Al-Baqara 2:223

Al-Baqara · from ayah 223

2:223

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ ۪— فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ ؗ— وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ ؕ— وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ ؕ— وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّـكُمۡ ۖ فَاۡتُوۡا حَرۡثَكُمۡ اَنّٰى شِئۡتُمۡ‌ وَقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّکُمۡ مُّلٰقُوۡهُ ‌ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ

تمہاری عورتیں تمہارای کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Your wives are a place of sowing of seed for you, so come to your place of cultivation however you wish and put forth [righteousness] for yourselves. And fear Allah and know that you will meet Him. And give good tidings to the believers.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 28 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:223

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تمہیں اختیار ہے، جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ، مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اُس سے ملنا ہے اور اے نبیؐ! جو تمہاری ہدایات کو مان لیں انہیں فلاح و سعادت کا مثردہ سنا دو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تمہاری عورتیں تمہارای کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لئے (نیک اعمال) آگے بھیجو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوش خبری سنا دیجیئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں لہذا اپنی کھتی میں جہاں سے چاہو جاؤ اور اپنے لئیے (اچھے عمل) آگے بھیجو، اللہ سے ڈرتے رہو، اور یقین رکھو کہ تم اس سے جاکر ملنے والے ہو، اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ، اور اپنے لئے آئندہ کا کچھ سامان کرلو، اور اﷲ کا تقوٰی اختیار کرو اور جان لو کہ تم اس کے حضور پیش ہونے والے ہو، اور (اے حبیب!) آپ اہلِ ایمان کو خوشخبری سنادیں (کہ اﷲ کے حضور ان کی پیشی بہتر رہے گی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتی ہیں، سو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لیے آگے (سامان) بھیجو اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ یقینا تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ لہذا جدھر سے تم چاہو اپنی کھیتی میں آؤ۔ مگر اپنے مستقبل (کی بھلائی) کا خیال رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ تم اس سے ملنے والے ہو۔ اور جو لوگ ان باتوں پر ایمان لاتے ہیں (اے نبی) انہیں (فلاح کی) خوشخبری سنا دو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

عورتیں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ، اور اپنے لیے آگے بڑھاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے لازماً ملنا ہے اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تمہاری بیویاں عظیم الشان کھیتاں ہیں تمہارے (نفع اور بھلے) کے لئے، پس اور (ہمیشہ اور ہر حال میں) ڈرتے رہا کرو تم اللہ سے، اور یقین جانو کہ تمہیں بہرحال اس سے ملنا ہے اور خوشخبری سنا دو ایمانداروں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں۔ سو تم اپنے کھیت میں آؤ جس طرح چاہو۔ اور اپنے حق میں آیندہ کے لیے کچھ کرتے رہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے۔ اور آپ ایمان والوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تمہاری بیویاں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے آگے کے لیے سامان کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ تمہیں اس سے مل کر رہنا ہے اور (اے نبی ﷺ !) اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، تمہیں اختیار ہے جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جاؤ مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو، خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے اور اے نبی ﷺ جو تمہاری ہدایات کو مان لیں انہیں فلاح وسعادت کا ثمرہ سنا دو

— محترمہ رفعت اعجاز

Your wives are your tilth: so you may go to your tilth as you please, but you should take care of your future and refrain from the displeasure of Allah. Know it well that One Day you shall meet Him. (O Prophet!) bear good tidings to the Believers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Your women are tillage for you to cultivate. So, come to your tillage from where you wish, and advance something for yourselves, and fear Allah, and know that you are to meet Him, and give good news to the believers.

— Muhammad Taqi Usmani

Your women are tillage for you to cultivate. So, come to your tillage from where you wish, and advance something for yourselves, and fear Allah, and know that you are to meet Him, and give good news to the believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Your wives are a tilth for you, so go to your tilth, when or how you will, and send (good deeds, or ask Allah to bestow upon you pious offspring) for your own selves beforehand. And fear Allah, and know that you are to meet Him (in the Hereafter), and give good tidings to the believers (O Muhammad).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Your women are a tilth for you (to cultivate) so go to your tilth as ye will, and send (good deeds) before you for your souls, and fear Allah, and know that ye will (one day) meet Him. Give glad tidings to believers, (O Muhammad).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Your wives are a place of sowing of seed for you, so come to your place of cultivation however you wish and put forth [righteousness] for yourselves. And fear Allah and know that you will meet Him. And give good tidings to the believers.

— Saheeh International

Your wives are as fields for you. You may enter your fields from any place you want. Reserve something good for your souls (for the life hereafter). Have fear of God and know that you are going to meet Him. (Muhammad) give the glad news to the believers.

— Muhammad Sarwar

Your wives are a tilth for you, so go into your tilth when you like, and do good beforehand for yourselves, and be careful (of your duty) to Allah, and know that you will meet Him, and give good news to the believers.

— Muhammad Habib Shakir

Your women are tilth Unto you, so go in unto your tilth as ye list, and provide beforehand for your souls. And fear Allah, and know that ye are going to meet Him; and give thou glad tidings Unto the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

Your wives are as a tilth unto you; so approach your tilth when or how ye will; but do some good act for your souls beforehand; and fear Allah. And know that ye are to meet Him (in the Hereafter), and give (these) good tidings to those who believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:223

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

پھر فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی اولاد ہونے کی جگہ تم اپنی کھیتی میں جیسے بھی چاہو آؤ یعنی جگہ تو وہی ایک ہو، طریقہ خواہ کوئی بھی ہو، سامنے کر کے یا اس کے خلاف۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ یہود کہتے تھے کہ جب عورت سے مجامعت سامنے رخ کر کے نہ کی جائے اور حمل ٹھہر جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ ان کی تردید میں یہ جملہ نازل ہوا کہ مرد کو اختیار ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہودیوں نے یہی بات مسلمانوں سے بھی کہی تھی، ابن جریح فرماتے ہیں کہ آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اختیار دیا کہ خواہ سامنے سے آئے خواہ پیچھے سے لیکن ایک ہی رہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ سے ایک شخص…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 241 یعنی فطرۃ اللہ نے عورتوں کو مردوں کے لیے سیرگاہ نہیں بنایا ہے، بلکہ ان دونوں کے درمیان کھیت اور کسان کا سا تعلق ہے۔ کھیت میں کسان محض تفریح کے لیے نہیں جاتا، بلکہ اس لیے جاتا ہے کہ اس سے پیداوار حاصل کرے۔ نسل انسانی کے کسان کو بھی انسانیت کی کھیتی میں اس لیے جانا چاہیے کہ وہ اس سے نسل کی پیداوار حاصل کرے۔ خدا کی شریعت کو اس سے بحث نہیں کہ تم اس کھیت میں کاشت کس طرح کرتے ہو، البتہ اس کا مطالبہ تم سے یہ ہے کہ جاؤ کھیت ہی میں، اور اس غرض کے لیے جاؤ کہ اس سے پیداوار حاصل کرنی ہے۔ سورة الْبَقَرَة 242 جامع الفاظ ہیں، جن سے دو مطلب نکلتے ہیں اور دونوں کی یکساں اہمیت ہے۔ ایک یہ کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 222–223

خلاصہ تفسیر حکم نمبر 19 حیض میں جماع کی حرمت اور پاکی کی شرائط وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ (الی قولہ) وَبَشِّرِ الْمُؤ ْمِنِيْنَ اور لوگ آپ سے حیض کی (حالت میں صحبت وغیرہ کرنے) کا حکم پوچھتے ہیں آپ فرمادیجئے کہ وہ (حیض) گندگی کی چیز ہے تو حالت حیض میں عورتوں (کے ساتھ صحبت کرنے) سے علیحدہ رہا کرو اور (حالت میں) ان سے قربت مت کرو جب تک وہ (حیض سے) پاک نہ ہوجاویں پھر جب وہ (عورتیں) اچھی طرح پاک ہوجاویں (کہ ناپاکی کا شک وشبہ نہ رہے) تو ان کے پاس آؤ جاؤ (یعنی ان سے صحبت کرو) جس جگہ سے تم کو خدا تعالیٰ نے اجازت دی ہے (یعنی آگے سے) یقینا اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں توبہ کرنے والوں سے (مثلاً…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

“ حرث ”کے معنی عربی میں کھیتی کے ہیں، عام اس سے کہ وہ باغوں کی نوعیت کی ہو یا دوسری فصلوں کی۔ عورت کے لیے کھیتی کا استعارہ : عورتوں کے لیے کھیتی کے استعارہ میں ایک سیدھا سادا پہلو تو یہ ہے کہ جس طرح کھیتی کے لیے قدرت کا بنایا ہوا یہ ضابطہ ہے کہ تخم ریزی ٹھیک موسم میں اور مناسب وقت پر کی جاتی ہے، نیز بیج کھیت ہی میں ڈالے جاتے ہیں کھیت سے باہر نہیں پھینکے جاتے، کوئی کسان اس ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، اسی طرح عورت کے لیے فطرت کا یہ ضابطہ ہے کہ ایام ماہواری کے زمانے میں یا کسی غیر محل میں اس سے قضائے شہوت نہ کی جائے اس لیے کہ حیض کا زمانہ عورت کے حمام اور غیر آمادگی کا زمانہ ہوتا ہے، اور غیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

223۔ 1 یہودیوں کا خیال تھا کہ اگر عورت کو پیٹ کے بل لٹا کر مباشرت کی جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ اس کی تردید میں کہا جا رہا ہے کہ مباشرت آگے سے کرو (چت لٹا کر) یا پیچھے سے (پیٹ کے بل) یا کروٹ پر، جس طرح چاہو، جائز ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہر صورت میں عورت کی فرج ہی استعمال ہو۔ بعض لوگ اس سے یہ دلیل کرتے ہیں (جس طرح چاہو) میں تو دبر بھی آجاتی ہے، لہذا دبر کا استعمال بھی جائز ہے۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ جب قرآن نے عورت کو کھیتی قرار دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف کھیتی کے استعمال کے لئے کہا جا رہا ہے کہ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ اور یہ کھیتی صرف فرج ہے نہ کہ دبر۔ بہرحال یہ غیر فطری…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

145: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک لطیف کنایہ استعمال کرکے میاں بیوی کے خصوصی ملاپ کے بارے میں چند حقائق بیان فرمائے ہیں، پہلی بات تو یہ واضح فرمائی ہے کہ میاں بیوی کا یہ ملاپ صرف لذت حاصل کرنے کے مقصد سے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے انسانی نسل کی بڑھوتری کا ذریعہ سمجھنا چاہیے، جس طرح ایک کاشتکار اپنی کھیتی میں بیج ڈالتا ہے تو اس کا اصل مقصد پیداوار کا حصول ہوتا ہے اسی طرح یہ عمل بھی دراصل انسانی نسل باقی رکھنے کا ایک ذریعہ ہے، دوسری حقیقت یہ بیان فرمائی ہے کہ جب اس عمل کا اصل مقصد یہ ہے تو یہ عمل نسوانی جسم کے اسی حصہ میں ہونا چاہیے جو اس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے، پیچھے کا جو حصہ اس کام کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ہے قرآن مجید کے خوشگوار سایوں میں سے ایک ظل ، ایک چھاؤں ۔ اس میں زن وشو کے باہمی تعلقات کے مختلف رنگوں میں سے ایک رنگ کو تصویر کی شکل دی گئی ہے ۔ جو قرآنی تعلیمات کے ساتھ مناسب ہے اور جو قرآنی منوبہ حیات کے عین مطابق ہے۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ، جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جاؤ۔ “ یہاں اس آیت میں زن وشوئی تعلقات کی نوعیت اور اس کے خاص پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ یعنی اس تعلق کے مقاصد کیا ہیں اور اس کا اصلی رجحان کیا ہونا چاہئے ۔ اس کے سب پہلو یہاں نہیں بیان کئے گئے ۔ دوسرے مقامات پر ان مقامات کی مناسبت سے کچھ دوسرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یہود عورت کی پشت کی طرف ہو کر وطی کرنے کو ممنوع کہتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اس سے بچہ احول پیدا ہوتا ہے آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو اس پر یہ آیت اتری یعنی تمہاری عورتیں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتی کے ہیں جس میں نطفہ بجائے تخم اور اولاد بمنزلہ پیداوار کے ہے یعنی اس سے مقصود اصلی صرف نسل کا باقی رکھنا اور اولاد کا پیدا ہونا ہے سو تم کو اختیار ہے آگے سے یا کروٹ سے یا پس پشت سے پڑ کر یا بیٹھ کر جس طرح چاہو مجامعت کرو مگر یہ ضرور ہے کہ تخم ریزی اسی خاص موقع میں ہو جہاں پیداواری کی امید ہو یعنی مجامعت خاص فرج ہی میں ہی ہو لواطت ہرگز ہرگز نہ ہو یہود کا خیال غلط ہے کہ اس سے بچہ احول پیدا ہوتا ہے۔ 6 یعنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 223 نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ ۔ جیسے کھیت میں بیج بوتے ہو ‘ پھر فصل کاٹتے ہو ‘ اسی طرح بیویوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد عطا کرتا ہے۔ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِءْتُمْ ز تم اپنی کھیتی میں جدھر سے چاہو آؤ ‘ تمہارے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ‘ آگے سے یا دا ‘ ہنی طرف سے یا بائیں طرف سے ‘ جدھر سے بھی چاہو ‘ مگر یہ ضرور ہے کہ تخم ریزی اسی خاص جگہ میں ہو جہاں سے پیداوار کی امید ہوسکتی ہے۔ وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ ط یعنی اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اپنی نسل کو آگے بڑھانے کی کوشش کرو۔ اولاد انسان کا اثاثہ ہوتی ہے اور بڑھاپے میں اس کا سہارا بنتی ہے۔ آج تو الٹی گنگا بہائی جارہی ہے اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

298 اس آیت کے شان نزول میں دو طرح کی احادیث آئی ہیں۔ ایک یہ کہ یہودی کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس اس کے پیچھے سے آئے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے (ان کے اس خیال کی تردید میں) یہ آیت نازل ہوئی (بخاری، کتاب التفسیر زیر آیت مذکورہ) مسلم، کتاب النکاح، باب جواز جماعہ امراتہ فی قبلھا من قدامھا و من ورائھا من غیر تعرض للدبر) دوسری یہ کہ عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ : میں ہلاک ہوگیا آپ نے پوچھا : تجھے کس چیز نے ہلاک کیا ؟ کہنے لگے میں نے آج اپنی سواری پھیرلی۔ آپ نے کچھ جواب نہ دیا تاآنکہ آپ پر یہ آیت نازل ہوئی (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) آگے سے صحبت کرو یا پیچھے سے مگر دبر میں یا حیض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

830 ۔ اور کھیت کہتے ہیں اس موضع زمین کو جس میں تخم ریزی ہوتی ہے اور اس میں سبزی، غلہ، نباتات کا نشوونما ہوتا ہے۔ کھیت والے اسے اپنی بہت بڑی دولت سمجھ کر نہایت درجہ عزیز رکھتے ہیں، اور اس سے خوب نفع حاصل کرتے ہیں۔ اسلام نے ہمبستری کا اصل مقصد طلب اولاد ہی کو رکھا ہے، گو اس کے دوسری پہلو یعنی طلب لذت کو بھی نظر انداز نہیں کیا ہے۔ 831 (اس تشبیہ اور اسکے مضمرات کو خوب سوچ سمجھ کر) (آیت) ” فاتوا حرثکم “ کنایہ ہے عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے۔ اور قرآن حکیم ایسے موقعوں پر اکثر کنایہ ہی سے کام لیتا ہے، فقہاء مفسرین نے یہیں سے استنباط کیا ہے کہ ہر ایسے موقع پر مسلمان کو یہی چاہیے کہ حتی الامکان بات اشارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 222–223

آیت نمبر 222 تا 225 ترجمہ : لوگ آپ سے حیض کے (حکم) کے بارے میں پوچھتے ہیں، یعنی حیض یا حائضہ کے بارے میں کہ اس حالت میں عورتوں سے (ازدواجی) تعلق کا کیا حکم ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ حیض گندگی ہے یا محل گندگی ہے، لہٰذا عورتوں کو حالت حیض میں یعنی وطی کو یا محل حیض کو چھوڑ دو اور جماع کے لئے ان کے قریب بھی نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک صاف ہوجائیں (یَطھرن) طاء کے سکون و تشدید کے ساتھ اور ھاء کی تشدید کے ساتھ ہے اور اس میں اصل میں تاء میں ادغام ہے یعنی حیض موقوف ہونے کے بعد غسل کرلیں، پھر جب پاک صاف ہوجائیں تو ان کے پاس جانے (وطی) کی اجازت ہے اس مقام میں جہاں سے اللہ نے تم کو حالت حیض میں وطی سے اجتناب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

نِسَاۗؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ ۠ ( تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں) یعنی تمہارے کھیتوں کی جگہ ہیں کھیتیوں کے ساتھ انہیں اس لیے تشبیہ دی ہے کہ ان کے رحموں میں جو نطفے ڈالے جاتے ہیں وہ تخموں کے مشابہ ہیں غرض اس سے یہ ہے کہ عورتوں سے صحبت کرنا محص نسل باقی رکھنے کے لیے تمہارے واسطے مباح کردیا گیا ہے۔ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ ( پس تم اپنی کھیتیوں میں آؤ) یعنی ان کی فرجوں میں صحبت کرو گویا یہ آیت فاتوھن من حیث امر کم اللہ کا بیان ہے۔ اَنّٰى شِئْتُمْ ( جہاں سے چاہو) یعنی جس طرح تم چاہو کیونکہ کلمہ انی کیف اور این کے معنی میں مشترک ہے اور اینکے معنی یہاں بن نہیں سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جگہ کے عام ہونے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(223) تمہاری منکوحہ عورتوں کی شرم گا ہیں تمہاری اولاد پیدا کرنے کے لیے تمہاری کھیتی کی طرح ہیں، اپنی منکوحہ عورتوں کے ساتھ ان کی شرم گاہوں کے لیے جس طریقہ سے چاہو صحبت کرو خواہ سامنے کی طرف سے یا پیچھے کی طرف سے اور اولاد نیک پیدا کرو، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے ان کے پیچھے کے راستہ میں اور حالت حیض میں ہمبستری اور صبحت کرنے سے ڈرو، کیوں کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے وہ تمہیں تمہارے اعمال پر بدلہ دے گا اور اے محمد ﷺ آپ ان مسلمانوں کو جو عورتوں سے پیچھے کے راستہ میں اور حیض کی حالت میں صحبت کرنے سے بچتے ہیں، جنت کی خوشخبری سنا دیں۔ شان نزول : (آیت) ”نساؤ کم حرث لکم“۔ (الخ) امام…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ ۡ: جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود کہتے تھے کہ جب عورت سے اس کی پچھلی جانب سے ہو کر جماع کیا جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، اس پر یہ آیت اتری۔ [ بخاری، التفسیر، باب (نساء کم حرث لکم) : 4528 ] عورتیں کھیتی ہیں، جماع کے لیے کوئی آسن مقرر نہیں، ہر آسن پر کرسکتے ہو، مگر اولاد پیدا کرنے کی جگہ میں ہو۔ دبر موضع حرث (کھیتی کی جگہ) نہیں، موضع فرث (پاخانے کی جگہ) ہے۔ احادیث میں دبر میں جانا حرام قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”وہ شخص ملعون ہے جو عورت کے پاس اس کی دبر میں جائے۔“ [ أبو داوٗد، النکاح، باب فی جامع النکاح : 2162، عن أبی ہریرۃ ؓ و صححہ الألبانی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 223۔ اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” نسآؤکم حرث لکم ائمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ (1) (بخاری شریف : باب : کتاب تفسیر القران، حدیث نمبر : 4164، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں، فرمایا : یہودی کہتے تھے جب کوئی آدمی اپنی عورت کے ساتھ اس کی دبر کی جانب سے اس کی قبل (فرج) میں وطی کرتا ہے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” نسآؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم “۔ اور زہری سے ایک روایت میں یہ زائد ہے : اگر چاہے تو اسے اوندھا لٹائے اور اگر چاہے تو سیدھا لٹائے مگر وطی ایک سوراخ میں ہو اور صام کا لفظ سام سین کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام وکیع، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، بخاری، ابو داؤد، ترمذی، نسائی ابن ماجہ، ان جریر، ابو نعیم نے حلیہ میں اور بیہقی نے سنن میں حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ یہودی کہتے تھے جب کوئی آدمی اپنی عورت کے پاس اس کے پیچھے (ہوکر) اس کے اگلے حصہ (یعنی فرج) میں آئے گا (یعنی اس طرح جماع کرے گا) پھر اس کا حمل ہوگیا تو بچہ بھینگا پیدا ہوگا تو (اس پر یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” نساؤکم حرث لکم، فاتوا حرثکم انی شئتم “ اگر وثی فرج میں ہو تو آگے کی طرف سے یا پیچھے کی طرف سے (جائز ہے) (2) سعید بن منصور، دارمی، ابن المنذر ابن ابی حاتم نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے مسلمانوں سے کہا جو آدمی اپنی عورت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ نِسَآؤُکُمْ : تمہاری عورتیں ] [ حَرْثٌ : بیج ڈالنے کی ایک جگہ ہیں ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ فَاْتُوْا : پس تم لوگ آئو ] [ حَرْثَــکُمْ : اپنی بیج ڈالنے کی جگہ میں ] [ اَنّٰی : جیسے ] [ شِئْتُمْ : تم چاہو ] [ وَقَدِّمُوْا : اور آگے بھیجو ] [ لِاَنْفُسِکُمْ : اپنے آپ کے لیے ] [ وَاتَّقُوا : اور تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کا ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور جان لو ] [ اَنَّــکُمْ : کہ تم لوگ ] [ مُّلٰـقُوْہُ : اس سے ملاقات کرنے والے ہو ] [ وَبَشِّرِ : اور آپ ﷺ بشارت دیجیے ] [ الْمُؤْمِنِیْنَ : ایمان لانے والوں کو ] ترکیب : ” نِسَائُ کُمْ “ مبتدأ ہے ” حَرْثٌ“ اس کی خبر ہے اور ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

وطی فی الدبر کی حرمت اور یہود کی ایک بات کی تردید صحیح بخاری ص 649 ج 2 میں ہے کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ یہودی یوں کہتے تھے کہ جو کوئی مرد عورت کی سامنے کی شرم گاہ میں پیچھے کی جانب سے جماع کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوگا۔ ان کے اس خیال کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں لہٰذا تم اپنی کھیتی میں آجاؤ جیسے چاہو۔ اس میں اول تو عورتوں کو کھیتی فرمایا اور مرد عورت کے میل ملاپ کی ضرورت اور فائدہ کو واضح طور پر بیان فرمایا کہ اس کی ضرورت اور مشروعیت اولاد طلب کرنے کے لیے ہے جیسا کہ سورة بقرہ ( کے رکوع 22) میں (وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ ) فرمایا ہے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 222–223

حکم نوزدھم حرمت جماع درحالت حیض۔ قال تعالی، ویسئلونک عن المحیض۔۔ الی۔۔۔ المومنین۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں نکاح کا حکم مذکو رتھا اس آیت میں حالت حیض میں جماع اور قربان کا حکم بیان کرتے ہیں یہود میں یہ دستور تھا کہ ایام حیض میں عورت سے بالکل علیحدہ رہتے نہ اس کے ساتھ کھاتے اور نہ پیتے بلکہ اس کو علیحدہ مکان میں رکھتے اس کے برعکس نصاری میں ہی دستور تھا کہ ایام حیض میں مخالطت تو درکنار مجامعت سے بھی پرہیز نہ کرتے مدینہ منورہ میں ہر قسم کے لوگ رہتے تھے اس لیے صحابہ کرام کو اس مسئلہ میں خلجان پیش آیا اور حضور پرنور ﷺ سے سوال کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور لوگ آپ سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ حالت حیض میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

439 حرث مصدر ہے اور اس سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ ای مواضع حرثکم (روح ص 124 ج 2) یعنی تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی اور زراعت کی جگہیں ہیں۔ عوتوں کو کھیتوں سے تشبیہ دی ہے۔ کیونکہ جس طرح کھیتوں میں بیج ڈالنے سے اس میں مختلف قسم کے پھل میوے اور غلے پید اہوتے ہیں۔ اسی طرح عورت کے رحم میں تخم ریزی کرنے سے اولاد پیدا ہوتی ہے اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ فرمادیا کہ بیوی سے اگرچہ اور بھی کئی منافع حاصل کیے جاتے ہیں۔ لیکن نکاح کا اصل مقصد نسل کشی اور توالد وتناسل ہے۔ جو لوگ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے بچوں کی پیدائش روکنے کے درپے ہیں وہ شادی کی اصل غرض وغایت ہی سے نابلد ہیں۔ شاید انہوں نے شادی کی غرض وغایت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 222–223

ربط آیات پچھلے رکوع میں مختلف مسائل کا ذکر تھا اور سوالات کے جوابات تھے ، خصوصاً شراب اور جوئے سے متعلق سوال کا جواب تھا ، پھر شراب اور جوئے کی قیامت کا ذکر ہوا ، پھر مال میں سے خرچ کرنے کے متعلق سوال آیا ۔ اس کے جواب میں بنیادی قانون سمجھایا گیا کہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے بعد خرچ کرنا چاہئے ، پھر یتیموں کی اصلاح اور ان کے خرچ کو اپنے ساتھ ملانے کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اجازت دی کہ یتیموں کے حق میں جو چیز بہتر ہو ، وہ ہونی چاہئے ، ان کی اصلاح اور ان کے مال کی حفاظت بہر صورت پیش نظر رہنی چاہئے ۔ یتیموں کا مال کھانا ، جوئے کی کمائی کھانا ، شراب کو استعمال…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نِسَاۗؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۝ 0 ۠ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ۝ 0 ۡوَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ۝ 0 ۭ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْہُ۝ 0 ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 223 حرث الحَرْث : إلقاء البذر في الأرض وتهيّؤها للزرع، ويسمّى المحروث حرثا، قال اللہ تعالی: أَنِ اغْدُوا عَلى حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صارِمِينَ [ القلم/ 22] ، وذلک علی سبیل التشبيه، فبالنساء زرع ما فيه بقاء نوع الإنسان، كما أنّ بالأرض زرع ما به بقاء أشخاصهم، وقوله عزّ وجل : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ، يتناول الحرثین . ( ح ر ث ) الحرث ( ن ) کے معنی زمین میں بیج ڈالنے اور اسے زراعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 222–223

ترکیب : الحیض موضع الحیض ویحتمل ان یکون نفس الحیض والتقدیر یسئلونک عن الوطی فی زمن الحیض من حیث امر کم من اس جگہ ابتداء غایۃً کے لیے ہے اور ممکن ہے کہ بمعنی فی ہو۔ پس یسئلون فعل ھم خبر فاعل کے مفعول عن المحیض فعل کے متعلق ہو کر جملہ خبر یہ ہوا ھو مبتداء اذی خبر جملہ مقولہ ہو اقل کا فاعتزلوا امر حاضر معروف وانتم اس کا فاعل النساء مفعول بہ فی المحیض متعلق ہے۔ فعل سے جملہ انشائیہ معطوف علیہ ولا تقربوا الخ اس پر معطوف فاذا حرف شرط تطہرن مخفف اور مثقل دونوں طرح پر ہے۔ اس کی اصل تتطہرن تھا۔ ت کو ساکن کرکے ط سے بدلا اور دوسری ط میں ادغام کردیا۔ یہ جملہ شرط فاتوھن جواب شرط من حیث متعلق ہے فاتوھن سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 222–223

وَیَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ط قُلْ ھُوَ اَذًی لا فَاعْتِزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ لا وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ ج فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ ۔ (وہ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے وہ ناپاکی (اور بیماری) ہے، پس الگ رہا کرو عورتوں سے حیض کی حالت میں، اور ان سے قربت نہ کرو جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں، پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جیسے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے، اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ چونکہ پہلے حکم میں مخصوص ایّام کے دوران عورتوں سے صحبت کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس لیے یہاں طبیعتوں کی گھٹن دور کرنے اور ازدواجی زندگی کے بنیادی مقصد کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ جس طرح کھیتی باڑی کے کچھ اصول اور ہر فصل کے مخصوص ایّام ہوتے ہیں اسی طرح ازدواجی زندگی کے مقاصد اور خلوت کے بھی کچھ اصول ہیں۔ تاہم جس طرح زمیند ار کو اپنی زمین اور کھیتی باڑی میں کھلا اختیار ہوتا ہے ایسے ہی تمہیں اپنی بیویوں کے بارے میں اختیارات حاصل ہیں کہ جب اور جس طرح چاہو مجامعت کرسکتے ہو۔ یہاں ازدواجی زندگی کو کھیتی کے ساتھ تشبیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مقصودِ جماع بقائے نسل ہے : 223۔ نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ ۔ (تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتی ہیں) یعنی کھیتی کے مقامات ہیں۔ اور یہ مجاز ہے عورتوں کو کھیتیوں سے تشبیہ دی۔ اس لئے کہ ان کے رحموں میں نطفے ڈالے جاتے ہیں جو نسل کے لئے بمنزلہ بیج ہے اور لڑکا بمنزلہ نبات کے ہے دراصل نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ یہ فَاْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ کا بیان اور توضیح بن گئی۔ یعنی وہ مقام جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا۔ وہ مقام کھیتی ہے مقام گندگی نہیں۔ اس سے در حقیقت متنبہ کردیا کہ مجامعت کا مقصد قضائے شہوت نہیں بقائے نسل ہے پس ایسے مقامات سے آئو جس سے یہ مقصد متعلق ہے۔ فَاْتُوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 223۔: (آیت)” نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت عمر ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں ہلاک ہوگیا، حضور ﷺ نے فرمایا کس چیز نے تجھے ہلاک کیا ؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کی آج رات میں نے کجاوہ بدلا ہے (یعنی بیوی سے صحبت ، دوسرے انداز سے کی جو کہ پہلے عام انداز سے مختلف تھا) حضور ﷺ نے جواب نہ دیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی طرف وحی فرمائی (آیت)” نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم “ یعنی سیدھا لٹا کر جماع کردیا الٹا کر کے البتہ دبر سے بچو اور حالت حیض سے پرہیز کرو۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جو بیوی سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

صحیحین میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ پیٹھ کے پیچھے سے جو کوئی شخص اپنی عورت سے صحبت کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوگا۔ 2۔ بلکہ سوائے کروٹ کے بل کے اور کسی پہلو سے کسی طرح یہود لوگ مباشرت کو جائز نہیں قرار دیتے تھے اس کا چرچا صحابہ میں ہوا اس پر اللہ تعلیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ عورت کی مثال بمنزلہ زمین کے ہے اور نطفہ کے مثال بمنزلہ بیج کے اور اولاد کی مثال بمنزلہ پیداوار کے اس لئے جس طرح کا شتکار کو اپنی زمین میں ہر طرح بیج ڈالنے کا اختیار ہے۔ اسی طرح تم کو بھی ہر پہلو سے اپنی عورتوں سے مباشرت جائز ہے کھیتی کی مثال کے ساتھ مباشرت کی اجازت جو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) نِسَاۗؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ ۠ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ ۡ” تمہاری بیویاں، تمہاری کھیتیاں ہیں، پس تم اپنی کھیتوں کو جہاں سے چاہو، آؤ “ یعنی تم اپنی بیویوں سے سامنے سے جماع کرو یا پیچھے سے۔ البتہ یہ جماع صرف قبل (یعنی شرمگاہ) میں ہونا چاہیے، کیونکہ یہی کھیتی کے اگنے کی جگہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے اولاد جنم لیتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ دبر (یعنی پیٹھ) میں جماع کرنا حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیوی کے ساتھ صرف اسی مقام میں مجامعت کو جائز قرار دیا ہے جو کھیتی (یعنی اولاد) پیدا کرنے کا مقام ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے نہایت کثرت سے احادیث مروی ہیں جو دبر میں جماع کی تحریم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) اگر ہم ان کو ہمارے مخالف کے قول کے مطابق عمل میں لائیں تو اس صورت میں دو میں سے ایک غایت کا اسقاط لازم آئے گا کیونکہ ہمارا مخالف یہ کہتا ہے کہ اگر حائضہ پاک بھی ہوجائے اور اس کا خون رک بھی جائے پھر بھی غسل سے پہلے وطی کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اگر ہم اس بات کو اپنے مخالف کے خلاف ابتدائی دلیل کے طور پر استعمال کریں تو ہمارے لئے اس کی گنجائش ہے اور ہماری یہ دلیل اسے مطمئن کرسکتی ہے ہمارے اصحاب نے اس عورت کے متعلق جس کے ایام دس دن سے کم ہوں اور اس کا خون رک جائے وطی کی اباحت کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ یا تو وہ غسل کرے لے یا اس پر ایک نمازکا وقت گزر جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 222–223

617 حیض کے بارے میں سوال اور اس کا مبنی برحق وانصاف جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں حیض کے بارے میں کہ ایسی حالت میں عورت سے کیا معاملہ کریں۔ کیونکہ اسلام سے پہلے لوگ اس بارے میں افراط وتفریط میں مبتلا تھے۔ یہود اس انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے کہ ایسی حالت میں عورتوں کو اپنے گھر میں رکھنے کے بھی روادار نہ تھے، بلکہ ان کو ایک نجس اور ناپاک مخلوق قرار دے کر اپنے سے الگ کردیا کرتے تھے، جبکہ نصاریٰ اس بارے تفریط میں مبتلا تھے، کہ وہ ایسی حالت میں ان سے صحبت و مباشرت کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ (المراغی، وغیرہ) ۔ اور آج بھی حق و ہدایت کی روشنی سے محروم مادہ پرست دنیا کا حال یہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 222–223

احکام حیض تشریح : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں یہودی عورتوں کے ماہواری کے دنوں میں ان کے ہاتھ کا کھانا، پینا ان کے قریب بیٹھنا حتیٰ کہ ان کو گھر میں رکھنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ دوسری طرف عیسائی اس دوران عورتوں سے بےتکلفی بھی کرتے تھے تو صحابہ کرام نے آپ ﷺ سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو رب العزت جواب دیتے ہیں کہ یہ ماہواری کا خون گندگی کہلاتی ہے۔ اس کے بارے میں رب العزت نے بڑا اچھا حکم دیا ہے جو کہ طہارت اور صحت انسانی کے لیے ضروری اور درست حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حیض کے دوران عورتوں کو اس قدر ناپاک نہ سمجھو کہ ان کے ہاتھ کا کھانا چھوڑ دو ان کو گھر سے نکال دو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 222–229

آیات 222- 228 اسرارو معارف صحبت کا احکام : اور جب رشتہ ازدواج یا نکاح کا ذکر ہو تو یقینا سوال عورت سے قربت کا بھی پیدا ہوگا اور اس میں عورت کی حالت کو بھی دخل ہے کہ حالت حیض میں صحبت کرنے کا کیا حکم ہے ؟ تو فرمادیجئے کہ حیض گندگی کی چیز ہے اس حالت میں عورت کے ساتھ صحبت نہ کرو تاآنکہ وہ پاک ہوجائیں تو اس جگہ سے صحبت کرو جس جگہ سے اللہ نے صحبت کرنے کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی جگہ سے۔ اور یہ بات یادرکھو کہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے یعنی غلبہ شہوت سے ناپاکی میں صحبت کے مرتکب ہوئے تو خوب توبہ کرو اور اللہ سے بخشش چاہو اور ہوسکے تو صدقہ بھی کرو کہ توبہ کی بہترین صورت ہے اللہ پاک صاف رہنے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ یہوس کہا کرتے تھے اگر عورت کو پیٹ کے بل کر کے مجامعت کی جائے تو احول (بھینگا) پیدا ہوتا ہے، اس پر یہ آیت اتری کہ عورتیں کھیتی ہیں جماع کے لیے کوئی سن مقرر نہیں ہے ہر آسن پر جماع کرسکتے ہو مگر اولاد پیدا ہونے کی جگہ میں ہو۔ بعض لوگ غصہ میں آکر کسی نیک کام کے نہ کرنے کی قسم کھالیتے ہیں اور پھر اس قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنا لیتے ،

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:223) حرث۔ کھیتی۔ زراعت۔ حرث (باب ضرب) سے مصدر بھی ہے۔ بمعنی بیج ڈالنا۔ کھیتی کرنا۔ کھیت کو حرث کہتے ہیں۔ انی ۔ مندرجہ ذیل معنوں میں مستعمل ہے۔ (1) اسم ظرف زمان جیسے فاتوا حرثکم انی شئتم۔ پس کھیتی میں جاؤ جب چاہو۔ جہاں سے چاہو۔ (2) اسم ظرف مکان۔ (3) (ا) بمعنی کیف۔ یعنی جیسے جس ہیئت سے چاہو۔ (ب) بمعنی کیف۔ کیونکر ۔ کیسے۔ انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا (2:259) خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ (4) بمعنی من این۔ جیسے یریم انی لک ھذا (3:37) اے مریم یہ (کھانا) تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے۔ شئتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم نے چاہا۔ شاء یشاء مشیئۃ (باب سمع) مصدر (نیز ملاحظہ ہو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 222–223

لغات القرآن : آیت نمبر 222 تا 223 المحیض (حیض (عورتوں کے مخصوص ایام) ۔ اذی ( ناپاکی، گندگی، بیماری) ۔ اعتزلوا (تم علیحدہ رہو) ۔ لا تقربوا (تم قربت نہ کرو نزدیک نہ جاؤ) ۔ حتی یطھرن (جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں) ۔ فاتوھن (پھر تم آؤ ان کے پاس) ۔ التوابین (بہت توبہ کرنے والے) ۔ متطھرین (بہت پاک رہنے والے) ۔ نساء (عورتیں) ۔ حرث (کھیتی) ۔ انی شئتم (جس طرح تم چاہو) ۔ قدموا (تم آگے بھیجو) ۔ ملقوا (تم اس سے ملنے والے ہو) ۔ بشر (خوش خبری دے دیجئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 222 تا 223 حج ، جہاد ، انفاق ، شراب ، جوا، یتیموں سے ہمدردی ، مشرک مردوں اور عورتوں سے نکاح کے مسائل کے بعد اب یہاں سے عورتوں کے حقوق اور ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 223–224

اغلام کی سخت ممانعت شان نزول : صحیحین میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود کا عقیدہ تھا کہ پیٹھ پیچھے سے جو کوئی اپنی عورت سے صحبت کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ سوائے کروٹ کے بل اور کسی طرح مباشرت جائز نہیں قرار دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ عورت کی مثال بمزلہ زمین کے ہے اور نطفہ کی مثال بیج کے اور اولاد کی مثال پیداوار کے۔ جس طرح کاشتکار کو اپنی زمین میں ہر طرح بیج ڈالنے کا اختیار ہے اسی طرح تم کو بھی ہر طرح ہر پہلو سے اپنی عورت سے مباشرت جائز ہے۔ ترمذی اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی عورت سے اغلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[153] عورت کھیتی ہے اور مرد کاشت کار اور نطفہ بیج۔ جس طرح کھیت میں بیج ڈالنے کا مقصد پیداوار حاصل کرنا ہے اسی طرح مباشرت کا مقصد افزائش نسل ہے محض قضاء شہوت نہیں۔ [154] مطلب یہ ہے کہ تخم ریزی کا ہی ارادہ ہونا چاہئے اور وہیں ہونا چاہئے جہاں تخم ریزی ممکن ہے، البتہ شریعت کو اس سے بحث نہیں کہ تم نسل کی تخم ریزی کے لئے کونسا طریقہ اختیار کرتے ہو۔ [155] یعنی اپنی نسل برقرار رکھنے کی کوشش کرو تاکہ تمہارے بعد تمہاری جگہ دوسرے کام کرنے والے پیدا ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

تربیت اولاد : (ف 1) اس لئے پیشتر کی آیات میں بتایا گیا تھا کہ عورت کی عزت و حرمت کے یہ منافی ہے کہ تم اس سے ہر حال میں جنسی جذبات کی توقع رکھو ان آیات میں بتایا کہ عورت کی حیثیت ودرجہ کیا ہے ۔ اسلام سے پہلے عورتوں سے نہایت برا سلوک کیا جاتا تھا ، اسلام نے آکر بتایا کہ عورتیں عزت واحترام کی مستحق ہیں اور کھیتی کی مانند ہیں ، جس طرح ایک کسان اور زمیندار اپنی کھیتی کا خیال رکھتا ہے اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسے اپنی قیمتی متاع سمجھتا ہے اسی طرح مسلمان کو عورت کی عزت کرنا چاہئے ، جس طرح کھیتی سے ہمارے لئے مختلف النوع چیزیں مہیا ہوتی ہیں ، اسی طرح عورتیں ہمارے لئے ہماری اولاد پیدا کرتی ہیں اور جس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں یعنی وہ زمین جس میں کھیتی کی غرض سے بیج ڈالتے ہیں لہٰذا تم اپنی کھیتی میں جس روش سے چاہو اور جس طرح چاہو اور جس کیفیت سے چاہو آئو مگر آئو کھیتی میں اور اپنے لئے آگے کی بھی کچھ فکر کرو اور آئندہ کیلئے بھی ایسے نیک اعمال کرتے رہو جس سے تم آگے چل کر فائدہ اٹھائو اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس بات کو خوب جان لو اور یقین کرو کہ تم اللہ تعالیٰ سے ملاقی ہونے والے ہو اور اس سے ملاقات کرنے والے اور اس کے حضور میں حاضر ہونے والے ہو اور اے نبی ! ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے کہ جس ملاقات کی ان کو اطلاع دی جارہی ہے وہ ملاقات ان کے لئے نافع اور خوش آئند…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 221–223

ف 1۔ اس آیت میں دو حکم ہیں ایک یہ کہ کافروں مردوں سے مسلمان عورت کا نکاح نہ کیا جاوے سو حکم یہ کہ مسلمان مرد کا کافر عورت سے نکاح نہ کیا جائے اس حکم میں دو جزو ہیں ایک جزویہ کہ وہ کافر عورت کتابی یعنی یہودی یا نصرانی نہ ہو اور کوئی مذہب کفر کا رکھتی ہو اس جزو میں بھی اس آیت کا حکم باقی ہے چناچہ ہندو عورت یا آتش پرست عورت سے نکاح مسلمان کا نہیں ہوسکتا دوسرا جزو یہ کہ عورت کتابیہ ہو یعنی یہود و نصاری اس خاص جزو میں اس آیت کا حکم باقی نہیں بلکہ ایک آیت سورة مائدہ میں اس مضمون کی ہے کہ کتابی عورتوں سے نکاح درست ہے سو اس آیت سے اس آیت کا یہ خاص جزو منسوخ ہوگیا چناچہ یہود و نصاری سے نکاح درست ہے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ازدواجی زندگی کی ایک ضرورت افزائش نسل ہے : 379: مرد و عورت کے باہمی تعلقات و روابط میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا حقیقی مقصد نسل انسانی کی زیادتی اور اس کی نشونما ہے اس کے لئے قرآن کریم نے کھیتی کا بہترین لفظ استعمال کیا ہے جس سے ایک طرف تو یہ مقصد تھا کہ خاوند اور بیوی کے نازک تعلقات کو ایسے اشارات و کنایات میں بیان کیا جائے کہ ہر گھر میں مرد ، عورت ، لڑکے اور لڑکیاں ، چھوٹے اور بڑے اس کتاب کو پڑھ سکیں اور کسی کو حجاب نہ پیدا ہو یہ ایک ایسا عظم الشان معجزہ ہے جو دنیا میں قرآن کے سوا اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم یہ بھی چاہتا تھا کہ ان تعلقات کی حقیقی غرض وغایت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 222–223

No sexual intercourse during menstruation The basic purpose of these verses is to declare the prohibition of having sexual intercourse with a woman in a state of menstruation. If someone committed sexual intercourse in such a state either unknowingly or carelessly, he has to make Taubah (repentance). In this context it has been said in the verse 222 that "Allah loves those who are most repenting." The verse 223 points out to the lawful ways of having sexual intercourse with one's woman. The permission of such intercourse has been subjected to two conditions. Firstly, it should take place at…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

241. That is, God's purpose in the creation of women is not merely to provide men with recreation. Their mutual relationship is like that between a farmer and his tilth. A farmer approaches his field not just for the sake of pleasure, but to acquire produce. Similarly, man ought to approach the tilth of the human race with the purpose of acquiring produce, that is, offspring. What is of concern to the Law of God is not the particular mode of cultivating one's tilth, but rather that one should go only to one's tilth and not elsewhere, and that one should go there for the purpose of…

Read the full tafseer →