خاوند کے انتقال کے بعد :
اس آیت میں حکم ہو رہا ہے کہ عورت اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چار مہینے دس دن عدت گزاریں خواہ اس سے مجامعت ہو یا نہ ہوئی ہو، اس پر اجماع ہے دلیل اس کی ایک تو اس آیت کا عموم دوسرے یہ حدیث جو مسند احمد اور سنن میں ہے جسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں کہ اس سے مجامعت نہیں کی تھی نہ مہر مقرر ہوا تھا کہ اس کا انتقال ہوگیا، فرمائیے اس کی نسبت کیا فتویٰ ہے جب وہ کئی مرتبہ آئے گئے تو آپ نے فرمایا میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتا ہوں، اگر ٹھیک ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانو اور اگر خطاء ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے سمجھو، اللہ اور رسول اس سے بری ہیں۔ میرا فتویٰ یہ ہے کہ اس عورت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
سورة الْبَقَرَة 259
“ یہ عدت وفات ان عورتوں کے لیے بھی ہے جن سے شوہروں کی خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو۔ البتہ حاملہ عورت اس سے مستثنیٰ ہے۔ اس کی عدت وفات وضع حمل تک ہے، خواہ حمل شوہر کی وفات کے بعد ہی ہوجائے یا اس میں کئی مہینے صرف ہوں۔
”اپنے آپ کو روکے رکھیں“ سے مراد صرف یہی نہیں ہے کہ وہ اس مدت میں نکاح نہ کریں، بلکہ اس سے مراد اپنے آپ کو زینت سے بھی روکے رکھنا ہے۔ چناچہ احادیث میں واضح طور پر یہ احکام ملتے ہیں کہ زمانہ عدت میں عورت کو رنگین کپڑے اور زیور پہننے سے، مہندی اور سرمہ اور خوشبو اور خضاب لگانے سے، اور بالوں کی آرائش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا اس زمانے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 31 شوہر کی وفات ہونے کی صورت میں عدت کا بیان
وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ (الیٰ قولہ) وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ اور جو لوگ تم میں وفات پاجاتے ہیں اور بیبیاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیبیاں اپنے آپ کو (نکاح وغیرہ سے) روکے رکھیں چار مہینے اور دس دن پھر جب اپنی (عدت کی) میعاد ختم کرلیں تو تم کو (بھی) کچھ گناہ نہ ہوگا ایسی بات (کے جائز رکھنے) میں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے لئے کچھ کارروائی (نکاح کی) کریں قاعدہ کے موافق (البتہ اگر کوئی خلاف قاعدہ شرع کریں اور تم باوجود روک سکنے کے نہ روکو تو تم بھی شریک گناہ ہوگے) اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام افعال کی خبر رکھتے…
Read the full tafseer →بیوہ کی عدت : اگر کسی عورت کے شوہر کی وفات ہوجائے تو ایسی عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے (اور حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل) عام مطلقہ کی نسبت سے بیوہ کی عدت میں یہ اضافہ استبرائے رحم، عورت کی سہولت اور سوگ وغیرہ کی مختلف مصلحتوں سے ہے۔ عورت کمزور فریق، نازک دل اور شدید الاحساس ہونے کی وجہ سے شوہر کے صدمہ کو محسوس بھی زیادہ کرتی ہے اور حالت بیوگی میں وہ ہمدردی کی محتاج بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اس کا زمانہ عدت زیادہ رکھا گیا ہے تاکہ شوہر کی وفات کے صدمے کے ساتھ ساتھ معاً اس کو شوہر کی ڈیوڑھی چھوڑنے کا صدمہ بھی نہ اٹھانا پڑجائے۔ چناچہ اسی مصلحت کے تحت آگے اسی آیت کی مزید توضیح کے طور پر…
Read the full tafseer →234۔ 1 یہ عدت وفات ہر عورت کے لئے ہے چاہے گھر میں رہے یا گھر کے باہر جوان ہو یا بوڑھی۔ البتہ اس سے حاملہ عورت متشنٰی ہے کیونکہ اسکی مدت عدت وضع حمل ہے اس عدت وفات میں عورت کو زیب وزینت کی (حتٰی کہ سرمہ لگانے کی بھی) اور خاوند کے مکان سے کسی اور جگہ منتقل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ وہ مطلقہ جو دوبارہ نکاح کرنا چاہے اس کے لئے عدت کے اندر زیب وزینت ممنوع نہیں ہے وہ مطلقہ جس سے رجوع نہ ہو سکے اس میں اختلاف ہے بعض جواز کے اور بعض ممانعت کے قائل ہیں۔
234۔ 2 یعنی عدت گزرنے کے بعد وہ زیب وزینت اختیار کریں اولیاء اس کی اجازت و مشاورت سے کسی اور جگہ نکاح کا بندوبست کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 233–234
154: طلاق کے احکام کے درمیان بچے کو دودھ پلانے کا ذکر اس مناسبت سے آیا ہے کہ بعض اوقات یہ مسئلہ ماں باپ کے درمیان جھگڑے کا سبب بن جاتا ہے، لیکن جو احکام یہاں بیان کئے گئے ہیں وہ طلاق کی صورت کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں، بلکہ تمام حالات کے لئے ہیں، پہلی بات تو اس میں یہ واضح کی گئی ہے کہ دودھ زیادہ سے زیادہ دو سال تک پلایا جاسکتا ہے، اس کے بعد ماں کا دودھ چھڑانا ہوگا، دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اگر ماں باپ بچے کی مصلحت سمجھیں تو پہلے بھی دودھ چھڑاسکتے ہیں، دو سال پورے کرنا شرعاً واجب نہیں ہے، تیسری بات یہ کہ دودھ پلانے والی ماں کا خرچ اس کے شوہر یعنی بچے کے باپ پر واجب ہے، اگر نکاح قائم ہو تب تو…
Read the full tafseer →دور جاہلیت میں ، جس عورت کا خاوند فوت ہوجاتا ، وہ بیچاری سخت مصیبت میں مبتلا ہوجاتی ۔ اہل خاندان ، مرد کے اہل خاندان اور پورا معاشرہ اس پر ظلم کرتا ۔ عربوں میں رواج یہ تھا کہ جب اس کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ ایک خستہ حال مکان میں چلی جاتی ، سب سے بےکار کپڑے پہن لیتی ۔ وہ ایک سال تک خوشبو نہ لگاسکتی اور نہ ہی زیب وزینت کا کوئی کام کرسکتی ۔ اس کے بعد یہ زمانہ جاہلیت چند جاہلانہ رسومات کی ادائیگی پر ختم ہوجاتا ، جو سب کی سب توہین آمیز اور گری ہوئی تھیں ۔ جیسا کہ جاہلیت کی دوسری رسومات ہوا کرتی تھیں ۔ مثلاً وہ اونٹ کی مینگنی لیتی اور اسے پھینکتی ۔ کسی سواری مثلاً گدھے یا بکری پر سوار ہوتی وغیرہ…
Read the full tafseer →1 پہلے گزر چکا ہے کہ طلاق کی عدّت میں تین حیض انتظار کرے اب فرمایا کہ موت کی عدّت میں چار مہینے دس دن انتظار کرے سو اس مُدّت میں اگر معلوم ہوگیا کہ عورت کو حمل نہیں تو عورت کو نکاح کی اجازت ہوگی ورنہ وضع حمل کے بعد اجازت ہوگی اس کی تشریح سورة طلاق میں آئے گی حقیقت میں تین حیض یا چار مہینے دس دن حمل کے انتظار اور اس کے دریافت کرنے کے لئے مقرر فرمائے۔
2 جب بیوہ عورتیں اپنی عدّت پوری کرلیں یعنی غیر حاملہ چار ماہ دس روز اور حاملہ مدت حمل تو ان کو دستور شریعت کے موافق نکاح کرلینے میں کچھ گناہ نہیں اور زینت اور خوشبو سب حلال ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 234 وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًاج
قبل ازیں آیت 228 میں مطلقہ عورت کی عدت تین حیض بیان ہوئی ہے۔ یہاں بیوہ عورتوں کی ‘ عدت بیان کی جا رہی ہے کہ وہ شوہر کی وفات کے چار ماہ دس دن بعد تک اپنے آپ کو شادی سے روکے رکھیں۔
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ
فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِہِنَّ بالْمَعْرُوْفِ ط
عدت گزار چکنے کے بعد وہ آزاد ہیں ‘ جہاں مناسب سمجھیں نکاح کرسکتی ہیں۔ اب تم انہیں روکنا چاہو کہ ہماری ناک کٹ جائے گی ‘ یہ بیوہ ہو کر صبر سے بیٹھ نہیں سکی ‘ اس سے رہا نہیں گیا ‘ اس…
Read the full tafseer →326 عام حالت میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ لیکن اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل تک ہے (4: 65) اور یہی مدت بیوہ کے سوگ منانے کی مدت ہے۔ چناچہ آپ نے فرمایا کسی عورت کو، جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے بجز اپنے شوہر کے جس پر اسے چار ماہ دس دن تک سوگ منانا لازم ہے۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب إحداد المرأۃ علی غیر زوجھا)
اور حضرت ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ ہمیں کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے سے منع کردیا گیا۔ بجز خاوند کے جس پر چار ماہ دس دن سوگ منانے کا حکم تھا اور حکم یہ تھا کہ ان دنوں میں نہ ہم سرمہ لگائیں اور نہ خوشبو، نہ ہی رنگے…
Read the full tafseer →889 ۔ (نکاح اور قریبی مقدمات نکاح سے) دنیا کے عمرانی اور معاشری مسائل میں طلاقن کے بعد بیوہ کا مسئلہ بھی کچھ کم اہمیت نہیں رکھتا۔ بیوہ کے ساتھ دنیا کے کسی دوسرے مذہب نے کوئی اعتناپرتاہی نہیں ہے۔ بلکہ بعض مذہبوں نے تو ستی وغیرہ کو جائز کرکے بیوی کو زندہ ہی جلادیا ہے۔ اسلام نے بیوہ کو زندہ رہنے، پوری طرح زندہ رہنے کا، سہاگنوں ہی کی طرح زندہ رہنے کا حق عطا کیا ہے، اور یہ باب بھی، جہاں تک دنیوی برکتوں کا تعلق ہے، اسلام کا ایک روشن ترین باب ہے۔ (آیت) ” تربص “ انتظار کی اس مدت کا اصطلاحی نام عدت ہے۔ طلاقن کی عدت پورے تین ماہ کی تھی، بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن یا کل 130 دن تجویز ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ (الآیۃ) یہ اس بیوہ کی عدت کا بیان ہے جس کو حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو بچہ پیدا ہونے تک اس کی عدت ہے خواہ جنازہ لے جانے سے پہلے ہوجائے یا چار مہینے دس دن سے بھی زیادہ میں ہو۔
مسئلہ : جس کا خاوند انتقال کر جائے اس عورت کو عدت کے اندر خوشبو لگانا، سنگار کرنا، سرمہ، تین بلا ضرورت دوا لگانا، رنگین کپڑے پہننا درست نہیں، نکاح کے بارے میں صریح گفتگو بھی درست نہیں جیسا کہ اگلی آیت میں آتا ہے، اور رات کو دوسرے گھر میں رہنا بھی درست نہیں۔
مسئلہ : اگر چاند رات کو خاوند کی وفات ہوئی ہو تب تو یہ مہینے خواہ انتیس کے ہوں یا تیس کے چاند کے حساب سے پورے کیے جائیں گے اور اگر…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ ( اور جو تم میں سے مرجائیں) توفی کے معنی ایک شے کو بتمامہ حاصل کرنے کے ہیں یعنی وہ اپنی عمریں پوری کرلیں۔
وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ ( اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ رکیں) یعنی انتظار کریں اس میں ضمیر بیویوں کی طرف ہے یعنی ان مردوں کی بیویاں انتظار کریں اور مبتدا پر سے مضاف محذوف ہے یعنی وازواج الذین یتوفون یتربصن بعدہم۔
بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا (اپنے کو چار مہینے اور دس دن) لفظ عشر کو مؤنث ذکر کرنا لیالی کے اعتبار سے ہے کیونکہ لیالی سے ہی مہینوں اور دنوں کی ابتدا ہوتی ہے، عرب کا قاعدہ ہے کہ جب کسی عدد کو لیالی اور ایام میں…
Read the full tafseer →(234) اور تم لوگوں میں سے جو حضرات مرجائیں اور اپنے بعد اپنی عورتیں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں چار ماہ اور دس دن تک عدت گزاریں، جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو شادی کے لیے بناؤ سنگھار کرنا درست ہے اور میت کے وارثوں کو ان عورتوں کے چھوڑنے میں کوئی گناہ نہیں (کیونکہ اب عدت گزر جانے کے بعد ان کا پہلے خاوند سے تعلق نہیں رہا) اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ خیروشر کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →خاوند کی وفات کی یہ عدت تمام عورتوں کے لیے یکساں ہے۔ شوہر نے اس سے صحبت کی ہو، یا اس سے پہلے ہی فوت ہوگیا ہو، اسی طرح خواہ وہ جوان ہوں یا بوڑھی، جیسا کہ آیت کے الفاظ میں سب بیویاں شامل ہیں۔ بروع بنت واشق ؓ کے خاوند صحبت سے پہلے ہی فوت ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اسے پورا مہر ملے گا، اسے عدت گزارنا ہوگی اور اسے میراث میں سے بھی حصہ ملے گا۔ [ ترمذی، النکاح، باب ما جاء فی الرجل۔۔ : 1145۔ أبو داوٗد : 2114 ]
اس عدت میں ایک حکمت یہ ہے کہ معلوم ہوجائے کہ عورت کو حمل تو نہیں، اگر حمل ہو تو اس کی عدت حمل سے فارغ ہونا ہے، خواہ تھوڑی دیر میں فارغ ہوجائے، خواہ آٹھ نو ماہ بعد،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 234۔
اس میں پچیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” والذین یتوفون منکم “۔ جب اللہ تعالیٰ نے طلاق کی عدت کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ متصل مسئلہ رضاعت کا ذکر فرمایا، پھر ساتھ ہی عدت وفات کا ذکر بھی کردیا، تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ عدت وفات عدت طلاق کی مثل ہے۔ (آیت) ” والذین “۔ یعنی وہ آدمی جو تم سے فوت ہوجاتے ہیں، (آیت) ” ویذرون ازواجا “۔ اور وہ بیویاں چھوڑ جاتے ہیں یا اور ان کی بیویاں ہوں، تو وہ بیویاں انتظار کریں گی، زجاج نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے اور نحاس نے اسے اختیار کیا ہے، کلام میں مبتدا کا حذف بہت زیادہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” قل افانبئکم بشر…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، انحاس، بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” والذین یتوفون “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب کوئی آدمی مرجاتا تھا اور اپنی بیوی کو چھوڑ جاتا تھا تو وہ عورت اپنے گھر میں ایک سال عدت گزارتی تھی اور مرنے والے کے مال میں سے (اس عورت) پر خرچ کیا جاتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (یہ حکم) اتارا لفظ آیت ” والذین یتوفون منکم ویذدون ازواجا یتربٓصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “ تو چاہ ماہ اور دس دن عدت ہے اس عورت کی جس کا خاوند مرجائے اور اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اس کی میراث کے بارے میں فرمایا لفظ آیت ” ولہن الربع مما ترکتم “ (النساء آیت…
Read the full tafseer →[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جن کو ] [ یُـتَوَفَّوْنَ : موت دی جاتی ہے ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ وَیَذَرُوْنَ : اور وہ لوگ چھوڑتے ہیں ] [ اَزْوَاجًا : بیویوں کو ] [ یَّـتَرَبَّصْنَ : وہ انتظار کریں گی ] [ بِاَنْفُسِہِنَّ : اپنے نفس کے ساتھ ] [ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ : چار مہینے ] [ وَّعَشْرًا : اور دس (راتیں) ] [ فَاِذَا : پھر جب ] [ بَلَغْنَ : وہ پہنچیں ] [ اَجَلَہُنَّ : اپنی مدت کو ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ فِیْمَا : اس میں جو ] [ فَعَلْنَ : وہ کریں ] [ فِیْ اَنْفُسِہِنَّ : اپنے لیے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلائی سے ] [ وَاللّٰہُ : اور…
Read the full tafseer →شوہر کی موت پر عدت گزارنے کے احکام
اس آیت شریفہ میں ان عورتوں کی عدت بیان فرمائی ہے جن کے شوہر وفات پاجائیں اور یہ عدت چار مہینہ دس دن ہے، چار ماہ دس دن تک وہ عورت کسی دوسری جگہ نکاح نہ کرے۔ اور اس زمانہ میں سوگ بھی کرے، یعنی خوشبو مہندی نہ لگائے اور بن ٹھن کر نہ رہے۔ یہ حکم حدیث شریف میں وارد ہوا ہے، واضح رہے کہ چار ماہ دس دن اس عورت کی عدت ہے جس کو حمل نہ ہو اور اس کا شوہر وفات پا جائے، اگر کسی ایسی عورت کا شوہر وفات پا جائے جو حمل سے ہو تو پھر اس کی عدت وضع حمل ہے، یعنی شوہر کی موت کے بعد جتنی مدت میں بھی بچہ پیدا ہو اس وقت تک وہ عورت عدت میں رہے گی، خواہ شوہر کی موت کے ایک گھنٹہ بعد ہی…
Read the full tafseer →حکم سی ام۔ عدت وفات زوج۔
قال تعالی، والذین یتوفون منکم ویذرون۔۔۔ الی۔۔ خبیر۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں عدت حیات یعنی عدت طلاق کو بیان فرمایا اور اسی کے ساتھ اثناء عدت میں مدت رضاعت اور اجرت رضاعت کا حکم بیان فرمایا اب ان آیات میں عدت حیات کے بعد عدت وفات کو بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ عدت وفات اور عدت حیات الگ الگ ہیں اور جو لوگ تم میں سے اپنی عمر کو پوری کرکے دنیا سے چلے جائیں اور بیبیوں کو دنیا میں چھوڑ جائیں تو ان کو چاہیے کہ چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو نکاح سے روکے رکھیں جب تک یہ مدت نہ گزر جائے کہیں نکاح نہ کریں پس جبکہ وہ اپنی مدت اور عدت پوری کرلیں تو اے وارثان میت تم پر اب…
Read the full tafseer →466 پہلے گذر چکا ہے کہ بیوہ کی عدت چار ماہ اور دس دن صرف اسی صورت میں ہے جب وہ حاملہ نہ ہو۔ اگر وہ حاملہ ہوگی تو اس کی عدت وضع حمل ہے جیسا کہ سورة طلاق میں مذکور ہے467 اس آیت میں بیوہ عورتوں کے کسی آدمی سے شرعی عقد کرنا چاہیں تو ان کے اولیاء کو انہیں اس سے نہیں روکنا چاہئے بشرطیکہ وہ اپنے کفو میں نکاح کریں۔ غیر کفو میں نکاح کرنے سے رشتہ داروں کو روکنے کا حق ہے۔ آج کل بیوہ عورتوں پر انتہائی ظلم کیا جاتا ہے۔ بعض عورتیں عین جوانی میں بیوہ ہوجاتی ہیں مگر انہیں عمر بھر خاوند کے بغیر رہنا پڑتا ہے اور ورثاء انہیں عقد ثانی کی اجازت نہیں دیتے اور اس میں اپنی ذلت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ سراسر جہالت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
ربطہ آیات
گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے رضاعت کا مسئلہ بیان فرمایا تھا کہ اگر ماں کو طلاق ہوجائے تو بچے کو دودھ کون پلائے گی۔ رضاعت کی مدت اور دودھ پلانے والی عورت کے حق کا بیان تھا۔ یہ بھی آچکا ہے کہ اگر بچے کا باپ موجود ہے تو رضاعت کا خرچہ وغیرہ اس کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر باپ نہیں ہے تو یہ ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو بچے کے وارث بن سکتے ہیں۔ اگر بچے کی اپنی ماں دودھ پلانے سے قاصر ہے ، وہ خود بیمار ہے۔ یا اس کا دودھ مضر صحت ہے تو پھر کسی دوسری عورت سے دودھ پلانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ تاہم ایسی عورت کے ساتھ جو اجرت طے ہوجائے اسے دستور کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔ ایک دوسرے پر زیادتی…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَ زْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًا 0 ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ 234
وفی ( موت)
وتَوْفِيَةُ الشیءِ : بذله وَافِياً ، وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] ، وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] يا عِيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَ [ آل عمران/ 55] ، وقدقیل : تَوَفِّيَ رفعةٍ واختصاص لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
ترکیب : والذین الخ مبتدا یتربصن خبر من خطبۃ النساء یہ جار مجرور موضع حال میں ہے بہ سے سرا مفعول بہ ہے کیونکہ یہ بمعنی نکاح ہے اے لاتواعدوھن نکا حا اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو ای مواحدۃ سراوقیل تقدیرہ فی سر۔ سو یہ ظرف ہے الا ان تقولو استثناء مفرغ ہے مدلول نہی سے ای لا تواعدو ھن مواعدۃ ما الامواعدۃ معروفۃ۔
تفسیر : پہلی چار آیتوں میں عدت طلاق مذکور تھی اس لیے عدت وفات ؎ 1 کا بھی حکم بیان کردیا۔ یہ گیا رہواں حکم ہے۔ فرماتا ہے جو لوگ بیویاں چھوڑ مریں تو ان کی بیوی کو چار مہینے دس روز تک چاہیے کہ نکاح نہ کریں نہ جو چیزیں نکاح کے اسباب ہیں ان کو عمل میں لاویں۔ زیب وزینت ‘ سرمہ کا جل وغیرہ اور نہ…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ یَتَوَفَّوْنَ مِنْـکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍوَّعَشْرًا ج فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فلَاَ جُنَاحَ عَلَیْـکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ط وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔
(اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور وہ پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں۔ پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو جو کچھ وہ اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں اس کا ان پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اللہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اس سے پوری طرح باخبر ہے) (234)
بیوہ کی عدت اور اس کی طوالت کی حکمت
طلاق…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
یہاں ازدواجی اور معاشرتی مسائل کے تذکرہ میں ایک اور اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ جن عورتوں کے خاوندفوت ہوجائیں انہیں چار مہینے دس دن اسی گھر میں رہنا اور عدّت گزارنی چاہیے۔ جب وہ اپنی عدّت گزار لے تو اسے اپنے مستقبل کے بارے میں شریفانہ انداز میں فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہیے۔ پھر خبردار فرمایا کہ بیوہ، اس کے لواحقین اور سب لوگوں کے اعمال سے اللہ تعالیٰ بہت اچھی طرح باخبر ہے۔ لہٰذا ہر کسی کو پوری ہوش مندی کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہیے۔ بیوی کی چار مہینے دس دن عدت کے بارے میں اہل علم کے مختلف موقف ہیں۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ عدّت اس لیے…
Read the full tafseer →234 : وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ ۔ (وہ جو تم میں سے مرجائیں) توفیت واستوفیت اس وقت بولتے ہیں۔ جب کسی چیز کو پورا پورا لیا جائے۔ یعنی ان کے ازواج کو پورا پورا لے لیا جائے۔ وَیَذَرُوْنَ (اور وہ چھوڑ جائیں) ۔
انتظار کا مطلب :
اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ (وہ بیویاں وہ روکیں اپنے کو) یعنی ان کی بیویاں اپنے آپ کو روکیں جو تم میں سے فوت ہوجائیں۔ یعنی عدت گزاریں یا مطلب یہ ہے۔ ان کے بعد اپنے آپ کو روکیں اور انتظار کریں۔ بَعْدَہُمْ کو معلوم ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔ جو جملہ خبر بنے اس میں ایک ضمیر ہونی چاہیے۔ جو مبتداء کی طرف لوٹنے والی ہو۔ تقدیر عبارت یہ ہے : وازواج الذین…
Read the full tafseer →(تفسیر) 234۔:
(آیت)” والذین یتوفون منکم “۔ وہ مرجائیں اور ان کی عمر کی مدتیں پوری ہوجائیں ۔ ” توفی “ اور استوفی کا معنی ایک ہے اور ” توفی “ کا معنی کسی شئی کو پورا پورا لے لینے کے ہیں ، (آیت)” ویذرون ازواجا ‘۔ بیویاں چھوڑ جائیں ، ” یتربصن “ وہ انتظار کریں (آیت)” بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “۔ چار ماہ دس دن میں زیب وزینت اور خوشبو اور گھر سے باہر جانا اپنے خاوندوں کے فراق کی وجہ سے چھوڑ کر عدت بیٹھیں ، مگر جب حاملہ ہوں تو اس وقت ان کی عدت وضع حمل ہوگی ، ابتداء میں وفات کی عدت ایک سال تھی ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے (آیت)” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول غیر…
Read the full tafseer →نکاح طلاق اور دودھ پلانے کے مسئلوں کے پھر شوہر کی وفات اور اس کی عدت کا ذکر ہے کہ جس عورت کا شوہر مرجاوے اس کی عدت چار مہینے دس دن کی ہے صحیحین وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ کسی ایمان دار عورت کو جائز نہیں کہ سوائے اپنے شوہر کے کسی رشتہ دار کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ہاں شوہر کی وفات پر عورت کو چار مہینے دس دن کا سوگ کرنا چاہیے 4۔ سوگ یہ ہے کہ عدت کے دنوں عورت اچھے کپڑے زیور نہ پہنے خوشبو کی چیز کا استعمال نہ کرے غرض سب بناؤ سنگار عدت کے دنوں میں چھوڑ دیوے یہ عدت اس صورت میں ہے جبکہ شوہر کی وفات کے بعد عورت حاملہ نہ ہو ورنہ حاملہ عورت کی عدت کا حکم سورة طلاق کی آیت…
Read the full tafseer →یعنی جب خاوند فوت ہوجائے تو عورت پر فرض ہے کہ وہ گھر میں چار مہینے دس دن ٹھہرے اور انتظار کرے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ چار ماہ کی مدت میں حمل واضح ہوجاتا ہے اور پانچویں مہینے کی ابتدا میں بچہ پیٹ میں حرکت کرنے لگ جاتا ہے۔ یہ حکم ان تمام عورتوں کے لئے عام ہے جن کے شوہر فوت ہوجائیں۔ مگر اس عموم میں سے حاملہ عورتیں مخصوص ہیں، کیونکہ ان کی عدت وضح حمل ہے۔ اسی طرح لونڈی کی عدت نصف یعنی دو ماہ اور پانچ دن ہے۔ : (آیت) فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ ” پس جب ان کی عدت پوری ہوجائے “ : (آیت) فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِنَّ ” تو جو وہ اپنے لئے کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں “…
Read the full tafseer →جس عورت کا شوہر وفات پا جائے اس کی عدت کا بیان
قول باری ہے (والذین یتوفون منکم و یذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھرو عشرا، تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دنوں تک روکے رکھیں) ۔ کسی چیز کے انتظار کو تربص کہتے ہیں۔ قول باری ہے (فتربصوا حتیٰ حین، ایک مدت تک اس کے انتظار میں رہو) اسی طرح قول باری ہے (ومن الاعراب من یتخذ ما ینفق مغرما و یتربص بکم الدوائر، ان بدوی عربوں میں ایسے بھی ہیں جو راہ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی کی چٹی سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں زمانے کی گردشوں کا انتظار کر رہے ہیں) یعنی انتظار میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
666 عدت وفات کا بیان : سو وفات کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی، مگر یہ اس صورت میں ہے جبکہ اس کو حمل نہ ہو، کیونکہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاُولَاتُ الْاحْمَال اَجَلُہُُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنّ } ۔ (الطلاق : 4) ۔ آگے ایک آیت کریمہ میں آئے گا کہ عدت وفات ایک سال ہے سو وہ حکم پہلے تھا جو اس آیت کریمہ سے منسوخ ہوگیا۔ پس یہ آیت کریمہ تلاوت کے اعتبار سے اگرچہ مقدم ہے مگر نزول کے اعتبار سے موخر ہے۔ (معارف للکاندھوی (رح) ) ۔ اور عام مطلقہ کی بنسبت بیوہ کی عدت میں یہ اضافہ استبراء رحم، عورت کی سہولت اور اس کے سوگ وغیرہ مختلف مصلحتوں کی بناء پر ہے۔ عورت کمزور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
بیوہ کی عدت اور نکاح ثانی
تشریح : بیوہ عورت کو چار مہینہ دس دن اپنے آپ کو روکے رکھنا چاہیئے۔ یعنی اس دوران سنگار کرنا، شوخ کپڑے اور زیورپہننا، مہندی، خوشبو، سرمہ اور بالوں کی آرائش سے پرہیز کرنا چاہیے۔ گھر سے نکلنے کے بارے میں مختلف علماء کی آراء ہیں۔ حضرت عائشہ، ابن عباس ؓ ، حضرت علی ؓ ، جابر بن عبداللہ ؓ ، حسن بصری، عمر بن عبدالعزیز اور بہت سے علماء اس بات کے قائل ہیں کہ عورت اپنی عدت کا زمانہ جہاں چاہے گزار سکتی ہے اور سفر بھی کرسکتی ہے۔ پھر جب اس کی عدت پوری ہوجائے تو پھر معروف طریقہ سے اپنے لیے جو بھی مناسب سمجھیں کرسکتی ہیں۔ اس میں ایک مسئلہ اور بھی آجاتا ہے کہ اگر اس دوران میں یہ ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 232–235
آیات 232- 235
اسرارو معارف
واذطلقتم النسائ…………ان اللہ غفور رحیم
مطلقہ عورتوں کے ساتھ بعد از طلاق کیا سلوک کیا جائے ؟ تو ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو عورت طلاق ہوجانے کے بعد اس قدر مجبور وبیکس ہوتی ہے کہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت نہ دی جائے اور نہ اس کے ساتھ کوئی ایسی نحوست وابستہ ہوتی ہے ، جسے اہل خاندان بوجھ خیال کریں بلکہ وہ بحیثیت انسان وہی پہلے والا انسان ہے اس کی اپنی عزت نفس ہے اگر کسی سے مزاج نہ مل سکا اور طلاق ہوگئی تو صرف اس وجہ سے اس کی عزت نفس ضائع نہیں ہوجاتی۔ بلکہ بعد از طلاق جب عدت پوری کرچکے تو نہ پہلے شوہر کو حق ہے کہ اسے نکاح ثانی سے روکے اور نہ ورثاء کو۔
اگر پہلے ہی شوہر سے دوبارہ…
Read the full tafseer →ف 6 یہ عدت وفات تمام عورتوں کے لیے یکساں ہے عام اس سے کہ انہیں اپنے شوہروں سے مساس ہوچکا ہو یا نہ ہو اہو۔ وہ جوان ہوں یا بوڑھی جیسا کہ آیت کے عموم سے معلوم ہوتا ہے اور ایک حدیث میں صراحت کے ساتھ مذکور بھی ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ جامع ترمذی) البتہ حاملہ عورت کی عدت وفات وضع حمل ہے۔ (سورت الطلاق آیت 4) اس عدت کے دوران میں عورت کے لیے نہ صرف نکاح کرنا حرام ہے بلکہ سوگ منانا یعنی ہر قسم کی زینت سے پرہیز کر نا بھی ضروری ہے صحیحین میں حضرت زینب بن جحش ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا : عورت اپنے شوہر کی موت پر چار ماہ دس دن تک سوگ منائے گی۔ نیز فرمایا : اور وہ شوخ رنگ کا کپڑا پہنے گی…
Read the full tafseer →(2:234) یترفون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ توفی (تفعل) مصدر۔ وی۔ مادہ الوافی۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں ۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے واوفوا الکیل اذا کلتم (17:35) اور جب کوئی چیز ماپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو۔ اور کہتے ہیں توفیت الشی اذا اخذتہ وافیا وتاما۔ کسی چیز کو پوری طرح اور مکمل طور پر لینا۔ یتوفون (جب) ان کی روحیں مکمل طور پر قبضہ میں لی جاتی ہیں۔ یعنی مرجاتے ہیں ان کی روحیں قبض کی جاتی ہیں۔ اسی سے فوت ہوجانا بمعنی مرجانا ہے۔ والذین یتوفون منکم۔ تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں یا مرجائیں۔
یذرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ چھوڑیں یا چھوڑ جائیں۔ یا چھوڑ دیتے ہیں۔ وذر (باب ضرب)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
لغات القرآن : آیت نمبر 234 تا 235
یتوفون (مرجاتے ہیں) ۔ یذرون (وہ چھوڑ جاتے ہیں) ۔ ازواجا (بیویاں) ۔ اربعۃ اشھر (چا ر مہینے) ۔ عشرا (دس، دن) ۔ بلغن (وہ پہنچ جائیں) ۔ اجلھن (اپنی مدت (کو یعنی عدت پوری کرلیں) ۔ فعلن (وہ عورتیں) ۔ عرضتم (تم نے پیش کیا) ۔ خطبۃ النساء (عورتوں سے پیغام نکاح) ۔ اکننتم (تم نے چھپا لیا) ۔ لا تو اعدوھن (تم ان سے وعدے نہ لینا) ۔ سر (چھپ چھپ کر) ۔ قولا معروفا (قاعدے طریقے کی بات) ۔ عقدۃ النکاح (نکاح کی گرہ) ۔ یبلغ الکتب (پہنچ جائے حکم ) ۔
تشریح : آیت نمبر 234 تا 235
جن عورتوں کے شوہر مرجاتے ہیں انہیں چار مہینے دس دن تک عدت گزارنی ہے یعنی اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے۔ اس عرصہ…
Read the full tafseer →مسائل القرآن : نکاح طلاق اور دودھ پلانے کے بعد پھر شوہر کی وفات اور اس کی عدت کا ذکر ہے کہ جس عورت کا شوہر مر جاوے اس کی عدت چار مہینے دس دن کی ہے۔ صحیحین وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ کسی ایمان دار عورت و جائز نہیں ہے کہ سوائے شوہر کے کسی رشتہ دار کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ ہاں شوہر کی وفات پر عورت کو چار مہینے دس رات کا سوگ کرنا چاہیے۔ سوگ یہ ہے کہ عدت کے دنون میں عورت اچھے کپڑے اور زیور نہ پہنے اور خوشبو کی چیز کا استعمال نہ کرے، غرضیکہ سب بناؤ سنگار چھوڑ دے۔ حاملہ عورت کی عدت بچہ کا پیدا ہوجانا ہے۔ عدت کے بعد بناؤ سنگار کرے یا دوسرا نکاح کرے تو اس کی اجازت اللہ کی…
Read the full tafseer →[161] یہ عدت وفات ہے۔ اس مدت میں نہ وہ نکاح کرے، نہ اپنا مسکن چھوڑے، نہ بناؤ سنگھار کرے، نہ دوسرے نکاح کی بات چیت کھل کر کرے۔ بیوہ اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت تا وضع حمل ہے جیسا کہ سورة طلاق میں مذکور ہے۔
Read the full tafseer →بیوہ کی عدت :
(ف 1) قرآن حکیم کی اصطلاح میں زوج کا اطلاق بیوی اور خاوند پر یکساں ہوتا ہے ، اس لئے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے سرمایہ راحت و سکون ہیں اور دونوں کا وجود ایک دوسرے کے لئے ضروری وناگزیر ہے موجودہ تہذیب عورت کو ” نصف بہتر “ سے حیثیت دینے کے لئے تیار نہیں ۔ مگر قرآن حکیم عورت کو ” کل بہتر “ کہتا ہے اور اس لئے اس کے لئے زوج کے لفظ کو استعمال کرتا ہے ، تاکہ معلوم ہو کہ خاوند بیوی سے الگ ومستقل کوئی وجود ہی نہیں رکھتا کہ اس کا کوئی دوسرا نام ہے ۔
ان آیات میں ازواج کا ذکر ہے ، اس سے مراد بیوہ عورتیں ہیں انکی لذت کا ذکر ہے ، چار مہینے دس دن تک انتظار کریں ، اس کے بعد انہیں اختیار ہے ۔
اس…
Read the full tafseer →ف 2۔ اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور وفات پاجائیں اور وہ مرنے والے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں یعنی مرنے والوں کی ہوائیں اپنے آپ کو چار مہینے دس دن نکاح اور بنائو سنگار وغیرہ سے روکے رکھیں اور اپنے آپ کو اس مدت تک انتظار میں رکھیں پھر جب وہ بیوائیں اپنی میعاد عدت کو پوراکر لیں اور اپنی عدت ختم کرلیں تو وہ عورتیں اپنے متعلق ضابطہ شرعی کے موافق جو کارروائی کریں اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سب سے با خبر ہے اور اس سب کی پوری طرح خبر رکھتا ہے۔ ( تیسیر)
اوپر طلاق کی عدت تین حیض فرمائے تھے ۔ اسی سلسلے میں بیوہ کی عدت کا بھی ذکر فرمایا مطلقہ عورت کی عدت کے بیان…
Read the full tafseer →ف 4۔ یہ عدت اس بیوہ کی ہے جس کو حمل نہ اور اگر حمل ہو تو بچہ پیدا ہونے تک اس کی عدت ہے خواہ جنازہ لے جانے سے پہلے ہی پیدا ہوجائے یا چار مہینے دس دن سے بھی زیادہ میں ہو یہ مسئلہ سورة طلاق میں آوے گا جس کا خاوند مرجائے اس کو عدت کے اندر خوشبو لگانا سنگار کرنا سرمہ اور تیل بلاضرورت دوا لگانا رنگین کپڑے پہننا درست نہیں اور صریح گفتگو سے نکاح ثانی بھی درست نہیں جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اور رات کو دوسرے گھر میں بھی رہنا درست نہیں۔
Read the full tafseer →خاوند وفات پاجائے تو عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی :
399: پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ طلاق والیوں کی عدت تین قرؤ ، تین حیض یا تین مہینے تھی ۔ اب ان عورتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کے خاوند وفات پاجائیں ان کی عدت چار مہینے دس دن ہے بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہوں۔ اگر حاملہ ہوں خواہ طلاق والیاں یا جن کے خاوند وفات پاجائیں تو پھر ان کی عدت وضع حمل ہوگی خواہ حمل عدت کے اندر وضع ہوجائے یا مدت عدت کے بعد۔ طلاق والیاں عدت کے دن اس گھر میں گزاریں جس میں ان کو طلاق ہوئی لیکن اگر ناچاقی زیادہ ہوجائے تو وہ اور بات ہے جن عورتوں کے خاوندوفات پاجائیں ان کی عدت اپنے خاوند ہی کے گھر میں پورا کرنا ضروری ہے اور خصوصاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
Some injunctions relating to 'Iddah
1. For one whose husband dies, it is not correct to wear perfume or make-up or use kohl52 or hair oil, beauty-treat unnecessarily, apply henna and dress gaudily. It is also not correct to talk about the second marriage in clear and unambiguous words as appears in the succeeding verse. In addition to this it is also incorrect to stay overnight in homes other than one's own. The text's "yatarabbasna bi anfusihinna" يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ translated as "keep themselves waiting" hint towards these avoidances. And this is also the injunction for the woman…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 234–235
259. The waiting period owing to the death of the husband is obligatory even for a woman with whom consummation of marriage has not taken place. A pregnant woman, however, is exempted from this. Her waiting period expires the husband's death and the childbirth is less than the waiting period prescribed by Law.
'To observe a waiting period' does not mean merely that they should refrain from marrying, but also from self-adornment.
Hence we find categorical directives in the Hadith that a widow should neither wear colourful and showy dresses and jewellery, make use of henna, kohl, and perfumes,…
Read the full tafseer →