پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں۔ مسلم بخاری کی حدیث میں ہے جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے وہ آیت (لا الہ الا اللہ) پڑھ لے۔ یہ ارشاد حضور ﷺ کا ان لوگوں کو ہوا تھا جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کی یہ قسمیں ان کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں تو ان سے فرمایا کہ اگر عادتاً کبھی ایسے شرکیہ الفاظ نکل جائیں تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیا کرو تاکہ بدلہ ہوجائے۔ پھر فرمایا ہاں جو قسمیں پختگی کے ساتھ دل کی ارادت کے ساتھ قصداً کھائی جائیں ان پر پکڑ ہے۔ دوسری آیت کے لفظ (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 244
یعنی بطور تکیہ کلام کے بلا ارادہ جو قسمیں زبان سے نکل جاتی ہیں، ایسی قسموں پر نہ کفارہ ہے اور نہ ان پر مواخذہ ہوگا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 21 جھوٹی قسمیں کھانے کا حکم
اللہ تعالیٰ تم پر آخرت میں دارو گیر نہ فرماویں گے تمہاری قسموں میں ایسی بیہودہ قسم پر (جس میں بلا قصد جھوٹ بولا گیا) لیکن دارو گیر فرماویں گے اس جھوٹی قسم پر جس میں تمہارے دلوں نے (جھوٹ بولنے کا) ارادہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ غفور ہیں (کہ ایسی بیہودہ قسم پر دارو گیر نہ فرمائی) حلیم ہیں (کہ قصدا جھوٹی قسم کھانے کی سزا میں آخرت تک کی مہلت دی)
Read the full tafseer →ارادی اور غیر ارادی قسمیں : یعنی اس مواخذہ سے صرف وہی قسمیں مستثنی ہیں جو بالکل غیر ارادی طور پر زبان پر جاری ہوجاتی ہیں، جن کا تعلق دل سے نہیں بلکہ محض زبان سے ہوتا ہے، جو کسی نفع و نقصان کو پیش نظر رکھ کر نہیں کھائی جاتی ہیں بلکہ محض سخن تکیہ کے طور پر زبان سے اثنائے کلام میں ٹپک پڑا کرتی ہیں۔ لیکن جو قسمیں دل کے قصد و ارادہ اور قلب کے تعمد کا نتیجہ ہوں گی اور جن کا کوئی قریب یا بعید اثر آدمی کے اپنے یا دوسرے کے حقوق و مفادات پر پڑنے والا ہوگا، اگر ان میں خدا کے نام کو غلط طور پر استعمال کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان قسموں پر ضرور مواخذہ فرمائے گا۔
“ لغو ”قسموں کو اگرچہ مواخذہ سے مستثنی…
Read the full tafseer →225۔ 1 یعنی جو غیر ارادے اور عادت کے طور پر ہوں البتہ عملاً جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے۔
Read the full tafseer →147: لغو قسم سے مراد تو وہ قسم ہے جو قسم کھانے کے ارادے سے نہیں بلکہ تکیہ کلام کے طور سے زبان پر آجائے، خاص طور پر عربوں میں اس کا بہت رواج تھا کہ بات بات میں وہ واللہ کہہ دیتے تھے، اسی طرح بعض اوقات انسان ماضی کے کسی واقعے پر قسم کے ارادے ہی سے قسم کھاتا ہے، لیکن اس کے اپنے خیال کے مطابق وہ قسم صحیح نہیں ہوتی ہے، جھوٹ بولنے کا ارداہ نہیں ہوتا، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جو بات قسم کھاکر کہی تھی وہ حقیقت میں صحیح نہیں تھی، ان دونوں طرح کی قسموں کو لغو کہا جاتا ہے، اس آیت نے بتایا کہ اس پر گناہ نہیں ہوتا، البتہ انسان کو چاہیے کہ وہ قسم کھانے میں احتیاط سے کام لے اور ایسی قسم سے بھی پرہیز کرے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ رؤف ورحیم ہے ، اس لئے اس نے کفارہ اس قسم پر عائد کیا ہے جو قصد و ارادہ سے ہو ، جس میں قسم کھانے والا قصداً قسم کھالے ۔ اور اس کا ارادہ یہ ہو کہ اس نے جس چیز پر قسم کھائی ہے وہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا ، لیکن عام طور پر لوگ بلا ارادہ اور بلا قصد جو قسمیں کھالیتے ہیں ان پر کفارہ عائد نہیں کیا گیا۔
لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ” جو بےمعنی قسمیں تم بلاارادہ کھالیا کرتے ہو ، ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ، ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا ۔ اللہ بہت درگزر کرنے…
Read the full tafseer →9 لغو اور بیہودہ قسم وہ ہے کہ منہ سے عادت اور حرف کے موافق بےساختہ اور ناخواستہ نکل جائے اور دل کو خبر تک نہ ہو ایسی قسم کا نہ کفارہ ہے نہ اس میں گناہ ہے البتہ اگر کوئی بالقصد الفاظ قسم مثل واللہ اور باللہ کہے اور اس سے محض تاکید مقصود ہو قسم کا قصد نہ ہو تو اس پر ضرور کفارہ لازم ہوگا اور کفارہ کا بیان آگے آجائے گا۔
10 یعنی جو قسم جان بوجھ کر کھائے کہ جس میں دل بھی زبان کے موافق ہو اس قسم کے توڑنے پر کفارہ لازم ہوگا۔
11 غفور ہے کہ لغو اور بیہودہ قسموں پر مواخذہ نہ فرمایا۔ حلیم ہے کہ مواخذہ میں جلدی نہیں فرماتا۔ شاید بندہ توبہ کرلے۔
Read the full tafseer →آیت 225 لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ باللَّغْوِ فِیْ اَیْمَانِکُمْ
عربوں کا انداز گفتگو اس طرح کا ہے کہ واللہ ‘ باللہَ کے بغیر ان کا کوئی جملہ شروع ہی نہیں ہوتا۔ اس سے درحقیقت ان کی نیت قسم کھانے کی نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کا گفتگو کا ایک اسلوب ہے۔ اس طرح کی قسموں پر مؤاخذہ نہیں ہے۔
وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ط۔
ایسی قسموں کو توڑو گے تو کفارہّ دینا ہوگا۔ کفارے ّ کا حکم سورة المائدۃ میں بیان ہوا ہے۔ میں عرض کرچکا ہوں کہ سورة البقرۃ میں شریعت اسلامی کا ابتدائی خاکہ دے دیا گیا ہے اور اس کے تکمیلی احکام کچھ سورة النساء میں اور کچھ سورة المائدۃ میں بیان ہوئے ہیں۔
وَاللّٰہُ…
Read the full tafseer →301 اور اگر کفارہ ادا کر دے تو اس صورت میں بھی اللہ بخشنے والا ہے اور بلا ارادہ قسمیں کھانے پر مواخذہ کرنے پر بھی، قسم کا کفارہ ایک دوسرے مقام پر مذکور ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا انہیں پوشاک مہیا کرے یا غلام آزاد کرے یا تین دن کے روزے رکھے۔ (89/ 5)
Read the full tafseer →837 ۔ یعنی گرفت ان قسموں پر ہوگی، جن میں جھوٹ کی آمیزش بالقصد کی گئی ہے۔ آخرت میں بھی انہی پر داروگیر ہے، اور دنیا میں بھی ان کے لیے کفارہ ہے (آیت) ” باللغوفی ایمانکم “ مراد ان قسموں سے ہے، جو ناواقفیت کی بنا پر یا بےخیالی میں محض عادۃ زبان سے نکل جاتی ہیں، اور جھوٹ کی آمیزش ان میں بلاقصد ہوجاتی ہے، فقہاء نے اس نوعیت کی ساقط الاعتبار قسموں کی کئی قسمیں کی ہیں، ان کا تعلق ماضی کے واقعات سے بھی ہوسکتا ہے اور آئندہ کے ارادوں سے بھی۔ ان کی تفصیلات اور ان کے احکام کتب فقہ میں ملیں گے۔
838 (آیت) ” غفور “ وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ چناچہ اسی شان غفرکاتقاضہ ہے کہ اس نے لایعنی قسموں پر مؤاخذہ کو معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–225
وَلَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لاَیْمَانِکُمْ ، عرب جاہلیت کے جاہلانہ دستوروں میں سے ایک دستور یہ بھی تھا کہ قسم کھا کر یہ کہہ دیتے تھے کہ ہم فلاں کام نیکی، تقویٰ ، اصلاح ذات البین کا نہیں کریں گے اور جب کوئی ان سے کہتا تو یہ کہہ دیتے کہ ہم اس کام کے نہ کرنے کی قسم کھاچکے ہیں، ان اعمال خیر کا ترک یوں بھی صورتاً مذموم تھا چہ جائیکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے باعظمت نام کو قرب حق کے بجائے کارخیر سے دوری کا ذریعہ بنایا جائے۔ احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے کسی بات کی قسم کھائی ہو اور بعد میں اس پر واضح ہوجائے کہ اس قسم کو توڑ دینے ہی میں خیر ہے تو اس کو قسم توڑ دینی چاہیے اور کفارہ ادا…
Read the full tafseer →لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ ( اللہ تم سے مواخذہ نہ کرے گا) یعنی آخرت میں عذاب کے ساتھ یہاں دونوں کلموں میں مواخذہ سے یہی مراد ہے۔
( یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے) کیونکہ کفارہ زکوٰۃ کی طرح خالص اللہ ہی کا حق ہوتا ہے اس کا دنیا میں مواخذہ نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے ( یہ حکم ہے کہ) جو شخص مرجائے اور اس کے ذمہ زکوٰۃ یا کفارہ ہو اور اس نے وصیت نہ کی ہو تو وارثوں کے حق سے ان دونوں کو کوئی تعلق نہ ہوگا بخلاف بندوں کے قرض اور عشرہ اور خراج کے ( کہ یہ تینوں ورثہ کے حق میں سے لے لیے جائیں گے) اس کے علاوہ صرف قسم ( کھانے) سے کفارہ لازم نہیں ہوتا بلکہ قسم کے بعد اس کے توڑنے سے لازم آتا ہے پس قسم کے ساتھ کفارہ کے…
Read the full tafseer →(225) اللہ تعالیٰ تمہارے ترک احسان کے متعلق قسموں کو سنتا ہے اور تمہاری نیتوں اور قسموں کے کفارہ کی ادائیگی کو جانتا ہے، تمہاری فضول قسموں پر جیسا کہ خرید وفروخت کے وقت، لا واللہ، اور بلی واللہ، تم کہتے ہو کوئی کفارہ نہیں۔ لیکن جن قسموں میں تم اپنے خیالات دلوں میں پوشیدہ رکھ کے جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہو، اس پر اللہ تعالیٰ آخرت میں مواخذہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری ان فضول اور بیہودہ قسموں کی جو بغیر ارادہ کے نکل جائیں بخشش فرمانے والا ہے اور سزا کے بارے میں دانستہ جھوٹی قسموں پر جلدی بھی نہیں فرماتا، یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ گناہ کرنے کے لیے قسم کھانے کو لغو کہتے ہیں، اگر اس کو چھوڑ دے…
Read the full tafseer →لغو قسموں سے مراد وہ قسمیں ہیں جو نیت کے بغیر عادت کے طور پر یوں ہی زبان سے نکل جاتی ہیں۔ ایسی قسموں پر کسی قسم کا کفارہ یا سزا نہیں ہے، ہاں جو قسمیں دل کے ارادے کے ساتھ کھائی جائیں کہ اللہ کی قسم میں یہ کام ضرور کروں گا، یا نہیں کروں گا اور پھر ان کی خلاف ورزی کی جائے تو ان پر کفارہ ہے، مگر کوئی شخص جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے کہ میں نے یا فلاں نے یہ کام کیا ہے یا نہیں کیا تو یہ کبیرہ گناہ ہے۔ اس کا کفارہ نہیں صرف ندامت، آئندہ ایسا نہ کرنے کا عہد اور استغفار ہی اس کا علاج ہے۔ اسے ”یمین غموس“ کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 225۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” باللغو “۔ اللغو : یہ مصدر ہے لغایلغو ویلغی، ولغی یلغی لغا “۔ جب کلام میں کوئی ایسی شے ذکر کی جائے جس کی حاجت اور ضرورت نہ ہو یا ایسی شے کو لانا جس میں خیر اور بھلائی نہ ہو یا ایسی شے جس کا گناہ لغو ہوجائے اور حدیث میں ہے : ” جب تو اپنے ساتھی کو کہے ” خاموش ہوجا “ اس حال میں کہ امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو تو تو نے لغو عمل کیا “۔ (1) (بخاری شریف : باب : کتاب الجمعہ، حدیث نمبر : 882، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی لغت میں، لغوت کی بجائے لغیت ہے۔ اور شاعر نے کہا ہے :
ورب اسراب حجیج کظم عن اللغا ورفث…
Read the full tafseer →قسم کی اقسام
(1) ما لک نے موطا میں، وکیع، شافعی نے الام میں، عبد الرزاق بخاری، مسلم، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردو یہ، بیہقی نے سنن میں حضرت عا ئشہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ” لایو اخذکم اللہ با للغو فی ایمانکم “ اس آدمی کے لاو اللہ، بلی اللہ اور کلاو اللہ کہنے کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن جریر (رح) عیہ نے (اس بات کو) زیادہ کیا کہ جو آدمی (ان الفاظ کے ساتھ) اپنے کلام کو ملا دیتا ہے۔
(2) ابوداودابن جریر، ابن حبان، ابن مردویہ، بیہقی، نے عطاء بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ ان سے یمین لغو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے نے کہا کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →[ لاَ یُؤَاخِذُ : جواب طلبی نہیں کرے گا ] [ کُمُ : تم لوگوں سے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ بِاللَّغْوِ : بےسوچی سمجھی بات پر ] [ فِیْ اَیْمَانِکُمْ : تمہاری قسموں میں ] [ وَلٰــکِنْ : اور لیکن (البتہ) ] [ یُّؤَاخِذُکُمْ : وہ جواب طلبی کرے گا تم سے ] [ بِمَا : اس پر جو ] [ کَسَبَتْ : کمایا (قصد کیا) ] [ قُلُـوْبُکُمْ : تمہارے دلوں نے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے
حَلِیْمٌ: ہمیشہ تحمل کرنے والا ہے ]
ل غ و
لَغَا (ف) لَغْـوًا : بغیر سوچے سمجھے کوئی بات کہنا۔
لَغْوٌ (اسم ذات) : (1) بےمعنی یا بیکار بات (2) بےفائدہ چیز یا کام۔ { وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا…
Read the full tafseer →قسموں کی قسموں کا بیان اور ان کے احکام
جو قسم کھائی جائے اس کی تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ گزشتہ کسی فعل پر جھوٹی قسم کھائی جائے، جو کام نہیں کیا تھا اس کے بارے میں قسم کھالے کہ میں نے کیا، یا جو کام کیا تھا اس کے بارے میں قسم کھالی کہ یہ میں نے نہیں کیا۔ اس کو یمین غموس کہا جاتا ہے اس کا بہت بڑا گناہ ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور یمین غموس۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 17)
یہ لفظ غمس سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو پوری طرح کسی دوسری چیز میں داخل کردیا جائے۔ علماء نے لکھا ہے کہ جھوٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–225
حکم بستم متلق بہ احترام نام پاک خداوند نام۔
قال تعالی، ولاتجعلو اللہ عرضۃ۔۔۔ الی۔۔۔ حلیم۔
ربط) گزشتہ آیت میں تقوی کا حکم مذکور تھا اب اس آیت میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تقوی کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے نام پاک کا ادب اور احترام ملحوظ رکھو اور بات بات میں اللہ کی قسم نہ کھاؤ اور نہ دنیاوی اغراض اور منافع کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام پاک کو استعمال کرویہ سب ادب کے خلاف ہے۔
شان نزول) ۔ عبداللہ بن رواحہ اور ان کے داماد بشیر بن نعمان میں کسی بات پر کچھ تکرار ہواعبداللہ بن رواحہ نے قسم کھائی کہ میں نہ تم سے ملوں گا اور نہ تم سے کلام کروں گا اور نہ تمہاری کسی بھلائی اور برائی میں دخل دوں گا اس کے بعد…
Read the full tafseer →445 یہ یمین لغو کا حکم ہے۔ کہ اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ نہ دنیا میں کفارہ ہے نہ آخرت میں سزا۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یمین لغو کی صورت یہ ہے کہ کسی نہ کسی گذشتہ واقعہ کو صحیح سمجھتے ہوئے اس کے متعلق قسم کھائی کہ ایسا ہوا ہے حالانکہ واقعہ میں ایسا نہیں تھا۔ فعندنا ھو ان یحلف جیسے اس نے کسی کو بتاتے وقت اس پر قسم کھالی کہ خالد لاہور چلا گیا ہے حالانکہ یہ خبر غلط تھی مگر زید نے اس خبر کو صحیح سمجھ کر قسم کھائی تو یہ یمین لغو ہوگی اور اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ حضرت ابن عباس، حسن، مجاہد، نخعی، زہری، قتادہ، سلیمان بن یسار وغیرہ کا یہی مسلک ہے۔ وقول ابی حنیفۃ ھو قول ابن عباس والحسن والمجاھد والنخعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–226
ربط آیات
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ حیض کی وضاحت فرمائی کہ ایسی حالت میں عورت سے مباشرت حرام ہے ، تا ہم طہارت حاصل کرلینے کے بعد عورتوں کے پاس جانے کی اجازت ہے ، اس سے گزشتہ آیت میں مشرک مرد اور مشرکہ عورتوں سے نکاح کی ممانعت فرمائی تھی ۔ اس سے پہلے یتیموں کے مال سے متعلق مسائل تھے ، اور انہیں ساتھ ملانے کی اجازت دی تا ہم فرمایا کہ ہر حال میں یتیموں کی اصلاح پیش نظر ہونی چاہئے ، محتاجوں کی اعانت کے متعلق بھی حکم آ چکا ہے کہ اپنی جائز ضروریات سے زاید مال مستحقین پر خرچ کر دو ، ضرورت سے زیادہ مال رکھنا شرکا باعث ہے ، اس سے پہلے شراب اور جوئے کی حرمت کا بیان بھی آ چکا ہے کہ یہ سب…
Read the full tafseer →لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ 0 ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ 225
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
ترکیب : ان تبروا موضع نصب میں ہے ای مخالفۃ ان تبروا اور اہل کوفہ کہتے ہیں لئلا تبروتقدیر ہے ‘ فی ایمانکم متعلق ہے باللغو سے اور جائز ہے کہ حال ہو اس سے تقدیرہ باللغو کائنا فی ایمانکم بماکسبت مامصدر یہ ہے للذین صلہ و موصول ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے تربص الخ کی فان فاؤ ای رجعوا شرط فان اللّٰہ الخ جواب وقس علیہ۔
تفسیر : قسم کے مسائل : از آنجملہ بےموقع قسم کھانا ہے اور قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنانا اور بیوی جیسی جلیس سے جس پر معاشرت و تمدن مربوط ہے کسی بات پر خفا ہو کر اس کے پاس جانے کی قسم کھا بیٹھنا بہت مروج ہے۔ اس لیے اس مسئلہ کو بھی مسئلہ مناکحت کے بعد طے کردیا۔ لوگوں میں یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِّاَیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَـتَّـقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَلٰـکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔
(اللہ کو اپنی قسموں کی رکاوٹ نہ بنائو کہ تم احسان نہیں کرو گے یا حدود الٰہی کا احترام نہیں کرو گے یا لوگوں کے درمیان صلح نہیں کرائو گے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں پکڑے گا تمہاری لایعنی قسموں پر۔ لیکن تمہیں پکڑے گا ان قسموں پر جن کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہے۔ اللہ بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
فہم القرآن
ربط کلام : میاں بیوی کے درمیان کسی مسئلہ میں تکرار ہوجائے تو بسا اوقات معاملہ بحث و تکرار سے بڑھ کر قسم تک پہنچ جاتا ہے لہٰذا جذباتی قسم کے بارے میں رعایت دی گئی ہے۔
ازدواجی وعائلی مسائل کے دوران قسم کے مسئلہ کی وضاحت اس لیے ضروری سمجھی گئی کہ اس زمانے میں اور آج بھی باہمی مخالفت یا طیش میں آکر لوگ قسم اٹھا لیتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ اتنے دن کلام سے اجتناب، بائیکاٹ یا فلاں کام نہیں کروں گا۔ حالانکہ اس موقع پر قسم اٹھانا مناسب بات نہیں ہوتی۔ جہاں تک بیوی سے ایلاء یعنی بائیکاٹ کا معاملہ ہے اس فرمان میں ایلاء کی آخری مدت چار ماہ مقرر کردی گئی۔ خاوند کو اس کے بعد رجوع کرنا یا…
Read the full tafseer →آیت 225:
لَایُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ ۔ (اللہ تعالیٰ تم سے مواخذہ نہ کرے گا تمہاری قسموں میں بےہودہ قسموں پر)
اللّغو۔ وہ بےہودہ اور نکمی چیز جس کا اعتبار نہ ہو خواہ کلام ہو یا اور کچھ۔
یمین لغو :
وہ بےہودہ قسم جس کا قسموں میں اعتبار نہ ہو اور وہ یہ ہے کہ کسی ایسی چیز پر قسم کھائے کہ جس کے متعلق گمان ہو کہ اس نے قسم نہیں اٹھائی اور معاملہ اس کے الٹ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لغویمین اٹھانے والے کو سزا نہ دیں گے۔
عند الشافعی (رح) ۔ جو زبان پر بلا قصد جاری ہوجائے مثلا لا واللّٰہ وبلٰی واللّٰہ
وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ ۔ (لیکن وہ مؤاخذہ کریں گے) یعنی سزا دیں گے۔
یمین غموس…
Read the full tafseer →(تفسیر) 225۔ :
(آیت)” لایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم “۔ لغو، ہر وہ حصہ جو کلام میں سے ساقط ہو اور غیر معتبر ہو ، اہل علم نے آیت کریمہ میں مذکور لغو قسم کے بارے میں اختلاف کیا ہے بعض حضرات فرماتے ہیں یمین لغو ہر وہ قسم ہے جو غیر اختیاری طور پر جلد بازی میں بلا ارادہ زبان سے نکل جائے ، مثلا کہنے والے کا کہنا ” لا واللہ “ ایسے نہیں اللہ کی قسم ” بلی واللہ “ ہاں ایسے ہے اللہ کی قسم ” کلا واللہ “ ہرگز ایسا نہیں اللہ کی قسم۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ یمین لغو انسان کو لا واللہ بلی واللہ کہنا ہے بعض راویوں نے مرفوع بیان کیا ہے شعبی عکرمہ رحمہم اللہ اسی طرف گئے ہیں ، امام شافعی (رح) نے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–225
(224 ۔ 225) ۔ علمائے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول دو بتائے ہیں ایک تو یہ کہ عبد اللہ بن رواحہ ؓ صحابی اور ان کے داماد بشر بن نعمان ؓ میں کچھ تکرار ہوگئی تھی اس پر عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے قسم کھالی تھی کہ وہ اپنے داماد سے بات چیت نہ کریں گے اور نہ اس کی صورت دیکھیں گے اور نہ اس کے کسی نیک و بد میں شریک ہوں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ دوسری یہ کہ لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر جو بہتان باندھا تھا اس بہتان میں مسطح ایک صحابیہ بھی عبد اللہ بن ابی منافق کے صلاح کار تھے ان مسطح کے باپ مسطح کی چھوٹی عمر میں مرگئے تھے اور مسطح کی ماں اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ میں قرابت تھی اس وجہ سے چھوٹی عمر سے مسطح کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 225–226
یعنی اللہ تعالیٰ ان لغو قسموں پر تمہارا مواخذہ نہیں کرتا جو تمہاری زبان سے نکلتی رہتی ہیں اور بندہ بغیر کسی قصد اور ارادے کے قسمیں کھاتا رہتا ہے اور یوں ہی اس کی زبان سے بلاقصد قسمیں نکل جاتی ہیں مثلاً وہ بات چیت میں بار بار کہتا ہے ” اللہ کی قسم ! نہیں ‘ اور ” ہاں ! اللہ کی قسم “ وغیرہ۔ یا جیسے وہ کسی گزرے ہوئے معاملے میں حلف اٹھاتا ہے جس کے بارے میں وہ اپنے آپ کو سچا سمجھتا ہے۔ البتہ اس قسم پر مواخذہ ہوگا جو دل سے کھائے گا۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس طرح مقاصد افعال میں معتبر ہوتے ہیں اسی طرح اقوال میں بھی مقاصد کا اعتبار ہوگا۔ (آیت) اللّٰهَ غَفُوْرٌ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو…
Read the full tafseer →قول باری ہے لایواخدکم اللہ باللغوفی ایمانکم ولکن اخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفور حلیم۔ جو بےمعنی قسمیں تم بلا ارادہ کھالیتے ہو ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ اللغو کا کئی مقام پر ذکر کیا ہے۔
اس لئے استعمال کے موقع و محل کی مناسبت سے اس سے مختلف معانی مراد لئے گئے ہیں قول باری ہے۔ لاتسمع فیھا لاغیہ۔ تم جنت میں کوئی فحش اور قبیح کلمہ نہیں سنو گے) یہاں لاغیۃ سے مراد فحش اور قبیح کلمہ ہے۔ اس طرح قول باری لایسمعون فیھا لغواً ولاتاثیماً ۔ وہ جنت میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–225
625 اللہ کے نام کو اپنی قسموں کے لیے آڑ بنانے کی ممانعت : سو اس سے اللہ تعالیٰ کے پاک نام کو اپنی قسموں کیلئے آڑ بنانے کی ممانعت فرما دی گئی۔ روایات میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ اور ان کے داماد حضرت نعمان بن بشیر ؓ کے درمیان کسی بات میں تکرار ہوگیا، تو عبداللہ بن رواحہ ؓ نے قسم کھالی کہ میں نہ تم سے ملونگا، نہ کلام کرونگا، اور نہ تمہاری کسی بھلائی برائی میں کوئی دخل دونگا۔ اس کے بعد جب کوئی حضرت عبداللہ سے اس بارے میں بات کرتا تو آپ ؓ کہہ دیتے کہ میں نے تو اللہ کے نام کی قسم کھائی ہے۔ لہذا میں اس بارے کچھ نہیں کرسکتا۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (معارف، مراغی، صفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–225
قسم کے احکامات
تشریح : اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے پاک نام کو بلا وجہ قسمیں کھانے کے لیے ہرگز استعمال نہ کیا کرو۔ خاص طور سے ایسے کاموں کے نہ کرنے کی قسم کہ جس سے لوگوں میں نیکی رکے اور گناہ پھیلے۔ مثلاً کوئی شخص قسم کھائے کہ فلاں شخص سے لڑائی ہے میں اس کو کبھی نہ ملوں گا اور پھر قسم کھانے کے بہانہ سے مدتوں لڑائی رہتی ہے جس کی وجہ سے خواہ مخواہ تلخی بڑھتی رہتی ہے اس لیے قسم کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا مالک ہے عظمت و جلال والا ہے بھلا اس کی شان اور بزرگی والے نام کو یوں برے کاموں کے کرنے پر گواہ بنانا کس قدر بری بات ہے اس لیے اگر کوئی شخص قسم اٹھائے اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–229
آیات 222- 228
اسرارو معارف
صحبت کا احکام :
اور جب رشتہ ازدواج یا نکاح کا ذکر ہو تو یقینا سوال عورت سے قربت کا بھی پیدا ہوگا اور اس میں عورت کی حالت کو بھی دخل ہے کہ حالت حیض میں صحبت کرنے کا کیا حکم ہے ؟ تو فرمادیجئے کہ حیض گندگی کی چیز ہے اس حالت میں عورت کے ساتھ صحبت نہ کرو تاآنکہ وہ پاک ہوجائیں تو اس جگہ سے صحبت کرو جس جگہ سے اللہ نے صحبت کرنے کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی جگہ سے۔ اور یہ بات یادرکھو کہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے یعنی غلبہ شہوت سے ناپاکی میں صحبت کے مرتکب ہوئے تو خوب توبہ کرو اور اللہ سے بخشش چاہو اور ہوسکے تو صدقہ بھی کرو کہ توبہ کی بہترین صورت ہے اللہ پاک صاف رہنے…
Read the full tafseer →ف 1 لغو قسموں سے مراد وہ قسمیں ہیں جو بےساختہ عادت کے طور پر یو نہی زبان سے نکل جاتی ہیں، نہیں پکڑے گا۔ یعنی ایسی قسموں پر کسی قسم کا کفارہ یا سزا نہیں ہے ہاں جو قسمیں دل کے ارادہ کے ساتھ کھائی جائیں اور پھر ان کی خلاف روزی کی جائے تو ان پر کفارہ یا سزا ہے۔ فقہ کی زبان میں ایسی قسم کو منعقدہ کہتے ہیں مگر کوئی شخص عمداجھوٹی قسم کھائے تو یہ کبیرہ گناہ ہے اس کا کفارہ نہیں ہے ایسی قسم کو یین غموس کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(2:225) لایؤاخذکم اللہ۔ اللہ۔ فاعل ۔ لایؤاخذ فعل کم ضمیر مفعول۔ لایؤاخذ فعل مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ مؤاخذۃ (مفاعلۃ) مصدر بمعنی مؤاخذہ کرنا۔ گرفت کرنا۔ پکڑ کرنا ۔ اللہ فردت نہیں کرے گا تمہاری۔
باللغو۔ ب سببیہ۔ اللغو (باب نصر) بےمعنی بات۔ جو کسی گنتی شمار میں نہ ہو۔ جو سوچ سمجھ کر نہ کی جائے ۔ بےہودہ بات۔ یا بےہودی چیز۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے والذین ھم عن اللغو مغرضون (23:3) اور جو بےہودہ باتوں سے اعراض کرتے ہیں۔ پہلو تہی کرتے ہیں۔
لغو اسم قسم کو کہتے ہیں جو بغیر نیت قسم کے بطور تکیہ کلام کے منہ سے نکل جاتی ہے۔ بقول حضرت عائشہ ؓ آدمی کی لغو قسم اس طرح کہنا ہے کہ لاو اللہ۔ بلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–225
لغات القرآن : آیت نمبر 224 تا 225
لا تجعلوا (تم نہ بناؤ) ۔ عرضۃ (نشانہ، ہتھ کنڈا) ۔ ان تبروا (یہ کہ تم بھلائی نہ کرو (یہاں ان نفی کے لئے ہے ) ۔ تصلحوا (یہ کہ تم اصلاح نہ کراؤ (یہ اصل میں تن تصلحوا تھا) ۔ بین الناس (لوگوں کے درمیان ) ۔ لا یواخذ (نہیں پکڑتا ہے ) ۔ لغو (بیکار اور فضول) ۔ ایمان (قسمیں (یمین، قسم) ۔ کسبت (کمایا) ۔ حلیم (برداشت کرنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 224 تا 225
نکاح اور طلاق وعدے کے مسائل سے پہلے قسموں کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ کار خیر اور بھلے کام جیسے حسن سلوک ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی یہ ایسے کام ہیں جن کو کرنا ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔…
Read the full tafseer →قسم اور اس کی اقسام
قسم کی دو حالتیں ہیں ایک تو وہ جو دل سے جان بوجھ کر اصلی حالت کو چھپا کر قسم کھائی جاوے تو یہ کبیرہ گناہ ہے جس کا کفارہ دینا لازم ہے۔ دوسرے تکیہ کلام کے طور پر زبان سے نکل جاوے اس پر کچھ مواخذہ نہیں۔ جس کو یمین لغو کہتے ہیں۔ قسم صرف اللہ کے نام کی ہوتی ہے اور ایسی قسم کہ فلاں کے سر کی قسم یا فلاں کی جان کی قسم یہ بلکل منع ہے۔ قسم کے کفارہ کا ذکر آگے سورة مائدہ میں آوے گا کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑ ا بنادینا یا ایک بردہ (غلام) آزاد کرنا یا تین روزے رکھنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–226
[156] عرب میں ایک جاہلانہ دستور تھا کہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ بیٹھتے تھے کہ ہم فلاں فلاں کام نیکی کا، تقوی کا، اصلاح خلق کا نہ کریں گے اور جب کوئی کہتا تو یہی عذر پیش کردیتے کہ ہم تو قسم کھاچکے ہیں۔ یہ آیت اسی شعار جاہلی کی تردید میں ہے۔
Read the full tafseer →(ف 3) قسم کھانے کی ایک قسم وہ ہے جس کا تعلق قصد و ارادہ سے نہیں ہوتا ، بلکہ عادۃ یونہی اس نوع کے کلمات منہ سے نکل جاتے ہیں قضاءً اور عنداللہ بہ حلف نہیں سمجھا جائے گا ۔
Read the full tafseer →ف 2 اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری انق سموں پر جو لا یعنی اور لغو و بےہودہ ہوں کوئی مواخذہ نہیں فرمائے گا مگر ہاں ان قسموں پر تم سے مواخذہ فرمائے گا اور تمہاری گرفت کرے گا جن کا تمہارے دلوں نے قصد اور ارادہ کیا ہے یعنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کا ارادہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا صاحب مغفرت اور صاحب علم ہے کہ لغو و لا یعنی پر گرفت نہیں کرتا اور قصداً جھوٹی قسم کھانے پر فوری داروگیر نہیں فرماتا بلکہ اپنے حلم سے مجرم کو مہلت دیتا ہے۔ (تیسیر)
لغو ایسے کلام کو کہتے ہیں جو بلا ضرورت اور بدون احتیاج بولا جائے اس میں کوئی خیر اور بھلائی نہ ہو یعنی ایسا کام جو ساقط الاعتبار ہو اور اس کا کوئی شمار نہ ہو یہ لفظ…
Read the full tafseer →ف 4۔ لغو قسم کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کسی گزری ہوئی بات پر جھوٹی قسم بلا ارادہ نکل گئی یا آئندہ بات پر اس طرح قسم نکل گئی کہ کہنا چاہتا تھا کچھ اور بےارادہ منہ سے کچھ نکل گیا اس میں گناہ نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلہ میں جس پر مواخذہ ہونے کا ذکر فرمایا وہ قسم ہے جو قصدا جھوٹی سمجھ کر کھائی ہو۔
Read the full tafseer →لا یعنی قسموں پر کوئی مواخذہ نہیں تاہم ایسی قسمیں کھانا اچھی عادت نہیں :
382: قسمیں کئی طرح کی ہوتی ہیں۔
1: یمین لغو جو دو طرح کی ہیں۔
الف : کسی گزری ہوئی بات پر جھوٹی قسم بلا ارادہ زبان سے کھائی گئی۔
ب : قسم تو ارادہ سے کھائی گئی مگر گمان یہ تھا کہ جس بات پر قسم کھائی گئی ہے درست ہوگی۔
ان دونوں قسموں پر شریعت کوئی مواخذہ نہ کرے گی اور نہ ہی ان کا اعتبار ہوگا ۔ یہی قسمیں ہیں جن کے متعلق فرمایا ہے ” تمہاری قسموں میں جو لغو اور بےمعنی قسمیں ہوں ان پر اللہ مواخذہ نہیں کرتا۔ “
2: منعقدہ قسمیں ۔ آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھائی جائے ۔ اگر اس نے قسم پر عمل کرلیا تو بہتر ورنہ ترک کرنے…
Read the full tafseer →Note:
The laghw لغو or ineffectual oath has two meanings:
I. In the first case it means a false oath sworn without volition over something in the past, or it could have been sworn with volition while the oath-taker considers it to be true in his supposition. For ex-ample, guided by his information and supposition, one ends up declaring on oath that a certain person has arrived while that person had not arrived in reality. Similarly, if someone swears on oath for some-thing in future unintentionally, while he has been actually wanting to say something else, but the words of oath come out of…
Read the full tafseer →244. This refers to oaths which one utters either through habit or without any intent and purpose. The breach of such vows neither entails expiation nor makes man liable to God's reproach.
Read the full tafseer →