مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے لوگ ضروری بات چیت بھی نماز میں کرلیا کرتے تھے، جب یہ آیت اتری تو چپ رہنے کا حکم دے دیا گیا، لیکن اس حدیث میں ایک اشکال یہ ہے کہ علماء کرام کی ایک جماعت کے نزدیک نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ شریف کی ہجرت سے پہلے ہی مکہ شریف میں نازل ہوچکی تھی چناچہ صحیح مسلم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حبشہ کی ہجرت سے پہلے ہم نبی ﷺ کو سلام کرتے تھے آپ نما میں ہوتے پھر بھی جواب دیتے، جب حبشہ سے ہم واپس آئے تو حضور ﷺ کو میں نے آپ کی نماز کی حالت میں ہی سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا، اب میرے رنج و غم کا کچھ نہ پوچھئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
سورة الْبَقَرَة 262
قوانین تمدن و معاشرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اس تقریر کو نماز کی تاکید پر ختم فرماتا ہے، کیونکہ نماز ہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر خدا کا خوف، نیکی و پاکیزگی کے جذبات اور احکام الہٰی کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہے اور اسے راستی پر قائم رکھتی ہے۔ یہ چیز نہ ہو تو انسان کبھی الہٰی قوانین کی پابندی پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا اور آخر کار اسی نافرمانی کی رو میں بہہ نکلتا ہے جس پر یہودی بہہ نکلے۔
سورة الْبَقَرَة 263
“ اصل میں لفظ ”صَلوٰۃ الْوُسْطیٰ“ استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد بعض مفسرین نے صبح کی نماز لی ہے، بعض نے ظہر، بعض نے مغرب اور بعض نے عشاء۔ لیکن ان میں سے کوئی قول بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 34 نمازوں کی حفاظت کا بیان
اس سے آگے پیچھے طلاق وغیرہ کے احکام ہیں درمیان میں نماز کے احکام بیان فرمانا اشارہ اس طرف ہے کہ مقصود اصلی توجہ الی الحق ہے اور معاشرت اور معاملات کے احکام سے علاوہ اور مصلحتوں کے اس توجہ کی حفاظت اور ترقی بھی مقصود ہے، چناچہ جب ان کو خدائی احکام سمجھ کر عمل کیا جاوے گا تو توجہ لازم ہوگی پھر یہ کہ ان احکام میں ادائے حقوق عباد بھی ہے اور حقوق عباد کے اتلاف سے درگاہ الہی سے دوری ہوتی ہے جس کے لوازم میں سے حق وعبد دونوں کی طرف سے بےتوجہی ہے چونکہ نماز میں یہ توجہ زیادہ ظاہر ہے اس لئے اس کے درمیان میں لانے سے اس توجہ کے مقصود ہونے پر زیادہ دلالت…
Read the full tafseer →’ صلوۃ الخوف ‘ سے مراد : رجال، راجل کی اور رکبان راکب کی جمع ہے۔ فرمایا کہ اگر دشمن نے حالت خطرے کی پیدا کر رکھی ہو، نماز اپنے تما شرائط و آداب کے ساتھ ادا کرنی ممکن نہ ہو تو سوار پیادہ جس حال میں ہو اسی حال میں نماز ادا کرلو۔ خطرے کے حالات میں نماز کی محافظت یہی ہے۔ قرآن میں دوسری جگہ وہ شکل بھی بتا دی گئی ہے جو خطرے کے حالات میں نماز باجماعت کے قیام کے لیے اختیار کی جاسکتی ہے اگر اس کا امکان ہو۔
پھر فرمایا کہ جب امن کے حالات میسر ہوں تو اس طرح اللہ کو یاد کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا ہے۔ اللہ کو یاد کرو سے مراد ادائیگی نماز ہے۔ ذکر کا لفظ نماز کے لیے قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ نماز…
Read the full tafseer →239۔ 1 یعنی دشمن سے خوف کے وقت جس طرح بھی ممکن ہو پیادہ چلتے ہوئے، سواری پر بیٹھے ہوئے نماز پڑھ لو۔ تاہم جب خوف کی حالت ختم ہوجائے تو اسی طرح نماز پڑھو جس طرح سکھلایا گیا۔
Read the full tafseer →160: جنگ کی حالت میں جب باقاعدہ نماز پڑھنے کا موقع نہ ہو اس بات کی اجازت ہے کہ انسان کھڑے کھڑے اشارے سے نماز پڑھ لے البتہ چلتے ہوئے پڑھنا جائز نہیں اگر کھڑا ہونے کا بھی موقع نہ ہو تو نماز قضا کرنا بھی جائز ہے۔
Read the full tafseer →اور اگر بالکل امن وامان کی حالت ہوجائے تو پھر نماز وہی ہے ، جس کی تعلیم دی ہے اور مزید انہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا چاہئے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان باتوں کی تعلیم دی جن سے وہ واقف نہ تھے : فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ” اور جب امن میسر آجائے تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو ، جو اس نے تمہیں سکھایا ہے ۔ جس سے پہلے تم واقف نہ تھے۔ “ لوگ جانتے ہی کیا تھے ، اگر اللہ تعالیٰ انہیں نہ سکھاتا ، اگر اللہ تعالیٰ زندگی کے ہر موڑ پر لمحہ لمحہ ان کی راہنمائی نہ فرماتا۔
ازدواجی زندگی کے احکام اور طلاق کے احکام کے دوران ، نماز کی یہ…
Read the full tafseer →3 یعنی لڑائی اور دشمن سے خوف کا وقت ہو تو ناچاری کو سواری پر اور پیادہ بھی اشارہ سے نماز درست ہے گو قبلہ کی طرف بھی منہ نہ ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 239 فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً اَوْ رُکْبَانًا ج۔
دشمن اگر پیچھا کر رہا ہے اور آپ رک کر تمام شرائط و آداب کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کردیں گے تو وہ آپ کے سر پر پہنچ جائے گا۔ یا آپ نے کہیں جا کر فوری طور پر حملہ کرنا ہے اور آپ نماز کے لیے رک جائیں گے تو مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ چناچہ دشمن سے خطرے کی حالت میں پیدل یا سوار جس حال میں بھی ہوں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
فَاِذَآ اَمِنْتُمْ
خطرہ دور ہوجائے اور امن کی حالت ہو۔
فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ
اُمت کو نماز کا طریقہ محمد رسول اللہ ﷺ نے سکھایا ہے اور حکم دیا ہے : صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ…
Read the full tafseer →335 حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے جب کوئی پوچھتا کہ ہم نماز خوف کیسے پڑھیں ؟ تو وہ کہتے کہ امام آگے بڑھے، کچھ لوگ اس کے ساتھ نماز ادا کریں، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے، باقی لوگ ان کے اور دشمنوں کے درمیان کھڑے رہیں۔ نماز نہ پڑھیں۔ جب یہ لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت نماز پڑھ چکیں تو سرک کر پیچھے چلے جائیں اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اب وہ لوگ آجائیں اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں۔ امام تو اپنی نماز (دو رکعت) سے فارغ ہوگیا۔ اب یہ دونوں گروہ باری باری باقی ایک ایک رکعت پوری کرلیں تو ان کی بھی دو رکعت ہوگئیں، اور اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو پاؤں پر کھڑے پیدل یا سواری پر رہ کر نماز ادا کرلیں۔ منہ قبلہ رخ ہو…
Read the full tafseer →909 ۔ (جس طرح بھی بن پڑے اور جس طرح تک حالات اجازت دیں) (آیت) ” فان خفتم “۔ یعنی اگر عام قاعدہ کے مطابق نماز باجماعت میں کسی دشمن کی طرف سے خوف ہو۔ اسلام کی یہ روزانہ پنج وقتہ پریڈ یا دربار الہی میں حاضری اس درجہ اہمیت رکھتی ہے کہ بالکل معاف عین حالت جنگ میں بھی نہیں ہوتی۔ محافظت صلوۃ کا حکم بہرحال قطعی اور دائمی ہے۔ ترک نماز کی اجازت اس خطرہ کے حال میں بھی نہیں۔ البتہ رعایت ماحول کی پوری گنجائش دوسرے موقعوں کی طرح اس محل میں بھی رکھ دی گئی ہے۔ نماز خوف کی تفصیلات کتب فقہ میں ملیں گی۔
910 ۔ یعنی اب نماز عام قاعدوں کے موافق وماتحت ادا کرو۔ (آیت) ” فاذا امنتم “ یعنی جب دشمن کی طرف سے اندیشہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 237–239
وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ أنْ تَمَسُّوْھُنَّ ، (الآیۃ) اگر تم عورتوں کو چھونے (وطی یا خلوۃ صحیحہ) سے پہلے طلاق دو اور مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا ادا کرو، البتہ اگر عورتیں یہ آدھا مہر بھی چھوڑ دیں یا جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے وہ درگذر کرے تو نہ دو ، فَرِیْضَۃٌ، سے مراد مہر اور فرض کرنے سے مراد مہر کا ذکر کرنا ہے خواہ مقدار معین ہو یا نہ ہو پس اگر مقدار بھی معین ہے تو اس کا آدھا دینا آسان ہے اور اگر مقدار معین نہیں تو مہر مثل پر فیصلہ ہوگا سوال یہ ہے کہ مثل کس کا اور کن چیزوں میں معتبر ہے ؟ اس شعر میں مذخور ہے
مثل ہیں اقربائے آبائی یہ زر و حسن وعمر و دانائی
الَّذِیْ بِیَدِہٖ…
Read the full tafseer →فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا ( پھر اگر تمہیں (دشمن وغیرہ کا) خوف ہو تو پیادہ یا سوار) امام شافعی اور امام احمد نے گھوڑ دوڑ کی حالت میں نماز ( پڑھنے) کے جائز ہونے پر اس آیت سے استدلال کیا ہے اور ابن جوزی نے بخاری کی حدیث سے حجت کی جو نافع نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ جب ان سے کسی نے صلوٰۃ خوف ( یعنی ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے) کو پوچھا تو آپ نے اوّل اس کی تفصیل بیان کی پھر فرمایا کہ اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو پھر جس طرح بن پڑے پڑھ لو خواہ پیادہ ہو یا چلتے ہو یا اپنے پیروں پر کھڑے ہو یا سوار ہو قبلہ رخ ( بھی) منہ رہے یا نہ رہے۔ نافع کہتے ہیں میر ایہ خیال ہے کہ یہ ابن عمر نے رسول…
Read the full tafseer →(239) اور اگر نماز کے قیام میں کسی دشمن کا خوف ہو تو کھڑے کھڑے یا سواری پر چڑھے چڑھے جس طرح ممکن ہو خواہ اشارتا ہو یا قبلہ کی طرف منہ بھی نہ ہوسکے تو نماز پڑھ لیاکرو۔
اور جب دشمن وغیرہ سے بالکل اطمینان ہوجائے تو پھر خاص اللہ تعالیٰ کے لیے رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھو، اس کے مطابق جس کا تمہیں قرآن کریم کے اندر حکم دیا گیا ہے کہ مسافر (چار رکعتوں والی نماز میں) دو رکعتیں پڑھے اور مقیم چار پڑھے، نزول قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے تم اس سے بیخبر تھے ،
Read the full tafseer →اس آیت میں نماز کی حفاظت کی مزید تاکید ہے کہ خوف اور ہنگامی حالت میں بھی نماز معاف نہیں ہے، بلکہ پیدل یا سوار، جس حالت میں بھی ممکن ہو، خوف کے وقت نماز ادا کرلو۔ ہاں خوف ختم ہونے کے بعد نماز کو ان پورے شرائط و ارکان اور آداب کے ساتھ ادا کرو جن کی تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے سے تعلیم دی ہے۔ صلاۃ خوف کے احکام کے لیے دیکھیے سورة نساء (102) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 239۔
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فان خفتم “۔ یہ خوف سے ماخوذ ہے جس کا معنی گھبراہٹ اور ڈر ہے۔ ” فرجالا “۔ یعنی تم نماز پڑھو پیدل چلتے ہوئے (آیت) ” اور کبانا “ یا سوار۔ یہ رجالا پر معطوف ہے۔ اور الرجال راجل یا رجل کی جمع ہے یہ انکے اس قول سے ہے : رجل الانسان یرجل رجلا “ جب آدمی کے پاس سواری نہ ہو اور وہ اپنے قدموں پر چلے، (صفت کا صیغہ ہوگا) فھو رجل وراجل ورجل “۔ (جیم کے ضمہ کے ساتھ) یہ اہل حجاز کی لغت ہے، وہ کہتے ہیں : مشی فلان الی بیت اللہ حافیا رجلا (فلاں بیت اللہ شریف کی طرف ننگے پاؤں پیدل چلا) اسے طبری وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ ورجلان ورجیل ورجل “۔…
Read the full tafseer →(1) مالک، شافعی، عبد الرزاق، بخاری، ابن جریر، بیہقی نے نافع (رح) سے روایت کیا کہ ابن عمر ؓ سے خوف کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا امام آگے کھڑا ہوجائے اور ایک جماعت لوگوں میں آجائے امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور ان میں سے ایک جماعت ہوگی ان کے اور دشمن کے درمیان وہ ابھی نماز نہ پڑھیں جب ان لوگوں نے اس کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لی تو وہ پیچھے ہٹ جائیں ان لوگوں کی جگہ پر جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اور (رکعت پڑھ کر) سلام نہ پھیریں اور وہ لوگ آگے آجائیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ اور وہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں پھر امام سلام پھیر دے کیونکہ اس کی دو رکعت ہوری ہوگئیں۔ پھر دو جماعتوں میں سے…
Read the full tafseer →[ فَاِنْ خِفْتُمْ : پھر اگر تمہیں خوف ہو (کسی چیز کا)] [ فَرِجَالاً : تو (نماز پڑھو) پیدل چلتے ہوئے ] [ اَوْ رُکْبَانًا : یا سواری کرتے ہوئے ] [ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ : پھر جب تم لوگ امن میں ہو ] [ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ : تو یاد کرو اللہ کو ] [ کَمَا : اس طرح جیسے ] [ عَلَّمَکُمْ : اس نے سکھایا تم لوگوں کو ] [ مَّا : جس کو ] [ لَمْ تَـکُوْنُوْا : تم لوگ تھے ہی نہیں ] [ تَعْلَمُوْنَ : کہ جانتے ]
ر ج ل
رَجَلَ (ن) رَجْلًا : ٹانگ پر مارنا۔
رَجِلَ (س) رَجَلًا : پیدل چلنا۔
رِجْلٌ ج اَرْجُلٌ (اسم ذات) : ٹانگ ‘ پیر ۔ { اُرْکُضْ بِرِجْلِکَج } (صٓ:42) ” آپ (علیہ السلام) ٹھوکر ماریں اپنے پیر سے۔ “{ اَلَھُمْ…
Read the full tafseer →دشمنوں کا ہجوم ہو تو نماز کیسے پڑھی جائے
گزشتہ آیت میں تمام نمازوں کی پابندی اور خاص کر صلوٰۃ وسطی کی پابندی کا حکم فرمایا۔ اس آیت میں خوف اور امن کے حالات میں نماز پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جہاں تک بھی ممکن ہو پانچوں نمازوں کو ہر حال میں اور ہر مقام میں ضرور پڑھیں۔ بعض مرتبہ دشمنوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اس موقعہ پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ باقاعدہ رکوع سجدہ کے ساتھ نماز پڑھنا ممکن نہیں ہوتا ایسی صورت میں کھڑے کھڑے اشارہ ہی سے نماز پڑھ لیا کریں۔ زمین پر اترنے کا موقعہ نہ ہو تو سواری ہی پر پڑھ لیں۔ پھر جب امن ہوجائے اور اطمینان نصیب ہوجائے تو اسی طرح نماز پڑھو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے امن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
حکم سی وسوم۔ محافظت صلوات عموما وصلوۃ وسطی خصوصا۔
قال تعالی، حافظوا علی الصلوات۔۔۔ الی۔۔۔ تعلمون۔
ربط) ۔ دور سے سلسلہ کلام، احکام معاشرت کے بارے میں چل رہا ہے اس کے ضمن میں محافظت صلوۃ کا حکم اس لیے ذکر کیا کہ اکثر وبیشتر اہل و عیال میں مشغولی نماز اور نیاز سے غفلت کا باعث ہوتی ہے کماقال تعالی، یا ایھا الذین امنوا لاتلھکم اموالکم۔۔۔ الی۔۔ الخاسرون۔
اے ایمان والو مال اور اہل و عیال کا تعلق تم کو خدا کی عبادت اور بندگی سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کریں گے وہ خاسرین میں سے ہوں گے۔ وقال تعالی، انما اموالکم والادکم فتنہ۔ انما اموالکم را یاد گیر، مال وملک ایں جہاں برباد گیر۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
472 حسن سلوک اور احسان کی ترغیب کے بعد نمازوں کی پابندی کا حکم دیا کیونکہ نماز ایک امر مصلح ہے۔ جس سے ظاہر و باطن کی طہارت ہوتی ہے۔ اور اخلاق رذیلہ سے باطن پاک ہو کر اخلاق حسنہ سے معمور ہوجاتا ہے۔ نیز نماز کو باجماعت ادا کرنے سے باہمی محبت والفت اور اتحاد واتفاق کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لیے نماز حسن معاشرت، حسن سلوک اور احسان کے لیے بہت بڑی معاون ہے۔ صلوۃ وسطیٰ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ اکثر صحابہ، تابعین اور ائمہ دین اس طرف گئے گئے ہیں کہ اس سے مراد نماز عصر ہے۔ الثانی انھا العصر لانھا بین صلاتی النھار وصلاتی اللیل وھو المروی عن علی والحسن وابن عباس وابن مسعود وخلق کثیر وعلیہ الشافعیة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–242
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں طلاق ، عدت اور حق مہر کے مسائل ذکر ہوئے ہیں۔ اب درمیان میں د و آیتیں نماز کے متعلق ہیں۔ اور اس کے بعد پھر طلاق اور عدت کے مسائل ہیں بظاہر ایک ہی نوعیت کے مسائل کے درمیان نماز کی یہ آیتیں بےربطہ معلوم ہوتی ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) اور بعض دیگر بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہاں پر یہ بات سمجھاناچاہتا ہے کہ دیکھو ، نکاح ، طلاق ، عدت کے مسائل میں مشغول ہو کر کہیں نماز سے غافل نہ ہوجانا۔ نکاح طلاق کے مسائل ہی ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ بعض اوقات گفتگو طول پکڑ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں تمہاری نماز نہیں چھوٹنی چاہئے اس کا ہر حال میں خیال…
Read the full tafseer →فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا 0 ۚ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللہَ كَـمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ 239
خوف
الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57]
( خ و) الخوف ( س )
کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور…
Read the full tafseer →ترکیب : رجالا حال ہے محذوف سے تقدیرہ فصلوار جالا جمع رجل۔ کما علمکم کاف موضع نصب میں ہے اے اذکرو مثل ما علمکم۔ والذین یتوفون مبتداء خبر محذوف ای یوصون متاعا مصدر اس لیے کہ یوصون بمعنی یمتعون ای یمتعون متاعا غیر اخراج حال ہے وللمطلقات خبر ‘ متاع مبتداء حقا مفعول مطلق۔
تفسیر : پہلی آیت میں خدا تعالیٰ نے تقویٰ اور احسان کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپس کی بزرگی کا لحاظ رکھو۔ اس موقع پر بطور جملہ معترضہ خدا تعالیٰ اپنی بزرگی کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ وہ سب سے بڑا ہے۔ خدا کی بزرگی ملحوظ رکھنا نماز پر مداومت کرنا ہے۔ اس لیے نمازوں کی محافظت کا ذکر اور اس کے ضمن میں حالت خوف…
Read the full tafseer →فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْرُکْبَانًا ج فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوْا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔
(پس اگر خطرے کی حالت ہو تو پیدل یا سوار جس صوت میں ادا کرسکو نماز ادا کرو۔ پھر جب خطرہ دور ہوجائے تو اللہ کو اس طریقہ پر یاد کرو جو اس نے تم کو سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے) (239)
صلوٰۃ الخوف
اس آیت کریمہ میں صلوٰۃ الخوف پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل کی طرف کسی حد تک اشارے قرآن کریم نے سورة النساء میں کیے ہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے عمل نے اس کی پوری صورت آرائی فرمائی ہے۔ احادیث کی تمام بڑی کتابوں میں جنگ کی حالت میں آپ ﷺ کے نماز پڑھنے کے طریقے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
فہم القرآن
ربط کلام : ازواجی مسائل کے بیان کے دوران خصوصی نصیحت۔
سلسلۂ کلام منقطع فرما کر یہاں حفاظت نماز اور خاص کر درمیانی نماز کی حفاظت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسلام کے عملی نظام میں نماز ایسی پنجگانہ تربیت ہے کہ اگر کوئی شخص شریعت کی ہدایات کے مطابق نماز ادا کرے اور اس کے تقاضے سمجھنے کی طرف توجہ دے تو نمازی دین اور دنیا کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک منفرد اور ذمہ دار شخصیت بن جاتا ہے۔ کیونکہ پانچ وقت اس بات کا آرزو مند ہوتا ہے کہ اس کے گناہ معاف کردیے جائیں اور قدم قدم پر اس کی رہنمائی کا اہتمام ہوجائے اور روز محشر اپنے رب کے حضور اس حالت میں پیش ہو کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے…
Read the full tafseer →آیت 239 :
فَاِنْ خِفْتُمْ (پس اگر تم کو خوف ہو) یعنی دشمن کا خوف ہو یا اور کوئی۔
فَرِجَالاً (پس پیدل) یہ حال ہے یعنی تم پیدل نماز پڑھو۔ رجالا جمع راجل ہے جیسے قائم اور قیام۔
اَوْ رُکْبَانًا (یا سواری پر) یعنی ایک اکیلے اشارہ کے ساتھ۔ اس صورت میں قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری نہ ہوگا۔
فَاِذَآ اَمِنْتُمْ (جب تم امن میں ہوجائو) یعنی خوف زائل ہوجائے۔
فَاذْ کُرُوا اللّٰہَ (پس تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرو) یعنی پس امن والی نماز پڑھو۔
کَمَا عَلَّمَکُمْ (جیسا اس نے تمہیں سکھایا) یعنی یاد کرنا اس طرح جیسا اس نے تمہیں سکھایا۔
مَالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (وہ باتیں جو تم نہ جانتے تھے) یعنی صلوٰۃِ امن۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 239۔:
(آیت)” فان خفتم فرجالا اور کبانا “۔ فرجالا یعنی پیدل کہا جاتا ہے راجل ورجال جیسے صاحب وصحاب اور قائم و قیام اور نائم ونیام ، (اسی طرح راجل ورجال یعنی پیدل چلنے والا اور پیدل چلنے والے) ” اور کبانا “ اپنے جانوروں پر سوار ہو کر رکبان راکب کی جمع ہے اس کا معنی ہے کہ اگر تمہارے لیے ممکن نہ ہو کہ تم قانتین ہو کر نماز پڑھو اور نماز کا حق بوجہ خوف کے پورا نہ ادا کرسکو تو پاؤں کے بل پیدل چل کر پڑھو یا جانوروں کی پیٹھوں کپر سوار ہو کر نماز پڑھو، یعنی عین لڑائی اور تلوار چلانے کے وقت میں جس طرح منہ ہو نماز پڑھے ، پیدل یا سوار قبلہ کی جانب متوجہ ہونے والا ہو یا قبلہ رخ نہ ہو۔
سواری پر…
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں محافظت نماز کا ذکر جو آیا اس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ دشمن کے خوف اور مقابلے کے وقت بھی شاید یہی محافظت اوقات اور ارکان کی نماز میں قائم رہے گی اس خیال کے رفع کرنے کے لئے آخر آیت میں یہ صلوۃ الخوف کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اس صلوٰۃ الخوف کا ذکر تفصیل سے سورة نساء میں آئے گا۔ یہاں اس قدر بیان کردینا کافی ہے کہ صلوٰۃ الخوف کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ ہے کہ نماز میں قصر کی صورت میں مقتدیوں کے دو حصے ہوجائیں ایک حصہ تو دشمن کے مقابلہ میں کھڑا رہے اور دوسرا حصہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑ ہے۔ پھر امام اتنی دیر چپکا کھڑا رہے جتنی دیر میں یہ لوگ اپنی باقی کی ایک رکعت پڑھ کر…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ تمام نمازوں کی حفاظت کا عام حکم دے رہا ہے اور ” درمیان والی نماز “ کی حفاظت کا خاص طور پر۔ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ نماز کی حفاظت کا مطلب ہے کہ اسے وقت پر، مشروط ارکان کا خیال رکھتے ہوئے، خشوع خضوع کے ساتھ اور اس کے تمام واجبات و مستحبات کے ساتھ ادا کیا جائے۔ نماز کی حفاظت کے ساتھ دوسری عبادتوں کی بھی حفاظت ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ سے (خود کو) برائی اور بےحیائی سے روک دینے کا فائدہ بھی حاصل ہوجاتا ہے، خصوصاً جب نماز اس طرح مکمل کی جائے جس طرح اللہ نے اس آیت میں فرمایا :: (آیت) وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ ” اللہ کے لئے با ادب کھڑے رہا کرو۔ “ یعنی اخلاص، عاجزی اور ذلت کا اظہار کرتے…
Read the full tafseer →حالت خوف میں نماز
قول باری ہے (فان خفتم فوجالا اور کبانا، اگر تمہیں خوف ہو تو پھر پیدل یا سوار کی صورت میں) اول خطاب میں اللہ تعالیٰ نے نماز اور اس کی محافظت کا حکم دیا اور یہ چیز نماز کے تمام فرائض کی انجام دہی کے لزوم اور اس کی حدود کو قائم رکھنے کی ضرورت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ محافظت کا ذکر ان باتوں کا مقتضی ہے۔
پھر صلوۃ وسطی کا الگ ذکر کر کے اس کی تاکید فرمائی۔ ہم نے تاکید کے ذکر کا فائدہ پہلے بیان کردیا ہے پھر اس پر (قومو اللہ قانتین) کو عطف کیا۔ یہ فقرہ سکوت کے لزوم، نماز میں خشوع اور نماز کی حالت میں چلنے پھرنے اور کام کرنے سے باز رہنے کے معانی پر مشتمل ہے جبکہ امن اور اطمینان کی…
Read the full tafseer →687 نماز کی اہمیت و عظمت کا ایک اہم مظہر : کہ نماز حالت خوف میں بھی معاف نہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ خوف کی صورت میں بھی جس طرح ہو سکے تم نماز پڑھ لیا کرو۔ اگرچہ اس حال میں تم خشوع و خضوع، رکوع و سجود، اور استقبال قبلہ وغیرہ کی پوری طرح رعایت نہ کرسکو (معارف للکاندہلوی (رح) ) ۔ اس سے بھی نماز کی عظمت، اور اس کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ عظیم الشان فریضہ ایسی حالت میں بھی معاف نہیں، بلکہ ایسی صورت میں بھی جس طرح بن پڑے اس کو ادا کرو۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ اسی لیے صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو وہ کافر ہوگیا ۔ سبحان اللہ ! ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
نمازوں کی پابندی
تشریح : عبادات میں نماز کا درجہ بلند ترین ہے۔ کیونکہ اس کے قائم کرنے میں انسان کے لیے نہ دولت کی ضرورت ہے اور نہ ہی مضبوط صحت کی۔ بلکہ یہ خود انسان کی روح کو مضبوط کرنے کے لیے خزانہ ہے اور جسم کو چستی اور مضبوطی دینے کا ذریعہ بھی ہے نماز کے بیشمار فوائد ہیں۔ مثلاً :
1 روحانی قوت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔
-2 برائیوں سے نماز بچاتی ہے۔
-3 نظم و ضبط، اتحاد اور اصلاح کا ذریعہ ہے۔
-4 دل کو سکون دینے کا باعث ہے۔
-5 نماز مومن کی پہچان ہے۔
-6 ارکان اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔
-7 نماز میں شفا ہے۔ (حدیث ابن ماجہ)
نماز اہم ترین فرائض میں سے ہے اسی لیے نماز کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے۔
سورة طٰہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 236–242
آیات 236- 242
اسرارو معارف
لاجناح علیکم…………………لعلکم تعقلون۔
یہاں طلاق کی ایک اور صورت ارشاد ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دے دے اور پھر اس میں بھی دو صورتیں مہر کی ہیں یا تو مہر مقرر ہوگا اور یا نہیں۔ اگر مہر مقرر نہیں ہے تو اسے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرو کہ انہیں کچھ خرچ دے دو ۔ صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق دیں۔
روایت ہے کہ حضرت حسن ؓ نے ایک ایسی طلاق کی صورت میں مطلقہ عورت کو بیس ہزار درہم دیئے تھے اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک جوڑا کپڑوں کا دے دے۔
لفظ متعہ کا معنی :
یہاں لفظ ” متعہ “ واضح طور پر اس عورت کو گزارے کے لئے…
Read the full tafseer →ف 1 اس آیت میں نماز کی حفاظت کی مزید تاکید کی ہے کہ خوف اور ہنگامی حالت میں بھی نماز معاف نہیں ہے۔ بلکہ پیدل سوار جس حالت میں بھی ممکن ہو خوف کے وقت نماز ادا کرلو۔ ہاں خوف زائل ہونے کے بعد نماز کو ان پورے ارکان و شرائط اور آداب کے ساتھ ادا کرو جن کی تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے تعلیم دی ہے۔ صلواہ خوف کے احکام کے لیے دیکھئے سورت النساء آیت 102 ۔ (شوکانی، ابن کثیر )
Read the full tafseer →فان خفتم فرجالا اور کبانا۔ ای فان خفتم من عدو وغیرہ فصلوا راجلین اور اکبین۔ ان شرطیہ خفتم من عدو وغیرہ جملہ شرطیہ۔ فصلوا راجلین اور اکبین جو اب شرط رجالا اور کبانا ضمیر فصلوا سے حال ہیں۔ اگر تم کو دشمن وغیرہ کا ڈر ہو تو پیادہ چلنے کی حالت میں یا سواری کی حالت میں نماز پڑھ لو۔ مطلب یہ کہ اگر تمہیں دشمن کی وجہ ست یا کسی اور وجہ سے ڈر ہو کہ نماز میں خشوع و خضوع۔ رکوع و سجود کی خاطر خواہ ادائیگی اور جملہ حقوق نماز کی ادائیگی بہ اہتمام تمام ملحوظ نہیں رکھی جاسکے گی تو تم پیادہ چلنے کی حالت میں یا کسی سواری پر سوار ہونے کی حالت میں نماز پڑھ لو خواہ دوران نماز قبلہ رخ رہنا بھی ممکن نہ ہو۔ یہ صلوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
لغات القرآن : آیت نمبر 238 تا 239
حافظوا (حفاظت کرو) ۔ الصلوت (نمازیں) ۔ الصلوٰۃ الوسطی (درمیان والی نماز (نماز عصر) ۔ قوموا (کھڑے رہو) ۔ قنتین (خاموش ، ادب سے کھڑے ہونے والے ) ۔ خفتم (تم ڈرے) ۔ رجال (پیدل) ۔ رکبان (سوار) ۔ علمکم (اس نے تمہیں سکھایا) ۔
تشریح : آیت نمبر 238 تا 239
احکام و قوانین جن کا آغاز توحید کے بعد نماز اور زکوٰۃ کے ذکر سے ہوا تھا اب ان آیات پر ختم ہو رہا ہے اس بات کی ابتداء بھی نماز سے ہوئی اور اس باب کا خاتمہ بھی نماز ہی پر ہو رہا ہے جو اس بات کی طرف کھلا ہوا اشارہ ہے کہ دین اسلام میں جو اہمیت نماز کی ہے وہ کسی اور عبادت کی نہیں ہے۔ ساری شریعت کے قیام وبقاء کا دارو مدار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 239–242
فائدہ : اوپر کی آیت میں محافظت نماز کا ذکر جو آیا اس سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ دشمن کے خوف اور مقابلہ کے وقت بھی شاید یہی محافظت اوقات اور ارکان کی نماز میں قائم رہے گی۔ اس خیال کے رفع کرنے لے لئے آخر آیت میں یہ صلوٰۃ الخوف کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یعن لڑائی اور دشمن سے خوف کا وقت ہو تو لاچاری کو سواری پر اور پیادہ کی بھی اشارہ سے نماز درست ہے گو قبلہ کی طربھی منہ نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–242
[166] یعنی پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اس میں پانچوں نمازوں کی فرضیت کا بیان ہے۔ نیز اولاد و ازواج کے مسائل کے درمیان میں نماز کا ذکر فرمانا اس نتیجہ پر
پہنچاتا ہے کہ نماز ہی وہ چیز ہے جو انسان کے دل میں اللہ کا خوف، نیکی و پاکیزگی کے جذبات اور احکام الٰہی کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہے اور اسے راستی پر قائم رکھتی ہے۔
[167] یعنی نماز عصر کہ یہ وقت دنیا کے کاروبار میں مشغول رہنے کا ہے۔ اسی وجہ سے اس نماز کی بڑی تاکید اور بڑی فضیلت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 239–240
(ف 2) ان آیات میں یہ بتایاس ہے کہ اگر بیوہ عورتوں کے متعلق ان کے خاوند وصیت کرجائیں کہ انہیں ایک سال تک مکان سے نہ نکالا جائے تو اس پر عمل کیا جائے ، اگر وہ خود اس عرصہ میں نکلنا چاہیں تو مضائقہ نہیں ۔
سلف میں اس آیت کے متعلق اختلاف ہے کہ یہ منسوخ ہے یا محکم ، اکثریت کی رائے ہے کہ منسوخ ہے ، آیت وصیت کی وجہ سے اور آیت عدت کی وجہ سے ۔
مگر ان آیات میں تطبیق بھی ممکن ہے آیت وصیت وعدت میں احکام ہیں اور اس آیت میں فوق الاحکام ، حسن سلوک یعنی اگر کوئی شخص حقوق سے زیادہ کچھ دینا چاہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
حل لغات :
قنتین : خشوع و خضوع ، مادہ قنوت :
Read the full tafseer →ف 4۔ پھر اگر تم کو پوری رعایت کے ساتھ نماز پڑھنے میں دشمن وغیرہ کا خوف اور اندیشہ ہو تو پھر جس طرح بن پڑے تماز ادا کرلو خواہ کھڑے کھڑے یا سواری پر چڑھے ہوئے ۔ پھر جب تم مامون ہو جائو اور تم کو اطمینان میسر ہوجائے اور خوف زائل ہوجائے تو تم اللہ تعالیٰ کو اس طریقے سے یاد کرو یعنی نماز اس طرح پڑھو جو طریقہ تم کو امن و اطمینا ن کی حالت میں اس نے سکھایا ہے جس کو تم سکھانے سے پہلے نہیں جانتے تھے۔ ( تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ نماز کی محافظت اور مداومت کی صورت وہی ہے کہ جملہ آداب و واجبات کی رعایت سے مؤدبانہ اور نیاز مندانہ نماز کو ادا کیا جائے ، لیکن اگر جنگ وغیرہ کی وجہ سے اس کام موقعہ نہ ملے تو پھر جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
ف 3۔ کثرت علماء کا قول بعض احادیث کی دلیل سے یہ ہے کہ بیچ والی نماز عصر ہے کیونکہ اس کے ایک طرف دو نمازیں دن کی ہیں فجر اور ظہر۔ اور ایک طرف دونوں نمازیں رات کی ہیں مغرب اور عشاء اور عاجزی کی تفسیر حدیث میں خاموشی کے ساتھ آئی ہے اسی آیت سے نماز میں باتیں کرنے کی ممانعت ہوئی پہلے درست تھا۔
Read the full tafseer →دشمن کا خوف دامنگیر ہو تو بھی نماز ادا کرنا ہوگی ہاں ! اس کی صورت کچھ بدل جائے گی :
405: عام طریقہ نما زجو کسی سے بھی پوشیدہ نہیں کے مطابق نماز باجماعت دشمن کے خوف کی وجہ سے ادا نہ کی جاسکے تو اس کی صورت بدل سکتی ہے جیسا کہ نماز خوف کے بیان میں وضاحت موجود ہے گویا اسلام کی یہ روزانہ پنج وقتہ پریڈ یا دربار الٰہی میں حاضری اس درجہ اہمیت رکھتی ہے کہ وہ بالکل معاف تو عین حالت جنگ میں بھی نہیں ہوتی۔ نماز کی محافظت کا حکم بہر حال قطعی اور دائمی ہے۔ ترک ِنماز کی اجازت اس خطرہ کے حال میں بھی نہیں البتہ رعایت ماحول کی پوری گنجائش دوسرے موقعوں کی طرح اس محل میں بھی رکھ دی گئی ہے۔ ہاں ! نماز خوف کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
Commentary
Based on the authority of some ahadith, a very large number of ` ulama', have said that al-salat al-wusta َالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ or the middle salah is the salah of ` Asr because there are before it, two Salahs during the day, that of Fajr and Zuhr; and after these come two evening Salahs, that of Maghrib and ` Isha'. Special emphasis has been placed on it because this is a time in which most of the people are busy in their professional work.
Incidentally, the Qur'anic word, Qanitin قَانِتِينَ meaning obedient or submitting, rendered here as 'stand before Allah in total…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 238–239
262. Having mentioned the laws for the guidance of human society, God rounds off this address by emphasizing Prayer, for it is Prayers which instil in man the fear of God. They inculcate the feelings of goodness and purity and the disposition to obey the ordinances of God, and foster adherence to righteousness. Without Prayer it would be impossible for men to persist in observing the laws of God, and they would likely be swept away by a current of defiance and disobedience, as happened in the case of the Jews.
263. 'Re expression al-salat al-wusta has been variously interpreted to mean the…
Read the full tafseer →