Explained with ayahs 219–220
حرمت شراب کیوں ؟
جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورة بقرہ کی یہ آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ) 2۔ البقرۃ :219) نازل ہوئی حضرت عمر کو بلوایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی لیکن حضرت عمر نے پھر بھی یہی دعا کی کہ یا اللہ اسے ہمارے لئے اور زیادہ صاف بیان فرما اس پر سورة نساء کی آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا) 4۔ النسآء :43) نازل ہوئی اور ہر نماز کے وقت پکارا…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 235
(یہ شراب اور جوے کے متعلق پہلا حکم ہے، جس میں صرف اظہار ناپسندیدگی کر کے چھوڑ دیا گیا ہے، تاکہ ذہن ان کی حرمت قبول کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ بعد میں شراب پی کر نماز پڑھنے کی ممانعت آئی۔ پھر شراب اور جوے اور اس نوعیت کی تمام چیزوں کو قطعی حرام کردیا گیا۔ (ملاحظہ ہو سورة نساء، آیت 43 و سورة مائدہ، آیت 90)
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
پندرہواں حکم متعلقہ شراب وقمار
لوگ آپ سے شراب اور قمار کی نسبت دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ ان دونوں (چیزوں کے استعمال) میں گناہ کی بڑی بڑی باتیں بھی (پیدا ہوجاتی) ہیں اور لوگوں کو (بعضے) فائدے بھی ہیں اور (وہ) گناہ کی باتیں ان فائدوں سے زیادہ بڑھی ہوئی ہیں (اس لئے دونوں قابل ترک ہیں)
معارف و مسائل
صحابہ کرام ؓ اجمعین کے سوالات اور ان کے جوابات کا جو سلسلہ اس سورت میں بیان ہو رہا ہے، اس میں یہ آیت بھی ہے اس میں شراب اور جوُئے کے متعلق صحابہ کرام ؓ اجمعین کا سوال اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ہے، یہ دونوں مسئلے نہایت اہم ہیں اس لئے کسی قدر تفصیل کے ساتھ ان کی پوری حقیقت اور…
Read the full tafseer →جوئے اور شراب سے متعلق سوال کی نوعیت : اوپر فصل کی تمہید میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ شراب اور جوئے سے متعلق یہ سوال ان کے ان فوائد کو سامنے رکھ کر بعض لوگوں نے کیا جو اس وقت کی عرب کی مخصوص سوسائٹی کی روایات کی بنا پر ان میں پائے جاتے تھے۔ ہم بیان کرچکے ہیں عرب جاہلیت کی سوسائٹی میں جوئے اور شراب کی نوعیت موجودہ قمار بازی اور موجودہ بادہ خواری سے بالکل مختلف تھی۔ ہمارے ہاں جوا نری قسمت آزمائی اور بربادی اور شراب نوشی نری عیاشی ہے لیکن عرب جاہلیت میں ان کے ہمدردی خلق کے بعض ایسے پہلو بھی تھے جن کی بنا پر اہل ان کو رذائل میں نہیں بلکہ فضائل میں گنتے تھے۔ اسی پہلو سے یہاں انفاق اور جہاد کے سلسلے…
Read the full tafseer →219۔ 1 یہ گناہ تو دین کے اعتبار سے ہے۔
219۔ 2 فائدوں کا تعلق دنیا سے ہے مثلاً شراب سے وقتی طور پر بدن میں چستی اور مستعدی اور بعض ذہنوں میں تیزی آجاتی ہے جنسی قوت میں اضافہ ہوجاتا ہے جس کے لئے اس کا استعمال عام ہوتا ہے اس طرح اس کی خریدو فروخت نفع بخش کاروبار ہے۔ جوا میں بھی بعض دفعہ آدمی جیت جاتا ہے تو اس کو کچھ مال مل جاتا ہے لیکن یہ فائدے ان نقصانات کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے جو انسان کی عقل اور اس کے دین کو ان سے پہنچتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ ان کا گناہ ان کے فائدوں سے بہت بڑا ہے اس طرح اس آیت میں شراب اور جوا کو حرام تو قرار نہیں دیا گیا تاہم اس کے لیے تمہبند باندھ دی گئی ہے اس…
Read the full tafseer →142: چونکہ اہل عرب صدیوں سے شراب کے عادی تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حرمت کے اعلان میں تدریج سے کام لیا، پہلے سورة نحل (16: 67) میں ایک لطیف اشارہ دیا کہ نشہ لانے والی شراب اچھی چیز نہیں ہے، پھر سورة البقرۃ کی اس آیت میں قدرے وضاحت سے فرمایا کہ شراب پینے کے نتیجے میں انسان سے بہت سی ایسی حرکتیں سرزد ہوجاتی ہیں جو گناہ ہیں اور اگرچہ اس میں کچھ فائدے بھی ہیں، مگر گناہ کے امکانات زیادہ ہیں، پھر سورة نساء (4: 43) میں یہ حکم آیا کہ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو بالاآخر سورة مائدہ (5: 90۔ 91) میں شراب کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے مکمل پرہیز کرنے کا صاف صاف حکم دے دیا گیا۔
143: بعض…
Read the full tafseer →اس وقت شراب اور جوئے کی حرمت کا حکم نازل نہ ہوا تھا ، لیکن قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت بھی نہیں ہے جس سے اس کی حلت کا ثبوت ملتا ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جس راستے پر لے جانا چاہتا تھا ، اس کی مرضی یہ تھی کہ وہ انہیں اس راہ پر قدم بقدم لے جائے اور خود اپنی نگرانی میں اس امت کو اس رول کے لئے تیار کرے جس کے کے لیے اس نے اسے برپا کیا ۔ یہ رول اس قدر عظیم تھا کہ اس کے ساتھ شراب اور جوئے جیسے مخرب الاخلاق ومخرب اوقات کام چل ہی نہ سکتے تھے ۔ عمر کا ٹکڑے ٹکڑے کردینا ، فہم کا پریشان کردینا اور جدوجہد کے حصے بخرے کردینا اس رول اور اس منصب کے مناسب نہیں ۔ اس کے حاملین ان نکتوں کی طرح نہیں…
Read the full tafseer →2 شراب اور جوئے کے حق میں کئی آیتیں اتریں ہر ایک میں ان کی برائی ظاہر کی گئی آخر سورة مائدہ کی آیت میں صاف ممانعت کردی گئی اب جو چیزیں نشہ لادیں وہ سب حرام ہیں اور جو شرط باندھی جائے کسی چیز پر جس میں ہار اور جیت ہو وہ محض حرام ہے اور ایک طرف کی شرط حرام نہیں۔
3 شراب پینے سے عقل جاتی رہتی ہے جو تمام امور شنیعہ سے بچاتی ہے اور لڑائی اور قتل وغیرہ طرح طرح کی خرابیوں کی نوبت آتی ہے اور مختلف قسم کے امراض روحانی اور جسمانی پیدا ہوتے ہیں جو بسا اوقات باعث ہلاکت ہوتے ہیں اور جوا کھیلنے میں حرام مال کا کھانا اور سرقہ اور تضییع مال اور عیال باہم دشمنی وغیرہ طرح طرح کے مفاسد ظاہری و باطنی پیش آتے ہیں،…
Read the full tafseer →آیت 219 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ط
ان احکام سے شریعت کا ابتدائی خاکہ blue print تیار ہونا شروع ہوگیا ہے ‘ کچھ احکام پہلے آ چکے ہیں اور کچھ اب آ رہے ہیں۔ شراب اور جوئے کے بارے میں یہاں ابتدائی حکم بیان ہوا ہے اور اس پر محض اظہار ناراضگی فرمایا گیا ہے۔
قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَمَنَافِعُ للنَّاسِز وَاِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا ط۔
یعنی اشارہ کردیا گیا کہ ان کو چھوڑ دو۔ اب معاملہ تمہاری عقل سلیم کے حوالے ہے ‘ حقیقت تم پر کھول دی گئی ہے۔ یہ ابتدائی حکم ہے ‘ لیکن حکم کے پیرائے میں نہیں۔ بس واضح کردیا گیا کہ ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے ‘ اگرچہ ان میں…
Read the full tafseer →290 یہ شراب کے متعلق ابتدائی حکم ہے۔ جس میں صرف شراب سے نفرت دلانا مقصود تھا اس کے بعد دوسرے حکم میں یہ بتلایا گیا کہ نشہ کی حالت میں نماز ادا کرنا منع ہے۔ پھر تیسری بار آخری حکم سورة مائدہ کی آیت نمبر 90 میں ہے۔ جس میں شراب، جوا اور اس قبیل کی دوسری چیزوں کو قطعی طور پر حرام کیا گیا ہے کہ اگرچہ شراب کے پینے سے وقتی طور پر کچھ سرور حاصل ہوجاتا ہے۔ تاہم اس کے اور جوا کے نقصانات اس کے فائدہ سے بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً شراب پینے سے انسان کی عقل مخمور ہوجاتی ہے اور یہی خرابی کئی طرح کے فتنہ و فساد کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی طرح جوئے میں مفت مال ملنے سے خوشی حاصل ہوتی ہے مگر یہی چیزیں بعد میں کئی مفاسد،…
Read the full tafseer →803 ۔ یعنی ان کے حکم شرعی کی بابت، ان کے جواز وعدم جواز کی بابت۔ والمعنی یسئلونک عما فی تعاطیھما بدلیل (کشاف) دل تخصیص الجواب علی ان ذلک السوال کان واقعا عن الحل والحرمۃ (کبیر) (آیت) ” الخمر “ خمر ومیسر یہاں دونوں اپنے عام ووسیع معنی میں ہیں۔ خمر کے تحت میں ہر وہ نشیلا مشروب داخل ہے جو عقل کو مختل کردے، اسم لکل مسکر خامر العقل (تاج) الخمر ما اسکرمن عصیر کل شی (تاج) سمیت لکونھا خامرۃ لمقر العقل (راغب) شریعت نے بھی اسی لغوی مفہوم کو قبول کرلیا ہے۔ صحابیوں اور تابعین سب سے یہی منقول ہیں۔ الخمر ما خامر العقل (بخاری۔ عن ابن عمر ؓ) الخمر کل شراب خمر العقل فسترہ وغطی علیہ (ابن جریر) (آیت) ” المیسر “…
Read the full tafseer →یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ، خمر اور میسر یہاں دونوں اپنے وسیع معنی میں ہیں خمر کے تحت ہر وہ نشیلا مشروب داخل ہے جو عقل کو مختل کر دے اسی طرح میسِرْ بھی اپنے تمام اقسام کو شامل ہے (کل شئ فیہ قمارٌ فھُو المَیسر) (تاج) ۔ شراب اور جوا آج جس طرح فرنگی تہذیب میں جائز ہی نہیں بلکہ عین اس تہذیب کا جز ہیں اور دلیل اعزاز ہیں، اسی طرح قدیم عربی تہذیب کے بھی جزء تھے، اکیلے عرب ہی کی کیا بات ہے یہ مشغلے تمام روئے زمین پر پھیلے ہوئے تھے، ہندی تہذیب، مصری تہذیب، یونانی تہذیب، رومی تہذیب یہ تہذیبیں تو خیر جاہلی تہذیبیں تھیں ہی، اسرائیلی اور مسیحی تہذیبیں جو شرف نبوت کے تعلق سے مشرف تھیں وہ…
Read the full tafseer →يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ ( اے محمد یہ لوگ تم سے شراب کی بابت دریافت کرتے ہیں) امام احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حصور انور رسول مقبول ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے اس وقت مدینہ کے باشندے شراب پیتے اور جوا کھیلتے تھے ان دونوں کی بابت انہوں نے خود ہی آنحضرت ﷺ سے پوچھا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : یسئلونک عن الخمر والمیسر وہ لوگ کہنے لگے کہ ( اس آیت سے ہم پر ( اس کی) حرمت ثابت نہیں ہوئی کیونکہ فقط اتنا فرمایا گیا ہے کہ فیہما اثم کبیر (یعنی ان دونوں میں بڑا گناہ ہے) اور یہ خیال کرکے شراب وہ برابر پیتے رہے ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ مہاجرین میں سے ایک شخض نے نماز پڑھائی یعنی اپنے…
Read the full tafseer →(219) اگلی آیت حضرت عمر فاروق ؓ کے متعلق نازل ہوئی ہے، انہوں نے فرمایا تھا کہ یا الہ العالمین، شراب کے بارے میں کوئی صاف حکم بیان فرمادے، اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ ان میں حرمت کے بعد بہت بڑا گناہ ہے اور حرمت سے پہلے کے لیے تجارت وغیرہ کے معمولی سے فوائد ہیں مگر تحریم سے پہلے جو اس میں نفع ہے اس سے بہت زیادہ حرمت کے بعد ان میں گناہ ہے پھر اس کے بعد دونوں صورتوں میں شراب حرام کردی گئی ،
یہ آیت حضرت عمرو بن جموع ؓ کے بارے میں اتری ہے انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے پوچھا تھا کہ ہم اپنے مال سے کیا صدقہ کریں تو…
Read the full tafseer →الْخَــمْرِ : شراب، اس کی تفسیر خود رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ) [ مسلم، الأشربۃ، باب بیان أن کل مسکر۔۔ : 74؍2003 ] ”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے۔“ بعض لوگوں نے صرف انگور کی شراب کو ”خمر“ قرار دے کر باقی سب کے دوسرے نام رکھ کر انھیں حلال کرلیا۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کے عین مصداق ہیں کہ میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو عورتوں کی شرم گاہوں کو اور ریشم اور خمر (شراب) کو اور باجوں کو حلال کرلیں گے۔ [ بخاری، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر۔۔ : 5590، عن أبی مالک…
Read the full tafseer →ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر، قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس، واثمھما اکبر من نفعھما “۔ میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ ” یسئلونک “ اس میں سوال کرنے والے مومنین ہیں۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور ” الخمر خمر “ سے ماخوذ ہے جبکہ وہ ڈھانپ لے، چھپا لے۔ اور اسی سے خمار المراۃ عورت کی اوڑھنی اور دوپٹہ ہے۔ اور ہر وہ شے جو کسی شے کو ڈھانپ لے تو کہا جاتا ہے : فقد خمرہ “ اور اسی سے ” خمروا ائیتکم “ ہے (2) (بخاری شریف : باب : خمس من الدراب الخ حدیث نمبر : 3069، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (تم اپنے برتن ڈھانپ لو) اور خمر (شراب) عقل کو ڈھانپ لیتی ہے اور ماؤف کردیتی ہے۔…
Read the full tafseer →شراب اور جوئے کی حرمت
(1) ابن ابی شیبہ، احمد، عبد بن حمید، ابو داؤد، ترمذی (انہوں نے اس کو صحیح کہا ہے) نسائی، ابو یعلی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، النحاس نے الناسخ میں، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) بیہقی اور المقدس میں المختارہ میں حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ اے اللہ ! ہمارے لئے شراب کے بارے میں واضح اور شافی حکم نازل فرمائیے کیونکہ وہ شراب مال اور عقل (دونوں) کو لے جاتی ہے۔ تو یہ آیت ” یسئلونک عند الخمر والمیسر “ نازل ہوئی جو سورة بقرہ میں ہے۔ حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان پر (یہ آیت) پڑھی گئی۔ انہوں نے (پھر) عرض کیا اے اللہ ! شراب کے بارے میں ہمارے لئے…
Read the full tafseer →[ یَسْئَلُوْنَکَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں ] [ آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ : جوئے اور شراب کے بارے میں ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ فِیْہِمَآ : ان دونوں میں ] [ اِثْمٌ کَبِیْرٌ : ایک بڑا گناہ ہے ] [ وَّمَنَافِـعُ : اور کچھ فائدہ اٹھانے کی چیزیں ہیں ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ وَاِثْمُہُمَآ : اور ان دونوں کا گناہ ] [ اَکْبَرُ : زیادہ بڑا ہے ] [ مِنْ نَّفْعِہِمَا : ان دونوں کے فائدے سے ] [ وَیَسْئَلُوْنَکَ : اور وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ مَاذَا : کیا کچھ ] [ یُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ خرچ کریں ] [ قُلِ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ الْعَفْوَ : (خرچ کرو) اضافی کو ] [ کَذٰلِکَ : اس طرح ] […
Read the full tafseer →شراب اور جوئے کی حرمت
ان آیتوں میں اول تو شراب اور جوئے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے منافع بھی ہیں پھر یہ فرمایا کہ ان کا گناہ ان کے منافع سے بڑا ہے، اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ کسی چیز کے نفع مند ہونے سے اس کا حلال ہونا ضروری نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز نفع مند ہو اور حرام بھی ہو۔ حرام حرام ہی رہے گا خواہ اس میں کتنا ہی بڑا نفع ہو۔ اور اس کے ارتکاب میں گناہ ہوگا جو دنیا و آخرت میں باعث و بال ہوگا۔ شراب اور جوئے کے بارے میں تفصیلی کلام انشاء اللہ تعالیٰ ہم سورة مائدہ کی آیت :
(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–220
حکم پانزدھم۔ متعلق بہ شراب وقمار۔
قال تعالی، یسئلونک عن الخمر والمیسر۔۔۔ الی۔۔۔ من نفعھما۔
ربط) ۔ جس طرح خدا کی راہ میں جان ومال کا خرچ کرنا دین اور دنیا کی عزتوں کا سبب ہے (جیسا کہ پہلی آیتوں میں اس کا ذکر ہوا ہے) اسی طرح شراب وکباب اور قمار یعنی جوئے میں مال کا خرچ کرنا دینی اور دنیاوی تباہی کا موجب ہے چناچہ فرماتے ہیں اور یہ لوگ آپ سے شراب اور قمار یعنی جوئے کے متلق دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں کے استعمال میں فقط ایک گناہ نہیں بلکہ ان کے اندر بہت سے بڑے بڑے گناہ مضمر اور پوشیدہ ہیں اور لوگوں کے لیے کچھ معمولی فائدے بھی ہیں اس لیے کہ لوگوں کو شبہ پیدا ہوا کہ ان دونوں چیزوں…
Read the full tafseer →425 ۔ ربط : حرمت والے مہینوں میں قتال کی دو جہتیں تھیں۔ ایک جہت سے ناجائز ہے۔ حرمت نفوس کے مقابلہ میں چونکہ توحید زیاہ اہم ہے۔ لہذا شرک کے استیصال کے لیے ان مہینوں میں قتال کرو۔ آگے اسی مناسبت سے پانچ اور ذوجہتین مسائل بیان فرمائے ہیں۔ اور ہر مسئلہ کا تعلق دفع شرک سے ہے جن کا خلاصہ پانچویں مسئلہ کے بعد آرہا ہے۔ پہلا مسئلہ یعنی آپ سے شراب کی حلت و حرمت کے متعلق پوچھتے ہیں اور شراب سے مراد ہر وہ سیال ہے جو مسکر ہو اور عقل میں فتور پیدا کرے۔ خواہ کسی چیز سے تیار کیا گیا ہو اور خواہ اس کا کوئی سا نام رکھدیا گیا ہو۔ الحق الذی لا ینبغی العدول عنہ ان الشراب المتخذ مما عدا الغیب کیف کان وبای اسم متی…
Read the full tafseer →گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ درس میں جہاد کی مشروعیت اور اس کی حکمت بیان کی گی تھی حرمت والے مہینوں میں لڑائی سے منع کیا گیا تھا۔ کفار کی خصلت بیان ہوئی کہ وہ مسلمانوں کو بہکا کر دین اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرتے رہیں گے نیز فرمایا کہ جو شخص مرتد ہوگیا ، اس کی دنیا اور آخرت ہر دو برباد ہوگئیں۔ اس کے بعد ایمان ، ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کی تعلیم دی گئی کہ ایسے ہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور ان کی غلطیوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں گے۔
اس سے پہلے درس میں مال خرچ کرنے کا قانون بیان ہوا تھا۔ اور انفاق کی اہمیت بیان ہوئی تھی۔ اس کا بیان آگے بھی آئے گا۔ گویا یہ حصول مال کے ذرائع اور خرچ کی مدات…
Read the full tafseer →يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ 0 ۭ قُلْ فِيْہِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ 0 ۡوَاِثْـمُہُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا 0 ۭ وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ 0ۥۭ قُلِ الْعَفْوَ 0 ۭ كَذٰلِكَ يُـبَيِّنُ اللہُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ 219 ۙ
خمر
أصل الخمر : ستر الشیء، ويقال لما يستر به : خِمَار، لکن الخمار صار في التعارف اسما لما تغطّي به المرأة رأسها، وجمعه خُمُر، قال تعالی:
وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَّ [ النور/ 31] والخَمْر سمّيت لکونها خامرة لمقرّ العقل، وهو عند بعض الناس اسم لكلّ مسكر . وعند بعضهم اسم للمتخذ من…
Read the full tafseer →ترکیب : یسئلون فعل بافاعل کے مفعول عن الخمر والمیسر متعلق فعل سے اثم کبیر مبتداء فیہما خبر ومنافع للناس معطوف ہے اثم پر اے فیہا منافع للناس۔ العفو منصوب ہے بفعل مضمر تقدیرہ انفقوا العفو کذلک موضع نصب میں ہے لغت ہے مصدر محذوف کی اے یبین مثل ہذا التبین۔
تفسیر۔ شراب اور جوئے کی ممانعت : قوام ملت و قومیت بیان فرما کر قوم و مذہب کو برباد کرنے والے کام بھی جواب سوال کے پیرایہ میں بیان کئے جاتے ہیں تاکہ قانون سعادت کی تکمیل ہوجائے۔ از انجملہ جوا اور شراب ہے۔ عرب میں شراب نوشی کا مدت سے دستور تھا جس چیز کو شریعت نے منع نہ کیا تھا۔ صحابہ اس کو اپنے دستور کے موافق استعمال میں لاتے تھے۔ چناچہ مکہ میں اس…
Read the full tafseer →یَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ط قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌوَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ز وَاِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا ط وَیَسْئَلُوْنَـکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ 5 ط قُلِ الْعَفْوَ ط وَکَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّـکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ ۔ لا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط
(وہ تم سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو ان دونوں چیزوں کے اندر بڑا گناہ ہے۔ اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں۔ لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔ اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کتنا خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضروریات سے بچ رہے۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیتوں کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : درمیان میں مومنوں کا کردار ذکر کرنے کے بعد اب پھر ایک سوال کا جواب دیا گیا ہے۔
خمر کا معنی :
عربی میں ہراس چیز کو خمر کہتے ہیں جو پردہ ڈال دے، اسی مناسبت سے عورتوں کی اوڑھنیوں کو بھی قرآن مجید میں خمر کہا گیا ہے۔[ النور : 31] کیونکہ عورت اس سے اپنا سر، چہرہ اور جسم ڈھانپتی ہے۔ شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی کی عقل وفکر پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اسلام کے دوسرے ضابطوں اور قوانین کی طرح شراب کے حکم امتناعی کی تکمیل بھی تدریجًا نازل ہوئی۔ یہاں حرمت شراب کا پہلا حکم جاری کرتے ہوئے لوگوں کو نفع اور نقصان کی بنیاد پر سمجھایا جارہا ہے کہ شراب اور جوئے میں عارضی اور معمولی…
Read the full tafseer →219۔ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا وَیَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ ۔ (آپ سے اے محمد (ﷺ) یہ لوگ شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں ان سے کہہ دو ۔ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے فائدے بھی ہیں۔ اور ان کے فائدے سے انکا گناہ بڑا ہے اور آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں کہہ دو ۔ جو ضرورت سے زیادہ ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے صاف صاف آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ تم غور کرو) ۔ شراب کے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 219۔:
(آیت)” یسئلونک عن الخمر والمیسر “۔ یہ آیت کریمہ سیدنا ، حضرت عمر بن خطاب ؓ اور حضرت معاذ بن جبل ؓ اور چند ایک انصار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ حضرات حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں شراب اور جوئے کے بارے میں فتوی دیجئے کیونکہ یہ چیزیں عقل کو لے جانے والی اور مال کو سلب کرنے والی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی اور یہ قول مکمل طور پر حرمت شراب سے متعلق ہے جیسا کہ مفسرین نے فرمایا ہے کہ مکہ مکرمہ میں شراب سے متعلق چار آیتیں نازل ہوئیں اور وہ یہ ہیں (آیت)” ومن ثمرات النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–220
(219 ۔ 220) ۔ اس آیت میں تین سوال ہیں جو لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کا جواب ایک ہی جگہ اس آیت میں نازل فرمایا ہے پہلا سوال شراب کے متعلق تھا اور شراب کی چار حالتیں زمانہ اسلام میں رہی ہیں پہلی حالت تو یہ ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ ہجرت سے پہلے مکہ میں تھے اور اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے مدینہ میں تشریف رکھتے تھے تو شراب حلال تھی چناچہ سورة نحل میں جہاں دودھ اور شہد کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بطور اپنی نعمتوں کی یاد دہی کے فرمایا ہے وہاں شراب کا بھی ذکر فرمایا ہے اس لئے جنگ احد میں چند صحابہ ایسے شہید ہوئے جو شراب کے نشہ میں مخمور تھے جن کا ذکر سورة مائدہ میں آئے گا۔ اور…
Read the full tafseer →آیت۔ يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۭ یعنی اے رسول ! اہل ایمان آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ صحابہ کرام زمانہ جاہلیت اور اسلام کے ابتدائی ایام میں شراب وغیرہ استعملا کیا کرتے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ شراب اور جوئے کے بارے میں کوئی اشکال واقع ہوا تھا اس لئے انہوں نے ان کے احکام کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اہل ایمان پر شراب اور جوئے کے فوائد اور نقصانات واضح کردیں، تاکہ یہ وضاحت شراب اور جوئے کی تحریم اور ان کو حتمی طور پر تک کردینے کا مقدمہ بن جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے گناہ اور ان کے نقصانات اور ان کے اثرات سے آگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 218–219
شراب کی حرمت
ارشاد باری ہے یسئلونک عن الخمروالمسر قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس و اثمھما اکبر من نفعھما۔ آپ سے پوچھتے ہیں کہ شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لئے کچھ منافع بھی ہیں مگر ان کا نقصان ان کے فائدے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ آیت تحریم خم کا تقاضا کرتی ہے اگر اس کی تحریم کے لئے کوئی اور آیت نازل نہ بھی ہوتی پھر بھی یہی آیت اس مقصد کے لئے کافی ہوتی۔ اس لئے کہ ارشاد باری ہے قل فیھما اثم کبیر اور گناہ سارے کا سارا حرام ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھما وما بطن والاثم آپ ان سے کہہ دیجئے کہ…
Read the full tafseer →608 شراب اور جوئے کا گناہ انکے فائدوں سے کہیں بڑا ہے : کہ شراب سے انسان جوہر عقل سے محروم ہوجاتا ہے، جو تمام خوبیوں اور کمالات کی اصل و اساس، اور انسان کیلئے مابہ الامتیاز ہے۔ اور اس جوہر سے محرومی کے بعد انسان طرح طرح کی بدمستیوں میں مبتلا ہو کر ذلیل و خوار ہوتا ہے، اور گالی گلوچ اور بغض وعناد جیسی برائیوں اور بداخلاقیوں میں پھنس جاتا ہے، اور طرح طرح کی ہلاکت خیزیوں کا ارتکاب کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ جوا مال کی تباہی اور بربادی کا ذریعہ اور باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ واضح رہے کہ یہاں پر جوئے اور شراب کے جن منافع اور فوائد کا ذکر فرمایا گیا ہے، اس سے مراد انکے طبی، جسمانی اور مادی فوائد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–219
جنگ کا حکم
تشریح : جہاد کا حکم مسلمانوں کو مکہ سے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد ملا۔ اس وقت گو کہ مسلمان زیادہ مضبوط نہ تھے مگر اب وقت آگیا تھا کہ نئی اسلامی ریاست کی بنیاد کو مضبوط کیا جائے جس کے لیے کھلے بندوں تبلیغ کا کام بہت ضروری تھا۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا جب مسلمان اس سے قدرے پریشان ہوئے۔ کیونکہ ان کی تعداد اور سامان جنگ نہ ہونے کے برابر تھا تو اس پر رب العزت نے فرمایا کہ تم گھبراؤ نہیں، ہوسکتا ہے تم جنگ کو مشکل سمجھ رہے ہو جو کہ اللہ کے حکم سے تمہارے لیے آسان اور انتہائی فائدہ مند ثابت ہو۔ یہ مصلحت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس وقت تمہاری ترقی، مضبوطی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–221
217- 221
اسرارو معارف
اشہر حرم :
جب جہاد کا ذکر شروہ ہوا تو اس کے احکام ارشاد ہوتے ہیں جن میں بنیادی بات اشہر حرم کی ہے کہ سال میں چار مہینے رجب اور ذی قعد ، ذی الحجہ اور محرم ہیں۔ قبل اسلام بھی ان میں لڑنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا اور اسلام نے بھی ان کی حرمت بحال رکھی لیکن اس کے ساتھ یہ امکان بھی موجود تھا کہ مسلمان تو بالکل ہاتھ نہ اٹھائیں اور کافر جنگ کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں۔ تو اللہ کریم نے ایک ضابطہ ارشاد فرمایا کہ فرما دیجئے ان مذکورہ مہینوں میں لڑنا بہت بڑا جرم ہے اور عنداللہ بڑے گناہ کی بات ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا ، اللہ سے کفر کرنا اور بیت اللہ سے منع کرنا بلکہ جو…
Read the full tafseer →ف 4 اس آیت میں گو شراب اور جوئے کی حرمت کی تصریح نہیں ہے مگر قطعی طور پر ان کی تحریم کے لیے تمہیدہ ضرور ہے۔ آخر کار سورت مائدہ آیت 9 ۔ 19) میں ان کو قطعی اور صاف طور پر " حرام کردیا گیا۔ (ابن کثیر) حدیث میں ہے : کل مسکر حرام (صحیحین) یعنی ہر نشہ آور چیز خمر ہے لہذا ہر نشہ آور شراب اس کے تحت حرام ہے خواہ وہ انگور سے کشید کی گئی ہو یا کسی اور چیز سے۔ اور احادیث میں شراب نوشی کی سخت مذمت آئی ہے اور پینے پلانے والوں کے علاوہ خریدو فروخت اور بنانے بنوانے اور حمالہ یعنی مزدوری کرنے والوں پر بھی لعنت کی گئی ہے۔ ابو داؤد) اور ایسے دسترخوان پر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا جس پر شراب موجود ہو۔ (ترغیب) اور…
Read the full tafseer →(2:219) الخمر۔ شراب انگوری۔ اصل میں تو انگور کے کچے پانی کا نام جبکہ وہ نشہ آور ہو ” خمر “ ہے لیکن مجازاً ہر نشیلی شراب کو خمر کہہ دیتے ہیں۔ خمر یا تو اختمار بروزن (افتعال) سے ماخوذ ہے جس کے معنی خمیر اٹھنے کے ہیں چونکہ اس میں بھی خمیر اٹھ کر جوش پیدا ہوتا ہے اور جھاگ آنے لگتے ہیں اس لئے اس کا نام خمر ہوا۔
یا یہ مخامرۃ (مفاعلۃ) سے مشتق ہے جس کے معنی چھپالینے کے ہیں۔ چونکہ یہ وسواس کو گم کردیتی ہے اور عقل و ہوش کو چھپا دیتی ہے۔ اس لئے خمر سے موسوم ہوئی۔ خمار وہ چیز جس سے کوئی چیز چھپائی جاوے۔ خمار۔ عورت کی اوڑھنی جس کے ساتھ وہ اپنے سر کو چھپاتی ہے اس کی جمع خمر ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے ولیضربن…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 219
الخمر (شراب، ہر وہ چیز جو عقل کو ڈھانپ لیتی ہے) ۔ المیسر (جوا) ۔ اثم کبیر (بڑا گناہ) ۔ منافع (نفع ہے) ۔ العفو ( اپنی بنیادی ضروریات سے زائد چیز ) ۔
تشریح : آیت نمبر 219
شراب اور جو ایہ ایسی بری عادتیں ہیں کہ جن کو ایک دم چھوڑ دینا عام حالات میں عام انسانوں کے بس میں نہیں ہوتا اس لئے شراب اور جوئے کو حرام قرار دینے کے لئے بتدریج احکامات نازل کئے گئے تا کہ وہ شراب جو عرب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی اور اس کے بےانتہا نقصانات تھے اس سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ سورة بقرہ کی اس آیت میں شراب کو حرام قرار نہیں دیا گیا ہے بلکہ اس کے نفع ونقصان کے پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–220
شراب اور جوئے کی ممانعت
شان نزول : اس آیت میں تین سوال ہیں جو لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان تینوں سوالوں کا جواب ایک ہی جگہ نازل فرمایا ہے۔ (1) پہلا سوال شراب کے متعلق تھا۔ اس آیت سے پہلے شراب حلال تھی۔ جنگ احد میں چند صحابہ ایسے شہید ہوئے جو شراب کے نشہ میں مخمور تھے جس کا ذکر سورة مائدہ میں آوے گا۔ (2) دوسرے بعض صحاباہ نے نشہ کی حالت میں قرآن شریف نماز میں غلط پڑھ دیا جس پر سورة نساء کی آیت نازل ہوئی۔ (3) تیسرے شراب کی حالت میں لوگوں میں اکثر جھگڑا فساد رہتا تھا جس پر سورة مائدہ میں شراب اور جوئے کی حرمت میں آیت نازل فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیزیں نشہ والی ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–221
[148] یہ شراب اور جوئے کے متعلق پہلا حکم ہے جس میں صرف اظہار ناپسندیدگی کر کے چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ ذہن ان کی حرمت قبول کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ فقہا نے کہا ہے اور بالکل صحیح کہا ہے کہ حرمت خمر پر دوسری آیتیں اس سے صریح تر نہ موجود ہوتیں تب بھی خود یہ آیت حرمت کے لئے کافی تھی۔
[149] فرض زکوٰۃ کی تو شرح متعین تھی۔ یہ سوال اس کے علاوہ دوسرے نیک کاموں میں خرچ کرنے سے متعلق تھا۔
[051] '' عفو '' سے مراد بس اتنا خرچ کرنا ہے جو اپنے اوپر بار نہ ہو اور اپنے ضروری مصارف میں تنگی نہ اٹھانا پڑے۔
Read the full tafseer →شراب اور جوا :
(ف 3) اسلام سے پہلے جوئے اور شراب کے سختی سے عادی تھے اور وہ شخص جو شراب نہ پئے اور جوا نہ کھیلے اسے کہتے تھے ‘ یہ ” برم “ ہے یعنی کمینہ ہے اور سوسائٹی کے لئے باعث توہین ہے ۔
حضرت عمر ؓ جو انوار نبوت کے اکتساب میں یدطولی رکھتے تھے اس کو بہت برا جانتے تھے ، انہوں نے دعا کی ، اے اللہ ! شراب کے متعلق فیصلہ کن حکم نازل فرما ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ شراب اور جوئے میں گو عارضی فائدے بہت ہیں ، لیکن مستقل نقصان کہیں زیادہ ہے ، اس لئے یہ دونوں چیزیں بری ہیں ۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے فرمایا ، اس سے بھی زیادہ واضح حکم نازل ہو تو سورة نساء کی یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” یایھا الذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 219–220
ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ لوگ آپ سے شراب اور جوئے کی بابت دریافت کرتے ہیں اور آپ سے ان دونوں چیزوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے اور ان کو جواب دے دیجئے کہ شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے یعنی ان دونوں کی وجہ سے انسان بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ہاں ! لوگوں کے لئے ان میں کچھ فائدے اور منافع بھی ہیں مگر ان دونوں کی وجہ سے جن گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے وہ گناہ ان کے نفع اور ان کیف ائدوں سے بڑھے ہوئے ہیں اور چونکہ فوائد سے خطرات بڑے ہیں اس لئے یہ دونوں ترک کردینے کے قابل ہیں اور اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کیا کریں اور کس قدر خرچ کیا کریں آپ ان سے فرما دیجئے جو…
Read the full tafseer →ف 3۔ پہلے دونوں چیزیں حلال تھیں سب سے پہلی امت شراب وقمار کے متعلق یہ نازل کی گئی اس آیت سے ان دونوں کی حرمت فی نفسہ کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ بعض بعض عوارض غیر لازمہ سے ان دونوں کا ترک کا مشورہ دینا مطلوب تھا۔
Read the full tafseer →حرمت شراب اور اس کے متعلقہ احکام :
373: ابتدائے اسلام میں عام رسومات جاہلیت کی طرح شراب خوری بھی عام تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ میں بھی شراب اور قمار یعنی جوا کھیلنے کا رواج عام تھا۔ عام لوگ تو ان دونوں چیزوں کے صرف ظاہری فوائد کو دیکھ کر ان پر فریفتہ تھے۔ ان کے اندر جو بہت سے مفاسد اور خرابیاں ہیں ان کی طرف ان کی نظر ہی نہ تھی۔ لیکن سنت اللہ یہ بھی ہے کہ ہر قوم اور ہر خطہ کے لوگوں میں کچھ عقل و فکر والے بھی ہوتے ہیں جو طبیعت پر عقل کو غالب رکھتے ہیں۔ کوئی طبعی خواہش اگر عقل کے خلاف ہو تو وہ اس خواہش کے پاس نہیں جاتے۔ اس معاملہ میں نبی کریم ﷺ کا مقام تو بہت…
Read the full tafseer →Commentary:
This verse forms part of the series of questions asked by the noble Companions. These are as they appear in this Surah along with the answers given. Here, the question is about wine and gambling which has been answered by Allah Almighty by pointing out that the use and practice of these two things breeds major sins while people may also get some benefits from them, but the sin they release is far too grave than the benefit they give, implying that both these are worth abandoning.
Since these two issues are very serious, they need a somewhat detailed inquiry into their nature and…
Read the full tafseer →235. This is the first injunction concerning intoxicating drinks and gambling, and here the matter has been left merely as an expression of disapproval. This was a preliminary step designed to prepare the minds of people for the acceptance of their prohibition. The injunction prohibiting the performance of Prayer when in a state of intoxication came later, and ultimately alcohol, gambling and the like were categorically prohibited (see 4: 43 and 5: 90) .
Read the full tafseer →