Al-Baqara 2:232

Al-Baqara · from ayah 232

2:232

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ؕ— ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ— ذٰلِكُمْ اَزْكٰی لَكُمْ وَاَطْهَرُ ؕ— وَاللّٰهُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۟وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡهُنَّ اَنۡ يَّنۡكِحۡنَ اَزۡوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَيۡنَهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ ذٰ لِكَ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ ذٰ لِكُمۡ اَزۡکٰى لَـكُمۡ وَاَطۡهَرُؕ‌ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when you divorce women and they have fulfilled their term, do not prevent them from remarrying their [former] husbands if they agree among themselves on an acceptable basis. That is instructed to whoever of you believes in Allah and the Last Day. That is better for you and purer, and Allah knows and you know not.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 30 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:232

جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وه آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔ یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر یقین وایمان ہو، اس میں تمہاری بہترین صفائی اور پاکیزگی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب تم نے عوررتوں کو طلاق دے دی ہو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو (اے میکے والو) انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ اپنے (پہلے) شوہروں سے (دوبارہ) نکاح کریں، بشرطیکہ وہ بھلائی کے ساتھ ایک دوسرے سے راضی ہوگئے ہوں۔ ان باتوں کی نصیحت تم میں سے ان لوگوں کو کی جارہی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ یہی تمہارے لیے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ طریقہ ہے، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو جب وہ شرعی دستور کے مطابق باہم رضامند ہو جائیں تو انہیں اپنے (پرانے یا نئے) شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو، اس شخص کو اس امر کی نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اﷲ پراور یومِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو، یہ تمہارے لئے بہت ستھری اور نہایت پاکیزہ بات ہے، اور اﷲ جانتا ہے اور تم (بہت سی باتوں کو) نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو ، پس وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انھیں اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرلیں، جب وہ آ پس میں اچھے طریقے سے راضی ہوجائیں۔ یہ بات ہے جس کی نصیحت تم میں سے اس کو کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمہارے لیے زیادہ ستھرا اور زیادہ پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں اپنے (پہلے) خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ وہ معروف طریقے سے آپس میں نکاح کرنے پر راضی ہوں۔ جو کوئی تم میں سے اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اسی بات کی نصیحت کی جاتی ہے۔ یہی تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ ہے۔ (اپنے احکام کی حکمت) اللہ ہی جانتا ہے تم نہیں جانتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر چکیں تو تم اس بات میں مزاحم نہ بنو کہ وہ اپنے ہونے والے شوہروں سے نکاح کریں جب کہ وہ آپس میں معاملہ دستور کے مطابق طے کریں۔ یہ نصیحت تم میں سے ان لوگوں کو کی جاتی ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ اور ستھرا طریقہ ہے، اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب تم طلاق دے دو اپنی عورتوں کو پھر وہ پورا کرلیں اپنی عدت کو تو تم ان کو مت روکو اس بات سے کہ وہ نکاح کریں اپنے تجویز کردہ شوہروں سے جب کہ وہ آپس میں نکاح کرنے پر راضی ہوجائیں دستور کے مطابق اس مضمون کی نصیحت کی جاتی ہے تم میں سے پر اس شخص کو جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر یہ تمہارے لئے نہایت پاکیزہ اور بڑی صفائی کی بات ہے اور اللہ پاک سبحانہ، و تعالیٰ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب تم طلاق دے چکو اپنی عورتوں کو اور پھر وہ اپنی مدت کو پہنچ چکیں۔ تو تم انہیں اس سے مت روکو۔ کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ وہ آپس میں سب شرافت کے ساتھ راضی ہوں۔ اس (مضمون) سے نصیحت کی جاتی ہے تم میں سے اس شخص کو جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ یہی تمہارے حق میں پاکیزہ تر اور صاف تر ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو مت آڑے آؤ اس میں کہ وہ عورتیں پھر نکاح کرلیں اپنے سابق ازواج سے جبکہ وہ آپس میں رضامند ہوجائیں بھلے طریقے پر یہ وہ چیز ہے جس کی نصیحت کی جا رہی ہے تم میں سے اس کو جو واقعتا ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور یوم آخرت پر یہی طریقہ تمہارے لیے زیادہ پاک اور زیادہ عمدہ ہے اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو تم انہیں مت روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں، جبکہ وہ معروف طریقہ سے آپس میں نکاح پر راضی ہوں۔ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے

— محترمہ رفعت اعجاز

When you have divorced your wives absolutely and they have completed their prescribed term, then you should not prevent them from marrying their prospective husbands, if they mutually agree to marry each other in a lawful way. You are enjoined not to commit such an offence, if you sincerely believe in Allah and the Last Day. It is most decent and pure for you to desist from this; Allah knows and you do not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When you have divorced women, and they have reached (the end of) their waiting period, do not prevent them from marrying their husbands when they mutually agree with fairness. Thus the advice is given to everyone of you who believes in Allah and in the Hereafter. This is more pure and clean for you. Allah knows and you do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

When you have divorced women, and they have reached (the end of) their waiting period, do not prevent them from marrying their husbands when they mutually agree with fairness. Thus the advice is given to everyone of you who believes in Allah and in the Hereafter. This is more pure and clean for you. Allah knows and you do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when you have divorced women and they have fulfilled the term of their prescribed period, do not prevent them from marrying their (former) husbands, if they mutually agree on reasonable basis. This (instruction) is an admonition for him among you who believes in Allah and the Last Day. That is more virtuous and purer for you. Allah knows and you know not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when ye have divorced women and they reach their term, place not difficulties in the way of their marrying their husbands if it is agreed between them in kindness. This is an admonition for him among you who believeth in Allah and the Last Day. That is more virtuous for you, and cleaner. Allah knoweth; ye know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when you divorce women and they have fulfilled their term, do not prevent them from remarrying their [former] husbands if they agree among themselves on an acceptable basis. That is instructed to whoever of you believes in Allah and the Last Day. That is better for you and purer, and Allah knows and you know not.

— Saheeh International

When the waiting period of the divorced women has ended, you (her relatives) must not prevent them from marrying their (previous) husbands again if they might reach an honorable agreement. This is an advice for those of you who believe in God and the Day of Judgment. It is the most beneficial and pure way of treating each other. God knows but you do not know.

— Muhammad Sarwar

And when you have divorced women and they have ended-- their term (of waiting), then do not prevent them from marrying their husbands when they agree among themselves in a lawful manner; with this is admonished he among you who believes in Allah and the last day, this is more profitable and purer for you; and Allah knows while you do not know.

— Muhammad Habib Shakir

And when ye have divorced women and they have attained their period; straiten them not so that they wed not their husbands when they have agreed between themselves reputably; hereby is exhorted he among you who believeth in Allah and the Last Day: this is cleanest for you and purest. Allah knoweth and ye know not.

— Abdul Majid Daryabadi

When ye divorce women, and they fulfil the term of their ('Iddat), do not prevent them from marrying their (former) husbands, if they mutually agree on equitable terms. This instruction is for all amongst you, who believe in Allah and the Last Day. That is (the course Making for) most virtue and purity amongst you and Allah knows, and ye know not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:232

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

ورثاء کے لئے طلاق کی مزید آئینی وضاحت : اس آیت میں عورتوں کے ولی وارثوں کو ممانعت ہو رہی ہے کہ جب کسی عورت کو طلاق ہوجائے اور عدت بھی گزر جائے پھر میاں بیوی اپنی رضامندی سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ انہیں نہ روکیں۔ اس آیت میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی اور نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوسکتا چناچہ ترمذی اور ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث وارد کی ہے کہ عورت عورت کا نکاح نہیں کرسکتی نہ عورت اپنا نکاح آپ کرسکتی ہے۔ وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح آپ کرلیں۔ دوسری حدیث میں ہے نکاح بغیر راہ یافتہ کے اور دو عادل گواہوں کے نہیں، گو اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے لیکن اس کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 256 یعنی اگر کسی عورت کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی ہو اور زمانہ عدت کے اندر اس سے رجوع نہ کیا ہو، پھر عدت گزر جانے کے بعد وہ دونوں آپس میں دوبارہ نکاح پر راضی ہوں، تو عورت کے رشتے داروں کو اس میں مانع نہ ہونا چاہیے۔ نیز اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہو اور عورت عدت کے بعد اس سے آزاد ہو کر کہیں دوسری جگہ اپنا نکاح کرنا چاہتی ہو تو اس سابق شوہر کو ایسی کمینہ حرکت نہ کرنی چاہیے کہ اس کے نکاح میں مانع ہو اور یہ کوشش کرتا پھرے کہ جس عورت کو اس نے چھوڑا ہے، اسے کوئی نکاح میں لانا قبول نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

مطلقہ عورتوں کو اپنی مرضی کی شادی کرنے سے بلاوجہ شرعی روکنا حرام ہے دوسری آیت میں اس ناروا ظالمانہ سلوک کا انسداد کیا گیا ہے جو عام طور پر مطلقہ عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، کہ ان کو دوسری شادی کرنے سے روکا جاتا ہے پہلا شوہر بھی عموماً اپنی مطلقہ بیوی کو دوسرے شخص کے نکاح میں جانے سے روکتا اور اس کو اپنی عزت کے خلاف سمجھتا ہے اور بعض خاندانوں میں لڑکی کے اولیاء بھی اس کو دوسری شادی کرنے سے روکتے ہیں اور ان میں بعض اس طمع میں روکتے ہیں کہ اس کی شادی پر ہم کوئی رقم اپنے لئے حاصل کرلیں بعض اوقات مطلقہ عورت پھر اپنے سابق شوہر سے نکاح پر راضی ہوجاتی ہے مگر عورت کے اولیاء و اقرباء کو طلاق دینے کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

‘ عضل ’ کا مفہوم :‘ عضل ’ کے معنی رکاوٹ پیدا کرنے اور اڑنگے ڈالنے کے ہیں اور اَزْوَاجَهُنَّ میں ازواج مراد ان کے وہ ہونے والے شوہر ہیں جن سے آئندہ وہ نکاح کرنے کی خواہش مند ہیں۔ مطلقہ کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے : جو عورت طلاق پا کر اپنی عدت پوری کرچکی ہو وہ آزاد ہے کہ جہاں پسند کرے نکاح کرے۔ اس کے ارادے میں طلاق دینے والے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو کوئی رکاوٹ نہیں پیدا کرنی چاہیے، عام اس سے کہ یہ رکاوٹ صریح ممانع کے قسم کی ہو اندرونی سازش اور جوڑ تور کی نوعیت کی۔ بعض خاندانوں اور برادریوں میں یہ جہالت پائی جاتی ہے کہ اگر ان کے اندر کوئی عورت بیاہی جا چکی ہو تو اس کے طلاق پا جان یا اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

232۔ 1 اس میں مطلقہ عورت کی بابت ایک تیسرا حکم دیا جا رہا ہے وہ یہ کہ عدت گزرنے کے بعد (پہلی یا دوسری طلاق کے بعد) اگر سابقہ خاوند بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو ان کو مت روکو۔ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک ایسا واقعہ ہوا تو عورت کے بھائی نے انکار کردیا جس پر یہ آیت اتری، اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ عورت اپنا نکاح نہیں کرسکتی، بلکہ اس کے نکاح کے لئے ولی کی اجازت اور رضامندی ضروری ہے۔ تب ہی تو اللہ تعالیٰ نے ولیوں کو اپنا حق ولایت غلط طریقے سے استعمال کرنے سے روکا ہے۔ اس کی مزید تائید حدیث نبوی ﷺ سے ہوتی ہے، جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا، پس اس کا نکاح باطل ہے، اسکا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

153: بعض مرتبہ طلاق اور اس کی عدت گذرنے کے بعد میاں بیوی کو سبق مل جاتا اور وہ از سر نو نئی زندگی شروع کرنے کے لیے آپس میں دوبارہ نکاح کرنا چاہتے تھے، چونکہ طلاقیں تین نہیں ہوئی ہوتی تھیں، اس لیے شرعاً نیا نکاح جائز بھی تھا اور عورت بھی اس پر راضی ہوتی تھی، لیکن عورت کے میکے والے خود ساختہ غیرت کی بنا پر اسے اپنے پہلے شوہر سے نکاح کرنے سے روکتے تھے۔ یہ آیت اس غلط رسم کو ناجائز قرار دے رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پھر مزید یہ کہ اگر ایک بیچاری کو تم نے طلاق دے دی ہے ، اپنی رفاقت کے لائق نہیں سمجھا تو اسے پابند نہ بناؤ ۔ اگر وہ عدت پوری کردیتی ہے تو اب اسے ہر طرح سے ، ہر طرف سے آزاد چھوڑ دو ۔ اگر وہ اس سابق خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے اور دونوں اس پر راضی ہوگئے ہیں تو تم اسے اپنی عزت کا مسئلہ نہ بناؤ اور اسے ایسا کرنے دو وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ” اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں ، تو پھر اس میں مانع نہ ہو ، کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 ایک عورت کو اس کے خاوند نے ایک یا دو طلاق دی اور پھر عدت میں رجعت بھی نہ کی جب عدت ختم ہوچکی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ زوج اول نے بھی نکاح کا پیغام دیا عورت بھی اس پر راضی تھی مگر عورت کے بھائی کو غصہ آیا اور نکاح کو روک دیا اس پر یہ حکم اترا کہ عورت کی خوشنودی اور بہبودی کو ملحوظ رکھو اسی کے موافق نکاح ہونا چاہیے اپنے کسی خیال اور ناخوشی کو دخل مت دو اور یہ خطاب عام ہے نکاح سے روکنے والوں کو سب کو خواہ زوج اول جس نے کہ طلاق دی ہے وہ دوسری جگہ عورت کو نکاح کرنے سے روکے یا عورت کے ولی اور وارث عورت کو پہلے خاوند سے یا کسی دوسری جگہ نکاح کرنے سے مانع ہوں سب کو روکنے سے ممانعت آگئی، ہاں اگر خلاف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 232 وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بالْمَعْرُوْفِ ط جو عورت طلاق پا کر اپنی عدت پوری کرچکی ہو وہ آزاد ہے کہ جہاں چاہے اپنی پسند سے نکاح کرلے۔ اس کے اس ارادے میں طلاق دینے والے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دی اور عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو اب عدت کے بعد عورت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اسی شوہر سے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔ آیت 228 کے ذیل میں یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان ہوچکی ہے کہ ایک یا دو طلاق کی صورت میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

315 حضرت معقل بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ میری بہن (جمیلہ) کو اس کے خاوند (عاصم بن عدی) نے طلاق (رجعی) دی مگر رجوع نہ کیا تاآنکہ پوری عدت گزر گئی۔ پھر عدت گزر جانے کے بعد دوبارہ نکاح کے لیے مجھے پیغام بھیجا (جب کہ مجھے اور بھی پیغام آ چکے تھے) میں نے غیرت اور غصہ کی وجہ سے ہے اسے برا بھلا کہا اور انکار کردیا اور قسم کھالی کہ اب اس سے نکاح نہ ہونے دوں گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور میں نے اس حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور قسم کا کفارہ ادا کردیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) اس حدیث سے ضمناً یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگرچہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جیسا کہ کئی احادیث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

874 (اور عدت پوری کرکے دوسرے نکاح کی آرزو مندہوں) (آیت) ” اذا طلقتم “ یہاں یہ خطاب صرف شوہروں سے نہیں، عام امت سے ہے۔ خطابا للاولیاء واللازواج ولسائر الناس والعموم یقتضی ذلک (جصاص) بلکہ عین ختم مراد ہے۔ المراد حقیقۃ البلوغ بانقضاء العدۃ (جصاص) البلوغ ھھنا حقیقۃ لامجاز فیھا (ابن العربی) 875 (جیسا کہ عرب میں بہت سے موقعوں پر اولیاء و اقرباء کی طرف سے روکنے کا رواج تھا) 876 ۔ (آیت) ” ازواجھن “ یعنی ان کے تجویز کیے ہوئے شوہر عام اس سے کہ وہ نئے ہوں یا وہی پرانے ہوں جو ایک بار انہیں چھوڑ چکے ہیں، اے الذین یرغبن فیھم ویصلحون لھن (مدارک) ینکحن۔ اس لفظ سے معلوم ہوا کہ عورتیں خود بھی اپنا نکاح کرسکتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 232 تا 235 ترجمہ : اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دیدو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں، (یعنی) ان کی عدت کی مدت پوری ہوجائے تو تم ان کو ان کے، ان خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جنہوں نے ان کو طلاق دی ہے، خطاب اولیاء کو ہے، اس لیے کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ معقل بن یسار کی بہن جمیلہ بنت یسار کو ان کے شوہر (بداح بن عاصم بن عدی) نے طلاق دیدی تھی پھر انہوں نے معقل بن یسار کی بہن سے رجوع کرنے کا ارادہ کیا تو معقل نے ان کو منع کردیا۔ (کما رواہ الحاکم) جب کہ خاوند اور بیوی شرعی قانون کے مطابق راضی ہوں، یہ یعنی روکنے سے ممانعت کی نصیحت اس شخص کو کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ پر اور یوم آخرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ ( اور جب تم عورتوں کو طلاق دیدو اور وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں ( یعنی ان کی عدت پوری ہوجائے) تو تم انہیں نہ روکو) یعنی منع نہ کرو عضل کے معنی منع کرنے کے ہیں اور اصلی معنی اس کے ضیق اور شدت کے ہیں (چنانچہ) الداء العضال عرب میں اس بیماری کو کہتے ہیں جس کا علاج نہ ہو سکے۔ امام شافعی (رح) سے منقول ہے کہ دونوں کلاموں کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جگہ بلوغ کے الگ الگ معنی ہیں۔ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ ( اس سے کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کریں) اس کے مخاطب ( عورت کے) اولیا ( یعنی ورثاء ہیں یہ آیت معقل بن یسار کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(232) اور جب تم عورتوں کو ایک طلاق یا دو طلاقیں دے دو اور پھر ان کی عدت پوری ہوجائے اور وہ اپنے پہلے شوہروں کے پاس حق مہر اور نئے نکاح کے ساتھ جانا چاہیں تو ان کو اپنے پہلے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو اور (آیت) ”تعضلوھن“۔ ضاد کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو مت روکو، جب کہ وہ آپس میں مہر اور نکاح کے لیے ساتھ اتفاق کرلیں ان مذکورہ باتوں سے نصیحت کی جاتی ہے اور یہ باتیں تمہارے لیے درستگی کا ذریعہ ہیں اور تمہارے اور ان عورتوں کے دلوں کو بدگمانی اور عدوات سے پاک کرنے والی ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ عورت کو خاوند سے کس قدرت محبت ہے جبکہ تم یہ نہیں جانتے۔ یہ آیت مبارکہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ) معقل بن یسار ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک شخص سے کیا، اس نے اسے طلاق دے دی، جب عدت گزر گئی تو وہ (دوبارہ) نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا، میں نے تمہارا نکاح کیا، اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہاری عزت افزائی کی، مگر تم نے اسے طلاق دے دی، اب تم پھر اس سے نکاح کا پیغام لے کر آگئے ہو، اللہ کی قسم ! وہ تمہارے پاس کبھی نہیں آسکتی۔ اس شخص میں کوئی برائی نہیں تھی اور میری بہن بھی اس کے پاس جانا چاہتی تھی (لیکن میں مانع تھا) تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل فرمائی : (فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ) ”تو انھیں اس سے نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 232۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” (فلا تعضلوھن “۔ روایت ہے کہ حضرت معقل بن یسار کی بہن ابو البداح کے نکاح میں تھی تو اس نے اسے طلاق دی اور اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی، پھر وہ نادم ہوا تو اسے پیغام نکاح بھیجا سو وہ راضی ہوگئی اور اس کین بھائی نے انکار کردیا کہ وہ اس کے ساتھ شادی کرے اور کہا : میرا چہرہ تیرے لئے حرام ہے اگر تو اس سے شادی کرے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی، حضرت مقاتل نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے معقل کو بلایا اور فرمایا : ” اگر تو مومن ہے تو اپنی بہن کو ابو البداح سے نہ روک۔ “ تو معقل نے عرض کی : امنت باللہ “ اور بہن کی شادی اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام وکیع، بخاری، عبد بن حمید، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی نے معقل بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ میری ایک بہن تھی میرے چچا کا لڑکا میرے پاس آیا تو میں نے اس سے اس کا نکاح کردیا۔ پھر وہ اس کے پاس تھی جب تک پھر اس نے اس کو ایک طلاق دیدی اور اس سے رجوع نہیں کیا یہاں تک کہ عدت گزر گئی۔ (بعد میں) وہ اس کو چاہتا تھا اور وہ اس کو چاہتی تھی۔ پھر اس نے نکاح کا پیغام بھیجا۔ میں نے اس سے کہا ارے کم عقل ! میں نے تیری عزت کرتے ہوئے اپنی بہن کا نکاح تیرے ساتھ کیا تھا پھر تو نے طلاق دیدی پھر اب تو اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ اللہ کی قسم ! اب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ طَلَّقْتُمُ : تم لوگ طلاق دو ] [ النِّسَآئَ : عورتوں کو ] [ فَـبَلَغْنَ : پھر وہ پہنچیں ] [ اَجَلَہُنَّ : اپنی مدت (کے اختتام) کو ] [ فَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ : تو تم لوگ مت روکو ان کو ] [ اَنْ یَّنْکِحْنَ : کہ وہ نکاح کریں ] [ اَزْوَاجَہُنَّ : اپنے (سابقہ یا آئندہ) شوہروں سے ] [ اِذَا تَرَاضَوْا : جب وہ راضی ہوں ] [ بَیْنَہُمْ : آپس میں ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلائی سے ] [ ذٰلِکَ : یہ ہے ] [ یُوْعَظُ : نصیحت کی جاتی ہے ] [ بِہٖ : جس کی ] [ مَنْ : اس کو جو ] [ کَانَ مِنْکُمْ : تم میں سے ہو ] [ یُؤْمِنُ : (کہ) ایمان رکھتا ہو ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مطلقہ عورتیں سابقہ شوہروں سے نکاح کرنا چاہیں تو اس میں رکاوٹ نہ ڈالیں اس آیت میں عورتوں کے اولیاء اوراقرباء کو ایک خاص نصیحت کی گئی اور وہ یہ کہ جب طلاق کے بعد عورت کی عدت گزر جائے اور وہ اپنے اسی شوہر کے نکاح میں پھرجانا چاہے جس نے طلاق دی تھی تو اس میں رکاوٹ نہ ڈالو، طلاق رجعی کے بعد جب عدت گزر جائے تو یہ طلاق بائن ہوجاتی ہے اور طلاق بائن ہوجانے پر میاں بیوی کی رضا مندی سے آپس میں دو بارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ جب دونوں یہ محسوس کریں کہ ہمیں پھر سے زن و شوہر کی طرح رہنا چاہئے اور پھر سے نکاح کرلینے میں مصلحت محسوس کریں تو عورت کے اولیاء و اقرباء رکاوٹ نہ ڈالیں ان کا نکاح آپس میں ہونے دیں۔ البتہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم بست وہشتم۔ منع از اضرار نساء بعد از عدت۔ قال تعالی، واذا طلقتم النساء فبلغن۔۔۔ الی۔۔ تعلمون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اندرون عدت ضرر پہنچانے کی ممانعت کا بیان تھا اس آیت میں عدت گزرنے کے بعد ضرر پہنچانے کی ممانعت کا بیان ہے کہ عدت گزرنے کے بعد عورتوں کو نکاح سے نہ روکو چناچہ فرماتے ہیں کہ اور جب تم یعنی تمہارا کوئی عزیزعورتوں کو طلاق دے دے اور پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں یعنی ان کی عدت پوری ہوجائے اور پھر وہ اپنے سابق شوہر سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہیں تو اتم ان کو اپنے پہلے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ رکو جب کہ وہ شریعت اور مروت کے دستور کے مطابق نکاح کرنے پر باہم رضامند ہوجائیں البتہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 231–232

طلاق برائے ایذاء رسانی گذشتہ درس میں یہ مسئلہ بیان ہوچکا ہے کہ طلاقیں اصل میں دو ہی ہیں۔ جب تیسری طلاق دیدی جائے تو پھر بغیر حلالہ کے پہلے خاوند کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا آیت زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے نکاح و طلاق اور عدت سے متعلقہ دو اور مسائل بیان فرمائے ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ دوسری طلاق کے بعد جب عدت پوری ہوجائے تو پھر عورتوں کو بلاوجہ تنگ نہ کرو۔ اگر انہیں روکنا ہے تو معروف طریقے سے اور اگر رخصت ہی کرنا ہے تو بھی اچھے طریقے سے انہیں رخصت کر دو ۔ اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کسی مطلقہ یا بیوہ کو نکاح ثانی کرنے سے منع نہ کرو۔ یہ اچھی بات نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی مرضی کے مطابق نکاح کی اجازت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ يُوْعَظُ بِہٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝ 0 ۭ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَاَطْہَرُ۝ 0 ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝ 232 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 230–232

ترکیب : فان طلقہا شرط فلا تحل فعل ضمیر ہی راجع عورت کی طرف فاعل لہ متعلق لا یحل من بعد متعلق فعل مذکور حتی غایۃً لا تحل تنکح فعل ضمیر ہی۔ فاعل زوجا مفعول موصوف غیرہ صفت یہ تمام جملہ جواب شرط فان طلقہا ای الزوج الثانی جملہ شرط فلا جناح علیہما ای المرۃ والزوج الاول ان یتراجعا فی محذوف جملہ جواب شرط ان شرطیۃ ظنا فعل الزوجان فاعل ان یقیما الخ جملہ مفعول پھر یہ سب شرط اور فلا جناح دال بر جزاء تلک مبداء حدود اللّٰہ خبر موصوف یبینہا الخ جملہ صفت واذا طلقتم النساء شرط فامسکوھن الخ جواب ضرارا مفعول لہ تمسکوھن وما معطوف ہے نعمت اللہ پر ان ینکحن ای من ان ینکحن۔ تفسیر : اس آیت میں طلاق کے متعلق پانچواں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فلَاَ تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّـنْـکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ط ذٰلِکَ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنْـکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط ذٰلِـکُمْ اَزْکٰی لَـکُمْ وَاَطْہَرُط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْـتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (اور جب تم طلاق دو عورتوں کو پھر وہ پوری کر چکیں اپنی عدت تو انھیں منع نہ کرو کہ وہ نکاح کرلیں اپنے (نئے) شوہروں سے۔ جب کہ وہ رضا مند ہوجائیں آپس میں دستور کے مطابق۔ یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ یہ بہت پاکیزہ ہے تمہارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اس سے پہلے طلاق رجعی کا بیان جاری ہے کہ جس عورت کو طلاق رجعی دی جائے اور وہ اپنی عدت گزارلے تو کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے میں سابقہ خاوند رکاوٹ نہ بنے۔ یہاں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ طلاق رجعی کی صورت میں اگر مطلقہ عورت کی عدت گزرجائے اب میاں بیوی آپس میں اچھے انداز میں رہنے کا عزم کرتے ہوئے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو ولی کو بھی اس نکاح میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے شخص کے لیے نصیحت ہے جو حقیقتاً دل کی گہرائیوں سے اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ فرمایا یہی صورت تمہارے لیے مناسب اور بہتر ہے۔ کیونکہ انہوں نے ایک دوسرے کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 232: وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ (اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں) یعنی ان کی عدت ختم ہوجائے۔ بلوغ کا معنی : نکتہ : دونوں کلاموں کا سیاق ظاہر کر رہا ہے۔ کہ بلوغ کا دونوں جگہ معنی الگ الگ ہے۔ یہاں تو نکاح کے بعد بلوغ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور یہ عدت کے بعد ہی ہوتا ہے۔ پس یہاں معنی ختم ہونا اور پہلی آیت میں رجعت کے بعد ذکر کیا اور رجعت عدت کے دوران ہوتی ہے۔ اور پہلے میں معنی قریب اور اختتام ہونا ہے۔ فَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ ۔ (پس تم مت ان کو روکو) ۔ یعنی مت ان کو منع کرو۔ العضل۔ روکنا اور تنگی دینا۔ اَنْ یَّنْکِحْنَ ۔ (یہ کہ وہ نکاح کریں) ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 232۔: (آیت)” واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن “۔ جمیلہ بنت یسار جو کہ معقل بن یسار مزنی کی بہن تھی ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں ، یہ محترمہ ابو القداح بن عاصم بن عدی بن عجلان کے گھر تھیں ، پس انہوں نے اس کو طلاق دی ، معقل ؓ فرماتے ہیں میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کردیا ، پس اس نے میری بہن کو طلاق دے دی حتی کہ جب اس کی عدت گزر گئی ، وہ آدمی میری بہن کو پیغام نکاح دینے آگیا ، میں نے اس آدمی کو کہا میں نے اپنی بہن کا تجھ سے نکاح کردیا اور اس کو تیرے زیر فراش کیا ، تیرا اکرام ، کیا ، پس تو نے اس کو طلاق دے دی ، اب پھر تو اسے نکاح کا پیغام دینے آگیا ؟ خبردار ! میری بہن اب تیری طرف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

بخاری ‘ داؤد ‘ ابن ماجہ اور ترمذی میں معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بہن کا ایک شخص سے نکاح کردیا کچھ دنوں تو وہ میاں بی بی اچھی طرح سے ساتھ رہے پھر وہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے میری بہن کو طلاق دے دی اور عدت کے اندر اس نے رجوع بھی نہیں کیا جب عدت گذرچ کی تو کئی اور جگہ سے بھی اس کے نکاح کا پیام آیا اور اس میرے بہنوئی نے بھی پھر پیام نکاح کا بھیجا میں نے اس اپنے بہنوئی کو برا بھلا کہا اور یہ قسم کھالی کہ اب میں دوبارہ اس سے اپنی بہن کا نکاح ہرگز نہیں کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ بعض مفسروں نے یہ جو کہا ہے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری ؓ کے چچا کی بیٹی بہن کے حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ خطاب اس مطلقہ عورت کے سرپرستوں سے ہے جسے تین سے کم طلاق دی گئی ہو، عدت پوری ہونے کے بعد اس کا خاوند اس سے دوبارہ نکاح کا خواہاں ہو اور وہ عورت بھی اس نکاح پر راضی ہو تو اس عورت کے ولی کے لئے خواہ وہ باپ ہو یا کوئی اور، جائز نہیں کہ اسے نکاح کرنے سے روکے، یعنی پہلی طلاق پر اپنے غصہ، بغض اور نفرت کی بنا پر، میاں بیوی کو نکاح کرنے سے روکنے سے منع کرتا ہے، کیونکہ عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ تجدید نکاح تمہارے لئے اس سے زیادہ پاک اور بہتر ہے جو عورت کا ولی سمجھتا ہے کہ عدم نکاح درست رائے ہے اور نکاح سے روکنا (انتقاماً ) پہلی طلاق کا جواب ہے۔ جیسا کہ متکبر اور نام نہاد اونچے گھرانوں کے لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

مطلقہ بیوی سے رجوع کرنے میں نقصان کا ارادہ نہ ہونا قول باری ہے (و اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف، اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو معروف طریقے سے روک لو یا معروف طریقے سے انہیں رخصت کر دو ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (بلغن اجلھن) سے مراد حقیقت اجل نہیں جو عدت ہے بلکہ اس سے مراد اس کے خاتمے کے قریب پہنچ جانا ہے کیونکہ حقیقی معنی لینے کی صورت میں اجل کو پہنچ جانے کا مطلب عدت کا گزر جانا ہوگا جبکہ عدت کے گزر جانے کے بعد رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ عدت کو لفظ اجل سے متعدد مقامات پر تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں سے یہ قول باری (فاذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

654 عورتوں کو انکے حق نکاح سے روکنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عورتوں کو ان کے حق نکاح سے مت روکو۔ خواہ وہ اپنے سابقہ شوہروں سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں یا دوسرے نئے خاوندوں سے۔ ان کو بہرحال اس کی آزادی و اختیار ہے۔ پس تم ان کو ان کے اس حق اور آزادی کے اختیار اور استعمال سے کبھی نہیں روکنا، بشرطیکہ وہ دستور کے مطابق (بالمعروف) ہو۔ پس اگر دستور کیخلاف کسی امر کا ارتکاب کیا گیا ہو تو پھر اس کو روکنے کا حق ہے۔ مثلاً یہ کہ کسی امر محرم کا ارتکاب کیا گیا ہو، یا وہ نکاح غیر کفو میں ہو، وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ اگلے حاشیے میں اس کی مزید تفصیل آرہی ہے۔ " عضل " کے معنی روکنے اور کسی کام میں رکاوٹ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

رجوع کے لیے عورت کی رضامندی تشریح : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک عورت کو اس کے خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دے دیں اور پھر عدت پوری ہوگئی مگر اس نے بیوی کو نہ تو تیسری طلاق دی اور نہ ہی اس کو واپس بلایا۔ عدت پوری ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا اور پہلے خاوند نے بھی پیغام بھیج دیا۔ عورت اس بات پر راضی تھی۔ مگر اس کے بھائی نے دوبارہ نکاح کرنے سے روک دیا۔ اس پر یہ حکم نازل ہوا کہ عورت کی اپنی خوشنودی اور بھلائی کو سامنے رکھنا چاہیے اور دوسروں کی مرضی کو اس پر مسلط نہیں کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ اگر تم واقعی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو تمہیں اللہ کے احکام کا پورا خیال رکھنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 232–235

آیات 232- 235 اسرارو معارف واذطلقتم النسائ…………ان اللہ غفور رحیم مطلقہ عورتوں کے ساتھ بعد از طلاق کیا سلوک کیا جائے ؟ تو ارشاد ہوتا ہے کہ نہ تو عورت طلاق ہوجانے کے بعد اس قدر مجبور وبیکس ہوتی ہے کہ اس کی رائے کی کوئی اہمیت نہ دی جائے اور نہ اس کے ساتھ کوئی ایسی نحوست وابستہ ہوتی ہے ، جسے اہل خاندان بوجھ خیال کریں بلکہ وہ بحیثیت انسان وہی پہلے والا انسان ہے اس کی اپنی عزت نفس ہے اگر کسی سے مزاج نہ مل سکا اور طلاق ہوگئی تو صرف اس وجہ سے اس کی عزت نفس ضائع نہیں ہوجاتی۔ بلکہ بعد از طلاق جب عدت پوری کرچکے تو نہ پہلے شوہر کو حق ہے کہ اسے نکاح ثانی سے روکے اور نہ ورثاء کو۔ اگر پہلے ہی شوہر سے دوبارہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 232–233

ف 1 نکاح و طلاق کے بعد اس آیت میں رضاعتہ (بچے کو دودھ پلانے) کے مسائل کا بیان ہے کیونکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک عورت کو طلاق ہوجائے یا اس کے شوہر کا انتقال ہوجائے اور اس کی گود میں دودھ پیتا بچا ہو اس سلسلے میں معمول رہا ہے کہ وہ بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچے کو دودھ پلانا ماں پر فرض ہے خصوصا جب بچہ اس کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ پینے کے لیے تیار نہ ہو۔ (دیکھئے سورت طلاق) نیز اس سے دو باتیں اور بھی معلوم ہوئیں، ایک یہ رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے لہذا اس دو سال کی عمر کے بعد اگر کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ صحیحین میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:232) واذا طلقتم ۔۔ بالمعروف میں واذا ۔۔ اجلھن۔ جملہ شرطیہ ہے اور فلا تعضلوھن ۔۔ ازواجھن۔ جواب شرط ۔ اذا تراضوا میں اذا ظرف زمان ہے۔ بمعنی جب کہ۔ لا یعضلوھن۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ عضل (باب نصر) مصدر سے۔ جس کے معنی عضلہ (پٹھا) پکڑ کر باندھ دینا۔ یا دوسرے الفاظ میں سختی سے روک دینا۔ ضمیر فاعل جمع مذکر حاضر یا تو پہلے خاوندوں کے لئے ہے یا عورتوں کے سرپرستوں کے لئے۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ جس کا مرجع وہ عورتیں جن کو دوبارہ طالق دی جا چکی ہو۔ یعنی وہ عورتیں جن کو دوبارہ طلاق دی جاچکی ہو ان کو اپنے خاوندوں سے (اس سے مراد ان کے پہلے خاوند ہیں یا نئے خاوند ہیں جن سے وہ نکاح کرنا چاہیں) نکاح…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن : آیت نمبر 232 لا تعضلوا (تم منع مت کرو) ۔ ان ینکحن (یہ کہ وہ نکاح کریں) ۔ تراضوا (آپس میں رضا مند ہوگئے) ۔ ازکی ( بہت پاکیزگی ہے) ۔ اطھر (زیادہ ستھرائی، صفائی ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 232 جو عورت طلاق پانے کے بعد اپنی عدت پوری کرچکی ہو وہ آزاد ہے۔ دستور اور شریعت کے مطابق وہ جہاں چاہے اپنی پسند اور مرضی سے شادی کرسکتی ہے۔ اس کے اس ارادے میں طلاق دینے والے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو کسی طرح کی رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ عرب میں یہ جہالت عام تھی کہ عورت کو طلاق دینے اور عدت گزر جانے کے بعد بھی طرح طرح سے تنگ کیا جاتا تھا وہ اس بات کو اپنی توہین اور ذلت سمجھتے تھے کہ جو عورت ہمارے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 231–232

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ عدت کے ختم ہونے تک خاوند کو اختیار ہے کہ رضامندی کے ساتھ اس کو پھر ملا لیوے یا بلکل چھوڑ دے یا مگر یہ ہر گز جائز نہیں کہ قید میں رکھے۔ فائدہ : پہلی آیت میں یہ بتلا دیا تھا کہ دو طلاق تک مرد کو اختیار تھا کہ عورت کو پھر ملا لیوے، یا بلکل چھوڑ دے۔ اب اس آیت میں یہ فرمایا کہ یہ اختیار صرف عدت تک ہے۔ عدت کے بعد کوئی اختیار حاصل نہ رہے گا۔ ولا تتخذوااٰیٰت اللہ ھزوا الخ کا شان نزول : تفسیر ابن منذر میں عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ لوگ طلاق وعتاق کا پہلے اقرار کر کے پھر کہ دیتے تھے کہ ہم نے تو ہنسی میں کہ دیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلا دیا کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 230–233

[160] تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر حرام ہوجاتی ہے اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ دوبارہ نکاح جب تک کہ عدت گزرنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے اور وہ بعد صحبت کسی وقت خود اپنی مرضی سے طلاق دے دے پھر عدت گزارنے کے بعد عورت کا اپنے پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) عضل کے معنی روکنے اور مشکل میں ڈالنے کے ہیں دجاجۃ معضلۃ اس مرغی کو کہتے ہیں بمشکل انڈے دے : مضلت الناقۃ اس وقت بولتے ہیں جب اونٹنی کے لئے بچہ جننا مشکل ہوجائے ، داء عضال اس بیماری کا نام ہے جو بمشکل دور ہو ۔ مقصد یہ ہے کہ عدت ختم ہونے کے بعد عورت کو دوسرے نکاح کا حق حاصل ہے اور تمہارے لئے جائز و درست نہیں کہ تم انکے نکاح میں روڑ اٹکاؤ اور ان کی مشکلات میں نہ ڈالو ۔ آیت کا روئے سخن یا تو پہلے خاوندوں سے ہے اور یہ اولیاء سے ، عام طور پر جاہل خاوند طلاق دینے کے بعد کوشش کرتے ہیں کہ ان کی سابقہ بیوی کسی دوسرے سے نکاح نہ کرسکے اس لئے کہ یہ بظاہر ان کی عزت کے خلاف ہے ، وہ ان کے خلاف لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2۔ اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کے وقت پر پہنچ جائیں یعنی عدت کی معیاد پوری کرلیں تو تم ان کو اس امر سے نہ روکو کہ وہ اپنے تجویز کردہ خاوندوں سے نکاح کرلیں جب کہ وہ عورتیں اور وہ ہونے والے شوہر سب آپس میں شرعی دستور کے موافق رضا مند ہوں اور حکم مذکور کے ذریعہ تم میں سے ہر اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخر ت پر یقین رکھتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور وقوع قیامت کا معتقد ہو ۔ اس نصیحت پر عمل کرنا اور اس نصیحت کو قبول کرنا بڑی صفائی اور بہت زیادہ پاکیزگی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے احکام کی مصالح کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اس لئے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اس آیت میں روکنے کی سب صورتیں داخل ہیں اور ہر صورت میں روکنے کو منع فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایک طلاق یا دو طلاق کے بعد عدت پوری کر کے عورت نکاح ثانی کرسکتی ہے : 395: اگر عورت کو ایک یا دو طلاقیں دیں لیکن عدت کا زمانہ گزر گیا اور خاوند نے رجوع نہیں کیا تو اب وہ اپنا نکاح ثانی کرنے میں بالکل آزاد ہے جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ خواہ پہلے شوہر سے کرے خواہ کسی اور شخص سے دونوں صورتوں میں کوئی شخص اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتا۔ یہ اس لئے فرمایا گیا کہ بعض اوقات خود پہلا خاوند ہی طلاق دینے کے بعد بلکہ اس کی عدت گزرنے کے بعد اس عورت کو کسی دوسری جگہ نکاح کرنے سے روکتا ہے کیونکہ وہ اسے ذلت خیال کرتا ہے اور کبھی اس عورت کے رشتہ دار ہی سد ِراہ بن جاتے ہیں۔ اس آیت میں ان دونوں فریقوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Rules of the remarriage of the divorced women The second verse stops the unjust treatment meted out to divorced women, that is, they are discouraged to marry again. In some cases the first husband generally opposes the idea of his divorced wife marrying someone else and considers this to be a violation of his honour. In some families, even guardians of the divorced woman stop her from marrying a second time -- some of them often do that out of greed hoping to let her marry only when there is some financial gain for them. There are times when the divorced woman agrees to remarry her former…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

256. This is a directive to the relatives of the divorced woman. When a woman is divorced by her husband and he fails to revoke the divorce before the expiry of the waiting period, the relatives of the woman should not try to prevent the couple from re-marrying if they agree to do so. This verse may also be interpreted to mean that if a divorced woman wants to contract marriage with someone other than her former husband after the expiry of the waiting period, the former husband should not obstruct this marriage by making malicious propaganda against the woman he has forsaken. That is an…

Read the full tafseer →