کے ساتھ ہے۔ ان میں نکاح ، طلاق ، عدت اور ان کے متعلقات بیان ہوئے ہیں۔ حلت اور حرمت کا مسئلہ بھی آیا ہے۔ اس کے علاوہ عبادات ، معاملات اور اخلاق سے متعلق مسائل کا بیان ہوا ہے۔ اب یہاں سے جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کا تذکرہ شروع ہورہا ہے۔ پہلی آیت مسئلہ جہاد فی سبیل اللہ میں تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بعد حاکم کے انتخاب اور اس کے تحت جہاد میں حصہ لینے کا تذکرہ ہے کسی پہلی امت کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ لوگ جہاد سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَـنًا فَيُضٰعِفَہٗ لَہٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَۃً 0 ۭ وَاللہُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ 0 ۠ وَاِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ 245
قرض
القَرْضُ : ضرب من القطع، وسمّي قطع المکان وتجاوزه قَرْضاً ، كما سمّي قطعا . قال : وَإِذا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 17] ، أي : تجوزهم وتدعهم إلى أحد الجانبین، وسمّي ما يدفع إلى الإنسان من المال بشرط ردّ بدله قَرْضاً ، قال : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً [ البقرة/ 245] ، وسمّي المفاوضة في الشّعر مُقَارَضَةً ، والقَرِيضُ للشّعر، مستعار استعارة النّسج والحوک .
( ق ر ض ) القرض
( کرتا ) یہ قطع کی…
Read the full tafseer →1 ؎ یعنی اللہ کی راہ میں دینا خدا کو دینا ہے۔ خدا قرض لینے سے پاک اور غنی ہے مگر دینے والے کی ترغیب اور اس کے اطمینان کے لیے کہ اس کا اجر کئی گنا ضرور ملے گا اس دینے کو اللہ کے قرض دینے سے بطور استعارہ کے تعبیر کیا کیونکہ جو کوئی غنی اور صادق الوعد کو دیتا ہے تو اصل اور فائدہ کے حاصل ہونے کا اطمینان ہوتا ہے۔ اس سے یہ سمجھنا کہ خدا محتاج ہے بندوں سے قرض مانگتا ہے صریح بدفہمی ہے جس کا کوئی اب تک قائل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–245
وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ مَنْ ذَاالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَـہٗٓ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً ط وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَـبْصُطُ س ص وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔
(اور قتال کرو اللہ کے راستے میں اور خوب جان لو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے، تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے، اللہ ہی گھٹاتا ہے اور اللہ ہی بڑھاتا ہے، اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) (244 تا 245)
قتال کا حکم
دوسروں کے واقعات سے مسلمانوں کے سامنے جہادو انفاق کی اہمیت اور اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہاد میں مال کی بڑی اہمیت ہے لہٰذا دفاعی فنڈ میں حصہ لینا اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کے برابر ہے۔
جہاد کے لیے مجاہد کی جسمانی جدوجہد کے ساتھ جو اہم ترین چیز ہے وہ مال ہے۔ جہاد میں مال اور جان دونوں لازم وملزوم ہیں۔ دشمنوں کے مقابلے میں نہتا مجاہد کب تک لڑ سکتا ہے ؟ اس لیے اسلحہ اس کی پہلی اور بنیادی ضرورت ہے۔ اسلحہ مال کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کے ساتھ ہی مجاہد کے لیے فوجی لباس، طعام، سواری یہاں تک کہ اس کے بال بچوں کے اخراجات کی بھی ضرورت ہے۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مال ناگزیر ہے اس لیے قرآن مجید میں اکثر مقامات پر جہاد بالنفس سے پہلے جہاد بالمال کا حکم ہوا ہے۔…
Read the full tafseer →245۔ مَنْ ذَا الَّذِیْ (کون ہے ایسا) جو قرض دے۔ : مَنْ استفہام کے لئے ہے۔ اور مبتداء کی وجہ سے موضع رفع میں ہے۔ اور ذَا اس کی خبر ہے۔ الذی یہ ذا کی صفت ہے۔ یا بدل ہے۔
یُقْرِضُ اللّٰہَ (وہ اللہ تعالیٰ کو قرضہ دے) یہ جملہ الذی کا صلہ ہے۔
قرض کہنے کی حکمت :
نکتہ : اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو خرچ کیا جاتا ہے اس کو قرض فرمایا۔ کیونکہ قرض اس کو کہا جاتا ہے جو اپنے مال میں سے دوسرے کو اس لئے دیا جاتا ہے تاکہ وہ اس کے برابر اس کو واپس پھیر دے۔ اور قرض کا لغوی معنی قطع کرنا ہے اور اس کو قرض کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو وہ اپنے مال سے قطع کرتا ہے اور مقروض کو دیتا ہے اور مقراض قینچی اور قرض الفار۔ انقراض…
Read the full tafseer →قرضا حسنا کی مختلف تفاسیر اور وجہ تسمیہ :
245۔ (آیت)” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ قرض ہر اس چیز کا نام ہے جو انسان اس غرض سے دے تاکہ اس پر بدلہ لے ، پس اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے اس عمل (صالح) کو جو وہ اس پر تیار شدہ اجر حاصل کرنے کی امید پر کرتے ہیں قرض کا نام دیا کیونکہ وہ یہ عمل ثواب کی طلب کے لیے کرتے ہیں ۔
کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ قرض ہر وہ عمل ہے تو جو تونے آگے بھیجا ، وہ عمل اچھا ہو یا برا قرض کا اصل معنی لغت کے اعتبار سے قطع ہے ، قرض کو قرض اس لیے کہا جاتا ہے کہ قرض دینے والا اپنے مال کا کچھ حصہ کاٹ کر اس لیے دیتا ہے تاکہ اس جیسا (مال کا حصہ) اس کی طرف لوٹے اور کہا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–245
(243 ۔ 244) ۔ جہاد کے حکم کے نازل ہونے کے بعد جان کے خوف سے کچھ لوگ جہاد میں جانے سے پہلوتہی کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر جہاد کی تاکید فرمائی اور اس تاکید سے پہلے ایک قصہ فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں کے ایک بستی کے آٹھ ہزار کے قریب آدمی وبا سے ڈر کر اپنی بستی چھوڑ بھاگے اور بستی کو چھوڑ کر جہاں گئے تھے وہاں اللہ کے حکم سے ایک دم میں سب مرگئے اور پھر ایک نبی کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پھر زندہ کیا 1۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ موت جب آنے والی ہوتی ہے تو وہ ہر حال میں آتی ہے موت سے ڈر کر بستی کا چھوڑنا جس طرح اس قصہ کے لوگوں کے کچھ کام نہیں آیا۔ اسی طرح موت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 245–247
چناچہ فرمایا : (آیت) مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا ” ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے ؟ “ اور جتنا مال ہوسکے نیکی کے کاموں میں، بالخصوص جہاد میں خرچ کرے۔ ” اچھا “ وہ ہے جو حلال کی کمائی سے ہو اور اس سے مقصود محض رضائے الٰہی ہو۔ : (آیت) فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ۭ” پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے۔ “ یعنی نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک یا اس سے بھی بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔ ثواب میں یہ اضافہ خرچ کرنے والے کی حالت، نیت، اس خرچ کے فائدے اور ضرورت کی نسبت سے ہوتا ہے۔ انسان کو بعض اوقات یہ خیال آتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے وہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے (من ذا الذین یقرض اللہ قرضاً حسناً فیضاعفہ لہ اضعافاً کثیرۃ، (a) کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ پھر اللہ اسے اس کے لئے کئی گنا کردے) آیت میں لطیف ترین کلام اور بلیغ ترین پیرایہ بیان کے ذریعے نیکی کے کاموں اور بھلائی کی راہوں میں اتفاق کی دعوت دی گئی ہے۔ اسے قرض نام دیا تاکہ نیکی کے کاموں پر ثواب کے استحقاق کی تاکید ہوجائے۔ کیونکہ قرض کا لازمی طورپر عوض ہوت ہے جس کا قرض دینے والا مستحق ہوتا ہے۔
یہود کو اس لطیف نکتے کی خبر نہ ہوسکی یا انہوں نے جان بوجھ کر جاہل بننے کی کوشش کی چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگ رہا ہے گویا ہم دولتمند ہیں اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 245–246
695 اللہ تعالیٰ کو قرض دینے کی تعلیم و تلقین اور اس سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کون ہے جو اللہ کو قرض دے قرض حسن ؟۔ یعنی ایسا قرض جو محض اس کی رضا کیلئے، اپنے حلال و پاکیزہ مال سے ہو، دل کی خوشی اور اخلاص کے ساتھ دیا جائے۔ اور یہ بھی اس وحدہ لا شریک کی بےمثال شان کرم و احسان کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ وہ اپنے نام پر اپنے بندے کی طرف سے دئیے کو اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ بندہ خود اور اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کا پیدا کردہ، اسی کا عطاء فرمودہ، اور اسی کی ملکیت ہے۔ اور جبکہ اس کی شان یہ ہے کہ وہ سب سے غنی و بےنیاز،…
Read the full tafseer →نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
تشریح یہ ہے کہ مومن تو صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے جان دیتا ہے مال و ملک دینا تو اللہ کا کام ہے۔ مومن تو خوشی سے مال بھی اللہ کی راہ میں اور جان بھی اللہ ہی کی راہ میں دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–248
آیات 243- 248
اسرارو معارف
الم ترالی الذین………………ان کنتم مومنین۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ احکام الٰہی کی اطاعت کرنے سے زندگی مشکل ہوجائے گی یا زندہ رہنا محال ہوجائے گا۔ تو یہ اس کی بھول ہے کہ زندگی کے مصائب خود اس آدمی کے پیدا کردہ ہیں۔ اگر وہ اللہ کی نافرمانی چھوڑ دے تو اللہ قادر ہے کہ اس کے لئے ہر طرح راحت پیدا فرمائے۔
اس بات کو واضح کرنے کے لئے بطور مثال ارشاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے خوف سے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ یہ واقعہ بنی اسرائیل کا ہے اور حضور ﷺ سے ارشاد ہے کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا ؟ تو مراد حضور ﷺ کا وہ قطعی اور یقینی علم ہے جو آپ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–245
ف 6 جو اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دے یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کے لیے مال خرچ کرے اور اس میں ریاکاری یا کسی کو ستانے اور اس پر احسان رکھنے کا جذبہ کا رفرمانہ ہو ایسے خرچ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ قرض دیا ہے اور اس پر کئی گنا اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک مرفوع حدیث میں ہے ان اللہ یضاعف الحسنتہ الفر ائف حسنتہ۔ اللہ تعالیٰ ایک کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کی بیش لاکھ نیکیاں بنا دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ایک شخص ابو الد حادح نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا ایک باغ جس میں کھجور کے چھ سودرخت تھے اللہ کی راہ میں…
Read the full tafseer →(2:245) من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا۔ من استفہامیہ ہے مبتدا۔ ذا خبر ہے الذی یا ذا کی صفت ہے یا اس سے بدل ہے قرضا حسنا منصوب بوجہ بمعنی اقراضا ہے یا بوجہ مفعول۔ حسنا صفت ہے قرضا کی۔ ترجمہ : ہے کوئی ایسا جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔
فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃجواب استفہام کے لئے یضاعفہ میں یضعف مضارع منصوب کا صیغہ مذکر غائب۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر، باب مفاعلہ مشارکت کی وجہ سے نہیں بلکہ مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔ مضارع منصوب بوجہ ان مقدر ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب قرضا کے لئے۔ اور لہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب قرض دینے والے کے لئے ہے۔ اضعافا۔ ضعف کی جمع ہے ضعف اسم مصدر اور بطور مفعول مطلق مستعمل ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 243–245
لغات القرآن : آیت نمبر 243 تا 245
الوف (ہزاروں، (الف، ہزار) ۔ حذر الموت (موت کا خوف) ۔ موتوا (مرجاؤ) ۔ احیا (اس نے زندہ کیا) ۔ ذو فضل (فضل و کرم والا) ۔ یقرض (قرض دیتا ہے) ۔ قرضا حسنا (قرض حسن، بہترین قرض ) ۔ یضعفہ (وہ اس کو دوگنا کردیتا ہے ) ۔ اضعاف کثیر (دوگنے سے بھی زیادہ) ۔ یقبض (روکتا ہے ) ۔ یبسط (کھولتا ہے ) ۔
تشریح : آیت نمبر 243 تا 245
اب ان آیات سے جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے احکام بیان کئے جا رہے ہیں جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ انسان لاکھ موت سے ڈر کر کہیں بھی چلا جائے۔ جہاں بھی وہ جائے گا اور اس کی موت کا وقت آجائے گا تو مضبوط قلعوں میں بھی موت…
Read the full tafseer →قرض دینے کی فضیلت
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب سورة بقرہ کی وہ آیت اتری جس میں اللہ تعالیٰ نے خیرات کے ایک دانے کی سات بالیں اور ہر بالی میں سو دانہ کی پیدائش کی مثال بیان فرمائی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ یا اللہ میری امت کے اجر وثواب کی تعداد میں کچھ اور زیادتی فرما اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جہاد میں صرف کرنے کے لئے جو کوئی اللہ کو قرض دیوے گا اللہ تعالیٰ اس کے ک اجر میں بیشمار افزائش کرے گا۔ قرض حسنہ اسے کہتے ہیں جو قرض دے کر تقاضا نہ کرے اور اپنا احسان نہ رکھے، نہ بدلہ چاہے اور اسے حقیر نہ خیال کرے۔ اللہ کو قرض دینے سے مراد ہے کہ جہاد میں خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 245–250
[169] '' قرض حسن '' کے معنی ہیں اچھا قرض اور اس سے مراد ایسا قرض ہے جو خالص نیکی کے جذبے سے بےغرضانہ کسی کو دیا جائے۔ اس طرح جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے اسے اللہ اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ میں نہ صرف اصل ادا کروں گا بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ دوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–246
بنی اسرائیل کی بزدلی :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب عنان نبوت حضرت شموئیل (علیہ السلام) کے ہاتھ میں آئی تو بنی اسرائیل نے کہا ، ہمیں جہاد کرنے میں کوئی تامل نہیں ، آپ ایک امیر مقرر فرما دیجئے ، اس پر کہا گیا کہ اس کی کیا ضمانت ہے کہ تم بالضرور جہاد پر آمادہ ہوجاؤ گے ، تو ایسا تو نہیں کہ فرضیت جہاد کے بعد تمہاری ہمتیں جواب دے جائیں ، انہوں نے کہا ایسا کیونکر ممکن ہے ؟ جبکہ ہم مظلوم ہیں اور مہاجر ہیں ، مگر جب جہاد فرض کردیا گیا اور حکم آگیا کہ اب لڑو تو بجز چند بہادروں کے سب پھرگئے ،
اس سارے قصہ سے جو بہت طوالت کے ساتھ دہرایا گیا ہے مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر طرح جہاد کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–245
ف 1۔ جو قصہ مذکور ہوا اس پر غور کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرو اور اس بات کو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا اور سب کی نیتوں کو جانتا ہے کون ایسا شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھے طور پر یعنی اخلاص کے ساتھ قرض دے تو اللہ تعالیٰ اس کے قرض دینے کے اجر وثواب کو دگناکر دے اس طور پر کہ اس دگنے میں بہت سے دگنے ملا دے یعنی بےانتہا ثواب بڑھا دے اور اللہ تعالیٰ ہی تنگی دیتا ہے اور وہی کشائش عطاء کرتا ہے اور تم اسی کی طرف واپس کئے جائو گے۔ ( تیسیر)
ان دونوں آیتوں میں جہاد فی سبیل اللہ اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی قرض مجازا ً فرمایا ہے ورنہ…
Read the full tafseer →ف 1۔ قرض مجازا کہہ دیا ورنہ سب خدا ہی کی ملک ہے مطلب یہ ہے کہ جیسے قرض کا عوض ضرور ہی دیا جاتا ہے اسی طرح تمہارے انفاق کا عوض ضرور ملے گا اور بڑھانے کا بیان ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک خرما اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو اتنا بڑھادیتے ہیں کہ وہ احد پہاڑ سے زیادہ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کو قرض دینا کیا ہے ؟
411: جان بلاشبہ بہت عزیز چیز ہے لیکن بعض اوقات مال خرچ کرنا جان سے بھی زیادہ مشکل ہوجاتا ہے لیکن جہاد فی سبیل اللہ میں جس طرح جان پیش کرنا پڑتی ہے بالکل اسی طرح مال بھی خرچ کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ سامان حرب خریدنا ، دوسروں کو تیاری میں مدد دینا ، خصوصاً جن کے پاس مال نہیں ان کو مالی کمک پہنچانا بھی ضروریاتِ جہاد میں سے ہے۔ اس آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ خلافت اسلامی کو تمہاری دولت کی ضرورت ہو تو بغیر حیل و حجت روپیہ صرف کرو۔
میدانِ جنگ میں جاتے ہی تمہیں فتح و کامرانی نصیب ہوگی ، اس قدر مال غنیمت ملے گا کہ سمیٹ نہ سکو گے اور جس طرح تم نے اسلام کی بقاء و قیام کے لیے مال…
Read the full tafseer →Commentary
1. يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا (who would give Allah a good loan?) the word 'loan' refers to good deeds and to the act of spending in the way of Allah, This was expressed figuratively as qard قرض (literally, 'loan' ), otherwise everything belongs to Allah. It simply means that whatever you spend will surely be returned to you (in the form of a reward in the Hereafter) just as a loan is surely returned. The promise of increased or multiplied return appears in a hadith which declares that a date spent in the way of Allah is so increased by Allah Almighty that it outgrows the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 244–245
267. 'Goodly loan' signifies whatever one gives to another person selflessly, and from absolutely pure motives. God describes whatever man spends in this manner as a loan made to none other than Him, and He undertakes to repay that loan and to repay it several-fold. The stipulation, however. is that the loan should be a 'goodly' one; that is, it should not he tainted with selfish designs and should be given for the sake of God, to be spent for purposes pleasing to Him
They said: 'And whv would we not fight in the way of Allah when we have been torn from our homes and our children?' But when…
Read the full tafseer →