پھر فرمان ہے کہ اگر چار مہینے گزر جانے کے بعد وہ طلاق دینے کا قصد کرے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چار مہینے گزرتے ہیں طلاق نہیں ہوگی۔ جمہور متاخرین کا یہی مذہب ہے، گو ایک دوسری جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ بلا جماع چار ماہ گزرنے کے بعد طلاق ہوجائے گی۔ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت زید بن ثابت اور بعض تابعین سے بھی یہی مروی ہے لیکن یاد رہے کہ راجح قول اور قرآن کریم کے الفاظ اور صحیح حدیث سے ثابت شدہ قول یہی ہے کہ طلاق واقع نہ ہوگی (مترجم) پھر بعض تو یہ کہتے ہیں بائن ہوگی، جو لوگ طلاق پڑنے کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اسے عدت بھی گزارنی پڑے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 247
حضرات عثمان، ابن مسعود، زید بن ثابت وغیرہم کے نزدیک رجوع کا موقع چار مہینے کے اندر ہی ہے۔ اس مدت کا گزر جانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ شوہر نے طلاق کا عزم کرلیا ہے، اس لیے مدت گزرتے ہی طلاق خود بخود واقع ہوجائے گی اور وہ ایک طلاق بائن ہوگی، یعنی دوران عدت میں شوہر کو رجوع کا حق نہ ہوگا۔ البتہ اگر وہ دونوں چاہیں، تو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ حضرات عمر، علی، ابن عباس اور ابن عمر سے بھی ایک قول اسی معنی میں منقول ہے اور فقہائے حنفیہ نے اسی رائے کو قبول کیا ہے۔
سعید بن مُسَیِّب، مکحُول، زہری وغیرہ حضرات اس رائے سے یہاں تک تو متفق ہیں کہ چار مہینے کی مدت گزرنے کے بعد خود بخود طلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 22 ایلاء کا حکم
لِلَّذِيْنَ يُؤ ْلُوْنَ (الی قولہ) سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ یعنی جو لوگ (بلا قید مدت یا چار ماہ یا زائد مدت کے لئے) قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی بیبیوں کے پاس جانے سے ان کیلئے چار مہینے تک کی مہلت ہے سو اگر (ان چار مہینے کے اندر) یہ لوگ (اپنی قسم کو توڑ کر عورت کی طرف) رجوع کرلیں (تب تو نکاح باقی رہے گا اور) اللہ تعالیٰ (ایسی قسم کو توڑنے کا گناہ کفارہ سے) معاف کردیں گے (اور چونکہ اب بی بی کے حقوق ادا کرنے لگا اس پر) رحمت فرمادیں گے اور اگر بالکل چھوڑ ہی دینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے (اور اس لئے چار ماہ کے اندر قسم توڑ کر رجوع نہیں کیا) تو (چار ماہ گذرتے ہی قطعی طلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
تفسیر آیت 226 تا 227: ایلاء کے احکام : قسموں کے متعلق مذکورہ بالا تمہید کے بعد اب یہ ایک ایسا مسئلہ شرعی بیان ہو رہا ہے جس میں اصل عامل کی حیثیت قسم کو حاصل ہے۔ یہ مسئلہ ایلاء کا ہے۔“ ایلاء ”الا یالو سے باب افعال ہے۔ الا یالو کا اصل لغوی مفہوم کسی امر میں کوتاہی اور کمی کرنا ہے اور ایلاء کے معنی کسی چیز کے ترک کی قسم کھا لینے کے ہیں۔ یہ عرب جاہلیت کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم بیوی سے زن و شوہر کا تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا لینا ہے۔ چونکہ اس لفظ میں ترک کا مضمون خود موجود ہے اس وجہ سے قطع تعلق کے معنی کو ادا کرنے کے لیے کس اور لفظ کی اس کے ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں ہوئی۔
اس قِسم کی قسم چونکہ…
Read the full tafseer →227۔ 1 ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ چار مہینے گزرتے ہی از خود طلاق واقع نہیں ہوگی (جیسا کہ بعض علماء کا مسلک ہے۔ بلکہ خاوند کے طلاق دینے سے طلاق ہوگی جس پر عدالت بھی اسے مجبور کرے گی جیسا کہ جمہور علماء کا مسلک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
تشریح : عربوں میں یہ ظالمانہ طریقہ رائج تھا کہ وہ یہ قسم کھابیٹھتے تھے کہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائیں گے، نتیجہ یہ کہ بیوی غیر معین مدت تک لٹکی رہتی تھی، نہ اسے بیوی جیسے حقوق ملتے تھے اور نہ وہ کہیں اور شادی کرسکتی تھی، ایسی قسم کو ایلاء کہا جاتا ہے، اس آیت نے یہ قانون بنادیا کہ جو شخص ایلاء کرے وہ یا تو چار مہینے کے اندر اندر اپنی قسم توڑ کر کفارہ ادا کرے اور اپنی بیوی سے معمول کے ازدواجی تعلقات بحال کرلے، ورنہ چار مہینے تک اگر اس نے اپنی قسم نہ توڑی تو بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی، آیت میں جو کہا گیا ہے کہ“ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو ”اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ چار مہینے قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
قسم کے قاعدہ کلیہ کے بیان کے بعد اب مسئلہ ایلا کا بیان شروع ہوتا ہے ، جو قسم ہی ایک قسم ہے ۔ ایک خاوند قسم کھالے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائے گا ۔ یا محدود وقت کے لئے تو اس قسم کو شرعی اصطلاح میں ایلا کہا جاتا ہے۔ لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھابیٹھتے ہیں ان کے لئے چار مہینے کی مہلت ہے ۔ اگر انہوں نے رجوع کرلیا ، تو اللہ معاف کرنے والا رحیم ہے ۔ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو ، تو جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
1 یعنی اگر کوئی قسم کھائے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اگر چار مہینے کے اندر عورت کے پاس گیا تو قسم کا کفارہ دے گا اور عورت اس کے نکاح میں رہے گی اور اگر چار مہینے گزر گئے اور اس کے پاس نہ گیا تو عورت پر طلاق بائن ہوجائے گی۔
فائدہ ایلاء شرع میں اس کو کہتے ہیں کہ عورت کے پاس جانے سے چار مہینے زائد کے لیے یا بلا قید مدت قسم کھالے اور چار مہینے سے کم ایلاء نہ ہوگا، ایلاء کی تینوں صورتوں میں چار مہینے کے اندر عورت کے پاس جائے گا تو کفارہ قسم کا دینا پڑے گا ورنہ چار ماہ کے ختم پر بلا طلاق دئیے عورت مطلقہ بائنہ ہوجائے گی اور اگر چار مہینے سے کم پر قسم کھائے مثلاً قسم کھائی کہ تین مہینے…
Read the full tafseer →آیت 227 وَاِنْ عَزَمُوا الطَّلاَقَ فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۔
یعنی چار ماہ کا عرصہ گزر جانے پر شوہر کو بہرحال فیصلہ کرنا ہے کہ وہ یا تو رجوع کرے یا طلاق دے۔ اب عورت کو مزید معلقّ نہیں رکھا جاسکتا۔ رجوع کی صورت میں چونکہ قسم توڑنا ہوگی لہٰذا اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ حضرت عمر فاروق رض نے اپنے دور خلافت میں یہ حکم جاری کیا تھا کہ جو لوگ جہاد کے لیے گھروں سے دور گئے ہوں انہیں چار ماہ بعد لازمی طور پر گھر بھیجا جائے۔ آپ رض نے یہ حکم غالباً اسی آیت سے استنباط کرتے ہوئے جاری فرمایا تھا۔ اس کے لیے آپ رض نے اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ رض سے مشاورت بھی فرمائی تھی۔ اگرچہ آپ رض کا حضرت حفصہ رض سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
302 ایلاء (اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھانا) کی مدت چار ماہ ہے۔ مثلاً اگر کسی نے تین ماہ تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی تو یہ شرعاً ایلاء نہ ہوگا۔ اب آگے اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ تین ماہ کے اندر صحبت کرلی، تو اب اس پر قسم کا کفارہ دینا ہوگا اور اگر تین ماہ کے بعد کی تو نہ کفارہ ہے نہ طلاق اور چار ماہ گزر جائیں اور مرد رجوع نہ کرے تو طلاق واقع ہوجائے گی، اور بعض فقہاء کے نزدیک یہ معاملہ عدالت میں جائے گا اور طلاق عدالت کے ذریعہ ہوگی۔ (مزید تفصیل سورة مجادلہ میں دیکھئے)
Read the full tafseer →841 (اتنے دنوں کے غوروفکر کے بعد بھی) طلاق نام ہے زن وشوہر کے باہمی تعلق کے باضابطہ وکامل انقطاع کا۔ اسلام سے قبل دنیا میں طلاق سے متعلق عجب افراط وتفریط قائم تھی، افراط یہود کے ہاں تھی اور تفریط مسیحیوں کے ہاں۔ یہود کے ہاں نہ کوئی قید طلاق پر عائد تھی، نہ شوہر پر اس باب میں کوئی ذمہ داری تھی۔ اس کا جب جی چاہتا وجہ بلاوجہ، بس ایک طلاق نامہ لکھ کر بیوی سے چھٹکارا حاصل کرلیتا۔ بیوی اسی وقت دوسرا مرد کرسکتی تھی، توریت کے قانون کے الفاظ یہ ہیں :۔ اگر کوئی مرد کوئی عورت لے کے اس سے بیاہ کرے، اور بعد اس کے ایسا ہو کہ وہ اس کی نگاہ میں عزیز نہ ہو، اس سبب سے کہ اس نے اس میں سے کوئی پلید بات پائی، تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–228
آیت نمبر 226 تا 228
ترجمہ : اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ازدواجی تعلق نہ رکھنے کی قسم کھالیتے ہیں، تو ان کے لئے چار ماہ انتظار کی مدت ہے پس اگر اس مدت میں یا اس کے بعد وطی کی جانب قسم سے رجوع کرلیں تو اللہ تعالیٰ عورت کے اس نقصان کو معاد کرنے والے ہیں، جو انہوں نے اس قسم کے ذریعہ پہنچایا ہے اور ان پر رحم کرنے والے ہیں، اور اگر طلاق کا ہی کا پختہ ارادہ ہو بایں طور کہ وہ رجوع نہ کریں گے تو پھر طلاق ہی دیدیں، اللہ تعالیٰ ان کی بات کو سننے والا ہے اور ان کے عزم کو جاننے والا ہے مطلب یہ ہے کہ مذکورہ (مدت) انتظار کے بعد ان کے لئے صرف رجوع کرنے یا طلاق دینے کی صورت ہے اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو طلاق…
Read the full tafseer →وَاِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ ( اور اگر انہوں نے طلاق کا ارادہ کرلیا ہو) امام مالک امام شافعی امام احمد فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر چار مہینے کے بعد انہوں نے رجوع نہ کیا اور طلاق دینے کا ارادہ کرکے طلاق دے دی۔
فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ( تو بیشک اللہ سننے والا ہے ( انکے طلاق دینے کو) جاننے والا ہے) ( ان کی نیتوں کو) اور اسی تاویل کی بنا پر انہوں نے کہا ہے کہ محض چار مہینے گذر جانے سے طلاق نہیں پڑے گی بلکہ طلاق کا پڑنا طلاق دینے پر موقوف رہے گا کیونکہ اگر طلاق دینے پر موقوف نہ رہے اور فقط چار مہینے ختم ہوتے ہی طلاق پڑجائے تو اس کے طلاق کا ارادہ کرنے کے کوئی معنی نہ ہوں گے اور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
(226۔ 227) اور حضرات یہ قسم کھالیں کہ چار مہینے یا اس سے زیادہ تک بیوی کے پاس نہیں جائیں گے، پھر اپنی عورت سے ہمبستری کرنے کو چھوڑ دیں تو وہ چار ماہ تک انتظار کریں، پھر اگر وہ چار ماہ سے پہلے اپنی عورت سے صحبت کرلیں تو توبہ کرنے پر اللہ تعالیٰ ان کی قسم کے گناہ معاف کردے گا اور قسم کے کفارہ کو بھی اس نے بیان فرما دیا، اس کو ادا کردیں اور اگر طلاق کا پکا ارادہ کرلیں اور اپنی قسم پوری کردیں تو اللہ تعالیٰ اس قسم کو سننے والا ہے اور اس بات کو جاننے والا ہے کہ ان کی عورت چار ماہ کے گزرنے کے بعد ایک قطعی طلاق سے جدا ہوجائے گی۔
اور یہ حکم اس شخص کے بارے میں آیا ہے کہ جو اس بات کی قسم کھائے کہ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
صیغہ جمع مذکر غائب، باب افعال، مہموز الفاء اور ناقص یائی، ”آلٰی یُؤْلِیْ اِیْلَاءٌ“”أل ی“ اس کا مادہ ہے۔ ان دو آیتوں میں ”ایلاء“ کے معنی یہ ہیں کہ مرد قسم کھالے کہ وہ اپنی بیوی سے جماع نہیں کرے گا، پھر اگر یہ قسم چار ماہ یا اس سے کم مدت کے لیے کھائی ہو تو اسے اپنی قسم پوری کرنے کا اختیار ہے، اگر وہ مدت پوری کرکے اپنی بیوی سے تعلق قائم کرلے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا اور اگر اس مدت سے پہلے ہی تعلق بحال کرلے تو قسم کا کفارہ دینا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے قریب نہ جانے کی قسم کھائی تھی، مدت پوری ہونے پر آپ نے ان سے تعلق قائم فرما لیا۔ [ بخاری، النکاح، باب ھجرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
آیت نمبر : 226 تا 227۔
اس میں چوبیس مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” للذین یؤلون “۔ یولون کا معنی ہے وہ قسم اٹھاتے ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 302 دارالکتب العلمیہ) اور مصدر ایلاء، الیۃ، الوۃ اور الوۃ ہیں۔ حضرت ابی اور حضرت ابن عباس ؓ نے (آیت) ” للذین یقسمون “۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 302 دارالکتب العلمیہ) قرات کی ہے اور یہ بات جانی پہچانی ہے کہ یقسمون، یؤلون کی تفسیر ہے۔ اور للذین الوا بھی پڑھا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے۔ : الی یولی ایلاء اور تاتی تالیا اور ائتلی ائتلاء یعنی اس نے قسم کھائی۔ اور اسی میں سے ہے :
(آیت) ’ ولا یاتل اولو الفضل منکم “۔ (نور : 22)
ترجمہ…
Read the full tafseer →(1) عبد الرزاق، سعید بن منصور، ابن المنذر، ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا اگر وہ طلاق کا پختہ ارادہ کرلیں تو بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے۔ ” وان عزموا السراح “ (سراح یعنی طلاق)
(2) ابن جریر نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایلاء کے بارے میں فرمایا جب چار ماہ گزر جائیں تو اس پر کوئی چیز نہیں یہاں تک کہ توقف کیا جائے گا (اور) خاوند اس کو طلاق دے گا اس کو روکے رکھے گا۔
(3) شافعی، ابن جریر، بیہقی نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عثمان ؓ ایلاء کرنے والے کو روک لیتے تھے اور دوسرے لفظ میں وہ ایلاء شمار نہیں کرتے تھے اگرچہ چار ماہ گزر جاتے تھے…
Read the full tafseer →[ وَاِنْ : اور اگر ] [ عَزَمُوا : وہ لوگ پختہ ارادہ کریں ] [ الطَّلاَقَ : طلاق کا ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [ عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ]
ع ز م
عَزَمَ (ض) عَزْمًا : پختہ ارادہ کرنا۔ { فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط } (آل عمران :159) ” پھر جب آپ ﷺ پختہ ارادہ کرلیں تو بھروسہ کریں اللہ پر۔ “
عَزْمٌ (اسم ذات) : پختہ ارادہ ‘ ثابت قدمی۔ { فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔ } (آل عمران) ” تو یقینا یہ ثابت قدمی کے کاموں میں سے ہے۔ “
ط ل ق
طَلَقَ (ض) طَلْقًا : کسی کا بندھن کھولنا۔
طَلَاقٌ (اسم فعل) : نکاح کا بندھن کھولنا ‘ طلاق دینا ‘ آیت زیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کا بیان
جو کوئی شخص یہ قسم کھالے کہ میں اپنی بیوی سے جماع نہیں کروں گا۔ اس کے لیے شریعت میں کچھ احکام ہیں۔ اگر قسم کھا کر یوں کہا کہ اپنی بیوی سے جماع نہیں کروں گا لیکن کوئی مدت مقرر نہیں کی، یا یوں کہا کہ چار ماہ تک اس سے جماع نہیں کروں گا یا چار ماہ سے زیادہ کا ذکر کردیا (جس میں ہمیشہ کے لیے قسم کھانا بھی شامل ہے) یا چار مہینہ سے کم مدت مقرر کردی۔ تو ان سب صورتوں میں پہلی تین صورتوں کو ایلاء کہا جاتا ہے۔ ان تینوں صورتوں میں اگر چار مہینے گزر گئے اور اس نے قسم نہیں توڑی یعنی اس میں بیوی سے جماع نہیں کیا تو اس سے ایک بائن طلاق واقع ہوجائے گی۔ جس کا حکم یہ ہے کہ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
حکم بست ویکم۔ ایلاء۔
قال تعالی، للذین یولون من نساء ھم۔۔۔ الی۔۔۔ علیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں کچھ احکام عورتوں کے متعلق مذکور ہوئے اور کچھ احکام یمین یعنی قسم کے متعلق مذکور ہوئے آئندہ آیت میں ایک خاص قسم کی یمین یعنی خاص قسم کی قسم کا ذکر فرماتے ہیں جو عورتوں سے متعلق ہے یعنی ایلاء، اس میں دونوں باتیں جمع ہیں یا یوں کہو کہ ایلا ایک خاص قسم کی یمین ہے جس کے احکام علیحدہ ہے اس لیے ایلاء کا حکم علیحدہ بیان فرمایا یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا کہ اگر بر اور تقوی اور اصلاح کرنے کے لیے قسم کو توڑا جائے اور کفارہ ادا کردیا جائے تو اس پر اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں اس آیت میں یہ…
Read the full tafseer →447 اور اگر وہ اپنی بیویوں کو چھوڑنے اور انہیں طلاق دینے ہی کا عزم کرلیں تو بھی اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو خوب سنتا اور ان کی نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک مدت ایلاء کے بعد تفریق کے لئے قاضی کی ضرورت ہے۔ مگر امام ابوحنیفہ کے نزدیک تفریق کے لئے قاضی کی ضرورت نہیں بلکہ چار ماہ گذرنے پر خود بخود طلاق واقع ہوجائے گی۔ کما ھو منقول عن عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان وزید بن ارقم وابن مسعود ؓ رواہ الامام محمد بن الحسن (رح) فی المؤطا ص 263 آگے چار امور انتظامیہ کا ذکر فرمایا ہے۔ (1) طلاق (2) عدت (3) رضاعت اور (4) نکاح۔ ایلاء کے ذکر میں چونکہ طلاق کا ذکر آگیا۔ اس لیے اس مناسبت سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 227–228
ربط آیات
گزشتہ درس میں قسم کے متعلق بیان تھا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایلاء کا مسئلہ بیان فرمایا ایلاء سے مراد عورت سے عدم مقاربت کی قسم کھانا ہے اور اس کی مدت زیادہ سے زیادہ چار ماہ رکھی گئی ہے۔ اگر خاوند اس دوران رجوع کرے لے تو قسم کفارہ ادا کر دے اور اگر چار ماہ کی مدت پوری ہوگئی تو عورت پر ایک طلاق بائن پڑ جائیگی۔ تاہم بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ طلاق خود بخود واقع نہیں ہوگی بلکہ ایلاء کرنے والے کو عدالت میں طلب کر کے رجوع یا طلاق کا فیصلہ کیا جائے گا۔
نکاح اور طلاق
نکاح اور طلاق کے مسائل اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں بیان فرمائے ہیں ، خصوصاً سورة احزاب ، طلاق اور اس…
Read the full tafseer →وَاِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللہَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 227
عزم
العَزْمُ والعَزِيمَةُ : عقد القلب علی إمضاء الأمر، يقال : عَزَمْتُ الأمرَ ، وعَزَمْتُ عليه، واعْتَزَمْتُ. قال : فَإِذا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ [ آل عمران/ 159] ، وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكاحِ [ البقرة/ 235] ، وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ [ البقرة/ 227] ، إِنَّ ذلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ [ الشوری/ 43] ، وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ، أي : محافظة علی ما أمر به وعَزِيمَةً علی القیام
( ع ز م ) العزم
والعزیمۃ کسی کام کو قطعی اور حتمی طور پر کرنے کا ارادہ کرنا عزمت الامر وعزمت علیہ واعتزمت میں نے اس کام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
ترکیب : ان تبروا موضع نصب میں ہے ای مخالفۃ ان تبروا اور اہل کوفہ کہتے ہیں لئلا تبروتقدیر ہے ‘ فی ایمانکم متعلق ہے باللغو سے اور جائز ہے کہ حال ہو اس سے تقدیرہ باللغو کائنا فی ایمانکم بماکسبت مامصدر یہ ہے للذین صلہ و موصول ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے تربص الخ کی فان فاؤ ای رجعوا شرط فان اللّٰہ الخ جواب وقس علیہ۔
تفسیر : قسم کے مسائل : از آنجملہ بےموقع قسم کھانا ہے اور قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنانا اور بیوی جیسی جلیس سے جس پر معاشرت و تمدن مربوط ہے کسی بات پر خفا ہو کر اس کے پاس جانے کی قسم کھا بیٹھنا بہت مروج ہے۔ اس لیے اس مسئلہ کو بھی مسئلہ مناکحت کے بعد طے کردیا۔ لوگوں میں یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِّاَیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَـتَّـقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَلٰـکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔
(اللہ کو اپنی قسموں کی رکاوٹ نہ بنائو کہ تم احسان نہیں کرو گے یا حدود الٰہی کا احترام نہیں کرو گے یا لوگوں کے درمیان صلح نہیں کرائو گے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں پکڑے گا تمہاری لایعنی قسموں پر۔ لیکن تمہیں پکڑے گا ان قسموں پر جن کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہے۔ اللہ بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
فہم القرآن
ربط کلام : میاں بیوی کے درمیان کسی مسئلہ میں تکرار ہوجائے تو بسا اوقات معاملہ بحث و تکرار سے بڑھ کر قسم تک پہنچ جاتا ہے لہٰذا جذباتی قسم کے بارے میں رعایت دی گئی ہے۔
ازدواجی وعائلی مسائل کے دوران قسم کے مسئلہ کی وضاحت اس لیے ضروری سمجھی گئی کہ اس زمانے میں اور آج بھی باہمی مخالفت یا طیش میں آکر لوگ قسم اٹھا لیتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ اتنے دن کلام سے اجتناب، بائیکاٹ یا فلاں کام نہیں کروں گا۔ حالانکہ اس موقع پر قسم اٹھانا مناسب بات نہیں ہوتی۔ جہاں تک بیوی سے ایلاء یعنی بائیکاٹ کا معاملہ ہے اس فرمان میں ایلاء کی آخری مدت چار ماہ مقرر کردی گئی۔ خاوند کو اس کے بعد رجوع کرنا یا…
Read the full tafseer →آیت 227:
وَاِنْ عَزَمُوا الطَّـلَاقَ ۔ (اگر انہوں نے طلاق کا ارادہ کرلیا) رجوع کو ترک کر کے پس وہ مدت کے اختتام کا انتظار کریں۔
فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ۔ (پس اللہ سننے والا ہے) اس کی قسم والی بات کو۔
قولِ شافعی m :
عَلِیْمٌ۔ (اور جاننے والا ہے) اس کی نیت کو۔ دراصل یہ جملہ اصرار علی القسم ترک رجوع پر وعید ہے امام شافعی (رح) کے ہاں
اس کا معنی یہ ہے پس اگر وہ رجوع کرلیں مدت کے گزرنے کے بعد گویا رجوع مدت کے گزرنے کے بعد ہے کیونکہ فاء تعقیب مع الوصل کے لئے ہے۔
شاندار جواب :
جواب : مگر اس کا جواب یہ ہے فان فاء و وان عزموا درحقیقت للذین یؤلون من نساء ہم کی تفصیل ہے۔ اور تفصیل مفصل کے بعد آتی ہے۔…
Read the full tafseer →(تفسیر) 227۔:
(آیت)” وان عزموا الطلاق “ طلاق کو واقع کرکے متحقق کردیا (آیت)” فان اللہ سمیع “ (سننے والا) ان کی بات کو (علیم) (جاننے والا ہے) ان کی نیتوں کو اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ مدت کے گزرنے کے، بعد بھی طلاق واقع نہ ہوگی ، جب تک کہ اس کو اس کا خاوند طلاق نہ دے کیونکہ اس میں عزم کی شرط کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت)” فان اللہ سمیع علیم “ پس اللہ تعالیٰ کے اس قول نے دلالت کی کہ بیشک وہ ” مسموع “ (سنی ہوئی بات) کا فیصلہ کرتا ہے اور قول ہی وہ چیز ہے جو سنا جاتا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
(226 ۔ 227) ۔ اسلام سے پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ جو شخص اپنی بی بی سے کسی بات پر خفا ہوجاتا تھا تو کوئی برس دو برس کے لیے اور کوئی ہمیشہ کے لئے اس عورت کے پاس آنے کی اس سے بات چیت کرنے کی قسم کھالیا کرتا تھا مطلب اس سے عورتوں کو ستانا اور ان کو تنگ کرنا ہوتا تھا کہ عورت دوسرے سے نکاح بھی نہ کرسکے اور یہاں بھی خاوند کی صحبت کو ترستی رہے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے بعد اس طریقہ کو بند فرمانے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اب چار مہینہ کی مدت سے بڑھ کر یہ قسم جس کو ایلاء کہتے ہیں جائز نہیں ہے۔ اگر کسی نے زیادہ مدت کی قسم کھائی بھی تو قاضی چار مہینے کے بعد یا ملاپ کرا دے گا یا طلاق دلا دے گا۔ 2۔ اب رہا…
Read the full tafseer →یہ قسم کسی خاص معاملے میں صرف بیوی کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ بیوی کے ساتھ مطلق طور پر یا چار مہینے یا اس سے بھی زیادہ کی قید کے ساتھ جماع نہ کرنے کی قسم ہے۔ پس جو کوئی اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھاتا ہے۔ اگر یہ قسم چار ماہ سے کم مدت کے لئے ہے تو یہ عام قسموں میں شمار ہوگی۔ اگر وہ قسم توڑے گا، تو اس کا کفارہ ادا کرے گا اور اگر وہ اپنی قسم پوری کرتا ہے، تو اس پر کوئی چیز نہیں اور اس کی بیوی کو اس کے خلاف چارہ جوئی کرنے کا کوئی اختیار نہیں، کیونکہ اس کی بیوی چار ماہ تک اس کی ملک ہے اور اگر اس نے ہمیشہ کے لئے اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی یا قسم کا عرصہ چار ماہ سے زیادہ ہے، ایسی صورت…
Read the full tafseer →قول باری ہے وان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم۔ اور اگر وہ طلاق کی ہی ٹھان لیں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے) ۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ طلاق کی ٹھان لینے کے متعلق جبکہ وہ رجوع نہ کرے، سلف کا اختلاف درج ذیل ہے حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ چار ماہ گزر جانا عزیمت طلاق ہے یعنی یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اس نے طلاق کی ٹھان لی ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت زید بن ثابت ؓ اور حضرت عثمان ؓ کا یہی قول ہے۔ ان سب نے فرمایا ہے کہ مدت گزرنے کے ساتھ ہی اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی یعنی وہ عدت کے دوران رجوع نہیں کرسکے گا البتہ عدت کے بعد اس سے نکاح کرسکے گا حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت…
Read the full tafseer →629 " اِیلائ " پر قائم رہنے والوں کا حکم : کہ وہ اپنی قسم پر ہی قائم رہے، نہ انہوں نے رجوع کیا، اور نہ ہی قسم توڑی، تو چار ماہ کی یہ مدت گزرتے ہی ان پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائیگی، جس کے بعد اس بیوی کو اپنے عقد زوجیت میں رکھنے کیلئے اس کو تجدید نکاح کی ضرورت ہوگی کہ وہ اس کے حبالہ عقد سے بہرحال نکل گئی۔ سو ایسے لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اللہ سے ڈریں کہ وہ سمیع وعلیم ہے جو ان کے " ایلاء " اور ان کی قسموں کو بھی سنتا ہے، اور ان کے دلوں کی نیتوں اور ان کے مخفی ارادوں کو بھی جانتا ہے۔ اس کی گرفت و پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ اس لیے ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صاف اور صحیح رکھنے کی ضرورت ہے۔ وباللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
طلاق کے بارے میں
تشریح : ” یُؤْلُوْنَ “ اس کا مطلب ہے بیوی سے جدا رہنے کی قسم کھانا، عربوں میں رواج تھا کہ جب دل کیا شوہر ایلا کرلینے کے بعد بیوی کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہوجاتا۔ یعنی ایک طرح سے طلاق ہی ہوجاتی تھی۔ اسلام نے اس دستور میں تبدیلی کردی اور یہ بتایا کہ یہ فیصلہ طلاق ظاہر نہیں کرتا، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ سوچ بچار کرلی جائے اور اس کے لیے چار ماہ کی مدت مقرر کردی گئی ہے اس دوران شوہر اگر نیک نیتی سے فیصلہ کرتا ہے کہ گزارہ ہوسکتا ہے تو ٹھیک ہے، قسم کا کفارہ ادا کرکے بیوی سے صلح صفائی کرلی جائے اس سارے معاملہ میں اگر صاف ارادے اور خلوص سے مسئلہ طے کیا جائے تو اللہ بڑا مہربان ہے بےحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–229
آیات 222- 228
اسرارو معارف
صحبت کا احکام :
اور جب رشتہ ازدواج یا نکاح کا ذکر ہو تو یقینا سوال عورت سے قربت کا بھی پیدا ہوگا اور اس میں عورت کی حالت کو بھی دخل ہے کہ حالت حیض میں صحبت کرنے کا کیا حکم ہے ؟ تو فرمادیجئے کہ حیض گندگی کی چیز ہے اس حالت میں عورت کے ساتھ صحبت نہ کرو تاآنکہ وہ پاک ہوجائیں تو اس جگہ سے صحبت کرو جس جگہ سے اللہ نے صحبت کرنے کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی جگہ سے۔ اور یہ بات یادرکھو کہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے یعنی غلبہ شہوت سے ناپاکی میں صحبت کے مرتکب ہوئے تو خوب توبہ کرو اور اللہ سے بخشش چاہو اور ہوسکے تو صدقہ بھی کرو کہ توبہ کی بہترین صورت ہے اللہ پاک صاف رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 227–228
ف 3 مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی خاوند جماع کے بعد اپنی عورت کو طلاق دے اور اسے حیض نہ آتا ہو تو اس کے لیے عدت تین ماہ ہے اور اگر حاملہ ہو تو وضح حمل۔ (دیکھئے سورت الطلاق آیت 4) اگر جماع سے پہلے ہی طلاق ہوجائے تو اس پر کوئی عدت نہیں ہے۔ (دیکھئے آیت 237) پس اس آیت میں المطلقات سے ان عورتوں کو عدت کا بیان کرنا مقصو ہے جن سے خاوند صحبت کرچکے ہیں اور ہو حاملہ نہ ہوں اور ان کو حیض بھی آتا ہو تو ان کی عدت تین طہر یا تین حیض ہے۔ ابن کثیر۔ شوکانی) قردء کا لفظ جمع ہے اور اس کا واحد قوء ہے اور یہ طہر اور حیض دونوں پر بو لا جاتا ہے گو از روئے دلائل اول حج ہیں مگر فتوی دونوں پر صحیح ہے۔ (سلسلئہ بیان لیے…
Read the full tafseer →(2:227) وان عزموا الطلاق۔ جملہ شعرطیہ ہے ضمیر فاعل۔ عزموا کا مرجع وہ لوگ ہیں جنہوں نے عورتوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھا رکھی تھی۔ عزموا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ عزم (باب ضرب) مصدر پختہ ارادہ کرلینا۔ اور اگر انہوں نے طلاق کا ہی پختہ ارادہ کرلیا ہے فان اللہ سمیع علیم جواب شرط (تو یاد رکھو) اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے (یعنی ان کے قول و فعل اور نیت سے بخوبی واقف ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–228
لغات القرآن : آیت نمبر 226 تا 228
یؤلون (وہ قسم کھاتے ہیں) ۔ تربص (رکنا ہے، انتظار کرنا ہے) ۔ اربعۃ اشھر (چار مہینے) ۔ فاء و (باہم مل گئے، پلٹ گئے) ۔ عزموا (انہوں نے ارادہ کرلیا) ۔ المطلقت (طلاق والی عورتیں) ۔ یتربصن (انتظار کریں گی) ۔ ثلثہ (تین ) ۔ قروء (حیض) ۔ لا یحل (حلال نہیں ہے) ۔ ان یکتمن (یہ کہ وہ چھپائیں) ۔ خلق اللہ (اللہ نے پیدا کیا) ۔ ارحام (رحم ، عورتوں کے رحم) ۔ بعولۃ (شوہر) ۔ احق (زیادہ حقدار) ۔ بردھن (ان کو لوٹا لینے کے) ۔ ارادوا (انہوں نے ارادہ کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 226 تا 228
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے زن و شوہر کے تعلقات نہ رکھنے کی قسم کھالے تو اس کو شریعت میں ایلاء کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
اسباب نزول : اسلام سے پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ جو شخص اپنی بی بی سے خفا ہوجاتا تھا تو اس کو تنگ کرنے کے کی غرض سے قسم کھالیا کرتا تھا کہ میں اتنے عرصہ تک بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔ اس چار مہینہ کی مدت سے بڑھ کر یہ قسم جس کو ایلاء کہتے ہیں، جائز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 227–228
[157] زمانہ جاہلیت میں عربوں کا ایک شعار یہ بھی تھا کہ شوہر غصہ میں آکر قسم کھا بیٹھتے تھے کہ اپنی بیویوں سے ہم بستری نہ کریں گے۔ شرعی اصطلاح میں اس کو ایلاء کہتے ہیں۔ ایسے بگاڑ کے لئے اللہ تعالیٰ نے چار مہینے کی مدت مقرر کردی کہ یا تو اس دوران میں رجوع کرلو ورنہ رشتہ ازدواج منقطع کردو تاکہ عورت آزاد ہو کر جس سے چاہے نکاح کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 227–228
مطلقہ اور اس کی عدت :
(ف 2) اسلام نے جہاں عورت کی عزت و حرمت کا جائز اعتراف کیا ہے وہاں اس نے اس کی نفسیات کا بھی گہرا مطالعہ کیا ہے اور جو بات کہی ہے وہ عین فطرت نسوانی کے لئے مفید ہے ، مثلا طلاق اصولا دونوں دونوں طرف سے ہو سکتا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے سے اس درجہ شکایت ہو سکتی ہے کہ وہ علیحدہ ہوجانے پر مجبور ہوں ، مگر عورت از خود اس کی مجاز نہیں اور یہ اس لئے کہ عورت فطرتا عقل سے جذبات کی زیادہ تابع ہوتی ہے ، اسے اگر طلاق وتخلی کے اختیارات دے دیئے جائیں تو وہ اپنی زندگی نہایت تکلیف میں بسر کرے اور تلخ کرلے ۔ وہ لوگ جنہوں نے اسلامی نظام طلاق کا مطالعہ نہیں کیا ، معترض ہیں کہ دیکھئے اسلام نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
ف 3۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلا کرلیں یعنی ان سے ہم بستر ہونے کی قسم کھا لیں تو ان کے لئے چار مہینے انتظار کی مہلت ہے ، لہٰذا یہ ایلا کرنے والے مرد اگر رجوع کرلیں اور قسم توڑ کر اپنی بیویوں سے ہم بستر ہوجائیں تو یقین جانو ! اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کا مالک ہے ، کفارہ ادا کرنے سے قسم توڑنے کا گناہ معاف کر دے گا اور بڑی رحمت والا ہے۔ عورت کو ایلا سے جو تکلیف پہنچائی ہے رجوع کرلینے سے تم پر مہربانی فرمائے گا اور اگر یہ لوگ عورتوں کو طلاق دینے ہی کا پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ سب سننے والا اور سب باتوں کا جاننے والا ہے ۔ تمہاری قسموں کو سنتا ہے اور تمہارے دل کے ارادہ کو جانتا ہے۔ ( تیسیر)
تربص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
ف 5۔ اگر کوئی قسم کھالے کہ اپنی بی بی سے صحبت نہ کروں گا تو اگر چار ماہ کے اندر اپنی قسم توڑ ڈالے اور بی بی کے پاس چلا جائے تو قسم کا کفارہ ہے اور نکاح باقی ہے اگر چار ماہ گزرگئے اور بی بی کے پاس نہ گیا تو اس عورت پر طلاق قطعی پڑجائے گی اور رجوع کرنا درست نہیں رہا ہاں اگر دونوں رضامندی سے دوبارہ نکاح کرلیں تو درست ہے۔
Read the full tafseer →اگر طلاق کا پختہ ارادہ کرلیا ہے تو بات کو واضح کردینا چاہئے :
384: طلاق نام ہے میاں بیوی کے باہمی تعلقات کے باضابطہ اور کامل انقطاع کا ۔ اسلام سے قبل دنیا میں طلاق سے متعلق عجب افراط وتفریط قائم تھی۔ افراط یہود کے ہاں تھی اور تفریط مسیحیوں کے ہاں۔ یہود کے ہاں نہ کوئی قید طلاق پر عائد تھی نہ شوہر پر اس باب میں کوئی ذمہ داری تھی۔ اس کا جب جی چاہتا وجہ بلاوجہ بس ایک طلاق نامہ لکھ کر بیوی سے چھٹکارا حاصل کرلیتا اور بیوی بھی اسی وقت دوسرا خاوند کرسکتی تھی۔ توریت کے قانون کے الفاظ یہ ہیں : ” اگر کوئی مرد کوئی عورت لے کر اس سے بیاہ کرے اور بعد اس کے ایسا ہو کہ وہ اس کی نگاہ میں عزیز نہ ہو اس سبب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
Note:
If someone takes an oath that he will not have sexual intercourse with his wife, the case has four situations:
(A) No time-limit was fixed.
(B) A time-limit of four months was fixed.
(C) A time-limit of more than four months was fixed.
(D) The limit was identified as less than four months.
So, situations A, B and C are termed in Shari` ah as 'Ild' (ایلاء ). The injunction covering these situations is: If the oath-taker breaks his oath within four months and resumes sexual intercourse with his wife, he will have to come up with kaffarah کَفَّارہ for his oath while his nikah (marriage)…
Read the full tafseer →247. According to 'Uthman, Ibn Mas'ud, Zayd ibn Thabit and others the limit for the restoration of matrimonial relations is four months. The mere termination of that period proves that the husband has decided to repudiate the marriage and so divorce automatically ensues. It will be reckoned as an irrevocable (ba'in) repudiation. This means that separation between the spouses will come into force and the husband will not have the right to revoke it during the period of waiting ('iddah) . The two parties will, however, have the right to recontract marriage by mutual consent. Statements from…
Read the full tafseer →