مسئلہ رضاعت :
یہاں اللہ تعالیٰ بچوں والیوں کو اشاد فرماتا ہے کہ پوری پوری مدت دودھ پلانے کی دو سال ہے۔ اس کے بعد دودھ پلانے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس سے دودھ بھائی پنا ثابت نہیں ہوتا اور نہ حرمت ہوتی ہے۔ اکثر ائمہ کرام کا یہی مذہب ہے۔ ترمذی میں باب ہے کہ رضاعت جو حرمت ثابت کرتی ہے وہ وہی ہے جو دو سال پہلے کی ہو۔ پھر حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہی رضاعت حرام کرتی ہے جو آنتوں کو پر کر دے اور دودھ چھوٹھنے سے پہلے ہو۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم صحابہ وغیرہ کا اسی پر عمل ہے کہ دو سال سے پہلے کی رضاعت تو معتبر ہے، اس کے بعد کی نہیں۔ اس حدیث کے راوی شرط بخاری و مسلم پر ہیں۔ حدیث…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 257
یہ اس صورت کا حکم ہے، جبکہ زوجین ایک دوسرے سے علیحدہ ہوچکے ہوں، خواہ طلاق کے ذریعے یا خلع یا فسخ اور تفریق کے ذریعے سے، اور عورت کی گود میں دودھ پیتا بچہ ہو۔
سورة الْبَقَرَة 258
یعنی اگر باپ مر جائے، تو جو اس کی جگہ بچہ کا ولی ہو، اسے یہ حق ادا کرنا ہوگا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 30 رضاعت
اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلایا کریں (یہ مدت اس کے لئے ہے) جو شیر خوارگی کی تکمیل کرنا چاہئے اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے ان ماؤں کا کھانا کپڑا قاعدہ کے موافق اور کسی شخص کو کوئی حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کی برداشت کے موافق کسی ماں کو تکلیف نہیں پہونچانا چاہئے اس کے بچے کی وجہ سے اور نہ کسی کے باپ کو تکلیف دینی چاہئے اس کے بچہ کی وجہ سے اور (اگر باپ زندہ نہ ہو تو) مثل طریق مذکور کے (بچے کی پرورش کا انتظام) اس کے (محرم قرابت دار کے) ذمہ ہے جو (شرعا بچے کا) وارث (ہونے کا حق رکھتا) ہے پھر (یہ سمجھ لو کہ) اگر دونوں (ماں اور باپ دو سال سے کم میں) دودھ…
Read the full tafseer →رضاعت سے متعلق مسائل : اس آیت میں ضاعت سے متعلق اکٹھے بہت سے مسائل بیان ہوگئے ہیں جو بالترتیب یہ ہیں۔
1۔ مطلقہ پر اپنے بچے کو پورے دو سال دودھ پلانے کی ذمہ داری ہے اگر طلاق دینے والا شوہر یہ چاہتا ہے کہ عورت یہ رضاعت کی مدت پوری کرے۔
2۔ اس مدت میں بچے کے باپ پر مطلقہ کے کھانے کپڑے کی ذمہ داری ہے اور اس معاملہ میں دستور کا لحاظ ہوگا یعنی شوہر کی حیثیت، عورت کی ضروریات، اور مقام کے حالات پیش نظر رکھ کر فریقین فیصلہ کریں گے کہ عورت کو نان و نفقہ کے طور پر کیا دیا جائے۔
3۔ فریقین میں سے کسی پر بھی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، نہ بچے کے بہانے سے ماں کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے…
Read the full tafseer →233۔ 1 اس آیت میں مسئلہ رضاعت کا بیان ہے۔ اس میں پہلی بات یہ ہے جو مدت رضاعت پوری کرنی چاہے تو وہ دو سال پورے دودھ پلائے ان الفاظ سے کم مدت دودھ پلانے کی بھی گنجائش نکلتی ہے دوسری بات یہ معلوم ہوئی مدت رضاعت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے، جیسا کہ ترمذی میں حضرت ام سلمہ ؓ سے مرفوعًا روایت ہے۔
233۔ 2 طلاق ہوجانے کی صورت میں شیرخوار بچے اور اس کی ماں کی کفالت کا مسئلہ ہمارے معاشرے میں بڑا پچیدہ بن جاتا ہے اور اس کی وجہ سے شریعت سے انحراف ہے۔ اگر حکم الٰہی کے مطابق خاوند اپنی طاقت کے مطابق عورت کے روٹی کپڑے کا ذمہ دار ہو جس طرح کہ اس آیت میں کہا جا رہا ہے تو نہایت آسانی سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔
233۔ 3…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 233–234
154: طلاق کے احکام کے درمیان بچے کو دودھ پلانے کا ذکر اس مناسبت سے آیا ہے کہ بعض اوقات یہ مسئلہ ماں باپ کے درمیان جھگڑے کا سبب بن جاتا ہے، لیکن جو احکام یہاں بیان کئے گئے ہیں وہ طلاق کی صورت کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں، بلکہ تمام حالات کے لئے ہیں، پہلی بات تو اس میں یہ واضح کی گئی ہے کہ دودھ زیادہ سے زیادہ دو سال تک پلایا جاسکتا ہے، اس کے بعد ماں کا دودھ چھڑانا ہوگا، دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اگر ماں باپ بچے کی مصلحت سمجھیں تو پہلے بھی دودھ چھڑاسکتے ہیں، دو سال پورے کرنا شرعاً واجب نہیں ہے، تیسری بات یہ کہ دودھ پلانے والی ماں کا خرچ اس کے شوہر یعنی بچے کے باپ پر واجب ہے، اگر نکاح قائم ہو تب تو…
Read the full tafseer →مطلقہ والدہ ، اپنے بچوں کے بارے میں بالخصوص دودھ پینے والے بچوں کے بارے میں بری الذمہ نہیں ہے ۔ اس پر اس سلسلے میں فرائض عائد ہوتے ہیں ۔ یہ فرائض اللہ تعالیٰ کی جانب سے عائد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو آزاد نہیں چھوڑدیا کیونکہ ایسے حالات میں ، اگر عورت کو ................ اپنی فطرت کے مطابق آزاد چھوڑدیا جائے تو کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کوئی غلط فیصلہ بھی کرسکتی ہے اور اس غلط فیصلے کے نتیجے میں بچہ ضائع ہوسکتا ہے ، اسے نقصان پہنچ سکتا ہے ، چناچہ اللہ تعالیٰ یہاں بچوں کے لئے ضابطہ وضع فرماتے ہیں اور والدہ پر فرض کردیتے ہیں کہ وہ ایسے حالات میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے بچے کو نقصان…
Read the full tafseer →3 یعنی ماں کو حکم ہے کہ اپنے بچہ کو دو برس تک دودھ پلائے اور یہ مدت اس کے لئے ہے جو ماں باپ بچہ کے دودھ پینے کی مدت کو پورا کرنا چاہیں ورنہ اس میں کمی بھی جائز ہے جیسا آیت کے اخیر میں آتا ہے اور اس حکم میں وہ مائیں بھی داخل ہیں جن کا نکاح باقی ہے اور وہ بھی جن کو طلاق مل چکی ہو یا ان کی عدّت بھی گزر چکی ہو ہاں اتنا فرق ہوگا کہ کھانا کپڑا منکوحہ اور معتدہ کو تو دینا زوج کو ہر حال میں لازم ہے دودھ پلائے یا نہ پلائے اور عدت ختم ہوچکے گی تو پھر صرف دودھ پلانے کی وجہ سے دینا ہوگا اور اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ دودھ کی مدت کو جس ماں سے پورا کرانا چاہیں یا جس صورت میں باپ سے دودھ پلانے کی اجرت ماں کو…
Read the full tafseer →آیت 233 وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ط
اگر طلاق دینے والا شوہر یہ چاہتا ہے کہ مطلقہّ عورت اس کے بچے کو دودھ پلائے اور رضاعت کی مدت پوری کرے تو دو سال تک وہ عورت اس ذمہّ داری سے انکار نہیں کرسکتی۔
وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ط
اس مدت میں بچے کے باپ پر مطلقہّ کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری ہے ‘ جسے ہم نان نفقہ کہتے ہیں ‘ اس لیے کہ قانوناً اولاد شوہر کی ہے۔ اس سلسلے میں دستور کا لحاظ رکھنا ہوگا۔ یعنی مرد کی حیثیت اور عورت کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ مرد کروڑ…
Read the full tafseer →317 والدات کے حکم میں وہ مائیں بھی داخل ہیں جن کو طلاق ہوچکی ہو خواہ وہ عدت میں ہوں یا عدت بھی گزر چکی ہو، اور وہ بھی جو بدستور بچہ کے باپ کے نکاح میں ہوں۔
318 اس سے معلوم ہوا کہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ تاہم اس سے حسب ضرورت کم ہوسکتی ہے (جیسا کہ آگے اس کا ذکر آ رہا ہے) اور یہ مدت قمری تقویم کے حساب سے شمار ہوگی (مزید تفصیل سورة لقمان کی آیت نمبر 14 پر حاشیہ 18 میں دیکھئے)
319 یعنی منکوحہ عورت اور مطلقہ عورت جو عدت میں ہو اس کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری تو پہلے ہی بچہ کے باپ پر ہوتی ہے اور اگر عدت گزر چکی ہے تو اس آیت کی رو سے باپ ہی اس مطلقہ عورت کے اخراجات کا ذمہ دار ہوگا…
Read the full tafseer →879 رضاعت اصلی حق ماں کا ہے، اور ماں سے بہتر کوئی مرضعہ ہو نہیں سکتی۔ پرانے طبیبوں اور نئے ڈاکٹروں اور ڈاکٹرنیوں سب کو اس پر اتفاق کرنا پڑا ہے۔ یجعل الام احق برضاع الولد ھذہ المدۃ (جصاص) (آیت) ” الوالدت “۔ خواہ ان ماؤں کا نکاح باقی ہو یا طلاق ہوچکی ہو۔ (آیت) ” اولادھن “۔ اس قید نے یہ صاف کردیا کہ مراد مائیں ہی ہیں۔ نانیاں دادیاں مراد نہیں۔ رضاعت کامل کے لیے دو برس کی مدت پر بھی طبیبوں کا اتفاق رائے موجود ہے۔
880 یعنی جو پورے نصاب کی تکمیل نہ کرنا چاہے اس کے لیے مدت کی بھی اجازت ہے۔
881 ۔ مرضعہ کی تنخواہ اور کھانے کپڑے کی ذمہ داری بہرحال باپ کے سر ہے۔ اور مرضعہ عام حالات میں ماؤں ہی کو ہونا…
Read the full tafseer →فائدہ : وَالْوَالِدَاتُ سے صرف وہ عورتیں مراد ہیں جنہیں طلاق دی گئی ہو یا مطلقاً ہر ماں مراد ہے ؟ بعض کے نزدیک مطلقہ عورتیں مراد ہیں اس لئے کہ سابق سے اب ہی کا ذکر چل رہا ہے اور بعضوں کے نزدیک سب مائیں مراد ہیں اس لئے کہ لفظ عام ہے اور غرض بھی مشترک ہے، مگر نفقہ کی قید سے وہ عورتیں خارج ہوگئیں جو نکاح یا عدت میں ہوں، اس لئے کہ ان کا نفقہ تو یوں ہی واجب ہے دودھ پلائیں یا نہ پلائیں۔
مسئلہ : وہ عورت جس کا نفقہ بطور نکاح یا عدت شوہر کے ذمہ ہے اگر اجرت پر اپنے بچہ کو دودھ پلائے تو معاملہ صحیح اور اجرت غیر لازم ہوگی اس لئے کہ عورت نے حق واجب ادا کیا ہے۔ (ھدایہ)
مسئلہ : اگر ماں اپنے بچہ کو دودھ نہ…
Read the full tafseer →وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ ( اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلالیں) بچوں کو ماؤں کی طرف اس لیے منسوب کردیا ہے تاکہ یہ ان کے مہربان ہونے اور دودھ پلانے کا باعث ہو اور یہ امر وجوب کے لیے ہے جو مبالغہ کی غرض سے جملہ خبریہ سے بیان کردیا گیا ہے لیکن یہ حکم اس صورت میں منسوخ ہے کہ جب ماں دودھ پلانے سے قاصر ہو یعنی اس میں قدرت نہ ہو اور باپ ( اناکو) نوکر رکھ لینے پر قادر ہو تو باپ بچے کو اور عورت سے پلوائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : فان تعاسرم فسترضع لہ اخری ( یعنی اگر تم آپس میں تنگی کرو تو دودھ اور عورت پلائے) یا یہ آیت اللہ تعالیٰ کے ارشاد : لا تضار والدۃ بولدھا سے مخصوص ہے اور…
Read the full tafseer →(233) اور (مائیں اپنے بچوں کو خواہ وہ) طلاق دی ہوئی ہوں، دو سال تک دودھ پلالیں، اور یہ اس عورت کے لیے ہے جو شیر خوارگی کو مکمل کرے اور باپ پر ان عورتوں کا خرچہ دودھ پلانے کے زمانہ میں بھی اور ایسا ہی کپڑا قاعدہ کے موافق واجب ہے، جس میں کوئی کمی زیادتی نہ ہو، دودھ پلانے وغیرہ کے خرچہ میں اتنا ہی انسان کو اللہ کی طرف سے پابند کیا گیا ہے، جتنا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مال دیا ہے، کسی ماں سے اس کا بچہ نہیں لینا چاہیے جب کہ وہ اتنے پیسوں پر دودھ پلانے کے لیے راضی ہوگئی جتنے پیسے وہ دوسروں سے لیتی ہے اور نہ باپ کے ذمہ بچہ کو ڈالا جائے جب کہ اپنی ماں کو پہچان لے اور کسی دوسری عورت کا دودھ نہ پئے اور…
Read the full tafseer →(حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ) نکاح و طلاق کے بعد اس آیت میں رضاعت (بچے کو دودھ پلانے کے مسائل) کا بیان ہے، کیونکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک عورت کو طلاق ہوجائے، یا اس کے شوہر کا انتقال ہوجائے اور اس کی گود میں دودھ پیتا بچہ ہو۔ اس سلسلے میں ماؤں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچے کو دودھ پلانا ماں پر فرض ہے، خصوصاً جب بچہ اس کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ پینے کے لیے تیار نہ ہو۔ (دیکھیے سورة طلاق : 6) نیز اس سے دو باتیں اور بھی معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے، لہٰذا اس دو سال کی عمر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 233۔
اس میں اٹھارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” والوالدت “۔ یہ مبتدا ہے، (آیت) ” یرضعن اولادھن “۔ یہ محل خبر میں ہے۔ (آیت) ” حولین کاملین “۔ یہ ظرف زمان ہے جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نکاح اور طلاق کا ذکر کرچکا تو پھر اس نے اولاد کا ذکر کیا کیونکہ کبھی زوجین آپس میں جدا ہوتے ہیں اور ان کے پاس بچہ ہوتا ہے۔ پس تب یہ آیت ان مطلقہ عورتوں کے بارے میں ہے جن کی ان کے خاوندوں سے اولاد ہو، سدی اور ضحاک وغیرہ نے یہی کہا ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 311 دارالکتب العلمیہ) یعنی وہ خود اجنبی عورتوں کی نسبت اپنی اولاد کو دودھ پلانے کا زیادہ حق رکھتی ہیں کیونکہ وہ زیادہ…
Read the full tafseer →(1) امام وکیع، سفیان، عبد الرزاق، آدم، عبد بن حمید، أبو داؤد نے الناسخ میں، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والو الدت یرضعن اولادھن “ سے مراد ہے طلاق والی عورتیں ” خولین “ یعنی دو سال لفظ آیت ” لا تضار والدۃ بولدھا “ یعنی عورت بچہ کو دودھ پلانے کا انکار نہ کرے۔ (بچہ کو) تکلیف پہنچاتے ہوئے تاکہ اس کا باپ مشقت میں نہ پڑے۔ لفظ آیت ” ولا مولودۃ بولدہ “ یعنی باپ اپنے بیٹے کی وجہ سے ماں کو تکلیف نہ پہنچائے یعنی باپ ماں کو دودھ پلانے سے نہ روکے تاکہ ماں پریشان نہ ہو لفظ آیت ” وعلی الوارث “ یعنی (والد نہ ہونے کی صورت میں) ولی کے لئے بھی…
Read the full tafseer →[ وَالْوَالِدٰتُ : اور بچہ جننے والیاں ] [ یُرْضِعْنَ : دودھ پلائیں گی ] [ اَوْلاَدَہُنَّ : اپنے بچوں کو ] [ حَوْلَـیْنِ کَامِلَیْنِ : کامل دو سال ] [ لِمَنْ : اس کے لیے جو ] [ اَرَادَ : چاہتا ہے ] [ اَنْ یُّـتِمَّ : کہ وہ پورا کرے ] [ الرَّضَاعَۃَ : بچے کے دودھ پینے کو ] [ وَعَلَی : اور اس پر ہے ] [ الْمَوْلُوْدِ : بچہ جنا گیا ] [ لَـہٗ : جس کے لیے ] [ رِزْقُہُنَّ : ان کی خوراک ] [ وَکِسْوَتُہُنَّ : اور ان کا لباس ] [ بِالْمَعْرُوفِ : بھلائی سے ] [ لَا تُکَلَّفُ : پابند نہیں کیا جاتا ] [ نَفْسٌ : کسی جان کو ] [ اِلاَّ : مگر ] [ وُسْعَہَا : اس کی وسعت کو ] [ وَلاَ تُضَآرَّ : اور دکھ نہ دے ] […
Read the full tafseer →بچوں کو دودھ پلانے کے احکام
اس آیت میں بچوں کو دودھ پلانے اور پلوانے کے بارے میں چند احکام مذکور ہیں۔ جب میاں بیوی خوشی کے ساتھ آپس میں مل جل کر رہ رہے ہوں اور اولاد پیدا ہوجائے تو چونکہ ماں اور باپ دونوں کو بچہ پر شفقت ہوتی ہے اور دونوں اس کی تربیت کرتے ہیں اور دکھ تکلیف سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے بچے ماں باپ کے سایہ میں خوب اچھی طرح پرورش پاتے ہیں اور ایسی صورت میں والدہ اس کے دودھ پلانے یا پرورش کرنے پر اس کے باپ سے کسی طرح کی اجرت بھی طلب نہیں کرتی، حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ بچے کی والدہ جب اپنے شوہر کے نکاح میں ہے اور بحق زوجیت کھانا کپڑا اسے مل رہا ہے تو اس کے لیے یہ…
Read the full tafseer →حکم بست ونہم۔ متعلق بہ رضاع۔
قال تعالی، والوالدات یرضعن اولادھن۔۔۔ الی۔۔ بصیر۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں عورتوں کے احکام بیان فرمائے تھے اور عدت اور رجعت کے احکام کا ذکر تھا اب ان آیات میں بچوں کے احکام بیان فرماتے ہیں یعنی رضاعت کی مدت اور اس کی اجرت کے احکام بیان فرماتے ہیں کہ بچہ والی عورتوں کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو کامل دو سال تک دودھ پلائیں اگرچہ ان کے شوہروں نے ان کو طلاق دے دی ہو اور یہ مدت اس کے لیے ہے جو شیرخوارگی کو مکمل کرنا چاہے اور جو مدت رضاعت کو پورا کرنا نہ چاہے تو اس کو اختیار ہے کہ دو سال سے پہلے ہی دودھ چھڑا لے اور باپ پر جس کے لیے دراصل یہ بچہ پیدا کیا گیا ہے کیونکہ بچہ…
Read the full tafseer →فائدہ نمبر 462 مسنگ
463 مولود لہ سے مراد باپ ہے کیونکہ بچہ اسی کے لیے پیدا ہوتا ہے۔ اور اسی کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بچے کی ماں کا خرچ از قسم خوراک و لباس باپ کے ذمہ ہے۔ اور معروف سے مراد یہ ہے کہ خرچ میں نہ اسراف ہو اور نہ تنگی۔ بلکہ مرد کی مالی حالت کے مناسب ہو۔ ای بلا اسراف وتقتیر (روح ص 146 ج 2، مدارک ج 1 ص 92) ای بالمتعارف فی عرف الشرع من غیر تفریط ولا افراط (قرطبی ص 163 ج 3) یدل علی ان الواجب من النفقة والکسوة ھو علی قدر حال الرجل فی اعسارہ ویسارہ (احکام القران للجصاص) لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا۔ امام نسفی فرماتے ہیں کہ یہ جملہ معروف کی تفسیر ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →مسئلہ رضاعت
اس درس میں طلاق ہی کے ضمن میں مسئلہ رضاعت بیان ہوا ہے۔ یعنی طلاق کے بعد اگر عورت کی گود میں بچہ ہو ، تو اس کی پرورش کس طرح ہوگی۔ بچے کی ذاتی دیکھ بھال کون کریگا اور اس کا خرچہ کون برداشت کریگا۔ رضاعت کا لفظی معنی دودھ پلانا ہے۔ چونکہ بچہ مرد کا حق ہوتا ہے اور دودھ عورت پلاتی ہے۔ اس لیے یہ سوال پیدا ہوا کہ مردوزن کی علیحدگی کی صورت میں بچے کی پرورش کیسے ہوگی۔ جب کہ اصولاً بچے کو مرد کی تحویل میں چلے جاناچاہئے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے والوالدت یرضعن اولادھن حولین کاملین اور مائیں دودھ پلائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال لمن ارادان یتم الرضاعۃ یہ اس شخص کے لیے حکم ہے جو دودھ پلانے کی مدت کو…
Read the full tafseer →وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَۃَ 0 ۭ وَعَلَي الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ وَكِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ 0 ۭ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَہَا 0 ۚ لَا تُضَاۗرَّ وَالِدَۃٌۢ بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ 0 ۤ وَعَلَي الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ 0 ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِمَا 0 ۭ وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ 0 ۭ وَاتَّقُوا اللہَ…
Read the full tafseer →ترکیب : والوالدات مبتداء یرضعن الخ خبر اولادھن مفعول یرضعن حولین موصوف کاملین صفت یہ ظرف لمن اراد الخ ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے مبتداء محذوف کی ای ذلک لمن اراد۔ رزقہن معطوف علیہ وکسوتہن معطوف دونوں ذی الحال بالمعروف حال اور عامل اس میں معنی استقرار ہیں یہ سب مبتدا علی المولو دلہ موصول وصلہ خبر پھر یہ جملہ معطوف ہے اول جملہ اسمیہ پر لاتکلف فعل مجہول نفس مفعول مالم یسم فاعلہ الاوسعہا مفعول ثانی لاتضار فعل مجہول اصل میں لاتضار صیغہ نہی اور رکو متحرک التقاء ساکنین کی وجہ سے کیا اور فتح مجانست الف کی وجہ سے دیا اور بعض نے رکو مرفوع بھی پڑھا ہے۔ والدۃ مفعول مالم یسم فاعلہ بولدھا اے بسبب ولدھا ولا…
Read the full tafseer →وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ط وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَـہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ط لاَ تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَہَاج لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌ م بِوَلَدِہَا وَلاَ مَوْلُوْدٌ لَّـہٗ بِوَلَدِہٖ ق وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ ج فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَ جَنَاحَ عَلَیْہِمَا ط وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَکُمْ فَلاَ جَنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّـآ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ط وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
طلاق ہونے کی صورت میں ماں کی گود میں نو نہال اور معصوم بچہ ہو تو اس کا کون محافظ اور نگران ہونا چاہیے ؟ بالخصوص جب کہ بچہ کھانا کھانے اور اپنے ہاتھ سے پانی پینے کے قابل نہ ہو۔ رب کریم نے اس نونہال کی پرورش اور نگرانی کا ایسا انتظام فرمایا کہ جس میں ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی باپ کو تنگ کرنے کے لیے ماں بچے کا بہانہ بنائے بلکہ باہمی مشاورت کے ساتھ بچے کی رضاعت اور حفاظت کا معاملہ طے ہونا چاہیے۔ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ طلاق ہونے کے باوجود سابقہ میاں بیوی اور دونوں کے خاندانوں کے درمیان دشمنی کے بجائے ممکن حد تک قربت باقی رہنے…
Read the full tafseer →آیت 233:
وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَہُنَّ (اور مائیں دودھ پلائیں اپنی اولاد کو) یہ صورۃً خبر ہے مگر امر مؤکد کے معنی میں ہے جیسا کہ یتربّصنَ مگر یہ امر بطور استحباب ہے یا بطور وجوب جبکہ بچہ ماں کا دودھ ہی قبول کرتا ہو یا اس کے لئے کوئی دایہ نہ ملتی ہو یا والد اجرت سے عاجز ہو۔ یا مطلقہ والدات مراد ہوں۔ اور نفقہ اور کپڑے بطور رضاعت واجب کئے گئے ہوں۔
حَوْلَیْنِ (دو سال) یہ ظرف ہے کَامِلَیْنِ (پورے دو ) یہ حَوْلَیْن کی تاکید ہے۔ کیونکہ اس میں تسامح ہوسکتا ہے جس طرح تم کہتے ہو۔ انک اقمت عند فلان حولین ولم تستکملہما تم نے فلاں کے ہاں دو سال قیام کیا۔ اور ان کو پورا نہ کیا ہو۔
لِمَنْ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 233۔ـ:
(آیت)” والوادت یرضعن اولادھن “۔ طلاق یافتہ وہ عورتیں جن کے ہاں ان کے خاوندوں کی جانب سے اولاد ہے ” یرضعن “ خبر بمعنی امر یعنی بظاہر تو اللہ تعالیٰ ” یرضعن “ لفظ کے ساتھ خبر دے رہے ہیں ، درحقیقت دودھ پلانے کا حکم دے رہے ہیں ، مگر یہ امر استحبابی ہے وجوبی نہیں ہے ، کیونکہ بچوں کو جب دودھ پلانے والی کوئی اور عورت دستیاب ہو تو اس مطلقہ عورت پر دودھ پلانا واجب نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سورة طلاق میں فرماتے ہیں (آیت)” فان ارضعن لکم فاتوھن اجورھن “۔ (پس اگر وہ مائیں طلاق یافتہ) دودھ پلائیں تو ان کو ان کا بدلہ دے دو ، اس فرمان الہی میں حتما یہ کہا گیا کہ وہ دودھ پلائیں بلکہ ان کا…
Read the full tafseer →ذکر نکاح و طلاق کے بعد اللہ تعالیٰ نے بچے کے دودھ پلانے کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ کبھی عورت مطلقہ بائنہ اس حالت میں ہوجاتی ہے کہ اس کی گود میں دودھ پیتا بچہ بھی ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں فرمایا کہ وہ عورت مطلقہ بچہ کو دو برس تک دودھ پلائے اور بچے کا باپ موافق اپنی حیثیت اور مقدار کے بچہ کی ماں مطلقہ کو روٹی کپڑا دے اور اگر اس مدت میں بچے کے باپ کا انتقال ہوجاوے تو بچے کے وارث دودھ پلانے والی ماں کو روٹی کپڑے کی دودھ پلانے کی مدت تک ذمہ دار رہیں گے پھر یہ فرمایا آپس کی طلاق کی رنجش کے سبب سے نہ ماں دودھ کی عدت کے اندر بچہ کو زبردستی باپ پر ڈال کر چلی جائے نہ باپ زبر دستی دودھ کی مدت کے اندر بچہ…
Read the full tafseer →یہ خبر، امر کے معنی میں ہے گویا یہ امر متحقق ہے جو کسی حکم کا محتاج نہیں، وہ یہ کہ مائیں : (آیت) يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَيْنِ ” اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ “ چونکہ (حول) کا لفظ سال یا سال کے بڑے حصے کے لئے بولا جاتا ہے اس لئے فرمایا :: (آیت) ِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۭ” پورے دو سال، اس شخص کے لئے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنی چاہیے “ پس جب دودھ پیتے بچے کے دو سال مکمل ہوجائیں تو اس کی رضاعت مکمل ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد ماں کا دودھ دیگر غذاؤں کی مانند ہوجاتا ہے۔ اسی لئے دو سال کے بعد کی رضاعت معتبر نہیں اور اس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ اس نص اور…
Read the full tafseer →رضاعت کا بیان
قول باری ہے (والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں گی) تاآخر آیت۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت تو خبر یک صورت میں ہے لیکن مفہوم خطاب سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اس سے خبر کا ارادہ نہیں کیا گیا کیونکہ اگر یہ خبر ہوتی تو اس کا مخبر (جس کے متعلق خبر دی جا رہی ہے) بھی موجود ہوتا جبکہ مائوں میں ایسی بھی ہیں جو سروے سے بچے کو دودھ پلاتی ہی نہیں ہیں۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آیت کے الفاظ میں خبرمراد نہیں ہے۔ اب جبکہ حقیقت الفاظ مراد نہیں جو خبر ہے تو پھر یا تو یہ مراد ہے کہ ماں پر بچے کو دودھ پلانا واجب کردیا گیا ہے اور اس آیت کے ذریعے…
Read the full tafseer →658 مدت رضاعت زیادہ سے زیادہ دو سال : ان کیلئے جو یہ مدت پوری کرنا چاہئیں، اور جو مائیں یہ مدت پوری نہ کرنا چاہیں، وہ اس سے پہلے بھی اپنی مصلحت و ضرورت کے مطابق جب چاہیں دودھ چھڑا سکتی ہیں۔ اور " وَالِدَات " کا لفظ عام ہے، خواہ وہ طلاق والی ہوں، یا غیر مطلقہ ہوں۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ کیونکہ ماں کا دودھ بچے کیلئے سب سے عمدہ اور افضل دودھ اور سب سے زیادہ مفید اور مناسب غذا ہے۔ اور ایسی اور اس حد تک کہ اس کا کوئی نعم البدل ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا، اس پر سب اطباء اور تمام ڈاکٹروں کا اتفاق ہے۔ اور ماں کا دودھ بچے کی عمر کے مطابق قدرت کی طرف سے خودبخود، حسب ضرورت بدلتا جاتا…
Read the full tafseer →دودھ پلانے کے مسائل
تشریح : طلاق و عدت کے معاملات کے درمیان میں دودھ پلانے کے احکام دیئے گئے ہیں۔ اللہ کی تدبیر، علم اور حکمتیں لاجواب ہیں۔ نکاح کے بعد میاں بیوی کے تعلقات کے نتیجہ میں سب سے پہلا جو مرحلہ شروع ہوتا ہے وہ ہے اولاد۔ یہ مسئلہ سب سے زیادہ اہم ہے اسی لیے اس کے بارے میں ضروری احکامات طلاق کے ساتھ ہی دے دیئے گئے ہیں۔ تاکہ دودھ پیتا بچہ اس جھگڑے میں نقصان نہ اٹھائے۔ قدرت کو معلوم ہے کہ اس ننھی مخلوق کو پرورش کرنے کے لیے ماں کا دودھ کس قدر ضروری اور فائدہ مند ہے۔ دنیا میں اس کے برابر کوئی خوراک بھی اس قدر مکمل نہیں ہوسکتی کیونکہ ماں کے دودھ میں حیاتیات، شکر، چکنائی، فاسفورس اور وٹامنز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 232–235
آیات 232- 235
اسرارو معارف
واذطلقتم النسائ…………ان اللہ غفور رحیم
مطلقہ عورتوں کے ساتھ بعد از طلاق کیا سلوک کیا جائے ؟ تو ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو عورت طلاق ہوجانے کے بعد اس قدر مجبور وبیکس ہوتی ہے کہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت نہ دی جائے اور نہ اس کے ساتھ کوئی ایسی نحوست وابستہ ہوتی ہے ، جسے اہل خاندان بوجھ خیال کریں بلکہ وہ بحیثیت انسان وہی پہلے والا انسان ہے اس کی اپنی عزت نفس ہے اگر کسی سے مزاج نہ مل سکا اور طلاق ہوگئی تو صرف اس وجہ سے اس کی عزت نفس ضائع نہیں ہوجاتی۔ بلکہ بعد از طلاق جب عدت پوری کرچکے تو نہ پہلے شوہر کو حق ہے کہ اسے نکاح ثانی سے روکے اور نہ ورثاء کو۔
اگر پہلے ہی شوہر سے دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 232–233
ف 1 نکاح و طلاق کے بعد اس آیت میں رضاعتہ (بچے کو دودھ پلانے) کے مسائل کا بیان ہے کیونکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک عورت کو طلاق ہوجائے یا اس کے شوہر کا انتقال ہوجائے اور اس کی گود میں دودھ پیتا بچا ہو اس سلسلے میں معمول رہا ہے کہ وہ بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچے کو دودھ پلانا ماں پر فرض ہے خصوصا جب بچہ اس کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ پینے کے لیے تیار نہ ہو۔ (دیکھئے سورت طلاق) نیز اس سے دو باتیں اور بھی معلوم ہوئیں، ایک یہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے لہذا اس دو سال کی عمر کے بعد اگر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ صحیحین میں…
Read the full tafseer →والوالدات۔ اسم فاعل جمع مؤنث۔ الوالدۃ۔ واحد۔ ولادۃ (باب ضرب) بمعنی عورت کا بچہ جننا۔ والدات۔ مائیں۔ آیت ہذا سے پہلے اور پیچھے چونکہ دونوں جگہ مطلقہ عورتوں کا ہی بیان ہے اسی لئے سیاق وسباق کا لحاظ کرتے ہوئے والدات سے مراد یہاں مطلقہ عورتیں ہی ہیں اور ان ہی کے لئے رضاعت کی یہ مدت بیان کی گئی ہے۔ عمومی رضاعت کا اس میں ذکر نہیں۔ اس کے متعلق قرآن مجید کی آیت یہ آئی ہے۔ حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصلہ فی عامین (31:14) اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے اسے جننے کے بعد) اور آخر کار دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے۔ یا حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا وحملہ وفصلہ…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 233
ولدات (مائیں) ۔ یرضعن (دودھ پلائیں) ۔ حولین (دو سال) ۔ کاملین (مکمل ) ان یتم (یہ کہ وہ پورا کرائے گا) ۔ الرضاعۃ (دودھ کی مدت) ۔ مولود لہ (پیدا کیا گیا جس کے لئے یعنی باپ) ۔ کسوتھن (ان عورتوں کا لباس ، پہناوا ) ۔ لا تکلف ذمہ داری نہیں ڈالی جاتی ) ۔ وسعھا (اس کی گنجائش) ۔ لا تضار (نقصان نہ پہنچایا جائے) ۔ فصالاً (جدائی، دودھ چھڑائی ) ۔ تراض (باہم رضا مندی) ۔ تشاور (باہمی مشورہ) ۔ لا جناح (گناہ نہیں ہے ) ۔ سلمتم ( تم نے سپرد کردیا) ۔ ما اتیتم (جو کہ تم نے دینا طے کیا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 233
طلاق ہوجانے کے بعد جہاں اور بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اس میں اگر اولاد…
Read the full tafseer →طلاق کے بعد بچہ کے دودھ کا حکم اور عدت کا ذکر
بعد ذکر نکاں و طلاق کے اللہ تعالیٰ نے بچے کے دودھ پلانے کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ کسی عورت کی گود میں دودھ پیتا بچہ بھی ہوتا ہے، ایسی حالت میں فرمایا کہ عورت دو برس تک دودھ پلائے، اور بچہ کا باپ موافق اپنی حیثیت اور مقدور (طاقت) کے بچہ کی ماں کو روٹی کپڑا دیوے اور اگر اس مدت میں بچے کے باپ کا انتقال ہوجاوے تو بچے کے وارث دودھ پلانے والی ماں کی روٹی کپڑے کی مدت تک ذمہ دار رہین گے۔ پھر یہ فرمایا کہ آپس کی طلاق کی رنجش کے سبب سے نہ ماں دودوھ کی مدت کے اندر بچہ کو زبردستی باپ پر ڈال کر چلی جاوے، نہ باپ زبردستی دودھ کی مدت کے اندر بچہ کو ماں سے چھین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 230–233
[160] تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر حرام ہوجاتی ہے اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ دوبارہ نکاح جب تک کہ عدت گزرنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے اور وہ بعد صحبت کسی وقت خود اپنی مرضی سے طلاق دے دے پھر عدت گزارنے کے بعد عورت کا اپنے پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →مدت رضاعت :
(ف 1) اسلام ایسا کامل نظام مذہب ہے کہ اس میں جزئیات تک خاموش نہیں کیا گیا ، لیکن اس حد تک کہ شگفتگی باقی رہے ۔
بظاہر رضاعت کا مسئلہ اتنا اہم نہیں کہ قرآن حکیم ایسی اصولی اسلوب اس کی تفاصیل پر روشنی ڈالے ، مگر جب بغور دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یقینا اس کی ضرورت تھی ۔
دودھ انسانی کی پہلی خوراک ہے جس سے بچے کے ہونٹ مضبوط ہوتے ہیں اور یہ پہلا غذا ہے جو تولید لحم ودم میں بیشتر حصہ بنتا ہے ، اگر اسے زیادہ عرصہ تک جاری رکھا جائے تو بعض اعضا رونما سے بالکل رک جائیں گے اور بچہ باوجود بڑھنے کے اور طاقتور ہونے کے کمزور وناتواں رہے گا یہی وجہ ہے کہ حیوانات بھی دو سال سے زیادہ بچوں کو دودھ…
Read the full tafseer →ف 1۔ اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں خواہ یہ مائیں مطلقہ ہوں یا نکاح میں ہوں یہ کامل دو سال کی مدت اس کے لئے ہے جو شیر خوارگی اور رضاعت کا پورا کرنا چاہے اور اس شیر خوارگی کی تکمیل مقصود ہو اور شرعا ً جس کا وہ بچہ ہے اس کے ذمہ ان مائوں کا مناسب دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی شخص کو مکلف نہیں کیا جاتا اور کوئی حکم نہیں دیا جاتا مگر اس کا وسعت اور بساط کے موافق چونکہ عورتوں کو دودھ پلانا آسان ہے اور مردوں کی عورت کا خرچہ اٹھانا سہل ہے۔ اس لئے دونوں کو وسعت کے قابل ہر ایک کو حکم دیا گیا نہ کسی ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور نہ کسی…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی بچہ کے ماں باپ آپس میں کسی بات پر ضداضدی نہ کریں ماں اگر کسی وجہ سے معذور نہ ہو تو اسکے ذمہ دیانتہ یعنی عنداللہ واجب ہے کہ بچہ کو دودھ پلاے جب کہ وہ منکوحہ ہو یا عدت میں ہو اور اجرت لینا درست نہیں اور اگر طلاق کے بعد عدت گزرچکی تو اس پر بلا اجرت دودھ پلانا واجب نہیں۔ اگر ماں دودھ پلانے سے انکار کرے تو اس پر جبر نہ کیا جائے گا البتہ اگر بچہ کسی کا دودھ نہیں لیتا نہ اوپر کا دودھ پیتا ہے تو ماں کو مجبور کیا جائے گا۔ ماں دودھ پلانا چاہتی ہے اور اس کے دودھ میں کوئی خرابی بھی نہیں تو باپ کو جائز نہیں کہ اس کو نہ پلانے دے اور دوسری انا کا دودھ پلوائے۔ ماں دودھ پلانے پر رضامند ہے لیکن اس کا…
Read the full tafseer →دودھ پلانا ماں کی ذمہ داری ہے :
396: دودھ پلانا دیانتاً ماں کے ذمہ لازم وضروری ہے۔ بلاعذر کسی ضد یا ناراضگی کے سبب ماں اگر دودھ نہ پلائے تو گنہگار ہوگی نیز یہ بھی کہ دودھ پلانے پر شوہر سے کوئی اجرت و معاوضہ نہیں لے سکتی۔ اس لئے کہ یہ اس کا اپنا فرض اور ذمہ داری ہے۔
دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے۔ اس زمانہ میں خاوند اپنی حیثیت کے مطابق تمام مصارف برداشت کرے گا۔ دودھ کی مدت پورے دو سال ہے اگر کوئی امر مانع نہ ہو تو بچے کا گویا یہ حق ہے کہ اس کی مدت رضاعت پوری کی جائے۔ لیکن بعض نے دودھ کی مدت ڈھائی سال تک بھی بیان کی ہے کہ اجازت ہے کہ اگر کوئی ماں اپنے بچے یا بچی کو اڑھائی سال تک دودھ پلانا چاہے تو…
Read the full tafseer →The injunctions of suckling the children by the mothers
This verse contains injunctions relating to rada` ah (رضاعۃ) or the suckling of children. It will be recalled that in verses appearing earlier and later than this, the injunctions of talaq (divorce) have been taken up. In between, there appear injunctions relating to the suckling of children, because it generally happens that issues concerning the feeding and upbringing of children are disputed following a divorce. Since these disputations lead to violence, this verse offers moderate injunctions which can be carried out easily and…
Read the full tafseer →257. This injunction applies to the condition where the couple have separated either because of divorce, or klul' (see n. 252 above) . or ' faskh (annulment) or tafriq (repudiation as a result of judicial decision) and the woman is nursing a child.
258. That is, if the father dies, whoever replaces him as the guardian of the child will be responsible for fulfilling this claim.
Read the full tafseer →