Explained with ayahs 217–218
حضرمی کا قتل
رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کو بھیجا اور اس کا امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو بنایا جب وہ جانے لگے تو حضور ﷺ سے جدائی کے صدمہ سے رو دئیے آپ نے انہیں روک لیا اور ان کے بدلے حضرت عبداللہ بن جحش ؓ کو سردار لشکر مقرر کیا اور انہیں ایک خط لکھ کردیا اور فرمایا کہ جب تک بطن نخلہ نہ پہنچو اس خط کو نہ پڑھنا اور وہاں پہنچ کر جب اس مضمون کو دیکھو تو ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا چناچہ حضرت عبداللہ اس مختصر سی جماعت کو لے کر چلے جب اس مقام پر پہنچے تو فرمان نبی پڑھا اور کہا میں فرمانبرداری کے لئے تیار ہوں پھر اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور واقعہ بیان کیا دو شخص تو…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 234
جہاد کے معنی ہیں کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی انتہائی کوشش صرف کردینا۔ یہ محض جنگ کا ہم معنی نہیں ہے۔ جنگ کے لیے تو ”قِتَال“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جِھَاد اس سے وسیع تر مفہوم رکھتا ہے اور اس میں ہر قسم کی جدوجہد شامل ہے۔ مجاہد وہ شخص ہے، جو ہر وقت اپنے مقصد کی دھن میں لگا ہو، دماغ سے اس کے لیے تدبیریں سوچے، زبان و قلم سے اسی کی تبلیغ کرے، ہاتھ پاؤں سے اسی کے لیے دوڑ دھوپ اور محنت کرے، اپنے تمام امکانی وسائل اس کو فروغ دینے میں صرف کر دے، اور ہر اس مزاحمت کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کرے جو اس راہ میں پیش آئے، حتّٰی کہ جب جان کی بازی لگانے کی ضرورت ہو تو اس میں بھی دریغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
اشہر حرم میں قتال کا حکم
آیات مذکورہ میں سے دوسری آیت اس پر شاہد ہے کہ اشہر حرم یعنی چار مہینے رجب، ذیقعدہ، ذی الحجۃ، محرم میں قتال حرام ہے اسی طرح قرآن کریم کی متعدد آیتوں میں پوری تصریح کے ساتھ اشہر حرم میں قتال کی ممانعت آئی ہے، مثلاً مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ (اور حجۃ الوداع کے معروف و مشہور خطبہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منہا اربعۃ حرم ثلاث متوالیات ورجب مضر۔
ان آیات وروایات سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ چار مہینوں میں قتال حرام ہے اور یہ حرمت ہمیشہ کے لئے ہے۔
اور امام تفسیر عطاء بن ابی رباح قسم کھا کر فرماتے تھے کہ یہ حکم ہمیشہ کے لئے باقی ہے اور بھی متعدد حضرات…
Read the full tafseer →اہل استقامت کا مقام : کفار کے ظلم و ستم سے گھبرا کر مرتد ہوجانے والوں کا انجام بتانے کے بعد ان لوگوں کا مقام بھی بتا دیا جو کفار کی ان تمام ستم رانیوں کے باوجود اپنے ایمان پر جمے رہیں گے اور ہجرت و جہاد کی بازیاں کھیلیں گے۔ ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ بیشک اس بات کے سزا وار ہیں کہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہوں۔ موقع و محل دلیل ہے کہ یہاں لفظ“ امنوا ”اپنے کامل معنی میں استعمال ہوا ہے، اسی وجہ سے ہم نے اس کا ترجمہ“ اپنے ایمان پر جمے رہے ”کیا ہے۔ اس وقت ہجرت اور جہاد مسلمانوں پر بیک وقت دونوں واجب تھے، بیت اللہ کی آزادی اور فتنہ کے قلع قمع کے لیے جہاد کا بھی حکم ہوچکا تھا اور نبی ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
217۔ 1 رجب، ذیقعد، ذوالحجہ اور محرم۔ یہ چار مہینے زمانہ جاہلیت میں بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے جن میں قتال اور جدال ناپسندیدہ تھا اسلام نے بھی ان کی حرمت کو برقرار رکھا نبی ﷺ کے زمانے میں ایک مسلمان فوجی دستے کے ہاتھوں رجب کے مہینے میں ایک کافر قتل ہوگیا اور بعض کافر قیدی بنا لئے گئے۔ مسلمانوں کے علم میں یہ نہیں تھا کہ رجب شروع ہوگیا ہے کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ دیکھو یہ حرمت والے مہینے کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھتے جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور کہا گیا کہ یقینا حرمت والے مہینے میں قتال بڑا گناہ ہے لیکن حرمت کی دہائی دینے والوں کو اپنا عمل نظر نہیں آتا یہ خود اس سے بھی بڑے جرائم کے مرتکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
تشریح : سورة توبہ (9: 36) میں چار مہینوں کو اشہر حرم کہا گیا ہے، یعنی حرمت والے مہینے، آنحضرت ﷺ نے ان کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چار مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں، ان مہینوں میں جنگ منع ہے، البتہ اگر کوئی دشمن حملہ کردے تو اپنا دفاع کیا جاسکتا ہے، ایک مرتبہ ایک سفر کے دوران چند صحابہ کی کچھ مشرکین سے جھڑپ ہوگئی اور مشرکین میں سے ایک آدمی عمرو بن ضمری مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا، یہ واقعہ جمادی الثانیہ کی 29 تاریخ کی شام کو واقع ہوا، لیکن اس شخص کے قتل ہوتے ہی رجب کا چاند نظر آگیا، اس پر مشرکین نے مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان مچادیا کہ یہ لوگ حرمت والے مہینوں کا بھی پاس نہیں…
Read the full tafseer →جن لوگوں کو اللہ کی راہ میں اذیت دی جائے ۔ وہ اللہ کی خصوصی رحمت کے امیدوار ہوتے ہیں اور جس کا دل ایمان سے معمور ہو وہ کبھی بھی مایوس نہیں ہوتاإِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ، وہ رحمت الٰہی کے جائز امید وار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے۔ “
جب ایک مومن رحمت خداوندی کا امیدوار ہو تو اللہ اسے کبھی نامراد نہیں لوٹاتے ۔ مہاجرین وانصار کے مخلص مومنین نے ، اگرچہ…
Read the full tafseer →1 آیت سابقہ سے جماعت اصحاب مذکورہ بالا کو یہ تو معلوم ہوگیا کہ ہمارے اوپر اس بارے میں کوئی مواخذہ نہیں مگر یہ تردّد ان کو تھا کہ دیکھئے اس جہاد کا ثواب بھی ملتا ہے یا نہیں اس پر یہ آیت اتری کہ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کے واسطے اس کے دشمنوں سے لڑے اپنی کوئی غرض اس لڑائی میں نہ تھی وہ بیشک اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے مستحق رہیں، اور اللہ اپنے بندوں کی خطائیں بخشنے والا اور ان پر انعام فرمانے والا ہے وہ ایسے تابعداروں کو محروم نہ کرے گا۔
Read the full tafseer →آیت 218 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لا اولٰٓءِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِط۔
یہاں ان لوگوں پر بڑا لطیف طنز ہے جو خود تو حرام کے راستے پر جا رہے ہیں ‘ لیکن یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان پر رحم فرمائے گا۔ اللہ ایسی روش اختیار کرنے والوں پر رحمت نہیں فرماتا ‘ اللہ کی رحمت کا مستحق بننا پڑتا ہے۔ اور اللہ کی رحمت کا مستحق وہی ہے جو ایمان ‘ ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ایسے لوگ بجا طور پر اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔
وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
وہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا…
Read the full tafseer →289 یہ آیت دراصل مجاہدین کے اسی دستہ کے متعلق ہے جنہیں نخلہ کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ان مجاہدین کو یہ تردد تھا کہ آیا اس جہاد کا ثواب بھی ملتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ اس میں دو غلطیاں ہوگئیں تھیں ایک یہ کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے بغیر جہاد کیا تھا دوسری غلطی یہ کہ یکم رجب کو لڑائی کی جس کا انہیں علم نہ ہوسکا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں اللہ کی رحمت کا امیدوار ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ غلطیوں کو معاف کردینے والا ہے۔ مہربان ہے۔
جہاد دراصل ہر اس کوشش کا نام ہے جو اسلام کی راہ میں مزاحم ہونے والی رکاوٹوں کو دور کردے۔ اگر کوئی شخص ذہن سے اس قسم کی تدابیر سوچتا ہے یا کافروں کی تدابیر کا…
Read the full tafseer →800 ۔ (آیت) ” الذین ھاجروا “۔ دین کے تحفظ وبقا کی خاطر وطن جیسی عزیز ومحبوب چیز کو مع وہاں کے تمام مرغوبات ومالوفات کے چھوڑنا اور کفر کی بستی کو ترک کرکے ایمان کی بستی میں آجانے کا نام ہجرت ہے الخروج من الکفر الی دارالایمان (راغب) (آیت) ” جھدوا “ جہاد کے معنی شدید کوشش اور جدوجہد کے ہیں۔ اس میں سب طرح کی بلائیں اور تکلیفیں آگئیں، اور اس کی بڑی فرد قتال ہے۔ فاطر کائنات کے قانون میں ہجرت و جہاد دونوں کے بڑے فضائل اور بڑے مرتبے ہیں۔ ایمان خود ہی کیا کم دولت ہے۔ اور پھر جب اس کے ساتھ یہ دونوں مرتبے بھی حاصل ہوجائیں، تو اس کے درجہ کا کیا ٹھکانا ہے ! نفس ایمان تو سب صحابیوں میں مشترک تھا ہی، کثرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
آیت نمبر 217 تا 219
ترجمہ : نبی ﷺ نے اپنے سرایا (جنگی یونٹ) میں سے پہلا سریہ (یونٹ) روانہ فرمایا، اور اس کا امیر عبد اللہ بن جحش کو بنایا، چناچہ ان لوگوں نے مشرکین سے قتال کیا اور جمادی الاخری کے آخری دن ابن حضرمی کو قتل کردیا، اور ان کو جمادی الاخری کا رجب کے پہلے سن سے اشتباہ ہوگیا، تو کفار نے ماہ رجب کو حلال سمجھنے پر عار دلائی تو، یَسْئلُونَکَ نازل ہوئی، لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام (یعنی) ماہ محترم میں لڑنا کیسا ہے ؟ قِتَال فیہِ (عن الشھر الحرام) سے بدل الاشتمال ہے آپ ان کو بتادو کہ ان میں قتال کرنا بہت برا ہے (یعنی) گناہ کے اعتبار سے بڑا جرم ہے (قتال فیہ) مبتداء خبر ہیں، اور لوگوں…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ( بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا) اس آیت میں ہجرت اور جہاد کی عظمت بیان کرنے کی وجہ سے موصول مکرر لایا گیا ہے گویا امید متحقق ہونے میں یہ دونوں فعل مستقل ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ ( یہی ہیں جو اللہ کی رحمت کی امید وار ہیں) یعنی اللہ کے اجر دینے کے ( امید وار ہیں) امید کو ان کے لیے اس لیے ثابت کیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ عمل نہ موجب ثواب ہے اور نہ ثواب کے ثبوت کا یقین دلانے والا ہے خاص کر اس صورت میں کہ اعتبار خاتموں ہی کا ہوتا ہے۔
وَاللّٰهُ…
Read the full tafseer →(218) اگلی آیات پھر حضرت عبداللہ بن جحش ؓ اور ان کے ساتھیوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور انہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی اور عمرو بن حضرمی کافر کو قتل کیا یقیناً ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی جنت میں جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان کے افعال کو معاف کرنے والا ہے، ان سے مؤاخذہ نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →ھَاجَرُوْا : ”ھَجَرَ یَھْجُرُ (ن)“ کا معنی کسی سے دل یا زبان یا بدن کے ساتھ جدا ہوجانا ہے اور ”ھَاجَرُوْا“ اس میں سے باب مفاعلہ ہے، جس میں مبالغہ مقصود ہے، یعنی ”کسی سے قطع تعلق کرکے الگ ہوجانا“ مراد دار الکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام میں آجانا ہے۔ (مفردات)
وَجٰهَدُوْا :”جَھَدَ یَجْھَدُ (ف)“ کا مطلب ہے ”کسی کام میں کوشش کرنا۔“ ”جَاھَدَ مُجَاہَدَۃً وَجِہَادًا“ کا معنی ہے ”دشمن سے لڑنا۔“ (القاموس) ”جَھَدَ“ سے باب مفاعلہ کی وجہ سے اس کا معنی اپنی ساری کوشش صرف کرنا ہے۔ اس لیے اصحاب لغت نے اس کا معنی ”لڑنا“ کیا ہے کیونکہ کوشش کی انتہا یہی ہے۔
يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ : یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر : (12) ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین امنوا والذین ھاجروا “۔ الآیہ۔ جندب بن عبداللہ اور عروہ بن زبیر وغیرہما نے کہا ہے کہ جب واقد بن عبداللہ تمیمی ؓ نے عمرو بن حضرمی کو شہر حرام میں قتل کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس مال کا خمس لینے سے توقف فرمایا جو آپ کے لئے مال اور دو قیدیوں کی صورت میں حضرت عبداللہ بن جحش ؓ کو عطا کیا گیا تھا، تو مسلمانوں نے حضرت عبداللہ بن جحش ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں سخت رویہ اختیار کیا یہاں تک کہ وہ ان پر شاق گزرنے لگا، تو اللہ تعالیٰ نے شہر حرام میں اس آیت کے ساتھ ان کی تلافی فرمائی اور ان سے غم اور پریشانی کو دور فرما دیا۔ اور یہ خبر دی کہ ان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، بیہقی نے اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ جندب بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان کے اوپر ابو عبیدہ بن جراح یا عبیدہ بن حارث ؓ کو (امیر بنا کر) بھیجا۔ جب وہ جانے لگے تو غلبہ عشق سے رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ کر رونے لگے اور بیٹھ گئے۔ آپ نے پھر ان کی جگہ عبد اللہ بن جحش کو بھیجا۔ اور اس کو ایک خط لکھ کردیا اور حکم فرمایا کہ اس کو نہ پڑھنا یہاں تک کہ فلاں مقام پر پہنچ جاؤ۔ اور (یہ بھی) فرمایا کہ اپنے اصحاب میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا۔ جب انہوں نے خط کو پڑھا تو لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “…
Read the full tafseer →[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : جو لوگ ایمان لائے ] [ وَالَّذِیْنَ : اور جن لوگوں نے ] [ ہَاجَرُوْا : ہجرت کی ] [ وَجٰہَدُوْا : اور جہاد کیا ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [ یَرْجُوْنَ : اُمید رکھتے ہیں ] [ رَحْمَتَ اللّٰہِ : اللہ کی ] [ رحمت کی ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ : ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
ھ ج ر
ھَجَرَ (ن) ھَجْرًا : (1) قطع تعلق کرنا ‘ چھوڑنا۔ (2) نیند یا بیماری میں بڑبڑانا ‘ بلاسوچے سمجھے بکواس کرنا۔ { بِہٖ سٰمِرًا تَھْجُرُوْنَ ۔ } (المؤمنون) ” رات کی مجلس میں تم لوگ بکواس کرتے ہو۔…
Read the full tafseer →آخر میں یہ جو فرمایا : (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَ جَاھَدُوْا) (الایۃ)
اس کے بارے میں مفسر ابن کثیر ص 254 ج 1 لکھتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بن جحش ؓ اور ان کے ساتھیوں کا مسئلہ حل ہوگیا اور سرور عالم ﷺ نے ان کے لائے ہوئے مال کو جو کافروں سے لے لیا تھا 5/1 نکال کر باقی مال انہی پر تقسیم فرما دیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اس بات کی امید کریں کہ جو کچھ ہم نے کیا یہ ہمارے لیے جہاد شرعی میں شمار ہوجائے گا اور اس میں ہمیں وہ اجر مل جائے گا جو مجاہد کو ملا کرتا ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ شانہ نے واضح طور پر بتادیا کہ بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–218
حکم چہاردھم، متعلق بہ فرضیت جہاد و قتال درشہرحرام۔
قال تعالی، کتب علیکم القتال وھو۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔
گزشتہ آیات میں حضرات انبیاء کرام کے ابتلاء اور مصائب کا ذکر فرمایا اور یہ بتلایا کہ جنت میں داخل ہونا ابتلاء کے وقت صبر اور تحمل پر موقوف ہے اس سلسلہ میں اولا جہاد مالی یعنی انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر فرمایا اب اس کے بعد جہاد جانی کا ذکر فرماتے ہیں اے مسلمانو تم پر جہاد فرض کیا گیا اور تمہیں طبعا ناگوار ہے کیونکہ اس میں جان پر مشقت اور مال کا خرچ ہے اور شاید کہ کوئی شے تم کو طبعا ناگوا رہے فی الواقع وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جہاد فی سبیل اللہ بھی اسی قسم میں داخل ہے اس لیے جہاد سے اسلام کو فتح…
Read the full tafseer →423 ایمان چونکہ تمام اعمال کی قبولیت کی شرط ہے اور اس کے بغیر نہ ہجرت مفید ہے نہ جہاد۔ اس لیے پہلے اس کا ذکر فرمایا وَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا۔ اللہ کے دین اور اس کی توحید کی خاطر اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنا وطن چھوڑا۔ وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۔ اللہ کے دین اور اس کی توحید کو سربلند کرنے کے لیے کفار سے جہاد کیا۔ اُولٰۗىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ ۔ اُولٰۗىِٕكَ سے صفات بالا کے حاملین کی طرف اشارہ ہے اور رجاء سے قطع اور یقین مراد ہے۔ المراد من الرجاء القطع والیقین۔ کو مزید اطمینان دلا دیا کہ گناہ کی معافی کے ساتھ ساتھ اجر وثواب بھی ملے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–218
گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ دروس میں مال کے مصارف کا بیان تھا۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ لوگ اپنا مال کن امور پر خرچ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھیجا کہ مال خرچ کرتے وقت سب سے پہلے والدین ، پھر قرابت داروں پھر یتیموں اور مسکینوں اور اس کے بعد مسافروں کو پیش نظر رکھیں۔ تاہم کلیہ کے طور پر اس بات کی وضاحت فرما دی کہ نیکی کا جو بھی کام انجام دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہے تو اسے سب سے پہلے زکوۃ ادا کرنی چاہئے۔ پھر صدقات واجبہ کا حکم آتا ہے۔ اس کے بعد نفلی صدقات پر خرچ کرے جس کے لئے صاحب نصاب ہونا ضروری نہیں۔ البتہ اجر وثواب کی خاطر اچھی سے اچھی چیز خرچ کرنا چاہئے۔ جیسا…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ 0 ۙ اُولٰۗىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللہِ 0 ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 218
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
ترکیب : یسئلون فعل بافاعل کا مفعول ینفقون فعل بافاعل ماذا اس کا مفعول اور ممکن ہے کہ ما استفہام کے لیے ہو بمعنی اے شی اور ذا بمعنی الذین اور ینفقون اس کا صلہ اور عائد محذوف پس مامبتدا اور ذامع صلہ کے اس کی خبر پھر یہ تمام جملہ مفعول ثانی ہوگا۔ یسئلون کا وقیل تفسیرہ ما شرطیہ انفقتم الخ شرط فللوالدین الخ جواب شرط پھر یہ تمام جملہ محلا منصوب ہے۔ قل کا مفعول ہو کر اور ممکن ہے ما بمعنی الذی ہو اور مبتداء قرار دیا جاوے اور من خیر حال ہو محذوف سے فللو الدین خبر۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ مومنوں کو دنیا کی بےثباتی بتا چکا اور آخرت کے لیے صبر اور استقلال کی تاکید فرما چکا کہ اس کے لیے جان و مال بھی دریغ…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لا اُوْلٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَۃَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔
بیشک جو لوگ ایمان پر جمے رہے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اللہ بخشنے والا مہربان ہے) (218)
ایمان کے تحفظ کے لیے ہجرت اور جہاد ضروری ہیں
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ کفار کے ظلم و ستم سے گھبرا کر ارتداد کا راستہ اختیار کرنا کم ہمتی ‘ بزدلی اور حقائق سے فرار کے سوا کچھ نہیں۔ اگر ایمان واقعی قابل قدر چیز ہے اور یہ زندگی کی وہ حقیقت ہے جس سے محروم ہونے کے بعد زندگی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی جدّو جہد دین اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ لہٰذا ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ مسلمانوں کی کوشش و کاوش اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ہمیشہ کی جنت ہے۔ جس میں انہیں حیات جاوداں نصیب ہوگی۔
بعض لوگ سچے ایمان اور صالح کردار کے بغیر جنت کے وارث بننے کا دعو ٰی کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کا فرمان ہے کہ جب تک مسلمان مخلص ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے مال و جان کی قربانی پیش نہیں کرو گے۔ اس وقت تک تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت نصیب نہیں ہوسکتی۔ اسی نظریہ کی دو ٹوک وضاحت کی جارہی ہے کہ بلا شک جو لوگ خلوص دل کے…
Read the full tafseer →آیت 218:
اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی۔ یعنی انہوں نے مکہ کو اور اپنے خاندانوں کو چھوڑا۔
وَجٰہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ (اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا) مشرکین کے خلاف۔
قراءت : یہاں وقف نہیں۔ کیونکہ اولٰئک یرجون یہ اِنّ کی خبر ہے۔
اُولٰٓپکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں کہا جاتا ہے من رجاطلب ومن خاف ہرب۔
نکتہ : (امید کو ان کے لئے اس وجہ سے ثابت کیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے۔ کہ عمل نہ موجب ثواب ہے اور نہ ثبوت ثواب کا یقین دلانے والا۔ خاص کر اس وقت جبکہ اعتبار خاتمہ کا…
Read the full tafseer →218۔ (آیت)” ان الذین امنوا والذین ھاجروا “ جنہوں نے خویش واقربا کو اور مال ومتاع اور گھروں کو چھوڑا ” وجاھدودا “ مشرکوں سے جہاد کیا (فی سبیل اللہ) اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اللہ تعالیٰ نے اس سریہ (دستہ) کے اس عمل کو جہاد قرار دیا ۔ (آیت)” اولئک یرجون رحمۃ اللہ “ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ بیشک یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ (آیت)” واللہ غفور رحیم “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
(217 ۔ 218) ۔ اس آیت کی شان نزول قصہ طلب ہے اس قصہ کا یہ ہے کہ جنگ بدر سے دو مہینے پہلے آنحضرت کو معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ کے کچھ لوگ کسی قدر کھانے پینے کا سامان بطن نخلہ کے راستہ سے مکہ کو لا رہے ہیں۔ بطن نخلہ طائف اور مکہ کے بیچ میں ایک مقام ہے آپ نے یہ خبر سن کر حضرت عبد اللہ بن حجش ؓ صحابی کو اور جو آپ کے چچا زاد بھائی ہیں ایک خط دے کر چند صحابہ کے ہمراہ روانہ کیا اور کچھ یہ نہیں فرمایا کہ ان کو اور ان کے ساتھیوں کو کہاں اور کس ضرورت سے بھیجا جاتا ہے۔ بلکہ عبد اللہ بن حجش ؓ سے یہ فرما دیا کہ بسم اللہ کر کے مدینہ سے سفر کرو دو منزلیں جب تک طے نہ ہوں اس وقت تک یہ خط جو تم کو دیا گیا اس کو…
Read the full tafseer →آیت کریمہ میں مذکور تینوں اعمال سعادت کا عنوان اور عبودیت کا مرکز و محور ہیں، انہی اعمال سے پہچان ہوتی ہے کہ انسان کے پاس کیا گھاٹے یا منافع کا سودا ہے۔ رہا ایمان تو اس کی فضیلت کے بارے میں مت پوچھئے اور آپ اس چیز کے بارے میں کیسے پوچھ سکتے ہیں جو اہل سعادت اور اہل شقاوت اور جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان حد فاصل ہو ؟ یہ ایمان ہی ہے کہ جب بندہ اس سے بہرہ ور ہوتا ہے، تو بھلائی کے تمام اعمال اس سے قبول کئے جاتے ہیں اور اگر وہ اس سے محروم ہو، تو پھر اس کا کوئی فرض اور کوئی نفل قابل قبول نہیں۔ رہی ہجرت ! تو یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے محبوب اور مالوف وطن سے جدائی کو قبول کرنا ہے۔ پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 218–219
شراب کی حرمت
ارشاد باری ہے یسئلونک عن الخمروالمسر قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس و اثمھما اکبر من نفعھما۔ آپ سے پوچھتے ہیں کہ شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لئے کچھ منافع بھی ہیں مگر ان کا نقصان ان کے فائدے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ آیت تحریم خم کا تقاضا کرتی ہے اگر اس کی تحریم کے لئے کوئی اور آیت نازل نہ بھی ہوتی پھر بھی یہی آیت اس مقصد کے لئے کافی ہوتی۔ اس لئے کہ ارشاد باری ہے قل فیھما اثم کبیر اور گناہ سارے کا سارا حرام ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ قول باری ہے قل انما حرم ربی الفواحش ماظھرمنھما وما بطن والاثم آپ ان سے کہہ دیجئے کہ…
Read the full tafseer →606 مومن صادق کیلئے اللہ کی رحمت کی امید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے حضرات اللہ کی رحمت کی امید رکھ سکتے ہیں، اپنے اخلاص، اور اپنی سعی اور کوشش کی بناء پر، کہ ان کے ذمے جو کچھ تھا وہ اسے بجا لائے اور اپنے بس کی حد تک انہوں نے اس میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ یہاں پر یہ نہیں فرمایا کہ وہ کامیاب ہوگئے، اور انہوں نے اپنے رب کی رحمت پا لی، اور وہ جنت کے مستحق ہوگئے وغیرہ۔ بلکہ { یَرْجُوْنَ } فرمایا گیا ہے یعنی " یہ لوگ اپنے رب کی رحمت کی امید رکھ سکتے ہیں " کہ اس سے ان کو نوازا جائیگا۔ اور یہ اس لئے کہ بندہ جتنی بھی کوشش و محنت کرے، وہ یقین سے کبھی نہیں کہہ سکتا کہ میرا عمل ایسا ہے کہ اسے لازماً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–219
جنگ کا حکم
تشریح : جہاد کا حکم مسلمانوں کو مکہ سے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد ملا۔ اس وقت گو کہ مسلمان زیادہ مضبوط نہ تھے مگر اب وقت آگیا تھا کہ نئی اسلامی ریاست کی بنیاد کو مضبوط کیا جائے جس کے لیے کھلے بندوں تبلیغ کا کام بہت ضروری تھا۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا جب مسلمان اس سے قدرے پریشان ہوئے۔ کیونکہ ان کی تعداد اور سامان جنگ نہ ہونے کے برابر تھا تو اس پر رب العزت نے فرمایا کہ تم گھبراؤ نہیں، ہوسکتا ہے تم جنگ کو مشکل سمجھ رہے ہو جو کہ اللہ کے حکم سے تمہارے لیے آسان اور انتہائی فائدہ مند ثابت ہو۔ یہ مصلحت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس وقت تمہاری ترقی، مضبوطی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–221
217- 221
اسرارو معارف
اشہر حرم :
جب جہاد کا ذکر شروہ ہوا تو اس کے احکام ارشاد ہوتے ہیں جن میں بنیادی بات اشہر حرم کی ہے کہ سال میں چار مہینے رجب اور ذی قعد ، ذی الحجہ اور محرم ہیں۔ قبل اسلام بھی ان میں لڑنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا اور اسلام نے بھی ان کی حرمت بحال رکھی لیکن اس کے ساتھ یہ امکان بھی موجود تھا کہ مسلمان تو بالکل ہاتھ نہ اٹھائیں اور کافر جنگ کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں۔ تو اللہ کریم نے ایک ضابطہ ارشاد فرمایا کہ فرما دیجئے ان مذکورہ مہینوں میں لڑنا بہت بڑا جرم ہے اور عنداللہ بڑے گناہ کی بات ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا ، اللہ سے کفر کرنا اور بیت اللہ سے منع کرنا بلکہ جو…
Read the full tafseer →ف 3 ہجرت کے معنی ہیں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ سکونت پذیر ہونا مگر اس ہجرت سے مراد ہے دارالکفر کو چھوڑ کر دارالاسلام میں چلے جانا۔ مفردات راغب) عبد اللہ بن جحش ؓ اور انکے ساتھیوں کے بارے میں جب گزشتہ آیت اتری اور وہ لوگ ڈرنے لگے کہ شاید ہمیں کوئی ثواب بھی نہ ملے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فتح البیان۔ ابن کثیر )
Read the full tafseer →(2:218) ھاجروا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ مھاجرۃ (مفاعلۃ) مصدر انہوں نے (اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے) وطن چھوڑا
جاھدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ انہوں نے جہاد کیا۔
یرجون۔ مضارع جمع مذکر غائب رجاء (باب نصر) وہ امید رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
لغات القرآن : آیت نمبر 217 تا 218
کبیر (بڑا۔ گناہ) ۔ اخراج (نکالنا) ۔ اھلہ (اس کے رہنے والے ) ۔ اکبر زیادہ بڑا (بہت بڑا گناہ ہے ) ۔ لا یزالون (ہمیشہ) ۔ ان استطاعوا (اگر ان میں طاقت ہو) ۔ یرتدد (جو پلٹ گیا (مرتد ہوگیا ) ۔ یمت (وہ مرجاتا ہے ) ۔ حبطت (ضائع ہوگئی (ضائع ہوگئے ) ۔ ھاجروا (ہجرت کی ) ۔ جاھدوا (انہوں نے جہاد کیا) ۔ یرجون (امید رکھتے ہیں ) ۔
تشریح : آیت نمبر 217 تا 218
ان آیات کی تشریح یہ ہے کہ :
رجب ، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان چار مہینوں کو عرب والے (اشھر الحرم) عزت و حرمت والے مہینے کہا کرتے تھے۔ ان چاروں مہینوں کے بارے میں زمانہ جہالت ہی سے عربوں کی روایات اس قدر سخت تھیں کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
شان نزول : آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک جماعت مشرکین کے مقابلہ کو بھیجی۔ انہوں نے مشرکین کو مارا اور مال لوٹ کر لائے۔ مسلمان تو سمجھتے تھے کہو وہ تو اخیر دن جمادی الثانی کا ہے جبکہ وہ رجب کا غرہ (پہلا دن) تھا جو کہ اشہر حرام میں داخل ہے۔ مشرکین نے اس پر غل مچایا کہ محمد ﷺ نے حرمت والے مہینہ میں لڑائی اور لوٹ مار جائز کرلی اور مسلمانوں کو بھی خدشہ پیدا ہوا کہ خدا کے نزدیک اس لڑائی کا کچھ اجر ملے گا یا نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ ان کا یہ عمل جہاد مقبول ہے اور اس پر انہیں امیدوار رحمت الہی رہنا چاہیے اور یہ امید قطعاً ہوگی۔ (خازن)
Read the full tafseer →[146] دین کی خاطر گھر بار چھوڑنا اور کفر کی بستی کو چھوڑ کر ایمان کی بستی میں آجانے کا نام ہجرت ہے۔
[147] جہاد کے معنی کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے شدید کوشش اور جدوجہد کے ہیں۔ اس میں سب طرح کی بلائیں اور تکلیفیں آگئیں اور جہاد فی سبیل اللہ یہ ہے کہ سب کچھ اللہ کی رضا کے لئے ہو۔
Read the full tafseer →(ف 2) مجاہدین ومہاجرین ہی اللہ تعالیٰ کی بیش قیمت نعمتوں کے سزا وار ومستحق ہیں ، اس لئے کہ یہی پاک نفوس وہ ہیں جنہوں نے لذات نفس سے کنارہ کشی کی اور حق کے لئے ہر طرح کی مصیبت کو گوارا کیا ، اسلام مسلمانوں کے لئے دو راہیں تجویز کرتا ہے ، یا تو وہ باطل سے معرکہ آراہوں اور یا اس زمین کو چھوڑ دیں جو ان کے لئے فتنہ کا باعث ہو ، گویا مسلمان ضمیر کا آزاد پیدا کیا گیا ، وہ غلامی اور بزدلی کو قطعا برداشت نہیں کرسکتا ۔ وہ اپنے آرام و آسائش کو ترک کرسکتا ہے ، مگر حق سے کنارہ کشی و علیحدگی اس کے لئے سخت مشکل ہے ، (آیت) ” واللہ غفور رحیم “۔ کے معنی یہ ہیں کہ جہاد سب سے بڑی عبادت ہے اور مجاہد سب سے بڑا…
Read the full tafseer →جو لوگ دین حق پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں ہجرت کی یعنی ترک وطن کیا اور خدا کی راہ میں جہاد کیا تو حقیقتاًک یہی لوگ ایسے ہیں جو کہ رحمت خداوندی کے امید وار ہیں اور ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہوا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی مغفرت اور مہربانی کرنے والا ہے (تیسیر)
جہاد کی نیت سے جانا بھی جہاد ہی ہے اس لئے ایمان اور ہجرت تو پہلے ہی سے موجود تھے اب جہاد کو نکلے تو مجاہد بھی ہوگئے اور اگر کوئی معمولی غلطی ہوگئی تو ہم غفور ہیں اس کو معاف کردیں گے اور رحیم ہیں اس لئے تمہارے ایمان لانے اور تمہاری ہجرت اور تمہارے جہاد کو قبول فرما کر تم پر مہربانی فرمائیں گے۔ (تسہیل)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
ف 1۔ نبی اکرم ﷺ کے چند صحابہ کا ایک سفر میں اتفاق سے کفار کے ساتھ مقابلہ ہوگیا ایک کافر ان کے ہاتھ سے مارا گیا اور جس روز یہ قصہ ہوارجب کی پہلی تاریخ تھی مگر صحابہ اس کو جمادی الاخری کی تیس تاریخ سمجھتے تھے اور رجب اشہر حرم سے ہے کفار نے اس واقعہ پر طعن کیا کہ مسلمانوں نے شہر حرم کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا مسلمانوں کو اس کی فکر ہوئی اور نبی ﷺ سے پوچھا اس آیت میں اسی کا جواب ارشاد ہے از خلاصہ جواب یہ ہے کہ اول تو مسلمانوں نے کوئی گناہ نہیں کیا اور علی سبیل الفرض اگر کیا ہے تو معترضین اس سے بڑے بڑے گناہ یعنی کفر ومزاحمت دین حق میں مبتلا ہیں پھر ان کو مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا کب منصب ہے۔
2۔…
Read the full tafseer →ایمان لانے کے بعد ایمان پر ثابت قدمی بہت بڑا کمال ہے :
372: فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور پھر راہ ایمان میں ثابت قدم بھی رہے اور انہوں نے وطن سے بےوطن ہونے کی سختیاں برداشت کیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے سرگرم رہے تو ایسے ہی لوگ تو اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ گویا اس آیت میں بشارت و تسلی ہے ان مؤمنین کے لئے جن کے ہاتھ سے ایک مشرک کا قتل یکم رجب کو بغیر صحیح تاریخ سے واقفیت کے ہوگیا تھا۔ جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ فرمایا کہ اللہ اپنی صفت غفور کے تقاضا کی وجہ سے ان کے اس سہو و خطا کو معاف کر دے گا ۔ اور وہ رحیم بھی ہے اپنی اس صفت رحیمیت کے تقاضہ سے ان کو اجر بھی مرحمت فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
The injunction relating to fighting in the 'sacred' months:
The second of the three verses under comment here proves that fighting is forbidden in Rajab, Dhul-Qa'dah, Dhul-Hijjah and Muharram, the four 'sacred' months. In the same way, there are several verses of the Holy Qur'an where fighting has been very clearly forbid-den during the sacred months, for instance:' ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ :'Four of them are sacred. That is the right religion' (9:36). Then there is the saying of the Holy Prophet ﷺ in the famous address of the Last Hajj: نھا اربعہ…
Read the full tafseer →234. Jihad denotes doing one's utmost to achieve something. It is not the equivalent of war, for which the Arabic word is qital. Jihad has a wider connotation and embraces every kind of striving in God's cause. A mujahid is a person who is single-mindedly devoted to his cause, who uses his mental capacity to reflect how best he can achieve it, propagates it by word of mouth and by the pen, uses his physical energy in striving to serve it, spends all the resources at his disposal to promote it, employs all the force he commands in confronting any power which might stand in its way, and,…
Read the full tafseer →