رسم طلاق میں آئینی اصلاحات اور خلع :
اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ خاوند جتنی چاہے طلاقیں دیتا چلا جائے اور عدت میں رجوع کرتا جائے اس سے عورتوں کی جان غضب میں تھی کہ طلاق دی، عدت گزرنے کے قریب آئی رجوع کرلیا، پھر طلاق دے دی اس طرح عورتوں کو تنگ کرتے رہتے تھے، پس اسلام نے حد بندی کردی کہ اس طرح کی طلاقیں صرف دو ہی دے سکتے ہیں۔ تیسری طلاق کے بعد لوٹا لینے کا کوئی حق نہ رہے گا، سنن ابو داؤد میں باب ہے کہ تین طلاقوں کے بعد مراجعت منسوخ ہے، پھر یہ روایت لائے ہیں کہ حضرت ابن عباس یہی فرماتے ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ نہ تو میں تجھے بساؤں گا نہ چھوڑوں گا، اس نے کہا یہ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 250
اس مختصر سی آیت میں ایک بہت بڑی معاشرتی خرابی کی، جو عرب جاہلیت میں رائج تھی، اصلاح کی گئی ہے۔ عرب میں قاعدہ یہ تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو بےحد و حساب طلاق دینے کا مجاز تھا۔ جس عورت سے اس کا شوہر بگڑ جاتا اس کو وہ بار بار طلاق دے کر رجوع کرتا رہتا تھا، تاکہ نہ تو وہ غریب اس کے ساتھ بس ہی سکے اور نہ اس سے آزاد ہو کر کسی اور سے نکاح ہی کرسکے۔ قرآن مجید کی یہ آیت اسی ظلم کا دروازہ بند کرتی ہے۔ اس آیت کی رو سے ایک مرد ایک رشتہ نکاح میں اپنی بیوی پر حد سے حد دو ہی مرتبہ طلاق رجعی کا حق استعمال کرسکتا ہے۔ جو شخص اپنی منکوحہ کو دو مرتبہ طلاق دے کر اس سے رجوع کرچکا ہو، وہ اپنی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 25، طلاق رجعی کی تعداد
طلاق دو مرتبہ کی پھر (دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد دو اختیار ہیں) خواہ (یہ کہ رجعت کرکے عورت کو) قاعدہ کے مطابق رکھ لے خواہ (یہ کہ رجعت نہ کرے عدت پوری ہونے دے اور اس طرح) اچھے طریقے سے اس کو چھوڑ دے۔
حکم نمبر 26، خلع
اور تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں کہ (بیبیوں کو چھوڑنے کے وقت ان سے) کچھ بھی لو (اگرچہ وہ لیا ہو) اسی (مال) میں سے (کیوں نہ ہو) جو تم نے (ہی مہر میں) ان کو دیا تھا مگر (ایک صورت البتہ حلال ہے وہ) یہ کہ (کوئی) میاں بیوی (ایسے ہوں کہ) دونوں کو خطرہ ہو کہ (دوبارہ حقوق زوجیت) وہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ ضابطوں کو قائم نہ رکھ سکیں گے سو اگر تم…
Read the full tafseer →طلاق کا صحیح طریقہ : اب یہ طلاق کا صحیح طریقہ بتا دیا کہ تمام معاشرتی زندگی کی بنیاد چونکہ نکاح کے پاکیزہ رشتے ہی پر ہے اس وجہ سے اگر کسی مجبوری کے باعث اس کے ٹوٹنے کی نوبت آئے تو یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آدمی ایک ہی جھٹکے میں اس مقدس رشتے کو توڑ تاڑ کے رکھ دے بلکہ مطلقہ کے لیے جس طرح یہ ہدایت ہے کہ وہ تین حیض تک انتظار کرے اسی طرح طلاق دینے والے کے لیے یہ ہدایت ہے کہ وہ الگ الگ دو طہروں میں دو مرتبہ میں طلاق دے اور پھر تیسرے طہر میں یا تو بیوی سے مراجعت کرلے اگر مراجعت کرنا چاہے یا اس کو رخصت کردے اگر اس کا اخری فیصلہ اس کو رخصت کردینے ہی کا ہے۔ مراجعت کی شکل میں اس کو معروف کی پابندی کی ہدایت…
Read the full tafseer →229۔ 1 یعنی وہ طلاق جس میں خاوند کو (عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہے وہ دو مرتبہ ہے پہلی مرتبہ طلاق کے بعد بھی اور دوسری مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع ہوسکتا ہے تیسری مرتبہ طلاق دینے کے بعد رجع کی اجازت نہیں زمانہ جاہلیت میں یہ حق طلاق و رجوع غیر محدود تھا جس سے عورتوں پر بڑا بوجھ تھا۔ نیز معلوم ہونا چاہیے کہ بہت سے علماء ایک مجلس کی تین طلاقوں کے واقع ہونے ہی کا فتویٰ دیتے ہیں۔
229۔ 2 یعنی رجوع کر کے اچھے طریقے سے بسانا۔
229۔ 3 یعنی تیسری مرتبہ طلاق دے کر۔
229۔ 4 اس میں خلع کا بیان ہے یعنی عورت خاوند سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے تو اس صورت میں خاوند عورت سے اپنا دیا ہوا مہر واپس لے سکتا ہے خاوند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–230
151: اس آیت نے ایک ہدایت تو یہ دی ہے کہ اگر طلاق دینی ہی پڑجائے تو زیادہ سے زیادہ دو طلاقیں دینی چاہئیں، کیونکہ اس طرح میاں بیوی کے درمیان تعلقات بحال ہونے کا امکان رہتا ہے ؛ چنانچہ عدت کے دوران شوہر کو طلاق سے رجوع کرنے کا حق رہتا ہے، اور عدت کے بعد دونوں کی باہمی رضا مندی سے نیا نکاح نئے مہر کے ساتھ ہوسکتا ہے، لیکن جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ تین طلاقوں کے بعد دونوں راستے بند ہوجاتے ہیں اور تعلقات کی بحالی کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہتا، دوسری ہدایت یہ دی گئی ہے کہ شوہر طلاق سے رجوع کا فیصلہ کرے یا علیحدگی کا، دونوں صورتوں میں معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے چاہئیں، عام حالات میں شوہر…
Read the full tafseer →وہ طلاق جن کے بعد ، فریقین ازدواجی زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں دو ہیں ۔ اگر خاوند ان دو سے بھی آگے بڑھ جائے تو پھر ان کے درمیان زادواجی تعلقات صرف اس صورت میں قائم ہوسکتے ہیں ، جس کی تشریح اگلی آیات میں آرہی ہے ۔ یعنی یہ کہ پہلے وہ کسی دوسرے خاوند سے جدا ہوجائے ۔ صرف اس صورت میں پہلے خاوند کے لئے ، جس نے تین طلاقوں کا حق استعمال کرلیا تھا ، یہ جائز ہے کہ اس عورت سے دوبارنکاح کرے بشرطیکہ یہ عورت ازسر نو اس کے ساتھ نکاح کرنے پر راضی ہو۔
اس پابندی کے عائد ہونے کی وجہ کے بارے میں بعض روایات میں آتا ہے کہ اسلامی دور آغاز میں بھی (جاہلیت کی طرح) طلاقوں کی تعداد مقرر نہ تھی ۔ اور مرد کو یہ حق بھی حاصل…
Read the full tafseer →5 اسلام سے پہلے دستور تھا کہ دس بیس جتنی بار چاہتے زوجہ کو طلاق دیتے مگر عدت کے ختم ہونے سے پہلے رجعت کرلیتے پھر جب چاہتے طلاق دیتے اور رجعت کرلیتے اور اس صورت سے بعض شخص عورتوں کو اسی طرح بہت ستاتے اس واسطے یہ آیت اتری کہ طلاق جس میں رجعت ہو سکے کل دو بار ہے ایک یا دو طلاق تک تو اختیار دیا گیا کہ عدت کے اندر مرد چاہے تو عورت کو پھر دستور کے موافق رکھ لے یا بھلی طرح سے چھوڑ دے پھر بعد عدت کے رجعت باقی نہیں رہتی ہاں اگر دونوں راضی ہوں تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں اور اگر تیسری بار طلاق دے گا تو پھر ان میں نکاح بھی درست نہیں ہوگا جب تک دوسرا خاوند اس سے نکاح کر کے صحبت نہ کر لیوے۔
فائدہ امساک…
Read the full tafseer →اب ہم اگلی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں :
آیت 229 اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ ص ۔
یعنی ایک شوہر کو دو مرتبہ طلاق دے کر رجوع کرلینے کا حق ہے۔ ایک دفعہ طلاق دی اور عدت کے اندر اندر رجوع کرلیا تو ٹھیک ہے۔ پھر طلاق دے دی اور عدت کے اندر اندر رجوع کرلیا تو بھی ٹھیک ہے۔ تیسری مرتبہ طلاق دے دی تو اب وہ رجوع نہیں کرسکتا۔
فَاِمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌم بِاِحْسَانٍ ط۔
یعنی دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد اب فیصلہ کرو۔ یا تو اپنی بیوی کو نیکی اور بھلائی کے ساتھ گھر میں روک لو ‘ تنگ کرنے اور پریشان کرنے کے لیے نہیں ‘ یا پھر بھلے طریقے سے ‘ بھلے مانسوں کی طرح اسے رخصت کر دو۔
وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ…
Read the full tafseer →307 دور جاہلیت میں عرب میں ایک دستور یہ بھی تھا کہ مرد کو اپنی بیوی کو لاتعداد طلاقیں دینے کا حق حاصل تھا۔ ایک دفعہ اگر مرد بگڑ بیٹھتا، اور اپنی بیوی کو تنگ اور پریشان کرنے پر تل جاتا تو اس کی صورت یہ تھی کہ طلاق دی اور عدت کے اندر رجوع کرلیا پھر طلاق دی پھر رجوع کرلیا اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا، نہ وہ عورت کو اچھی طرح اپنے پاس رکھتا اور نہ ہی اسے آزاد کرتا کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرسکے۔ چناچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرد اپنی عورت کو جتنی بھی طلاقیں دینا چاہتا، دیئے جاتا اور عدت کے اندر رجوع کرلیتا۔ اگرچہ وہ مرد سو بار یا اس سے زیادہ طلاقیں دیتا جائے۔ یہاں تک کہ ایک (انصاریٰ ) مرد نے…
Read the full tafseer →852 (جب تک کہ واپسی کی گنجائش باقی ہے) طلاق سے یہاں مراد طلاق رجعی ہے۔ دو بار تک الفاظ طلاق ادا کرنے پر رجوع کرلینے کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
853 یعنی دو ماہ کے بعد، تیسرے مہینہ، تیسری پاکی کے زمانہ میں، یا زبان سے الفاظ طلاق ادا کرے، یا خاموش رہے، دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوجائے گی، اور اب بغیر کسی دوسرے شوہر سے نکاح کیے اور طلاق پائے، اس پہلے شوہر سے نکاح درست نہ رہے گا، تو ایک صورت یہ ہے کہ آخری گنجائش سے فائدہ اٹھا کر طلاق واپس لے لی جائے، اور تعلق زنا شوئی از سرنوقائم ہوجائے، (آیت) ” فامساک “ یعنی اس کچی طلاق پائی ہوئی بیوی کو رجعت کرکے پھر اپنے پاس رکھ لینا ہے۔ (آیت) ” بمعروف “۔ یعنی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 229 تا 231
ترجمہ : ایسی طلاق جس کے بعد رجوع کیا جاسکے دو با رہے یعنی دو تک ہیں، پھر یا تو معروف طریقہ سے تمہارے ذمہ روک لینا ہے بعد اس کے کہ ان سے رجوع کرلو، یا بھلے طریقہ سے ان کا رخصت کردینا ہے بغیر نقصان پہنچائے اور شوہرو ! تمہارے لئے یہ بات جائز نہیں کہ جب تم ان کو طلاق دو تو جو مہر تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لو البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو کہ اللہ نے ان کے لئے جو حدود مقرر کئے ہیں ان کو ادا نہ کرسکیں گے اور ایک قراءت میں (یَخَافَا، یُقیما) کو تاء کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود…
Read the full tafseer →اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۠ ( طلاق دو بار تک) ہے یعنی جس کے بعد رجعت ہوسکتی ہے کیونکہ تیسری کا ذکر اور دو کے بعد رکھنے کا حکم عنقریب آتا ہے۔
مروی ہے کہ نبی ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ ( یہ تو دو ہی طلاقیں ہوئیں) تیسری کہاں ہے ؟ فرمایا اور تسریح باحسان (سے تیسری مراد ہے) یہ روایت ابو داؤد نے اپنی ناسخ میں اور سعید بن منصور نے اپنی سنن میں اور ابن مردویہ نے ابن رزین اسدی کی سند سے نقل کی ہے اور دارقطنی اور ابن مردویہ نے حضرت انس کی سند سے بھی نقل کی ہے بغوی کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ شروع اسلام میں لوگوں کی یہ حالت تھی کہ بےحد و حساب طلاقیں دیدیتے تھے کوئی یہ کرتا تھا کہ بیوی کو طلاق دیدی اور جب…
Read the full tafseer →(229) یعنی طلاق رجعی دو ہیں، اب تیسری طلاق یاعدت میں، تیسرے حیض آنے سے پہلے حسن صحبت اور معاشرت کے ساتھ اسے روک لویا اس کے حقوق ادا کرتے ہوئے اسے تیسری طلاق دے دو۔
اور جو مال تم نے ان کو مہر میں دیا ہو وہ طلاق دینے کے وقت ان سے لینا حلال نہیں، مگر خلع کی شکل میں جب کہ میاں بیوی احکام الہیہ کی ادائیگی نہ کرسکیں، لہٰذا جب احکام الہیہ کی پابندی نہ کرسکیں تو خاص طور پر مرد پر کوئی گناہ نہیں، اس مال کے لینے میں جو عورت اپنی مرضی سے خاوند کو دے کر اپنی جان چھڑانا چاہ رہی ہے، یہ آیت ثابت بن قیس بن شماش ؓ اور ان کی بیوی جمیلہ بنت عبداللہ ؓ کے متعلق نازل ہوئی، انہوں نے اپنا مہر دے کر اپنے خاوند سے…
Read the full tafseer →ام المومنین عائشہ ؓ اور دیگر صحابہ کی روایات کے مطابق ابتدائے ہجرت میں جاہلی دستور کے مطابق مرد عورت کو کئی کئی بار طلاق دیتے اور رجوع کرتے رہتے تھے، مقصد بیوی کو تنگ کرنا ہوتا تھا۔ اس صورت حال کو روکنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔
(اَلطَّلَاقُ)“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”یہ طلاق“ کیا ہے، یعنی وہ طلاق جو اوپر کی آیت میں ذکر ہوئی ہے، جس کے بعد عدت میں خاوند رجوع کرسکتا ہے، وہ دو مرتبہ ہے۔
فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ) یعنی پہلی یا دوسری طلاق دینے کے بعد خاوند دوبارہ بسانے کا ارادہ رکھتا ہے تو عدت کے اندر رجوع کرے، یہ ”اچھے طریقے سے رکھ لینا“ ہے۔ اگر یہ ارادہ…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 229۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الطلاق مرتن، فامساک بمعروف اوتسریح باحسان “۔ اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الطلاق مرتن “۔ یہ بات ثابت ہے کہ اہل جاہلیت کے نزدیک طلاق کے لئے کوئی عدد معین نہ تھا۔ البتہ ان کے نزدیک عدت (کی مدت) معین اور مقرر تھی اور ابتدائے اسلام میں بھی کچھ عرصہ یہی رہا، ایک آدمی اپنی عورت کو جو چاہتا تھا طلاق دے دیتا تھا اور جب وہ اس کی طلاق سے حلال ہونے کے قریب ہوتی تو وہ اس سے رجوع کرلیتا جب تک چاہتا، حضور نبی مکرم ﷺ کے زمانہ مقدس میں ایک آدمی نے اپنی عورت کو کہا : نہ میں تجھے گھر میں رکھوں گا اور نہ تجھے چھوڑوں گا کہ تو (کسی کے لئے)…
Read the full tafseer →(1) امام مالک، شافعی، عبد بن حمید، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے اپنی سنن میں ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اپنی عورت کو طلاق دیتا تھا پھر اس کی عدت ختم سے پہلے اس سے رجوع کرلیتا تھا تو یہ اس کے لئے جائز ہوتا اگرچہ اس نے اس کو ہزار مرتبہ بھی طلاق دی ہو۔ پھر ایک آدمی اپنی عورت کی طرف جانے کا ارادہ کرتا تھا (یعنی رجوع کرلیتا تھا) لیکن پھر (رجوع کرنے کے بعد) طلاق دے دیتا تھا یہاں تک کہ جب عدت کے گزرنے کا وقت قریب آتا تھا تو اس سے رجوع کرلیتا تھا پھر اس کو طلاق دے دیتا تھا پھر کہتا تھا اللہ کی قسم میں تجھ کو (اپنے ہاں) ٹھکانہ بھی نہ…
Read the full tafseer →[ اَلطَّلاَقُ : طلاق ] [ مَرَّتٰنِ : دو مرتبہ ہے ] [ فَاِمْسَاکٌ : پھر روکنا ہے ] [ بِمَعْرُوْفٍ : بھلائی سے ] [ اَوْ : یا ] [ تَسْرِیْحٌ : آزاد کرنا ہے ] [ بِاِحْسَانٍ : خوبصورت انداز سے ] [ وَلاَ یَحِلُّ : اور حلال نہیں ہے ] [ لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَاْخُذُوْا : تم لوگ لو ] [ مِمَّــآ : اس میں سے جو ] [ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ : تم لوگوں نے دیا ان کو ] [ شَیْئًا : کوئی چیز ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ یَّخَافَـآ : وہ دونوں خوف کریں ] [ اَلاَّ یُـقِیْمَا : کہ وہ قائم نہیں رکھیں گے ] [ حُدُوْدَ اللّٰہِ : اللہ کی حدود کو ] [ فَاِنْ : پس اگر ] [ خِفْتُمْ : تم لوگ خوف کرو ] […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–230
طلاق اور خلع کے چند احکام
ان دونوں آیتوں میں طلاق کے متعدد مسائل اور متعدد تنبیہات مذکور ہیں جو زن و شوہر سے متعلق ہیں، طلاق رجعی طلاق بائن، طلاق مغلظہ اور خلع کے مسائل اجمالی طور پر بیان فرمائے ہیں۔
اگر کوئی شخص طلاق دینے کی ضرورت محسوس کرے تو احسن طریقہ یہ ہے کہ کسی ایسے طہر میں (یعنی پاکی کے زمانے میں) ایک طلاق دے دے جس میں جماع نہ کیا ہو پھر عورت کو اپنی حالت پر چھوڑ دے۔ قانون شرعی کے مطابق یہ طلاق رجعی ہوگی (بشرطیکہ عورت سے نکاح کے بعد جماع بھی کرچکا ہو، اگر صرف نکاح ہوا تھا تو یہ طلاق بائن ہوگی) جب پاکی کے زمانہ میں طلاق رجعی دے دی اور عورت کو اپنے حال پر چھوڑ دیا حتیٰ کہ عدت گزر گئی…
Read the full tafseer →حکم بست وچہارم، عدد طلاق رجعی۔
قال تعالی، اطلاق مرتن۔۔ الی۔۔ باحسان۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں مرد کے لیے حق رجعت کا بیان تھا اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ رجعت کا حق کب تک رہتا ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ جس طلاق کے بعد رجعت ہوسکتی ہے وہ دو مرتبہ ہے پھر دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد تم کو دو اختیار ہیں یا تو دستور اور حسن اسلوب کے ساتھ روک لو یعنی رجعت کرکے اس کو اپنے نکاح میں رہنے دو اور یا حسن اسلوب کے ساتھ اس کو چھوڑ دو کہ اس کی عدت گذر جائے اور جہاں چاہے وہ نکاح کرلے تو اس میں کوئی رکاوت نہ ڈالو۔
حکم بست وپنجم۔ خلع۔
قال تعالی، ولایحل لکم ان تاخذوا۔۔۔ الی۔۔ ھم الظالمون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں طلاق کا…
Read the full tafseer →453 ۔ یہاں الطلاق بمعنی مصدر یعنی التطلیق ہے وھو بمعنی التطلیق الذی ھو فعل الرجل (روح ص 135 ج 2) یعنی طلاق دینے کا فعل جس کے بعد رجوع کیا جاسکتا ہے اور نکاح کے بغیر عورت کو دوبارہ اپنی زوجیت میں رکھا جاسکتا ہے وہ دو بار طلاق ہے۔ بشرطیکہ طلاق لفظ صریح کے ساتھ ہو۔ نہ کہ کنایہ کے ساتھ اگر خاوند نے اپنی بیوی کو دو صریح طلاقیں دیدیں تو یہ رجعی ہونگی۔ اور ان کے بعد عدت کے اندر اندر وہ رجوع کرسکتا ہے اور اپنی بیوی کو بغیر نکاح دوبارہ اپنے گھر میں آباد کرسکتا ہے۔ اور اگر عدت گذر گئی تو اب بھی اسے واپس لاسکتا ہے مگر اب نکاح کی ضرورت ہوگی۔ زمانہ جاہلیت میں طلاق کی کوئی تعداد مقرر نہیں تھی جو شخص جتنی…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیت کریمہ میں عدت کا مسئلہ بیان ہوا تھا جس کا مقصد یہ ہے کہ طلاق اور دوسرے نکاح کے درمیان عورت وقفہ کرے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ امید سے ہے یا نہیں۔ پھر اگر امید سے ہے تو وضع حمل تک نکاح ثانی نہ کرے اور امید سے نہیں تو تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھے۔ کم سن اور معمر عورتوں کی عدت تین ماہ مقرر کی گئی ہے اور بیوہ کے لئے چار ماہ دس دن عدت ہے۔ یہ بھی گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ مرد کو عورت پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے وہ ان کے نگران اور کفیل ہیں۔ باقی حقوق میں مساوات ہے۔ کچھ حقوق مرد کے ہیں اور کچھ عورت کے ، اپنے اپنے دائرہ کار میں زوجین حقوق و فرائض کے ذمہ دا ر ہیں۔
نکاح و سنت…
Read the full tafseer →اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ 0 ۠ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِـاِحْسَانٍ 0 ۭ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ شَـيْـــًٔـا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَآ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللہِ 0 ۭ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللہِ 0 ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِہٖ 0 ۭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوْھَا 0 ۚ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ 229
طلق
أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ…
Read the full tafseer →تحقیقات : (1) مطلقہ عرف شرع میں اس عورت کو کہتے ہیں جو کسی کے نکاح میں ہو اور پھر اس کو طلاق دی گئی ہو۔ اگر یہ عورت ایسی ہے کہ صرف نکاح ہوا ہے مگر اس سے صحبت کا اتفاق نہیں ہوا تو اس کے لیے عدت نہیں۔ کما قال تعالیٰ اِذَ انَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّوْنَہَا الآیۃ اور اگر اس سے صحبت ہوچکی ہو تو وہ یا حاملہ ہے یا غیر حاملہ اگر اس کو حمل ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے یعنی جب تک حمل ہے عدت باقی ہے اور شخص اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ وَاُوْلَاتِ الْاَحْمَالِ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنّ الآیہ اور اگر حمل…
Read the full tafseer →اَلطَّلاَ قُ مَرَّتٰنِ ص فَاِمْسَاکٌ م بِمَعْرُوْفٍ اَوْتَسْرِیْحٌ م بِاِحْسَانٍ ط وَلَا یَحِلُّ لَـکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّـآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ شَیْئًا اِلَّآ اَنْ یَّخَافَآ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَاللّٰہِ ط فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَاللّٰہِ لا فلَاَ جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ ط تِلْـکَ حُدُوْدُاللّٰہِ فلَاَ تَعْتَدُوْہَاج وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَاللّٰہِ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔
(طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو روک لینا ہے معروف طریقے سے اور یا چھوڑ دینا ہے احسان کے ساتھ۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم کچھ بھی لو اس سے جو تم نے بیویوں کو دیا ہے۔ بجز…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
عربوں نے عورت کے لیے طلاق کو کنددھار آلہ بنا لیا تھا۔ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا جب اس کی عدّت ختم ہونے کے قریب آتی تو وہ اس سے رجوع کرلیتا تھا۔ اس طرح باربار طلاق دیتا اور رجوع کرتا یہاں تک کہ اس کو اسی حالت پر رہنے دیتا۔ اس حالت میں نہ وہ بیوی کے طور پر گھر میں زندگی بسر کرتی اور نہ ہی اس کی جان چھوٹتی۔ انہی خیالات کے تحت ایک انصاری صحابی ؓ نے ایک دن اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہیں ایسی سزادوں گا جس سے چھٹکارا پانا تیرے بس کا روگ نہیں ہوگا۔ اس نے عرض کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ انصاری نے کہا کہ میں ہر طلاق کے بعد عدّت گزرنے سے پہلے رجوع کرتا رہوں گا…
Read the full tafseer →آیت 229:
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۔ (طلاق (رجعی) دو بار ہے) الطلاق بمعنی التطلیق یعنی طلاق دینا ہے جیسے السلام بمعنی تسلیم۔ مطلب یہ ہے کہ شرعی طلاق ایک طلاق کے بعد طلاق متفرق طور پر دینا ہے۔ نہ کہ اکٹھی اور نہ ایک ہی لفظ سے مرتین سے مراد تثنیہ نہیں بلکہ دفعہ (مرتبہ) مراد ہے۔ جیسے سورة ملک آیت نمبر 4 میں ثم ارجع البصر کرتین یعنی کرّۃً بعد کرّۃٍ ایک مرتبہ کے بعد دوسری مرتبہ ہے نہ کہ دو مرتبہ۔
طلاق بدعت :
مسئلہ : اس آیت میں ہماری دلیل ہے۔ دو طلاقوں اور تین کو اکٹھا ایک ہی طہر میں دینا بدعت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں الگ الگ کر کے دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہر میں اگرچہ یہ خبر ہے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 229۔ـ:
(آیت)” الطلاق مرتان “۔ حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا گیا ہے فرمایا کہ لوگ ابتداء میں بےشمارو لاتعداد طلاقیں دیتے اور آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ، جب عدت گزرنے کو آتی تو اس سے رجوع کرلیتا پھر اس کو طلاق دے دیتا پھر رجوع کرلیتا ، مقصد عورت کو نقصان پہنچانا ہوتا پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” الطلاق مرتان “ یعنی وہ طلاق جس کے بعد خاوند رجوع کرسکتا ہے وہ صرف دو دفعہ ہے ، پس جب وہ تین طلاق دے گا تو پھر وہ عورت اس آدمی کے لیے حلال نہ ہوگی مگر دوسرے خاوند سے نکاح کے بعد ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” فامساک بمعروف “۔ بعض نے کہا ہے کہ امساک سے مراد دوسری طلاق کے بعد طلاق رجوع کرنا ہے…
Read the full tafseer →ترمذی اور مستدرک حاکم میں حضرت عائشہ ؓ سے اور نسائی اور تفسیر ابن جریر و ابن ابی حاتم و عبد بن حمید و ابن مردویہ میں اور صحابہ سے روایت ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے طلاق کی کوئی حد اور گنتی نہیں تھی جس قدر طلاقیں مرد اپنی عورت کو دے عدت کی مدت کے اندر پھر رجوع کرسکتا تھا بلکہ لوگوں نے عورتوں کی ایذا دہی کی ایک یہ عادت پکڑا رکھی تھی کہ بےگنتی طلاق دیتے تھے اور عدت کے اندر پھر رجوع کرلیتے تھے اس طریقہ کے بند کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 4۔ جس سے اب یہ حکم شرعی ٹھہر گیا کہ تین 5 طلاق کے بعد کوئی حق رجوع کرنے کا مرد کو باقی نہیں رہا۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 1۔
اس آیت…
Read the full tafseer →جاہلیت اور اسلام کے ابتدائی دور میں مرد اپنی بیوی سے طلاق و رجوع کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔ لہٰذا مرد جب اپنی بیوی کو نقصان پہنچانا چاہتا تو اسے طلاق دے دیتا اور عدت پوری ہونے سے پہلے رجوع کرلیتا۔ پھر اسے طلاق دے دیتا اور پھر اختتام عدت سے پہلے رجوع کرلیتا اور ہمیشہ اسی طرح کرتا رہتا۔ اس طرح عورت کو جس ضرر اور نقصان کا سامنا کرنا پڑتا وہ اللہ ہی جانتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا :: (آیت) اَلطَّلَاقُ ” یعنی وہ طلاق جس میں خاوند کو رجعت کا حق حاصل ہے۔ : (آیت) مَرَّتٰنِ ۠ ” صرف دو متربہ ہے “ تاکہ اگر خاوند اپنی بیوی کو ضرر پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا، تو اس مدت کے دوران…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
یہ بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ بیوی کا حق ہے کہ شوہر اس کے اور دوسری بیوی کے درمیان دنوں کو تقسیم کر دے اور باریاں مقرر کر دے۔ اس لئے کہ اس صورت میں ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیویوں کی طرف میلان کا اظہار نہیں ہوگا۔ نیز یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اس کے ساتھ ہمبستری کرنا بھی اس پر لازم ہے کیونکہ قول باری ہے فتذدوھا کالمعلقۃ یعنی نہ تو وہ آزاد ہو کہ کہیں اور نکاح کرلے اور نہ ہی شوہر والی ہو کیونکہ مرد نے اس کے ساتھ ہمبستری کا حق پورا نہیں کیا۔ عورت کا بھی یہ حق ہے کہ مرد اس کو نقصان پہنچانے کی نیت سے نہ روکے رکھے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ نیز فرمایا ولاتعضلوھن ان ینکحن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–230
637 تیسری طلاق آخری اور فیصلہ کن : پس تیسری طلاق آخری اور فیصلہ کن امر ہے۔ اس کے بعد اس کی بیوی قطعی طور پر اس کی زوجیت سے فارغ اور الگ ہوجاتی ہے۔ ایسا نہیں جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتا تھا کہ انسان جتنی طلاقیں چاہتا اپنی بیوی کو دے دیتا۔ اور پھر اس کی عدت گزرنے سے پہلے وہ اس سے رجوع کرلیتا، اور اس طرح وہ " معلقہ " (لٹکی ہوئی) رہتی۔ نہ تو اس کا خاوند اسے باقاعدہ بیوی بنا کر رکھتا، اور نہ ہی وہ اسے باقاعدہ طلاق دے کر چھوڑ دیتا، تاکہ وہ کسی اور جگہ اپنا عقد نکاح کرلیتی۔ یہاں تک کہ اسلام نے آکر صنف نازک کو اس عذاب سے ہمیشہ کیلئے رہائی اور نجات دلائی، اور طلاق کی آخری حد تین تک مقرر کردی، کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–230
خلع اور رجوع کی صورت
تشریح : اسلام سے پہلے یہ بری عادت تھی کہ بعض غلط آدمی جب چاہتے اور جتنی بار چاہتے بیوی کو طلاق دے دیتے اور پھر صلح کرلیتے تو اس خرابی اور ظلم کو روکنے کے لیے حکم دیا گیا کہ صرف دو بار طلاق کے بعد عورت کی واپسی ہوسکتی ہے۔ صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ دو طلاق تک یہ اختیار دیا گیا ہے کہ مرد اگر چاہے تو عدت کے دوران دستور کے مطابق عورت کو رکھ لے اور اگر نہ چاہے تو بھلائی کے ساتھ عورت کو چھو ڑدے لیکن اگر عدت پوری ہوجائے تو پھر واپسی کی صورت باقی نہیں رہتی۔ ہاں اگر دونوں راضی ہوں کہ آئندہ خوش و خرم رہ سکیں گے تو پھر نئے نکاح کے ساتھ رجوع کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ لیکن اگر تیسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–229
آیات 222- 228
اسرارو معارف
صحبت کا احکام :
اور جب رشتہ ازدواج یا نکاح کا ذکر ہو تو یقینا سوال عورت سے قربت کا بھی پیدا ہوگا اور اس میں عورت کی حالت کو بھی دخل ہے کہ حالت حیض میں صحبت کرنے کا کیا حکم ہے ؟ تو فرمادیجئے کہ حیض گندگی کی چیز ہے اس حالت میں عورت کے ساتھ صحبت نہ کرو تاآنکہ وہ پاک ہوجائیں تو اس جگہ سے صحبت کرو جس جگہ سے اللہ نے صحبت کرنے کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی جگہ سے۔ اور یہ بات یادرکھو کہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے یعنی غلبہ شہوت سے ناپاکی میں صحبت کے مرتکب ہوئے تو خوب توبہ کرو اور اللہ سے بخشش چاہو اور ہوسکے تو صدقہ بھی کرو کہ توبہ کی بہترین صورت ہے اللہ پاک صاف رہنے…
Read the full tafseer →ف 6 عورت اگر خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرے اور خاوند طلاق دیدے تو اسے طلاق خلع کہتے ہیں یوں تو خاوند کے لیے عورت کو تنگ کر کے حق مہر واپس لینا جائز نہیں ہے مگر خلع کی صورت میں خاوند معاوضہ لے کر طلاق پر راضی ہو تو یہ واپسی جائز ہے۔ مسئلہ طلاق خلع کی عدت ایک حیض ہے۔ (ترمذی )
Read the full tafseer →(2:229) الطلاق مرتن۔ اس میں ال عہد کا ہے۔ ای التطلیق الرجعی اثنان۔ طلاق رجعی دو ہیں۔ یعنی وہ طلاقیں جن کے بعد طلاق دینے والا رجوع کرسکتا ہے صرف دو ہیں۔ تیسری طلاق کے بعد وہ رجوع نہیں کرسکتا تاآنکہ مطلقہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔ پھر وہ شخص اپنی رضا مندی سے اسے خود طلاق نہ دے دے۔
فامساک بمعروف۔ ای اذار اجعھا بعد التطلیقۃ الثانیۃ فعلیہ ان یمسکہا بمعروف یعنی جب دوسری طلاق کے بعد اس نے عورت سے رجوع کیا تو ازاں بعد یا تو قاعدہ اور دستور کے مطابق عورت کو اپنے پاس روکے رکھے یا ۔۔ امساک بروزن افعال مصدر بمعنی روکے رکھنا۔
او تسریح باحسان۔ او بمعنی یا۔ تسریح۔ نکال دینا۔ رخصت کردینا۔ چھوڑ دینا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–231
لغات القرآن : آیت نمبر 229 تا 231
مرتن (دو مرتبہ) ۔ امساک (روکنا) ۔ بمعروف (نیکی، بھلائی سے) ۔ تسریح (چھوڑ دینا ہے) ۔ ان یخافا (یہ کہ وہ دونوں ڈرتے ہیں) ۔ الا یقیما (یہ کہ وہ قائم نہ رکھ سکیں گے) ۔ حتی تنکح (جب تک نکاح نہ کرے) ۔ زوج (شوہر) ۔ غیرہ (اس شوہر کے سوا) ۔ ان یتراجعا (یہ کہ وہ دونوں رجوع کرلیں) ۔ ان ظنا (اگر وہ دونوں خیال رکھتے ہیں) ۔ بلغن (وہ عورتیں پہنچ جائیں) ۔ اجلھن (اپنی مدت کو (یعنی عدت پوری کرلیں) ۔ امسکوا (تم روک لو) ۔ سرحوا (تم چھوڑ دو ) ۔ لاتمسکوھن (نہ روکے رکھو ان عورتوں کو) ۔ ضرار (ایذا اور تکلیف) ۔ لتعتدوا (یہ کہ تم زیادتی کرو) ۔ لا تتخذوا ( تم نہ بناؤ ) ۔ ھزو (مذاق) ۔…
Read the full tafseer →بیان نکاح و طلاق
شان نزول : اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے طلاق کی کوئی حد اور گنتی نہیں تھی جس قدر طلاقیں مرد اپنی عورت کو دے دیتا عدت کی مدت کے اندر پھر رجوع کرسکتا تھا۔ اس طریقہ کے بند کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ جس سے اب یہ حک شرعی ٹھہر گیا کہ تین طلاق کے بعد کوئی حق رجوع کرنے کا مرد کو باقی نہیں۔
ولا یحل لکم ان تاخذوا الخ اس آیت میں دو حکم ہیں۔ شروع آیت میں ہے کہ بغیر مرضی عورت کے مرد کے لئے اس مال کو جو مہر کے طور پر یا عطیہ کے طور پر ایک دفعہ دے چکا ہے، اپنے تصرف میں لانے کی ممانعت ہے۔ کیونکہ وہ اس مال کی مالک بن چکی ہے اور آخر آیت میں عورت کے خلع کا حکم ہے یعنی جب میاں…
Read the full tafseer →[158] طلاق دینے کا طریقہ ہے کہ وہ تین مرتبہ، تین مجلسوں میں، تین مہینوں میں اور یکے بعد دیگرے واقع ہوتی ہے۔ تیسری طلاق سے پہلے تک رجوع کا موقعہ باقی رہتا ہے۔ تیسری طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔
[159] یعنی اگر ایسی صورت پیش آجائے کہ شوہر طلاق نہ دینا چاہتا ہو، نہ اس کی طرف سے کوئی قصور ہو لیکن کسی وجہ سے آپس میں بنتی نہ ہو اور اندیشہ پیدا ہوگیا ہو کہ ازدواجی زندگی کے فرائض ادا نہ ہو سکیں گے تو اس صورت میں اگر عورت کہے کہ اپنا مہر یا اس کا کوئی حصہ چھوڑ دیتی ہوں اور شوہر اس کے بدلہ میں طلاق دیدے تو ایسی معاملت جائز ہے۔ طلاق کی اس صورت کا نام جس میں طلاق کی خواستگار عورت ہو شرعی اصطلاح میں…
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیات میں طلاق کی تحدید فرما دی ، زمانہ جاہلیت میں لوگ بار بار طلاق دیتے اور رجوع کرلیتے جس کی وجہ سے عورتیں بیچاری مردوں کے مظالم کی تختہ مشق بنی رہتیں ، اسلام نے عورتوں پر یہ احسان کیا کہ طلاق کی تحدید کردی ، (آیت) ” تسریح باحسان “ کے معنی یہ ہیں کہ حسن معاشرت اور اخلاق عالیہ بہرحال قائم رہیں ، عورت کو طلاق دینے کے معنی صرف یہ ہونا چاہئیں کہ وہ باعزت طور پر رشتہ مناکحت کو توڑ دے اور بس عورت کو بدنام کرنا یا اس کی توہین کرنا درست نہیں ، بلکہ اگر ایسے مواقع پر عورت کو کچھ دے دے ، بطور الوداعی تحفے اور یادگار کے طور پر تو یہ زیادہ موزوں ہے ، وہ عورت جو مدتوں تمہاری رفیق حیات رہی ہے ‘…
Read the full tafseer →ف 2۔ وہ طلاق رجعی جس میں خاوند رجوع کر کے عورت کو لوٹا لینے کا حق کھتا ہے وہ دو مرتبہ کی طلاق ہے پھر دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد یا تو اس کو دستور اور قاعدہ شرعی کے مطابق روک لینا اور رکھ لینا ہے یا اس کو خوش اسلوبی اور بھلے طور پر چھوڑ دینا ہے اور تم کو یہ بات حلال نہیں کہ تم طلاق دیتے وقت ان عورتوں سے اس مال میں سے جو تم نے ان کو دیا ہے کچھ واپس لے لو مگر ہاں ایسی صورت میں جبکہ دونوں میاں بیوی کو اس بات کا خطرہ اور اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے قوانین اور اس کی قائم کردہ حدود کی رعایت نہیں کرسکیں گے اور ان حدود خداوندی کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو مال کا لے لینا حلال ہے لہٰذا اگر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–231
ف 2۔ اس طلاق کو رجعی کہتے ہیں جودو مرتبہ سے زائد نہ ہو اور اس میں یہ بھی قید ہو کہ صاف لفظوں سے ہوں اور قاعدہ سے مراد یہ ہے کہ طریقہ بھی اس کا شرع کے موافق ہو اور نیت بھی بھی اس کا شرع کے موافق ہو اور نیت بھی اس میں شرع کے موافق ہو اور خوش عنوانی سے بھی مراد یہ ہے کہ طریقہ اس کا شرع کے موافق ہو نیز خوش عنوانی سے چھوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ نیت بھی شرع کے موافق ہو یعنی دفع نزاع مقصود ہو یہ مقصد نہ ہو کہ اس کی دل شکنی کریں اس کو ذلیل کریں اس لیے نرمی ودل جوئی کی رعایت ضروری ہے۔
3۔ عورت سے مال ٹھیرا کر چھوڑنا اس کی دو صورتیں ہیں ایک خلع دوسرا طلاق علی مال۔ خلع یہ کہ عورت کہے کہ تو اتنے مال پر مجھ…
Read the full tafseer →دو طلاق دینے کے بعد بھی مرد رجوع کا حق رکھتا ہے :
388: پچھلی آیت میں فرمایا تھا کہ : ” بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ “ ان کے شوہر یعنی طلاق دینے والے اگر عدت کے اندر اندر اصلاح حال پر آمادہ ہوجائیں تو وہ انہیں اپنی زوجیت میں لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اب اس طلاق کی مزید تفصیل کی جاتی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ طلاق کی ایک قسم رجعی ہے جس کا اس آیت میں تذکرہ ہے۔ جس کی تفصیل کی حسب ذیل ہے :
1 : ایسی طلاق جس کے بعد عورت اپنے پہلے خاوند کی طرف لوٹائی جاسکتی ہے صرف دو ہی مرتبہ ہے بشرطیکہ ادائے حقوق کا خیال ہو۔ اس سے مقصد یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو طلاق کا وقوع نہایت ہی شاذ حالات میں ہو۔
2 : عرب میں…
Read the full tafseer →Commentary
The injunctions governing talaq طلاق (divorce) and nikah نکاح (marriage) appear in several verses throughout the Qur'an but the verses mentioned here consist of cardinal rules of procedure in cases of divorce. To understand these, it is necessary to know the status of Nikah نکاح in the Shari'ah of Islam.
Marriage, divorce and the rules governing them
One commonly known aspect of Nikah نکاح (marriage) is that of a mutual transaction and contract similar to transactions in buying and selling and in loans and payments. The second aspect is that of Sunnah and ` Ibadah عبادہ . On this,…
Read the full tafseer →250. This little verse aims at the reform of a serious evil that was rampant in the social life in pre-Islamic Arabia. According to the customary law of Arabia, a person was entitled to pronounce any number of divorces upon his wife. As a result divorce was resorted to at the least provocation and annoyance. In addition, the husband often exercised his right to revoke the divorce he had pronounced with the result that the poor wife could neither live with him in happiness nor free herself to contract a fresh marriage with someone else. Here the Qur'an seeks to shut the door on this injustice.…
Read the full tafseer →