ایلاء اور اس کی وضاحت :
ایلاء کہتے ہیں قسم کو۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرنے کی ایک مدت تک کیلئے قسم کھالے تو دو صورتیں، یا وہ مدت چار مہینے سے کم ہوگی یا زیادہ ہوگی، اگر کم ہوگی تو وہ مدت پوری کرے اور اس درمیان عورت بھی صبر کرے، اس سے مطالبہ اور سوال نہیں کرسکتی، پھر میاں بیوی آپس میں ملیں جلیں گے، جیسے کہ بخاری صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ماہ کیلئے قسم کھالی تھی اور انتیس دن پورے الگ رہے اور فرمایا کہ مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے اور اگر چار مہینے سے زائد کی مدت کیلئے قسم کھائی ہو تو چار ماہ بعد عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ تقاضا اور مطالبہ کرے کہ یا تو وہ میل ملاپ کرلے یا…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 245
اصطلاح شرع میں اس کو ایلاء کہتے ہیں۔ میاں اور بیوی کے درمیان تعلقات ہمیشہ خوش گوار تو نہیں رہ سکتے۔ بگاڑ کے اسباب پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن ایسے بگاڑ کو خدا کی شریعت پسند نہیں کرتی کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ قانونی طور پر رشتہ ازدواج میں تو بندھے رہیں، مگر عملاً ایک دوسرے سے اس طرح الگ رہیں کہ گویا وہ میاں اور بیوی نہیں ہیں۔ ایسے بگاڑ کے لیے اللہ تعالیٰ نے چار مہینے کی مدت مقرر کردی کہ یا تو اس دوران میں اپنے تعلقات درست کرلو، ورنہ ازدواج کا رشتہ منقطع کردو تاکہ دونوں ایک دوسرے سے آزاد ہو کر جس سے نباہ کرسکیں، اس کے ساتھ نکاح کرلیں۔
آیت میں چونکہ ”قسم کھالینے“ کے الفاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 22 ایلاء کا حکم
لِلَّذِيْنَ يُؤ ْلُوْنَ (الی قولہ) سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ یعنی جو لوگ (بلا قید مدت یا چار ماہ یا زائد مدت کے لئے) قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی بیبیوں کے پاس جانے سے ان کیلئے چار مہینے تک کی مہلت ہے سو اگر (ان چار مہینے کے اندر) یہ لوگ (اپنی قسم کو توڑ کر عورت کی طرف) رجوع کرلیں (تب تو نکاح باقی رہے گا اور) اللہ تعالیٰ (ایسی قسم کو توڑنے کا گناہ کفارہ سے) معاف کردیں گے (اور چونکہ اب بی بی کے حقوق ادا کرنے لگا اس پر) رحمت فرمادیں گے اور اگر بالکل چھوڑ ہی دینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے (اور اس لئے چار ماہ کے اندر قسم توڑ کر رجوع نہیں کیا) تو (چار ماہ گذرتے ہی قطعی طلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
تفسیر آیت 226 تا 227: ایلاء کے احکام : قسموں کے متعلق مذکورہ بالا تمہید کے بعد اب یہ ایک ایسا مسئلہ شرعی بیان ہو رہا ہے جس میں اصل عامل کی حیثیت قسم کو حاصل ہے۔ یہ مسئلہ ایلاء کا ہے۔“ ایلاء ”الا یالو سے باب افعال ہے۔ الا یالو کا اصل لغوی مفہوم کسی امر میں کوتاہی اور کمی کرنا ہے اور ایلاء کے معنی کسی چیز کے ترک کی قسم کھا لینے کے ہیں۔ یہ عرب جاہلیت کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم بیوی سے زن و شوہر کا تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا لینا ہے۔ چونکہ اس لفظ میں ترک کا مضمون خود موجود ہے اس وجہ سے قطع تعلق کے معنی کو ادا کرنے کے لیے کس اور لفظ کی اس کے ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں ہوئی۔
اس قِسم کی قسم چونکہ…
Read the full tafseer →226۔ 1 یعنی کوئی شوہر اگر قسم کھالے کہ اپنی بیوی سے ایک مہینہ یا دو مہینے تعلق نہیں رکھوں گا پھر قسم کی مدت پوری کر کے تعلق قائم کرلیتا ہے تو کوئی کفارہ نہیں ہاں اگر مدت پوری ہونے سے قبل تعلق قائم کرے گا کفارہ قسم ادا کرنا پڑے گا اور اگر چار مہینے سے زیادہ مدت کے لئے یا مدت مقرر کئے بغیر قسم کھاتا ہے تو اس آیت میں ایسے لوگوں کے لئے مدت کا تعین کردیا گیا ہے کہ وہ چار مہینے گزرنے کے بعد یا تو بیوی سے تعلق قائم کرلیں یا پھر اسے طلاق دے دیں پہلی صورت میں اسے کفارہ قسم ادا کرنا ہوگا اگر دونوں میں سے کوئی صورت اختیار نہیں کرے گا تو عدالت اسکو دونوں میں سے کسی ایک بات کے اختیار کرنے پر مجبور کرے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
تشریح : عربوں میں یہ ظالمانہ طریقہ رائج تھا کہ وہ یہ قسم کھابیٹھتے تھے کہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائیں گے، نتیجہ یہ کہ بیوی غیر معین مدت تک لٹکی رہتی تھی، نہ اسے بیوی جیسے حقوق ملتے تھے اور نہ وہ کہیں اور شادی کرسکتی تھی، ایسی قسم کو ایلاء کہا جاتا ہے، اس آیت نے یہ قانون بنادیا کہ جو شخص ایلاء کرے وہ یا تو چار مہینے کے اندر اندر اپنی قسم توڑ کر کفارہ ادا کرے اور اپنی بیوی سے معمول کے ازدواجی تعلقات بحال کرلے، ورنہ چار مہینے تک اگر اس نے اپنی قسم نہ توڑی تو بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی، آیت میں جو کہا گیا ہے کہ“ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو ”اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ چار مہینے قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
قسم کے قاعدہ کلیہ کے بیان کے بعد اب مسئلہ ایلا کا بیان شروع ہوتا ہے ، جو قسم ہی ایک قسم ہے ۔ ایک خاوند قسم کھالے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائے گا ۔ یا محدود وقت کے لئے تو اس قسم کو شرعی اصطلاح میں ایلا کہا جاتا ہے۔ لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھابیٹھتے ہیں ان کے لئے چار مہینے کی مہلت ہے ۔ اگر انہوں نے رجوع کرلیا ، تو اللہ معاف کرنے والا رحیم ہے ۔ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو ، تو جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
1 یعنی اگر کوئی قسم کھائے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اگر چار مہینے کے اندر عورت کے پاس گیا تو قسم کا کفارہ دے گا اور عورت اس کے نکاح میں رہے گی اور اگر چار مہینے گزر گئے اور اس کے پاس نہ گیا تو عورت پر طلاق بائن ہوجائے گی۔
فائدہ ایلاء شرع میں اس کو کہتے ہیں کہ عورت کے پاس جانے سے چار مہینے زائد کے لیے یا بلا قید مدت قسم کھالے اور چار مہینے سے کم ایلاء نہ ہوگا، ایلاء کی تینوں صورتوں میں چار مہینے کے اندر عورت کے پاس جائے گا تو کفارہ قسم کا دینا پڑے گا ورنہ چار ماہ کے ختم پر بلا طلاق دئیے عورت مطلقہ بائنہ ہوجائے گی اور اگر چار مہینے سے کم پر قسم کھائے مثلاً قسم کھائی کہ تین مہینے…
Read the full tafseer →آیت 226 لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآءِہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍ ج۔
اگر کوئی مرد کسی وقت ناراض ہو کر یا غصے میں آکر یہ قسم کھالے کہ اب میں اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا ‘ اس سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا ‘ تو یہ ایلاء کہلاتا ہے۔ خود آنحضور ﷺ نے بھی اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء فرمایا تھا۔ ازواج مطہرات نے عرض کیا تھا کہ اب عام مسلمانوں کے ہاں بھی خوشحالی آگئی ہے تو ہمارے ہاں یہ تنگی اور سختی کیوں ہے ؟ اب ہمارے بھی نفقات بڑھائے جائیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے ایلاء کیا۔ اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ عام طور پر ہوتا یہ تھا کہ لوگ قسم تو کھا بیٹھتے تھے کہ بیوی کے پاس نہ جائیں گے ‘ مگر بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
302 ایلاء (اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھانا) کی مدت چار ماہ ہے۔ مثلاً اگر کسی نے تین ماہ تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی تو یہ شرعاً ایلاء نہ ہوگا۔ اب آگے اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ تین ماہ کے اندر صحبت کرلی، تو اب اس پر قسم کا کفارہ دینا ہوگا اور اگر تین ماہ کے بعد کی تو نہ کفارہ ہے نہ طلاق اور چار ماہ گزر جائیں اور مرد رجوع نہ کرے تو طلاق واقع ہوجائے گی، اور بعض فقہاء کے نزدیک یہ معاملہ عدالت میں جائے گا اور طلاق عدالت کے ذریعہ ہوگی۔ (مزید تفصیل سورة مجادلہ میں دیکھئے)
Read the full tafseer →839 ۔ ایلاء۔ عرب جاہلی کا ایک شعار یہ بھی تھا، کہ شوہر غصہ میں آکر قسم کھا بیٹھتے تھے کہ اپنی بیویوں سے ہمبستری نہ کریں گے، اصطلاح میں اس کو ایلاء کہتے، لاخلاف انہ قداضمرت فیہ الیمین علی ترک الجماع (جصاص) شریعت اسلامی نے اس میں جو اصلاحیں کیں، اور اس باب میں جو احکام دیئے یہاں ان کا ذکر ہے (آیت) ” تربص اربعۃ اشھر “ عرب جاہلی ایلاء کرلینے کے بعد، جو ایک طرح کی طلاق ہی تھی، بیوی کے نان ونفقہ اور ہر قسم کے ادائے حقوق سے معادستبردار ہوجاتے تھے۔ اسلام نے اس کی ایک اصلاح یہ کی کہ اس کو خلع نکاح یا فسخ نکاح کا مرادف نہیں، بلکہ اس کی صرف تمہید قرار دے کر غور وفکر کے لیے ایک مدت مقرر کردی، اور پھر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–228
آیت نمبر 226 تا 228
ترجمہ : اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ازدواجی تعلق نہ رکھنے کی قسم کھالیتے ہیں، تو ان کے لئے چار ماہ انتظار کی مدت ہے پس اگر اس مدت میں یا اس کے بعد وطی کی جانب قسم سے رجوع کرلیں تو اللہ تعالیٰ عورت کے اس نقصان کو معاد کرنے والے ہیں، جو انہوں نے اس قسم کے ذریعہ پہنچایا ہے اور ان پر رحم کرنے والے ہیں، اور اگر طلاق کا ہی کا پختہ ارادہ ہو بایں طور کہ وہ رجوع نہ کریں گے تو پھر طلاق ہی دیدیں، اللہ تعالیٰ ان کی بات کو سننے والا ہے اور ان کے عزم کو جاننے والا ہے مطلب یہ ہے کہ مذکورہ (مدت) انتظار کے بعد ان کے لئے صرف رجوع کرنے یا طلاق دینے کی صورت ہے اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو طلاق…
Read the full tafseer →لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ ( جو لوگ اپنی بیویوں ( کے پاس جانے) سے قسم کھا بیٹھتے ہیں) یعنی یہ حلف کرلیتے ہیں کہ ہم ان سے مجامعت نہ کریں گے۔ اٰلَیْتُہ کے معنی قسم کے ہیں اور اس کا تعدیہ علیٰ سے ہوتا ہے لیکن جب یہ دوری کے معنی کو متضمن ہوتا ہے تو اس کا تعدیہ مِن سے کردیا جاتا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں ایلاء اہل جاہلیت کی طلاق تھی۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایلاء اہل جاہلیت کا ستانا تھا جب کسی کو اپنی بیوی سے محبت نہ ہوتی تھی اور نہ وہ یہ چاہتا تھا کہ دوسرا اس سے نکاح کرے تو وہ یہ قسم کھا لیتا تھا کہ میں کبھی اس کے نزدیک نہ جاؤں گا اس کو اس طرح چھوڑے رکھتا تھا کہ وہ نہ بیوہ ہوتی تھی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
(226۔ 227) اور حضرات یہ قسم کھالیں کہ چار مہینے یا اس سے زیادہ تک بیوی کے پاس نہیں جائیں گے، پھر اپنی عورت سے ہمبستری کرنے کو چھوڑ دیں تو وہ چار ماہ تک انتظار کریں، پھر اگر وہ چار ماہ سے پہلے اپنی عورت سے صحبت کرلیں تو توبہ کرنے پر اللہ تعالیٰ ان کی قسم کے گناہ معاف کردے گا اور قسم کے کفارہ کو بھی اس نے بیان فرما دیا، اس کو ادا کردیں اور اگر طلاق کا پکا ارادہ کرلیں اور اپنی قسم پوری کردیں تو اللہ تعالیٰ اس قسم کو سننے والا ہے اور اس بات کو جاننے والا ہے کہ ان کی عورت چار ماہ کے گزرنے کے بعد ایک قطعی طلاق سے جدا ہوجائے گی۔
اور یہ حکم اس شخص کے بارے میں آیا ہے کہ جو اس بات کی قسم کھائے کہ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
صیغہ جمع مذکر غائب، باب افعال، مہموز الفاء اور ناقص یائی، ”آلٰی یُؤْلِیْ اِیْلَاءٌ“”أل ی“ اس کا مادہ ہے۔ ان دو آیتوں میں ”ایلاء“ کے معنی یہ ہیں کہ مرد قسم کھالے کہ وہ اپنی بیوی سے جماع نہیں کرے گا، پھر اگر یہ قسم چار ماہ یا اس سے کم مدت کے لیے کھائی ہو تو اسے اپنی قسم پوری کرنے کا اختیار ہے، اگر وہ مدت پوری کرکے اپنی بیوی سے تعلق قائم کرلے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا اور اگر اس مدت سے پہلے ہی تعلق بحال کرلے تو قسم کا کفارہ دینا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ اپنی بیویوں سے ایک ماہ کے لیے قریب نہ جانے کی قسم کھائی تھی، مدت پوری ہونے پر آپ نے ان سے تعلق قائم فرما لیا۔ [ بخاری، النکاح، باب ھجرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
آیت نمبر : 226 تا 227۔
اس میں چوبیس مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” للذین یؤلون “۔ یولون کا معنی ہے وہ قسم اٹھاتے ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 302 دارالکتب العلمیہ) اور مصدر ایلاء، الیۃ، الوۃ اور الوۃ ہیں۔ حضرت ابی اور حضرت ابن عباس ؓ نے (آیت) ” للذین یقسمون “۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 302 دارالکتب العلمیہ) قرات کی ہے اور یہ بات جانی پہچانی ہے کہ یقسمون، یؤلون کی تفسیر ہے۔ اور للذین الوا بھی پڑھا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے۔ : الی یولی ایلاء اور تاتی تالیا اور ائتلی ائتلاء یعنی اس نے قسم کھائی۔ اور اسی میں سے ہے :
(آیت) ’ ولا یاتل اولو الفضل منکم “۔ (نور : 22)
ترجمہ…
Read the full tafseer →ایلاء کے احکام
(1) عبد الرزاق، ابو عبید، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن الانباری نے المصاحف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” للذین یؤلون من نساءھم “ اور فرماتے تھے ایلاء قسم ہے اور قسم ایلاء ہے۔
ابن المنذر نے ابی بن کعب ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
(2) ابن ابی داؤد نے المصاحف میں حماد (رح) سے روایت کیا کہ حضرت ابی ؓ کے مصحف میں، میں نے (یوں) پڑھا لفظ آیت ” للذین یقسمون “
(3) شافعی، عبد بن حمید، عبد الرزاق، ابن المنذر، بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایلاء یہ ہے کہ کوئی آدمی یہ قسم کھالے کہ وہ اپنی بیوی سے کبھی بھی جماع نہیں کرے…
Read the full tafseer →[ لِلَّذِیْنَ : ان لوگوں کے لیے جو ] [ یُؤْلُوْنَ : قسم کھاتے ہیں (قطع تعلق کی) ] [ مِنْ نِّسَآئِہِمْ : اپنی عورتوں سے ] [ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍ : چار مہینے کا انتظار کرنا ہے ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ فَــآ ئُ وْ : وہ لوٹ آئیں ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ : ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
ء ل و
أَلاَ (ن) اَلْــوًا : کسی کام میں کوتاہی کرنا۔ { لَا یَاْلُوْنَـکُمْ خَبَالًاط } (آل عمران :118) ” وہ لوگ کوتاہی نہیں کریں گے تم لوگوں کو برباد کرنے میں۔ “
آلٰی (افعال) اِیْلَائً : کوتاہی کرنے کا عہد کرنا ‘ کوئی کام نہ کرنے کی قسم کھانا۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کا بیان
جو کوئی شخص یہ قسم کھالے کہ میں اپنی بیوی سے جماع نہیں کروں گا۔ اس کے لیے شریعت میں کچھ احکام ہیں۔ اگر قسم کھا کر یوں کہا کہ اپنی بیوی سے جماع نہیں کروں گا لیکن کوئی مدت مقرر نہیں کی، یا یوں کہا کہ چار ماہ تک اس سے جماع نہیں کروں گا یا چار ماہ سے زیادہ کا ذکر کردیا (جس میں ہمیشہ کے لیے قسم کھانا بھی شامل ہے) یا چار مہینہ سے کم مدت مقرر کردی۔ تو ان سب صورتوں میں پہلی تین صورتوں کو ایلاء کہا جاتا ہے۔ ان تینوں صورتوں میں اگر چار مہینے گزر گئے اور اس نے قسم نہیں توڑی یعنی اس میں بیوی سے جماع نہیں کیا تو اس سے ایک بائن طلاق واقع ہوجائے گی۔ جس کا حکم یہ ہے کہ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
حکم بست ویکم۔ ایلاء۔
قال تعالی، للذین یولون من نساء ھم۔۔۔ الی۔۔۔ علیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں کچھ احکام عورتوں کے متعلق مذکور ہوئے اور کچھ احکام یمین یعنی قسم کے متعلق مذکور ہوئے آئندہ آیت میں ایک خاص قسم کی یمین یعنی خاص قسم کی قسم کا ذکر فرماتے ہیں جو عورتوں سے متعلق ہے یعنی ایلاء، اس میں دونوں باتیں جمع ہیں یا یوں کہو کہ ایلا ایک خاص قسم کی یمین ہے جس کے احکام علیحدہ ہے اس لیے ایلاء کا حکم علیحدہ بیان فرمایا یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا کہ اگر بر اور تقوی اور اصلاح کرنے کے لیے قسم کو توڑا جائے اور کفارہ ادا کردیا جائے تو اس پر اللہ کی طرف سے کوئی مواخذہ نہیں اس آیت میں یہ…
Read the full tafseer →446 ربط : قسم کی جاہلی رسموں میں سے ایک ایلاء کا غلط استعمال تھا۔ اس لیے یمین کے بعد جاہلی ایلاء کی اصلاح فرمائی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ناراض ہوجاتا اور اس کو ناپسند کرتا تو وہ اس سے ایلاء کرلیتا۔ یعنی قسم کھالیتا کہ میں اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کروں گا۔ اور ایلاء کی ان کے رواج میں کوئی مدت مقرر نہیں تھی۔ اس لیے ایک طرف تو خاوند ایلاء کی وجہ سے ساری عمر اپنی بیوی سے تعلقات زوجیت منقطع رکھتا دوسری طرف وہ عورت اس کی زوجیت سے خارج بھی نہ ہوتی تاکہ وہ دوسرے آدمی سے نکاح کرلے۔ اس طرح وہ بیچاری ساری عمر معلق رہتی تھی اور تکلیف اٹھاتی تھی۔ اسلام نے ان خرابیوں کو دور کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–226
ربط آیات
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ حیض کی وضاحت فرمائی کہ ایسی حالت میں عورت سے مباشرت حرام ہے ، تا ہم طہارت حاصل کرلینے کے بعد عورتوں کے پاس جانے کی اجازت ہے ، اس سے گزشتہ آیت میں مشرک مرد اور مشرکہ عورتوں سے نکاح کی ممانعت فرمائی تھی ۔ اس سے پہلے یتیموں کے مال سے متعلق مسائل تھے ، اور انہیں ساتھ ملانے کی اجازت دی تا ہم فرمایا کہ ہر حال میں یتیموں کی اصلاح پیش نظر ہونی چاہئے ، محتاجوں کی اعانت کے متعلق بھی حکم آ چکا ہے کہ اپنی جائز ضروریات سے زاید مال مستحقین پر خرچ کر دو ، ضرورت سے زیادہ مال رکھنا شرکا باعث ہے ، اس سے پہلے شراب اور جوئے کی حرمت کا بیان بھی آ چکا ہے کہ یہ سب…
Read the full tafseer →لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕہِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍ 0 ۚ فَاِنْ فَاۗءُوْ فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 226
إيلاء
وحقیقة الإيلاء والأليّة : الحلف المقتضي لتقصیر في الأمر الذي يحلف عليه . وجعل الإيلاء في الشرع للحلف المانع من جماع المرأة، وكيفيته وأحكامه مختصة بکتب الفقه .
ایلاء والیۃ اس کو کہتے ہیں جس پر ( قسم کھانے والے کو ) تکلیف اور کوتاہی کا سامنا کرنا پڑے اور اصطلاح شریعت میں ایلاء اس قسم کو کہتے ہیں جو عورت کے ساتھ جماع پر اٹھائی جائے اس قسم کو کیفیت اور احکام کا بیان کرنا کتب فقہ کے ساتھ مختص ہے۔
یؤلون
۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ایلاء ( افعال) وہ عورتوں کے پاس نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
ترکیب : ان تبروا موضع نصب میں ہے ای مخالفۃ ان تبروا اور اہل کوفہ کہتے ہیں لئلا تبروتقدیر ہے ‘ فی ایمانکم متعلق ہے باللغو سے اور جائز ہے کہ حال ہو اس سے تقدیرہ باللغو کائنا فی ایمانکم بماکسبت مامصدر یہ ہے للذین صلہ و موصول ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے تربص الخ کی فان فاؤ ای رجعوا شرط فان اللّٰہ الخ جواب وقس علیہ۔
تفسیر : قسم کے مسائل : از آنجملہ بےموقع قسم کھانا ہے اور قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنانا اور بیوی جیسی جلیس سے جس پر معاشرت و تمدن مربوط ہے کسی بات پر خفا ہو کر اس کے پاس جانے کی قسم کھا بیٹھنا بہت مروج ہے۔ اس لیے اس مسئلہ کو بھی مسئلہ مناکحت کے بعد طے کردیا۔ لوگوں میں یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِّاَیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَـتَّـقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَلٰـکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔
(اللہ کو اپنی قسموں کی رکاوٹ نہ بنائو کہ تم احسان نہیں کرو گے یا حدود الٰہی کا احترام نہیں کرو گے یا لوگوں کے درمیان صلح نہیں کرائو گے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں پکڑے گا تمہاری لایعنی قسموں پر۔ لیکن تمہیں پکڑے گا ان قسموں پر جن کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہے۔ اللہ بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
فہم القرآن
ربط کلام : میاں بیوی کے درمیان کسی مسئلہ میں تکرار ہوجائے تو بسا اوقات معاملہ بحث و تکرار سے بڑھ کر قسم تک پہنچ جاتا ہے لہٰذا جذباتی قسم کے بارے میں رعایت دی گئی ہے۔
ازدواجی وعائلی مسائل کے دوران قسم کے مسئلہ کی وضاحت اس لیے ضروری سمجھی گئی کہ اس زمانے میں اور آج بھی باہمی مخالفت یا طیش میں آکر لوگ قسم اٹھا لیتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ اتنے دن کلام سے اجتناب، بائیکاٹ یا فلاں کام نہیں کروں گا۔ حالانکہ اس موقع پر قسم اٹھانا مناسب بات نہیں ہوتی۔ جہاں تک بیوی سے ایلاء یعنی بائیکاٹ کا معاملہ ہے اس فرمان میں ایلاء کی آخری مدت چار ماہ مقرر کردی گئی۔ خاوند کو اس کے بعد رجوع کرنا یا…
Read the full tafseer →آیت 226:
لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِ ھِمْ ۔ وہ لوگ جو اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھالیتے ہیں۔ یؤلون کا معنی قسم اٹھانا ہے اور یہ ابن عباس ؓ کی قراءت ہے : مِنْ نِّسَآپہِمْ یہ جار مجرور سے متعلق ہے۔ یعنی للذین کے جیسا تم کہو۔
لک منی نصرۃ۔ ولک منی معونۃ۔ اب مطلب یہ ہوا للمؤلین من نساء ہم۔ اپنی عورتوں کے بارے میں قسم کھانے والوں کے لئے۔
ایلاء کی تحقیق :
تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْہُرٍ ۔ (چار ماہ انتظار کرنا ہے) یعنی قسم اٹھانے والے کے لئے ثابت ہوا چار ماہ کا انتظار گویا یہ استقر کے متعلق ہوا۔ یؤلون کے متعلق نہیں کیونکہ وہ آلیٰ ٗ علی سے متعدی ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں آلٰی فلان علی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 226۔ :
(آیت)” للذین یؤلون من نساء ھم تربص اربعۃ اشھر “۔ یؤلون یعنی قسم اٹھاتے ہیں اور الیہ کا معنی قسم ہے ، آیت کریمہ سے رماد بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم اٹھانا ہے ، حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایلاء زمانہ جاہلیت میں طلاق تھا ، حضرت سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اہل جاہلیت کا بیوی کو نقصان دینے کا طریقہ تھا جب آدمی نہ بیوی کو پسند کرتا اور نہ یہ چاہتا کہ اس عورت کے ساتھ کوئی اور نکاح کرے تو قسم اٹھاتا کہ بیوی کے قریب نہ جائے گا ، پس بیوی کو اس حال میں چھوڑتا کہ نہ تو وہ بغیر خاوند کے ہوتی اور نہ خاوند والی ، ابتداء اسلام میں بھی اسی طریق پر تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے ایلاء کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
(226 ۔ 227) ۔ اسلام سے پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ جو شخص اپنی بی بی سے کسی بات پر خفا ہوجاتا تھا تو کوئی برس دو برس کے لیے اور کوئی ہمیشہ کے لئے اس عورت کے پاس آنے کی اس سے بات چیت کرنے کی قسم کھالیا کرتا تھا مطلب اس سے عورتوں کو ستانا اور ان کو تنگ کرنا ہوتا تھا کہ عورت دوسرے سے نکاح بھی نہ کرسکے اور یہاں بھی خاوند کی صحبت کو ترستی رہے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے بعد اس طریقہ کو بند فرمانے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اب چار مہینہ کی مدت سے بڑھ کر یہ قسم جس کو ایلاء کہتے ہیں جائز نہیں ہے۔ اگر کسی نے زیادہ مدت کی قسم کھائی بھی تو قاضی چار مہینے کے بعد یا ملاپ کرا دے گا یا طلاق دلا دے گا۔ 2۔ اب رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 225–226
یعنی اللہ تعالیٰ ان لغو قسموں پر تمہارا مواخذہ نہیں کرتا جو تمہاری زبان سے نکلتی رہتی ہیں اور بندہ بغیر کسی قصد اور ارادے کے قسمیں کھاتا رہتا ہے اور یوں ہی اس کی زبان سے بلاقصد قسمیں نکل جاتی ہیں مثلاً وہ بات چیت میں بار بار کہتا ہے ” اللہ کی قسم ! نہیں ‘ اور ” ہاں ! اللہ کی قسم “ وغیرہ۔ یا جیسے وہ کسی گزرے ہوئے معاملے میں حلف اٹھاتا ہے جس کے بارے میں وہ اپنے آپ کو سچا سمجھتا ہے۔ البتہ اس قسم پر مواخذہ ہوگا جو دل سے کھائے گا۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس طرح مقاصد افعال میں معتبر ہوتے ہیں اسی طرح اقوال میں بھی مقاصد کا اعتبار ہوگا۔ (آیت) اللّٰهَ غَفُوْرٌ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو…
Read the full tafseer →ایلاء کا بیان
قول باری والذین یویون من نساء ھم تربص اربعۃ اشھر جو لو اپنی بیویوں سے ہمبستری نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ان کے لئے مہلت چار ماہ تک ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ لغت میں ایلاء حلف کو کہتے ہیں۔ چناچہ عرب کہتے ہیں الی یولی ایلاء والیۃ) کثیر کا شعر ہے۔ قلیل الا لا یا حافظ لیمینہ و ان مدرت منہ الایہ برت۔۔ میرا ممدوح بہت کم قسمتیں کھاتا ہے لیکن اپنی کھائی ہوئی قسم کی حفاظت پوری طرح کرتا ہے اور اگر اس کے منہ سے کوئی قسم نکل جائے تو وہ پوری ہوسکتی ہے۔ لغت میں ایلاء کے اصل معنی یہی ہیں۔ شریعت میں ایلاء بیوی کے ساتھ ہمبستری ترک کرنے کی قسم کو کہتے ہیں جس کے نتیجے میں مدت گزرنے کے ساتھ…
Read the full tafseer →628 " اِیلاء " کا معنیٰ و مفہوم اور اسکا حکم ؟: ۔ شریعت کی اصطلاح میں اس طرح کی قسم کو " ایلاء " کہا جاتا ہے کہ مرد اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھالے۔ پس اگر اس کے پاس نہ جانے کی یہ مدت چار ماہ یا اس سے زیادہ کی ہو۔ یا کسی تعیین و تحدید کے بغیر ہو۔ تو اس کا حکم یہ ہے کہ چار ماہ گزرنے پر طلاق بائن واقع ہو جائیگی، اور اس کی بیوی اس سے الگ ہو جائیگی۔ اور اگر چار ماہ سے کم کی مدت ہو تو یہ " منعقدہ " کے حکم میں ہوگی۔ اس مدت کے اندر اگر بیوی سے رجوع کرلیا تو کفارہ یمین ادا کرنا پڑیگا۔ اور اگر چار ماہ سے کم کی صورت میں اس نے رجوع نہیں کیا، اور وہ مدت پوری ہوگئی تو بغیر کفارہ یمین کے بیوی اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
طلاق کے بارے میں
تشریح : ” یُؤْلُوْنَ “ اس کا مطلب ہے بیوی سے جدا رہنے کی قسم کھانا، عربوں میں رواج تھا کہ جب دل کیا شوہر ایلا کرلینے کے بعد بیوی کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہوجاتا۔ یعنی ایک طرح سے طلاق ہی ہوجاتی تھی۔ اسلام نے اس دستور میں تبدیلی کردی اور یہ بتایا کہ یہ فیصلہ طلاق ظاہر نہیں کرتا، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ سوچ بچار کرلی جائے اور اس کے لیے چار ماہ کی مدت مقرر کردی گئی ہے اس دوران شوہر اگر نیک نیتی سے فیصلہ کرتا ہے کہ گزارہ ہوسکتا ہے تو ٹھیک ہے، قسم کا کفارہ ادا کرکے بیوی سے صلح صفائی کرلی جائے اس سارے معاملہ میں اگر صاف ارادے اور خلوص سے مسئلہ طے کیا جائے تو اللہ بڑا مہربان ہے بےحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–229
آیات 222- 228
اسرارو معارف
صحبت کا احکام :
اور جب رشتہ ازدواج یا نکاح کا ذکر ہو تو یقینا سوال عورت سے قربت کا بھی پیدا ہوگا اور اس میں عورت کی حالت کو بھی دخل ہے کہ حالت حیض میں صحبت کرنے کا کیا حکم ہے ؟ تو فرمادیجئے کہ حیض گندگی کی چیز ہے اس حالت میں عورت کے ساتھ صحبت نہ کرو تاآنکہ وہ پاک ہوجائیں تو اس جگہ سے صحبت کرو جس جگہ سے اللہ نے صحبت کرنے کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی جگہ سے۔ اور یہ بات یادرکھو کہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے یعنی غلبہ شہوت سے ناپاکی میں صحبت کے مرتکب ہوئے تو خوب توبہ کرو اور اللہ سے بخشش چاہو اور ہوسکے تو صدقہ بھی کرو کہ توبہ کی بہترین صورت ہے اللہ پاک صاف رہنے…
Read the full tafseer →ج 6 ان دو آیتوں میں " ایلاء " کا مسئلہ بیان ہوا ہے ایلاء کے لفظی معنی قسم کھانے کے ہیں اور اپنی عورتوں سے ایلاء کے معنی یہ ہیں کہ مر دقسم کھالے کہ وہ اپنی عورت سے جنسی خواہش پوری نہیں کرے گا پھر اگر قسم چار ماہ اس سے کم مدت کے لیے کھائی ہو تو اسے اپنی قسم پورا کرنے کا اختیار ہے۔ اگر وہ مدت پوری کر کے اپنی بیوی سے تعلق قائم کرے گا تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہوگا اور اگر اس مدت سے پہلے تعلق بحال کرلے گا تو کفارہ دینا ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی تھی جب مدت گذر گئی تو آپ نے ان سے تعلق قائم فرمالیا اور کوئی کفارہ ادا نہیں کیا۔ (شوکانی) اور اگر چا رماہ سے…
Read the full tafseer →(2:226) یؤلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ایلاء (افعال) وہ عورتوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھاتے ہیں۔ ایلاء والیہ۔ اصل میں اس قسم کو کہتے ہیں کہ جس پر قسم کھانے والے کو تکلیف اور کوتاہی کا سامنا کرنا پڑے۔ اور اصطلاح شریعت میں ایلاء اس قسم کو کہتے ہیں جو عورت کے ساتھ جماع نہ کرنے پر اٹھائی جائے۔
الوت فی الامر۔ کے معنی ہیں کسی کام میں کوتاہی کرنا۔ قسم کھانے کے معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے۔ ولا یاتل اولو الفضل منکم (24:22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل (اور صاحب وسعت) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔۔
تربص۔ بروزن تفعل مصدر ہے۔ انتظار کرنا۔ خواہ کسی معاملہ کے ختم ہونے یا پورا ہونے کا انتظار ہو۔ یا کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–228
لغات القرآن : آیت نمبر 226 تا 228
یؤلون (وہ قسم کھاتے ہیں) ۔ تربص (رکنا ہے، انتظار کرنا ہے) ۔ اربعۃ اشھر (چار مہینے) ۔ فاء و (باہم مل گئے، پلٹ گئے) ۔ عزموا (انہوں نے ارادہ کرلیا) ۔ المطلقت (طلاق والی عورتیں) ۔ یتربصن (انتظار کریں گی) ۔ ثلثہ (تین ) ۔ قروء (حیض) ۔ لا یحل (حلال نہیں ہے) ۔ ان یکتمن (یہ کہ وہ چھپائیں) ۔ خلق اللہ (اللہ نے پیدا کیا) ۔ ارحام (رحم ، عورتوں کے رحم) ۔ بعولۃ (شوہر) ۔ احق (زیادہ حقدار) ۔ بردھن (ان کو لوٹا لینے کے) ۔ ارادوا (انہوں نے ارادہ کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 226 تا 228
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے زن و شوہر کے تعلقات نہ رکھنے کی قسم کھالے تو اس کو شریعت میں ایلاء کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
اسباب نزول : اسلام سے پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ جو شخص اپنی بی بی سے خفا ہوجاتا تھا تو اس کو تنگ کرنے کے کی غرض سے قسم کھالیا کرتا تھا کہ میں اتنے عرصہ تک بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔ اس چار مہینہ کی مدت سے بڑھ کر یہ قسم جس کو ایلاء کہتے ہیں، جائز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–226
[156] عرب میں ایک جاہلانہ دستور تھا کہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ بیٹھتے تھے کہ ہم فلاں فلاں کام نیکی کا، تقوی کا، اصلاح خلق کا نہ کریں گے اور جب کوئی کہتا تو یہی عذر پیش کردیتے کہ ہم تو قسم کھاچکے ہیں۔ یہ آیت اسی شعار جاہلی کی تردید میں ہے۔
Read the full tafseer →ایلاء کا حکم :
(ف 1) ایلاء کے مفہوم میں اختلاف ہے لغۃ قسم کھانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، شرعا متفق علیہ مفہوم جس پر جمہور کا اتفاق ہے ، وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی عورت کی مقاربت سے چار مہینے سے زائد مدت کے لئے پرہیز کا عہد کرلے اور ہم کھالے کہ وہ اس عرصے میں عورت کے نزدیک نہیں جائے گا اور چار مہینے یا اس سے کم مدت کے لئے قسم کھائے تو اس کا حکم یمین بعض کا حکم ہوگا ایلاء کا نہیں ، امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) اور دیگر فقہائے عظام کا یہی مذہب ہے ۔
جب یہ صورت حالات پیدا ہوجائے تو پھر یا تو چار مہینے صبر کرکے رجوع کرلے تو اس صورت میں کوئی کفارہ نہ ہوگا اور یا اگر مدت سے پہلے رجوع کرلے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
ف 3۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلا کرلیں یعنی ان سے ہم بستر ہونے کی قسم کھا لیں تو ان کے لئے چار مہینے انتظار کی مہلت ہے ، لہٰذا یہ ایلا کرنے والے مرد اگر رجوع کرلیں اور قسم توڑ کر اپنی بیویوں سے ہم بستر ہوجائیں تو یقین جانو ! اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کا مالک ہے ، کفارہ ادا کرنے سے قسم توڑنے کا گناہ معاف کر دے گا اور بڑی رحمت والا ہے۔ عورت کو ایلا سے جو تکلیف پہنچائی ہے رجوع کرلینے سے تم پر مہربانی فرمائے گا اور اگر یہ لوگ عورتوں کو طلاق دینے ہی کا پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ سب سننے والا اور سب باتوں کا جاننے والا ہے ۔ تمہاری قسموں کو سنتا ہے اور تمہارے دل کے ارادہ کو جانتا ہے۔ ( تیسیر)
تربص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
ف 5۔ اگر کوئی قسم کھالے کہ اپنی بی بی سے صحبت نہ کروں گا تو اگر چار ماہ کے اندر اپنی قسم توڑ ڈالے اور بی بی کے پاس چلا جائے تو قسم کا کفارہ ہے اور نکاح باقی ہے اگر چار ماہ گزرگئے اور بی بی کے پاس نہ گیا تو اس عورت پر طلاق قطعی پڑجائے گی اور رجوع کرنا درست نہیں رہا ہاں اگر دونوں رضامندی سے دوبارہ نکاح کرلیں تو درست ہے۔
Read the full tafseer →ایلاء ایک قسم کی قسم بھی ہے اور طلاق کی ایک صورت بھی :
383: قسموں کا بیان جاری ہوا تو انہی قسموں کے سلسلہ میں طلاق کی ایک خاص قسم کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے جو عرب میں ایلاء کے نام سے مشہور تھی۔ اگر مرد و عورت میں اختلاف پیدا ہوجاتا اور وہ یہ بھی نہ چاہتا کہ میری عورت کسی دوسرے کے پاس جائے تو قسم کھا لیتا کہ میں اس کے قریب نہ جائوں گا اور اس طرح اس کو چھوڑ دیتا کہ نہ تو وہ اب خاوند والی ہوتی اور نہ دوسری جگہ نکاح ہی کرسکتی ۔ ایسا کیوں کرتا ؟ تاکہ اس عورت کو تکلیف ہو اور وہ مصیبت میں مبتلا رہے ۔ یہ نہایت ہی بدترین رسم تھی اس لئے ضروری ہوا کہ سب سے پہلے اس غلط کاری کی اصلاح ہو۔
اگر کوئی شخص قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
Note:
If someone takes an oath that he will not have sexual intercourse with his wife, the case has four situations:
(A) No time-limit was fixed.
(B) A time-limit of four months was fixed.
(C) A time-limit of more than four months was fixed.
(D) The limit was identified as less than four months.
So, situations A, B and C are termed in Shari` ah as 'Ild' (ایلاء ). The injunction covering these situations is: If the oath-taker breaks his oath within four months and resumes sexual intercourse with his wife, he will have to come up with kaffarah کَفَّارہ for his oath while his nikah (marriage)…
Read the full tafseer →245. In the legal terminology of Islam this is known as ila'. It is obvious that harmony and cordiality do not always prevail in matrimonial life. There are occasions when strains and tensions develop, leading to discord and estrangement. But the Law of God does not approve of that discord which causes a husband and wife, who are legally tied to one another in matrimony, to remain for all practical purposes alienated from one another as if they had ceased to be spouses. For this kind of abnormal discord and estrangement God has fixed a limit of four months during which the spouses are…
Read the full tafseer →