ایام حیض اور جماع سے متعلقہ مسائل :
حضرت انس فرماتے ہیں کہ یہودی لوگ حائضہ عورتوں کو نہ اپنے ساتھ کھلاتے تھے اور نہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، صحابہ نے اس بارے میں حضور ﷺ سے سوال کیا جس کے جواب میں یہ آیت اتری، اور حضور ﷺ نے فرمایا سوائے جماع کے اور سب کچھ حلال ہے یہودی یہ سن کر کہنے لگے کہ انہیں تو ہماری مخالفت ہی سے غرض ہے، حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر نے یہودیوں کا یہ کلام نقل کر کے کہا کہ حضور ﷺ پھر ہمیں جماع کی بھی رخصت دی جائے، آپ ﷺ کا چہرہ یہ سن کر متغیر ہوگیا یہاں تک کہ اور صحابہ نے خیال کیا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض ہوگئے۔ جب یہ بزرگ جانے لگے تو آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی بزرگ تحفتاً دودھ لے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 238
اصل میں اذیٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی گندگی کے بھی ہیں اور بیماری کے بھی۔ حیض صرف ایک گندگی ہی نہیں ہے، بلکہ طبی حیثیت سے وہ ایک ایسی حالت ہے، جس میں عورت تندرستی کی بہ نسبت بیماری سے قریب تر ہوتی ہے۔
سورة الْبَقَرَة 239
قرآن مجید اس قسم کے معاملات کو استعاروں اور کنایوں میں بیان کرتا ہے۔ اس لیے اس نے ”الگ رہو“ اور ”قریب نہ جاؤ“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ ایک فرش پر بیٹھنے یا ایک جگہ کھانا کھانے سے بھی احتراز کیا جائے اور اسے بالکل اچھوت بنا کر رکھ دیا جائے، جیسا کہ یہود اور ہنود اور بعض دوسری قوموں کا دستور ہے۔ نبی ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
خلاصہ تفسیر
حکم نمبر 19 حیض میں جماع کی حرمت اور پاکی کی شرائط
وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ (الی قولہ) وَبَشِّرِ الْمُؤ ْمِنِيْنَ اور لوگ آپ سے حیض کی (حالت میں صحبت وغیرہ کرنے) کا حکم پوچھتے ہیں آپ فرمادیجئے کہ وہ (حیض) گندگی کی چیز ہے تو حالت حیض میں عورتوں (کے ساتھ صحبت کرنے) سے علیحدہ رہا کرو اور (حالت میں) ان سے قربت مت کرو جب تک وہ (حیض سے) پاک نہ ہوجاویں پھر جب وہ (عورتیں) اچھی طرح پاک ہوجاویں (کہ ناپاکی کا شک وشبہ نہ رہے) تو ان کے پاس آؤ جاؤ (یعنی ان سے صحبت کرو) جس جگہ سے تم کو خدا تعالیٰ نے اجازت دی ہے (یعنی آگے سے) یقینا اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں توبہ کرنے والوں سے (مثلاً…
Read the full tafseer →ایام حیض کے احکام : ایام ماہواری سے متعلق یہ سوال صرف اسی پہلو سے نہیں پیدا ہوا کہ اس زمانے میں عورت سے قربت جائز ہے یا نہیں، اس زمانے میں قربت تو نہ صرف تمام آسمانی مذاہب میں ممنوع رہی ہے بلکہ عرب جاہلیت بھی اس کو ناجئز سمجھتے تھے، ان کے اشعار میں مختلف پہلوؤں سے اس کا ذکر ملتا ہے۔ البتہ اس سے متعلق دوسرے بہت سے مسائل تھے، جن میں بڑی افراط وتفریط پائی جاتی تھی مثلاً یہ کہ اس زمانے میں عورت سے اجتناب کے حدود کیا ہیں، اس کے لیے طہارت کے کیا آداب و شرائط ہیں اور طلاق و عدت وغیرہ کے معاملات میں اس کی اہمیت کیا ہے ؟ بالخصوص موخر الذکر سوال کی بڑی اہمیت تھی اس لیے کہ اس کے اثرات نکاح، طلاق، عدت…
Read the full tafseer →222۔ 1 بلوغت کے بعد ہر عورت کو ایام ماہواری میں جو خون آتا ہے اسے حیض کہا جاتا ہے اور بعض دفعہ عادت کے خلاف بیماری کی وجہ سے خون آتا ہے اسے استحاضہ کہتے ہیں جس کا حکم حیض سے مختلف ہے حیض کے ایام میں عورت کو نماز معاف ہے اور روزے رکھنے ممنوع ہیں، تاہم روزوں کی قضا بعد میں ضروری ہے۔ مردوں کے لئے صرف ہم بستری سے منع کیا ہے البتہ بوس و کنار جائز ہے اسی طرح عورت ان دنوں میں کھانا پکانا اور دیگر کام کرسکتی ہے۔
222۔ 2 جہاں سے اجازت ہے یعنی شرم گاہ سے۔ کیونکہ حالت حیض میں بھی اسی سے روکا گیا تھا اور اب پاک ہونے کے بعد جو اجازت دی جا رہی ہے تو اس کا مطلب (فرج، شرم گاہ) کی اجازت ہے نہ کہ کسی اور حصے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 220–222
144: جب قرآن کریم نے یتیموں کا مال کھانے پر سخت وعید سنائی (سورة نساء 4: 1۔ 2) تو بعض صحابہ جن کی سرپرستی میں کچھ یتیم تھے، اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا الگ پکواتے اور انہیں الگ ہی کھلاتے، یہاں تک کہ اگر ان کا کچھ کھانا بچ جاتا تو خراب ہوجاتا، اس میں تکلیف بھی تھی اور نقصان بھی، اس آیت نے واضح کردیا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ یتیموں کی مصلحت کا پورا خیال رکھا جائے، سرپرستوں کو مشکل میں ڈالنا مقصد نہیں ہے، لہذا ان کا کھانا ساتھ پکانے اور ساتھ کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ معقولیت اور انصاف کے ساتھ ان کے مال سے ان کے کھانے کا خرچ وصول کیا جائے، پھر اگر غیر ارادی طور پر کچھ کمی بیشی ہو…
Read the full tafseer →زن وشوہر کے باہمی تعلقات پر یہ ایک دوسری نظر ہے ۔ اچٹتی نظر۔ اس طبیعی تعلق کو اللہ کی طرف ذرا بلند کردیا جاتا ہے۔ جسم انسانی کے اعضائے رئیسہ کی شدید ترین طبیعی اور حیوانی لذتیت یعنی مباشرت کو بھی بلند مقصدیت عطا کردی جاتی ہے ۔ اور اس میں بھی ایک گونہ تقدس کا رنگ آجاتا ہے۔
زن وشوہر کے باہمی تعلق میں مباشرت بھی ایک وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ بذات خود مقصد نہیں ہے ۔ یہ حیات انسانی کے ایک گہرے راز اور بلند مقصد کا ذریعہ ہے ۔ نسل کشی اور زندگی کا تسلسل اور یہ نقطہ نظر آخرکار ہمیں اللہ تک پہنچاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ دوران حیض مباشرت سے مرد وزن دونوں کے لئے مضرات یقینی ہیں لیکن اس کے باوجود محض حیوانی لذت…
Read the full tafseer →1 حیض کہتے ہیں اس خون کو جو عورتوں کی عادت ہے اس حالت میں مجامعت کرنا نماز روزہ سب حرام ہیں اور خلاف عادت جو خون آئے وہ بیماری ہے اس میں مجامعت، نماز، روزہ سب درست ہیں اس کا حال ایسا ہے جیسا زخم یا فصد سے خون نکلنے کا یہود اور مجوس حالت حیض میں عورت کے ساتھ کھانے اور ایک گھر میں رہنے کو بھی جائز نہ سمجھتے تھے اور نصاری مجامعت سے بھی پرہیز نہ کرتے تھے۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو اس پر یہ آیت اتری آپ ﷺ نے اس پر صاف فرما دیا کہ مجامعت اس حالت میں حرام ہے اور ان کے ساتھ کھانا پینا رہنا سہنا سب درست ہیں یہود کا افراط اور نصاریٰ کی تفریط دونوں مردود ہوگئیں۔
2 پاک ہونے میں تفصیل ہے کہ اگر حیض اپنی پوری…
Read the full tafseer →آیت 222 وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ط قُلْ ہُوَ اَذًیلا فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْْمَحِیْضِلا وَلاَ تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ ج فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ط
معلوم ہوا کہ بدیہیات فطرت اللہ تعالیٰ کے اوامر میں شامل ہیں۔ عورتوں کے ساتھ مجامعت کا طریقہ انسان کو فطری طور پر معلوم ہے ‘ یہ ایک امر طبعی ہے۔ ہر حیوان کو بھی جبلی طور پر معلوم ہے کہ اسے اپنی مادّہ کے ساتھ کیسا تعلق قائم کرنا ہے۔ لیکن اگر انسان فطری طریقہ چھوڑ کر غیر فطری طریقہ اختیار کرے اور عورتوں کے ساتھ بھی قوم لوط والا عمل کرنے لگے تو یہ حرام ہے۔ صحیح راستہ وہی ہے جو اللہ…
Read the full tafseer →295 اذی کا معنی تکلیف، بیماری اور گندگی بھی ہے۔ چناچہ طبی حیثیت سے حیض کے دوران عورت کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ صحت کی نسبت بیماری سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ حیض کی مدت ہر عورت کے جسم اور اس کے مزاج کے لحاظ سے کم و بیش ہوتی ہے جو عموماً کم ازکم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن تک ہوسکتی ہے اور اپنی اپنی عادت (مدت حیض) کا ہر عورت کو علم ہوتا ہے۔
296 الگ رہو اور قریب نہ جاؤ۔ ان دونوں سے مراد مجامعت کی ممانعت ہے۔ یہود و نصاریٰ دونوں اس معاملہ میں افراط وتفریط کا شکار تھے۔ یہود تو دوران حیض ایسی عورتوں کو الگ مکان میں رکھتے اور ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بھی نہ کھاتے تھے اور نصاریٰ دوران حیض مجامعت سے…
Read the full tafseer →823 ۔ یعنی عورت کے زمانہ خاص میں اس سے ہم بستری کا حکم۔ قرآن زندگی کا مکمل دستور العمل ہے۔ وہی زندگی جس میں کھانا، پینا، سونا جنسی خواہش کا پیدا ہونا، بچہ کا باپ یا ماں بننا، سب کچھ داخل ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ جو کچھ بھی تعلق تعمیر سیرت سے رکھتا ہے، اس کی بابت ہدایات و احکام وہ لازمی طور پردے گا۔ وہ محض ” بزرگان ملفوظات “ کا مجموعہ نہیں۔ معاشیات، معاشرت، اخلاقیات، قانون، غرض انفرادی واجتماعی زندگی کے ہر شعبہ کے ضروری ابواب کا ذکر نا گزیر ہے۔ خدانخواستہ ایسا نہ ہوتا، تو اس ہدایت نامہ کی جامعیت وکاملیت پر حرف آجاتا۔ محیض۔ مصدر میمی ہے معنا حیض کے مرادف۔
824 ۔ (جسیا کہ دنیا میں عموما دوسری قوموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
آیت نمبر 222 تا 225
ترجمہ : لوگ آپ سے حیض کے (حکم) کے بارے میں پوچھتے ہیں، یعنی حیض یا حائضہ کے بارے میں کہ اس حالت میں عورتوں سے (ازدواجی) تعلق کا کیا حکم ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ حیض گندگی ہے یا محل گندگی ہے، لہٰذا عورتوں کو حالت حیض میں یعنی وطی کو یا محل حیض کو چھوڑ دو اور جماع کے لئے ان کے قریب بھی نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک صاف ہوجائیں (یَطھرن) طاء کے سکون و تشدید کے ساتھ اور ھاء کی تشدید کے ساتھ ہے اور اس میں اصل میں تاء میں ادغام ہے یعنی حیض موقوف ہونے کے بعد غسل کرلیں، پھر جب پاک صاف ہوجائیں تو ان کے پاس جانے (وطی) کی اجازت ہے اس مقام میں جہاں سے اللہ نے تم کو حالت حیض میں وطی سے اجتناب…
Read the full tafseer →وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ ( اور اے محمد ﷺ لوگ تم سے حیض کی بابت دریافت کرتے ہیں محیض مصدر (میمی) جیسے محبی اور ہیئت اور معنی یہ ہیں کہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ عورت سے حیض کی حالت میں کس طرح برتاؤ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے یسئلونک ( پہلے) تین جگہ بغیر واؤ کے فرمایا ہے اور پھر تین جگہ واؤ کے ساتھ فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے تین سوال تو متفرق وقتوں میں کیے گئے تھے اور اسی واسطے انکو جمع کے لفظ کے ساتھ فرمایا ہے۔
قُلْ ھُوَ اَذًى ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَاۗءَ فِي الْمَحِيْضِ ۙ ( اے محمد) کہہ دو کہ وہ ( یعنی حیض) ناپاکی ہے اس لیے حیض میں عورتوں سے تم الگ رہو) اور الگ رہنے سے مراد سب…
Read the full tafseer →(222) یہ آیت مبارکہ ابن الدحداح ؒ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے متعلق پوچھا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ آپ سے حیض کی حالت میں ہمبستری کرنے کے متعلق دریافت کرتے ہیں، اے محمد کریم ﷺ آپ فرما دیجیے کہ حیض گندگی اور حرام ہے لہٰذا حالت حیض میں ان سے ہمبستری کرنا قطعی طور پر چھوڑ دو اور جب تک کہ وہ پاک نہ ہوجائیں، اس چیز کے قریب بھی نہ جاؤ جب وہ اچھی طرح پاک ہو کر (دس دن سے کم پر) غسل کرلیں تو جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے وہاں ان کے ساتھ ہمبستری کرو اور اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کرنے والوں اور گندگیوں اور گناہوں سے پاک رہنے والوں کو…
Read the full tafseer →الْمَحِيْضِ“ حَاضَ یَحِیْضُ (ض) سے اسم مصدر ہے، اس کا اصل معنی ”بہنا“ ہے۔ مراد عورت کا وہ خون ہے جو ہر ماہ عادت کے مطابق آتا ہے۔ عادت کے خلاف جو خون آئے وہ استحاضہ (بیماری) ہے۔
”اَذًى“ کا لفظ تکلیف، بیماری اور گندگی تینوں معنوں میں آتا ہے۔ نکرہ ہونے کی وجہ سے ”ایک طرح کی گندگی“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کا گندگی ہونا تو ظاہر ہے، طبی حیثیت سے بھی عورت ان دنوں صحت کی نسبت بیماری کے زیادہ قریب ہوتی ہے اور اس حالت میں اس سے جماع خاوند اور بیوی دونوں کے لیے بیماری کا باعث ہوسکتا ہے۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ یہود میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ گھر میں ان کے ساتھ اکٹھے رہتے،…
Read the full tafseer →اس میں چودہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” طبری نے سدی سے ذکر کیا ہے کہ سائل حضرت ثابت بن وحداح ہیں۔ اور یہ قول بھی ہے کہ حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر ؓ ہیں اور یہی اکثر مفسرین کا قول ہے اور سوال کے سبب کے بارے میں حضرت قتادہ وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ مدینہ منورہ اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے عرب لوگ حیض والی عورتوں کے ساتھ کھانے پینے اور ان کے ساتھ رہائش اختیار کرنے سے اجتناب کرنے میں بنی اسرائیل کے طریقے پر چلتے تھے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت مجاہد نے کہا ہے : وہ حالت حیض میں عورتوں سے دور رہتے تھے اور وہ زمانہ حیض کی مدت ان کی دبروں میں وطی کرتے تھے، پس یہ…
Read the full tafseer →حیض کے زمانے میں ہمبستری سے اجتناب کرنا
(1) امام احمد، عبد بن حمید، دارمی، مسلم، ابو داؤد (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابو یعلی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، النحاس نے الناسخ میں، ابن حبان اور بیہقی نے سنن میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں جب کوئی حائضہ ہوجاتی تھی تو وہ اس کو گھر سے نکال دیتے تھے نہ اس کو اپنے ساتھ کھلاتے تھے نہ اس کو اپنے ساتھ پلاتے تھے اور نہ اکٹھے رہتے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” یسئلونک عن المحیض، قل ھو اذی، فاعتزلوا النساء فی المحیض “ (الآیہ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کے ساتھ گھروں میں رہو ان کے ساتھ سوائے جماع کے…
Read the full tafseer →[ وَیَسْئَلُوْنَکَ : اور وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الْمَحِیْضِ : خون جاری ہونے کے وقت کے متعلق ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ ہُوَ : وہ ] [ اَذًی : ایک تکلیف ہے ] [ فَاعْتَزِلُوا : پس تم لوگ کنارہ کش رہو ] [ النِّسَآئَ : عورتوں سے ] [ فِی الْْمَحِیْضِ : خون جاری ہونے کے وقت میں ] [ وَلاَ تَقْرَبُوْہُنَّ : اور تم لوگ قریب مت ہو ان کے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَطْہُرْنَ : وہ پاک ہوں ] [ فَاِذَا : پھر جب ] [ تَطَہَّرْنَ : وہ خود کو پاک کرلیں ] [ فَاْتُوْہُنَّ : تو تم لوگ آئو ان کے پاس ] [ مِنْ حَیْثُ : جہاں سے ] [ اَمَرَکُمُ : حکم دیا تم کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ اِنَّ اللّٰہَ :…
Read the full tafseer →حیض والی عورت سے متعلقہ احکام
اللہ جل شانہٗ نے نوع انسان کو بڑھانے اور باقی رکھنے کے لیے مرد عورت کے درمیان خاص تعلق رکھا ہے اور شرعی قانون کے مطابق نکاح ہوجانے سے قواعد اور اصول کے مطابق آپس میں ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھنے اور قریب تر ہونے کی اجازت دی ہے اور طبعی طور پر مرد عورت میں شہوت رکھی ہے وہ اس شہوت کے تقاضے پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور یہی شہوت اولاد پیدا ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے اولاد پیدا ہونے کے لیے شہوت رکھ دی اور پھر اس کی پرورش کروانے کے لیے محبت رکھ دی، جسے مامتا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اور تکوینی طور پر عورتوں کے لیے یہ تجویز فرما دیا کہ ان کے رحم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
حکم نوزدھم حرمت جماع درحالت حیض۔
قال تعالی، ویسئلونک عن المحیض۔۔ الی۔۔۔ المومنین۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں نکاح کا حکم مذکو رتھا اس آیت میں حالت حیض میں جماع اور قربان کا حکم بیان کرتے ہیں یہود میں یہ دستور تھا کہ ایام حیض میں عورت سے بالکل علیحدہ رہتے نہ اس کے ساتھ کھاتے اور نہ پیتے بلکہ اس کو علیحدہ مکان میں رکھتے اس کے برعکس نصاری میں ہی دستور تھا کہ ایام حیض میں مخالطت تو درکنار مجامعت سے بھی پرہیز نہ کرتے مدینہ منورہ میں ہر قسم کے لوگ رہتے تھے اس لیے صحابہ کرام کو اس مسئلہ میں خلجان پیش آیا اور حضور پرنور ﷺ سے سوال کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور لوگ آپ سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ حالت حیض میں…
Read the full tafseer →434 پانچواں مسئلہ۔ اگر یہ دیکھا جائے کہ حیض والی عورت اپنی منکوحہ ہے تو اس سے صحبت جائز ہے لیکن اگر حالت حیض کو مد نظر رکھا جائے تو صحبت جائز نہیں کیونکہ عورت کا بدن ناپاک ہے۔ نیز فریقین کے بیمار ہوجانے کا بھی اندیشہ ہے اس لیے ترجیح اس شق کو دے کر اس حالت میں صحبت کو حرام قرار دیدیا گیا جس کی وجہ سے وطی کی حرمت عارضی ہے اور حیض سے طہارت کے بعد وطی جائز ہے۔ اس تلذذ کو اذی کے مقابلہ میں ترک کردو۔ اگر ایذا بدنی ہو تو چند روز بیوی سے مقاربت نہ کرو لیکن اگر بیوی مشرکہ ہو تو اسے سرے سے چھوڑ ہی دو ۔435 قُلْ ھُوَ اَذًى۔ یعنی حیض کی حالت میں وطی عورت کے لیے باعث تکلیف ہونے کے ساتھ ساتھ مرد کے لیے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
ربط آیات
پچھلے رکوع میں مختلف مسائل کا ذکر تھا اور سوالات کے جوابات تھے ، خصوصاً شراب اور جوئے سے متعلق سوال کا جواب تھا ، پھر شراب اور جوئے کی قیامت کا ذکر ہوا ، پھر مال میں سے خرچ کرنے کے متعلق سوال آیا ۔ اس کے جواب میں بنیادی قانون سمجھایا گیا کہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے بعد خرچ کرنا چاہئے ، پھر یتیموں کی اصلاح اور ان کے خرچ کو اپنے ساتھ ملانے کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اجازت دی کہ یتیموں کے حق میں جو چیز بہتر ہو ، وہ ہونی چاہئے ، ان کی اصلاح اور ان کے مال کی حفاظت بہر صورت پیش نظر رہنی چاہئے ۔ یتیموں کا مال کھانا ، جوئے کی کمائی کھانا ، شراب کو استعمال…
Read the full tafseer →وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ 0 ۭ قُلْ ھُوَاَذًى 0 ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَاۗءَ فِي الْمَحِيْضِ 0 ۙ وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰى يَطْہُرْنَ 0 ۚ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللہُ 0 ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ التَّـوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِيْنَ 222
حيض
الحیض : الدّم الخارج من الرّحم علی وصف مخصوص في وقت مخصوص، والمَحِيض : الحیض ووقت الحیض وموضعه، علی أنّ المصدر في هذا النّحو من الفعل يجيء علی مفعل، نحو : معاش ومعاد، وقول الشاعر : لا يستطیع بها القراد مقیلاأي مکانا للقیلولة، وإن کان قد قيل : هو مصدر، ويقال : ما في برّك مكيل ومکال
( ح ی ض ) الحیض ۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
ترکیب : الحیض موضع الحیض ویحتمل ان یکون نفس الحیض والتقدیر یسئلونک عن الوطی فی زمن الحیض من حیث امر کم من اس جگہ ابتداء غایۃً کے لیے ہے اور ممکن ہے کہ بمعنی فی ہو۔ پس یسئلون فعل ھم خبر فاعل کے مفعول عن المحیض فعل کے متعلق ہو کر جملہ خبر یہ ہوا ھو مبتداء اذی خبر جملہ مقولہ ہو اقل کا فاعتزلوا امر حاضر معروف وانتم اس کا فاعل النساء مفعول بہ فی المحیض متعلق ہے۔ فعل سے جملہ انشائیہ معطوف علیہ ولا تقربوا الخ اس پر معطوف فاذا حرف شرط تطہرن مخفف اور مثقل دونوں طرح پر ہے۔ اس کی اصل تتطہرن تھا۔ ت کو ساکن کرکے ط سے بدلا اور دوسری ط میں ادغام کردیا۔ یہ جملہ شرط فاتوھن جواب شرط من حیث متعلق ہے فاتوھن سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
وَیَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ط قُلْ ھُوَ اَذًی لا فَاعْتِزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ لا وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ ج فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ ۔
(وہ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے وہ ناپاکی (اور بیماری) ہے، پس الگ رہا کرو عورتوں سے حیض کی حالت میں، اور ان سے قربت نہ کرو جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں، پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جیسے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے، اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : عورتوں کے متعلقہ مسائل کا بیان جاری ہے۔
سوال و جواب کے حوالے سے سلسلۂ کلام جاری ہے۔ یہاں ازدواجی زندگی کے ایک اہم اور فطری مسئلے کے متعلق پھر ایک سوال کا جواب دیا جارہا ہے کہ حیض کی حالت میں میاں بیوی کے تعلقات کی کیا نوعیت ہونی چاہیے ؟ کیونکہ اس بارے میں لوگ افراط وتفریط کا شکار تھے۔ عیسائی حیض کے ایام میں اپنی بیویوں سے مجامعت جاری رکھتے اور یہودی ان سے اس قدر دور رہتے اور نفرت کرتے کہ بیویوں کے قریب بیٹھنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا تو در کنار ان کے برتن اور رہائش بھی الگ کردیتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ بےچاری مخصوص ایام میں اپنے معصوم بچوں سے پیار بھی نہ کرسکتی تھی۔ مسئلے…
Read the full tafseer →222۔ وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآئَ فِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْ ہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ فَاِذَا تَطَہَّرْنَ فَاْتُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ ۔ اور وہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں ‘ آپ فرما دیجئے کہ وہ گندگی ہے۔ سو تم علیحدہ رہو عورتوں سے حیض کے زمانہ میں ‘ اور ان کے پاس نہ جائو یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں ‘ پھر وہ جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس آئو جس جگہ سے اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ بیشک اللہ پسند فرماتا ہے خوب توبہ کرنے والوں کو اور پسند فرماتا ہے خوب پاکیزگی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 222۔:
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ بیشک یہود کا طریقہ تھا کہ جب کوئی عورت حیض والی ہوتی تو اسے گھر سے نکال دیتے اور اس کے ساتھ مل کر نہ کھاتے اور نہ پیتے اور نہ اس کو گھر میں اکٹھا رکھتے ، پس حضور اقدس ﷺ سے پوچھا گیا پس اللہ تعالیٰ نے ناز فرمایا (آیت)” ویسئلونک عن المحیض قل ھو اذی فاعتزلوا النساء فی المحیض “ ۔ الآیۃ ۔ پس حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ حیض والی عورتوں کو گھر میں اکٹھا رکھو اور ان کے ساتھ ہر معاملہ کرو سوائے جماع کے پس یہود نے کہا کہ یہ شخص (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور کچھ ارادہ نہیں رکھتا مگر یہ ہمارے ہر معاملہ میں ہماری مخالفت کریں تو اسید بن حضیر اور عبادہ بن بشیر ؓ…
Read the full tafseer →مسلم 3۔ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ یہود میں یہ دستور تھا کہ جب عورت کی حیض کی حالت ہوتی تو اس کے ساتھ کھنا پینا ایک گھر میں رہنا سب کچھ چھوڑ دیتے صحابہ نے یہود کا یہ حال دیکھ کر آنحضرت ﷺ سے اس باب میں مسئلہ پوچھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ سوائے صحبت کے اور سب طرح کا اختلاط حائضہ عورت سے جائز ہے چناچہ حضرت عائشہ ؓ سے کسی نے مسئلہ پوچھا کہ حائضہ عورت سے کہاں تک اختلاط جائز ہے آپ نے فرمایا کہ سوائے مباشرت کے اور سب کچھ جائز ہے 4۔ ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنی عورت سے حیض کی حالت میں صحبت کی یا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ حیض کے بارے میں اہل ایمان کے اس سوال سے آگاہ فرماتا ہے کہ آیا ایام حیض کے شروع ہونے کے بعد عورت سے اسیطرح اختلاط رکھا جائے جس طرح ایام حیض سے قبل تھا۔ یا اس سے مطلقاً اجتناب کیا جائے جیسے یہودی کیا کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ حیض سے قبل تھا۔ یا اس سے مطلقاً اجتناب کیا جائے جیسے یہودی کیا کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ حیض ایک نجاست ہے۔ جب حیض ایک نجاست ہے تو حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس نجاست سے روک کر اس کی حدود مقرر کر دے۔ اس لئے فرمایا : (آیت) ” پس ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ “ یعنی مقام حیض سے دور رہو اور اس سے مراد…
Read the full tafseer →حیض کا بیان
قول باری ہے ویسئلونک عن المحیض قل ھواذی فاعتزلوا النساء فی المحیض۔ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا کیا حکم ہے کہہ دیجئے کہ وہ ایک گندگی کی حالت ہے اس میں عورتوں سے الگ رہو) لفظ محیض حیض کے لئے اسم ہے اور یہ بھی درست ہے کہ یہ موضع حیض کے لئے اسم ہو۔ مثلا مقیل (قیلولہ کرنے کی جگہ) یا مبیت (رات گزارنے کی جگہ) وغیرہ۔ لیکن لفظ محیض سے جس مضمون کی طرف اشارہ ہو رہا ہے اس کی دلالت یہ ہے کہ یہاں اس سے حیض مراد ہے اس لئے کہ سوال کا جواب ان الفاظ میں دیا گیا ہے کہ ” یہ گندگی کی حالت ہے “ یہ بات حیض کی صفت موضع حیض کی نہیں ہوسکتی لوگوں نے دراصل اس کے حکم کے متعلق سوال کیا تھا اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
617 حیض کے بارے میں سوال اور اس کا مبنی برحق وانصاف جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں حیض کے بارے میں کہ ایسی حالت میں عورت سے کیا معاملہ کریں۔ کیونکہ اسلام سے پہلے لوگ اس بارے میں افراط وتفریط میں مبتلا تھے۔ یہود اس انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے کہ ایسی حالت میں عورتوں کو اپنے گھر میں رکھنے کے بھی روادار نہ تھے، بلکہ ان کو ایک نجس اور ناپاک مخلوق قرار دے کر اپنے سے الگ کردیا کرتے تھے، جبکہ نصاریٰ اس بارے تفریط میں مبتلا تھے، کہ وہ ایسی حالت میں ان سے صحبت و مباشرت کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ (المراغی، وغیرہ) ۔ اور آج بھی حق و ہدایت کی روشنی سے محروم مادہ پرست دنیا کا حال یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
احکام حیض
تشریح : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں یہودی عورتوں کے ماہواری کے دنوں میں ان کے ہاتھ کا کھانا، پینا ان کے قریب بیٹھنا حتیٰ کہ ان کو گھر میں رکھنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ دوسری طرف عیسائی اس دوران عورتوں سے بےتکلفی بھی کرتے تھے تو صحابہ کرام نے آپ ﷺ سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو رب العزت جواب دیتے ہیں کہ یہ ماہواری کا خون گندگی کہلاتی ہے۔ اس کے بارے میں رب العزت نے بڑا اچھا حکم دیا ہے جو کہ طہارت اور صحت انسانی کے لیے ضروری اور درست حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حیض کے دوران عورتوں کو اس قدر ناپاک نہ سمجھو کہ ان کے ہاتھ کا کھانا چھوڑ دو ان کو گھر سے نکال دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–229
آیات 222- 228
اسرارو معارف
صحبت کا احکام :
اور جب رشتہ ازدواج یا نکاح کا ذکر ہو تو یقینا سوال عورت سے قربت کا بھی پیدا ہوگا اور اس میں عورت کی حالت کو بھی دخل ہے کہ حالت حیض میں صحبت کرنے کا کیا حکم ہے ؟ تو فرمادیجئے کہ حیض گندگی کی چیز ہے اس حالت میں عورت کے ساتھ صحبت نہ کرو تاآنکہ وہ پاک ہوجائیں تو اس جگہ سے صحبت کرو جس جگہ سے اللہ نے صحبت کرنے کی اجازت دی ہے یعنی آگے کی جگہ سے۔ اور یہ بات یادرکھو کہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے یعنی غلبہ شہوت سے ناپاکی میں صحبت کے مرتکب ہوئے تو خوب توبہ کرو اور اللہ سے بخشش چاہو اور ہوسکے تو صدقہ بھی کرو کہ توبہ کی بہترین صورت ہے اللہ پاک صاف رہنے…
Read the full tafseer →ف 3 حیض کہتے ہیں خون کو جو عورتوں کی عادت ہے اور عادت کے خلاف جو خون آوے وہ استحاضہ (بیماری) ہے حیض کے دونوں میں عورت سے مجامعت کرنا اور عورت کے لیے نماز روزہ سب حرام ہیں حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ یہوں حالت حیض میں عورت کے ساتھ کھانے پینے اور گھر میں اس کے ساتھ اختلاط کو جائز نہیں سمجھتے تھے، صحابہ نے اس بارے میں آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا تو یہ آیت اتری۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : حالت حیض میں جماع کر علاوہ ہر طرح سے عورت کے ساتھ اختلاط جائز ہے اور اس حالت میں الگ رہنے کا مطلب صرف ترک مجامعت ہے۔ ( ابن کثیر بحوالہ مسلم وغیرہ)4 یعنی جب تک پاک ہو کر غسل نہ کرلیں اس پر جمیع علماء کا اتفاق ہے۔ صرف امام…
Read the full tafseer →(2:222) المحیض۔ مصدر میمی ہے۔ بمعنی حیض آنا۔ جیسے مبیت۔ رات گزارنا ۔ مجیئی (ج ی ئ) آنا۔ جاء یحیئی۔ کا مصدر۔ محیض کے معنی (1) حیض ۔ یعنی وہ خن جو مخصوص دنوں میں صفت خاص کے ساتھ عورت کے رحم سے جاری ہوتا ہے (2) ظرف زمان۔ وقت حیض یا زمانہ حیض (3) ظرف مکان۔ مقام حیض۔
اذی۔ ہر وہ ضرر جو ذی روح یا جسم کو پہنچے خواہ وہ ضرر دنیوی ہو یا اخروی۔ گندگی ، بیماری المنجد میں اس کے معنی تھوڑا ضرر۔ خفیف نقصان کے لکھے ہیں۔ اذی یاذی (سمع) تکلیف پانا اور اذی یوذی ایذا (افعال) تکلیف دینا۔ اذی۔ مادہ۔
اعتزلوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم الگ رہو۔ تم چھوڑ دو ۔ (یعنی عورتوں کے پاس زمانہ حیض میں نہ جاؤ) اعتزال (افتعال) بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
لغات القرآن : آیت نمبر 222 تا 223
المحیض (حیض (عورتوں کے مخصوص ایام) ۔ اذی ( ناپاکی، گندگی، بیماری) ۔ اعتزلوا (تم علیحدہ رہو) ۔ لا تقربوا (تم قربت نہ کرو نزدیک نہ جاؤ) ۔ حتی یطھرن (جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں) ۔ فاتوھن (پھر تم آؤ ان کے پاس) ۔ التوابین (بہت توبہ کرنے والے) ۔ متطھرین (بہت پاک رہنے والے) ۔ نساء (عورتیں) ۔ حرث (کھیتی) ۔ انی شئتم (جس طرح تم چاہو) ۔ قدموا (تم آگے بھیجو) ۔ ملقوا (تم اس سے ملنے والے ہو) ۔ بشر (خوش خبری دے دیجئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 222 تا 223
حج ، جہاد ، انفاق ، شراب ، جوا، یتیموں سے ہمدردی ، مشرک مردوں اور عورتوں سے نکاح کے مسائل کے بعد اب یہاں سے عورتوں کے حقوق اور ان…
Read the full tafseer →حیض کا ذکر
مسائل القرآن : مسلم شریف میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ یہود میں دستور تھا کہ جب عورت حیض کی حالت میں ہوتی تو اس کے ساتھ کھانا پینا، ایک گھر میں رہنا سب چھوڑ دیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ سوائے صحبت کے اور سب طرح کا ختلاط جائز ہے۔ حیض کی حالت میں مجامعت کرنا، نماز، روزہ سب حرام ہے اور خلاف عادت جو خون آوے وہ بیماری ہے، اس میں سب درست ہے، حیض کی مدت دس یوم کی ہے، اور اگر عورت کی عادت چھ یوم کی ہے تو بعد غسل کے یا نماز کا وقت ختم ہوجانے پر مجامعت درست ہوگی، اور اگر سات یا آٹھ یوم کی ہے تو ان دنوں کے پورے کرنے کے بعد مجامعت درست ہوگی۔
Read the full tafseer →[151] یعنی ان سے مباشرت نہ کرو۔
[152] یعنی جائز فطری طریق کے مطابق۔ اس کے علاوہ حصول لذت کے سارے طریقے ناجائز ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 2) قرآن حکیم ایسی کتاب ہے جس میں ہماری تمام ضروریات زندگی کو برملا بیان کردیا گیا ہے اور تمام آداب حیات کو واضح طور پر ظاہر کردیا گیا ہے تاکہ مسلمان کسی بات میں جاہل نہ رہیں ۔
حسن معاشرت اخلاق کا ایک اہم حصہ ہے اور وظائف جنسی کی تشریح و توضیح ان حالات میں اور بھی ضروری ہوجاتی ہے ، جبکہ قوم میں شہوانی جذبات زیادہ ہوں ، قرآن حکیم کے زمانہ میں ایسے لوگ تھے جو اس معاملے میں جائز وناجائز کا خیال نہیں رکھتے تھے ، جیسا کہ ابو الاجداح کے سوال سے مترشح ہوتا ہے ، اس لئے فرمایا کہ حیض کے دنوں میں مباشرت ممنوع ہے ، اخلاقا بھی اور طبعا بھی ” اذی کا لفظ وسیع ہے اور ان دونوں معنوں کو شامل ہے ۔
حل لغات…
Read the full tafseer →ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے حیض کی حالت میں عورتوں کی صحبت وغیرہ کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ آپ ان سے فرما دیجئے کہ حیض ایک گندی چیز ہے لہٰذا تم لوگ حیض کی حالت میں عورتوں کی ہم بستری سے علیحدہ اور الگ رہا کرو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں اور ان کا حیض بند نہ ہوجائے ان سے ہم بستری اور قربت نہ کرو مگر ہاں جب وہ اچھی طرح پاک ہوجائیں تو پھر جس جگہ سے تم کو اللہ نے حکم دیا ہے اور جہاں سے تم کو اجازت دی ہے اس جگہ سے ان کے پاس اگر جانا چاہو تو جائو یقینا اللہ تعالیٰ خطائیں معاف کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ گندگی سے بچنے والوں، پاک و صاف رہنے والوں کو پسند فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 221–223
ف 1۔ اس آیت میں دو حکم ہیں ایک یہ کہ کافروں مردوں سے مسلمان عورت کا نکاح نہ کیا جاوے سو حکم یہ کہ مسلمان مرد کا کافر عورت سے نکاح نہ کیا جائے اس حکم میں دو جزو ہیں ایک جزویہ کہ وہ کافر عورت کتابی یعنی یہودی یا نصرانی نہ ہو اور کوئی مذہب کفر کا رکھتی ہو اس جزو میں بھی اس آیت کا حکم باقی ہے چناچہ ہندو عورت یا آتش پرست عورت سے نکاح مسلمان کا نہیں ہوسکتا دوسرا جزو یہ کہ عورت کتابیہ ہو یعنی یہود و نصاری اس خاص جزو میں اس آیت کا حکم باقی نہیں بلکہ ایک آیت سورة مائدہ میں اس مضمون کی ہے کہ کتابی عورتوں سے نکاح درست ہے سو اس آیت سے اس آیت کا یہ خاص جزو منسوخ ہوگیا چناچہ یہود و نصاری سے نکاح درست ہے…
Read the full tafseer →ایام خاص میں عورتوں یعنی اپنی بیویوں سے علیحدگی کا مسٔلہ :
378: اوپر کی آیت میں نکاح کے متعلق بیان تھا اب نکاح ہی کے سلسلہ میں حیض ، طلاق اور عدت کے ضروری مباحث ہیں اس لئے ان کا ذکر کیا جا رہا ہے ۔ حیض کے متعلق دنیا کے لوگ افراط وتفریط میں مبتلا رہے ہیں۔ یہودیوں اور مجوسیوں کے نزدیک ایام حیض میں عورت کے قریب جانا اور اس سے بات چیت کرنا اس کے پاس بیٹھنا اس کے ساتھ کھانا پینا ممنوع و حرام تھا۔ عرب بھی اس وقت انہی کی دیکھا دیکھی اسی قانون کے پابند تھے۔ مگر نصاریٰ ان سے بخط مستقیم مخالف تھے وہ ان دنوں میں بیوی سے صحبت کرنے سے بھی پرہیز نہ کرتے تھے۔
اسلام نے راہ توسط و اعتدال اختیار کی۔ ایام حیص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
No sexual intercourse during menstruation
The basic purpose of these verses is to declare the prohibition of having sexual intercourse with a woman in a state of menstruation. If someone committed sexual intercourse in such a state either unknowingly or carelessly, he has to make Taubah (repentance). In this context it has been said in the verse 222 that "Allah loves those who are most repenting."
The verse 223 points out to the lawful ways of having sexual intercourse with one's woman. The permission of such intercourse has been subjected to two conditions. Firstly, it should take place at…
Read the full tafseer →238. The Arabic word adha denotes both a state of ritual impurity and sickness. Menstruation is not merely an impurity, but also a state in which the woman is closer to sickness than to health.
239. With regard to matters such as these the Qur'an resorts to metaphors and figurative language. Hence it instructs men not to approach women. This does not mean that people should either abstain from sitting together on the same floor or eating together when a woman has her monthly period making her virtually an untouchable, as has been the custom among the Jews, Hindus and certain other nations.…
Read the full tafseer →