پاک دامن عورتیں
بت پرست مشرکہ عورتوں سے نکاح کی حرمت بیان ہو رہی ہے، گو آیت کا عموم تو ہر ایک مشرکہ عورت سے نکاح کرنے کی ممانعت پر ہی دلالت کرتا ہے لیکن دوسری جگہ فرمان ہے آیت (وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ) 5۔ المائدہ :5) یعنی تم سے پہلے جو لوگ کتاب اللہ دئیے گئے ہیں ان کی پاکدامن عورتوں سے بھی جو زنا کاری سے بچنے والی ہوں ان کے مہر ادا کر کے ان سے نکاح کرنا تمہارے لئے حلال ہے، حضرت ابن عباس کا قول بھی یہی ہے کہ ان مشرکہ عورتوں میں سے اہل کتاب عورتیں مخصوص…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 237
یہ ہے علت و مصلحت اس حکم کی جو مشرکین کے ساتھ شادی بیاہ کا تعلق نہ رکھنے کے متعلق اوپر بیان ہوا تھا۔ عورت اور مرد کے درمیان نکاح کا تعلق محض ایک شہوانی تعلق نہیں ہے، بلکہ وہ ایک گہرا تمدنی، اخلاقی اور قلبی تعلق ہے۔ مومن اور مشرک کے درمیان اگر یہ قلبی تعلق ہو، تو جہاں اس امر کا امکان ہے کہ مومن شوہر یا بیوی کے اثر سے مشرک شوہر یا بیوی پر اور اس کے خاندان اور آئندہ نسل پر اسلام کے عقائد اور طرز زندگی کا نقش ثبت ہوگا، وہیں اس امر کا بھی امکان ہے کہ مشرک شوہر یا بیوی کے خیالات اور طور طریقوں سے نہ صرف مومن شوہر یا بیوی بلکہ اس کا خاندان اور دونوں کی نسل تک متاثر ہوجائے گی، اور…
Read the full tafseer →اٹھارہواں حکم مناکحت کفار
اور نکاح مت کرو کافر عورتوں کے ساتھ جب تک وہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان عورت (چاہے) لونڈی (کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر عورت سے (چاہے وہ آزاد بی بی ہی کیوں نہ) گو وہ (کافر عورت بوجہ مال یا جمال کے) تم کو اچھی معلوم ہو (مگر پھر بھی واقع میں مسلمان عورت ہی اس سے اچھی ہے) اور (اسی طرح اپنے اختیار کی) عورتوں کو کافر مردوں کے نکاح میں مت دو جب تک یہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان مرد (چاہے) غلام (ہی کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر مرد سے (چاہے وہ آزاد ہی کیوں نہ ہو) گو وہ (کافر مرد بوجہ مال یا جاہ کے) تم کو اچھا ہی معلوم ہو (مگر پھر بھی واقع میں مسلمان ہی…
Read the full tafseer →مشرکات سے نکاح کی ممانعت : اوپر یتیموں کی بہبود کے پہلو سے جس اشتراک کی اجازت دی گئی ہے اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کسی یتیم کا ولی، یتیم کے حقوق ہی کے تحفظ کے نقطہ نظر سے یہ مناسب خیال کرے کہ اس یتیم کی ماں سے نکاح کرلے تاکہ اس طرح ایک بیوہ کی پرورش اور اس کی حفاظت و عصمت کا انتظام بھی ہوجائے اور یتیم کے حقوق کی نگہداشت کے لیے اس کے گھر میں ایک بیدار نگاہ رکھنے والی بھی آجائے تو اس کا حکم کیا ہے ؟ قرآن نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ مصلحت بجائے خود اہمیت رکھنے والی ہے اور اس کو پیش نظر رکھ کر یتامی کی ماؤں سے نکاح کیا جاسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مومنہ ہوں۔ یہ شرط اس جہ سے لگائی ہے کہ…
Read the full tafseer →221۔ 1 مشرکہ عورتوں سے مراد بتوں کی پجاری عورتیں ہیں اہل کتاب (یہودی یا عیسائی) عورتوں سے نکاح کی اجازت قرآن نے دی ہے۔ البتہ کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی اہل کتاب مرد سے نہیں ہوسکتا۔ تاہم حضرت عمر ؓ نے مصلحتاً اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کو ناپسند کیا (ابن کثیر) آیت میں اہل ایمان کو ایمان دار مردوں اور عورتوں سے نکاح کی تاکید کی گئی ہے اور دین کو نظر انداز کر کے محض حسن وجمال کی بنیاد پر نکاح کرنے کو آخرت کی بربادی قرار دیا گیا جس طرح حدیث میں بھی نبی ﷺ نے فرمایا کہ عورت سے چار وجہوں سے نکاح کیا جاتا ہے مال، حسب نسب، حسن وجمال یا دین کی وجہ سے۔ تم دین دار عورت کا انتخاب کرو (صحیح بخاری) اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 220–222
144: جب قرآن کریم نے یتیموں کا مال کھانے پر سخت وعید سنائی (سورة نساء 4: 1۔ 2) تو بعض صحابہ جن کی سرپرستی میں کچھ یتیم تھے، اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا الگ پکواتے اور انہیں الگ ہی کھلاتے، یہاں تک کہ اگر ان کا کچھ کھانا بچ جاتا تو خراب ہوجاتا، اس میں تکلیف بھی تھی اور نقصان بھی، اس آیت نے واضح کردیا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ یتیموں کی مصلحت کا پورا خیال رکھا جائے، سرپرستوں کو مشکل میں ڈالنا مقصد نہیں ہے، لہذا ان کا کھانا ساتھ پکانے اور ساتھ کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ معقولیت اور انصاف کے ساتھ ان کے مال سے ان کے کھانے کا خرچ وصول کیا جائے، پھر اگر غیر ارادی طور پر کچھ کمی بیشی ہو…
Read the full tafseer →درس 15 ایک نظر میں
یہ سبق گویا عائلی قوانین پر مشتمل ایک ضابطہ ہے ۔ اس میں خاندانی نظام کی شیرازہ بندی کی گئی ہے ۔ خاندان تحریک اسلامی کی تنظیم کی اساس ہے ۔ خشت اول ہے ۔ اس اساس کو اسلام نے ہر پہلو سے مضبوط کیا ہے ۔ اس پر بےحد توجہ دی گئی ہے ۔ اسے بڑی تفصیل سے منظم کیا ہے ۔ اسے ہر طرح سے بچاکررکھا گیا ہے۔ اسے دور جاہلیت کی انارکی سے پاک کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں اتنی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں جگہ جگہ اس سلسلے میں ہدایات دی گئی ہیں اور ان میں وہ تمام بنیادیں فراہم کردی گئی ہیں جو تحریک اسلامی کی تنظیم کے ابتدائی حلقے کی تنظیم اور تعمیر کے لئے ضروری تھیں ۔
اسلام کا اجتماعی…
Read the full tafseer →10 پہلے مسلمان مرد اور کافر عورت اور اس کے برعکس دونوں صورتوں میں نکاح کی اجازت تھی اس آیت سے اس کو منسوخ کردیا گیا اگر مرد یا عورت مشرک ہو تو اس کا نکاح مسلمان سے درست نہیں یا نکاح کے بعد ایک مشرک ہوگیا تو نکاح سابق ٹوٹ جائے گا اور شرک یہ کہ علم یا قدرت یا کسی اور صفت خداوندی میں کسی کو خدا کا مماثل سمجھے یا خدا کے مثل کسی کی تعظیم کرنے لگے مثلاً کسی کو سجدہ کرے یا کسی کو مختار سمجھ کر اس سے اپنی حاجت مانگے۔ باقی اتنی بات دیگر آیات سے معلوم ہوئی کہ یہود و نصاری کی عورتوں سے مسلمان مرد کا نکاح درست ہے وہ ان مشرکین میں داخل نہیں بشرطیکہ وہ اپنے دین پر قائم ہوں دہریہ اور ملحد نہ ہوں جیسے اکثر…
Read the full tafseer →آیت 221 وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ط وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ ج وَلاَ تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا ط وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکُمْ ط۔
خواہ وہ صاحب حیثیت اور مال دار ہو ‘ لیکن دولت ایمان سے محروم ہو تو تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنی بہن یا بیٹی اس کے نکاح میں دے دو۔
اُولٰٓءِکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِج ۔
اگر ان سے رشتے ناتے جوڑو گے تو وہ تمہیں بھی جہنم میں لے جائیں گے اور تمہاری اولاد کو بھی۔
Read the full tafseer →294 کیونکہ مرد اور عورت کے درمیان نکاح کا تعلق محض شہوانی تعلق ہی نہیں جیسا کہ بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے بلکہ اس تعلق کے اثرات بڑے دور رس ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے دماغ اخلاق اور تمدن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ مثلاً ایک مومن ایک مشرکہ سے نکاح کرتا ہے تو اگر وہ مومن اپنے ایمان میں پختہ، علم میں بیوی سے فائق تر اور عزم کا پکا ہوگا تو اس صورت میں وہ اپنی بیوی کی اور کسی حد تک اپنے سسرال والوں کی اصلاح کرسکتا ہے۔ ورنہ عموماً یوں ہوتا ہے کہ مرد مغلوب اور عورت اس کے افکار پر غالب آجاتی ہے اور اگر دونوں اپنی اپنی جگہ پکے ہوں تو ان میں ہر وقت معرکہ آرائی ہوتی رہے گی اور اگر دونوں ڈھیلے ہوں تو وہ دونوں…
Read the full tafseer →816 ۔ (اے مسلمان مردو ! ) میاں بیوی کا رشتہ انتہائی الفت ورفق کا، اور باہمی مناسبت اور موانست کا ہوتا ہے۔ بیوی کو اگر شوہر سے اس درجہ نامناسبت ہے کہ وہ اس کی ساری شعوری اور اختیاری زندگی کے اصل اصول یعنی توحید و رسالت ہی کی منکر ہے، تو معلوم ہوا کہ دونوں میں باہمی مناسبت کی بنیاد درجہ ضعیف میں بھی موجود نہیں۔ مرد کو ایسی عورت کے ساتھ عمر نباہ کرنے کا خیال ہی چھوڑ دینا چاہیے، موافقت کامل کے دوسرے اجزاء عناصر موجود نہ ہوں، نہ سہی لیکن کم از کم وہ بنیادی عقیدہ تو مشترک ہو، جس کے تابع وماتح، چھوٹا بڑا زندگی کا ہر معاملہ ہے۔ فطرت بشری خود ایسے بےجوڑ ازدواج سے ابا کرتی ہے، دین فطرت اسے کیونکر جائز…
Read the full tafseer →وَلَاتَنْکِحُوا الْمُشْرِکَاتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ، تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں، زن و شوکا رشتہ انتہائی الفت و رفق و محبت کا ہے جو آپس میں مناسبت و موافقت و موانست کا متقاضی ہے، عورت اور مرد کے درمیان نکاح کا تعلق محض ایک شہواتی تعلق نہیں ہے، بلکہ وہ ایک گہرا تمدنی، اخلاقی اور قلبی تعلق ہے، مومن اور مشرک کے درمیان اگر یہ قلبی تعلق ہو تو جہاں اس امر کا امکان ہے کہ مومن شوہر یا بیوی کے اثر سے مشرک شوہر یا بیوی پر اور اس کے خاندان اور آئندہ نسل پر اسلام کے عقائد اور طرز زندگی کا نقش ثبت ہوگا، وہیں اس امر کا بھی امکان ہے کہ مشرک شوہر یا بیوی کے خیالات اور طور…
Read the full tafseer →وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ ( اور مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں ٖ تم ان سے نکاح نہ کرو) ابن منذر ابن ابی حاتم واحدی نے بھی مقاتل سے اسی طرح روایت کی ہے سیوطی کہتے ہیں کہ ان صحابی ؓ کے بارے میں یہ آیت نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ سورة نور کی یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ : اَلزَّانی لا ینکِحُ الاَّ زَانِیَۃٌ [ الایۃ ] اس کو ابو داؤد ترمذی نسائی نے ابن عمر کی روایت سے نقل کیا ہے اور یہ آیت اہل کتاب کی عورتوں کے حق میں آیت : وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوالکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ سے منسوخ ہے باوجود یکہ وہ بھی مشرک ہیں کیونکہ مسیح اور عزیر کی پرستش کرتی ہیں۔
وَلَاَمَةٌ ( اور…
Read the full tafseer →(221) مرثد بن ابی مرثد غنوی نامی ایک مسلمان نے اس بات کا ارادہ کیا تھا کہ عناق نامی ایک مشرکہ عورت سے شادی کرے، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس سے منع فرمادیا کہ مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں ان سے نکاح نہ کرو، مسلمان باندی سے شادی کرنا آزاد مشرک عورت سے شادی کرنے سے بہتر ہے اگرچہ اس کا حسن و جمال تمہیں پسند ہو، اور اسی طرح مشرک مردوں سے جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں، شادی نہ کرو اور مسلمان غلام سے شادی کرنا آزاد مشرک مرد سے شادی کرنے سے بہتر ہے اگرچہ اس کی قوت وبدن تمہیں اچھا لگے یہ کافر کفر اور دوزخیوں کے کاموں کی طرف بلاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ توحید اور توبہ کی طرف اپنے حکم سے تحیریک دیتے ہیں اور…
Read the full tafseer →وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ : پہلے مسلمان اور کافر میں رشتہ ناتا جاری تھا، اس آیت سے حرام ٹھہرا۔ اگر مرد یا عورت نے شرک کیا، اس کا نکاح ٹوٹ گیا۔ شرک یہ کہ اللہ کی صفت کسی اور میں جانے، مثلاً کسی کو سمجھے کہ اس کو ہر بات معلوم ہے، یا وہ جو چاہے سو کرسکتا ہے، یا ہمارا بھلا یا برا کرنا اس کے اختیار میں ہے اور یہ کہ اللہ کی تعظیم کسی اور پر خرچ کرے، مثلاً کسی چیز کو سجدہ کرے اور اس کو مختار جان کر اس سے حاجت طلب کرے۔ باقی یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح درست ہے، ان کو مشرک نہیں فرمایا۔ (موضح)
شاہ صاحب کے آخری جملہ میں کچھ تفصیل کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر…
Read the full tafseer →اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولا تنکحوا “ اس میں جمہور کی قرات تاء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ البتہ شاذ قرات میں ضمہ (پیش) کے ساتھ بھی اسے پڑھا گیا ہے۔ گویا معنی یہ ہے کہ اس کی شادی کرنے والے نے اپنے سے اس کا نکاح کردیا۔ اور نکح کا اصل معنی جماع ہے اور شادی کرنے کے معنی میں مجازا اور وسعۃ استعمال ہوتا ہے۔ تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ آگے آئے گی۔
مسئلہ نمبر : (2) جب اللہ تعالیٰ نے یتیموں کا مال اپنے مال کے ساتھ ملانے اور (اہل کتاب کے ساتھ) نکاح کا میل جول رکھنے کی اجازت عطا فرما دی تو یہ واضح کردیا کہ مشرکین کے ساتھ باہم نکاح کرنا صحیح نہیں ہے۔
مقاتل نے کہا ہے : یہ آیت…
Read the full tafseer →مشرک سے نکاح جائز نہیں
(1) ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ابو مرشد غنوی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عناق (عورت) سے شادی کرنے کے بارے میں پوچھا۔ جو حسین عورت تھی اور وہ مشرکہ تھی لیکن مرشد ان دنوں مسلمان تھے۔ انہوں نے عرض کیا وہ مجھے بہت پسند کرتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ لفظ آیت ” ولا تنکحوا المشرکین حتی یومن، ولامۃ مؤمنۃ منہ خیر من مشرکۃ ولو اعجبتکم “
(2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، النحاس نے الناسخ میں اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تنکحوا المشرکین حتی یومن “ سے میں…
Read the full tafseer →[ وَلاَ تَنْکِحُوا : اور تم لوگ نکاح مت کرو ] [ الْمُشْرِکٰتِ : مشرک خواتین سے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یُؤْمِنَّ : وہ ایمان لے آئیں ] [ وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ : اور یقینا کوئی مومن کنیز ] [ خَیْرٌ : بہتر ہے ] [ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ : کسی مشرک خاتون سے ] [ وَّلَوْ : اور خواہ ] [ اَعْجَبَتْکُمْ : وہ دلکش لگے تم لوگوں کو ] [ وَلاَ تُـنْـکِحُوا : اور تم لوگ نکاح میں مت دو ] [ الْمُشْرِکِیْنَ : مشرکوں کے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یُؤْمِنُوْا : وہ لوگ ایمان لے آئیں ] [ وَلَــعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ: اور یقینا ایک مومن غلام ] [ خَیْرٌ : بہتر ہے ] [ مِّنْ مُّشْرِکٍ : کسی مشرک سے ] [ وَّلَــوْ : اور…
Read the full tafseer →مشرک مردوں اور عورتوں سے نکاح کرنے کی ممانعت
اس آیت شریفہ میں مسلمانوں کو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مشرک عورتوں سے نکاح کریں، ہاں اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو ان سے نکاح کرنا جائز ہوگا مشرک عورتیں بعض مرتبہ حسن و جمال یا اموال کے اعتبار سے اچھی معلوم ہوتی ہیں اور ان سے نکاح کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ تم مشرکہ سے نکاح نہ کرو، اگر کوئی باایمان لونڈی مل جائے تو اس سے نکاح کرلو۔ وہ تمہارے لیے مشرک عورت سے بہتر ہے۔ پھر دوسرا حکم ارشاد فرمایا کہ مشرکوں سے اپنی عورتوں کا نکاح نہ کرو، مشرک کی نسبت مومن غلام بہتر ہے (تم اس سے اپنی عورتوں کا نکاح کرو) ہاں اگر کوئی مشرک مسلمان…
Read the full tafseer →حکم ہشتدھم مناکحت کفار۔
قال تعالی، ولاتنکحوالمشرکات۔۔ الی۔۔ یتذکرون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں یتیموں کی مخالطت کا حکم بیان فرمایا اس آیت میں مشرکین اور مشرکات کے ازدواجی اختلاط کا حکم بیان فرمایا کہ ازدواجی تعلق کے لیے دینی اخوت ضروری ہے اور وہ ان میں مفقود ہے لہذا اہل شرک سے ازدواجی تعلق جائز نہیں کافروں سے نکاحی اختلاط اور ازدواجی تعلقات خمر اور میسر سے زیادہ مضر اور مہلک ہیں کافروں سے ازدواجی اور معاشرتی تعلق کے بعد نہ تو دین باقی رہتا ہے اور نہ اسلامی تمدن، چند روز کے بعد نہ اسلامی خصلتیں باقی رہتی ہیں اور نہ عادتیں، اپنی قومیت فنا کرکے دوسری قوم کافرد بن جاتا ہے اورا سلامی تمدن کو حقیر…
Read the full tafseer →431 چوتھا مسئلہ۔ یہاں ایک طرف تو حسن و جمال اور دنیوی مال و دولت ہے اور دوسری طرف مشرک یا مشرکہ کی رفاقت سے اپنے دین کی بربادی کا خطرہ ہے۔ دوسری جہت کو ترجیح دے کر مشرک مرد سے مومنہ کا اور مشرک عورت سے مومن مرد کا نکاح حرام قرار دیدیا۔ وَّلَوْ اَعْجَبَـتْكُمْ ۔ حسن و جمال اور دنیوی مال دین اور ایمان کے مقابلہ میں بےحقیقت ہیں اس لیے ایمان دار لونڈی جو ظاہری حسن اور دنیوی مال سے محروم ہو اس آزاد عورت سے بہتر ہے جو حسینہ وجمیلہ ہونے کے ساتھ دولتمند بھی ہو مگر مشرکہ ہو۔ حسن اور دنیوی مال کو شرک کے مقابلہ میں ٹھکر ادو اور مشرکین سے رشتہ نکاح مت جوڑو۔ 432 جس طرح مومن مرد کا نکاح مشرک عورت سے جائز…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیت میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان تھا ، کہ ان کے ساتھ وہ معاملہ کرنا چاہئے ، جو ان کے حق میں بہتر ہو اور ان کی اصلاح مقصود ہو ، ان کو کھانے میں شریک کیا جاسکتا ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری نیتوں سے واقف ہے ، وہ جانتا ہے کہ یتیموں کے متعلق تمہا فیصلہ اصلاح پر مبنی ہے یا فساد پر ، بہر حال اللہ تعالیٰ نے یتیموں کو اپنے ساتھ ملانے کی اجازت دے کر تم پر مہربانی فرمائی ہے ورنہ تم مشقت میں پڑجاتے۔
مشرکین سے نکاح کی ممانعت
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نکاح جیسے اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے اور حکم دیا ہے۔ ولا تنکحوا المشرکت حتی یومن مشرک…
Read the full tafseer →وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ 0 ۭ وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَـتْكُمْ 0 ۚ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا 0 ۭ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكُمْ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ يَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ 0 ۚۖ وَاللہُ يَدْعُوْٓا اِلَى الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِـاِذْنِہٖ 0 ۚ وَيُبَيِّنُ اٰيٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَــتَذَكَّرُوْنَ 221 ۧ
نكح
أصل النِّكَاحُ للعَقْدِ ، ثم استُعِيرَ للجِماع، ومُحالٌ أن يكونَ في الأصلِ للجِمَاعِ ، ثمّ استعیر للعَقْد، لأَنَّ أسماءَ الجِمَاعِ كلَّهَا كِنَايَاتٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 220–221
ترکیب : اصلاح مبتداء لہم اس کی صفت خیر خبر وان تخالطوھم شرط فہم اخوانکم جزا ولو شرط شاء فعل اللّٰہ فاعل مفعول اعنتکم محذوف لا عنتکم جواب شرط ولو بمعنی ان۔
تفسیر۔ یتیموں کے حقوق کا بیان اور کافروں سے نکاح کی ممانعت : از آنجملہ یتیموں کی حق تلفی ہے۔ اس کے متعلق اول ] 1 ؎ شرع میں انہیں پر منحصر نہیں رکھا بلکہ جس میں دو طرفہ شرط ہو جیسا کہ ثرد اور کعتبیں وغیرہ۔[ آیت میں بیان ہے۔ از آنجملہ مشرکوں سے مناکحت ہے کیونکہ اس سے زہر آلود اختلاط ہوتا ہے مشرکوں کی عادت اور خصائل رواج پا کر نہ قومیت باقی رہتی رہے نہ دین خالص ‘ جس کی نظیر ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ دوسری آیت میں اس کی ممانعت کی گئی جب خدا نے…
Read the full tafseer →وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ط وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْـکُمْ ج وَلَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا ط وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَـکُمْ ط اُولٰٓئِکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ صلے ج وَ اللّٰہُ یَدْعُوْٓا اِلَی الْجَنَّۃِ وَ الْمَغْفِرَۃِ بِاِذْنِہٖ ج وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ ع
(اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو حتیٰ کہ وہ ایمان لے آئیں۔ ایک مومنہ لونڈی ایک آزاد مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھی لگے۔ اور مشرکوں کو اپنی عورتیں نکاح میں نہ دو جب تک وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سورة کے مرکزی مضمون سے وابستہ احکام۔
معاشرتی اور عائلی مسائل کے سلسلہ میں اب ایک اہم اور بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے۔ کیونکہ جوں جوں اسلام پھیل رہا تھا اس کے ساتھ ہی معاشرہ میں نئے نئے مسائل پیدا ہورہے تھے۔ ان میں سے اہم ترین مسئلہ یہ تھا کہ ایک آدمی مسلمان ہوجاتا ہے اور اس کی بیوی کفر و شرک کی حالت پر قائم رہتی ہے۔ اسی طرح اس کے برعکس صورت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ یا دوسری صورت میں ایک مسلمان کو ازدواجی زندگی اپناتے ہوئے کون سے بنیادی اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے ؟ اس کے بارے میں بنیادی اصول یہ قرار پایا کہ ” آج کے بعد کوئی مرد کافرہ اور مشرکہ کے ساتھ اور کوئی مومن…
Read the full tafseer →221۔ وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ وَلَاَ مَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ وَلَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکُمْ اُولٰٓپکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ وَاللّٰہُ یَدْعُوْٓا اِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِاِذْنِہٖ وَیُبِیِّنُ ٰایٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (اور مشرکہ عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں۔ ان سے نکاح نہ کرو۔ اور البتہ مومنہ لونڈی مشرک عورت سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھی معلوم ہو۔ اور نہ نکاح کرو مشرک مردوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں اور…
Read the full tafseer →(تفسیر) 221۔:
(آیت)” ولا تنکحوالمشرکات حتی یؤمن “۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ بیشک مرثد بن ابی مرثد غنوی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ وہ ابو مرثد غنوی ہیں اور عطاء (رح) کہتے ہیں ابو مرثد کناز بن الحصین اور یہ دلیر تھے ان کو حضور اقدس ﷺ نے مکہ مکرمہ بھیجا تاکہ وہاں سے مسلمانوں کو پوشیدہ طور پر نکال لائیں ، حضرت حضرت موصوف مکہ مکرمہ پہنچے تو ان کی آمد سے متعلق ایک مشرک عورت عناق نے سنا جو انکی زمانہ جاہلیت میں محبوبہ تھی تو وہ عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی اے ابو مرثد کیا تم خلوت نہیں کرتے تو حضرت ابو مرثد ؓ نے ان کو فرمایا عناق تجھے ہلاکت ہو ہمارے اور اس گناہ (زنا) کے درمیان اسلام…
Read the full tafseer →فتح مکہ سے پہلے آنحضرت ﷺ نے ایک صحابی کو چن لیا جن کی کنیت اب مرتد ؓ ہے مکہ کو اس غرض سے بھیجا تھا کہ مکہ میں جو لوگ مسلمان ہیں ان کو مخفی طور پر مدینہ میں لے آئیں جب ابو مرتد ؓ مکہ کو پہنچے تو ایک عورت مشرکہ نے جس کا نام عناق تھا ابو مرتد ؓ سے نکاح کی خواہش کی ابو مرتد ؓ نے کہا کہ میں آنحضرت ﷺ سے پوچھ لوں تو پھر اس کا جواب دوں گا جب ابو مرتد ؓ مدینہ میں واپس آئے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے عناق کی خواہش کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ مسلمان مرد کو مشرک عورت سے اس وقت تک نکاح نہیں کرنا چاہیے جب تک وہ عورت مسلمان نہ ہوجائے اور مشرک عورت سے مراد اس آیت میں بت…
Read the full tafseer →یعنی ان مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جو اپنے شرک پر قائم ہوں (آیت) حَتّٰى يُؤْمِنَّ ۭ” حتی کہ وہ ایمان لے آئیں “ کیونکہ ایک مومن عورت خواہ ہو کتنی ہی بدصورت کیوں نہ ہوں، مشرک عورت سے بہر حال بہتر ہے خواہ وہ کتنی ہی زیادہ حسین کیوں نہ ہو۔ یہ حکم تمام مشرک عورتوں کے بارے میں عام ہے اور اس حکم کے عموم کو سورة مائدہ کی اس آیت نے خاص کردیا ہے جس میں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اباحت کا ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے۔ (آیت) والمحصنات من الذین اوتوالکتاب۔ (النساء 5) ” اور اہل کتاب میں سے پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں۔ “ فرمایا ’ اور اپنی عورتوں کو مشرک مردوں کے نکاح میں مت دو یہاں تک کہ وہ…
Read the full tafseer →مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح
قول باری ہے ولاتنکحوا المشرکات حتی یومن، مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لے آئیں انکے ساتھ نکاح نہ کرو) ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے حدیث بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے ، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے ابوطلحہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ولاتنکحوا المشرکات حتی یومن۔ پھر اہل کتاب کو اس سے مستثنیٰ کردیا۔ چناچہ فرمایا والمحصنات من الذین ادتوا الکتاب من قبلکم اذا تیتموھن اجودھن محصنین غیر مسافحین ولامتخذی اخدان۔ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں جو ان قوموں میں سے ہوں جن کو تم سے پہلے کتاب…
Read the full tafseer →614 مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مشرک عورتوں سے نکاح مت کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔ ایک ایماندار باندی ایک مشرک عورت سے کہیں بہتر ہے اگرچہ وہ مشرک عورت تم کو اچھی لگتی ہو۔ سو اصل قدر و قیمت ایمان و یقین کی ہے : ۔ کہ ایمان و یقین کی بےمثل، اور بےبدل، دولت کے مقابلے میں دنیوی مال و منال اور حسن و جمال کی کوئی حیثیت نہیں خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اور کیسا ہی دلربا کیوں نہ ہو۔ سو اصل قدر و قیمت ایمان و یقین کی ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ اسی کو اپنے پیش نظر رکھو اور اس کے مقابلے میں ظاہری حسن و جمال جیسی کسی بھی چیز کو کوئی حیثیت نہ دو کہ یہ سب کچھ بےحقیقت اور فانی اور…
Read the full tafseer →ماہ حرام میں جنگ، مرتد کی سزا اور یتیموں کے بارے احکام
نکاح کے مسائل
تشریح : اس آیت میں نکاح کے بارے میں مسلمانوں کو ہدایات اللہ کی طرف سے بڑی تفصیل سے دی گئی ہیں۔ کیونکہ نکاح کی وجہ سے میاں بیوی اور پھر بچے یعنی ایک خاندان بنتا ہے اور خاندان ہی ملک و قوم کی اچھی یا بری بنیاد بنتے ہیں اس میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ میاں بیوی کی آپس میں صلح صفائی ہو یعنی ان کے خیالات اور عقائد ایک جیسے ہوں۔ عقائد، تہذیب، رہن سہن اس کا بہت سا انحصار مذہب پر ہے۔ اسی لیے اللہ جل شانہ نے حکم دیا ہے کہ مشرک عورت سے ہرگز نکاح نہ کرو چاہے وہ تمہیں کتنی ہی اچھی کیوں نہ لگتی ہو۔ یعنی بیشک خوبصورت، مالدار، پڑھی لکھی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–221
217- 221
اسرارو معارف
اشہر حرم :
جب جہاد کا ذکر شروہ ہوا تو اس کے احکام ارشاد ہوتے ہیں جن میں بنیادی بات اشہر حرم کی ہے کہ سال میں چار مہینے رجب اور ذی قعد ، ذی الحجہ اور محرم ہیں۔ قبل اسلام بھی ان میں لڑنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا اور اسلام نے بھی ان کی حرمت بحال رکھی لیکن اس کے ساتھ یہ امکان بھی موجود تھا کہ مسلمان تو بالکل ہاتھ نہ اٹھائیں اور کافر جنگ کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں۔ تو اللہ کریم نے ایک ضابطہ ارشاد فرمایا کہ فرما دیجئے ان مذکورہ مہینوں میں لڑنا بہت بڑا جرم ہے اور عنداللہ بڑے گناہ کی بات ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا ، اللہ سے کفر کرنا اور بیت اللہ سے منع کرنا بلکہ جو…
Read the full tafseer →ف 2 حضرت حذیفہ یا عبداللہ بن رواحہ کے گھر میں ایک سیاہ فام لونڈی تھی۔ انہوں نے اسے آزاد کر کے نکاح کرلیا ان کے دوستوں نے اس نکاح کر پسند کہ کیا اور ایک مشرکہ کا نام لے کر انہیں پیش کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (شو کانی۔ ابن کثیر) بعض نے لکھا ہے کہ ابو مرثد الغنوی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس نے مکہ کی ایک مشرکہ عورت " غناق " سے نکاح کا ارادہ کیا جس سے جاہلیت میں اس کے تعلقات تھے چناچہ اس نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی) آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرک عورت سے مسلمان مرد نکاح کرنا حرام ہے اسی طرح مومن عورت کا مشرک مرد سے نکاح حرام ہے۔ ہاں کتابیہ عورت سے…
Read the full tafseer →(2:221) لاتنکحوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نکال (باب ضرب، نصر) مصدر۔ تم نکاح مت کرو۔ تم عقد نہ کرو۔ المشرکت۔ مشرک عورتوں کے ساتھ۔
یؤمن۔ مضارع جمع مؤنث غائب۔ ایمان (افعال) مصدر۔ یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں ۔
ولامۃ۔ لام تحقیق کے معنوں میں ہے۔ امۃ۔ لونڈی، باندی، اسم ہے علامہ بیضاوی کے نزدیک امۃ سے مراد عورت ہے خواہ حرہ ہو خواہ لونڈی ہو۔ کیونکہ سب مرد و عورت اللہ تعالیٰ کے غلام اور باندیاں ہیں والامۃ۔ ای والمرأۃ المؤمنۃ حرۃ کانت او مملوکۃ فان الناس کلہم عبید اللہ واماء ہ۔
ولو اعجبتکم۔ واؤ حالیہ ہے لو بمعنی اگرچہ ۔ عبارت کچھ یوں ہوگی۔ ولو کان الحال ان المشرکۃ تعجبکم و تحبو تھا اگرچہ حال یہ ہو…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 221
لا تنکحوا (تم نکاح نہ کرو) ۔ المشرکت (مشرک عورتیں) ۔ حتی یؤمن (جب تک وہ ایمان نہ لائیں) ۔ امۃ مؤ منۃ (مومن لونڈی (غلام عورت) ۔ اعجبت (پسند ہو) ۔ عبد مؤمن (مومن غلام) ۔ یدعون (وہ بلاتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 221
زندگی کے بنیادی معاملات میں انسان کو بہت سنجیدگی سے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہئے کیونکہ جو لوگ زندگی کے معاملات میں بےسوچے سمجھے جذباتی انداز سے قدم اٹھا لیتے ہیں پھر وہ زندگی بھر پچھتاتے ہیں۔
خاص طور سے شادی بیاہ جیسے معاملات میں تو بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ یہ زندگی بھر کا ساتھ ہے اس میں غلط اور بےجوڑ ساتھی اکثر زندگی کو تلخ کردینے کا سبب بن جایا…
Read the full tafseer →نکاح کا ذکر
مسائل القرآن : اس آیت میں نکاح کا ذکر ہے کہ پہلے مسلمان مرد اور مشرک عورت کے نکاح کی اجازت تھی، اس آیت میں اس کو منسوخ کردیا گیا، اور فرما دیا کہ مسلمان مرد اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتا جب تک وہ عورت مسلمان نہ ہوجائے۔ ایسا ہی مسلمان عورت کا مشرک مرد سے نکاح جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–221
[148] یہ شراب اور جوئے کے متعلق پہلا حکم ہے جس میں صرف اظہار ناپسندیدگی کر کے چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ ذہن ان کی حرمت قبول کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ فقہا نے کہا ہے اور بالکل صحیح کہا ہے کہ حرمت خمر پر دوسری آیتیں اس سے صریح تر نہ موجود ہوتیں تب بھی خود یہ آیت حرمت کے لئے کافی تھی۔
[149] فرض زکوٰۃ کی تو شرح متعین تھی۔ یہ سوال اس کے علاوہ دوسرے نیک کاموں میں خرچ کرنے سے متعلق تھا۔
[051] '' عفو '' سے مراد بس اتنا خرچ کرنا ہے جو اپنے اوپر بار نہ ہو اور اپنے ضروری مصارف میں تنگی نہ اٹھانا پڑے۔
Read the full tafseer →مشرکین سے رشتہ ناطہ ممنوع ہے :
(ف 1) مشرک اور مشرکہ کی اصطلاح قرآن حکیم میں غیر کتاب یا غیر الہامی قوموں میں ہے ، عیسائی بھی مشرک ہیں اور یہودی بھی لیکن قرآن حکیم نے ان سے رشتہ مناکحت کو جائزتصور فرمایا ہے (اس صورت میں کہ مرد مسلم ہو) اس کی ایک معقول وجہ ہے عام طور پر ازدواجی تعلقات وحدت خیال اور وحدت مذاق کو دوسری تمام ترجیحات سے ضروری قرار دیا جاتا ہے اور یہ اس لئے کہ اس کے بغیر یہ رشتہ قائم نہیں رہتا ، شادی کا مقصد ہی جب کامل سکون ہے اور بیوی ہوتی ہی یہ ہیں کہ اس کے ساتھ وابستہ ہو کر مرد تمام پریشانیوں کو بھول جائے جیسا کہ قرآن حکیم نے فرمایا (آیت) ” لتسکنوا الیھا “۔ تو ضروری ہے کہ جانبین…
Read the full tafseer →ف 1 اور مسلمانو ! تم شرک کرنے والی عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائیں اور یہ امر یقینی ہے کہ ایک مسلمان عورت خواہ وہ باندی ہی کیوں نہ ہو ایک شرک کرنیوالی عورت سے بدرجہا بہتر ہے خواہ وہ مشرکہ آزاد بیوی کیوں نہ ہو اگرچہ وہ مشرکہ تم کو اپنے مال اور حسن و جمال اور اپنے خاندان کی وجہ سے اچھی ہی کیوں نہ معلوم ہو اور جن مسلمان عورتوں کے نکاح کا تم کو اختیار حاصل ہے ان کو اس وقت تک شرک کرنیوالے مردوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ مشرک مسلمان نہ ہوجائیں اور یہ یقینی بات ہے کہ ایک مسلمان مرد خواہ وہ غلام ہی کیوں نہ ہو ایک مشرک مرد سے بدرجہا بہتر ہے خواہ وہ مشرک مرد آزاد ہی کیوں نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 221–223
ف 1۔ اس آیت میں دو حکم ہیں ایک یہ کہ کافروں مردوں سے مسلمان عورت کا نکاح نہ کیا جاوے سو حکم یہ کہ مسلمان مرد کا کافر عورت سے نکاح نہ کیا جائے اس حکم میں دو جزو ہیں ایک جزویہ کہ وہ کافر عورت کتابی یعنی یہودی یا نصرانی نہ ہو اور کوئی مذہب کفر کا رکھتی ہو اس جزو میں بھی اس آیت کا حکم باقی ہے چناچہ ہندو عورت یا آتش پرست عورت سے نکاح مسلمان کا نہیں ہوسکتا دوسرا جزو یہ کہ عورت کتابیہ ہو یعنی یہود و نصاری اس خاص جزو میں اس آیت کا حکم باقی نہیں بلکہ ایک آیت سورة مائدہ میں اس مضمون کی ہے کہ کتابی عورتوں سے نکاح درست ہے سو اس آیت سے اس آیت کا یہ خاص جزو منسوخ ہوگیا چناچہ یہود و نصاری سے نکاح درست ہے…
Read the full tafseer →مشرک عورتوں سے نکاح کی ممانعت اور مشرک مردوں سے بھی :
377: لڑائیوں کی کثرت کا یہ بھی نتیجہ ہے کہ بہت بڑی تعداد میں یتامی نظر آئیں اور ساتھ ہی رانڈوں کی بھی کثرت ہو۔ اگر مسلمانوں نے مفتوحہ اقوام کی عورتوں سے حسن و جمال اور دولت و ثروت کی وجہ سے نکاح کرنے شروع کر دئے تو اس کا یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ مسلمان عورتیں برباد ہوجائیں گی ۔ نگران کار نہ ہونے کی وجہ سے مجبور ہو کر بد عملی و بدکاری کی مرتکب ہوں گی۔ ادھر جب لڑنے والوں کو یہ معلوم ہوگا کہ ان کی عورتوں کی حفظ و نگہداشت نہیں ہوتی تو وہ ہمت ہار دیں گے۔ اس لئے ہمیشہ کے واسطے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ مشرک عورتوں سے نکاح نہ کریں۔
پھر نکاح کی اصل…
Read the full tafseer →Verse 221 carries an injunction relating to marriage with Mushrikin (those who associate partners with Allah). The commentary which follows explains the injunction in some detail.
Inter-Marriage between Muslims and Kafirs is Prohibited
In the verses under discussion an important ruling has been given. It states that the marriage of Muslim males with Kafir کافر (disbelieving in Islam) females and the marriage of Kafir کافر females with Muslim males is not permissible. The reason is: Kafir کافر males and females become the cause that leads man into the Hell. Marital relations demand mutual…
Read the full tafseer →237. This is the reason for, and the wisdom underlying the injunction mentioned above prohibiting marriage links with polytheists. Marriage does not consist merely of sexual relations between a man and a woman. It is a relationship which has deep social, moral and emotional implications. If established between a believer and a polytheist, this kind of relationship has many possible outcomes. On the one hand, it is possible that because of the influence of the believing spouse, the other partner, the family and the future generations may become receptive to Islamic beliefs and to the Islamic…
Read the full tafseer →