طلاق کے مسائل :
ان عورتوں کو جو خاوندوں سے مل چکی ہوں اور بالغہ ہوں، حکم ہو رہا ہے کہ طلاق کے بعد تین حیض تک رکی رہیں پھر اگر چاہیں تو اپنا نکاح دوسرا کرسکتی ہیں، ہاں چاروں اماموں نے اس میں لونڈی کو مخصوص کردیا ہے وہ دو حیض عدت گزارے کیونکہ لونڈی ان معاملات میں آزاد عورت سے آدھے پر ہے لیکن حیض کی مدت کا ادھورا ٹھیک نہیں بیٹھتا، اس لئے وہ دو حیض گزارے۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ لونڈی کی طلاقیں بھی دو ہیں اور اس کی عدت بھی دو حیض ہیں۔ (ابن جریر) لیکن اس کے راوی حضرت مظاہر ضعیف ہیں، یہ حدیث ترمذی، ابو داؤد اور ابن ماجہ بھی ہے۔ امام حافظ دارقطنی فرماتے ہیں گو اس کی نسبت بھی امام دارقطنی یہی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 249
اس آیت کے حکم میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک جماعت کے نزدیک جب تک عورت تیسرے حیض سے فارغ ہو کر نہا نہ لے، اس وقت تک طلاق بائن نہ ہوگی اور شوہر کو رجوع کا حق باقی رہے گا۔ حضرات ابوبکر، عمر، علی، ابن عباس، ابو موسیٰ اشعری، ابن مسعود ؓ اور بڑے بڑے صحابہ کی یہی رائے ہے اور فقہائے حنفیہ نے اسی کو قبول کیا ہے۔ بخلاف اس کے دوسری جماعت کہتی ہے کہ عورت کو تیسری بار حیض آتے ہی شوہر کا حق رجوع ساقط ہوجاتا ہے۔ یہ رائے حضرات عائشہ، ابن عمر، اور زید بن ثابت ؓ کی ہے اور فقہائے شافعیہ و مالکیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ مگر واضح رہے کہ یہ حکم صرف اس صورت سے متعلق ہے، جس میں شوہر نے عورت…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 23، 24 مطلقہ کی عدت اور مدت رجعت کا بیان
وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ (الی قولہ) اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا اور طلاق دی ہوئی عورتیں (جن میں اتنی صفتیں ہوں خاوند نے ان سے صحبت یا خلوت صحیحہ کی ہو ان کو حیض آتا ہو آزاد ہوں یعنی شرعی قاعدہ سے لونڈی نہ ہوں) اپنے آپ کو (نکاح سے) روکے رکھیں تین حیض (ختم ہونے) تک (اور اس کو عدت کہتے ہیں) اور ان عورتوں کو یہ بات حلال نہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ ان کے رحم (بچہ دان) میں پیدا کیا ہو (خواہ حمل ہو یا حیض) اس کو پوشیدہ کریں (کیونکہ اس کے پوشیدہ کرنے سے عدت کا حساب غلط ہوجاوے گا) اگر وہ عورتیں اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر یقین…
Read the full tafseer →’ قروء ’ کا مفہوم :“ قروء ”قرء کی جمع ہے۔ اس کے معنی کی تعیین میں اہل لغت نے اختلاف کیا ہے۔ بعض نے اس کے معنی حیض کے لیے ہیں اور بعض نے طہر کے۔ اس کے اصل مادہ اور اس کے مشتقات پر ہم نے جس قدر غور کیا ہے اس سے ہمارا رجحان اسی بات کی طرف ہے کہ اس کے اصل معنی تو حیض ہی کے ہیں لیکن چونکہ ہر حیض کے ساتھ طہر بھی لازماً لگا ہوا ہے اس وجہ سے عام بول چال میں اس سے طہر کو بھی تعبیر کردیتے ہیں، جس طرح رات کے لفظ سے اس کے ساتھ لگے ہوئے دن کو یا دن کے لفظ سے اس کے ساتھ لگی ہوئی رات کو۔ اس قسم کے استعمال کی مثالیں ہر زبان میں مل سکتی ہیں۔
یہاں جو مسئلہ بیان ہوا ہے اس کا ظاہری قرینہ بھی اس بات پر دلالت کرتا…
Read the full tafseer →228۔ 1 اس سے وہ متعلقہ عورت مراد ہے جو حاملہ بھی نہ ہو (کیونکہ حمل والی عورت کی مدت وضع حمل تک ہے) جسے دخول سے قبل طلاق مل گئی ہو وہ بھی نہ ہو (کیونکہ اس کی کوئی عدت ہی نہیں) جس کو حیض آنا بند ہوگیا ہو کیونکہ ان کی عدت تین مہینے ہے گویا مذکورہ عورتوں کے علاوہ صرف مدخولہ عورت کی عدت بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی تین طہر یا تین حیض عدت گزار کے وہ دوسری شادی کرنے کی مجاز ہے سلف نے قروء کے دونوں ہی معنی صحیح قرار دئیے ہیں اس لئے دونوں کی گنجائش ہے (ابن کثیر فتح القدیر)
228۔ 2 اس سے حیض اور حمل دونوں ہی مراد ہیں حیض نہ چھپائیں مثلاً کہے کہ طلاق کے بعد مجھے ایک دو حیض آئے ہیں مقصد پہلے خاوند کی طرف رجوع…
Read the full tafseer →149: یہ مطلقہ عورتوں کی عدت کا بیان ہے، یعنی طلاق کے بعد انہیں تین مرتبہ ایام ماہواری پورے ہونے تک عدت گزارنی ہوگی، جس کے بعد وہ کہیں اور نکاح کرسکیں گی، لیکن سورة احزاب (33: 49) میں واضح کردیا گیا ہے کہ عدت گزارنا اسی وقت واجب ہے جب میاں بیوی کے درمیان خلوت ہوچکی ہو، اگر اس سے پہلے ہی طلاق ہوگئی تو عدت واجب نہیں، نیز سورة طلاق (65: 4) میں بتایا گیا ہے کہ جن عورتوں کو حیض ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہو یا ابھی آنا شروع نہ ہوا ہو ان کی عدت تین مہینے ہے، اور اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہوجائے گی۔
150 : جاہلیت کے دور میں عورت کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، اس آیت نے بتایا…
Read the full tafseer →اپنے آپ کو روکیں رکھیں ذرا اپنے جذبات پر کنٹرول کریں۔ تین مرتبہ ایام ماہواری تک یا تین مرتبہ ایام ماہواری سے پاک ہونے تک ، اپنے آپ کو روکیں رکھیں۔ میں نے قرآن مجید کی اس تعبیر اور انداز بیان پر بہت غور کیا ، لطیف نفسیاتی حالت کی یہ عجیب تصویر کشی ہے ۔ مفہوم اور مقصد یہ ہے کہ تین دفعہ ایام ماہواری آنے یا ان سے پاک ہونے تک دوسری شادی کرنے سے باز رہیں ۔ لیکن اس عقلی اور قانونی مفہوم کے علاوہ قرآن کریم کا طرز تعبیر کچھ اور بھی بتاتا ہے ۔ انداز تعبیر روکے رکھیں ، لگام کھینچ لیں باوجود اچھلنے کودنے کے روکے رکھیں ، اس تعبیر سے اس نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ایسے حالات میں پائی جاتی ہے ۔ ایسے…
Read the full tafseer →2 جب مرد نے عورت کو طلاق دی تو ابھی اس عورت کو کسی دوسرے سے نکاح روا نہیں جب تک تین حیض پورے نہ ہوجائیں تاکہ حمل ہو تو معلوم ہوجائے اور کسی کی اولاد کسی کو نہ مل جائے اس لیے عورت پر فرض ہے کہ جو ان کے پیٹ میں ہو اس کو ظاہر کردیں خواہ حمل ہو یا حیض آتا ہو اور اس مدت کو عدت کہتے ہیں۔
فائدہ معلوم کرنا چاہیے کہ یہاں مطلقات سے خاص وہ عورتیں مراد ہیں کہ ان سے نکاح کے بعد صحبت یا خلوت شرعیہ کی نوبت خاوند کو آچکی ہو اور ان عورتوں کو حیض بھی آتا ہو اور آزاد بھی ہوں کسی کی لونڈی نہ ہوں کیونکہ جس عورت سے صحبت یا خلوت کی نوبت نہ آئے اس کے اوپر طلاق کے بعد عدت بالکل نہیں اور جس عورت کو حیض نہ آئے مثلاً…
Read the full tafseer →آیت 228 وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ ط۔
طلاق کے بعد عورت کے لیے تین ماہ کی عدت ہے۔ اس عدت میں شوہر چاہے تو رجوع کرسکتا ہے ‘ اگر اس نے ایک یا دو طلاقیں دی ہوں۔ البتہ تیسری طلاق کے بعد رجوع کا حق نہیں ہے۔ طلاق رجعی کے بعد ابھی اگر عدت ختم ہوجائے تو اب شوہر کا رجوع کا حق ختم ہوجائے گا اور عورت آزاد ہوگی۔ لیکن اس مدت کے اندر وہ دوسری شادی نہیں کرسکتی۔
وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْ اَرْحَامِہِنَّ اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط۔
تین حیض کی مدت اسی لیے مقرر کی گئی ہے کہ معلوم ہوجائے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں۔…
Read the full tafseer →303 یہ حکم ان عورتوں کے لیے ہے جو حاملہ نہ ہوں کیونکہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے اور جس عورت سے اس کے خاوند نے ابھی تک صحبت ہی نہ کی، اس پر کوئی عدت نہیں۔ عدت کے دوران نان و نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمہ ہوتا ہے اور اسے اپنے خاوند کے ہاں ہی عدت گزارنا چاہیے۔ کیونکہ اس دوران خاوند اس سے رجوع کا حق رکھتا ہے اور قانوناً وہ اس کی بیوی ہی ہوتی ہے۔
قروئ، قرء کی جمع ہے اور قرء کا معنی لغوی لحاظ سے حیض بھی ہے اور طہر بھی۔ یعنی یہ لفظ لغت ذوی الاضداد سے ہے۔ احناف اس سے تین حیض مراد لیتے ہیں۔ جبکہ شوافع اور مالکیہ طہر مراد لیتے ہیں۔ اس فرق کو درج ذیل مثال سے سمجھئے۔
طلاق دینے کا صحیح اور مسنون طریقہ یہ…
Read the full tafseer →843 ۔ (دوسرے نکاح سے) (آیت) ” المطلقت “ لفظی معنی کے اعتبار سے ہر طلاقن عورت کے لیے وسیع ہے۔ لیکن یہاں مراد صرف ان بیویوں سے لی گئی ہے جو آزاد ہوں (کنیزشرعی نہ ہوں) بالغ ہوں (نابالغ نہ ہوں) اور جن سے خلوت صحیحہ ہوچکی ہو (غیر ملموس نہ ہوں) یہاں احکام صرف انہیں آزاد شوہر دیدہ بیویوں سے متعلق بیان ہوں گے، دوسری قسم کی عورتوں کے طلاق کے احکام دوسرے مقامات پر ملیں گے۔ المراد المدخول بھن من ذوات الاقراء (مدارک) اے ذوات الاقراء من الحرائرالمدخول بھن (روح) (آیت) ” یتربصن بانفسھن “ اپنے کو روکے رہیں۔ یہ نہ ہو کہ ادھر شوہر نے طلاق دی، اور ادھر بیوی نے معا دوسرا شوہر کرلیا۔ یہ پہلی پابندی طلاق پر عائد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–228
آیت نمبر 226 تا 228
ترجمہ : اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ازدواجی تعلق نہ رکھنے کی قسم کھالیتے ہیں، تو ان کے لئے چار ماہ انتظار کی مدت ہے پس اگر اس مدت میں یا اس کے بعد وطی کی جانب قسم سے رجوع کرلیں تو اللہ تعالیٰ عورت کے اس نقصان کو معاد کرنے والے ہیں، جو انہوں نے اس قسم کے ذریعہ پہنچایا ہے اور ان پر رحم کرنے والے ہیں، اور اگر طلاق کا ہی کا پختہ ارادہ ہو بایں طور کہ وہ رجوع نہ کریں گے تو پھر طلاق ہی دیدیں، اللہ تعالیٰ ان کی بات کو سننے والا ہے اور ان کے عزم کو جاننے والا ہے مطلب یہ ہے کہ مذکورہ (مدت) انتظار کے بعد ان کے لئے صرف رجوع کرنے یا طلاق دینے کی صورت ہے اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو طلاق…
Read the full tafseer →وَالْمُطَلَّقٰتُ ( اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو) یہ لفظ عام ہے تمام مطلقہ عورتوں کو شامل ہے طلاق رجعی ہو یا بائنہ عورت کو حمل ہو یا نہ ہو عورت سے صحبت ہوچکی ہو یا نہ ہوئی ہو ‘ لونڈی ہو یا حرہ۔ حدیث اور اجماع کی وجہ سے لونڈیوں کو اس آیت سے خاص کرلیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ باندی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت بھی دو ہی حیض ہیں یہ روایت ترمذی ‘ ابو داؤد ‘ ابن ماجہ ‘ دارمی نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کی ہے۔ اس بحث کو جو اس حدیث میں ہے اور یہ مسئلہ کہ عموم قرآن کی تخصیص خبر واحد سے کی گئی ہے۔ آیت : الطلاق مرتان کی تفسیر میں ( انشاء اللہ تعالیٰ ہم عنقریب ذکر کریں گے اس آیت کا حکم…
Read the full tafseer →(228) اور ایک یا دو طلاق دی ہوئی عورتیں کہ جن سے خاوند نے صحبت یا خلوت صحیحہ کی ہو اور انہیں حیض آتا ہو۔ وہ اپنے آپ کو عدت میں تین حیضوں کی مدت تک روکے رکھیں اور ان کے رحم میں جو عمل وغیرہ یا حیض ہے، اس کو پوشیدہ رکھنا ان کے لیے حلال نہیں اور ان کے خاوند اس عدت کے زمانہ میں خواہ وہ حمل سے ہوں ان سے رجوع کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، جب کہ وہ اس رجوع سے نیکی کا ارادہ رکھتا ہو، ابتدا اسلام میں جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیتا تھا تو وہ عدت گزرنے کے بعد بھی نکاح کرنے سے پہلے اس سے رجوع کرنے کا حق رکھتا تھا۔
مگر (آیت) ”الطلاق مرتن“۔ سے عدت گزارنے کے بعد اس قسم کا رجوع منسوخ ہوگیا اور…
Read the full tafseer →اگر خاوند اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ فوراً اس سے جدا نہیں ہوتی، بلکہ اسے کچھ مدت انتظار میں گزارنا ہوگی جس کے اندر خاوند اس سے رجوع کرسکتا ہے اور اس مدت کے گزرنے کے بعد عورت آزاد ہے، جس سے چاہے نکاح کرلے۔ اس مدت کو عدت کہتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی خاوند جماع کے بعد اپنی عورت کو طلاق دے اور اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کے لیے عدت تین ماہ ہے اور اگر حاملہ ہے تو حمل سے فارغ ہونا۔ (دیکھیے طلاق : 4) اور اگر جماع سے پہلے ہی طلاق ہوجائے تو اس پر کوئی عدت نہیں۔ (دیکھیے احزاب : 49) پس اس آیت میں لفظ ”وَالْمُطَلَّقٰتُ“ (وہ عورتیں جنھیں طلاق دی جائے) سے ان عورتوں کی عدت بیان کرنا مقصود ہے جن سے خاوند…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 228۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء “۔ اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” (آیت) ” والمطلقت “۔ جب اللہ تعالیٰ نے ایلاء کا ذکر فرمایا اور بلاشبہ اس میں طلاق واقع ہوجاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے طلاق ہوجانے کے بعد عورت کے حکم کو بیان فرمایا۔
ابو داؤد اور نسائی کی کتاب میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد باری تعالیٰ (آیت) ” والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء “۔ الآیہ کے بارے میں فرمایا کہ آدمی جب اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور اگر وہ اسے تین طلاقیں دے تو پس یہ منسوخ ہے (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الطلاق،…
Read the full tafseer →(1) ابو داؤد، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں، میں طلاق دی گئی اور (اس آیت) مطلقہ کے لئے کوئی عدت نہیں تھی جب میں طلاق دی گئی تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کے لئے عدت (کا حکم) نازل فرمایا لفظ آیت ” والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء “ یہ پہلا حکم تھا جس میں طلاق کے لئے عدت نازل کیا گیا۔
طلاق کی عدت کے مسائل
(2) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء “ کے بارے میں روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی طلاق دیتا تھا تو اس کے لئے عدت نہیں ہوتی تھی۔
(3) ابو داؤد، نسائی، ابن المنذر نے حضرت ابن عباس…
Read the full tafseer →[ وَالْمُطَلَّقٰتُ : اور طلاق شدہ خواتین ] [ یَتَرَبَّصْنَ : انتظار کریں گی ] [ بِاَنْفُسِہِنَّ : اپنے نفس کے ساتھ ] [ ثَلٰثَۃَ قُرُوْئٍ : تین مدتیں (یعنی حیض) ] [ وَلاَ یَحِلُّ : اور حلال نہیں ہوتا ] [ لَہُنَّ : ان کے لیے ] [ اَنْ یَّــکْتُمْنَ : کہ وہ چھپائیں ] [ مَا : اس کو جس کو ] [ خَلَقَ : پیدا کیا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ فِیْ اَرْحَامِہِنَّ : ان کے رحموں میں ] [ اِنْ کُنّ : اگر وہ ہیں ] [ یُؤْمِنَّ : (کہ) ایمان رکھتی ہیں ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن (یعنی آخرت) پر ] [ وَبُعُوْلَتُہُنَّ : اور ان کے شوہر ] [ اَحَقُّ : زیادہ حق دار ہیں ] […
Read the full tafseer →مطلقہ عورتوں کی عدت کا بیان
مرد عورت آپس میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں، اس حاجت کے انتظام کے لیے اللہ تعالیٰ نے نکاح کا قانون مشروع فرمایا ہے۔ اور نکاح اس لیے ہے کہ دونوں اطمینان اور سکون کے ساتھ اچھی زندگی گزاریں اور مل جل کر حسن سلوک کے ساتھ رہیں اور زندگی بھر نباہنے کی کوشش کریں، آپس میں کوئی ناگوار بات ہوجائے تو اس سے درگزر کرتے رہیں، لیکن کبھی ایسے حالات بن جاتے ہیں کہ ساتھ رہنا دشوار ہوجاتا ہے۔ ایک طرف سے یا دونوں طرف سے طبیعت کا جوڑ نہیں کھاتا اور باہمی میل جول کی خوبصورتی کے ساتھ کوئی صورت نہیں بنتی تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے طلاق اور خلع کا قانون مشروع فرما دیا، بہت سی قوموں میں نکاح…
Read the full tafseer →حکم بست ودوم وسوم۔ عدت طلاق ومدت رجعت۔
قال تعالی، والمطلقات یتربصن بانفسھن۔۔۔ الی۔۔ حکیم۔
ربط) ۔ ایلاء میں ایک محدود مدت یعنی چار مہینے کے لیے عورت سے علیحدگی ہوتی ہے اور طلق میں غیر محدود مدت کے لیے علیحدگی ہوتی ہے اس لیے محدود اور محصور (یعنی ایلاء) کے بعد غیر محدود اور غیر محصور (یعنی طلاق) کا ذکر مناسب ہوا نیز ایلاء میں بعض مرتبہ عزم یعنی ارادہ رجوع کا ہوتا ہے اس لیے ان آیات میں طلاق کے ساتھ رجعت کے احکام بھی بیان فرمائے چناچہ فرماتے ہیں اور طلاق والی عورتیں جن پر کسی طرح سے طلاق پڑچکی ہے خواہ بذریعہ ایلاء کے یا کسی اور طریقہ سے ان کو چاہیے کہ تین حیض گذرنے کے انتظار کریں یعنی جب تک یہ…
Read the full tafseer →448 عدت کے اعتبار سے عورت کی کئی قسمیں ہیں (1) صغیرہ جو ابھی تک بالغ نہ ہوئی ہو (2) جو عمر سے بالغ ہوئی ہو اور ابھی تک حیض نہ آیا ہو۔ (3) بڑھاپے کی وجہ سے جس کو حیض آنا بند ہوچکا ہو۔ ان کو اگر طلاق ہوجائے تو ان کی عدت تین ماہ ہے۔ اس کا بیان سورة طلاق پارہ 28 میں ہے۔ (4) حاملہ عورت اگر اسے طلاق مل جائے یا اس کا خاوند مرجائے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ اس کا بیان بھی سورة طلاق میں ہے۔ (5) وہ عورت جو حاملہ نہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہوجائے اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔ اس کا بیان سورة بقرہ رکوع 30 میں ہے۔ (6) وہ عورت جو نہ حاملہ ہو نہ صغیرہ اور نہ آئسہ اگر اسے طلاق مل جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 227–228
ربط آیات
گزشتہ درس میں قسم کے متعلق بیان تھا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایلاء کا مسئلہ بیان فرمایا ایلاء سے مراد عورت سے عدم مقاربت کی قسم کھانا ہے اور اس کی مدت زیادہ سے زیادہ چار ماہ رکھی گئی ہے۔ اگر خاوند اس دوران رجوع کرے لے تو قسم کفارہ ادا کر دے اور اگر چار ماہ کی مدت پوری ہوگئی تو عورت پر ایک طلاق بائن پڑ جائیگی۔ تاہم بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ طلاق خود بخود واقع نہیں ہوگی بلکہ ایلاء کرنے والے کو عدالت میں طلب کر کے رجوع یا طلاق کا فیصلہ کیا جائے گا۔
نکاح اور طلاق
نکاح اور طلاق کے مسائل اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں بیان فرمائے ہیں ، خصوصاً سورة احزاب ، طلاق اور اس…
Read the full tafseer →وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْۗءٍ 0 ۭ وَلَا يَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللہُ فِيْٓ اَرْحَامِہِنَّ اِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ 0 ۭ وَبُعُوْلَــتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا 0 ۭ وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ 0 ۠ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْہِنَّ دَرَجَۃٌ 0 ۭ وَاللہُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 228 ۧ
ربص
التّربّص : الانتظار بالشیء، سلعة کانت يقصد بها غلاء، أو رخصا، أو أمرا ينتظر زواله أو حصوله، يقال : تربّصت لکذا، ولي رُبْصَةٌ بکذا، وتَرَبُّصٌ ، قال تعالی: وَالْمُطَلَّقاتُ…
Read the full tafseer →1 ؎ یعنی تین حیض تک عدت طلاق ہے اگر کسی سے نکاح کریں تو اس کے بعد کریں۔ 12 منہ
ترکیب : والمطلقات مبتداء یتربصن خبر معناً امر ہے ثلثہ قروء ظرف ہے یتر بصن کا لایحل فعل لہن اس کے متعلق ان یکتمن جملہ بتاویل مصدر فاعل ان کن شرط جملہ لا یحل دال بر جزا بعولتہن مبتدا احق الخ خبر بعولتہن متعلق ہے احق کے فی ذلک ای وقت التربص۔
تفسیر : چونکہ ایلا کا حکم آچکا تھا جو ایک قسم کی طلاق یا طلاق کے مبادی میں سے ہے اور معاملات کے مسائل کا بیان فرمانا سعادت انسانی کی تکمیل ہے۔ اس لیے طلاق کا مسئلہ ان آیات اور اگلی آیات میں بیان فرمایا۔ ایام جاہلیت میں عدۃ کے بارے میں بھی بڑا جھمیلا تھا۔ کبھی ایسا
بھی ہوتا تھا کہ…
Read the full tafseer →وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ ثَلٰـثَۃَ قُرُوْٓئٍ ط وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْٓ اَرْحَامِھِنَّ اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط وَبُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا ط وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ص وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌحَکِیْمٌ۔ ع
(اور مطلقہ عورتیں اپنے بارے میں تین حیض تک توقف کریں۔ اور اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو کچھ پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عورتوں کے متعلقہ مسائل کا بیان جاری ہے۔
اگر ایلاء کرنے والے نے طلاق دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے تو مطلقہ عورت کو تین حیض انتظار کرنا چاہیے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمیع وعلیم کی صفات کا تذکرہ فرماکر ایک قسم کی تنبیہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ طلاق تک نوبت پہنچنے میں خاوند ‘ بیوی اور خاندان کے کس کس آدمی کا کتنا ہاتھ ہے لہٰذا تمہیں خوب سمجھ سوچ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔
رسول معظم ﷺ کا ارشاد ہے :
(ثَلَاثٌ جِدُّھُنَّ جِدٌّ وَھَزْلُھُنَّ جِدٌّ النَّکِاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرَّجْعَۃُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب الطلاق، باب ماجاء فی الجد والھزل فی الطلاق ]
” تین کام ایسے ہیں جو…
Read the full tafseer →آیت 228: وَالْمُطَلَّقٰتُ ۔ (اور طلاق شدہ عورتیں) یعنی مراد مدخول بھا حیض والی عورتیں۔
امر بصورت خبر :
یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ۔ (وہ اپنے آپ کو روکیں) یہ خبر ہے جو امر کا معنی دیتی ہے اصل کلام اس طرح ہوگا۔ ولتتربصن المطلقات چاہیے کہ مطلقہ عورتیں انتظار کریں امر کو بصورت خبر لا کر تاکید امر مقصود ہے اور اس بات کی طرف نشان دہی کی گئی کہ یہ ان کاموں میں سے ہے جن کو فی الفور پورا کرنا مناسب ہے گویا ان عورتوں نے اس حکم کو انتظار سے تسلیم کرلیا ہے پس اس کے پائے جانے کی خبر دی جا رہی ہے۔ اہل عرب دعا میں اس طرح استعمال کرتے ہیں۔ رحمک اللّٰہ یہ کلمہ دعائیہ بھی خبر کی صورت میں اسی لئے لایا جاتا…
Read the full tafseer →228۔ (آیت)” والمطلقات “ اپنے خاوندوں کی رسیوں (جکڑبندیوں) سے چھوٹی ہوئی ” یتربصن “ انتظار کریں (آیت)” فانفسھن ثلاثۃ قروئ “ پس نکاح نہ کریں، قروء قرء کی جمع ہے قرع کی طرح اس کی جمع ” قلت۔۔۔۔ اقرؤ“۔ اور جمع کثرت ” اقرائ “ ہے ۔
وضاحت : ۔ جمع قلت وہ ہے جو دس افراد سے کم پر بولی جائے اور جمع کثرت وہ ہے جو دس افراد یا اس سے زیادہ پر بولی جائے، قرء کے معنی ہیں اہل علم نے اختلاف کیا ہے، ایک جماعت کا مؤقف ہے کہ اس سے مراد حیض ہے، حضرت عمر ؓ حضرت علی ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے ، حضرت حسن (رح) ، حضرت مجاہد (رح) بھی یہی فرماتے ہیں ، اوزاعی (رح) ، حضرت ثوری (رح) اور…
Read the full tafseer →ابو داؤد میں اور تفسیر ابن کثیر ابی حاتم میں اسماء بنت یزید سکن ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک اس کے خاوند نے اس کو طلاق دی اس وقت تک طلاق شدہ عورت کیلئے عدت کی مدت مقرر نہ تھی۔ خاص اس کی طلاق کے وقت یہ آیت نازل ہوئی ہے 1۔ اور اس آیت میں فقط ان عورتوں کی عدت کا ذکر ہے جن سے نکاح کے بعد مباشرت ہوئی ہو اور جن کی عمر ایسی چھوٹی نہ ہو کہ حیض نہ آتا ہو اور نہ ایسی بڑی عمر ہو کہ حیض بند ہوگیا ہو اور نہ حاملہ ہو اس لئے کہ بلا مباشرت کے عورت اور چھوٹی عمر والی اور بڑی عمر والی اور حاملہ ان سب کی عدت کا حکم علیحدہ علیحدہ آگے آئے گا قرء کے معنی طہر اور حیض دونوں کے ہیں اسی واسطے علماء کا اس…
Read the full tafseer →یعنی وہ عورتیں جن کو ان کے شوہروں نے طلاق دے دی ہے (آیت) يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ” اپنے تئیں رو کے رکھیں “ یعنی وہ انتظار کریں اور عدت پوری کریں (آیت) ثَلٰثَةَ قُرُوْۗءٍ ۭ ” تین حیض “ (قرء) کے معنی میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک اس کے معنی حیض اور بعض کے نزدیک طہر کے ہیں۔ تاہم صحیح مسلک یہ ہے کہ اس سے مراد تین حیض ہیں اور اس عدت کی متعدد حکمتیں ہیں، مثلاً جب مطلقہ عورت کو بتکرار تین حیض آجاتے ہیں تو برأت رحم ہوجاتی ہے اور معلوم ہو جتا ہے کہ اس کے پیٹ میں حمل نہیں اور اس طرح نسب میں اختلاط کا کوئی خدشہ نہیں رہتا۔
بنا بریں اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورتوں پر واجب کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم…
Read the full tafseer →(والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثہ مودء اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین قرہ یعنی حیض تک انتظار میں رکھیں گی) اب تین حیض کے انتظار کی صورت میں مدت کے گزرتے ہی دونوں میں علیحدگی ہوجاتی ہے تو ضروری ہے کہ ایلاء کے انتظار کا بھی کئی وجوہ سے یہی حکم ہو کہ مدت گزرتے ہی طلاق واقع ہوجائے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اگر ہم بذریعہ عدالت مولی کو مطلع کریں تو پھر انتظار کی مدت چار ماہ سے بڑھ جائے گی اور یہ بات کتاب اللہ کے خلاف ہے اور اگر مولی اپنی بیوی سے ایک یا دو سال غائب رہے اور عورت یہ معاملہ عدالت میں نہ لے جائے اور اپنے حق کا بھی مطالبہ نہ کرے تو پھر انتظار کے وقت کی کوئی مقدار متعین نہیں ہوگی اور یہ…
Read the full tafseer →630 طلاق یافتہ عورتوں کو تین حیضوں تک انتظار کرنے کا حکم : کہ اس دوران وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کریں، تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ان کو حمل ہے یا نہیں، تاکہ ایک دوسرے کی اولاد میں باہم خلط ملط نہ ہوجائے۔ اس لئے استبرائ رحم کیلئے اتنی مدت تک کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ " بانفسہن " کے لفظ میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ ان کے ذمے لازم ہے کہ یہ اپنے آپ کو اتنی مدت تک انتظار میں رکھیں کہ یہ اپنی جانوں پر اتنا کنٹرول رکھتی ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف تین حیضوں کی اس مدت کے مقرر کرنے کا اصل مقصد چونکہ یہ معلوم کرنا ہے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں۔ اس لیے کہ اس چیز پر بہت سے اہم امور کا انحصار ہے۔ اس وجہ…
Read the full tafseer →عدت اور بیوی سے رجوع
تشریح : اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر شوہر طلاق دے تو بیوی کو چاہیے کہ ماہواری تک انتظار میں رہے یہ جائز نہیں کہ طلاق لیتے ہی دوسری شادی کرلی۔ یہ ماہواری کا انتظار جو اللہ تعالیٰ نے عورت کے لیے مقرر کیا ہے تو اس میں بڑی مصلحت ہے۔ ایک مصلحت تو یہ ہے کہ ہوسکتا ہے غصہ ختم ہونے پر عورت و مرد دوبارہ اکٹھا رہنے کا فیصلہ کرلیں تو اس کی گنجائش اللہ نے رکھی ہے کہ تین ماہواری کے دوران اگر مرد مناسب سمجھے کہ معاملات ٹھیک چل سکتے ہیں تو اس کو حق حاصل ہے کہ بیوی کو واپس زوجیت میں لے لے۔ تین مہینے گزر جانے پر یہ اجازت ختم ہوجاتی ہے۔ مگر بیوی سے کوئی زیادتی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–229
آیات 222- 228
اسرارو معارف
صحبت کا احکام :
اور جب رشتہ ازدواج یا نکاح کا ذکر ہو تو یقینا سوال عورت سے قربت کا بھی پیدا ہوگا اور اس میں عورت کی حالت کو بھی دخل ہے کہ حالت حیض میں صحبت کرنے کا کیا حکم ہے ؟ تو فرمادیجئے کہ حیض گندگی کی چیز ہے اس حالت میں عورت کے ساتھ صحبت نہ کرو تاآنکہ وہ پاک ہوجائیں تو اس جگہ سے صحبت کرو جس جگہ سے اللہ نے صحبت کرنے کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی جگہ سے۔ اور یہ بات یادرکھو کہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے یعنی غلبہ شہوت سے ناپاکی میں صحبت کے مرتکب ہوئے تو خوب توبہ کرو اور اللہ سے بخشش چاہو اور ہوسکے تو صدقہ بھی کرو کہ توبہ کی بہترین صورت ہے اللہ پاک صاف رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 227–228
ف 3 مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی خاوند جماع کے بعد اپنی عورت کو طلاق دے اور اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کے لیے عدت تین ماہ ہے اور اگر حاملہ ہو تو وضح حمل۔ (دیکھئے سورت الطلاق آیت 4) اگر جماع سے پہلے ہی طلاق ہوجائے تو اس پر کوئی عدت نہیں ہے۔ (دیکھئے آیت 237) پس اس آیت میں المطلقات سے ان عورتوں کو عدت کا بیان کرنا مقصو ہے جن سے خاوند صحبت کرچکے ہیں اور ہو حاملہ نہ ہوں اور ان کو حیض بھی آتا ہو تو ان کی عدت تین طہر یا تین حیض ہے۔ ابن کثیر۔ شوکانی) قردء کا لفظ جمع ہے اور اس کا واحد قوء ہے اور یہ طہر اور حیض دونوں پر بو لا جاتا ہے گو از روئے دلائل اول حج ہیں مگر فتوی دونوں پر صحیح ہے۔ (سلسلئہ بیان لیے…
Read the full tafseer →(2:228) المطلقت۔ اسم مفعول۔ جمع مؤنث۔ تطلیق (تفعیل) مصدر ۔ طلق مادہ۔ طلاق دی ہوئی عورتیں۔
یتربصن۔ مضارع جمع مؤنث غائب بمعنی امر غائب۔ تربص (تفعل) مصدر سے (نکاح سے) روکے رہیں۔ منتظر رہیں۔ انتظار کریں ۔ بانفسھن۔ اپنے آپ کو۔
قروئ۔ جمع۔ قرء واحد۔ القرئ۔ کے اصل معنی طہر سے حیض میں داخل ہونے کے ہیں۔ اور چونکہ یہ لفظ طہر اور حیض دونوں کا جامع ہے اس لئے دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جیسے کہ مائدۃ۔ دستر خوان اور کھانا دونوں کے مجموعے کے لئے وضع کیا گیا ہے مگر ہر ایک پر انفراداً بھی بولا جاتا ہے۔ لہٰذا قرء نہ صرف حیض کا نام ہے اور نہ صرف طہر کا۔ بلکہ دونوں کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ احناف کے نزدیک اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–228
لغات القرآن : آیت نمبر 226 تا 228
یؤلون (وہ قسم کھاتے ہیں) ۔ تربص (رکنا ہے، انتظار کرنا ہے) ۔ اربعۃ اشھر (چار مہینے) ۔ فاء و (باہم مل گئے، پلٹ گئے) ۔ عزموا (انہوں نے ارادہ کرلیا) ۔ المطلقت (طلاق والی عورتیں) ۔ یتربصن (انتظار کریں گی) ۔ ثلثہ (تین ) ۔ قروء (حیض) ۔ لا یحل (حلال نہیں ہے) ۔ ان یکتمن (یہ کہ وہ چھپائیں) ۔ خلق اللہ (اللہ نے پیدا کیا) ۔ ارحام (رحم ، عورتوں کے رحم) ۔ بعولۃ (شوہر) ۔ احق (زیادہ حقدار) ۔ بردھن (ان کو لوٹا لینے کے) ۔ ارادوا (انہوں نے ارادہ کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 226 تا 228
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے زن و شوہر کے تعلقات نہ رکھنے کی قسم کھالے تو اس کو شریعت میں ایلاء کہتے…
Read the full tafseer →اس آیت میں فقط ان عورتوں کی عدت کا ذکر ہے جن سے نکاح کے بعد مباشرت ہوئی ہو کہ مرد نے عورت کو طلاق دی تو ابھی اس عورت کو کسی دوسرے سے نکاح جائز نہیں جب تک تین حیض پورے نہ ہوجائیں۔ تاکہ حمل ہو تو معلوم ہوجاوے اور کسی کی اولاد کسی کو نہ مل جاوے۔ اس لئے عورت پر فرض ہے کہ حمل ظاہر کر دے اور بلا مباشرت یعنی صغر سن ہے یا بہت بوڑھی ہوگئی۔ ان دونوں صورتوں میں عدت تین مہینے ہیں اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے اور موت کی عدت چار ماہ دس رات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 227–228
[157] زمانہ جاہلیت میں عربوں کا ایک شعار یہ بھی تھا کہ شوہر غصہ میں آکر قسم کھا بیٹھتے تھے کہ اپنی بیویوں سے ہم بستری نہ کریں گے۔ شرعی اصطلاح میں اس کو ایلاء کہتے ہیں۔ ایسے بگاڑ کے لئے اللہ تعالیٰ نے چار مہینے کی مدت مقرر کردی کہ یا تو اس دوران میں رجوع کرلو ورنہ رشتہ ازدواج منقطع کردو تاکہ عورت آزاد ہو کر جس سے چاہے نکاح کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 227–228
مطلقہ اور اس کی عدت :
(ف 2) اسلام نے جہاں عورت کی عزت و حرمت کا جائز اعتراف کیا ہے وہاں اس نے اس کی نفسیات کا بھی گہرا مطالعہ کیا ہے اور جو بات کہی ہے وہ عین فطرت نسوانی کے لئے مفید ہے ، مثلا طلاق اصولا دونوں دونوں طرف سے ہو سکتا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے سے اس درجہ شکایت ہو سکتی ہے کہ وہ علیحدہ ہوجانے پر مجبور ہوں ، مگر عورت از خود اس کی مجاز نہیں اور یہ اس لئے کہ عورت فطرتا عقل سے جذبات کی زیادہ تابع ہوتی ہے ، اسے اگر طلاق وتخلی کے اختیارات دے دیئے جائیں تو وہ اپنی زندگی نہایت تکلیف میں بسر کرے اور تلخ کرلے ۔ وہ لوگ جنہوں نے اسلامی نظام طلاق کا مطالعہ نہیں کیا ، معترض ہیں کہ دیکھئے اسلام نے…
Read the full tafseer →ف 1۔ اور وہ عورتیں جن کو طلاق دی گئی ہو وہ اپنے آپ کو نکاح کرنے سے تین حیض تک روکے رکھیں اور تین حیض کے پورا ہونے تک انتظار کریں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کو اس چیز کا چھپانا حلال نہیں جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں پیدا کیا ہو خواہ وہ حیض ہو یا حمل ہو اور جن عورتوں کو رجعی طلاق دی گئی ہو ان کے خاوند ان کو عدت کی مدت کے اندر اندر لوٹا لینے کا حق رکھتے ہیں کہ رجوع کر کے ان کو لوٹا لیں ۔ بشرطیکہ ان کا مقصد اصلاح اور حسن سلوک ہو ، محض عورت کو ستانے اور اذیت دینے کی نیت نہ ہو اور عورتوں کے حقوق بھی مردوں پر ویسے ہی ہیں جیسے دستورشرعی کے موافق مردوں…
Read the full tafseer →ف 6۔ یہ عدت ان عورتوں کی ہے جن میں اتنی صفتیں ہوں خاوند نے ان سے صحبت یا خلوت صحیحہ کی ہو ان کو حیض آتا ہوآزاد ہوں یعنی شرعی قاعدے سے لونڈی نہ ہو عدت کے اندر دوسرے مرد سے نکاح درست نہیں اور اس کے برعکس جس عورت سے مردنے صحبت یا خلوت صحیحہ نہ کی اور اس کو طلاق دے دے تو اس پر بالکل عدت لازم نہیں۔
1۔ مطلقہ پر واجب ہے کہ اپنے حائضہ یا حاملہ ہونے کی حالت ظاہر کرے تاکہ اس کے موافق عدت کا حساب ہو مرد پر خاص عورت کے حقوق یہ ہیں اپنی وسعت کے مطابق اس کو کھانا کپڑا رہنے کا گھر دے مہر دے اس کو تنگ نہ کرے اور عورت پر مرد کے خاص حق یہ ہیں اس کی اطاعت کرے اس کی خدمت کرے۔
Read the full tafseer →طلاق والیاں تیں میعادوں تک انتظار کریں :
385: اس آیت سے طلاق کے مختلف احکام بیان کئے گئے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے :
! : جس عورت سے خاوند نے صحبت کی ہو یا خلوت صحیحہ ہوچکی ہو ، اس کو حیض بھی آتا ہو اور وہ آزاد بھی ہو۔ اس کو جب طلاق دی جائے تو اس کو تین حیض تک انتظار کرنا پڑے گا ۔ یہ مدت تقریباً تین ماہ ہوتی ہے۔ اس زمانہ انتظار کو شریعت کی اصطلاح میں عدت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس مدت میں دوسرے شخص سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ اس انتظار کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ خاوند اور بیوی میں مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے۔
جن عورتوں سے شوہر نے صحبت یا خلوت صحیحہ نہ کی ہو طلاق کی صورت میں ان کے لئے کوئی…
Read the full tafseer →A great verse defining the status of man and woman
This verse contains a rule of Shari` ah concerning the mutual rights and duties enjoined upon men and women and explains the degree of their role. Important details of this very rule appear before this verse, and again, after the verse, through several sections.
The place of women in Islam
At this point, it seems pertinent to explain to some extent the status given by Islam to women. If understood in its full perspective, it will certainly lead to the conclusion that a just and moderate social system would not have required more than this.…
Read the full tafseer →249. Jurists disagree about the legal import of this verse. According to some, as long as a woman has not completed her third menstrual period repudiation will not have the effect of irrevocable divorce. This is the view of Abu Bakr, 'Umar, 'Ali, Ibn 'Abbas, Abu Musa al-Ash'arl, Ibn Mas'ud and several distinguished Companions of the Prophet. This is also the accepted doctrine of the Hanafi jurists. On the other hand, another group of jurists is of the view that, as soon as the third monthly period of a woman begins, the husband ceases to have the right to revoke the divorce. This is the view…
Read the full tafseer →