حق مہر کب اور کتنا :
عقد نکاح کے بعد دخول سے بھی طلاق کا دینا مباح ہو رہا ہے۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں مراد " مس " سے نکاح ہے دخول سے پہلے طلاق دے دینا بلکہ مہر کا بھی ابھی تقرر نہیں ہوا اور طلاق دے دینا بھی جائز ہے، گو اس میں عورت کے بیحد دل شکنی ہے، اسی لئے حکم ہے کہ اپنے مقدور بھر اس صورت میں مرد کو عورت کے ساتھ سلوک کرنا چاہئے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس کا اعلیٰ حصہ خادم ہے اور اس سے کمی چاندی ہے اور اس سے کم کپڑا ہے یعنی اگر مالدار ہے تو غلام وغیرہ دے اور اگر مفلس ہے تو کم سے کم تین کپڑے دے۔ حضرت شعبی فرماتے ہیں درمیانہ درجہ اس فائدہ پہنچانے کا یہ ہے کہ کرتہ دوپٹہ لحاف اور چادر دے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 260
اس طرح رشتہ جوڑنے کے بعد توڑ دینے سے بہرحال عورت کو کچھ نہ کچھ نقصان تو پہنچتا ہی ہے، اس لیے اللہ نے حکم دیا ہے کہ حسب مقدرت اس کی تلافی کرو۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 33 طلاق قبل الدخول کی صورت میں مہر کے وجوب اور عدم وجوب کا بیان
طلاق قبل الدخول کے معنی یہ ہیں کہ زوجین میں یک جائی اور خلوت صحیہ سے پہلے ہی طلاق کی نوبت آجائے اس کی دو صورتیں ہیں یا تو اس نکاح کے وقت مہر مقرر کی مقدار متعین نہیں کی گئی یا مقدار متعین کردی گئی پہلی صورت کا حکم اولا مذکور ہے۔
لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ (الی قولہ) حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ یعنی تم پر (مہر کا) کچھ مواخذہ نہیں اگر بیبیوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ ان کو تم نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کے لئے کچھ مہر مقرر کیا ہے (سو اس صورت میں مہر اپنے…
Read the full tafseer →اہل احسان پر ایک حق : اس آیت میں ‘ لاجناح علیکم ’ کا تعلق ایک محذوف سے ہے۔ پوری بات یوں ہے کہ اگر صورت یہ ہو کہ ایک شخص اپنی منکوحہ کو اس حال میں طلاق دے کہ اس نے ابھی اس کے ساتھ تعلق زن و شو قائم کیا ہو نہ اس کے لیے مہر ہی مقرر کیا ہو تو ایسی صورت میں در باب مہر اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بلکہ مہر کے بجائے اسے چاہئے کہ وہ دستور کے مطابق اس کو کچھ دے دلا کر رخصت کرے۔ دستور کے موافق سے مراد یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی حد معین نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار آدمی کے معیار زندگی پر ہے۔ ایک غریب اپنی وسعت کے مطابق دے، امیر اپنی وسعت کے مطابق۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی بنانے اور سنوارنے کے خواہش مند…
Read the full tafseer →236۔ 1 یہ اس عورت کی بابت حکم ہے کہ نکاح کے وقت مہر مقرر نہیں ہوا تھا اور خاوند نے ہم بستری کے بغیر طلاق دے دی تو انہیں کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرو یہ فائدہ ہر شخص کی طاقت کے مطابق ہونا چاہیے خوش حال اپنی حیثیت اور تنگ دست اپنی طاقت کے مطابق دے تاہم محسنین کے لیے ہے یہ ضروری نہیں۔ اس متعہ کی تعیین بھی کی گئی ہے کسی نے کہا خادم کسی نے کہا 50 درہم کسی نے کہا ایک یا چند سوٹ وغیرہ بہرحال یہ تعیین شریعت کی طرف سے نہیں ہے ہر شخص کو اپنی طاقت کے مطابق دینے کا اختیار اور حکم ہے اس میں بھی اختلاف ہے کہ یہ متعہ طلاق ہر قسم کی طلاق یافتہ عورت کو دینا ضروری ہے یا خاص اسی عورت کی بابت حکم ہے جو اس آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
158: یہ وہ صورت ہے جس میں دونوں مرد و عورت نے نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہیں کیا تھا اور پھر دونوں کے درمیان خلوت کی نوبت آنے سے پہلے ہی طلاق ہوگئی، اس صورت میں شوہر پر مہر واجب نہیں ہوتا، لیکن کم از کم ایک جوڑا کپڑا دینا واجب ہے، اور کچھ مزید تحفہ دیدے تو زیادہ بہتر ہے (اس تحفہ کو اصطلاح میں متعہ کہا جاتا ہے) اور اگر نکاح کے وقت مہر کی مقدار طے کرلی گئی تھی، پھر خلوت سے پہلے ہی طلاق ہوگئی تو اس صورت میں آدھا مہر واجب ہوگا۔
Read the full tafseer →اس میں دوحالتیں ہیں ۔ پہلی حالت یہ ہے مطلقہ کو اپنی وسعت کے مطابق کچھ سازوسامان دے ۔ اس سے تو ایک تو عورت کی دلجوئی ہوگی اور نفسیاتی طور پر دونوں خاندانوں کے درمیان خوشگواری پیدا ہوگی اور دوسرے یہ کہ اسے کچھ نہ کچھ مالی فائدہ ہوگا۔ اس طرح کی جدائی سے عورت اپنے لئے کرب اور درد محسوس کرتی ہے ۔ یہ اس کے لئے عمر بھر کا طعنہ اور دشمنی بن جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں اگر اسے بطور تحفہ کچھ دے دے تو اس سے نفسیاتی طور پر اس عورت کے برے احساسات میں کمی آسکتی ہے اور دونوں خاندانوں کے درمیان کشمکش ، کشیدہ تعلقات کے بادل چھٹ سکتے ہیں اور یہ تحفہ اس قسم کا اظہار محبت ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی اعتراف جرم اور معذرت…
Read the full tafseer →5 اگر نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ آیا اور بلا مہر ہی نکاح کرلیا تو بھی نکاح درست ہے مہر بعد میں مقرر ہو رہے گا لیکن اس صورت میں اگر ہاتھ لگانے سے پہلے یعنی مجامعت اور خلوت صحیحہ سے پہلے ہی طلاق دے دی تو مہر کچھ لازم نہ ہوگا لیکن زوج کو لازم ہے کہ اپنے پاس سے عورت کو کچھ دے دے کم سے کم یہی کہ تین کپڑے کرتہ، سربند، چادر اپنی حالت کے موافق اور خوشی سے دے دے۔
Read the full tafseer →آیت 236 لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْہُنُّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَۃً ج۔
اگر کوئی شخص اپنی منکوحہ کو اس حال میں طلاق دینا چاہے کہ نہ تو اس کے ساتھ خلوت صحیحہ کی نوبت آئی ہو اور نہ ہی اس کے لیے مہر مقرر کیا گیا ہو تو وہ دے سکتا ہے۔
وَّمَتِّعُوْہُنَّ ج۔
اس صورت میں اگرچہ مہر کی ادائیگی لازم نہیں ہے ‘ لیکن مرد کو چاہیے کہ وہ اسے کچھ نہ کچھ مال و متاع دنیوی کپڑے وغیرہ دے دلا کر فارغ کرے۔
عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ ج۔
جو وسعت والا ہے ‘ غنی ہے ‘ جس کو کشائش حاصل ہے وہ اپنی حیثیت کے مطابق ادا کرے اور جو تنگ دست ہے وہ اپنی…
Read the full tafseer →330 یعنی نکاح کے وقت نہ تو حق مہر مقرر ہوا اور نہ ہی صحبت کی نوبت آئی تو ایسی صورت میں حق مہر تو ہے ہی نہیں البتہ کچھ نہ کچھ دینے کی تاکید اس لیے فرمائی کہ رشتہ جوڑنے کے بعد صحبت سے پہلے ہی طلاق دینے سے عورت کو جو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کی کسی حد تک تلافی ہو سکے۔ اس لیے تمام نیک لوگوں کو اس کی تاکید کی گئی اور اس سلسلہ میں جہاں تک ممکن ہو فراخدلی سے کام لینا چاہیے۔
Read the full tafseer →900 ۔ یعنی کوئی باز پرس نہیں مہر کے باب میں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی صورتوں میں شوہر کے ذمہ مہر واجب بھی نہیں، (آیت) ” لم تمسوھن۔ یہاں مس سے مراد ہمبستری کی دونوں قسمیں ہیں، حقیقی اور واقعی، اور حکمی وفقہی (یعنی خلوت صحیحہ) طلاق ہمبستری کے قبل بھی بالکل جائز ہے۔ بغیر کسی مہر کی ذمہ داری کے، نکاح بلاتعین مہر بھی صحیح رہتا ہے۔ طلاق کے وقت اس واجب مبہم کا اندازہ شوہر کی حسب استطاعت کیا جائے گا۔
901 ۔ (آیت) ” متعوھن “ کا لفظ قرآن میں عام ہے اور مذاق بشری کی ہمہ گیری اس عموم کو چاہتی بھی ہے۔ اے ملکوھن مایتمتعن بہ وذلک الشیء یسمی متعۃ (روح) متعۃ الطلاق اعلاھا الخادم ودون ذلک الورق ودون ذلک الکسوۃ (روح،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 236 تا 242
ترجمہ : اور جب تک تم عورتوں سے نہ لگو، اور ایک قراءت میں تُمَاسُّوھُنَّ ہے ای تُجَامِعُوْھُنَّ (یعنی قبل اس کے کہ تم ان سے جماع کرو) اور ان کا مہر مقرر نہ کیا ہوا گر تم ان کو طلاق دیدو تو تم پر کوئی حرج نہیں، مَا مصدر یہ ظرفیہ ہے یعنی ہاتھ نہ لگانے اور مہر مقرر نہ کرنے کے زمانہ میں طلاق دینے میں تم پر کوئی مواخذہ نہیں اور نہ مہر واجب، اگر ان کو طلاق دو تو ان کو کچھ فائدہ پہنچاؤ یعنی ان کو کو چھ دو جس سے وہ فائدہ حاصل کریں، اور تم میں سے خوشحال لوگوں پر اپنی مقدرت کے مطابق اور ناداروں تنگ دستوں پر ان کی وسعت کے مطابق فائدہ پہنچانا ہے بالمعروف، مَتَاعًا کی صفت (اول) ہے یہ حق…
Read the full tafseer →لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَةً ( جب تک تم نے عورتوں کو ہاتھ نہ لگایا ہو اور نہ انکے لیے مہر معین کیا ہو تو ( ایسی حالت میں) اگر تم عورتوں کو طلاق دیدو تو اس کا تم پر کچھ گناہ نہیں) چونکہ مباح چیزوں میں طلاق سب سے بری چیز ہے اس لیے اللہ نے اسے ان لفظوں سے ذکر کیا ہے اور مقصود یہ ہے کہ اگر تم نے انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی ہے تو تم پر مہر واجب نہیں ہے ہاں اگر تم نے مقرر کرلیا ہو تو اس صورت میں نصف مہر واجب ہوگا جیسا کہ اس کا حکم عنقریب آتا ہے اور اگر ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دی ہے تو مہر مقرر پورا واجب ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
(236۔ 237) تم پر کوئی حرج کی بات نہیں اگر تم عورتوں کو ایسی حالت میں جدا کردو یعنی طلاق دے دو کہ نہ تم نے ان کے ساتھ صحبت کی وہ اور نہ ان کے لیے حق مہر کی کوئی مقدار مقرر کی ہو اور اس طلاق کا ایک جوڑا دے دو ، جو صاحب وسعت پر اس کے مال کی حیثیت کے مطابق اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے مطابق واجب ہے، یہ جوڑا دینا مہر کے اوپر ہے (کہ اس صورت میں مہر نہیں) جس میں تین کپڑے دیے جائیں گے ایک قمیض ایک شلوار اور ایک بڑی چادر، یہ چیز مسلمانوں پر لازم ہے اس لیے کہ یہ جوڑا حق مہر کے قائم مقام ہے، اب اللہ تعالیٰ اس شخص کے بارے میں بیان کرتا ہے جو عقد نکاح کے وقت مہر متعین کرے اور اگر صحبت یا خلوت صحیحہ سے…
Read the full tafseer →یعنی جس عورت کا عقد نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہ ہوا ہو، اگر شوہر اسے ہاتھ لگانے (یعنی جماع یا خلوت صحیحہ) سے پہلے طلاق دے دے تو شوہر پر مہر وغیرہ کی صورت میں کسی قسم کا مالی تاوان نہیں۔ آیت میں ’ لَاجُنَاحَ ’‘ فرما کر اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ شوہر اپنی مالی حالت کے مطابق اسے کچھ دے کر رخصت کرے، اس اعانت کو ”متعۂ طلاق“ کہا جاتا ہے، سورة احزاب (49) میں مزید بتایا کہ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق کی صورت میں عورت پر عدت بھی نہیں، بلکہ وہ شوہر سے رخصت ہو کر فوراً نکاح کرسکتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 236۔
اس میں گیارہ مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا جناح علیکم ان طلقتم النسآء “ یہ بھی مطلقات کے احکام میں سے ہیں۔ جماع اور بیوی کے پاس جانے سے قبل طلاق دینے والے سے حرج کے اٹھا دینے کے بارے یہ خبر کی ابتدا ہے، چاہے مہر مقرر کیا گیا ہو یا نہ مقرر کیا جائے، جب رسول اللہ ﷺ نے ذوق اور قضائے شہوت کی غرض سے شادی کرنے سے منع فرما دیا اور پاکدامنی کی طلب اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی التجا اور صحبت دوام کے ارادہ سے شادی کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تو مومنین کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جس کسی نے عورت کے پاس جانے سے قبل طلاق دی تو وہ اس مکروہ عمل کے جز میں واقع ہونے والا…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے سنن میں، حضرت علی ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن او تقرضوا لھن فریضۃ “ میں المس سے مراد نکاح ہے اور فریضہ سے مراد مہر ” ومتعوھن “ کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کے لئے مہر مقرر نہ کیا۔ پھر اس کو دخول سے پہلے طلاق دیدی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع پہنچانے کا حکم فرمایا اپنی تنگی اور اپنی مالداری کے لحاظ سے اگر وہ مالدار ہے تو اس کو خادم دینے کے ساتھ نفع پہنچائے اور اس طرح کوئی دوسرا نفع، اور اگر تنگدست ہے تو اس کو تین کپڑے دے یا اس طرح کی کوئی اور چیز۔
(2) ابن…
Read the full tafseer →[ لاَ جُنَاحَ : کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ : اگر تم لوگ طلاق دو عورتوں کو ] [ مَا : جبکہ ] [ لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ : تم نے چھوا نہیں ان کو ] [ اَوْ : یا ] [ تَفْرِضُوْا : (جبکہ نہیں) تم نے فرض کیا ] [ لَہُنَّ : ان کے لیے ] [ فَرِیْضَۃً : کوئی واجب (مہر) ] [ وَّمَتِّعُوْہُنَّ : اور تم لوگ سامان دو ان کو ] [ عَلَی الْمُوْسِعِ : (سامان دینا واجب ہے) فراغ دست پر ] [ قَدَرُہٗ : اس کے اندازے سے ] [ وَعَلَی الْمُقْتِرِ : اور تنگ دست پر ] [ قَدَرُہٗ : اس کے اندازے سے ] [ مَتَاعًا : سامان ہوتے ہوئے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : دستور کے مطابق ] […
Read the full tafseer →مہر اور متعہ کے احکام
ان دونوں آیتوں میں چند مسائل بیان فرمائے ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو صرف نکاح کر کے طلاق دیدے نہ اسے ہاتھ لگایا ہو نہ اس کے لیے مہر مقرر کیا ہو تو اس صورت میں مہر واجب نہیں ہے۔
البتہ بطور سلوک و احسان اور دلداری کے متعہ دینا واجب ہے، یہ متعہ ایک جوڑا کپڑوں کی صورت میں ہوگا، یعنی طلاق دینے والا مرد مطلقہ عورت کو تین کپڑے دے دے، ایک کرتہ، ایک دوپٹہ اور ایک خوب چوڑی چکلی چادر جو سر سے پاؤں تک ڈھانک سکے۔ اور اس میں مرد کی حالت کا اعتبار ہوگا، مرد پیسہ والا ہے تو اپنی حیثیت کے مطابق دے اور تنگ دست ہے تو اپنے حالات کے مطابق دے دے، اس و جوب کو مؤکد فرمانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
حکم سی ودوم۔ بابت مہر۔
قال تعالی، لاجناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن۔۔۔ الی۔۔ بصیر۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں عدت کے اعتبار سے مطلقہ کے احکام مذکور ہوئے اب اس آیت میں مطلقہ کے احکام باعتبار لزوم مہر کے ذکر کرتے ہیں اور اس لیے کہ جن عورتوں کو طلاق دی جاتی ہے ان کی چار قسمیں ہیں ایک یہ کہ نکاح کے وقت مہر معین ہوا تھا اور پھر خلوت کے بعد ان کو طلاق دی گئی تو اس صورت میں شوہر کو تمام مہردینا ہوگا جو نکاح کے وقت مقرر ہوا تھا دوم یہ کہ مہر تو معین ہوا تھا مگر خلوت سے پہلے ہی طلاق دے دی تو اس صورت میں شوہر کو آدھا مہر دینا لازم ہوگا سوم یہ کہ نہ مہر معین ہوا اور نہ خلوت کی نوبت آئی تھی خلوت سے…
Read the full tafseer →470 اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ کا عطف تَمَسُّوْھُنَّ پر ہے اور وہ بھی نفی کے تحت داخل ہے۔ یعنی جن عورتوں کو مس نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی ان کے لیے مہر مقرر کیا گیا ہو۔ اگر ان کو طلاق دیدی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ وَمَتِّعُوْھُنَّ یعنی جن عورتوں کیلئے نکاح کے وقت مہر مقرر نہیں کیا گیا۔ ان کو اگر مس سے پہلے طلاق دیدی جائے تو ان کو متعہ کے کپڑے دینے واجب ہیں۔ متعہ کے کپڑے تین ہیں۔ قمیص، دوپٹہ اور چادر قال الامام ابو حنیفة ھی درع وخمار ومکحفة (روح ص 153 ج 2) مس (ہاتھ لگانے) سے یہاں وطی مراد ہے خواہ حقیقةً ہو خواہ حکماً ۔ حقیقی وطی تو ظاہر ہے۔ حکمی وطی سے خلوت صحیحہ مراد ہے۔ اور خلوت صحیحہ یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
ربطہ آیات
گذشتہ دروس میں عدت کا مسئلہ بیان ہوچکا ہے اور یہ بھی کہ دوران عدت نکاح نہیں ہوسکتا۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دوران عدت عورت سے نکاح کا وعدہ لینے سے بھی منع فرمایا ہے۔ البتہ اشارے کنائیے سے بات کرنے کی اجازت دیدی۔ مقصد یہ کہ جس طرح عدت میں نکاح کرنا حرام ہے اسی طرح نکاح کا وعدہ لینا بھی حرام ہے۔ طلاق کے دوران اور اس کے بعد بچے کی رضاعت کا مسئلہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ طلاق کے وقت اگر دودھ پیتا بچہ ہو ، تو اس کی پرورش کا ذمہ دار کون ہوگا۔ اگر بچے کا باپ بھی نہیں ہے تو پھر اس کا بار کون اٹھائے گا۔ نیز یہ کہ دودھ کس عورت سے پلانا چاہئے یہ سب مسائل بیان ہوچکے ہیں۔
حق مہر لازمی ہے
آج کے…
Read the full tafseer →لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَۃً 0 ۚۖ وَّمَتِّعُوْھُنَّ 0 ۚ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ 0 ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ 0 ۚ حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ 236
جناح
وسمي الإثم المائل بالإنسان عن الحق جناحا ثم سمّي كلّ إثم جُنَاحاً ، نحو قوله تعالی: لا جُناحَ عَلَيْكُمْ في غير موضع، وجوانح الصدر :
الأضلاع المتصلة رؤوسها في وسط الزور، الواحدة : جَانِحَة، وذلک لما فيها من المیل
اسی لئے ہر وہ گناہ جو انسان کو حق سے مائل کردے اسے جناح کہا جاتا ہے ۔ پھر عام گناہ کے معنی میں یہ لفظ استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–238
ترکیب : مالم تمسوھن مامصدر یہ اور زمان اس کے ساتھ محذوف ہے تقدیرہ فی زمن ترک مسھن اور بعض کہتے ہیں ماشرطیہ ہے ان لم تمسوھن فریضۃ فعیلۃ بمعنی مفعولۃ مفعول بہ ہے ومتعوھن معطوف ہے محذوف پر تقدیرہ فطلقوھن ومتعوھن۔ علی الموسع خبر ہے مبتداء محذوف کی متعوھن علی الموسع اور پھر یہ جملہ موضع حال میں ہے فاعل سے اور ممکن ہے کہ مستانفہ ہو متاعا اسم مصدر ہے اور مصدر تمتع
تفسیر : یہ بارہواں حکم ہے۔ واضح ہو کہ جن عورتوں کو طلاق دی جاتی ہے ان کی چار قسمیں ہیں۔ قسم اول یہ کہ ان کا مہر بھی معین ہو اور پھر ان کو خلوت کرکے طلاق دی گئی ہو۔ ان کا حکم پہلی آیتوں میں بیان ہوچکا کہ ان کو پورا مہر دینا چاہیے اور تنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
لاَ جُنَاحَ عَلَیْـکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ مَا لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَۃً صلے ج وَّمَتِّعُوْھُنَّ ج عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِقَدَرُہٗ ج مَتَاعًا م بِالْمَعْرُوْفِ ج حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْہُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّآ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْیَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّـکَاحِ ط وَاَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ط وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَـکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
(تم پر کوئی گناہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
فہم القرآن
اب ایسے ہنگامی حالات اور واقعات کے بارے میں ہدایات دی جارہی ہیں جو اس دنیا میں پیش آہی جاتے ہیں۔ ان حالات کے کئی اسباب ہوا کرتے ہیں۔ نکاح کے وقت حق مہر پر جھگڑا، نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو دی گئی معلومات کا غلط ثابت ہونا اور بعض دفعہ موقع پر اچانک کسی شریر کی شرارت اس قدر شر انگیز اور زوداثر ہوتی ہے کہ خوشی کے موقع پر جمع ہونے والے خاندان کے ذمہ دار افراد آپس میں لڑ کر جدا ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر یہ واقعات اچانک رونما ہوتے ہیں جو فریقین کے لیے نہایت ہی خفت کا باعث اور خاص طور پر بیٹی والوں کے لیے ایسا معاملہ نہایت ہی دل خراش اور سبکی کا باعث ہوتا ہے۔ اس سارے ہنگامے میں سب سے زیادہ…
Read the full tafseer →آیت 236:
لَا جُنَاحُ عَلَیْکُمْ ۔ تم پر کچھ گناہ نہیں یعنی تم پر وجوب مہر کا تاوان نہیں۔
اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو ۔ یہ شرط ہے۔ اور اس کے جواب پر لا جناح علیکم دلالت کر رہا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ (اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں) ۔
مَالَمْ تَمَسُّوْہُنَّ (جب تک کہ تم نے عورتوں کو ہاتھ نہ لگایا ہو) ۔ یعنی ان سے مجامعت نہ کی ہو۔ ما شرطیہ ہے۔ یعنی ان لم تجامعوہن۔ اگر تم نے ان سے مجامعت نہ کی ہو۔
اختلافِ قراءت :
حمزہ ٗ علی رحمہما اللہ نے قرآن مجید میں جہاں بھی یہ لفظ آیا اس کو تُمَاسُّوْہُنَّ پڑھا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 236۔ :
(آیت)” لا جناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن اوتفرضوالھن فریضۃ “۔ نہ تم نے ان بیویوں کو مس کیا (یعنی جماع کیا) اور نہ ان کے لیے مہر مقرر کیا ، یہ آیت کریمہ ایک انصاری کے بارے میں نازل ہوئی جس نے قبیلہ بنو حنیفہ کی ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے لیے مہر مقرر نہ کیا پھر جماع سے پہلے اسے طلاق دے دی ، پس یہ آیت نزل ہوئی پس اس کو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا اس کو متعہ (نفع اٹھانے کی چیز) دے ۔ اگرچہ اپنی ٹوپی ۔ حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے ” مالم تماسوھن “۔ پڑھا ہے یعنی اس جگہ الف کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة احزاب میں باب مفاعلہ کے ساتھ پڑھا ہے (یعنی سورة احزاب میں ” من قبل ان تمسوھن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
(236 ۔ 237) ۔ نکاح ہو کر مباشرت کی نوبت نہ پرے اور طلاق دے دی جائے تو بموجب اس آیت کے یہ طلاق جائز ہے۔ اور اس طلاق کی صورت میں نکاح کے وقت مہر نہ قرار پایا ہو تو اپنے مقدور کے موافق کچھ دے کر عورت کو خوش کردینا چاہیے جو بہر حال کپڑوں کے ایک جوڑے سے کم نہ ہو اور زیادہ کی کوئی حد نہیں اور اگر مہر قرار پایا ہو تو نصف مہر دینا چاہیے یہ اور بات ہے کہ عورت اپنا حق چھوڑ دے۔ یا مرد حسن سلوک کے طور پر پورا مہر دے دے۔ صحیح قول آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ الذی بیدہ عقدۃ النکاح سے مراد شوہر ہے کہ وہی مختار نکاح کے قائم رکھنے اور نہ رکھنے کا ہے یہی قول بہت صحابہ اور تابعین کا ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کا…
Read the full tafseer →یعنی اے مردو ! اگر تم اپنی بیویوں کو چھونے اور مہر مقرر کرنے سے قبل ہی طلاق دے دو ، تو تم پر کوئی گناہ نہیں، اگرچہ اس میں عورتوں کے لئے نقصان ہے تاہم متعہ طلاق سے اس کی تلافی ہوجاتی ہے۔ پس تم پر لازم ہے کہ تم ان کی دل جوئی کی خاطر ان کو کچھ مال ضرور عطا کرو۔ : (آیت) عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ ۚ ” فراخ دست پر اس کی طاقت کے مطابق اور تنگ دست پر اس کی وسعت کے مطابق “ مطلقہ کو خرچ دینا لازم ہے اور اس کا مرجع عرف ہے جو کہ زمان و مکان کے اختلاف کے مطابق مختلف ہے۔ اس لئے فرمایا :: (آیت) مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ ۚ ” فائدہ پہنچانا ہے معروف کے ساتھ ‘ پس یہ حق واجب ہے :…
Read the full tafseer →مطلقہ کے متعہ کا بیان
قول باری ہے (لا جناح علیکم ان طلقتم النساء ما لم تمسوھن او تفرضوا لھن فریضۃ و متعوھن، تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو اس صورت میں انہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے) مفہوم کے لحاظ سے عبارت اس طرح ہے۔ ” مالم تمسوھن ولم تفرضوا لھن فریضۃ “ (جب تک ہم نے انہیں ہاتھ نہ لگایا ہو اور ان کے لئے کوئی مہر مقرر نہ کی ہو) ۔
آپ نہیں دیکھتے کہ اس آیت پر اس قول باری کا لطف ہے (و ان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن و قد فرضتم لھن فریضۃ فنصف ما فرضتم، اور اگر تم نے انہیں طلاق دے دی جبکہ تم نے ان کے لئے مہر مقرر کی ہو تو مقرر شدہ…
Read the full tafseer →677 " خلوت صحیحہ " سے پہلے طلاق کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے پہلے کہ تم نے ان کو ہاتھ لگایا ہو۔ یعنی ان سے صحبت اور مباشرت نہ ہوئی ہو۔ اور " خلوت صحیحہ " بھی اسی کے قائم مقام ہے۔ یعنی ایسی خلوت جس میں مباشرت سے کوئی مانع موجود نہ ہو۔ نہ طبعی جیسے حیض و نفاس وغیرہ۔ اور نہ شرعی جیسے حالت صیام وغیرہ۔ کہ ایسی خلوت " خلوت صحیحہ " کہلاتی ہے اور اس کا بھی وہی حکم ہے جو کہ صحبت اور مباشرت کا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اس حال میں طلاق دے دے کہ نہ اسکا مہر مقرر کیا ہو اور نہ اس نے اس کو چھوا ہو، تو اس صورت میں اس پر مہر کے بارے میں کوئی گناہ نہیں، کہ اس صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
طلاق اور مہر
تشریح : طلاق کا بیان اور مسائل بڑی تفصیل سے بیان کردیئے گئے ہیں۔ قرآن ہر ممکنہ پہلو کو سامنے لاکر قانون بتاتا ہے تاکہ کہیں بھی کسی قسم کی کوتاہی انسان سے نہ ہوجائے۔ یہاں پہلے یہ صورت بیان ہوئی کہ نکاح تو ہوگیا مگر حق مہر مقرر نہ ہوا اور نہ ہی مرد نے بیوی کو ہاتھ لگایا مگر کوئی وجہ ایسی پیدا ہوگئی کہ نکاح ختم کرنا پڑا تو اس کی اجازت اللہ تعالیٰ نے دے رکھی ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ آدمی اپنی حیثیت کے مطابق عورت کو کچھ نہ کچھ ضرور دے اور یہ کام بغیر جھگڑے اور بغیر نفرت کا اظہار کئے ہوئے معروف طریقہ سے کیا جائے تاکہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو کسی کو تکلیف نہ ہو اور کسی کی تذلیل نہ ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–242
آیات 236- 242
اسرارو معارف
لاجناح علیکم…………………لعلکم تعقلون۔
یہاں طلاق کی ایک اور صورت ارشاد ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دے دے اور پھر اس میں بھی دو صورتیں مہر کی ہیں یا تو مہر مقرر ہوگا اور یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں ہے تو اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرو کہ انہیں کچھ خرچ دے دو ۔ صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق دیں۔
روایت ہے کہ حضرت حسن ؓ نے ایک ایسی طلاق کی صورت میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار درہم دیئے تھے اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑوں کا دے دے۔
لفظ متعہ کا معنی :
یہاں لفظ ” متعہ “ واضح طور پر اس عورت کو گزارے کے لئے…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی جس عورت کا عقد کے وقت کوئی مہر مقرر نہ ہو اہو اگر شوہر اسے قبل از مسیلس (نجامعت یا خلوت صحیحہ) طلاق دے دے تو شوہر پر مہر وغیرہ کی صورت میں کسی قسم کا مالی تاوان نہیں ہے۔ آیت میں لا جناح فرما کر اسی طرف اشارہ فرمایا ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ شوہر اپنی مالی حالت کے مطابق اسے کچھ دے کر رخصت کرے اس احانت کو متعہ طلاق کہا جاتا ہے۔ سورت احزاب آیت 49 ۔ میں مزید بتایا کہ قبل از مسیس طلاق کی صورت میں عورت پر عدت بھی نہیں ہے بلکہ وہ شو ہر سے خصت ہو کر فورا نکاح کرسکتی ہے۔ ( شو کانی )
Read the full tafseer →(2:236) مالم تمسوھن۔ ما۔ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) ما۔ شرطیہ ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اگر تم نے ان سے مجامعت نہیں کی۔
(2) ما۔ مصدریہ ہے ۔ ترجمہ ہوگا ۔ کہ ابھی تک تم نے ان سے مجامعت نہیں کی۔
(3) ما۔ موصولہ ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا ۔ جن سے تم نے (ابھی تک) مجامعت نہیں کی۔
لم تمسوا۔ مضارع نفی جحدبلم۔ جمع مذکر حاضر۔ مس۔ مساس ومماسۃ (باب نصر و سمع) چھونا۔ لگ جانا۔ رگڑ لگ جانا۔ لاحق ہونا۔ قرب صنفی یعنی جماع کرنا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب مالم تمسوھن۔ جن کو تم نے (ابھی تک) چھوا نہیں۔ جن سے تم نے (ابھی تک) مجامعت نہیں کی۔
اوتفرضوا لہم فریضۃ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ای اولم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
لغات القرآن : آیت نمبر 236 تا 237
لم تمسوھن (تم نے ان عورتوں کو نہ چھوا ہو (صحبت نہ کی ہو) ۔ لم تفرضوا (تم نے مقرر نہیں کی ) ۔ فریضۃ (مہر) ۔ متعوھن (ان کو سامان دو ) ۔ لموسع ( وسعت والا، صاحب حیثیت) ۔ قدرہ (اس کے موافق ہے ) ۔ المقتر (تنگ دست ) ۔ نصف (آدھا) ان یعفون (عورتیں معاف کردیں) ۔ یعفوا (مرد معاف کر دے (پورا مہر دے دے) ۔ لا تنسوا (تم نہ بھولو) ۔
تشریح : آیت نمبر 236 تا 237
ان آیتوں میں دو مسئلے بیان کئے گئے ہیں :
(1) ایک صو رت تو یہ ہے کہ ایک شخص نے محض نکاح کیا، کوئی مہر مقرر نہیں کیا اور نہ اس عورت سے قربت حاصل کی اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی ایسی صورت میں چونکہ مہر مقرر ہی نہیں ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
مسائل القرآن : نکاح ہو کر مباشرت کی نوبت نہ آوے اور طلاق دیدی جاوے تو بموجب اس آیت کے یہ طلاق جائز ہے۔ اور اس طلاق کی صورت میں نکاح کے وقت مہر نہ قرار پایا ہو تو اپنے مقدور کے موافق کچھ دے کر عورت کو خوش کردینا چاہئے، جو بہر حال کپڑوں کے ایک جوڑے سے کم نہ ہو۔ اور اگر مہر قرار پایا ہو تو نصف مہر دینا چاہئے یہ اور بات ہے کہ عورت اپنا حق چھوڑ دیوے یا مرد حسن سلوک کے طور پر پورا مہر دے دیوے۔ صحیح قول آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ الذی بیدہ عقدۃ النکاح سے مراد شوہر ہے کہ وہی مختار نکاح کے قائم رکھنے اور نہ رکھنے کا ہے۔ یہی قول بہت سے صحابہ کرام اور تابعین کا ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–237
[164] ہاتھ لگانے سے مراد مباشرت ہے۔
[165] یعنی اس طرح رشتہ جوڑنے کے بعد توڑ دینے سے بہرحال عورت کو کچھ نہ کچھ نقصان تو پہنچتا ہی ہے اس لئے اللہ نے حکم دیا ہے کہ حسب مقدرت اس کی تلافی کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 235–238
نماز اور معاملات خانگی :
(ف 1) ان آیات میں جو بات قابل غور ہے ، وہ یہ ہے کہ نکاح و طلاق کے عین درمیان نماز کا ذکر ہے ، اس سیاق کا فلسفہ کیا ہے ؟ نکاح و طلاق کے مسائل جو یکسر خانگی معاملات ہیں ‘ نماز سے کیا تعلق وربط رکھتے ہیں جو خالص روحانی عبادت ہے اور کیوں نماز کو عین ان مسائل کے درمیان بیان کیا ۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ قرآن حکیم مضامین کے بیان کرنے میں کسی اکتسابی اسلوب بیان کا محتاج نہیں ، اس کا انداز بیان اپنا ہے اور فطری ہے ، جس طرح انسان سوچتے وقت کسی خاص منطقی طریق کا پابند نہیں ہوتا اور خیالات تنوع کے ساتھ دماغ میں آتے ہیں ، اسی طرح قرآن حکیم کے مضامین اپنے اندر ایک عجیب تنوع لئے…
Read the full tafseer →ف 1۔ اگر تم عورتوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ تو تم نے ان سے ہم بستری کی ہو اور نہ ان سے خلو ت صحیحہ ہوئی ہو اور نہ نکاح کے وقت کوئی ان کا مہر مقرر کیا ہو تو تم پر ان کو مہر نہ دینے میں کچھ گناہ نہیں اور نہ تم پر ان کے مہر کا کوئی مطالبہ اور مواخذہ ہے ۔ البتہ ایسی عورتوں کو کوئی فائدہ ضرور پہنچائو اور ان کے ساتھ کوئی سلوک ضرور کرو یہ سلوک کرنا دستور اور قاعدے کے مطابق ہو اور صاحب حیثیت اور صاحب مقدرت پر یہ سلوک اس کی حیثیت کے لحاظ سے ہے اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے لحاظ سے لازم ہے ، نیز یہ سلوک کرنا اور فائدہ پہنچا نا نیکو کار اور خوش معاملہ لوگوں پر ضروری اور واجب ہے۔ ( تیسیر)
جناح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 235–236
ف 1۔ یہاں عدت کے اندر چار فعل مذکور ہیں دوزبان کے اور دو دل کے۔ اور ہر ایک کا حکم جدا ہے اول زبان سے تصریحا پیغام دینا یہ حرام ہے لاتواعدوھن سرا میں اس کا ذکر ہے دوم زبان سے اشارہ کرنا جائز ہے لاجناح علیکم اور قولا معروفا میں اس کا ذکر ہے۔ سوم دل سے یہ ارادہ کرنا کہ ابھی یعنی عدت کے اندر نکاح کرلیں گے یہ بھی حرام ہے کیونکہ عدت کے اندر نکاح کرنا حرام ہے اور ارادہ حرام کا حرام ہے۔ لاتعزمو میں اس کا ذکر ہے۔ چہارم دل سے یہ ارادہ کرنا کہ عدت کے بعد نکاح کریں یہ جائز ہے۔ اکننتم فی انفسکم میں اس کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →نکاح کیا لیکن مہر مقرر نہیں کیا پھر خلوت صحیحہ بھی نہ ہوئی کہ طلاق کی نوبت آگئی ؟
401: نکاح کے وقت مہر مقرر نہ ہوا ہو تو بھی نکاح صحیح ہے لیکن ایسی عورت کو اگر صحبت اور خلوت صحیحہ سے قبل ہی طلاق دے دی تو مہر کیا ہوگا ؟ مہر کچھ بھی ادا نہیں کرنا ہوگا۔ لیکن یہ تو ایک قانونی صورت ہوئی کہ کچھ ادا نہ کرنا پڑا۔ اخلاق بھی تو آخر کوئی چیز ہے ؟ اخلاقی لحاظ سے ضروری ہے کہ مرد جس نے نکاح کیا تھا اپنی حیثیت کے مطابق عورت سے نیک سلوک کرے اور کچھ نہ کچھ اس کو دے دے اور نہیں تو کپڑوں کو جوڑا ہی سہی۔ اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق جو کچھ زیادہ سے زیادہ کرو گے وہ تمہارے حق میں نیکی لکھی جائے گی اور تمہارے کردار…
Read the full tafseer →Commentary
Keeping dower and consummation in view, divorce can be of four situations. The injunction concerning the first two of these has been stated in these verses. (1) Dower is not fixed and consummation has not taken place. (2) Dower is fixed but consummation has not taken place. (3) Dower is fixed and consummation has taken place. Here the fixed dower will have to be paid in full. This injunction appears elsewhere in the Holy Qur'an. (4) Dower has not been pre-fixed but divorce was given after consummation. Here full mahr al-mithl مھر المثل (a dower as in the divorcees' family) will…
Read the full tafseer →260. This sundering of the matrimonial contract after it has been concluded does cause some harm to the woman; God has ordered, therefore, that the person concerned should compensate for the loss according to his capacity.
Read the full tafseer →