مزید وضاحت :
اس آیت میں صاف دلالت ہے اس امر پر کہ پہلی آیت میں جن عورتوں کیلئے متعہ مقرر کیا گیا تھا وہ صرف وہی عورتیں ہیں جن کا ذکر اس آیت میں تھا کیونکہ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ دخول سے پہلے جبکہ طلاق دے دی گئی ہو اور مہر مقرر ہوچکا ہو تو آدھا مہر دینا پڑے گا۔ اگر یہاں بھی اس کے سوا کوئی اور متعہ واجب ہوتا تو وہ ضرور ذکر کیا جاتا کیونکہ دونوں آیتوں کی دونوں صورتوں میں ایک کے بعد ایک بیان ہو رہی ہیں واللہ اعلم، اس صورت میں جو یہاں بیان ہو رہی ہے آدھے مہر پر علماء کا اجماع ہے، لیکن تین کے نزدیک پورا مہر اس وقت واجب ہوجاتا ہے جبکہ خلوت ہوگئی یعنی میاں بیوی تنہائی کی حالت میں کسی مکان میں…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 261
یعنی انسانی تعلقات کی بہتری و خوشگواری کے لیے لوگوں کا باہم فیاضانہ برتاؤ کرنا ضروری ہے۔ اگر ہر ایک شخص ٹھیک ٹھیک اپنے قانونی حق ہی پر اڑا رہے، تو اجتماعی زندگی کبھی خوشگوار نہیں ہو سکتی۔
Read the full tafseer →اور دوسری صورت کا حکم یہ ہے کہ جس عورت کا مہر نکاح کے وقت مقرر ہوا ہو، اور اس کو قبل صحبت وخلوت صحیحہ کے طلاق دے دیہو تو مقرر کئے ہوئے مہر کا نصف مرد کے ذمے واجب ہوگا البتہ اگر عورت معاف کردے یا مرد پورا دیدے تو اختیاری بات ہے جیسا کہ آیت اِلَّآ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ سے معلوم ہوتا ہے۔
(1) مرد کے پورا مہر دینے کو بھی معاف کرنے کے لفظ سے شاید اس لئے تعبیر کیا کہ عام عادت عرب کی یہ تھی کہ مہر کی رقم شادی کے ساتھ ہی دے دیجاتی تھی تو طلاق قبل از خلوت کی صورت میں وہ نصف واپس لینے کا حق دار ہوگیا اب اگر وہ رعایت کرکے اپنا نصف واپس نہ لے تو یہ بھی معاف…
Read the full tafseer →یہ اوپر کی صورت سے مختلف ایک صورت بیان ہو رہی ہے۔ وہ یہ کہ مہر تو طے شدہ ہے لیکن طلاق ملاقات سے پہلے ہی دے دی گئی۔ ایسی صورت میں مقررہ مہر کا نصف دینا ہوگا۔ البتہ عورت اگر اپنا حق چھوڑ دے تو الگ بات ہے یا مرد اپنا حق چھوڑ دے یعنی نصف کے بجائے پورا مہر ادا کردے۔ اگرچہ ایک محرک عورت کے لیے بھی مہر چھوڑنے کا موجود ہے کہ شوہر نے ملاقات سے پہلے ہی طلاق دی ہے لیکن قرآن نے مرد کو اکسایا ہے کہ اس کی فتوت اور مردانہ بلند حوصلگی اور اس کے درجے مرتبے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عورت سے اپنے حق کی دستبرداری کا خواہش مند نہ ہو بلکہ اس میدانِ ایثار میں خود آگے بڑھے۔ اس ایثار کے لیے قرآن نے یہاں مرد کو تین پہلوؤں…
Read the full tafseer →237۔ 1 یہ دوسری صورت ہے کہ خلوت صحیحہ سے قبل ہی طلاق دے دی اور حق مہر بھی مقرر تھا اس صورت میں خاوند کے لئے ضروری ہے کہ نصف مہر ادا کرے اور اگر عورت اپنا حق معاف کر دے اس صورت میں خاوند کو کچھ نہیں دینا پڑے گا۔
237۔ 2 اس سے مراد خاوند ہے کیونکہ نکاح کی گرہ (اس کا توڑنا اور باقی رکھنا) اس کے ہاتھ میں ہے۔ یہ نصف حق مہر معاف کر دے یعنی ادا شدہ حق مہر میں سے نصف مہر واپس لینے کی بجائے اپنا یہ حق (نصف مہر) معاف کر دے اور پورے کا پورا مہر عورت کو دے دے۔ اس سے آگے آپس میں فضل اور احسان کو نہ بھلا نے کی تاکید کر کے حق مہر میں بھی اسی فضل اور احسان کو اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
158: یہ وہ صورت ہے جس میں دونوں مرد و عورت نے نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہیں کیا تھا اور پھر دونوں کے درمیان خلوت کی نوبت آنے سے پہلے ہی طلاق ہوگئی، اس صورت میں شوہر پر مہر واجب نہیں ہوتا، لیکن کم از کم ایک جوڑا کپڑا دینا واجب ہے، اور کچھ مزید تحفہ دیدے تو زیادہ بہتر ہے (اس تحفہ کو اصطلاح میں متعہ کہا جاتا ہے) اور اگر نکاح کے وقت مہر کی مقدار طے کرلی گئی تھی، پھر خلوت سے پہلے ہی طلاق ہوگئی تو اس صورت میں آدھا مہر واجب ہوگا۔
Read the full tafseer →دوسری صورت یہ ہے کہ مباشرت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے ، لیکن نکاح کے ساتھ مہر بھی مقرر کردیا گیا ہو ۔ اس صورت میں مہر کا نصف حصہ واجب ہوگا ۔ یہ تو ہے قانون ، لیکن قرآن مجید قانون کے بجائے معاملہ مہربانی حسن سلوک اور سہولت پر چھوڑ دیتا ہے ۔ عورت اور اگر وہ بالغ ہے تو اس کے ولی نکاح کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ معاف کرے اور اپنے قانونی حق سے دستبردار ہوجائے ۔ ایسے کشیدہ حالات میں جو فریق اپنے حق سے دستبردار ہوجاتا ہے ، دراصل بہت ہی شریف النفس ، خوش اخلاق ، بردبار اور معاف کرنے والا ہوتا ہے ۔ وہ کسی ایسے شخص کے مال کو بھی اسی کے پاس رہنے دیتا ہے ، جس کے ساتھ اب دوسرے تعلقات باقی نہیں رہے ۔ لیکن قرآن…
Read the full tafseer →1 اگر نکاح کے وقت مہر مقرر ہوچکا تھا اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی تو آدھا مہر دینا لازم ہے مگر عورت یا مرد کہ جس کے اختیار میں ہے نکاح کا قائم رکھنا اور توڑنا اپنے حق سے درگزر کریں تو بہتر ہے عورت کی تو درگزر یہ کہ آدھا بھی معاف کر دے اور مرد کی درگزر یہ کہ جو مہر مقرر ہوا تھا حوالہ کر دے یا تمام مہر ادا کرچکا تھا تو آدھا نہ لوٹاوے بلکہ سب مہر چھوڑ دے پھر فرمایا کہ مرد درگزر کرے تو تقوی کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ اللہ نے اس کو بڑائی دی اور مختار کیا نکاح باقی رکھنے کا اور طلاق دینے کا اور نفس نکاح سے تمام مہر لازم ہوجاتا ہے اور بدون ہاتھ لگائے طلاق دے کر زوج نصف مہر کو اپنے ذمہ سے ٹلاتا ہے…
Read the full tafseer →آیت 237 وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً
فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ
اس صورت میں مقرر شدہ مہر کا آدھا تو تمہیں دینا ہی دینا ہے۔
اِلَّآ اَنْ یَّعْفُوْنَ
یعنی کوئی عورت خود کہے کہ مجھے آدھا بھی نہیں چاہیے یا کوئی کہے کہ مجھے چوتھائی دے دیجیے۔
اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ط۔
اور یہ گرہ مرد کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ اسے کھول سکتا ہے۔ عورت از خود طلاق دے نہیں سکتی۔ لہٰذا مردوں کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اس معاملے میں فراخ دلی سے کام لیں۔
وَاَنْ تَعْفُوْآ اَقْرَبُ للتَّقْوٰی ط وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ ط
اس کا ترجمہ…
Read the full tafseer →331 عورت یا اس کے ولی کی طرف سے یہی فیاضی کافی ہے کہ وہ خاوند کو وہ آدھا حق مہر بھی معاف کردیں جو اسے ادا کرنا بروئے حکم الٰہی لازم تھا اور خاوند کی طرف سے فیاضی یہ ہے کہ آدھے کی بجائے پورا ہی حق مہر ادا کر دے یا اگر ادا کرچکا ہے تو اس سے کچھ واپس نہ لے اور یہ تاکید اس لیے کی کہ اجتماعی زندگی میں خوشگواری پیدا کرنے کے لیے ایسا فیاضانہ برتاؤ ضروری ہے اگر ہر شخص اپنے قانونی حق پر ہی اڑا رہے تو اجتماعی زندگی کبھی خوشگوار نہیں ہوسکتی۔
اب دیکھئے مطلقہ عورت کے حق مہر کی ادائیگی کے سلسلہ میں شرعی احکام کی رو سے ممکنہ صورتیں چار ہیں : (1) نہ مہر مقرر ہو اور نہ صحبت ہوئی ہو (2) مہر مقرر ہوچکا ہو مگر…
Read the full tafseer →903 ۔ طلاق کی ایک صورت وہ تھی جو ابھی اوپر بیان ہوچکی، یعنی نہ مہر طے ہوا تھا لیکن خلوت نہیں ہوئی تھی کہ طلاق ہوگئی، عام قاعدہ ایسے موقع کے لیے یہ ہے کہ مہر مقرر کا نصف شوہر کے ذمہ واجب الادا ہوگا۔ لیکن دو صورتیں اس حکم عام سے استثناء کی ہیں۔ ایک یہ کہ بیوی اپنے حق سے تمامتر دستبردار ہوجائے اور نصف مہر بھی نہ لے، اور دوسری صورت یہ کہ شوہر اپنے حق سے دستبردار ہوجائے، یعنی جو نصف مہر اسے رکھ لینے کا اختیار تھا اسے بھی وہ نہ رکھے اور بجائے نصف کے پورا مہر ادا کردے۔ (آیت) ” یعفون “ عورت اپنا حق معاف کردے، اور اس کا حق ہے وہی مہر معین کا نصف۔ گویا عورت مہر تمامتر چھوڑ دے، (آیت) ” نصف ما فرضتم “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 237–239
وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ أنْ تَمَسُّوْھُنَّ ، (الآیۃ) اگر تم عورتوں کو چھونے (وطی یا خلوۃ صحیحہ) سے پہلے طلاق دو اور مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا ادا کرو، البتہ اگر عورتیں یہ آدھا مہر بھی چھوڑ دیں یا جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے وہ درگذر کرے تو نہ دو ، فَرِیْضَۃٌ، سے مراد مہر اور فرض کرنے سے مراد مہر کا ذکر کرنا ہے خواہ مقدار معین ہو یا نہ ہو پس اگر مقدار بھی معین ہے تو اس کا آدھا دینا آسان ہے اور اگر مقدار معین نہیں تو مہر مثل پر فیصلہ ہوگا سوال یہ ہے کہ مثل کس کا اور کن چیزوں میں معتبر ہے ؟ اس شعر میں مذخور ہے
مثل ہیں اقربائے آبائی یہ زر و حسن وعمر و دانائی
الَّذِیْ بِیَدِہٖ…
Read the full tafseer →وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِيْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ (اور اگر ہاتھ لگانے (جماع کرنے) سے پہلے تم طلاق دیدو اور ان کے لیے مہرمعین کرچکے ہو تو جو کچھ تم نے معین کیا ہو اس کا آدھا ( دینا) لازم ہے) یعنی جو کچھ تم ان کے لیے مقرر کرچکے ہو اس کا آدھا دینا واجب ہے اس صورت میں جمہور کے نزدیک آدھے مہر سے زیادہ متعہ دینا واجب نہیں ہے مگر حسن اور سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ ہر مطلقہ کے لیے متعہ واجب ہے خواہ مہر مقرر کرنے اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی ہو یا مقرر کرنے کے بعد اور ہاتھ لگانے سے پہلے دیدی ہو۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
(236۔ 237) تم پر کوئی حرج کی بات نہیں اگر تم عورتوں کو ایسی حالت میں جدا کردو یعنی طلاق دے دو کہ نہ تم نے ان کے ساتھ صحبت کی وہ اور نہ ان کے لیے حق مہر کی کوئی مقدار مقرر کی ہو اور اس طلاق کا ایک جوڑا دے دو ، جو صاحب وسعت پر اس کے مال کی حیثیت کے مطابق اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے مطابق واجب ہے، یہ جوڑا دینا مہر کے اوپر ہے (کہ اس صورت میں مہر نہیں) جس میں تین کپڑے دیے جائیں گے ایک قمیض ایک شلوار اور ایک بڑی چادر، یہ چیز مسلمانوں پر لازم ہے اس لیے کہ یہ جوڑا حق مہر کے قائم مقام ہے، اب اللہ تعالیٰ اس شخص کے بارے میں بیان کرتا ہے جو عقد نکاح کے وقت مہر متعین کرے اور اگر صحبت یا خلوت صحیحہ سے…
Read the full tafseer →یہ دوسری صورت ہے کہ مہر مقرر کیا جا چکا ہو اور شوہر نے ہاتھ لگانے (جماع یا خلوت صحیحہ) سے پہلے طلاق دے دی تو اس صورت میں عورت نصف مہر کی حق دار ہوگی۔ ہاں اگر وہ عورت خود معاف کر دے تو دوسری بات ہے، یا خاوند جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، معاف کر دے، یعنی وہ پورا مہر دے چکا ہے تو نصف واپس نہ لے، یا اپنی خوشی سے پورا مہر دے دے۔ پھر (وَاَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ للتَّقْوٰى ۭ‘) فرما کر شوہر کو ترغیب دی ہے کہ پورا مہر دے دینا ہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے، کیونکہ اس میں مخاطب مرد ہیں۔
مسئلہ : اگر شوہر ہاتھ لگانے سے قبل وفات پا جائے تو بیوی پورے مہر کی حق دار ہوگی، اسے ورثہ بھی ملے گا اور اس پر عدت بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 237۔
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) لوگوں نے اس آیت میں اختلاف کیا ہے، پس ایک جماعت نے کہا ہے، اس میں سے امام مالک (رح) وغیرہ ہیں کہ یہ مہر مقر مقرر ہونے کے بعد متعہ کے حکم سے مطلقہ کو نکالنے والی ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسے شامل ہے (آیت) ” ومتعوھن “ اور حضرت ابن مسیب ؓ نے کہا ہے : اس آیت کو سورة الاحزاب کی آیت نے منسوخ کردیا ہے، کیونکہ وہ ہر حس مطلقہ کے متعہ کو متضمن ہے جس کے ساتھ دخول نہیں ہوا اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : اس آیت نے اپنے سے پہلی آیت کو منسوخ کیا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 320 دارالکتب العلمیہ)
میں (مفسر) کہتا ہوں : حضرت سعید ؓ اور حضرت…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں اعمش (رح) سے لفظ آیت ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن “ کے بارے میں روایت کیا کہ حضرت عبد اللہ بن ؓ کی قرأت میں یوں ہے لفظ آیت ” من قبل ان تجامعوھن “
(2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ آدمی مراد ہے جس نے ایک عورت سے شادی کی۔ اس کا مہر مقرر کیا پھر جماع سے پہلے اس کو طلاق دیدی (اور مس سے مراد جماع ہے) تو اس عورت کے لئے آدھا مہر ہے اور اس کے لئے اس سے زیادہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ لوگ خود معاف کردیں اور وہ عورت شادی شدہ ہے۔ اور وہ کنواری لڑکی جس…
Read the full tafseer →[ وَاِنْ : اور اگر ] [ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ : تم لوگ طلاق دو ان کو ] [ مِنْ قَبْلِ : اس سے پہلے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَمَسُّوْہُنَّ : تم نے چھوا ان کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ قَدْ فَرَضْتُمْ : تم فرض کرچکے ہو ] [ لَہُنَّ : ان کے لیے ] [ فَرِیْضَۃً : کوئی واجب (مہر) ] [ فَنِصْفُ مَا : تو اس کا آدھا ہے جو ] [ فَرَضْتُمْ : تم نے فرض کیا (واجب ہے تم پر) ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ یَّعْفُوْنَ : وہ خواتین معاف کردیں ] [ اَوْ : یا (یہ کہ) ] [ یَعْفُوَا : زیادہ دے ] [ الَّذِیْ بِیَدِہٖ : وہ جس کے ہاتھ میں
عُقْدَۃُ النِّکَاحِ : نکاح کی گرہ ہے ] [ وَاَنْ : اور یہ کہ ] [ تَعْفُوْآ : تم لوگ زیادہ…
Read the full tafseer →اور اگر مہر مقرر کیا تھا لیکن طلاق خلوت سے پہلے دیدی تو اس صورت میں مقرر کردہ مہر کا آدھا دینا لازم ہوگا، ہاں اگر عورت بالکل ہی چھوڑ دے کچھ بھی نہ لے تو معاف ہوجائے گا اور اگر شوہر اسے پورا ہی مہر دیدے باو جود یہ کہ آدھا ہی واجب تھا، یا جو پورا مہر دے چکا تھا اس میں سے آدھا واپس نہ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں (اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ) میں یہی آخری بات بیان فرمائی ہے۔ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ وہ شوہر ہے، اور اگر مہر مقرر کیا گیا تھا اور خلوت بھی ہوگئی تھی تو پورا مہر دینا فرض ہوجاتا ہے پھر فرمایا : (وَ اَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ للتَّقْوٰی) (کہ تمہارا معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
حکم سی ودوم۔ بابت مہر۔
قال تعالی، لاجناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن۔۔۔ الی۔۔ بصیر۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں عدت کے اعتبار سے مطلقہ کے احکام مذکور ہوئے اب اس آیت میں مطلقہ کے احکام باعتبار لزوم مہر کے ذکر کرتے ہیں اور اس لیے کہ جن عورتوں کو طلاق دی جاتی ہے ان کی چار قسمیں ہیں ایک یہ کہ نکاح کے وقت مہر معین ہوا تھا اور پھر خلوت کے بعد ان کو طلاق دی گئی تو اس صورت میں شوہر کو تمام مہردینا ہوگا جو نکاح کے وقت مقرر ہوا تھا دوم یہ کہ مہر تو معین ہوا تھا مگر خلوت سے پہلے ہی طلاق دے دی تو اس صورت میں شوہر کو آدھا مہر دینا لازم ہوگا سوم یہ کہ نہ مہر معین ہوا اور نہ خلوت کی نوبت آئی تھی خلوت سے…
Read the full tafseer →471 یہ اس عورت کا حکم ہے جسے دخول سے پہلے طلاق دیدی گئی ہو اور اس کا مہر بوقت نکاح مقرر ہوچکا ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اسے مقررہ مہر کا نصف دیا جائے گا۔ اِلَّآ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۭ۔ ہاں اگر عورت اپنا حق معاف کردے اور نصف مہر جو اس کا حق ہے اس سے بھی دستبردار ہوجائے یا خاوند فیاضی سے کام لے اور مہر معجل کی صورت میں جو اسے نصف واپس لینے کا حق ہے وہ واپس نہ لے یا مہر مؤجل کی صورت میں پور امہر مطلقہ کو دیدے تو یہ صورت ماقبل سے مستثنی ہے اور یہ اقدام دونوں طرف سے مستحسن اور قابل تعریف ہے۔ وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۔ حسن سلوک اور باہمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
ربطہ آیات
گذشتہ دروس میں عدت کا مسئلہ بیان ہوچکا ہے اور یہ بھی کہ دوران عدت نکاح نہیں ہوسکتا۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دوران عدت عورت سے نکاح کا وعدہ لینے سے بھی منع فرمایا ہے۔ البتہ اشارے کنائیے سے بات کرنے کی اجازت دیدی۔ مقصد یہ کہ جس طرح عدت میں نکاح کرنا حرام ہے اسی طرح نکاح کا وعدہ لینا بھی حرام ہے۔ طلاق کے دوران اور اس کے بعد بچے کی رضاعت کا مسئلہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ طلاق کے وقت اگر دودھ پیتا بچہ ہو ، تو اس کی پرورش کا ذمہ دار کون ہوگا۔ اگر بچے کا باپ بھی نہیں ہے تو پھر اس کا بار کون اٹھائے گا۔ نیز یہ کہ دودھ کس عورت سے پلانا چاہئے یہ سب مسائل بیان ہوچکے ہیں۔
حق مہر لازمی ہے
آج کے…
Read the full tafseer →وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِيْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّآ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّكَاحِ 0 ۭ وَاَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى 0 ۭ وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ 237
عفو
فالعَفْوُ : هو التّجافي عن الذّنب . قال تعالی: فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237]
( عو ) عفوت عنہ کے معنی ہیں میں نے اس سے درگزر کرتے ہوئے اس کا گناہ متادینے کا قصد کیا ز لہذا یہاں اصل میں اس کا مفعول ترک کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–238
ترکیب : مالم تمسوھن مامصدر یہ اور زمان اس کے ساتھ محذوف ہے تقدیرہ فی زمن ترک مسھن اور بعض کہتے ہیں ماشرطیہ ہے ان لم تمسوھن فریضۃ فعیلۃ بمعنی مفعولۃ مفعول بہ ہے ومتعوھن معطوف ہے محذوف پر تقدیرہ فطلقوھن ومتعوھن۔ علی الموسع خبر ہے مبتداء محذوف کی متعوھن علی الموسع اور پھر یہ جملہ موضع حال میں ہے فاعل سے اور ممکن ہے کہ مستانفہ ہو متاعا اسم مصدر ہے اور مصدر تمتع
تفسیر : یہ بارہواں حکم ہے۔ واضح ہو کہ جن عورتوں کو طلاق دی جاتی ہے ان کی چار قسمیں ہیں۔ قسم اول یہ کہ ان کا مہر بھی معین ہو اور پھر ان کو خلوت کرکے طلاق دی گئی ہو۔ ان کا حکم پہلی آیتوں میں بیان ہوچکا کہ ان کو پورا مہر دینا چاہیے اور تنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
لاَ جُنَاحَ عَلَیْـکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ مَا لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَۃً صلے ج وَّمَتِّعُوْھُنَّ ج عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِقَدَرُہٗ ج مَتَاعًا م بِالْمَعْرُوْفِ ج حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّآ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْیَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّـکَاحِ ط وَاَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ط وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَـکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
(تم پر کوئی گناہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
فہم القرآن
اب ایسے ہنگامی حالات اور واقعات کے بارے میں ہدایات دی جارہی ہیں جو اس دنیا میں پیش آہی جاتے ہیں۔ ان حالات کے کئی اسباب ہوا کرتے ہیں۔ نکاح کے وقت حق مہر پر جھگڑا، نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو دی گئی معلومات کا غلط ثابت ہونا اور بعض دفعہ موقع پر اچانک کسی شریر کی شرارت اس قدر شر انگیز اور زوداثر ہوتی ہے کہ خوشی کے موقع پر جمع ہونے والے خاندان کے ذمہ دار افراد آپس میں لڑ کر جدا ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر یہ واقعات اچانک رونما ہوتے ہیں جو فریقین کے لیے نہایت ہی خفت کا باعث اور خاص طور پر بیٹی والوں کے لیے ایسا معاملہ نہایت ہی دل خراش اور سبکی کا باعث ہوتا ہے۔ اس سارے ہنگامے میں سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ (اگر تم ان کو طلاق دے دو اس سے پہلے کہ تم نے ان کو چھوا ہو) ۔ اِنْ یہاں فعل پر داخل ہوا بتاویل مصدر فعل موضع جر میں ہے یعنی اس سے پہلے کہ تم نے ان کو چھوا ہو۔
وَقَدْ فَرَضْتُمْ (اور تم معین کرچکے ہو) یہ موضع حال میں ہے یعنی اس حال میں کہ تم نے معین کردیا۔
لَہُنَّ فَرِیْضَۃً (ان کے لئے مہر)
فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّآ اَنْ یَّعْفُوْنَ (پس نصف ہے اس کا جو تم نے مقرر کیا مگر یہ کہ وہ عورتیں معاف کردیں) مراد اس سے مطلقات ہیں۔ ان فعل کے ساتھ استثناء کی وجہ سے موضع نصب میں واقع ہے گویا اس طرح کہا گیا۔ پس تم پر نصف ہے جو تم نے مقرر کیا۔…
Read the full tafseer →(تفسیر) 237۔:
(آیت)” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ فنصف مافرضتم “۔ یہ اس طلاق کے بارے میں ہے جو مہر مقرر کرنے کے بعد اور جماع سے پہلے دی جائے ، پس اس عورت کے لیے مہر مقرر کا آدھا ہے اور اگر جماع سے پہلے میاں بیوی میں سی کوئی ایک مرجائے تو عورت کو مکمل مہر مقرر ملے گا اور آیت کریمہ میں مذکور ” مس “ سے مراد جماع ہے اور ایسی صورت میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے کہ اگر مرد عورت سے خلوت (یعنی میاں بیوی کو ایسا تخلیہ حاصل ہو کہ اگر خاوند جماع کرنا چاہے تو کرسکے) تو کرے مگر جماع نہ کرے اور جماع سے پہلے طلاق دے دے تو اس میں بعض حضرات کا قول ہے کہ اس عورت کے لیے صرف آدھا مہر ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
(236 ۔ 237) ۔ نکاح ہو کر مباشرت کی نوبت نہ پرے اور طلاق دے دی جائے تو بموجب اس آیت کے یہ طلاق جائز ہے۔ اور اس طلاق کی صورت میں نکاح کے وقت مہر نہ قرار پایا ہو تو اپنے مقدور کے موافق کچھ دے کر عورت کو خوش کردینا چاہیے جو بہر حال کپڑوں کے ایک جوڑے سے کم نہ ہو اور زیادہ کی کوئی حد نہیں اور اگر مہر قرار پایا ہو تو نصف مہر دینا چاہیے یہ اور بات ہے کہ عورت اپنا حق چھوڑ دے۔ یا مرد حسن سلوک کے طور پر پورا مہر دے دے۔ صحیح قول آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ الذی بیدہ عقدۃ النکاح سے مراد شوہر ہے کہ وہی مختار نکاح کے قائم رکھنے اور نہ رکھنے کا ہے یہی قول بہت صحابہ اور تابعین کا ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 237–238
پھر اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کا ذکر فرمایا ہے جن کا مہر مقرر کیا گیا ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم مہر مقرر کرنے کے بعد ان کو چھوئے بغیر طلاق دے دو ، تو مطلقہ عورتوں کے لئے نصف مہر ہے اور باقی نصف تمہارا ہے۔ مہر کی یہ رقم اگر عورت کی طرف سے معاف نہ کردی جائے، تو خاوند پر اس کی ادائیگی واجب ہے۔ جب کہ عورت کا اس کو معاف کرنا صحیح ہو۔ : (آیت) اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۭ” یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ “ صحیح مسلک کے مطابق اس سے مراد شوہر ہے (1) (نہ کہ ولی) کیونکہ شوہر ہی وہ شخص ہے جو نکاح کی گرہ کو کھول سکتا ہے۔ (2) عورت کے ولی کے لئے تو…
Read the full tafseer →قول باری ہے (وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن و قد فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم، اور اگر تم انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو جبکہ تم نے ان کے لئے مہر مقرر کردیئے ہوں تو مقررہ مہر کا نصف انہیں دے دو ) فرض کا لغوی معنی ہے تیروں میں علامت اور شناخت و امتیاز کے لئے سوراخ کرنا۔ فرضہ اس علامت کو کہتے ہیں جو پانی کے حصے کے سلسلے میں کسی لکڑی یا پتھر یا چونے پر بنادی جاتی ہے تاکہ ہر حصے دار پانی میں اپنی باری کی پہچان کرسکے دریا یا سمندر کے کنارے کو جہاں کشتیاں لنگر انداز ہوتی ہیں فرضہ کہا جاتا ہے کیونکہ کشتی میں آنے جانے سے وہاں نشان بن جاتا ہے۔ پھر شرع میں فرض کے اسم کا…
Read the full tafseer →680 ً مہر معاف کرنے کا حکم و اختیار : سو مہر عورت کا حق ہے۔ وہ اگر اپنے حق سے دست بردار ہونا چاہے تو ہوسکتی ہے۔ مثلاً وہ مطلقہ عورت یوں کہے کہ جب میرے اس خاوند نے نہ مجھے ہاتھ لگایا، نہ مجھ سے کوئی فائدہ اٹھایا، اور نہ میں اس کی کوئی خدمت کرسکی تو اب میں اس سے یہ مہر کیونکر لوں۔ لہذا میں اسے معاف کرتی ہوں، تو وہ معاف ہوجائیگا۔ کیونکہ یہ اسی کا حق تھا اور اس نے اپنی خوشی سے معاف کردیا، مگر یہ اس صورت میں معتبر ہوگا جبکہ وہ عاقلہ بالغہ ہو اور اپنا یہ حق مہر برضا ورغبت اور اپنی خوشی سے معاف کرے۔ بہرکیف ایسی صورت میں عورت کا جو حق بنتا ہے یعنی آدھا مہر، وہ اگر چاہے تو اس کو معاف کرسکتی ہے، کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
طلاق اور مہر
تشریح : طلاق کا بیان اور مسائل بڑی تفصیل سے بیان کردیئے گئے ہیں۔ قرآن ہر ممکنہ پہلو کو سامنے لاکر قانون بتاتا ہے تاکہ کہیں بھی کسی قسم کی کوتاہی انسان سے نہ ہوجائے۔ یہاں پہلے یہ صورت بیان ہوئی کہ نکاح تو ہوگیا مگر حق مہر مقرر نہ ہوا اور نہ ہی مرد نے بیوی کو ہاتھ لگایا مگر کوئی وجہ ایسی پیدا ہوگئی کہ نکاح ختم کرنا پڑا تو اس کی اجازت اللہ تعالیٰ نے دے رکھی ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ آدمی اپنی حیثیت کے مطابق عورت کو کچھ نہ کچھ ضرور دے اور یہ کام بغیر جھگڑے اور بغیر نفرت کا اظہار کئے ہوئے معروف طریقہ سے کیا جائے تاکہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو کسی کو تکلیف نہ ہو اور کسی کی تذلیل نہ ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–242
آیات 236- 242
اسرارو معارف
لاجناح علیکم…………………لعلکم تعقلون۔
یہاں طلاق کی ایک اور صورت ارشاد ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دے دے اور پھر اس میں بھی دو صورتیں مہر کی ہیں یا تو مہر مقرر ہوگا اور یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں ہے تو اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرو کہ انہیں کچھ خرچ دے دو ۔ صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق دیں۔
روایت ہے کہ حضرت حسن ؓ نے ایک ایسی طلاق کی صورت میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار درہم دیئے تھے اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑوں کا دے دے۔
لفظ متعہ کا معنی :
یہاں لفظ ” متعہ “ واضح طور پر اس عورت کو گزارے کے لئے…
Read the full tafseer →ف 6 یہ دسری صورت ہے کہ مہر مقرر کیا جا چکا ہو اور شو ہر نے قبل از مسیس (مجامعت یا خلوت صحیحہ) طلاق دے دی اس صورت میں عورت نصف مہر کی حقدار ہوگی ہاں اگر وہ عورت خود یا اس کے اولیا معاف کردیں تو دوسری بات ہے بعض نے پیدہ عقدہ النکاح سے شوہر مراد لیا ہے اور اس کی طرح عفویہ ہے کہ وہ اپنی خوشی سے پورا مہر دینا چاہے تو دے سکتا ہے اور پھر، ان تعفوا اقرب اللتقوی فرمایا شوہر کی تر غیب دی ہے کہ پورا مہر دے دینا ہی اقرب الی التقوی ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) مسئلہ اگر اس صورت میں شوہر قبل از مسیس وفات پاجائے تو بیوی پورے مہر کی حقدار ہوگی اسے ورثہ بھی ملے گا اور پر عدت بھی ہوگی جیسا کہ بروع بنت واشق کی حدیث…
Read the full tafseer →(2:237) وقد فرضتم لہم فریحۃ۔ درآنحالیکہ تم نے ان کا مہر مقرر کیا ہوا ہے وضع حال میں ہے فنصف ما فرضتم ۔ ای فلھن نصف الفریضۃ۔ تو اسی مقرر کردہ مہر کا نصف ان عورتوں کو ادا کرو۔ ما۔ موصولہ ہے۔
الا ان یعفون۔ الا حرف استثناء ان مصدریہ یعفون۔ مضارع جمع مؤنث غائب عفو (باب نصر) وہ عورتیں معاف کردیں۔ مگر یہ کہ وہ عورتیں (اپنا حق) معاف کردیں۔
او۔ حرف عطف ہے۔ یا۔
یعفو۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ یا یہ کہ وہ معاف کردے۔
الذی بیدہ عقدۃ النکاح جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے بعض نے اس سے مراد عورت کا ولی لیا ہے لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اس سے مراد عورت کا شوہر ہے کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
لغات القرآن : آیت نمبر 236 تا 237
لم تمسوھن (تم نے ان عورتوں کو نہ چھوا ہو (صحبت نہ کی ہو) ۔ لم تفرضوا (تم نے مقرر نہیں کی ) ۔ فریضۃ (مہر) ۔ متعوھن (ان کو سامان دو ) ۔ لموسع ( وسعت والا، صاحب حیثیت) ۔ قدرہ (اس کے موافق ہے ) ۔ المقتر (تنگ دست ) ۔ نصف (آدھا) ان یعفون (عورتیں معاف کردیں) ۔ یعفوا (مرد معاف کر دے (پورا مہر دے دے) ۔ لا تنسوا (تم نہ بھولو) ۔
تشریح : آیت نمبر 236 تا 237
ان آیتوں میں دو مسئلے بیان کئے گئے ہیں :
(1) ایک صو رت تو یہ ہے کہ ایک شخص نے محض نکاح کیا، کوئی مہر مقرر نہیں کیا اور نہ اس عورت سے قربت حاصل کی اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی ایسی صورت میں چونکہ مہر مقرر ہی نہیں ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
مسائل القرآن : نکاح ہو کر مباشرت کی نوبت نہ آوے اور طلاق دیدی جاوے تو بموجب اس آیت کے یہ طلاق جائز ہے۔ اور اس طلاق کی صورت میں نکاح کے وقت مہر نہ قرار پایا ہو تو اپنے مقدور کے موافق کچھ دے کر عورت کو خوش کردینا چاہئے، جو بہر حال کپڑوں کے ایک جوڑے سے کم نہ ہو۔ اور اگر مہر قرار پایا ہو تو نصف مہر دینا چاہئے یہ اور بات ہے کہ عورت اپنا حق چھوڑ دیوے یا مرد حسن سلوک کے طور پر پورا مہر دے دیوے۔ صحیح قول آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ الذی بیدہ عقدۃ النکاح سے مراد شوہر ہے کہ وہی مختار نکاح کے قائم رکھنے اور نہ رکھنے کا ہے۔ یہی قول بہت سے صحابہ کرام اور تابعین کا ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
[164] ہاتھ لگانے سے مراد مباشرت ہے۔
[165] یعنی اس طرح رشتہ جوڑنے کے بعد توڑ دینے سے بہرحال عورت کو کچھ نہ کچھ نقصان تو پہنچتا ہی ہے اس لئے اللہ نے حکم دیا ہے کہ حسب مقدرت اس کی تلافی کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 235–238
نماز اور معاملات خانگی :
(ف 1) ان آیات میں جو بات قابل غور ہے ، وہ یہ ہے کہ نکاح و طلاق کے عین درمیان نماز کا ذکر ہے ، اس سیاق کا فلسفہ کیا ہے ؟ نکاح و طلاق کے مسائل جو یکسر خانگی معاملات ہیں ‘ نماز سے کیا تعلق وربط رکھتے ہیں جو خالص روحانی عبادت ہے اور کیوں نماز کو عین ان مسائل کے درمیان بیان کیا ۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ قرآن حکیم مضامین کے بیان کرنے میں کسی اکتسابی اسلوب بیان کا محتاج نہیں ، اس کا انداز بیان اپنا ہے اور فطری ہے ، جس طرح انسان سوچتے وقت کسی خاص منطقی طریق کا پابند نہیں ہوتا اور خیالات تنوع کے ساتھ دماغ میں آتے ہیں ، اسی طرح قرآن حکیم کے مضامین اپنے اندر ایک عجیب تنوع لئے…
Read the full tafseer →ف 2 اور اگر تم ان عورتوں کو ہم بستری اور خلوت صحیحہ سے قبل طلاق دو اور نکا ح کے وقت تم ان عورتوں کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جو مہر تم نے ان کے لئے مقرر کیا تھا اس کا آدھا ان کو دینا واجب ہے اور باقی آدھا مہر ساقط اور معاف ہے مگر وہاں دو صورتیں اس قانون سے مستثنا ہیں ایک تو یہ کہ وہ عورتیں تم کو خود اپنا آدھا مہر بھی معاف کردیں یعنی جو آدھا ان کو لینا تھا وہ خود ہی خاوند کو معاف کردیں ۔ دوسری یہ کہ وہ شخص جس کے اختیار میں نکاح کا باقی رکھنا اور توڑنا ہے اور نکاح کا تعلق جس کے قبضہ میں ہے وہ در گزرکر دے اور رعایت کر دے یعنی باقی آدھا مہر بھی عورت کو دے دے اور بجائے نصف مہر کے پورا مہر ادا…
Read the full tafseer →ف 2۔ جس عورت کا مہر نکاح کے وقت مقرر ہواہو اور اس کو قبل صحبت وخلوت صحیحہ کے طلاق دے دی ہو تو مقرر کیے ہوئے مہر کا نصف مرد کے ذمہ واجب ہوگا البتہ اگر عورت معاف کردے یا مرد پورا دے دے تو اختیاری بات ہے۔
Read the full tafseer →نکاح کیا ، مہر بھی مقرر ہوگیا لیکن صحبت میسر نہ آئی کہ طلاق کی نوبت آگئی ؟
402: ایک صورت یہ ہے کہ نکاح کے وقت مہر معین ہوچکا تھا لیکن خاوند نے بغیر صحبت یا بغیر خلوت صحیحہ کے اس کو طلاق دے دی۔ تو اب خاوند کے ذمہ نصف مہر ادا کرنا واجب ہوگا۔ ہاں ! اگر عورت خود ہی مہر لینا پسند نہیں کرتی یعنی نصف مہر جو اس کا شرعی حق تھا قبول نہیں کرتی یا چھوڑ دیتی ہے تو یہ دوسری بات ہے۔ یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ نکاح کرنے والا جس نے بغیر خلوت صحیحہ کے طلاق دی ہے وہ نصف مہر ادا کرنے کی بجائے سارا مہر ادا کردے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں بلکہ یہ صورت اس سے زیادہ بہتر ہے کہ عورت اپنا حق معاف کرے مرد ہی کو معاف…
Read the full tafseer →In the second situation, when the woman's dower has been fixed before marriage and divorce occurs before actual consummation, the injunction says that the man shall be obligated to pay half of the dower already fixed. However, should the woman forgive, or should the man pay the whole, this will be a matter of free choice, as is evident from the verse:
إِلَّا أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ
Unless they (the women) forgive, or forgives the one in whose hand lies the marriage tie. (2:237)
The use of the word ya` fu يَعْفُوَ ('forgives' ) to cover even the…
Read the full tafseer →261. Magnanimity in dealings is essential if human relationships are to remain sound and pleasant. If everyone were to stick strictly to his legal rights and claims, a pleasant social life would he rendered impossible.
Read the full tafseer →