پیغام نکاح :
مطلب یہ کہ صراحت کے بغیر نکاح کی چاہت کا اظہار کسی اچھے طریق پر عدت کے اندر کرنے میں گناہ نہیں مثلاً یوں کہنا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں، میں ایسی ایسی عورت کو پسند کرتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اللہ میرا جوڑا بھی ملا دے، انشاء اللہ میں تیرے سوا دوسری عورت سے نکاح کا ارادہ نہیں کروں گا، میں کسی نیک دیندار عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، اسی طرح اس عورت سے جسے طلاق بائن مل چکی ہو عدت کے اندر ایسے مبہم الفاظ کہنا بھی جائز ہیں۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ بن قیس سے فرمایا تھا جبکہ ان کے خاوند ابو عمرو بن حفص نے انہیں آخری تیسری طلاق دے دی تھی کہ جب تم عدت ختم کرو تو مجھے خبر کردینا، عدت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
سورة الْبَقَرَة 259
“ یہ عدت وفات ان عورتوں کے لیے بھی ہے جن سے شوہروں کی خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو۔ البتہ حاملہ عورت اس سے مستثنیٰ ہے۔ اس کی عدت وفات وضع حمل تک ہے، خواہ حمل شوہر کی وفات کے بعد ہی ہوجائے یا اس میں کئی مہینے صرف ہوں۔
”اپنے آپ کو روکے رکھیں“ سے مراد صرف یہی نہیں ہے کہ وہ اس مدت میں نکاح نہ کریں، بلکہ اس سے مراد اپنے آپ کو زینت سے بھی روکے رکھنا ہے۔ چناچہ احادیث میں واضح طور پر یہ احکام ملتے ہیں کہ زمانہ عدت میں عورت کو رنگین کپڑے اور زیور پہننے سے، مہندی اور سرمہ اور خوشبو اور خضاب لگانے سے، اور بالوں کی آرائش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا اس زمانے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 31 شوہر کی وفات ہونے کی صورت میں عدت کا بیان
وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ (الیٰ قولہ) وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ اور جو لوگ تم میں وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو (نکاح وغیرہ سے) روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن پھر جب اپنی (عدت کی) میعاد ختم کرلیں تو تم کو (بھی) کچھ گناہ نہ ہوگا ایسی بات (کے جائز رکھنے) میں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے لئے کچھ کارروائی (نکاح کی) کریں قاعدہ کے موافق (البتہ اگر کوئی خلاف قاعدہ شرع کریں اور تم باوجود روک سکنے کے نہ روکو تو تم بھی شریک گناہ ہوگے) اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام افعال کی خبر رکھتے…
Read the full tafseer →اسلامی معاشرے میں جذبات کا احترام : اسلامی معاشرے میں ایک دوسرے کے جذبات کے لحاظ و احترام کی بڑی اہمیت ہے۔ اس وجہ سے ممانعت فرمائی گئی کہ اگر کوئی انتقال کر جائے تو کسی کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی بیوہ سے اس کے زمانہ عدت ہی میں نکاح کی پینگیں بڑھانا شروع کردے۔ اپنے ایک مرحوم بھائی کے لیے ایک حساس اور دردمند بھائی کے اندر جو جذبات ہونے چاہئیں، یہ بات اس کے بھی منافی ہے اور ایک غمزدہ بیوہ کے جذبات کا ایک شریف آدمی کو جو لحاظ ہونا چاہیے یہ اس کے بھی خلاف ہے۔ مسلمانوں کا معاشرہ رحماء بینہم کا معاشرہ ہے، جانوروں کا گلہ نہیں ہے۔ فرمایا کہ اگر کوئی شخص بیوہ سے نکاح کا طلب ہو تو وہ یہ تو…
Read the full tafseer →235۔ 1 یہ بیوہ یا وہ عورت جس کو تین طلاق مل چکی ہوں ان کی بابت کہا جا رہا ہے کہ عدت کے دوران ان سے اشارے میں تو تم نکاح کا پیغام دے سکتے ہو (مثلاً میرا ارادہ شادی کرنے کا ہے یا میں نیک عورت کی تلاش میں ہوں وغیرہ) لیکن ان سے کوئی خفیہ وعدہ مت لو اور نہ مدت گزرنے سے قبل عقد نکاح پختہ کرو لیکن وہ عورت جس کو خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں اس کو عدت کے اندر اشارے میں بھی نکاح کا پیغام دینا جائز نہیں ممکن ہے خاوند رجوع ہی کرلے۔
235۔ 2 اس سے مراد وہی تعریض و کنایہ ہے جس کا حکم پہلے دیا گیا ہے مثلاً میں تیرے معاملے میں رغبت رکھتا ہوں یا ولی سے کہے کہ اس کے نکاح کی بابت فیصلہ کرنے سے قبل مجھے اطلاع…
Read the full tafseer →157: جو عورت عدت گزاررہی ہو اس کو صاف لفظوں میں نکاح کا پیغام دینا اور یہ بات پکی کرلینا جائز نہیں ہے کہ عدت کے بعد تم مجھ سے نکاح کروگی، البتہ اس آیت نے کوئی مناسب اشارہ دینے کی اجازت دی ہے، جس سے وہ عورت سمجھ جائے کہ اس شخص کا ارادہ عدت کے بعد پیغام دینے کا ہے، مثلاً کوئی اتنا کہلوادے کہ میں بھی کسی مناسب رشتے کی تلاش میں ہوں۔
Read the full tafseer →یہ تو تھی عورت ۔ اب اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی ہدایات دیتے ہیں جو اس عورت کو نکاح میں لانا چاہتے ہیں ، لیکن وہ عدت گزاررہی ہے ۔ ان کو ایسی ہدایت دی جاتی ہے کہ جس میں ذاتی آداب ، اجتماعی آداب ، فریقین کے جذبات ومیلانات اور ایسے مرحلے کے مصالح اور تقاضوں سب کو ملحوظ رکھا گیا ہے :
وَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ ” زمانہ عدت میں خواہ تم ان بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کردو ، خواہ وہ دل میں چھپائے رکھو ، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “
دوران عدت عورت کے ساتھ ، میت کے خاندان کی کچھ ایسی یادیں…
Read the full tafseer →3 خلاصہ آیت کا یہ ہوا کہ عورت خاوند کے نکاح سے جدا ہوئی تو جب تک عدّت میں ہے تو کسی دوسری کو جائز نہیں کہ اس سے نکاح کرلے یا صاف وعدہ کرالے یا صاف پیغام بھیجے لیکن اگر دل میں نیت رکھے کہ بعد عدّت میں اس سے نکاح کروں گا یا اشارۃً اپنے مطلب کو اسے سنا دے تاکہ کوئی دوسرا اس سے پہلے پیام نہ دے بیٹھے مثلاً عورت کو سنا دے کہ تجھ کو ہر کوئی عزیز رکھے گا یا کہے کہ میرا ارادہ کہیں نکاح کرنے کا ہے تو کچھ گناہ نہیں مگر صاف پیغام ہرگز نہ دے۔
4 یعنی حق تعالیٰ تمہارے جی کی باتیں جانتا ہے سو ناجائز ارادہ سے بچتے رہو اور ناجائز ارادہ ہوگیا تو اس سے توبہ کرو، اللہ بخشنے والا ہے اور گنہگار پر عذاب نہ ہوا تو اس…
Read the full tafseer →آیت 235 وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآءِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ ط
کسی عورت کا عدت کے دوران نکاح تو نہیں ہوسکتا ‘ نہ ہی اسے واضح طور پر پیغام نکاح دیا جاسکتا ہے ‘ البتہ اشارے کنائے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مجھے اس میں دلچسپی ہے۔ یا پھر یہ بات اپنے دل ہی میں پوشیدہ رکھی جائے اور عدت ختم ہونے کا انتظار کیا جائے۔
عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوْنَہُنَّ
آخر تمہیں ان کا خیال تو آئے گا کہ یہ عورت بیوہ ہوگئی ہے ‘ اب میں اس سے شادی کرسکتا ہوں۔ کوئی آدمی یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ یہ جو میرے دل میں بیوہ کے بارے میں خیال آ رہا ہے اور اس سے نکاح…
Read the full tafseer →328 یعنی ایسی عدت والی بیواؤں کو تم اشارتاً تو پیغام نکاح دے سکتے ہو مگر واضح الفاظ میں پیغام دینا ناجائز ہے۔ مثلاً اسے یوں کہہ سکتے ہو کہ میرا بھی کہیں نکاح کرنے کا ارادہ ہے یا اسے یوں کہہ دے کہ ابھی تم ماشاء اللہ جوان ہو۔ اور اس طرح اشارتاً پیغام سنا دینے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ کوئی دوسرا اس سے پہلے پیغام نہ دے دے، البتہ جو عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہو اسے اشارتاً بھی کوئی ایسی بات کہنا حرام ہے۔
329 یہ تو یقینی بات ہے کہ اگر تمہارا اس سے نکاح کا ارادہ ہے تو تم یقینا اسے دل میں یاد رکھتے ہو گے۔ لیکن اس خیال سے مغلوب ہو کر نہ تو دوران عدت اس سے کوئی وعدہ کرنا یا وعدہ لینا اور نہ ہی نکاح…
Read the full tafseer →893 ۔ دوران عدت میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ کوئی مرد کسی بیوہ سے نکاح کا ارادہ اپنے دل میں قائم کرلے، اور زبان پر نہ لائے یا اگر لائے بھی تو محض اشارۃ کنایۃ۔ صراحت کے ساتھ البتہ اجازت اس زمانہ میں نہیں۔
894 ۔ (سومحض تذکرہ کی حد تک رہنے کا کوئی مضائقہ نہیں) یہ عین فطرف بشری کا ترجمان ہے۔
895 ۔ دروان عدت میں عورت سے وعدہ نکاح کرلینا، علانیہ نہ سہی، بہ طور راز کے بھی جائز نہیں۔ اور یہ ٹکڑا اسی حکم کی تاکید کے لیے ہے۔ (آیت) ” سرا “۔ سر کے عم معنی جو راز کے ہیں۔ ظاہر ہیں جمہور مفسرین نے وہی قبول کیے ہیں۔ لیکن ایک مجازی معنی خود نکاح کے بھی ہیں۔ اور ابن سیدہ لغوی، فراء نحوی وغیر ہما نے یہاں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ (الآیۃ) یہ اس بیوہ کی عدت کا بیان ہے جس کو حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو بچہ پیدا ہونے تک اس کی عدت ہے خواہ جنازہ لے جانے سے پہلے ہوجائے یا چار مہینے دس دن سے بھی زیادہ میں ہو۔
مسئلہ : جس کا خاوند انتقال کر جائے اس عورت کو عدت کے اندر خوشبو لگانا، سنگار کرنا، سرمہ، تین بلا ضرورت دوا لگانا، رنگین کپڑے پہننا درست نہیں، نکاح کے بارے میں صریح گفتگو بھی درست نہیں جیسا کہ اگلی آیت میں آتا ہے، اور رات کو دوسرے گھر میں رہنا بھی درست نہیں۔
مسئلہ : اگر چاند رات کو خاوند کی وفات ہوئی ہو تب تو یہ مہینے خواہ انتیس کے ہوں یا تیس کے چاند کے حساب سے پورے کیے جائیں گے اور اگر…
Read the full tafseer →وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِـيْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاۗءِ ( اور (اے نکاح کے پیغام دینے والو ! ) تم پر کچھ گناہ نہیں اس میں کہ تم اشارتاً ( ان) عورتوں کو نکاح کا پیغام دو ) خطبہ کے معنی نکاح کا پیغام دینے کے ہیں اور تعریض اس کلام کو کہتے ہیں جس سے سننے والا متکلم کی مراد کو سمجھ لے بغیر اس کے کہ حقیقۃً یا مجازاً وہ لفظ اس کی مراد کے لیے موضوع ہو اور کنایہ اس کو کہتے ہیں کہ شے کے لوازم کو ذکر کرکے اصل شیے کو بتایا جائے چناچہ طویل النجاد (لمبے پر تلے والا) لمبے قد والے کو اور کثیر الرماد ( بہت راکھ والا) بہت مہماندار کو بولتے ہیں اور تعریض ہی کی قسم سے یہ ایک روایت ہے کہ سکینہ…
Read the full tafseer →(235) اور جن عورتوں کے شوہر انتقال کرچکے اور ابھی ان کی عدت پوری نہیں ہوئی تو ان کو نکاح کا پیغام دینے میں کوئی حرج نہیں کہ عدت گزرنے کے بعد اس سے شادی کرلیں، اشارتا اس سے کہا جائے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم دونوں کو حلال طریقہ پر اکٹھاکردے تو کتنا اچھا ہو یا اپنے دلوں میں اس چیز کو پوشیدہ رکھو کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم ضرور ان سے نکاح کا ذکر کرو گے مگر صاف الفاظ میں نکاح کا وعدہ نہ کرو مگر یہ کہ صحیح طریقہ یہ اشارتا اس کا ذکر کرو کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم دونوں کا ساتھ کردے تو بہت اچھا ہو اور تم نکاح کے تعلق کا پختہ ارادہ بھی نہ کرو جب تک کہ اس کی عدت نہ گزر جائے اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے…
Read the full tafseer →وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ۔۔ : یعنی عدت کے دوران میں عورت کو صاف الفاظ کے ساتھ پیغام نکاح دینا جائز نہیں، البتہ مناسب طریقے سے یعنی اشارہ کنایہ سے کوئی بات کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : (فِـيْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ) اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میرا شادی کرنے کا پروگرام ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے کوئی نیک بیوی عطا فرمائے۔“ [ بخاری، النکاح، باب قول اللہ عزوجل : (ولا جناح علیکم فیما۔۔) : 5124 ] لیکن یہ حکم اس عورت کا ہے جس کا شوہر فوت ہوگیا ہو یا اسے تینوں طلاقیں ہوچکی ہوں، جیسا کہ فاطمہ بنت قیس ؓ کو تینوں طلاقیں ہوگئیں تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں فرمایا :…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 235۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولاجناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النسآء او اکننتم فی انفسکم علم اللہ انکم ستذکرونھن ولکن لاتواعدوھن سرا الا ان تقولوا قولا معروفا “۔
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا جناح یعنی کوئی گناہ نہیں، ” جناح “ کا معنی گناہ ہے یہی معنی شریعت میں اصح ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد شاق گزرنے والا امر ہے لغت کے اعتبار سے یہ معنی اصح ہے۔ شماخ نے کہا ہے :
اذا تعدو براکبھا خلیجا تذکر مالدیہ من الجناح “۔
اس میں الجناح سے مراد مشقت آمیز امر ہے :
اور قولہ تعالیٰ : (آیت) ” علیکم فیما عرضتم “۔ اس میں خطاب تمام لوگوں کو کیا گیا ہے :…
Read the full tafseer →عدت کے دوران دو سرے سے نکاح جائز نہیں
(1) وکیع، الفریابی، عبد الرزاق، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، النجار، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء او اکننتم فی انفسکم “ میں تعریض سے مراد ہے کہ وہ کہے کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں اور میں ایسی ایسی عورت کو پسند کرتا ہوں۔ اور عورتوں کی غرض سے اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسی نیک عورت میسر فرمائیں لیکن اسے صراحۃ نکاح کا پیغام نہ دے۔
(2) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ عورت کی عدت میں تعریض یہ…
Read the full tafseer →[ وَلاَ جُنَاحَ : اور کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ فِیْمَا : اس میں ] [ عَرَّضْتُمْ : تم لوگ اشارۃً پیش کرو ] [ بِہٖ : جس کو ] [ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآئِ : ان خواتین کے رشتہ کے پیغام میں سے ] [ اَوْ اَکْنَنْتُمْ : یا تم لوگ ] [ چھپائو ] [ فِیْ اَنْفُسِکُمْ : اپنے جی میں ] [ عَلِمَ اللّٰہُ : اللہ نے جانا ] [ اَنَّــکُمْ : کہ تم لوگ ] [ سَتَذْکُرُوْنَہُنَّ : تذکرہ کرو گے ان کا ] [ وَلٰکِنْ : اور لیکن ] [ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ : تم لوگ معاہدہ مت کرو ان سے ] [ سِرًّا : چوری چھپے ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ تَقُوْلُوْا : تم لوگ کہو ] [ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا…
Read the full tafseer →بیوہ عورتوں کو صریح پیغام نکاح دینے کی ممانعت
اس آیت شریفہ میں عدت وفات گزارنے والی عورتوں کے بارے میں ایک تنبیہ فرمائی ہے اور وہ یہ کہ ایسی عورتوں کو صاف صریح الفاظ میں نکاح کا پیغام نہ دیا جائے ہاں اگر اشارتاً و کنایتاً ذکر کردیا جائے مثلاً یوں کہہ دیا جائے کہ فکر نہ کرنا اللہ مالک ہے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ۔ تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
اور اس میں بھی کوئی گناہ نہیں کہ صرف دل میں یہ خیال کرلیا جائے کہ اس کی عدت گزر جائے گی تو اس سے نکاح کرلوں گا۔ اللہ تعالیٰ کو سب کے دلوں کا حال معلوم ہے، اس نے اتنی گنجائش دے دی کہ اشارتاً و کنایتاً عورت کے کان میں…
Read the full tafseer →حکم سی ویکم۔ متعلق پیغام نکاح دراثناعدت۔
قال تعالی، ولاجناح علیکم فیما عرضتم بہ۔۔۔ الی۔۔۔ حلیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں عدت کے بعد نکاح کی اجازت مذکور تھی اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ عدت کے اندر اندر نکاح کا وعدہ اور نکاح کا صریح پیغام تو جائز نہیں البتہ نکاح کا اشارہ اور کنایہ جائز ہے اس لیے کہ کسی کے مرتے ہی اس کی بیوہ سے نکاح کا پیغام دینا بےمروتی ہے گویا کہ پیغام دینے والا اس کی موت کا منتظر ہی تھا خصوصا جب کہ بیوہ صاحب کمال اور صاحب جمال بھی ہو تو پیغام والے اور بھی جلدی کرتے ہیں اور علی ہذا عدت کے اندر عورت کا نکاح کے متعلق گفتگو کرنا بےوفائی پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے شوہر کے مرتے ہی…
Read the full tafseer →468 بیوہ عورت کے سامنے اس سے نکاح کرنے کے ارادے کا اظہار عدت کے دوران صراحةً جائز نہیں۔ البتہ اشارةً ایسا کرے تو جائز ہے۔ مثلاً بیوہ یا اس کے ولی کے سامنے یوں کہے کہ " خدا کرے کہ میرا گھر بھی آباد ہوجائے "۔ یا اس قسم کا کوئی اور جملہ۔ اسی طرح اگر دل میں ارادہ کرلے کہ عدت کے بعد اس سے نکاح کروں گا مگر اس کا صراحة اظہار نہ کرے تو یہ بھی جائز ہے۔ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرًّا۔ اللہ کو معلوم تھا کہ تم ضرور ان کا ذکر کروگے۔ اور دل میں ان کی طرف دھیان کروگے اور اس سلسلے میں اپنے اوپر پورا کنٹرول نہیں کرسکو گے۔ اس لیے تہیں اشارةً ذکر کرنے کی اجازت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
ربطہ آیات
گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے رضاعت کا مسئلہ بیان فرمایا تھا کہ اگر ماں کو طلاق ہوجائے تو بچے کو دودھ کون پلائے گی۔ رضاعت کی مدت اور دودھ پلانے والی عورت کے حق کا بیان تھا۔ یہ بھی آچکا ہے کہ اگر بچے کا باپ موجود ہے تو رضاعت کا خرچہ وغیرہ اس کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر باپ نہیں ہے تو یہ ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو بچے کے وارث بن سکتے ہیں۔ اگر بچے کی اپنی ماں دودھ پلانے سے قاصر ہے ، وہ خود بیمار ہے۔ یا اس کا دودھ مضر صحت ہے تو پھر کسی دوسری عورت سے دودھ پلانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ تاہم ایسی عورت کے ساتھ جو اجرت طے ہوجائے اسے دستور کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔ ایک دوسرے پر زیادتی…
Read the full tafseer →وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِـيْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَاۗءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ 0 ۭ عَلِمَ اللہُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَہُنَّ وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرًّا اِلَّآ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا 0ۥۭ وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّكَاحِ حَتّٰي يَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَہٗ 0 ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ يَعْلَمُ مَا فِىْٓ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْہُ 0 ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ 235 ۧ
تَّعْرِيضُ
والتَّعْرِيضُ : کلامٌ له وجهان من صدق وکذب، أو ظاهر وباطن . قال : وَلا جُناحَ عَلَيْكُمْ فِيما عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
ترکیب : والذین الخ مبتدا یتربصن خبر من خطبۃ النساء یہ جار مجرور موضع حال میں ہے بہ سے سرا مفعول بہ ہے کیونکہ یہ بمعنی نکاح ہے اے لاتواعدوھن نکا حا اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو ای مواحدۃ سراوقیل تقدیرہ فی سر۔ سو یہ ظرف ہے الا ان تقولو استثناء مفرغ ہے مدلول نہی سے ای لا تواعدو ھن مواعدۃ ما الامواعدۃ معروفۃ۔
تفسیر : پہلی چار آیتوں میں عدت طلاق مذکور تھی اس لیے عدت وفات ؎ 1 کا بھی حکم بیان کردیا۔ یہ گیا رہواں حکم ہے۔ فرماتا ہے جو لوگ بیویاں چھوڑ مریں تو ان کی بیوی کو چار مہینے دس روز تک چاہیے کہ نکاح نہ کریں نہ جو چیزیں نکاح کے اسباب ہیں ان کو عمل میں لاویں۔ زیب وزینت ‘ سرمہ کا جل وغیرہ اور نہ…
Read the full tafseer →وَلَا جُنَاحَ عَلَیْـکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْـبَۃِ النِّسَآئِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ سَتَذْکُرُوْنَھُنَّ وَلٰـکِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرًّا اِلَّآ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ط وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّـکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْـکِتٰبُ اَجَلَـہٗ ط وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ فَاحْذَرُوْہُ ج وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌحَلِیْمٌ۔ ع
(اور تم پر کوئی گناہ نہیں اس بات میں کہ تم ان عورتوں کو اشارہ و کنایہ سے پیغامِ نکاح دو یا تم اپنے دلوں میں چھپائے رہو، اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور ان کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عورتوں کے مسائل جاری ہیں۔
بیوہ عورت اپنے خاوند کی وفات کے بعد چار مہینے دس دن کی عدت گزارے گی بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہو۔ حاملہ ہونے کی صورت میں اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہوگی۔ اس عدت کے دوران اس کے ساتھ نکاح کرنے کا خواہش مند شخص کسی ایسے طریقے اور انداز سے اسے اپنے ارادے سے آگاہ نہیں کرسکتا جس سے نکاح کرنے کا کھلا اشارہ پایا جائے البتہ کنایہ کی زبان استعمال کرسکتا ہے۔ یہ شرط عورت کی پریشان حالی کی وجہ سے عائد کی گئی ہے کیونکہ عدّت اور صدمے کے ایّام میں اس کے ساتھ نکاح کی واضح بات کرنا ہمدردی کے بجائے اس کی افسردگی میں اضافہ اور دکھے ہوئے دل پر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔…
Read the full tafseer →آیت 235 :
وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖ مِنْ خِطْبَۃِالنِّسَآئِ (تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اسمیں کہ تم اشارۃً ان عورتوں کو نکاح کا پیغام دو ) ۔
تعریض و کنایہ کا فرق :
خطبہ کا مطلب طلب نکاح اور تعریض یہ ہے کہ تم کہو بیشک تو خوبصورت ہے۔ یا نیک ہے۔ اور میرا مقصد نکاح کرنا ہے۔ اس طرح کا قدم جس سے یہ خیال پیدا ہو کہ وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے آپ کو اس کے لئے روک کر رکھے۔ اگر وہ پسند کرے۔ البتہ صراحت نکاح کی نہیں کرسکتا۔ کہ اس طرح کہے۔
اِنی اریدان اتزوجک کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ تعریض وکنایہ کا فرق۔ یہ معنی کہ کسی چیز کا ذکر ان الفاظ کے علاوہ دیگر الفاظ سے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 235۔:
(آیت)” ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النسائ “۔ یعنی عدت گزارنے والی عورتیں تعریض کا اصل معنی کسی شئی کے ساتھ اشارہ کرنا تعریض فی الکلام وہ کچھ ہے جس کی مراد سامع بغیر تصریح کے سمجھ جائے ، عدت کے دوران نکاح کے پیغام میں تعریض کرنا یعنی اشارات وکنایات سے کام لینا جائز ہے ، وہ اس طرح کہ یوں کہے تجھ میں کئی ایک دلچسپی لے رہے ہیں تجھ جیسی عورت کون پائے گا ؟ بیشک تو خوبصورت ہے۔
اور بیشک تو نیک ہے اور بیشک تو میرے نزدیک محترم ہے ، میرا مقصود تجھ سے نکاح کرنا ہے اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو حلال طریقے پر جمع فرما دے تو مجھے اچھی لگتی ہے ، اگر میں نے تجھ سے نکاح کرلیا تو تیرے ساتھ…
Read the full tafseer →جب تک عورت سوائے طلاق رجعی کے اور کسی طرح کی طلاق یا خاوند کی وفات کی عدت میں ہو تو جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص اس مدت کے اندر خفیہ طور پر اس عورت سی نکاح کرے یا صاف لفظوں میں نکاح کا پیغام دیوے ہاں اشارہ کنایہ کے طور پر کچھ کہہ دیوے تو مضائقہ نہیں ہے مثلاً یوں کہہ دیوے کہ کوئی نیک عورت مل جائے تو میرا بھی ارادہ نکاح کرنے کا ہے ہاں مطلقہ رجعیہ کی عدت میں یہ اشارہ کنایہ کی بات غیر مرد کو جائز نہیں ہے اگر عدت کے اندر کسی نے نکاح کرلیا تو دونوں میں تفریق کرا دی جائے اور اگر نکاح کے بعد مباشرت بھی ہوگئی ہے تو حضرت عمر ؓ سے ایک روایت ہے کہ وہ عورت اس مرد پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے۔ لیکن اس کی سند…
Read the full tafseer →یہ حکم اس عورت کے بارے میں ہے جو خاوند کی وفات پر عدت گزار رہی ہو یا اسے طلاق دی گئی ہو۔ طلاق دینے والے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے حرام ہے کہ وہ صریح الفاظ میں اسے نکاح کا پیغام دے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ’ وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرًّا ”’ لیکن تم ان سے وعدہ مت کرو، چھپ کر “ سے یہی مراد ہے۔
رہی تعریض (اشارے کنایے سے نکاح کی بات کرنا) تو اللہ تعالیٰ نے اس میں گناہ کو ساقط کردیا ہے۔
اور ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ تصریح صرف نکاح کے معنی کی متحمل ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تصریح کو حرام قرار دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کہیں عورت جلدی نکاح کرنے کے لئے عدت پوری ہونے کے سلسلے…
Read the full tafseer →دوران عدت اشارہ کنایہ میں پیغام نکاح دینا
قول باری ہے (ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النکاح او اکننتم فی انفسکم، اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر تم ان عورتوں کو پیغام نکاح دینے کے سلسلے میں کوئی بات اشارۃ کہو یا نکاح کا ارادہ تم اپنے دل میں پوشیدہ رکھو) خطبہ کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ گفتگو ہے جس کے ذریعہ عقد نکاح کی دعوت دی جائے، اگر خطبہ بضم الخاء ہو تو اس سے مراد نصیحت و موعظت کی وہ صورت ہے جس میں تسلسل اور تربیت و تنسیق ہو۔ خطبہ کے متعلق ایک قول یہ بھی ہے کہ جس کا اول و آخر موجود ہو۔
جس طرح کہ رسالہ یعنی خط، پیغام وغیرہ کی صورت ہوتی ہے اور خطبہ حال کے بیان کے لئے آتا ہے جیسے ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
666 عدت وفات کا بیان : سو وفات کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی، مگر یہ اس صورت میں ہے جبکہ اس کو حمل نہ ہو، کیونکہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاُولَاتُ الْاحْمَال اَجَلُہُُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنّ } ۔ (الطلاق : 4) ۔ آگے ایک آیت کریمہ میں آئے گا کہ عدت وفات ایک سال ہے سو وہ حکم پہلے تھا جو اس آیت کریمہ سے منسوخ ہوگیا۔ پس یہ آیت کریمہ تلاوت کے اعتبار سے اگرچہ مقدم ہے مگر نزول کے اعتبار سے موخر ہے۔ (معارف للکاندھوی (رح) ) ۔ اور عام مطلقہ کی بنسبت بیوہ کی عدت میں یہ اضافہ استبراء رحم، عورت کی سہولت اور اس کے سوگ وغیرہ مختلف مصلحتوں کی بناء پر ہے۔ عورت کمزور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
بیوہ کی عدت اور نکاح ثانی
تشریح : بیوہ عورت کو چار مہینہ دس دن اپنے آپ کو روکے رکھنا چاہیئے۔ یعنی اس دوران سنگار کرنا، شوخ کپڑے اور زیورپہننا، مہندی، خوشبو، سرمہ اور بالوں کی آرائش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ گھر سے نکلنے کے بارے میں مختلف علماء کی آراء ہیں۔ حضرت عائشہ، ابن عباس ؓ ، حضرت علی ؓ ، جابر بن عبداللہ ؓ ، حسن بصری، عمر بن عبدالعزیز اور بہت سے علماء اس بات کے قائل ہیں کہ عورت اپنی عدت کا زمانہ جہاں چاہے گزار سکتی ہے اور سفر بھی کرسکتی ہے۔ پھر جب اس کی عدت پوری ہوجائے تو پھر معروف طریقہ سے اپنے لیے جو بھی مناسب سمجھیں کرسکتی ہیں۔ اس میں ایک مسئلہ اور بھی آجاتا ہے کہ اگر اس دوران میں یہ ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 232–235
آیات 232- 235
اسرارو معارف
واذطلقتم النسائ…………ان اللہ غفور رحیم
مطلقہ عورتوں کے ساتھ بعد از طلاق کیا سلوک کیا جائے ؟ تو ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو عورت طلاق ہوجانے کے بعد اس قدر مجبور وبیکس ہوتی ہے کہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت نہ دی جائے اور نہ اس کے ساتھ کوئی ایسی نحوست وابستہ ہوتی ہے ، جسے اہل خاندان بوجھ خیال کریں بلکہ وہ بحیثیت انسان وہی پہلے والا انسان ہے اس کی اپنی عزت نفس ہے اگر کسی سے مزاج نہ مل سکا اور طلاق ہوگئی تو صرف اس وجہ سے اس کی عزت نفس ضائع نہیں ہوجاتی۔ بلکہ بعد از طلاق جب عدت پوری کرچکے تو نہ پہلے شوہر کو حق ہے کہ اسے نکاح ثانی سے روکے اور نہ ورثاء کو۔
اگر پہلے ہی شوہر سے دوبارہ…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی عدت کے دوران میں عورت کو صاف الفاظ کے ساتھ پیغام نکاح دینا جائز نہیں ہے البتہ مناسب طریقے سے یعنی اشارہ کہا یہ سے کوئی بات کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ حکم اس عورت کا ہے جس کے شوہر کے وفات ہوگئی ہو اور مطلقہ ثلاث کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فاطمہ بنت قیس سے فرمادیا تھا کہ جب تمہاری عدت گزر جائے تو اطلاع دینا مگر وہ عورت رجعی طلاق دی گئی ہو تو اس کے شوہر کے سوا کسی دوسرے شخص کے لیے اشارہ کنایہ سے بھی بات کرنا جائز نہیں ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)2 یعنی ان سے خفیہ معاہدے نہ کرو ؛ ہاں معروف طریقہ سے نکاح کا تذکرہ کرسکتے ہو مثلا یہ کہ تم تو ابھی جوان ہو یا میں بھی شادی کا…
Read the full tafseer →(2:235) لا جناح علیکم۔ یہاں خطاب مطلقہ عورتوں کو جو عدت کی مدت پوری کر رہی ہوں ان کے ساتھ نکاح کا ارادہ رکھنے والے مردوں سے ہے۔
فیما عرضتم بہ من خطبۃ النسائ۔ فی بمعنی اس بارے میں ۔ یا اس بابت ما موصولہ۔ عرضتم ب ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تعریض (تفعیل) مصدر ۔ اشارۃ یا کفایۃ کہنا۔ تم نے اشارۃ یا کنایۃ کہا۔ جو تم نے مبہم طور پر بغیر کھولے بات کی۔ لغات القرآن میں تفسیر کبیر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے۔
امام فخر الدین رازی (رح) تفسیر کبیر میں رقم طراز ہیں تعریض لغت میں تصریح کی ضد ہے۔ اور اس کے معنی ہیں اپنی کلام میں ایسی چیز کو لے آنا کہ جو اپنے مقصود پر بھی دلالت کی صلاحیت رکھتی ہو اور غیر مقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
لغات القرآن : آیت نمبر 234 تا 235
یتوفون (مرجاتے ہیں) ۔ یذرون (وہ چھوڑ جاتے ہیں) ۔ ازواجا (بیویاں) ۔ اربعۃ اشھر (چا ر مہینے) ۔ عشرا (دس، دن) ۔ بلغن (وہ پہنچ جائیں) ۔ اجلھن (اپنی مدت (کو یعنی عدت پوری کرلیں) ۔ فعلن (وہ عورتیں) ۔ عرضتم (تم نے پیش کیا) ۔ خطبۃ النساء (عورتوں سے پیغام نکاح) ۔ اکننتم (تم نے چھپا لیا) ۔ لا تو اعدوھن (تم ان سے وعدے نہ لینا) ۔ سر (چھپ چھپ کر) ۔ قولا معروفا (قاعدے طریقے کی بات) ۔ عقدۃ النکاح (نکاح کی گرہ) ۔ یبلغ الکتب (پہنچ جائے حکم ) ۔
تشریح : آیت نمبر 234 تا 235
جن عورتوں کے شوہر مرجاتے ہیں انہیں چار مہینے دس دن تک عدت گزارنی ہے یعنی اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے۔ اس عرصہ…
Read the full tafseer →عدت کے اندر نکاح جائز نہیں
مسائل القرآن : جب تک عورت سوائے طلاق رجعی کے اور کسی طرح کی طلاق یا خاوند کی وفات کی عدت میں ہو تو جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص اس مدت کے اندر خفیہ طور پر اس عورت سے نکاح کرے، یا صاف لفظوں میں نکاح کا پیغام دیوے۔ ہاں اشارہ کنایہ کے طور پر اگر کچھ کہہ دے تو مضائقہ نہیں ہے۔ مثلاً یوں کہ دے کہ کوئی نیک عورت مل جائے تو میرا بھی ارادہ نکاح کرنے کا ہے۔ ہاں مطلقہ رجیعہ کی عدت میں یہ اشارہ کنایہ کی بات بھی غیر مرد کو جائز نہیں ہے۔ اگر عدت کے اندر کسی نے نکاح کرلیا تو دونوں میں تفریق کرا دی جاوے۔
Read the full tafseer →[162] اور وہ مناسب طریقہ یہی ہے کہ جو کچھ بھی کہنا ہو اشارۃً و کنایۃً ہی کہا جائے۔
[163] یعنی ختم عدت سے پہلے عزم نکاح کرلینا بھی درست نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 235–238
نماز اور معاملات خانگی :
(ف 1) ان آیات میں جو بات قابل غور ہے ، وہ یہ ہے کہ نکاح و طلاق کے عین درمیان نماز کا ذکر ہے ، اس سیاق کا فلسفہ کیا ہے ؟ نکاح و طلاق کے مسائل جو یکسر خانگی معاملات ہیں ‘ نماز سے کیا تعلق وربط رکھتے ہیں جو خالص روحانی عبادت ہے اور کیوں نماز کو عین ان مسائل کے درمیان بیان کیا ۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ قرآن حکیم مضامین کے بیان کرنے میں کسی اکتسابی اسلوب بیان کا محتاج نہیں ، اس کا انداز بیان اپنا ہے اور فطری ہے ، جس طرح انسان سوچتے وقت کسی خاص منطقی طریق کا پابند نہیں ہوتا اور خیالات تنوع کے ساتھ دماغ میں آتے ہیں ، اسی طرح قرآن حکیم کے مضامین اپنے اندر ایک عجیب تنوع لئے…
Read the full tafseer →ف 1۔ اور تم پر اس بارے میں کوئی گناہ نہیں کہ جن عورتوں کے خاوند مرچکے ہوں اور وہ موت کی عدت گزار رہی ہوں تم ان کو پیغام نکاح سے متعلق کوئی بات اشارۃ ً کنایتہ کہہ دو یا ان سے نکاح کرنے کی خواہش کو اپنے دل میں مخفی اور پوشیدہ رکھو۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلوم ہے کہ تم ضرور ان عورتوں کے نکاح کا خیال اور دھیان کرو گے اور تم ان کا ذکر مذکور کرو گے تو اچھا ! ذکر کرو اور ان سے نکاح کی رغبت رکھو لیکن ان سے تصریح کے ساتھ اور کھلے الفاظ میں کسی پوشیدہ چیز یعنی نکاح کی بات چیت نہ کرو اور چھپا کر نکاح کا وعدہ نہ کرو مگر ہاں اتنی ہی بات کہو جنتی قاعدے کے موافق اور شرعی دستور کے مطابق ہو اور تم اس وقت تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 235–236
ف 1۔ یہاں عدت کے اندر چار فعل مذکور ہیں دوزبان کے اور دو دل کے۔ اور ہر ایک کا حکم جدا ہے اول زبان سے تصریحا پیغام دینا یہ حرام ہے لاتواعدوھن سرا میں اس کا ذکر ہے دوم زبان سے اشارہ کرنا جائز ہے لاجناح علیکم اور قولا معروفا میں اس کا ذکر ہے۔ سوم دل سے یہ ارادہ کرنا کہ ابھی یعنی عدت کے اندر نکاح کرلیں گے یہ بھی حرام ہے کیونکہ عدت کے اندر نکاح کرنا حرام ہے اور ارادہ حرام کا حرام ہے۔ لاتعزمو میں اس کا ذکر ہے۔ چہارم دل سے یہ ارادہ کرنا کہ عدت کے بعد نکاح کریں یہ جائز ہے۔ اکننتم فی انفسکم میں اس کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →دوران ِعدت عورت کو نکاح کا پیغام دیا جاسکتا ہے :
400: عدت کے زمانہ میں صرف اشارۃً عورت کو نکاح کا پیغام دیا جاسکتا ہے۔ عدت ختم ہونے سے قبل نکاح کرنا حرم ہے پیغام حرام نہیں لیکن اس بات کو دل میں بھی رکھا جاسکتا ہے تاکہ عدت ختم ہوتے ہی واضح پیغام بھجواسکے اور اشارۃً پیغام پہنچانے میں یہ بھلائی رکھی گئی ہے کہ عورت بھی اپنے متعلق عدت کے دنوں ہی میں کوئی فیصلہ کرلے کہ اب اس کو کیا کرنا ہے لیکن عدت کے دوران کسی مرد کا عدت والی عورت سے یا عدت والی عورت کا کسی مرد سے قول وقرار کرنا جائز نہیں۔ اشارۃً پیغام پہنچانا اور قول وقرار کرنے میں جو فرق ہے وہ سب پر واضح ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کے دل کے رازوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
Some injunctions relating to 'Iddah
1. For one whose husband dies, it is not correct to wear perfume or make-up or use kohl52 or hair oil, beauty-treat unnecessarily, apply henna and dress gaudily. It is also not correct to talk about the second marriage in clear and unambiguous words as appears in the succeeding verse. In addition to this it is also incorrect to stay overnight in homes other than one's own. The text's "yatarabbasna bi anfusihinna" يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ translated as "keep themselves waiting" hint towards these avoidances. And this is also the injunction for the woman…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
259. The waiting period owing to the death of the husband is obligatory even for a woman with whom consummation of marriage has not taken place. A pregnant woman, however, is exempted from this. Her waiting period expires the husband's death and the childbirth is less than the waiting period prescribed by Law.
'To observe a waiting period' does not mean merely that they should refrain from marrying, but also from self-adornment.
Hence we find categorical directives in the Hadith that a widow should neither wear colourful and showy dresses and jewellery, make use of henna, kohl, and perfumes,…
Read the full tafseer →