Al-Baqara 2:224

Al-Baqara · from ayah 224

2:224

وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ؕ— وَاللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۟وَلَا تَجۡعَلُوا اللّٰهَ عُرۡضَةً لِّاَيۡمَانِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَتَتَّقُوۡا وَتُصۡلِحُوۡا بَيۡنَ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ

اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not make [your oath by] Allah an excuse against being righteous and fearing Allah and making peace among people. And Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 28 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:224

اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو، جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بند گان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ تعالیٰ کو اپنی قسموں کا (اس طرح) نشانہ نہ بناؤ کہ بھلائی اور پرہیزگاری اور لوگوں کے درمیان کی اصلاح کو چھوڑ بیٹھو اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ (کے نام) کو اپنی قسموں میں اس غرض سے استعمال نہ کرو کہ اس کے ذریعے نیکی اور تقوی کے کاموں اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے سے بچ سکو اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اپنی قَسموں کے باعث اﷲ (کے نام) کو (لوگوں کے ساتھ) نیکی کرنے اور پرہیزگاری اختیار کرنے اور لوگوں میں صلح کرانے میں آڑ مت بناؤ، اور اﷲ خوب سننے والا بڑا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ، (اس سے بچنے کے لیے) کہ تم نیکی کرو اور (گناہ سے) بچو اور لوگوں کے درمیان اصلاح کرو، اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اپنی قسموں کے لیے اللہ کے نام کو ایسی ڈھال نہ بناؤ کہ تم فلاں نیکی کا کام نہ کرو گے اور فلاں برائی سے نہ بچو گے اور لوگوں کے درمیان صلح اور اصلاح کے کام نہ کرو گے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ کو اپنی ایسی قسموں کا ہدف نہ بناؤ کہ احسان نہ کرو گے یا حدود الٰہی کا احترام نہ کروگے یا لوگوں کے درمیان صلح نہ کراؤ گے، اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مت بناؤ تم لوگ اللہ (کے پاک نام) کو آڑ، اپنی قسموں کے لئے، کہ (اس کی نام کی قسم کھا رک تم رک جاؤ اس سے کہ) تم نیکی کرو، پرہیزگاری کو اپناؤ، اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ، اور اللہ (سب کچھ) سنتا جانتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ (کے نام) کو اپنی قسموں کے ذریعہ سے اپنی نیکی کے اور اپنے تقوی کے اور اپنی اصلاح خلق کے کاموں کے حق میں حجاب نہ بنا لو۔ اور اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ کے نام کو تختۂ مشق نہ بنا لو اپنی قسموں کے لیے کہ بھلائی نہ کرو گے پرہیزگاری نہ کرو گے اور لوگوں کے درمیان صلح نہ کراؤ گے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو جس سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو۔ اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے (

— محترمہ رفعت اعجاز

Do not use Allah's name for such oaths which are taken to keep back from virtue, piety and the welfare of mankind:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do not make (the name of) Allah the subject of your oaths against your doing good, fearing Allah and setting things right between people. Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

Do not make (the name of) Allah the subject of your oaths against your doing good, fearing Allah and setting things right between people. Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And make not Allah's (Name) an excuse in your oaths against doing good and acting piously, and making peace among mankind. And Allah is All-Hearer, All-Knower (i.e., do not swear much and if you have sworn against doing something good then give an expiation for the oath and do good).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And make not Allah, by your oaths, a hindrance to your being righteous and observing your duty unto Him and making peace among mankind. Allah is Hearer, Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not make [your oath by] Allah an excuse against being righteous and fearing Allah and making peace among people. And Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

Do not swear by God not to do good things, or have piety, or make peace among people. God is All-hearing and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

And make not Allah because of your swearing (by Him) an obstacle to your doing good and guarding (against evil) and making peace between men, and Allah is Hearing, Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

And make not Allah a butt of your oaths that ye shall not act piously nor fear Allah nor set things right between and Allah is Hearing, Knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

And make not Allah's (name) an excuse in your oaths against doing good, or acting rightly, or making peace between persons; for Allah is One Who heareth and knoweth all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:224

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

قسم اور کفارہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اور صلہ رحمی کے چھوڑنے کا ذریعہ اللہ کی قسموں کو نہ بناؤ، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) 24۔ النور :22) یعنی وہ لوگ جو کشادہ حال اور فارغ البال ہیں وہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے پر قسمیں نہ کھا بیٹھیں، انہیں چاہئے کہ معاف کرنے اور درگزر کرنے کی عادت ڈالیں، کیا تمہاری خود خواہش نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے، اگر کوئی ایسی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہئے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 243 احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے کسی بات کی قسم کھائی ہو اور بعد میں اس پر واضح ہوجائے کہ اس قسم کے توڑ دینے ہی میں خیر اور بھلائی ہے، اسے قسم توڑ دینی چاہیے اور کفارہ ادا کرنا چاہیے۔ قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا یا تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة مائدہ، آیت 89)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر حکم نمر 20 نیک کام نہ کرنے کی قسم کی ممانعت اور اللہ کے نام کو اپنی قسموں کے ذریعے ان امور کا حجاب مت بناؤ کہ تم نیکی کے اور تقویٰ کے اور اصلاح فیما بین خلق کے کام کرو (یعنی اللہ کے نام کی یہ قسم نہ کھاؤ کہ ہم یہ نیک کام نہ کریں گے) اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتے جانتے ہیں (تو زبان سنبھال کر بات کرو اور دل میں برے خیالات مت لاؤ)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اللہ کو قسموں کا ہدف بنانے کا مطلب :“ عُرْضَةً ”کے معنی ہدف اور نشانہ کے ہیں۔ اللہ کو قسموں کا ہدف بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نام پر بےضرورت اور لا یعنی قسمیں یا ایسی قسمیں کھائی جائیں جو نیکی وتقوی اور مقصد اصلاح کے خلاف ہوں۔ خدا کے عظیم نام کو لا یعنی قسموں کے لیے استعمال کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مچھر مارنے کے لیے توپ داغتا پھرے اور نیکی اور تقوی کے خلاف قسموں کے لیے اس کے پاک نام کو استعمال کرنا گویا اسی کے نام سے نیکی اور تقوی کی جڑ کاٹنا ہے جو تمام نیکی اور تمام خیر کا سرچشمہ ہے۔ عربی زبان میں“ اَن ”سے پہلے بعض حالات میں مضاف اور بعض مواقع میں اس کے بعد حرف“ لا ”کو حذف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

224۔ 1 یعنی غصے میں اس طرح کی قسم مت کھاؤ کہ فلاں کے ساتھ نیکی نہیں کروں گا فلاں سے نہیں بولوں گا فلاں کے درمیان صلح نہیں کراؤں گا۔ اس قسم کی قسموں کے لئے حدیث میں کہا گیا ہے اگر کھالو تو انہیں توڑ دو اور قسم کا کفارہ ادا کرو (کفارہ قسم کے لئے دیکھئے (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ ۚ فَكَفَّارَتُهٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ ۭ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ ۭذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

146: بعض مرتبہ انسان کسی وقتی جذبے سے مغلوب ہو کر قسم کھالیتا ہے کہ فلاں کام نہیں کروں گا، حالانکہ وہ نیک کام ہوتا ہے، مثلاً ایک مرتبہ حضرت مسطح ؓ سے ایک غلطی ہوگئی تھی تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے یہ قسم کھالی تھی کہ آئندہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے، یا جیسے روح المعانی میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے اپنے بہنوئی کے بارے میں قسم کھالی تھی کہ وہ ان سے بات نہیں کریں گے، اور نہ ان کی بیوی سے ان کی صلح کرائیں گے، یہ آیت ایسی قسم کھانے سے منع کررہی ہے، کیونکہ اس طرح اللہ کا نام ایک غلط مقصد میں استعمال ہوتا ہے، اور صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وَلا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةًکی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ تم اپنی قسم کو اس لئے استعمال نہ کرو کہ تم بھلائی کے کچھ کام نہ کروگے بلکہ قسم کا کفارہ ادا کرو اور بھلائی کرتے چلے جاؤ۔ یہی تفسیر مسروق ، شعبی ابراہیم نخعی مجاہد ، طاؤس ، سعید بن جبیر ، عطاء ، عکرمہ ، مکحول ، زہری ، حسن ، قتادہ ، مقاتل بن حیان ، ربیع بن انس ، ضحاک ، عطاخراسانی ، السدی سے منقول ہے ۔ تفصیل دیکھئے ابن کثیر میں۔ اسی کی تائید میں امام مسلم (رح) کی روایت ہے جو کہ ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ” جو کوئی ایسی قسم کھابیٹھے کہ اس کے توڑ میں خیر ہو ، اسے چاہئے کہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرے ۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی کسی اچھے کام نہ کرنے پر خدا کی قسم کھا بیٹھے مثلاً ماں باپ سے نہ بولوں گا یا فقیر کو کچھ نہ دوں گا یا باہم کسی میں مصالحت نہ کراؤں گا۔ ایسی قسموں میں خدا کے نام کو برے کاموں کے لیے ذریعہ بنانا ہوا سو ایسا ہرگز مت کرو اور اگر کسی نے ایسی قسم کھائی تو اس کا توڑنا اور کفارہ دینا واجب ہے۔ 8 یعنی اگر کوئی قسم کھاتا ہے تو اللہ اس کو سنتا ہے اور اگر کوئی عظمت و جلال خداوندی کی وجہ سے قسم کھانے سے رکتا ہے تو اللہ اس کی نیت کو خوب جانتا ہے تمہاری کوئی بات ظاہری اور باطنی اس سے مخفی نہیں اس لیے نیت قلبی اور قول لسانی دونوں میں احتیاط لازم ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 224 وَلاَ تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِاَّیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ط یعنی اللہ تعالیٰ کے عظیم نام کو استعمال کرتے ہوئے ایسی قسمیں مت کھاؤ جو نیکی وتقویٰ اور مقصد اصلاح کے خلاف ہوں۔ کسی وقت غصے ّ میں آکر آدمی قسم کھا بیٹھتا ہے کہ میں فلاں شخص سے کبھی حسن سلوک اور بھلائی نہیں کروں گا ‘ اس سے روکا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رض نے بھی اسی طرح کی قسم کھالی تھی۔ مِسطَح ایک غریب مسلمان تھے ‘ جو آپ رض کے قرابت ‘ دار بھی تھے۔ ان کی آپ رض مدد کیا کرتے تھے۔ جب حضرت عائشہ صدیقہ رض پر تہمت لگی تو مسطح بھی اس آگ کے بھڑکانے والوں میں شامل ہوگئے۔ حضرت ابوبکر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

300 یعنی کوئی اچھا کام نہ کرنے پر اللہ کی قسم کھا کر اللہ کے نام کو بدنام نہ کرو جیسے یہ قسم کہ میں اپنے ماں باپ سے نہ بولوں گا یا بیوی سے اچھا سلوک نہ کروں گا یا فلاں کو صدقہ نہ دوں گا یا یہ کہ اب میں کسی کے درمیان مصالحت نہ کراؤں گا۔ یعنی برائی کے کاموں میں اللہ کے نام کا استعمال مت کرو اور اگر کسی نے یہ کام کیا ہو تو اسے چاہیے کہ قسم توڑ ڈالے اور اس کا کفارہ ادا کرے۔ چناچہ آپ نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ ؓ کو حکم دیا کہ اگر تو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھے تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور جس کام کو بہتر سمجھے وہی کر۔ (بخاری، کتاب الایمان والنذور)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

835 ۔ عرب جاہلیت کے جاہلانہ دستوروں میں سے ایک دستور یہ تھا کہ خدا کی قسم کھا کھا کر یہ کہہ بیٹھتے تھے کہ ہم فلاں اور فلاں کام نیکی کا تقوی کا، اصلاح خلق کا نہ کریں گے۔ اور جب کوئی کہتا تو یہی عذر پیش کردیتے کہ ہم تو اس کی قسم کھاچکے ہیں ! ان اعمال خیر کا ترک یوں بھی ہر صورت میں مذموم تھا، چہ جائیکہ حضرت حق کے اسم بزرگ اور اس کی قسم کی بجائے قرب حق کے اس سے دوری کا ذریعہ بنا لیا جائے۔۔ آیت اسی شعار جاہلی کی تردید میں ہے۔ (آیت) ” عرضۃ “ کے عام ومتداول معنی ہدف یا نشانہ کے ہیں اور بعض نے یہاں بھی یہی معنی رکھے ہیں، عرضۃ لایمانکم اے نصبا لھا (جوہری) جعلتہ عرضتہ لکذا نصبتہ لہ (قاموس) لیکن ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 224–225

وَلَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لاَیْمَانِکُمْ ، عرب جاہلیت کے جاہلانہ دستوروں میں سے ایک دستور یہ بھی تھا کہ قسم کھا کر یہ کہہ دیتے تھے کہ ہم فلاں کام نیکی، تقویٰ ، اصلاح ذات البین کا نہیں کریں گے اور جب کوئی ان سے کہتا تو یہ کہہ دیتے کہ ہم اس کام کے نہ کرنے کی قسم کھاچکے ہیں، ان اعمال خیر کا ترک یوں بھی صورتاً مذموم تھا چہ جائیکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے باعظمت نام کو قرب حق کے بجائے کارخیر سے دوری کا ذریعہ بنایا جائے۔ احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص نے کسی بات کی قسم کھائی ہو اور بعد میں اس پر واضح ہوجائے کہ اس قسم کو توڑ دینے ہی میں خیر ہے تو اس کو قسم توڑ دینی چاہیے اور کفارہ ادا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَيْمَانِكُمْ ( اور اللہ کو اپنی قسموں کی آڑ نہ بناؤ) عرضۃ کے معنی روکنے والی چیز کے ہیں مراد یہ ہے کہ تم اللہ کی قسم کو نیکیوں سے روکنے والی چیز نہ کرلو اور ایمان سے مراد وہ امور ہیں جن پر قسم کھائی جاتی ہے۔ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَـتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَيْنَ النَّاسِ : کہ سلوک کرو اور پرہیزگاری کرو اور لوگوں میں صلح کراؤ) ان تبروا مع اپنے معطوفوں کے ایمانکم کا عطف بیان ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ لا ایمانکم میں لام علت کا ہو اور ان فعل (لاتجعلوا یا عرضۃً ) کے متعلق ہو یعنیلا تَجْعَلوُْا اللہ عُرْضۃَلاجل ایمانکم لان تبروا ( یعنی اللہ تعالیٰ کی قسم کو لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(224) یہ آیت حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے اس بات کی قسم کھالی تھی کہ اپنی بہن اور داماد کے ساتھ حسن سلوک نہیں کریں گے اور نہ ان سے بات چیت کریں گے اور نہ ان کے درمیان صلح کرائیں گے، اس چیز کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی قسموں کے لیے پردہ مت بناؤ، کہ نہ نیکی کریں گے اور نہ قطع رحمی سے ہٹیں گے اور صلح کریں گے بلکہ جو اچھا اور بہتر کام ہو وہ کرو اور اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرتے رہو اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ کسی کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک نہیں کریں گے بلکہ ترک احسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی قسم کھانے سے بچو اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ، یعنی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بعض لوگ غصے میں آکر کسی نیک کام کے نہ کرنے کی قسم کھالیتے اور پھر اس قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنا لیتے۔ اس آیت میں اس قسم کے لوگوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں اس لیے نہ کھاؤ کہ نیکی، پرہیزگاری اور لوگوں میں صلح کرانے جیسے نیک کاموں سے باز رہنے کا بہانہ ہاتھ آجائے، کیونکہ غلط قسم پر اڑے رہنا گناہ ہے۔ دیکھیے سورة نور (22)۔ رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمان بن سمرہ ؓ سے فرمایا : ”جب تم کسی بات پر قسم کھالو، پھر دیکھو کہ دوسرا کام اس سے بہتر ہے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔“ [ بخاری، الأیمان والنذور، باب قول اللہ تعالیٰ : (لا یؤاخذکم اللہ۔۔) :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 224۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) علماء نے فرمایا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے اور یتیموں کے ساتھ زندگی گزارنے اور عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم فرمایا تو فرمایا : تم مکارم اخلاق میں سے کسی شے سے انکار نہ کرو اس علت کی بنا پر کہ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ ہم اس طرح نہ کریں گے، یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ ابراہیم نخعی، مجاہد اور ربیع رحمۃ اللہ علہیم اور ان کے سوا کئی دوسروں نے بیان کیا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ نے بیان کیا : مراد ایسا آدمی ہے جو قسم کھا لیتا ہے کہ وہ نیکی نہ کرے گا اور صلہ رحمی نہ کرے گا اور نہ لوگوں کے درمیان صلح کرائے گا، پس اسے کہا جاتا ہے : تو نیکی کر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے سند میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تو مجھے اپنی قسم کی وجہ سے نیکی نہ کرنے کے لئے آڑ نہ بنا۔ لیکن اپنی قسم کی طرف سے کفارہ ادا کر اور خیر کا کام کر۔ گناہ پر قسم توڑ کر کفارہ ادا کرے (2) عبد بن حمید، ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے رشتہ دار سے بات نہ کرنے کی قسم کھالے یا صدقہ نہ کرنے کی (قسم کھالے) یا اگر دو آدمیوں کے درمیان کوئی غصہ ہو تو ان کے درمیان صلح نہ کرانے کی قسم کھالے۔ اور یہ کہے کہ میں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلاَ تَجْعَلُوا : اور تم لوگ مت بنائو ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ عُرْضَۃً : نشانہ ] [ لِّاَیْمَانِکُمْ : اپنی قسموں کے لیے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَــبَـرُّوْا : تم لوگ حسن سلوک (نہ) کرو ] [ وَتَـتَّــقُوْا : اور تقویٰ (نہ) کرو ] [ وَتُصْلِحُوْا : اور اصلاح (نہ) کرو ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے درمیان ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ سَمِیْعٌ : سننے والا ہے ] [ عَلِیْمٌ: جاننے والا ہے ] ی م ن یَمِنَ (س) یَمْنًا : دا ‘ ہنی طرف ہونا۔ یَمِیْنٌ ج أَیْمَانٌ (فَعِیْلٌ کا وزن) : کثیر المعانی ہے ۔ (1) دا ‘ ہنی سمت یا رخ۔ { اِنَّــکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ ۔ } (الصّٰفّٰت) ” بیشک تم لوگ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اپنی قسموں کو نیکی اور تقویٰ سے بچنے کا ذریعہ نہ بناؤ اسباب النزول ص 72 میں ہے کہ یہ آیت شریفہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، ان کے بہنوئی اور بہن کے درمیان کچھ ناراضگی ہوگئی تھی انہوں نے قسم کھائی کہ اس کے پاس کبھی بھی نہیں جائیں گے اور نہ اس سے بات کریں گے اور نہ میاں بیوی کے درمیان صلح کرائیں گے وہ کہتے تھے کہ میں نے تو قسم کھا رکھی ہے۔ اب میں اس کی خلاف روزی کیسے کروں۔ اس پر اللہ جل شانہ نے آیت بالانازل فرمائی۔ تفسیر درمنثور ص 268 ج 1 میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ بعض مرتبہ کوئی شخص قسم کھا لیتا تھا کہ فلاں نیکی اور تقویٰ کا کام نہیں کرونگا اس آیت میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 224–225

حکم بستم متلق بہ احترام نام پاک خداوند نام۔ قال تعالی، ولاتجعلو اللہ عرضۃ۔۔۔ الی۔۔۔ حلیم۔ ربط) گزشتہ آیت میں تقوی کا حکم مذکور تھا اب اس آیت میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تقوی کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے نام پاک کا ادب اور احترام ملحوظ رکھو اور بات بات میں اللہ کی قسم نہ کھاؤ اور نہ دنیاوی اغراض اور منافع کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام پاک کو استعمال کرویہ سب ادب کے خلاف ہے۔ شان نزول) ۔ عبداللہ بن رواحہ اور ان کے داماد بشیر بن نعمان میں کسی بات پر کچھ تکرار ہواعبداللہ بن رواحہ نے قسم کھائی کہ میں نہ تم سے ملوں گا اور نہ تم سے کلام کروں گا اور نہ تمہاری کسی بھلائی اور برائی میں دخل دوں گا اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

442 ربط :۔ پانچ ذوجہتین مسائل کے بعد امور انتظامیہ کا دوبارہ ذکر۔ جب بیویاں حیض سے پاک ہوجائیں تو ان سے مخالطت کرو۔ اگر تم ان سے صحبت نہ کرنے کی قسم بھی کھاچکے ہو تو اسے توڑ ڈالو۔ اور قسم توڑنے کا کفارہ دے دو ۔ زمانہ جاہلیت میں ایک بری رسم یہ تھی کہ لوگ نیک کاموں پر خدا کی قسم کھالیتے تھے مثلاً فلاں رشتہ دار سے نیک سلوک نہیں کرینگے۔ فلاں دو آدمیوں کے درمیان صلح نہیں کرائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ اور پھر ان قسموں کی پابندی کرتے۔ اور اس طرح خدا کے نام کو نیک کام کے نہ کرنے کا بہانہ بنا لیتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا۔ کیونکہ اس سے بہت سے امور انتظامیہ میں تعطل پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 224–226

ربط آیات اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ حیض کی وضاحت فرمائی کہ ایسی حالت میں عورت سے مباشرت حرام ہے ، تا ہم طہارت حاصل کرلینے کے بعد عورتوں کے پاس جانے کی اجازت ہے ، اس سے گزشتہ آیت میں مشرک مرد اور مشرکہ عورتوں سے نکاح کی ممانعت فرمائی تھی ۔ اس سے پہلے یتیموں کے مال سے متعلق مسائل تھے ، اور انہیں ساتھ ملانے کی اجازت دی تا ہم فرمایا کہ ہر حال میں یتیموں کی اصلاح پیش نظر ہونی چاہئے ، محتاجوں کی اعانت کے متعلق بھی حکم آ چکا ہے کہ اپنی جائز ضروریات سے زاید مال مستحقین پر خرچ کر دو ، ضرورت سے زیادہ مال رکھنا شرکا باعث ہے ، اس سے پہلے شراب اور جوئے کی حرمت کا بیان بھی آ چکا ہے کہ یہ سب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَجْعَلُوا اللہَ عُرْضَۃً لِّاَيْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَـتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَيْنَ النَّاسِ۝ 0 ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ 224 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 224–227

ترکیب : ان تبروا موضع نصب میں ہے ای مخالفۃ ان تبروا اور اہل کوفہ کہتے ہیں لئلا تبروتقدیر ہے ‘ فی ایمانکم متعلق ہے باللغو سے اور جائز ہے کہ حال ہو اس سے تقدیرہ باللغو کائنا فی ایمانکم بماکسبت مامصدر یہ ہے للذین صلہ و موصول ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے تربص الخ کی فان فاؤ ای رجعوا شرط فان اللّٰہ الخ جواب وقس علیہ۔ تفسیر : قسم کے مسائل : از آنجملہ بےموقع قسم کھانا ہے اور قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنانا اور بیوی جیسی جلیس سے جس پر معاشرت و تمدن مربوط ہے کسی بات پر خفا ہو کر اس کے پاس جانے کی قسم کھا بیٹھنا بہت مروج ہے۔ اس لیے اس مسئلہ کو بھی مسئلہ مناکحت کے بعد طے کردیا۔ لوگوں میں یہ بات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 224–227

وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِّاَیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَـتَّـقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَلٰـکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا کَسَبَتْ قُلُوْبُکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ (اللہ کو اپنی قسموں کی رکاوٹ نہ بنائو کہ تم احسان نہیں کرو گے یا حدود الٰہی کا احترام نہیں کرو گے یا لوگوں کے درمیان صلح نہیں کرائو گے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں پکڑے گا تمہاری لایعنی قسموں پر۔ لیکن تمہیں پکڑے گا ان قسموں پر جن کا ارادہ تمہارے دلوں نے کیا ہے۔ اللہ بہت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 224–227

فہم القرآن ربط کلام : میاں بیوی کے درمیان کسی مسئلہ میں تکرار ہوجائے تو بسا اوقات معاملہ بحث و تکرار سے بڑھ کر قسم تک پہنچ جاتا ہے لہٰذا جذباتی قسم کے بارے میں رعایت دی گئی ہے۔ ازدواجی وعائلی مسائل کے دوران قسم کے مسئلہ کی وضاحت اس لیے ضروری سمجھی گئی کہ اس زمانے میں اور آج بھی باہمی مخالفت یا طیش میں آکر لوگ قسم اٹھا لیتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ اتنے دن کلام سے اجتناب، بائیکاٹ یا فلاں کام نہیں کروں گا۔ حالانکہ اس موقع پر قسم اٹھانا مناسب بات نہیں ہوتی۔ جہاں تک بیوی سے ایلاء یعنی بائیکاٹ کا معاملہ ہے اس فرمان میں ایلاء کی آخری مدت چار ماہ مقرر کردی گئی۔ خاوند کو اس کے بعد رجوع کرنا یا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

224۔ وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِّاَیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (اور نہ بنائو اللہ تعالیٰ کو روکنے والا اپنی قسموں کا کہ تم نیکی کرو گے۔ اور تقویٰ اختیار کرو گے اور اصلاح کرو گے لوگوں کے درمیان اور اللہ تعالیٰ سننے والے اور جاننے والے ہیں) ۔ عرضہ کی تفسیر : العُرضہ۔ بروزن فُعلہ بمعنی مفعول ہے جیسا قبضہ بمعنی مقبوض۔ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے لئے رکاوٹ بنے۔ یہ عرض العود علی الاناء سے لیا گیا ہے جو لکڑی اس برتن سے آڑ اور رکاوٹ بن جائے۔ جیسے تم کہتے ہو۔ عرضۃ دون الخیر۔ فلاں آدمی بھلائی کے راستہ میں رکاوٹ ہے بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 224۔: (آیت)” ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم “۔ یہ آیت حضرت عبداللہ بن رواحہ کے بارے میں نازل ہوئی ، پس حضرت عبداللہ ؓ نے قسم اٹھائی کہ نہ تو اس کے پاس جائیں گے نہ اس سے کلام کریں گے اور نہ اس کے اور اس کے مخالف کے درمیان صلح کرائیں گے اور اس سلسلہ میں حضرت عبداللہ ؓ سے جب بات کی جاتی تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے تو اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائی ہے کہ ایسا نہیں کروں گا لہذا میرے لیے سوائے قسم کو پورا کرنے کے کچھ جائز نہیں ہے ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل کی ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ نے قسم اٹھائی کہ مسطح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 224–225

(224 ۔ 225) ۔ علمائے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول دو بتائے ہیں ایک تو یہ کہ عبد اللہ بن رواحہ ؓ صحابی اور ان کے داماد بشر بن نعمان ؓ میں کچھ تکرار ہوگئی تھی اس پر عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے قسم کھالی تھی کہ وہ اپنے داماد سے بات چیت نہ کریں گے اور نہ اس کی صورت دیکھیں گے اور نہ اس کے کسی نیک و بد میں شریک ہوں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ دوسری یہ کہ لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر جو بہتان باندھا تھا اس بہتان میں مسطح ایک صحابیہ بھی عبد اللہ بن ابی منافق کے صلاح کار تھے ان مسطح کے باپ مسطح کی چھوٹی عمر میں مرگئے تھے اور مسطح کی ماں اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ میں قرابت تھی اس وجہ سے چھوٹی عمر سے مسطح کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

حلف اور قسم کا مقصد اس ہستی کی تعظیم ہے جس کی قسم کھائی جائے اور اس چیز کی تاکید مراد ہے جس پر قسم کھائی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قسموں کی حفاظت کا حکم دیا ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر معاملے میں قسم کی حفاظت کی جائے مگر اس سے اس قسم کو اللہ نے مستثنیٰ کردیا ہے جس میں کسی کے ساتھ احسان (نہ کرنے) کی قسم کھائی گئی ہو۔ یہ اس بات کو متضمن ہے کہ وہق سم توڑ کر اس چیز کو اختیار کرے جو اسے زیادہ پسند ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ اپنی قسموں کو نشانہ، یعنی انہیں نیکی کرنے سے رکاوٹ بنالیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بھلائی کے کام سر انجام دیں، برائی سے بچیں اور لوگوں کے درمیان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے ولاتجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقواوتصلحوا بین الناس واللہ سمیع علیم۔ اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لئے استعمال نہ کرو جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو۔ اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے) ۔ اس آیت کی دوتفسیریں کی گئیں ہیں اول یہ کہ وہ اپنی قسم کو نیکی، تقوی اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں کے لئے رکاوٹ بنا دے جب اس سے ان کاموں کو سرانجام دینے کا مطالبہ کیا جائے تو کہہ دے کہ میں نے تو ان کاموں کے نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اور اس طرح وہ اپنی قسم کو اپنے اور نیکی کے کاموں کے درمیان حائل بنا دے یا یہ کہ نیکی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 224–225

625 اللہ کے نام کو اپنی قسموں کے لیے آڑ بنانے کی ممانعت : سو اس سے اللہ تعالیٰ کے پاک نام کو اپنی قسموں کیلئے آڑ بنانے کی ممانعت فرما دی گئی۔ روایات میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ اور ان کے داماد حضرت نعمان بن بشیر ؓ کے درمیان کسی بات میں تکرار ہوگیا، تو عبداللہ بن رواحہ ؓ نے قسم کھالی کہ میں نہ تم سے ملونگا، نہ کلام کرونگا، اور نہ تمہاری کسی بھلائی برائی میں کوئی دخل دونگا۔ اس کے بعد جب کوئی حضرت عبداللہ سے اس بارے میں بات کرتا تو آپ ؓ کہہ دیتے کہ میں نے تو اللہ کے نام کی قسم کھائی ہے۔ لہذا میں اس بارے کچھ نہیں کرسکتا۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (معارف، مراغی، صفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 224–225

قسم کے احکامات تشریح : اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے پاک نام کو بلا وجہ قسمیں کھانے کے لیے ہرگز استعمال نہ کیا کرو۔ خاص طور سے ایسے کاموں کے نہ کرنے کی قسم کہ جس سے لوگوں میں نیکی رکے اور گناہ پھیلے۔ مثلاً کوئی شخص قسم کھائے کہ فلاں شخص سے لڑائی ہے میں اس کو کبھی نہ ملوں گا اور پھر قسم کھانے کے بہانہ سے مدتوں لڑائی رہتی ہے جس کی وجہ سے خواہ مخواہ تلخی بڑھتی رہتی ہے اس لیے قسم کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا مالک ہے عظمت و جلال والا ہے بھلا اس کی شان اور بزرگی والے نام کو یوں برے کاموں کے کرنے پر گواہ بنانا کس قدر بری بات ہے اس لیے اگر کوئی شخص قسم اٹھائے اور پھر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 222–229

آیات 222- 228 اسرارو معارف صحبت کا احکام : اور جب رشتہ ازدواج یا نکاح کا ذکر ہو تو یقینا سوال عورت سے قربت کا بھی پیدا ہوگا اور اس میں عورت کی حالت کو بھی دخل ہے کہ حالت حیض میں صحبت کرنے کا کیا حکم ہے ؟ تو فرمادیجئے کہ حیض گندگی کی چیز ہے اس حالت میں عورت کے ساتھ صحبت نہ کرو تاآنکہ وہ پاک ہوجائیں تو اس جگہ سے صحبت کرو جس جگہ سے اللہ نے صحبت کرنے کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی جگہ سے۔ اور یہ بات یادرکھو کہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے یعنی غلبہ شہوت سے ناپاکی میں صحبت کے مرتکب ہوئے تو خوب توبہ کرو اور اللہ سے بخشش چاہو اور ہوسکے تو صدقہ بھی کرو کہ توبہ کی بہترین صورت ہے اللہ پاک صاف رہنے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

اس آیت میں اس قسم کے لوگوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں اس لیے نہ کھاؤ کہ نیکی پرہیز گاری لوگوں میں صلح کرانے نیک کاموں سے باز رہنے بہانہ ہاتھ آجائے کیونکہ ایک غلط قسم پر اڑے رہنا گناہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے عبدالر حمن بن سمرہ سے فرمایا اگر تم قسم کھالو اور پھر دیکھو کہ غیر قسم بہتر ہے تو تم اس بہتر کام کو کرو اور اپنی قسم توڑنے کا کفارہ دو ۔ (ابن کثیر بحوالہ صحیحین) قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا نہیں کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اور جو شخص ایسا نہ کرسکے اس کے لیے تین روزے رکھنا ہے۔ (دیکھئے سورت المائدہ آیت 89)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:224) عرضۃ۔ آڑ۔ نشانہ۔ بہانہ۔ ہتھکنڈا۔ ایمانکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری قسمیں ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم اور اللہ کو اپنی قسموں کے لئے آڑیا بہانہ نہ بناؤ یعنی کسی اچھے کام کے نہ کرنے پر خدا کی قسم نہ کھا بیٹھو۔ کہ جب اس کے کرنے کو کہا جائے تو اپنی قسم کو آڑ بنا کر نیک کام کرنے سے محروم نہ رہو۔ یا مطلب نکالنے کے لئے بات بات پر قسم نہ کھایا کرو۔ اور اس طرح اللہ تعالٰ کی باعزت نام کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ۔ ان۔ کہ ۔ یہ کہ۔ اس کی چار صورتیں ہیں : (1) ان۔ مصدر۔ ماضی و مضارع پر داخل ہوکر مضارع کو نصب دیتا ہے اور اس کا مابعد بمنزلہ مصدر ہوتا ہے جیسے وان تصوموا خیرلکم (2:184) اور روزہ رکھنا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 224–225

لغات القرآن : آیت نمبر 224 تا 225 لا تجعلوا (تم نہ بناؤ) ۔ عرضۃ (نشانہ، ہتھ کنڈا) ۔ ان تبروا (یہ کہ تم بھلائی نہ کرو (یہاں ان نفی کے لئے ہے ) ۔ تصلحوا (یہ کہ تم اصلاح نہ کراؤ (یہ اصل میں تن تصلحوا تھا) ۔ بین الناس (لوگوں کے درمیان ) ۔ لا یواخذ (نہیں پکڑتا ہے ) ۔ لغو (بیکار اور فضول) ۔ ایمان (قسمیں (یمین، قسم) ۔ کسبت (کمایا) ۔ حلیم (برداشت کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 224 تا 225 نکاح اور طلاق وعدے کے مسائل سے پہلے قسموں کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ کار خیر اور بھلے کام جیسے حسن سلوک ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی یہ ایسے کام ہیں جن کو کرنا ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 223–224

اغلام کی سخت ممانعت شان نزول : صحیحین میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود کا عقیدہ تھا کہ پیٹھ پیچھے سے جو کوئی اپنی عورت سے صحبت کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ سوائے کروٹ کے بل اور کسی طرح مباشرت جائز نہیں قرار دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ عورت کی مثال بمزلہ زمین کے ہے اور نطفہ کی مثال بیج کے اور اولاد کی مثال پیداوار کے۔ جس طرح کاشتکار کو اپنی زمین میں ہر طرح بیج ڈالنے کا اختیار ہے اسی طرح تم کو بھی ہر طرح ہر پہلو سے اپنی عورت سے مباشرت جائز ہے۔ ترمذی اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی عورت سے اغلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 224–226

[156] عرب میں ایک جاہلانہ دستور تھا کہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ بیٹھتے تھے کہ ہم فلاں فلاں کام نیکی کا، تقوی کا، اصلاح خلق کا نہ کریں گے اور جب کوئی کہتا تو یہی عذر پیش کردیتے کہ ہم تو قسم کھاچکے ہیں۔ یہ آیت اسی شعار جاہلی کی تردید میں ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) ان آیات میں یہ بتلایا گیا ہے کہ خدا کی قسم سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ ، یعنی اگر کسی اچھے کام کے نہ کرنے پر قسم کھالو تو اسے توڑ دو میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کسی بات کے متعلق قسم کھالے اور اس کے بعد اسے محسوس ہو کہ اس نے غلطی کی ہے تو قسم توڑ دے اور کفار دے دے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی حالت میں بھی مسلمان کو نیکی کرنے سے نہیں روکتے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں کھا کر اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو آڑ اور حجاب نہ بنائو کہ بھلائی اور نیک سلوک کرنے سے اور تقویٰ ا ختیار کرنے سے اور لوگوں کے مابین اصلاح کرنے سے بچ جائو یعنی خلق کی اصلاح اور ان کے مابین مصالحت اور پرہیز گاری اور حسن سلوک جیسی باتوں کے نہ کرنے پر قسم کھا بیٹھو اور اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا اور سب کے دلوں کی نیت کو جانتا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ کار خیر اور بھلے کام جیسے حسن سلوک، تقویٰ اور لوگوں کی اصلاح یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان کو کرنا چاہئے نہ یہ کہ ان پر قسم کھا بیٹھو کہ ہم یہ کام نہیں کریں گے اور اگر کوئی کہے کہ یہ کام کرو تو عذر کریں کہ میں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نیک کاموں کے نہ کرنے کی قسم اٹھانا بذاتہ بری چیز ہے : 381: عرب جاہلیت کے جاہلانہ دستوروں میں سے ایک دستور یہ تھا کہ اللہ کی قسم کھا کھا کر یہ کہہ بیٹھتے تھے کہ ہم فلاں اور فلاں کام نیکی کا ، تقویٰ کا اور اصلاح خلق کا نہ کریں گے۔ اور جب کوئی کہتا تو یہی عذر پیش کردیتے کہ ہم تو اس کی قسم کھاچکے ہیں۔ ان اعمال خیر کا ترک یوں بھی ہر صورت میں مذموم تھا چہ جائیکہ حق جل شانہ ، کے اسم بزرگ اور اس کی قسم کو بجائے قرب حق کے اس کو دوری کا ذریعہ بنایا جائے۔ اسلام نے بلا ضرورت اور کثرت سے قسمیں کھاتے رہنے کو بھی ناپسند کیا ہے کہ اس میں اللہ کے نام کی تو قیری ہے چہ جائیکہ کہ قصداً جھوٹی قسمیں کھائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Verse warns those who swear in the name of Allah that they will not do some vituous deeds or that they will not effect a compromise between two groups. The Verse reminds them that by this behaviour they are using the name of Allah as a barrier against the good deeds, which is a severe violation of the sanctity of the name of Allah, and they must avoid it in any case,

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

243. Authentic Traditions indicate that if a person takes a vow and discovers later that righteousness and common good are best served by breaking that vow then he should do so. Expiation consists in either feeding or providing clothes for ten poor people, or setting free a slave, or fasting for three days (see 5: 89) .

Read the full tafseer →