Explained with ayahs 219–220
حرمت شراب کیوں ؟
جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورة بقرہ کی یہ آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ) 2۔ البقرۃ :219) نازل ہوئی حضرت عمر کو بلوایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی لیکن حضرت عمر نے پھر بھی یہی دعا کی کہ یا اللہ اسے ہمارے لئے اور زیادہ صاف بیان فرما اس پر سورة نساء کی آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا) 4۔ النسآء :43) نازل ہوئی اور ہر نماز کے وقت پکارا…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 236
اس آیت کے نزول سے پہلے قرآن میں یتیموں کے حقوق کے حفاظت کے متعلق بار بار سخت احکام آچکے تھے اور یہاں تک فرما دیا گیا تھا کہ ”یتیم کے مال کے پاس نہ پھٹکو“۔ اور یہ کہ ”جو لوگ یتیموں کا مال ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں۔“ ان شدید احکام کی بنا پر وہ لوگ، جن کی تربیت میں یتیم بچے تھے، اس قدر خوف زدہ ہوگئے تھے کہ انہوں نے ان کا کھانا پینا تک اپنے سے الگ کردیا تھا اور اس احتیاط پر بھی انہیں ڈر تھا کہ کہیں یتیموں کے مال کا کوئی حصہ ان کے مال میں نہ مل جائے۔ اسی لیے انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ ان بچوں کے ساتھ ہمارے معاملے کی صحیح صورت کیا ہے۔
Read the full tafseer →سترہواں حکم۔ مخالطت یتیم
(چونکہ ابتداء میں مثل ہندوستان کے عرب میں بھی یتیموں کا حق دینے میں پوری احتیاط نہ تھی اس لئے یہ وعید سنائی گئی کہ یتیموں کا مال کھانا ایسا ہے جیسا دوزخ کے انگار پیٹ میں بھرنا تو سننے والے ڈر کے مارے اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا بھی الگ پکواتے اور الگ رکھواتے اور اتفاقا اگر بچہ کم کھاتا تو کھانا بچتا اور سڑتا تھا کیونکہ اس کا استعمال نہ ان لوگوں کے لئے جائز تھا اور نہ یتیم کے مال کو صدقہ کردینے کا اختیار تھا اس طرح تکلیف بھی ہوتی اور یتیم کا نقصان بھی اس لئے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا گیا اس کے متعلق آیت میں یہ ارشاد آیا) اور لوگ آپ سے یتیم بچوں (کے خرچ علیٰحدہ یا…
Read the full tafseer →یتیموں کے بارے میں مسلم معاشرہ کی ذمہ داری : یتامیٰ سے متعلقیہ سوال بھی اس معاشرتی خدمت و تعاون کے تعلق سے پیدا ہوا جس کی ہدایت آیت 215 میں دی گئی ہے۔ اسلام نے جب ہر شخص پر اس کے وادین و اقربا کے ساتھ ساتھ یتامیٰ اور خاص کر خاندان کے یتامی کی ذمہ داری بھی ڈالی کہ اگر وہ محتاج و بےوسیلہ ہوں تو ان پر خرچ کرو اور اگر ان کے پاس مال ہو تو پوری احتیاط کے ساتھ (حتی الامکان بلا معاوضہ) اس کی نگرانی اور اس کو نشوونما دینے کی کوشش کرو تو لوگوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر ایک شخص انتظامی سہولت کے پیش نظر کسی یتیم کے مال یا اس کے کاروبار کو اپنے مال اور کاروبار میں شامل کرلے اور اس کے حقوق کی حفاطت کے…
Read the full tafseer →220۔ 1 جب یتیموں کا مال ظلماً کھانے والوں کے لئے سزا کی دھمکی نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ ڈر گئے اور یتیموں کی ہر چیز الگ کردی حتیٰ کہ کھانے پینے کی کوئی چیز بچ جاتی تو اسے بھی استعمال نہ کرتے اور وہ خراب ہوجاتی اس ڈر سے کہ کہیں ہم بھی اس سزا کے مستحق نہ قرار پاجائیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر)
220۔ 2 یعنی تمہیں بغرض اصلاح و بہتری بھی ان کا مال اپنے مال میں ملانے کی اجازت نہ دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 220–222
144: جب قرآن کریم نے یتیموں کا مال کھانے پر سخت وعید سنائی (سورة نساء 4: 1۔ 2) تو بعض صحابہ جن کی سرپرستی میں کچھ یتیم تھے، اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا الگ پکواتے اور انہیں الگ ہی کھلاتے، یہاں تک کہ اگر ان کا کچھ کھانا بچ جاتا تو خراب ہوجاتا، اس میں تکلیف بھی تھی اور نقصان بھی، اس آیت نے واضح کردیا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ یتیموں کی مصلحت کا پورا خیال رکھا جائے، سرپرستوں کو مشکل میں ڈالنا مقصد نہیں ہے، لہذا ان کا کھانا ساتھ پکانے اور ساتھ کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ معقولیت اور انصاف کے ساتھ ان کے مال سے ان کے کھانے کا خرچ وصول کیا جائے، پھر اگر غیر ارادی طور پر کچھ کمی بیشی ہو…
Read the full tafseer →اب اس اگلی آیات میں ، اسلامی اصول حیات کے بارے میں چند سوالات کا جواب دیا گیا ہے ۔ یہ سوالات مختلف لوگوں نے مسائل سمجھنے کے لئے کئے تھے :
اس سے پہلے بھی انہوں نے سوال کیا تھا ، کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ اس کے جواب میں خرچ کی نوعیت اور مصرف کی تشریح کردی گئی ۔ یہاں بھی سوال تو وہی ہے ، جواب میں خرچ کی مقدار اور اس کا درجہ بتایا گیا ہے ۔ عفو کے معنی عربی میں فاضل اور زیادہ کے ہوتے ہیں ۔ جو مال ذاتی ضروریات سے زیادہ ہو ۔ ضروریات سے مراد ایسی ضروریات جو عیاشی اور نمائشی نہ ہوں ۔ اسے خرچ کیا جاسکتا ہے اور مصرف کی ترتیب وہی ہے جو اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے۔ قریب سے قریب تر کا حق زیادہ ہے اور اس کے بعد…
Read the full tafseer →6 بعض لوگ یتیم کے مال میں احتیاط نہ کرتے تھے تو اس پر حکم ہوا تھا (وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ) 6 ۔ الانعام :152) اور (اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى) 4 ۔ النسآء :10) اس پر جو لوگ یتیموں کی پرورش کرتے تھے وہ ڈر گئے اور یتیموں کے کھانے اور خرچ کو بالکل جدا کردیا کیونکہ شرکت کی حالت میں یتیم کا مال کھانا پڑتا تھا اس میں یہ دشواری ہوئی کہ ایک چیز یتیم کے واسطے تیار کی اب جو کچھ بچتی وہ خراب جاتی اور پھینکنی پڑتی اس احتیاط میں یتیموں کا نقصان ہونے لگا تو آپ سے عرض کیا تو اس پر اب یہ آیت نازل ہوئی۔
7 یعنی مقصود تو صرف یہ بات ہے کہ یتیم کے…
Read the full tafseer →آیت 220 فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِط۔
تمہارا یہ غور و فکر دنیا کے بارے میں بھی ہونا چاہیے اور آخرت کے بارے میں بھی۔ دنیا میں بھی اسلام رہبانیت نہیں سکھاتا۔ اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ نہ کھاؤ ‘ نہ پیو ‘ چلے کشی کرو ‘ جنگلوں میں نکل جاؤ ! نہیں ‘ اسلام تو متمدن زندگی کی تعلیم دیتا ہے ‘ گھر گھرہستی اور شادی بیاہ کی ترغیب دیتا ہے ‘ بیوی بچوں کے حقوق بتاتا ہے اور ان کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمہیں آخرت کی بھی فکر کرنی چاہیے ‘ اور دنیا و آخرت کے معاملات میں ایک نسبت و تناسب ratio proportion قائم رہنا چاہیے۔ دنیا کی کتنی قدر و قیمت ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت کی کتنی قدر و قیمت…
Read the full tafseer →293 اس سے پیشتر یتیموں کے بارے میں دو حکم نازل ہوچکے تھے۔ ایک یہ کہ یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔ (6: 152) اور دوسرا یہ کہ جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ (4 : 10) لہذا مسلمان یتیموں کے بارے میں سخت محتاط ہوگئے اور ان کے مال اپنے مال سے بالکل الگ کردیئے کہ اسی سے ان کا کھانا پینا اور دوسری ضروریات پوری کی جائیں۔ مگر اس طرح بھی یتیموں کا بعض صورتوں میں نقصان ہوجاتا تھا۔ مثلاً ان کے لیے کھانا پکایا، جو کھانا بچ جاتا وہ ضائع ہوجاتا، ایسی ہی صورت حال سے متعلق رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا۔ جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ اصل میں تو یتیموں کی اصلاح اور بھلائی…
Read the full tafseer →809 (ان احکام پر عمل کے وقت) امور آخرت میں غور وفکر کرتے رہنے کی اہمیت تو ظاہر ہے۔ یہاں حکم اس کامل رہا ہے یہ کہ امور دنیا میں بھی سوچ بچار سے کام لیا کرو، تو کیا دنیا بھی اس قابل ہے کہ اس کے معاملات میں غور و تدبر سے کام لیا جائے ؟ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ راز اس کا یہ ہے کہ انسان خلوء ذہن کے ساتھ جس قدر دنیا اور اس کے کاروبار کو سوچے گا، اسی قدر اس کی بےثباتی اور بےقدری اس کے دل پر جمتی جائے گی ،
810 (کہ ان کے خرچ کا نظام رکھا جائے، آیا اپنے حساب میں شامل رکھا جائے یا ان کا حساب بالکل الگ کردیا جائے) یہ سوال کرنے والے یتیموں کے اولیاء تھے، جن کی ولایت وسرپرستی میں یتیم بچے پل رہے تھے۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر 220 تا 221
ترجمہ : یتیموں اور ان کے معاملہ میں پیش آنے والے حرج کے بارے میں آپ سے پوچھتے ہیں کہ اگر ان کو ساتھ کھلاتے ہیں تو گنہگار ہوتے ہیں، اگر ان کے مالوں کو اپنے مالوں سے الگ کرتے ہیں اور تنہا ان کا کھانا بناتے ہیں تو یہ بھی وقت ہے، آپ ان سے ک کہ دیجئے کہ ان کی خیرخواہی ان کے مال میں اضافہ اور تمہاری شمولیت کرکے، اس کو ترک کرنے سے بہتر ہے، اور اگر تم ان کے نفقہ کو اپنے نفقہ کے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، یعنی دینی بھائی ہیں اور بھائی کی یہ شان ہونی چاہیے کہ اپنے بھائی کو شامل کرے لہٰذا یہ تمہارے لئے جائز ہے، اللہ تعالیی ان یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر بدخواہی…
Read the full tafseer →فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭ ( دنیا میں ( بھی) اور آخرت میں ( بھی) یہ ظرف یبین کے متعلق ہے تقدیر کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے وہ آیتیں بیان کرتا ہے جو دین و دنیا میں تمہارے لیے بہتر ہوں تاکہ تم غور کرو اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ ظرف تتفکرونکے متعلق ہے اور معنی یہ ہیں کہ تم ان چیزوں میں غور کرو جن کو دین و دنیا سے تعلق ہو پس تم اسی کو اختیار کرو جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہو اور اپنے مال میں سے فقط اتنا رکھ لیا کرو جو دنیا میں تمہاری معاش کے لیے کافی ہو۔ باقی سب خرچ کردیا کرو تاکہ اس سے تمہیں عقبیٰ میں فائدہ ہو اصل مقصود یہ ہو کہ دین و دنیا میں تم غور کرو تاکہ ان میں سے جو ہمیشہ…
Read the full tafseer →(220) حضرت عبداللہ بن زوار ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے یتیموں کے ساتھ کھانے پینے اور رہائش کے بارے میں پوچھا تھا کہ یہ چیز ہے یا نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی، جس میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ ﷺ سے یتیموں کے ساتھ کھانے پینے اور رہائش میں میل جول رکھنے کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ ان کے مال کی اصلاح ان کے ساتھ اختلاط کے ترک کرنے سے بہتر ہے۔
اور اگر تم کھانے پینے اور رہایش میں ان سے کے ساتھ میل جول رکھنا چاہتے ہو سو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں، لہٰذا ان کے حقوق کی حفاظت کرو اور اللہ تعالیٰ یتیموں کے اموال میں مصلحت کے ضائع کرنے والے اور باقی رکھنے والے کو…
Read the full tafseer →فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ : اس کا تعلق اس سے پہلی آیت ”لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ“ کے ساتھ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے لیے شراب اور جوئے میں دنیا کے فائدے اور دنیا اور آخرت میں ان کے نقصانات اور ان کا کبیرہ گناہ ہونا اور شراب اور جوئے کے بجائے اللہ کے راستے میں اپنی بہترین چیزیں خرچ کرنا کھول کر بیان کر رہا ہے، تاکہ تم چند روزہ دنیا اور ہمیشہ رہنے والی آخرت دونوں میں خود ہی غور وفکر کرلو کہ عقل سے کام لے کر تم کس کو ترجیح دیتے ہو۔
الْيَتٰمٰي“ جس کا باپ فوت ہوگیا ہو وہ بالغ ہونے تک یتیم ہے۔ (لَاَعْنَتَكُمْ) ”عَنَتٌ“ کا معنی مشقت ہے، جیسے سورة توبہ (128) میں ہے : (عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا…
Read the full tafseer →اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) ابو داؤد اور نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
(آیت) ” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ھی احسن “۔ (الانعام : 152)
ترجمہ : اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طریقہ سے جو بہت اچھا ہو۔
اور
(آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ الآیہ (النساء : 10)
ترجمہ : بیشک وہ لوگ جو کھاتے ہیں یتیموں کے مال ظلم سے۔
تو وہ آدمی جس کے پاس کوئی یتیم تھا اس نے اس کا کھانا اپنے کھانے سے اور اس کا مشروب اپنے مشروب سے الگ کردیا، پس وہ اپنے کھانے میں سے جو کچھ بچاتا تھا وہ اسے اس کے لئے روک کر رکھ لیتا تھا یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کرنا
(1) امام ابو داؤد، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی لفظ آیت ” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ہی احسن “ (الاسراء آیت 34) (اور) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی “ تو جس کے پاس کوئی یتیم تھا۔ تو اس نے کھانے کا وپنے کھانے سے اور اس کے پینے کو اپنے پینے سے الگ کردیا۔ پس یتیم کے کھانے میں سے جو بچ جاتا تو وہ دوبارہ اسے خود کھا لیتا۔ یا وہ خراب ہوجاتا تو اس کو پھینک دیا جاتا۔ یہ معاملہ صحابہ ؓ پر گراں گزرا تو انہوں نے…
Read the full tafseer →[ فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [ وَالْاٰخِرَۃِ : اور آخرت میں ] [ وَیَسْئَلُوْنَکَ : اور وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الْیَتٰمٰی : یتیموں کے بارے میں ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ اِصْلاَحٌ : سنوارنا ] [ لَّــہُمْ : ان کے لیے ] [ خَیْرٌ : ایک بھلائی ہے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُخَالِطُوْہُمْ : تم لوگ رَل مِل کر رہو ان کے ساتھ ] [ فَاِخْوَانُـکُمْ : تو وہ تمہارے بھائی ہیں ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ الْمُفْسِدَ : فسادی لوگوں کو ] [ مِنَ الْمُصْلِحِ : سنوارنے والوں میں سے ] [ وَلَوْ : اور اگر ] [ شَائَ : چاہتا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لَاَعْنَتَکُمْ : تو وہ مشکل…
Read the full tafseer →پھر ارشاد فرمایا : (وَ یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی) کہ وہ لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں پھر اس سوال کا جواب عنایت فرمایا جواب سمجھنے سے پہلے آیت کا سبب نزول سمجھ لیا جائے اس سے سوال کا مضمون بھی واضح ہوجائے گا، اور پھر جواب بھی سمجھ میں آجائے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
در منثور ص 355 ج 1 میں بحوالہ سنن ابو داؤد اور مستدرک حاکم حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب آیت کریمہ (وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) (اور نہ قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طریقہ سے جو احسن ہو) اور آیت کریمہ (اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْبَتٰمٰی ظُلْمًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–220
حکم پانزدھم۔ متعلق بہ شراب وقمار۔
قال تعالی، یسئلونک عن الخمر والمیسر۔۔۔ الی۔۔۔ من نفعھما۔
ربط) ۔ جس طرح خدا کی راہ میں جان ومال کا خرچ کرنا دین اور دنیا کی عزتوں کا سبب ہے (جیسا کہ پہلی آیتوں میں اس کا ذکر ہوا ہے) اسی طرح شراب وکباب اور قمار یعنی جوئے میں مال کا خرچ کرنا دینی اور دنیاوی تباہی کا موجب ہے چناچہ فرماتے ہیں اور یہ لوگ آپ سے شراب اور قمار یعنی جوئے کے متلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں کے استعمال میں فقط ایک گناہ نہیں بلکہ ان کے اندر بہت سے بڑے بڑے گناہ مضمر اور پوشیدہ ہیں اور لوگوں کے لیے کچھ معمولی فائدے بھی ہیں اس لیے کہ لوگوں کو شبہ پیدا ہوا کہ ان دونوں چیزوں…
Read the full tafseer →ف 428 تیسرا مسئلہ قرآن مجید میں یتیموں کا مال کھانے کی سخت ممانعت وارد ہوئی تو صحابہ کرام میں سے جس جس کے زیر کفالت کوئی یتیم تھا۔ انہوں نے یتیموں کے کھانے پینے کا انتظام اپنے سے الگ کردیا۔ اگر کسی یتیم کا کچھ بچ رہتا تو وہ دوسرے وقت یتیم کو دیدیا جاتا۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ وہ کھانا خراب ہوجاتا۔ نیز ان کا کھانا علیحدہ تیار کرنے میں بہت دقت تھی۔ اس لیے صحابہ کرام نےحضور ﷺ سے دریافت کیا کہ آیا یتیموں کے کھانے کا علیحدہ انتظام رکھا جائے یا اپنے ساتھ ملانے کی اجازت ہے ؟ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ۔ تو اس کا جواب دیا گیا کہ وہ طریقہ اختیار کرو جس میں یتیموں کی اصلاح ہو اور ان کا فائدہ ہو۔…
Read the full tafseer →گزشتہ سے پیوستہ
اس سے پہلی آیات میں شراب اور جوئے نیز خرچ کے متعلق سوالات اور ان کے جوابات تھے ، پورے قرآن پاک میں کل بارہ یا تیرہ مقامات ایسے ہیں ، جن میں اس قسم کے سوالات کا ذکر ہے ، یعنی لوگ آپ سے فلاں سوال کرتے ہیں ، اور ایسے لوگ بالمعموم اہل ایمان ہیں ، حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ سے بہتر کوئی انسان نہیں ہے ، وہ لوگ حضور ﷺ سے بہت کم سوال کرتے تھے ، بکثرت سوال کرنے کی بجائے اصحاب اصحاب رسول آپ کی بات کو بات کو نہایت غور سے سنتے تھے اور پھر اس پر عمل شروع کردیتے تھے ، حضور ﷺ دین کی ضروری باتیں خود بخود بیان فرما کرتے تھے ، اس لیے اس قسم کے سوالات کی…
Read the full tafseer →فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ 0 ۭ وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰي 0 ۭ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ 0 ۭ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ 0 ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ 0 ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ لَاَعْنَتَكُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 220
يتم
اليُتْمُ : انقطاع الصَّبيِّ عن أبيه قبل بلوغه، وفي سائر الحیوانات من قِبَلِ أمّه . قال تعالی: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی[ الضحی/ 6] ، وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] وجمعه : يَتَامَى. قال تعالی: وَآتُوا الْيَتامی أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 2] ، إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوالَ الْيَتامی [ النساء/ 10] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 220–221
ترکیب : اصلاح مبتداء لہم اس کی صفت خیر خبر وان تخالطوھم شرط فہم اخوانکم جزا ولو شرط شاء فعل اللّٰہ فاعل مفعول اعنتکم محذوف لا عنتکم جواب شرط ولو بمعنی ان۔
تفسیر۔ یتیموں کے حقوق کا بیان اور کافروں سے نکاح کی ممانعت : از آنجملہ یتیموں کی حق تلفی ہے۔ اس کے متعلق اول ] 1 ؎ شرع میں انہیں پر منحصر نہیں رکھا بلکہ جس میں دو طرفہ شرط ہو جیسا کہ ثرد اور کعتبیں وغیرہ۔[ آیت میں بیان ہے۔ از آنجملہ مشرکوں سے مناکحت ہے کیونکہ اس سے زہر آلود اختلاط ہوتا ہے مشرکوں کی عادت اور خصائل رواج پا کر نہ قومیت باقی رہتی رہے نہ دین خالص ‘ جس کی نظیر ہندوستان کے مسلمان ہیں۔ دوسری آیت میں اس کی ممانعت کی گئی جب خدا نے…
Read the full tafseer →وَ یَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْیَتٰمٰی ط قُلْ اِصْلَاحٌ لَّہُمْ خَیْرٌ ط وَ اِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَاِخْوَانُـکُمْ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ط وَلَوْشَآئَ اللّٰہُ لَاَعْنَـتَـکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌحَکِیْمٌ۔
(اوہ وہ تم سے یتیموں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو جس میں ان کی بہبود ہو وہی بہتر ہے۔ اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ شامل کر لوتو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کون بگاڑ چاہنے والا ہے اور کون اصلاح چاہنے والا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو مشقت میں ڈال دیتا۔ بیشک اللہ غالب ہے حکمت والا ہے) (220)
یتیموں سے متعلق سوال کی نوعیت
اس آیت کریمہ میں بھی ایک سوال…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
کلام کا تسلسل اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ لہٰذا اب یتیموں کی اصلاح اور ان کے ساتھ معاشرت کے اصول بیان کیے جارہے ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے یتیموں کے بارے میں یہ احکامات نازل ہوچکے تھے کہ یتیموں کا مال کھانا پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرنے کے مترادف ہے۔ اس انتباہ کی وجہ سے صحابہ کرام ؓ اس قدر خوف زدہ اور محتاط ہوئے کہ انہوں نے یتیموں کا کھانا پینا اور ان کے معاملات یکسر طور پر اپنے سے الگ کردیے۔ لیکن اس صورت حال سے نئے مسائل پیدا ہونے شروع ہوئے۔ جس کے لیے یتیموں کے بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت پیش آئی۔ چناچہ وضاحت کی جارہی ہے کہ دراصل اللہ تعالیٰ کے احکام…
Read the full tafseer →آیت 220:
فِی الدُّنْیَا۔ (دنیا میں) یعنی دنیا کے معاملے میں۔
وَالْاٰخِرَۃِ (اور آخرت میں) فی یہ یتفکرون سے متعلق ہے۔ یعنی تم دونوں جہانوں کے متعلق غور و فکر کرو۔ اور ایسے اعمال کرو۔ جو تمہارے لئے نہایت درست ہوں۔ یا دونوں جہانوں کے متعلق سوچ و بچار کرو اور ان میں جو باقی رہنے والا ہے اور کثرت منافع والا ہے اس کو ترجیح دو ۔
دوسرا قول : یہ ہے کہ یبین کے متعلق بھی ہوسکتا ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی۔
یبین لکم الاٰیات فی امر الدارین وفیما یتعلق بہما اور وہ تمہارے لئے اپنی آیات دونوں جہانوں کے سلسلے میں اور جو چیزیں ان سے متعلق ہیں واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔ لعلکم تتفکرون۔ تاکہ تم سوچ بچار کرو۔ جب یہ آیت…
Read the full tafseer →(تفسیر) 220۔:
(آیت)” فی الدنیا والاخرۃ “ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں نفقات کے بارے میں بیان فرماتے ہیں تاکہ تم دنیا وآخرت میں غور وفکر کرو، پس دنیاوی معاش کی اصلاح کی خاطر اپنے مالوں کا حساب کرلو اور اس سے زائد مال کو اس جگہ خرچ کرو جہاں خرچ کرنا آخرت کے لحاظ سے نفع مند ہو، اکثر مفسرین اس آیت کا معنی یوں بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح دنیا وآخرت کے معاملہ میں آیات کو بیان کرتے ہیں تاکہ تم سوچو بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ اخراجات کے بارے میں آیات بیان فرماتے ہیں تاکہ تم دنیا کے زوال وفنا کے بارے میں سوچو ، پھر اس سے بےرغبت ہوجاؤ اور آخرت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–220
(219 ۔ 220) ۔ اس آیت میں تین سوال ہیں جو لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کا جواب ایک ہی جگہ اس آیت میں نازل فرمایا ہے پہلا سوال شراب کے متعلق تھا اور شراب کی چار حالتیں زمانہ اسلام میں رہی ہیں پہلی حالت تو یہ ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں تھے اور اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے مدینہ میں تشریف رکھتے تھے تو شراب حلال تھی چناچہ سورة نحل میں جہاں دودھ اور شہد کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بطور اپنی نعمتوں کی یاد دہی کے فرمایا ہے وہاں شراب کا بھی ذکر فرمایا ہے اس لئے جنگ احد میں چند صحابہ ایسے شہید ہوئے جو شراب کے نشہ میں مخمور تھے جن کا ذکر سورة مائدہ میں آئے گا۔ اور…
Read the full tafseer →جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ’ ان الذین یاکلون اموال الیتامی۔۔۔ تا۔۔۔ سعیرا۔ (النساء 10) ’ بیشک وہ لوگ جو ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پٹ میں آگ بھرتے ہیں وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے “ تو یہ آیت کریمہ مسلمانوں پر بہت شاق گزری اور انہوں نے یتیموں کے کھانے سے اپنے کھانے کو اس خوف سے علیحدہ کرلیا کہ کہیں وہ ان کا کھانا تناول نہ کر بیٹھیں۔ اگرچہ ان حالات میں اموال میں شراکت کی عادت جاری وساری رہی۔ پس صحابہ کرام ؓ نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ اصل مقصد تو یتیموں کے مال کی اصلاح، اس کی حفاظت اور (اضافے کی…
Read the full tafseer →یتیم کے مال میں تصرف
قول باری ہے ویسئلونک عن الیتامی قل اصلاح لھم خیروان تخالطوھم فاخوانکم۔ اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے کہہ دیجئے جس طرز عمل میں ان کے لئے بھلائی ہو وہی اختیار کرنا بہتر ہے اور اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یتیم وہ ہوتا ہے جو اپنے ماں باپ میں سے ایک سے تنہا رہ جائے چناچہ باپ کے رہتے ہوئے ماں کی وفات کی وجہ سے وہ یتیم ہوتا ہے اس کے برعکس صورت میں بھی وہ یتیم ہوتا ہے البتہ یتیم کا اطلاق زیادہ تر اس صورت میں ہوتا ہے جب باپ نہ ہو خواہ ماں…
Read the full tafseer →610 اپنی دنیا و آخرت کیلئے فکر مندی کی ضرورت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ تم لوگ سوچو اپنی دنیا و آخرت کے بارے میں تاکہ اس طرح تمہیں دنیا میں بھی سعادت مندی نصیب ہو اور تم حیات طیبہ سے بہرہ ور اور سرفراز ہو سکو، اور آخرت میں بھی تمہیں حقیقی کامیابی اور فائز المرامی حاصل ہو سکے، کہ دنیا و آخرت دونوں ہی کی بہتری مقصود ہے۔ پس نہ تو تم لوگ ان ابنائے دنیا کی طرح ہوجاؤ جو آخرت کو بھول کر دنیا ہی کے لئے جی رہے ہیں، حالانکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے، جو کہ حقیقی بھی ہے اور ابدی اور دائمی بھی۔ اور اس کو بھلا دینا ناقابل تلافی خسارہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعََظِیْْم ۔ اور نہ ہی تم ان تارِکُ…
Read the full tafseer →تشریح : آیت 217 کا شان نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ سفر کے دوران کفار اور چند صحابیوں کی آپس میں لڑائی ہوگئی اور ایک مشرک مارا گیا۔ یہ لڑائی جمادی الثانی کی 30 تاریخ کو ہوئی جو کہ بعد میں معلوم ہوا کہ جمادی الثانی کا مہینہ 29 دنوں کا ہوگیا تھا۔ اس لیے لڑائی یکم رجب کو ہوگئی اور یہ مہینہ حرمت والا مہینہ تھا یہ صرف غلطی کی بناء پر ہوگیا تھا لیکن کفار کو تو بہانہ چاہیے تھا مسلمانوں پر طعنہ زنی کرنے کا کہ دیکھو مسلمان حرمت والے مہینوں کا بھی احترام نہیں کرتے تو وہ صحابہ آنحضرت ﷺ کے پاس گئے اور دریافت کیا کہ یہ غلطی بیخبر ی میں ہوگئی ہے۔ اب کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ غلطی میں گناہ معاف ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–221
217- 221
اسرارو معارف
اشہر حرم :
جب جہاد کا ذکر شروہ ہوا تو اس کے احکام ارشاد ہوتے ہیں جن میں بنیادی بات اشہر حرم کی ہے کہ سال میں چار مہینے رجب اور ذی قعد ، ذی الحجہ اور محرم ہیں۔ قبل اسلام بھی ان میں لڑنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا اور اسلام نے بھی ان کی حرمت بحال رکھی لیکن اس کے ساتھ یہ امکان بھی موجود تھا کہ مسلمان تو بالکل ہاتھ نہ اٹھائیں اور کافر جنگ کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں۔ تو اللہ کریم نے ایک ضابطہ ارشاد فرمایا کہ فرما دیجئے ان مذکورہ مہینوں میں لڑنا بہت بڑا جرم ہے اور عنداللہ بڑے گناہ کی بات ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا ، اللہ سے کفر کرنا اور بیت اللہ سے منع کرنا بلکہ جو…
Read the full tafseer →ف 1 ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما۔ نازل ہوئی تو تو جو لوگ یتیموں کے کفیل تھے وہ بہت ڈر گئے اور ان کے کھانے پینے کا نتظام بھی الگ کردیا پھر بعض اوقات یتیم کے لیے تیار کی ہوئی چیز اس کے کام نہ آتی تو ضائع ہوجاتی اس طرح کئی مشکلات پیش آنے لگیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اصل یتیموں کی بہتری اور ان کے مال کی اصلاح ہے لہذا اگر ان کے اموال کو ساتھ ملانے میں ان کی بہتری ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آخر یہ یتیم بچے تمہارے بھائی ہیں اگر کبھی تم نے ان کا اور انہوں نے تمہارا کچھ کھا پی لیا تو بھائیوں اور رشتہ داروں کے درمیان ایسا ہوتا ہی ہے اس پر لوگوں نے یتیموں…
Read the full tafseer →(2:220) قل اصلاح اعظم اجرا۔ یعنی یتیموں کے اموال یا کاروبار میں بغیر اجرت و عوضانہ ترقی کی کوشش کرنا۔ تمہارے لئے بہتر اجر کا باعث ہوگا۔
ان تخالطوھم۔ ان شرطیہ تخالطوا مضارع مجزام جمع مذکر حاضر، مخالطۃ (مفاعلۃ) مصدر ہم ضمیر مفعول جماع مذکر غائ۔ اگر تم ان کو ملا لو۔ ان سے مشارکت کرلو ۔ جملہ شرطیہ ہے فاخوانکم جواب شرط۔ تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں اس لئے مشارکت میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
المفسد۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ فساد (باب ضرب۔ نصر) مصدر۔ بگاڑنے والا۔
المصلح۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اصلاح (افعال) مصدر، درستی کرنے والا۔ بگاڑ نہ کرنے والا۔ صالح نیک۔ درست عمل کرنے والا۔
ولو شاء اللہ لا عنتکم۔ واؤ لو حرف…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 220
یبین (بیان کرتا ہے ، واضح کرتا ہے) ۔ تتفکرون (تم غور و فکر کرو گے) ۔ اصلاح (درست کرنا ، بہتر کرنا) ۔ تخالطو (تم ملا لو) ۔ اخوانکم (تمہارے بھائے بند (اخوان، اخ، بھائی) ۔ المفسد (فساد کرنے والا، بگاڑ پیدا کرنے والا) ۔ اعنت (مشکل میں ڈال دیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 220
اس سوال کا پس منظر یہ ہے کہ ۔ عرب میں عام طو ر پر یتیموں کے حقوق کی ادائیگی میں بڑی کوتاہیاں کی جاتی تھیں۔ فرمایا گیا کہ جو لوگ یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرتے ہیں۔ اس حکم کے آتے ہی صحابہ کرام ؓ انتہائی محتاط ہوگئے اور انہوں نے یتیموں کا کھانا بالکل الگ تھلگ کردیا جس سے یتیموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–220
شراب اور جوئے کی ممانعت
شان نزول : اس آیت میں تین سوال ہیں جو لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان تینوں سوالوں کا جواب ایک ہی جگہ نازل فرمایا ہے۔ (1) پہلا سوال شراب کے متعلق تھا۔ اس آیت سے پہلے شراب حلال تھی۔ جنگ احد میں چند صحابہ ایسے شہید ہوئے جو شراب کے نشہ میں مخمور تھے جس کا ذکر سورة مائدہ میں آوے گا۔ (2) دوسرے بعض صحاباہ نے نشہ کی حالت میں قرآن شریف نماز میں غلط پڑھ دیا جس پر سورة نساء کی آیت نازل ہوئی۔ (3) تیسرے شراب کی حالت میں لوگوں میں اکثر جھگڑا فساد رہتا تھا جس پر سورة مائدہ میں شراب اور جوئے کی حرمت میں آیت نازل فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیزیں نشہ والی ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–221
[148] یہ شراب اور جوئے کے متعلق پہلا حکم ہے جس میں صرف اظہار ناپسندیدگی کر کے چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ ذہن ان کی حرمت قبول کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ فقہا نے کہا ہے اور بالکل صحیح کہا ہے کہ حرمت خمر پر دوسری آیتیں اس سے صریح تر نہ موجود ہوتیں تب بھی خود یہ آیت حرمت کے لئے کافی تھی۔
[149] فرض زکوٰۃ کی تو شرح متعین تھی۔ یہ سوال اس کے علاوہ دوسرے نیک کاموں میں خرچ کرنے سے متعلق تھا۔
[051] '' عفو '' سے مراد بس اتنا خرچ کرنا ہے جو اپنے اوپر بار نہ ہو اور اپنے ضروری مصارف میں تنگی نہ اٹھانا پڑے۔
Read the full tafseer →(ف 2) یتامی کے متعلق اسلام نے سختی سے ان کے اولیا اور سرپرستوں کو ڈانٹا کہ ان کا مال کھانے سے باز آؤ چناچہ فرمایا (آیت) ” ولا تقربوا مال الیتیم “۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ لوگ جو دیانت دار تھے اور یتامی سے سچی ہمدردی رکھتے تھے ، ڈرے اور ان کے لئے یتامی کی تربیت سخت مشکل مسئلہ بن گئی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر مقصد اصلاح ہو تو پھر مخاطب میں جو ناگزیر حالات تک ہو مضائقہ نہیں اس لئے کہ وہ بھی تو آخر تمہارے بھائی ہیں اور اچھے سلوک کے مستحق ہیں ، البتہ یہ ملحوظ رہے کہ ادنی سی بےانصافی بھی اللہ تعالیٰ سے چھپی نہیں رہ سکتی ، وہ خوب جانتا ہے کون اصلاح کے ارادہ سے یتامی پر داری کر رہا ہے اور کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–220
ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ لوگ آپ سے شراب اور جوئے کی بابت دریافت کرتے ہیں اور آپ سے ان دونوں چیزوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے اور ان کو جواب دے دیجئے کہ شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے یعنی ان دونوں کی وجہ سے انسان بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ہاں ! لوگوں کے لئے ان میں کچھ فائدے اور منافع بھی ہیں مگر ان دونوں کی وجہ سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے وہ گناہ ان کے نفع اور ان کیف ائدوں سے بڑھے ہوئے ہیں اور چونکہ فوائد سے خطرات بڑے ہیں اس لئے یہ دونوں ترک کردینے کے قابل ہیں اور اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کیا کریں اور کس قدر خرچ کیا کریں آپ ان سے فرما دیجئے جو…
Read the full tafseer →ف 4۔ چونکہ ابتداء میں مثل ہندوستان کے عرب میں بھی یتیموں کا حق دینے میں پوری احتیاط نہ تھی اس لیے یہ وعید سنائی گئی تھی کہ یتیموں کا مال کھانا ایسا ہے جیسا دوزخ کے انگارے سے پیٹ بھرنا توسننے والے ڈر کے مارے اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا بھی الگ پکواتے الگ رکھواتے اور اتفاق سے اگر بچہ کم کھاتا تو کھانا بچتا اور سڑتا اور پھینکنا پڑتا اس طرح بالکل علیحدہ اٹھائے رکھنے میں تکلیف بھی ہوتی اور یتیم کے مال کا بھی نقصان ہوتا۔
Read the full tafseer →لوگ آپ ﷺ سے بےباپ بچوں کے متعلق پوچھتے ہیں ان کو بتا دو :
376: لڑائیوں کی کثرت کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ یتیم بہت زیادہ ہوں اس لئے ایک قانون کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مگر اس میں کسی مستقل ضابطہ کا بیان نہیں کیا گیا۔ اس لئے شریعت اسلامی اس سے پہلے مسلمانوں میں صحیح کیریکٹر پیدا کرچکی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ لوگ خود فیصلہ کرلیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لئے ایک اصل و اساس معین کردی کہ الاثم ما حاک فی نفسک گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے۔ ایسی قوم کو قوانین و ضوابط میں جکڑنا مصلحت کے خلاف ہے پس قرآن کریم نے اتنا بیان کیا کہ وہ تمہارے بھائی ہیں جیسے اپنے بھائیوں کا خیال رکھو گے اور ان کی غور وپرداخت کرو گے ایسے…
Read the full tafseer →Verse 220 features yet another question in a series of several posed by the noble Companions. This question relates to the combining of the cost of maintenance of orphans. Since there was general lack of carefulness about the rights of orphans in pagan Arabia, as elsewhere, warning was given that consuming what belongs to the orphans is like filling bellies with embers of Hell. Consequently, the recipients of this warning were so scared that they, out of preventive measure, started preparing and storing meals given to orphans separately. In case the child ate less, food was left over and,…
Read the full tafseer →236. Before this verse was revealed many severe injunctions had already been revealed regarding the protection of orphans' property. It had been ordained that ' people should not even draw near to the property of the orphan' (6: 152; 17: 34) and that 'those who wrongfully eat the properties of orphans only, fill their bellies with fire' (4: 10) . Because of these severe injunctions the orphans' guardians were so over awed that they even separated the food and drink of the orphans from their own; they felt anxious lest anything belonging to the orphans became mixed with their own. It is for…
Read the full tafseer →