صلوۃ وسطی کون سی ہے ؟ :
اللہ تعالیٰ کا حکم ہو رہا ہے کہ نمازوں کے وقت کی حفاظت کرو اس کی حدود کی نگرانی رکھو اور اول وقت ادا کرتے رہو، رسول اللہ ﷺ سے حضرت عبداللہ بن مسعود سوال کرتے ہیں کہ کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز کو وقت پر پڑھنا، پھر پوچھا کون سا ؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، پھر کونسا ؟ ماں باپ سے بھلائی کرنا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں اگر میں کچھ اور بھی پوچھتا تو آپ اور بھی جواب دیتے (بخاری و مسلم) حضرت ام فردہ جو بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ہیں، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا آپ ﷺ اعمال کا ذکر فرما رہے تھے۔ اسی میں آپ ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
سورة الْبَقَرَة 262
قوانین تمدن و معاشرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اس تقریر کو نماز کی تاکید پر ختم فرماتا ہے، کیونکہ نماز ہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر خدا کا خوف، نیکی و پاکیزگی کے جذبات اور احکام الہٰی کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہے اور اسے راستی پر قائم رکھتی ہے۔ یہ چیز نہ ہو تو انسان کبھی الہٰی قوانین کی پابندی پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا اور آخر کار اسی نافرمانی کی رو میں بہہ نکلتا ہے جس پر یہودی بہہ نکلے۔
سورة الْبَقَرَة 263
“ اصل میں لفظ ”صَلوٰۃ الْوُسْطیٰ“ استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد بعض مفسرین نے صبح کی نماز لی ہے، بعض نے ظہر، بعض نے مغرب اور بعض نے عشاء۔ لیکن ان میں سے کوئی قول بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 34 نمازوں کی حفاظت کا بیان
اس سے آگے پیچھے طلاق وغیرہ کے احکام ہیں درمیان میں نماز کے احکام بیان فرمانا اشارہ اس طرف ہے کہ مقصود اصلی توجہ الی الحق ہے اور معاشرت اور معاملات کے احکام سے علاوہ اور مصلحتوں کے اس توجہ کی حفاظت اور ترقی بھی مقصود ہے، چناچہ جب ان کو خدائی احکام سمجھ کر عمل کیا جاوے گا تو توجہ لازم ہوگی پھر یہ کہ ان احکام میں ادائے حقوق عباد بھی ہے اور حقوق عباد کے اتلاف سے درگاہ الہی سے دوری ہوتی ہے جس کے لوازم میں سے حق وعبد دونوں کی طرف سے بےتوجہی ہے چونکہ نماز میں یہ توجہ زیادہ ظاہر ہے اس لئے اس کے درمیان میں لانے سے اس توجہ کے مقصود ہونے پر زیادہ دلالت…
Read the full tafseer →نماز کی محافظت : نماز کی محافظت میں ان تمام چیزوں کی نگہداشت اور ان کا اہتمام شامل ہے جو اس کے لواز و شرائط اور اس کے آداب و ارکان سے تعلق رکھنے والی ہیں۔ اقامت صلوۃ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم ان چیزوں کا ذکر کتاب کے شروع میں کرچکے ہیں۔ یہاں اقامت کی جگہ محافظت کا لفظ جس نئے پہلو کی طرف اشارہ کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ مشکل اور پر خطر حالات میں بھی، ہر طرح کے خطرات کا مقابلہ کر کے، اس کی حفاظت کی جائے، چناچہ آگے والی آیت میں صلوۃ الخوف کا ذکر بھی ہے جس سے واضح ہے کہ تلواروں کی چھاؤ میں بھی جس چیز کو مومن نہیں بھولتا ہے، وہ یہی ہے۔
گو میں رہا رہین ستمہائے روزگار۔۔۔ لیکن تمہاری یاد سے غافل نہیں رہا۔
صلوۃ…
Read the full tafseer →238۔ 1 درمیان والی نماز سے مراد عصر کی نماز جس کو حدیث رسول ﷺ نے متعین کردیا ہے جس میں آپ ﷺ نے خندق والے دن عصر کی نماز کو صلوٰۃ وُسْطٰی قرار دیا۔ (صحیح بخاری کتاب الجہاد)
Read the full tafseer →159: آیت نمبر : 153 سے اسلامی عقائد اور احکام کا جو بیان شروع ہوا تھا وہ اب ختم ہورہا ہے، آیت نمبر : 153 میں یہ بیان نماز کی تاکید سے شروع ہوا تھا اب آخر میں دوبارہ نماز کی یہ اہمیت بیان کی جارہی ہے کہ جنگ کے شدید حالات میں بھی امکان کی آخری حد تک اس کا خیال رکھنا ضروری ہے، بیچ کی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے، اس کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ عام طور سے اس وقت لوگ اپنا کاروبار سمیٹنے میں مشغول ہوتے ہیں اور اس مشغولیت میں بےپروائی ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →یہاں حکم دیا جاتا ہے نماز کی حفاظت کرو ۔ یعنی اسے اپنے وقت پر ، تمام ارکان نماز صحیح ادا کرتے ہوئے تمام شرائط پوری کرتے ہوئے ادا کرو۔ راحج قول یہ ہے کہ صلوٰۃ وسطی سے نماز عصر مراد ہے ۔ یوم احزاب کے موقع پر رسول ﷺ نے فرمایا :” ہمیں ان لوگوں نے درمیانی نماز سے مشغول کردیا ، نماز عصر سے ، اللہ ان کے گھروں اور دلوں کو آگ سے بھردے۔ “ نماز عصر کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا گیا کہ اکثر اوقات قیلولہ کے بعد نماز آتی ہے اور اس کے قضا ہونے یا موخر ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔
راحج قول یہ ہے کہ قنوت کے معنی عاجزی اور خشوع کے ہیں ۔ نماز میں اس کی یاد کی طرف یکسو ہوجانے کا مفہوم بھی اس میں داخل ہے ۔ ایک وقت…
Read the full tafseer →2 بیچ والی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے کہ دن اور رات کے بیچ میں ہے اس کی تاکید زیادہ فرمائی کہ اس وقت دنیا کا مشغلہ زیادہ ہوتا ہے اور فرمایا کھڑے رہو ادب سے یعنی نماز میں ایسی حرکت نہ کرو کہ جس سے معلوم ہوجائے کہ نماز نہیں پڑھتے ایسی باتوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے جیسے کھانا پینا یا کسی سے بات کرنا یا ہنسنا۔
فائدہ : طلاق کے حکموں میں نماز کے حکم کو بیان فرمانے کی یا یہ وجہ ہے کہ دنیا کے معاملات اور باہمی نزاعات میں پڑ کر کہیں خدا کی عبادت کو نہ بھلا دو اور یا یہ وجہ ہے کہ ہوا وہوس کے بندوں کو بوجہ غلبہ حرص و بخل عدل کو پورا کرنا اور انصاف سے کام لینا اور وہ بھی رنج اور طلاق کی حالت میں بہت دشوار…
Read the full tafseer →آیت 238 حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی ق
یہ جو بار بار آ رہا ہے کہ جان لو اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے ‘ جان رکھو کہ اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے ‘ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کی نگاہ میں ہے ‘ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے ‘ تو اس سب کو قلب و ذہن میں مستحضر رکھنے کے لیے تمہیں پنج وقتہ نماز دی گئی ہے کہ اس کی نگہداشت کرو۔ دنیا کے کاروبار سے نکلو اور اللہ کے حضور حاضر ہو کر اس سے کیا ہوا عہد تازہ کرو۔ حفیظ کا ایک شعر ہے :
سرکشی نے کردیے دھندلے نقوش بندگی
آؤ سجدے میں گریں لوح جبیں تازہ کریں !
صلوٰۃ وسطیٰ بیچ والی نماز کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں ‘ لیکن عام…
Read the full tafseer →332 عائلی مسائل کے درمیان نماز کی تاکید سے متعلق جو دو آیات آگئی ہیں تو ان کی غالباً حکمت یہ ہے کہ ایسے معاشرتی مسائل کو بحسن و خوبی سر انجام دینے کے لیے جس تقویٰ کی ضرورت ہوتی ہے نماز اس سلسلہ میں موثر کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے نمازوں کی محافظت کی تاکید کی جا رہی ہے یعنی ہر نماز کو اس کے وقت پر اور پوری شرائط و آداب کے ساتھ ادا کیا جائے۔
333 رسول اللہ ﷺ نے خندق کے دن فرمایا۔ ان کافروں نے مجھے درمیانی نماز نہ پڑھنے دی حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ (بخاری، کتاب التفسیر) نیز حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ دونوں سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :…
Read the full tafseer →907 ۔ اوپر سے ذکر برابر بیویوں کے حقوق ومطالبات کا چلا آرہا تھا اور آگے پھر یہی ذکر چلے گا۔ درمیان میں احکام نماز سے متعلق آگئے۔ یہیں سے اس حقیقت پر ایک بار اور روشنی پڑ رہی ہے کہ اسلام میں معاشرت ومعاملت، قانون واخلاق کے مسائل، عبادات سے الگ نہیں۔ اور نظام شریعت میں خالق کے حقوق اور مخلوق کے حقوق دوش بدوش چل رہے ہیں۔ (آیت) ” حفظوا علی الصلوت “۔ محققین نے محافظت صلوۃ کے تین درجے قرار دیئے ہیں، ادنی یہ کہ نماز وقت پر پڑھی جائے اور فرائض وواجبات ترک نہ کیے جائیں، اوسط یہ کہ جسم ہر طرح طہارت ظاہری سے آراستہ ہو، طبیعت اکل حلال کی خوگر ہو، دل میں خشوع و خضوع ہو، سنن ومستحبات کی پوری رعایت رہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 237–239
وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ أنْ تَمَسُّوْھُنَّ ، (الآیۃ) اگر تم عورتوں کو چھونے (وطی یا خلوۃ صحیحہ) سے پہلے طلاق دو اور مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا ادا کرو، البتہ اگر عورتیں یہ آدھا مہر بھی چھوڑ دیں یا جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے وہ درگذر کرے تو نہ دو ، فَرِیْضَۃٌ، سے مراد مہر اور فرض کرنے سے مراد مہر کا ذکر کرنا ہے خواہ مقدار معین ہو یا نہ ہو پس اگر مقدار بھی معین ہے تو اس کا آدھا دینا آسان ہے اور اگر مقدار معین نہیں تو مہر مثل پر فیصلہ ہوگا سوال یہ ہے کہ مثل کس کا اور کن چیزوں میں معتبر ہے ؟ اس شعر میں مذخور ہے
مثل ہیں اقربائے آبائی یہ زر و حسن وعمر و دانائی
الَّذِیْ بِیَدِہٖ…
Read the full tafseer →حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ ( اور تمام نمازوں کی محافظت کرو 1 ) یعنی ان کے وقتوں میں ادا کرنے اور ان کا التزام رکھنے اور ان کے ارکان اور صفات کو پورا کرنے کے ساتھ۔ اس پر تمام امت کا اجماع ہے کہ نماز قطعی فرض ہے اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ لیکن جو جان بوجھ کے ترک کرے اس کی بابت امام احمد کا یہ قول یہ ہے کہ وہ بھی کافر ہوتا ہے اور امام مالک اور امام شافعی کا قول یہ ہے اور یہی ایک روایت امام احمد سے بھی ہے کہ وہ کافر نہیں ہوتا لیکن اس سے توبہ کرائی جائے گی اگر توبہ کرلے تو خیر ورنہ اسے قتل کردیا جائے اور امام ابوحنیفہ (رح) کا قول یہ ہے کہ قتل نہ کیا جائے ہاں اسے ہمیشہ قید میں رکھاجائے یہاں…
Read the full tafseer →(238) اب اللہ تعالیٰ پانچوں نمازوں کی جو کہ مقصود حقیقی ہیں تاکید کرتے ہیں کہ پانچوں نمازوں کے وضو، رکوع، سجود، اور جو چیزیں ان میں واجب ہیں ان کا اور ان کے اوقات کا خاص طور پر اہتمام کرو اور خاص طور پر عصر کی نماز کا بہت ہی اہتمام کرو، اللہ تعالیٰ ہی کے لیے نماز پڑھو کہ قیام و رکوع وسجود کو پورے اہتمام کے ساتھ ادا کرو اور یہ بھی تفسیر بیان کی گئی ہے کہ نماز میں اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجز اور فرمانبردار بنے ہوئے کھڑے ہو، کسی کام وغیرہ سے اس کی نافرمانی نہ ظاہر ہو۔
شان نزول : (آیت) ”حافظوا علی الصلوت“۔ (الخ)
امام احمد ؒ اور بخاری ؒ نے اپنی تاریخ میں اور ابو داؤد ؒ ، بیہقی ؒ اور ابن جریر ؒ نے…
Read the full tafseer →(حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى): شاہ عبدالقادر ؓ فرماتے ہیں : ”درمیانی نماز عصر ہے کہ دن اور رات کے درمیان میں ہے اور اس کی پابندی پر زیادہ زور دیا اور طلاق کے حکموں میں نماز کا ذکر فرما دیا کہ دنیا کے معاملات میں غرق ہو کر عبادت کو نہ بھول جاؤ۔ عصر کی پابندی کا حکم اس لیے زیادہ ہے کہ اس وقت دنیا کا شغل زیادہ ہوتا ہے۔“ (موضح)
حفاظت سے مراد وقت کا خیال رکھنا ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : ”تمام اعمال میں سے اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل محبوب ہے ؟“ آپ نے فرمایا : ”نماز اپنے وقت پر ادا کرنا۔“ [ بخاری، الصلاۃ، باب
فضل الصلوۃ لوقتہا : 527…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 238۔
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” حفظوا “ یہ خطاب تمام امت کو ہے اور یہ آیت نمازوں کو ان کے اوقات میں ان کی تمام شرائط کے ساتھ قائم کرنے اور اس پر ہمیشگی اختیار کرنے کا حکم ہے۔
اور محافظۃ کا معنی کسی سے پر مداومت اور مواظبت اختیار کرنا ہے اور الوسطی الاوسط کی تانیث ہے اور کسی شے کا وسط اس کا بہترین، عمدہ اور متناسب ہونا ہے، اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (آیت) ” وکذالک جعلنا کم امۃ وسطا “۔ اس کی تفصیلی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ اور ایک اعرابی نے حضور نبی کریم ﷺ کی مدح کرتے ہوئے کہا :
یا اوسط الناس طرا فی مفاخرھم واکرم الناس اما برۃ وابا :
اور…
Read the full tafseer →Missing
Read the full tafseer →[ حٰفِظُوْا : تم لوگ ہمیشگی اختیار کرو ] [ عَلَی الصَّلَوٰتِ : نمازوں پر ] [ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی : اور (بالخصوص نگرانی کرو) درمیانی نماز کی ] [ وَقُوْمُوْا : اور کھڑے ہو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ قٰنِتِیْنَ : فرماں بردار ہوتے ہوئے ]
حظ
حَفِظَ (س) حِفْظًا : کسی چیز کو ضائع ہونے یا رائیگاں جانے سے بچانا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) حفاظت کرنا۔ (2) نگرانی کرنا۔ (3) یاد کرنا۔{ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِط } (الرعد :11) ” وہ لوگ نگہبانی کرتے ہیں اس کی اللہ کے حکم سے۔ “
اِحْفَظْ (فعل امر) : تو حفاظت کر ‘ نگہبانی کر۔ { وَاحْفَظُوْا اَیْمَانَـکُمْط }…
Read the full tafseer →تمام نمازوں اور خاص کر صلوٰۃ وسطیٰ کی محافظت کا حکم
طلاق اور شوہر کی وفات سے متعلق بعض مسائل باقی ہیں۔ درمیان میں نمازوں کی پابندی کا حکم فرما دیا بندے جس حال میں بھی ہوں۔ اللہ کی یاد سے غافل نہ ہوں اور خاص کر نمازوں کا خوب زیادہ اہتمام کریں۔ نماز سراپا ذکر ہے، بار بار خالق کائنات جل مجدہ کی یاد کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اللہ کی یاد ہی اس پورے عالم کی جان ہے، آدمی کیسی ہی مشغولیت میں ہو نماز سے غافل نہ ہو، اور ان نمازوں میں بھی صلاۃ وسطیٰ یعنی درمیان والی نماز کا اور زیادہ دھیان رکھے۔ احادیث صحیحہ میں اس کی تصریح ہے کہ صلاۃ وسطیٰ ، (درمیان والی نماز) سے عصر کی نماز مراد ہے۔ اس نماز کا خصوصی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
حکم سی وسوم۔ محافظت صلوات عموما وصلوۃ وسطی خصوصا۔
قال تعالی، حافظوا علی الصلوات۔۔۔ الی۔۔۔ تعلمون۔
ربط) ۔ دور سے سلسلہ کلام، احکام معاشرت کے بارے میں چل رہا ہے اس کے ضمن میں محافظت صلوۃ کا حکم اس لیے ذکر کیا کہ اکثر وبیشتر اہل و عیال میں مشغولی نماز اور نیاز سے غفلت کا باعث ہوتی ہے کماقال تعالی، یا ایھا الذین امنوا لاتلھکم اموالکم۔۔۔ الی۔۔ الخاسرون۔
اے ایمان والو مال اور اہل و عیال کا تعلق تم کو خدا کی عبادت اور بندگی سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کریں گے وہ خاسرین میں سے ہوں گے۔ وقال تعالی، انما اموالکم والادکم فتنہ۔ انما اموالکم را یاد گیر، مال وملک ایں جہاں برباد گیر۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
472 حسن سلوک اور احسان کی ترغیب کے بعد نمازوں کی پابندی کا حکم دیا کیونکہ نماز ایک امر مصلح ہے۔ جس سے ظاہر و باطن کی طہارت ہوتی ہے۔ اور اخلاق رذیلہ سے باطن پاک ہو کر اخلاق حسنہ سے معمور ہوجاتا ہے۔ نیز نماز کو باجماعت ادا کرنے سے باہمی محبت والفت اور اتحاد واتفاق کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لیے نماز حسن معاشرت، حسن سلوک اور احسان کے لیے بہت بڑی معاون ہے۔ صلوۃ وسطیٰ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ اکثر صحابہ، تابعین اور ائمہ دین اس طرف گئے گئے ہیں کہ اس سے مراد نماز عصر ہے۔ الثانی انھا العصر لانھا بین صلاتی النھار وصلاتی اللیل وھو المروی عن علی والحسن وابن عباس وابن مسعود وخلق کثیر وعلیہ الشافعیة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–242
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں طلاق ، عدت اور حق مہر کے مسائل ذکر ہوئے ہیں۔ اب درمیان میں د و آیتیں نماز کے متعلق ہیں۔ اور اس کے بعد پھر طلاق اور عدت کے مسائل ہیں بظاہر ایک ہی نوعیت کے مسائل کے درمیان نماز کی یہ آیتیں بےربطہ معلوم ہوتی ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) اور بعض دیگر بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہاں پر یہ بات سمجھاناچاہتا ہے کہ دیکھو ، نکاح ، طلاق ، عدت کے مسائل میں مشغول ہو کر کہیں نماز سے غافل نہ ہوجانا۔ نکاح طلاق کے مسائل ہی ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ بعض اوقات گفتگو طول پکڑ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں تمہاری نماز نہیں چھوٹنی چاہئے اس کا ہر حال میں خیال…
Read the full tafseer →حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ۤ وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ 238
حفظ
الحِفْظ يقال تارة لهيئة النفس التي بها يثبت ما يؤدي إليه الفهم، وتارة لضبط الشیء في النفس، ويضادّه النسیان، وتارة لاستعمال تلک القوة، فيقال : حَفِظْتُ كذا حِفْظاً ، ثم يستعمل في كلّ تفقّد وتعهّد ورعاية، قال اللہ تعالی: وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12]
( حظ ) الحفظ
کا لفظ کبھی تو نفس کی اس ہیئت ( یعنی قوت حافظہ ) پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ جو چیز سمجھ میں آئے وہ محفوظ رہتی ہے اور کبھی دل میں یاد ررکھنے کو حفظ کہا جاتا ہے ۔ اس کی ضد نسیان ہے ، اور کبھی قوت حافظہ کے استعمال پر یہ لفظ بولا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–238
ترکیب : مالم تمسوھن مامصدر یہ اور زمان اس کے ساتھ محذوف ہے تقدیرہ فی زمن ترک مسھن اور بعض کہتے ہیں ماشرطیہ ہے ان لم تمسوھن فریضۃ فعیلۃ بمعنی مفعولۃ مفعول بہ ہے ومتعوھن معطوف ہے محذوف پر تقدیرہ فطلقوھن ومتعوھن۔ علی الموسع خبر ہے مبتداء محذوف کی متعوھن علی الموسع اور پھر یہ جملہ موضع حال میں ہے فاعل سے اور ممکن ہے کہ مستانفہ ہو متاعا اسم مصدر ہے اور مصدر تمتع
تفسیر : یہ بارہواں حکم ہے۔ واضح ہو کہ جن عورتوں کو طلاق دی جاتی ہے ان کی چار قسمیں ہیں۔ قسم اول یہ کہ ان کا مہر بھی معین ہو اور پھر ان کو خلوت کرکے طلاق دی گئی ہو۔ ان کا حکم پہلی آیتوں میں بیان ہوچکا کہ ان کو پورا مہر دینا چاہیے اور تنگ…
Read the full tafseer →حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی ق وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ ۔
(نمازوں کی محافظت کرو خاص طور پر بیچ کی نماز کی، اور نمازوں میں کھڑے رہو اللہ کے حضور فرمانبردارانہ اور خاموشی کے ساتھ) (238)
اس آیت کریمہ سے پہلے کی آیات میں نکاح اور طلاق کے مسائل بیان کیے گئے ہیں اور اس کے بعد کی دو آیات بھی انہی مسائل سے متعلق ہیں، لیکن نکاح اور طلاق کے مسائل کے درمیان ایسی دو آیات کا لانا جن کا تعلق نماز سے ہے بظاہر بےجوڑ سی بات معلوم ہوتی ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نہایت مربوط کتاب ہے۔ لیکن اگر ہم سورة البقرۃ کے مضامین کی ترتیب کو دیکھیں اور سیاق کلام کو سمجھنے کی کوشش کریں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
فہم القرآن
ربط کلام : ازواجی مسائل کے بیان کے دوران خصوصی نصیحت۔
سلسلۂ کلام منقطع فرما کر یہاں حفاظت نماز اور خاص کر درمیانی نماز کی حفاظت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسلام کے عملی نظام میں نماز ایسی پنجگانہ تربیت ہے کہ اگر کوئی شخص شریعت کی ہدایات کے مطابق نماز ادا کرے اور اس کے تقاضے سمجھنے کی طرف توجہ دے تو نمازی دین اور دنیا کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک منفرد اور ذمہ دار شخصیت بن جاتا ہے۔ کیونکہ پانچ وقت اس بات کا آرزو مند ہوتا ہے کہ اس کے گناہ معاف کردیے جائیں اور قدم قدم پر اس کی رہنمائی کا اہتمام ہوجائے اور روز محشر اپنے رب کے حضور اس حالت میں پیش ہو کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے…
Read the full tafseer →آیت 238 :
حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ (تم تمام نمازوں کی حفاظت کرو) یعنی ان کو ان کے اوقات میں ادا کرنے کا التزام کرو۔ اور ان کے ارکان اور شرائط کو پورا کرنے کا التزام کرو۔
نمازِ عصر کی عظمت :
وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی (اور درمیانی نماز) یعنی جو نمازوں کے درمیان میں ہو۔ یعنی فضیلت والی۔ عرب کے لوگ فضیلت والی چیز کے لئے وسط کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
صلوۃ وسطیٰ کو مفرد لا کر صلوٰت پر عطف کیا کیونکہ یہ نماز فضیلت میں منفرد مقام رکھتی ہے اور وہ صلوٰۃ عصر ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) اور جمہور علماء کا یہی مسلک ہے۔
دلیل نمبر 1 : اس لئے کہ حضور ﷺ نے احزاب کے دن فرمایا۔ انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطی سے مشغول کیا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 238۔:
(آیت)” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی “۔ ہمیشگی اور فرض نمازوں پر مداومت اختیار کرو، نمازوں کے اوقات اور حدود اور ارکان کو تمام کرنے کے ساتھ پھر ان نمازوں میں سے ” صلوۃ وسطی “۔ کو محافظت کرنے کے ساتھ اس کی فضیلت پر دلالت کرتے ہوئے خاص کیا، وسطی اوسط کی تانیث ہے ” وسط الشی “۔ کا معنی اس کا بہتر اور درمیانی حصہ علماء صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور ان سے بعد کے علماء نے ” صلوۃ وسطی “ کی تعین میں اختلاف کیا ہے ۔
بعض نے کہا ” صلوۃ وسطی “ نماز فجر ہے اور یہ قول حضرت عمر ؓ اور ابن عمر ؓ ، ابن عباس ؓ اور معاذ ؓ و جابر ؓ کا ہے ، حضرت عطاء (رح) عکرمہ (رح) اور مجاہد (رح)…
Read the full tafseer →مسند اماما احمد بن حنبل ابو داؤد، بیہقی، تاریخ بخاری اور تفسیر ابن جریر میں حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر کو پڑھا کرتے تھے اس وقت بعض لوگ تو قیلولہ میں رہ جاتے تھے اور بعض کاموں میں لگے رہتے تھے غرض دھوپ کے سبب سے تھوڑے سے آدمی نماز میں آتے تھے اس لئے کبھی ایک صف آپ کے پیچھے مقتدیوں کی ہوتی تھی انتہا درجہ کبھی دو صفیں ہوتی تھیں اس لئے نمازوں کے بر وقت ادا ہونے کی تاکید میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ نماز کا وقت پر پڑھنا سب عملوں سے بہتر ہے 1۔ اس حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 237–238
پھر اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کا ذکر فرمایا ہے جن کا مہر مقرر کیا گیا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مہر مقرر کرنے کے بعد ان کو چھوئے بغیر طلاق دے دو ، تو مطلقہ عورتوں کے لئے نصف مہر ہے اور باقی نصف تمہارا ہے۔ مہر کی یہ رقم اگر عورت کی طرف سے معاف نہ کردی جائے، تو خاوند پر اس کی ادائیگی واجب ہے۔ جب کہ عورت کا اس کو معاف کرنا صحیح ہو۔ : (آیت) اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۭ” یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ “ صحیح مسلک کے مطابق اس سے مراد شوہر ہے (1) (نہ کہ ولی) کیونکہ شوہر ہی وہ شخص ہے جو نکاح کی گرہ کو کھول سکتا ہے۔ (2) عورت کے ولی کے لئے تو…
Read the full tafseer →صلوٰۃ وسطیٰ اور نماز میں کلام کرنے کا ذکر
قول باری ہے (حافظون علی الصلوت والصلوۃ الوسطی، اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو خصوصاً صلوۃ وسطی کی) اس میں نماز کے عمل کو سرانجام دینے کا حکم ہے اور مخافظت کے ذکر کے ساتھ اس کے وجوب کی تاکید کردی گئی ہے۔ ’ الصلوت ‘ سے دن رات کی پانچوں نمازیں مراد ہیں جچو مخاطبین کے ذہنوں میں متعین ہیں اس لئے کہ اس لفظ پر الف لام داخل ہے جو معہود یعنی معلوم و متعین چیز کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
اس میں نمازوں کو قائم رکھنے، ان کے فرائض کو پورا کرنے، ان کے حدود کی پاسداری کرنے انہیں وقت پر ادا کرنے اور ادائیگی میں کوتاہی نہ کرنے کے تمام معانی و مفاہیم داخل ہیں کیونکہ محافظت کا…
Read the full tafseer →685 صلوۃ وسطیٰ سے مراد ؟ : " صلوۃ وسطیٰ " (درمیانی نماز) سے مراد جمہور کے نزدیک نماز عصر ہے (روح، المراغی، المعارف، وغیرہ) ۔ یہاں پر نکاح اور طلاق وغیرہ کے مسائل کے درمیان میں نماز کی محافظت کا جو حکم و ارشاد فرمایا جا رہا ہے، اس سے نماز کی اہمیت اور عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ نیز اس سے دو اور بڑے اہم درس مستفاد ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ دنیاوی امور و معاملات میں مشغول ہو کر فریضہ نماز سے غفلت نہیں برتنا، کہ فریضہ ٔ نماز میں تمہارے لئے دارین کی سعادت مضمر ہے۔ اور اس سے اعراض و محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ طرح طرح کے مفاسد و مہالک کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور دوسرا یہ کہ فریضہ نماز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
نمازوں کی پابندی
تشریح : عبادات میں نماز کا درجہ بلند ترین ہے۔ کیونکہ اس کے قائم کرنے میں انسان کے لیے نہ دولت کی ضرورت ہے اور نہ ہی مضبوط صحت کی۔ بلکہ یہ خود انسان کی روح کو مضبوط کرنے کے لیے خزانہ ہے اور جسم کو چستی اور مضبوطی دینے کا ذریعہ بھی ہے نماز کے بیشمار فوائد ہیں۔ مثلاً :
1 روحانی قوت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔
-2 برائیوں سے نماز بچاتی ہے۔
-3 نظم و ضبط، اتحاد اور اصلاح کا ذریعہ ہے۔
-4 دل کو سکون دینے کا باعث ہے۔
-5 نماز مومن کی پہچان ہے۔
-6 ارکان اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔
-7 نماز میں شفا ہے۔ (حدیث ابن ماجہ)
نماز اہم ترین فرائض میں سے ہے اسی لیے نماز کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے۔
سورة طٰہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–242
آیات 236- 242
اسرارو معارف
لاجناح علیکم…………………لعلکم تعقلون۔
یہاں طلاق کی ایک اور صورت ارشاد ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دے دے اور پھر اس میں بھی دو صورتیں مہر کی ہیں یا تو مہر مقرر ہوگا اور یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں ہے تو اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرو کہ انہیں کچھ خرچ دے دو ۔ صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق دیں۔
روایت ہے کہ حضرت حسن ؓ نے ایک ایسی طلاق کی صورت میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار درہم دیئے تھے اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑوں کا دے دے۔
لفظ متعہ کا معنی :
یہاں لفظ ” متعہ “ واضح طور پر اس عورت کو گزارے کے لئے…
Read the full tafseer →ف 7 الصلوہ الوسطی۔ بیچ والی نماز اس کی تعیین میں گواہل علم کے مابین اختلاف ہے مگر جمہو علمائے کے نزدیک اس سے عصر کی نماز مراد ہے یہی اضح اور ارجح ہے۔ متعدد احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ صحیحین اور سنن کی کتابوں میں متعدد صحابہ سے یہ روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقعہ پر فرمایا : شغلو ناعم الصلوہ الو سطی صلوہ العصر مالاء اللہ ج قبرھم واجوافھم نارا۔ کہ انہوں نے ہمیں صواہ وسطی یعنی عصر کی نما سے غافلک کردیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی قبروں ارگھروں کو آگ سے بھر دے نیز بہت سے آثار صحابہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)8 اور ادب سے کھڑے رہو۔ یعنی نماز میں کوئی ایسی حرکت نہ کرو جو…
Read the full tafseer →(2:238) حفظوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ محافظۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ تم محافظت کرو۔ تم نگرانی کرو۔ تم حفاظت کرو۔
الصلوت۔ نمازیں۔ جمع الصلوۃ۔ واحد۔
والصلوۃ الوسطی۔ موصوف و صفت۔ درمیانہ نماز۔ الوسطیاسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ الاوسطمذکر۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ای حفظوا علی الصلوت وحفظوا علی الصلوۃ الاوسط۔ یہ خاص کا عطف عام پر مزید اہتمام کے لئے ہے۔ یعنی تمام نمازوں کی حفاظت کرو خاص کر صلوٰۃ وسطی کی۔ الصلوٰۃ الوسطی سے کونسی نماز مراد ہے اس پر متعدد اقوال ہیں
(1) نماز فجر۔ حضرت عمر۔ حضرت عبد اللہ بن عمر۔ حضرت ابن عباس ؓ و امام مالک، امام شافعی، عکرمہ۔ معاذ بن جبل۔ امام ابوحنیفہ (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
لغات القرآن : آیت نمبر 238 تا 239
حافظوا (حفاظت کرو) ۔ الصلوت (نمازیں) ۔ الصلوٰۃ الوسطی (درمیان والی نماز (نماز عصر) ۔ قوموا (کھڑے رہو) ۔ قنتین (خاموش ، ادب سے کھڑے ہونے والے ) ۔ خفتم (تم ڈرے) ۔ رجال (پیدل) ۔ رکبان (سوار) ۔ علمکم (اس نے تمہیں سکھایا) ۔
تشریح : آیت نمبر 238 تا 239
احکام و قوانین جن کا آغاز توحید کے بعد نماز اور زکوٰۃ کے ذکر سے ہوا تھا اب ان آیات پر ختم ہو رہا ہے اس بات کی ابتداء بھی نماز سے ہوئی اور اس باب کا خاتمہ بھی نماز ہی پر ہو رہا ہے جو اس بات کی طرف کھلا ہوا اشارہ ہے کہ دین اسلام میں جو اہمیت نماز کی ہے وہ کسی اور عبادت کی نہیں ہے۔ ساری شریعت کے قیام وبقاء کا دارو مدار…
Read the full tafseer →وقت پر نماز کی تاکید کا ذکر
نمازوں کے بروقت ادا ہونے کی تاکین میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نامزل فرمائی ہے۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ نماز کا وقت پر پڑھنا سب عملوں سے بہتر ہے۔ اس حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر ہے۔ بیچ والی نماز میں اگرچہ پہلے صحابہ کا اختلاف تھا کہ وہ کون سی نماز ہے مگر خندق کی لڑائی میں جب آپ کی عصر کی نماز فوت ہوگئی، اور آپ نے اس صراحت کے ساتھ کافروں کو بد دعا دی کہ خدا ان کے گھروں اور قبروں میں انگارے بھرے کہ انہوں نے ہماری بیچ کی نماز کھوا دی جس سے مراد عصر نے نماز ہے کہ دن اور رات کے بیچ میں ہے۔ اس کی تاکید زیادہ آئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–242
[166] یعنی پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اس میں پانچوں نمازوں کی فرضیت کا بیان ہے۔ نیز اولاد و ازواج کے مسائل کے درمیان میں نماز کا ذکر فرمانا اس نتیجہ پر
پہنچاتا ہے کہ نماز ہی وہ چیز ہے جو انسان کے دل میں اللہ کا خوف، نیکی و پاکیزگی کے جذبات اور احکام الٰہی کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہے اور اسے راستی پر قائم رکھتی ہے۔
[167] یعنی نماز عصر کہ یہ وقت دنیا کے کاروبار میں مشغول رہنے کا ہے۔ اسی وجہ سے اس نماز کی بڑی تاکید اور بڑی فضیلت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 235–238
نماز اور معاملات خانگی :
(ف 1) ان آیات میں جو بات قابل غور ہے ، وہ یہ ہے کہ نکاح و طلاق کے عین درمیان نماز کا ذکر ہے ، اس سیاق کا فلسفہ کیا ہے ؟ نکاح و طلاق کے مسائل جو یکسر خانگی معاملات ہیں ‘ نماز سے کیا تعلق وربط رکھتے ہیں جو خالص روحانی عبادت ہے اور کیوں نماز کو عین ان مسائل کے درمیان بیان کیا ۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ قرآن حکیم مضامین کے بیان کرنے میں کسی اکتسابی اسلوب بیان کا محتاج نہیں ، اس کا انداز بیان اپنا ہے اور فطری ہے ، جس طرح انسان سوچتے وقت کسی خاص منطقی طریق کا پابند نہیں ہوتا اور خیالات تنوع کے ساتھ دماغ میں آتے ہیں ، اسی طرح قرآن حکیم کے مضامین اپنے اندر ایک عجیب تنوع لئے…
Read the full tafseer →ف 3 تمام نمازوں کی حفاظت اور ان پر مداومت اور ہمیشگی کیا کرو اور خاص طور پر درمیان والی نماز یعنی نماز عصر کی محافظت کیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں مودب اور نیاز مند نہ کھڑے ہوا کرو۔ ( تیسیر)
محافظت سے یہاں مداد مت مراد ہے۔ وسطی اوسط کی مؤنث ہے ۔ وسط کی ہم پوری بحث سیقول کی ابتداء میں کرچکے ہیں ۔ قنوت نے تقریباً بارہ تیرہ معنی علماء نے کئے ہیں ۔ مثلاً طاعت ، خشوع دعا ، دوام ، سکوت وغیرہ لیکن اس آیت میں عام مفسرین کے نزدیک سکوت راجح اور مختا رہے اسی طرح صلوٰۃ وسطی کے بارے میں بھی اٹھارہ قول ہیں ۔ مثلاً ہر نمازصلوٰۃ وسطی ہوسکتی ہے بعض نے کہا مغرب بعض نے کہا ظہر ، بعض نے کہا فجر ، لیکن ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
ف 3۔ کثرت علماء کا قول بعض احادیث کی دلیل سے یہ ہے کہ بیچ والی نماز عصر ہے کیونکہ اس کے ایک طرف دو نمازیں دن کی ہیں فجر اور ظہر۔ اور ایک طرف دونوں نمازیں رات کی ہیں مغرب اور عشاء اور عاجزی کی تفسیر حدیث میں خاموشی کے ساتھ آئی ہے اسی آیت سے نماز میں باتیں کرنے کی ممانعت ہوئی پہلے درست تھا۔
Read the full tafseer →مسائل طلاق جاری تھے کہ اچانک نماز کا ذکر چھیڑدیا کیوں ؟
403: گذشتہ آیات میں نکاح و طلاق کے مسائل بیان کئے گئے ممکن تھا کہ بعض لوگ دنیاوی مسائل خیال کر کے ان کی پابندی نہ کرتے اس غلط فہمی کا دور کرنے کے لئے فوراً نماز کی محافظت کا حکم دیا اور بتا دیا کہ نکاح و طلاق اور نماز کے احکام میں فرق کرنا ٹھیک نہیں بلکہ جس طرح نماز کی محافظت اور اس کے اوقات وارکان کا خیال رکھنا ضروری ہے ایسے ہی ان مسائل کا بھی لحاظ کرنا لازم و ضروری ہے جس طرح وہ دین اسلام کا ایک رکن ہے بالکل اسی طرح یہ احکام بھی دین اسلام کا حصہ ہیں۔ جس طرح ان کی ادائیگی فرائض واجبات اور سنن کی صورت میں ہے اسی طرح ان مسائل میں بھی فرائض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
Commentary
Based on the authority of some ahadith, a very large number of ` ulama', have said that al-salat al-wusta َالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ or the middle salah is the salah of ` Asr because there are before it, two Salahs during the day, that of Fajr and Zuhr; and after these come two evening Salahs, that of Maghrib and ` Isha'. Special emphasis has been placed on it because this is a time in which most of the people are busy in their professional work.
Incidentally, the Qur'anic word, Qanitin قَانِتِينَ meaning obedient or submitting, rendered here as 'stand before Allah in total…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
262. Having mentioned the laws for the guidance of human society, God rounds off this address by emphasizing Prayer, for it is Prayers which instil in man the fear of God. They inculcate the feelings of goodness and purity and the disposition to obey the ordinances of God, and foster adherence to righteousness. Without Prayer it would be impossible for men to persist in observing the laws of God, and they would likely be swept away by a current of defiance and disobedience, as happened in the case of the Jews.
263. 'Re expression al-salat al-wusta has been variously interpreted to mean the…
Read the full tafseer →