Explained with ayahs 217–218
حضرمی کا قتل
رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کو بھیجا اور اس کا امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو بنایا جب وہ جانے لگے تو حضور ﷺ سے جدائی کے صدمہ سے رو دئیے آپ نے انہیں روک لیا اور ان کے بدلے حضرت عبداللہ بن جحش ؓ کو سردار لشکر مقرر کیا اور انہیں ایک خط لکھ کردیا اور فرمایا کہ جب تک بطن نخلہ نہ پہنچو اس خط کو نہ پڑھنا اور وہاں پہنچ کر جب اس مضمون کو دیکھو تو ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا چناچہ حضرت عبداللہ اس مختصر سی جماعت کو لے کر چلے جب اس مقام پر پہنچے تو فرمان نبی پڑھا اور کہا میں فرمانبرداری کے لئے تیار ہوں پھر اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور واقعہ بیان کیا دو شخص تو…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 232
یہ بات ایک واقعہ سے متعلق ہے۔ رجب سن 2 ہجری میں نبی ﷺ نے آٹھ آدمیوں کا ایک دستہ نَخْلہ کی طرف بھیجا تھا (جو مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے) اور اس کو ہدایت فرمادی تھی کہ قریش کی نقل و حرکت اور ان کے آئندہ ارادوں کے متعلق معلومات حاصل کرے۔ جنگ کی کوئی اجازت آپ ﷺ نے نہیں دی تھی۔ لیکن ان لوگوں کو راستے میں قریش کا ایک چھوٹا سا تجارتی قافلہ ملا اور اس پر انہوں نے حملہ کر کے ایک آدمی کو قتل کردیا اور باقی لوگوں کو ان کے مال سمیت گرفتار کر کے مدینے لے آئے۔ یہ کاروائی ایسے وقت ہوئی، جب کہ رجب ختم اور شعبان شروع ہو رہا تھا اور یہ امر مشتبہ تھا کہ آیا حملہ رجب (یعنی ماہ حرام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
اشہر حرم میں قتال کا حکم
آیات مذکورہ میں سے دوسری آیت اس پر شاہد ہے کہ اشہر حرم یعنی چار مہینے رجب، ذیقعدہ، ذی الحجۃ، محرم میں قتال حرام ہے اسی طرح قرآن کریم کی متعدد آیتوں میں پوری تصریح کے ساتھ اشہر حرم میں قتال کی ممانعت آئی ہے، مثلاً مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ (اور حجۃ الوداع کے معروف و مشہور خطبہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منہا اربعۃ حرم ثلاث متوالیات ورجب مضر۔
ان آیات وروایات سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ چار مہینوں میں قتال حرام ہے اور یہ حرمت ہمیشہ کے لئے ہے۔
اور امام تفسیر عطاء بن ابی رباح قسم کھا کر فرماتے تھے کہ یہ حکم ہمیشہ کے لئے باقی ہے اور بھی متعدد حضرات…
Read the full tafseer →اشہر حُرُم سے متعلق مزید سوال اور ان کے جواب : اوپر آیات 190-195 میں اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا تھا کہ اگر مشرکین تمہارے ارادہ حج میں مزاحم ہوں اور ان کی مزاحمت کے سبب سے جنگ کی نوبت آجائے تو تم ان سے جنگ کرو اور ان کو قتل کرو اگرچہ یہ جنگ اشہر حرم میں بلکہ عین حدود حرم میں لڑنی پڑے یہ بات اگرچہ واضح تھی لیکن اشہر حرم کے معاملہ میں زمانہ جاہلیت سے عربوں کی روایات اتنی سخت تھیں اور ان میں جنگ و خونریزی کو وہ اتنا بڑا گناہ سمجھتے تھے کہ بہت سے لوگوں کے دلوں میں یہ بات آسانی سے نہیں اتر سکتی تھی۔ اس طرح کے معاملات میں چونکہ جذبات کو بڑا دخل ہوتا ہے اس وجہ سے مخالفین کو پروپیگنڈے کا بھی بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
217۔ 1 رجب، ذیقعد، ذوالحجہ اور محرم۔ یہ چار مہینے زمانہ جاہلیت میں بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے جن میں قتال اور جدال ناپسندیدہ تھا اسلام نے بھی ان کی حرمت کو برقرار رکھا نبی ﷺ کے زمانے میں ایک مسلمان فوجی دستے کے ہاتھوں رجب کے مہینے میں ایک کافر قتل ہوگیا اور بعض کافر قیدی بنا لئے گئے۔ مسلمانوں کے علم میں یہ نہیں تھا کہ رجب شروع ہوگیا ہے کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ دیکھو یہ حرمت والے مہینے کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھتے جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور کہا گیا کہ یقینا حرمت والے مہینے میں قتال بڑا گناہ ہے لیکن حرمت کی دہائی دینے والوں کو اپنا عمل نظر نہیں آتا یہ خود اس سے بھی بڑے جرائم کے مرتکب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
تشریح : سورة توبہ (9: 36) میں چار مہینوں کو اشہر حرم کہا گیا ہے، یعنی حرمت والے مہینے، آنحضرت ﷺ نے ان کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چار مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں، ان مہینوں میں جنگ منع ہے، البتہ اگر کوئی دشمن حملہ کردے تو اپنا دفاع کیا جاسکتا ہے، ایک مرتبہ ایک سفر کے دوران چند صحابہ کی کچھ مشرکین سے جھڑپ ہوگئی اور مشرکین میں سے ایک آدمی عمرو بن ضمری مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا، یہ واقعہ جمادی الثانیہ کی 29 تاریخ کی شام کو واقع ہوا، لیکن اس شخص کے قتل ہوتے ہی رجب کا چاند نظر آگیا، اس پر مشرکین نے مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان مچادیا کہ یہ لوگ حرمت والے مہینوں کا بھی پاس نہیں…
Read the full tafseer →متعدد روایات میں آیا ہے کہ یہ آیات عبداللہ ابن حجش کے سریہ کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک سیل شدہ خط دیا اور آٹھ افراد ان کے ساتھ روانہ کئے جو سب کے سب مہاجر تھے ، انصار کا ان میں کوئی نہ تھا۔ آپ ﷺ نے عبداللہ کو حکم دیا کہ وہ دو رات دن کے سفر سے پہلے اس خط کو نہ کھولے ۔ جب اس نے مقررہ وقت پر خط پڑھا تو اس کی عبارت یہ تھی جب تم میرے اس خط کو پڑھو تو آگے بڑھو یہاں تک کہ وادی بطن نخلہ میں جا اترو ۔ جو مکہ اور طائف کے درمیان ہے ۔ یہاں تم قریش کے حالات نگاہ میں رکھو اور ہمیں ان کی اطلاع دیتے رہو ۔ لیکن اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ لے جانے پر مجبو رنہ کرنا ۔ یہ…
Read the full tafseer →5 حضرت فخر عالم ﷺ نے اپنی ایک جماعت کافروں کے مقابلہ کو بھیجی انہوں نے کافروں کو مارا اور مال لوٹ لائے۔ مسلمان تو جانتے تھے کہ وہ اخیر دن جمادی الثانی کا ہے اور وہ رجب کا غرہ تھا ' جو کہ اشہر حرم میں داخل ہے کافروں نے اس پر بہت طعن کیا کہ محمد ﷺ نے حرام مہینہ کو بھی حلال کردیا اور اپنے لوگوں کو حرام مہینہ میں لوٹ مار کی اجازت دے دی مسلمانوں نے حاضر ہو کر آپ ﷺ سے پوچھا کہ ہم سے شبہ میں یہ کام ہوا اس کا کیا حکم ہے تب یہ آیت اتری۔
6 یعنی شہر حرام میں قتال کرنا بیشک گناہ کی بات ہے لیکن حضرات صحابہ نے تو اپنے علم کے موافق جمادی الثانی میں جہاد کیا تھا شہر حرام یعنی رجب میں نہیں کیا اس لیے مستحق…
Read the full tafseer →آیت 217 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ ط
قتال کا حکم آنے کے بعد اب وہ پوچھتے تھے کہ یہ جو حرمت والے مہینے ہیں ان میں جنگ کرنا کیسا ہے ؟ اس لیے کہ سیرت میں یہ واقعہ آتا ہے کہ ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحش رض کو چند افراد کے دستے کا کمانڈر بنا کر ہدایت فرمائی تھی کہ مکہ اور طائف کے درمیان جا کر وادئ نخلہ میں قیام کریں اور قریش کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔ وادئ نخلہ میں قیام کے دوران وہاں قریش کے ایک مختصر سے قافلے کے ساتھ مڈبھیڑ ہوگئی اور مسلمانوں کے ہاتھوں ایک مشرک عمرو بن عبداللہ الحضرمی مارا گیا۔ اس روز رجب کی آخری تاریخ تھی اور رجب کا مہینہ اشہر حرم…
Read the full tafseer →286 رسول اللہ ﷺ نے آٹھ آدمیوں پر مشتمل ایک دستہ جمادی الثانی 2 ھ کے آخر میں نخلہ کی طرف بھیجا (جو مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے) تاکہ کفار مکہ کی نقل و حرکت کے متعلق معلومات حاصل کرے۔ کیونکہ ان کی طرف سے مدینہ پر چڑھائی کا ہر آن خطرہ موجود تھا اس دستہ کو کفار کا ایک تجارتی قافلہ ملا۔ جس پر انہوں نے حملہ کردیا اور ایک آدمی کو قتل کردیا اور باقی لوگوں کو گرفتار کر کے مال سمیت مدینہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے جس کا آپ کو افسوس ہوا۔ کیونکہ آپ ﷺ نے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ لڑنے کے لیے نہیں بھیجا تھا اور جس دن یہ لڑائی کا واقعہ ہوا اس دن مسلمانوں کے خیال کے مطابق تو 30 جمادی…
Read the full tafseer →793 ۔ الشھر الحرام بالشھر الحرام ‘ کی ذیل میں اوپر گزر چکا ہے کہ قمری سال کے چار مہینے، محرم، رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ، عرب جاہلیت میں متبرک ومحترم تھے، قتل و غارت تو ان لوگوں کا پیشہ تھا، لیکن اس زمانہ میں ہر قسم کی جنگ بندرہتی تھی۔ (آیت) ” الشھرالحرام “ سے یہاں مراد ماہ رجب ہے۔ ہوا یہ کہ 2 ہجری میں یعنی ہجرت مدینہ سے کوئی 17 مہینے بعد ایک بار سفر میں بعض صحابیوں کا مقابلہ مشرکین سے ہوگیا، اور ایک مشرک مقابلہ میں جان سے مارا گیا۔ واقعہ کی تاریخ صحابیوں کے خیال میں 30 جمادی الثانی کی تھی، بعد کو علم ہوا (جیسا کہ آج بھی قمری مہینوں میں بارہا ہوتا رہتا ہے) کہ چاند 29 کا ہوگیا تھا، اور وہ تاریخ یک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
آیت نمبر 217 تا 219
ترجمہ : نبی ﷺ نے اپنے سرایا (جنگی یونٹ) میں سے پہلا سریہ (یونٹ) روانہ فرمایا، اور اس کا امیر عبد اللہ بن جحش کو بنایا، چناچہ ان لوگوں نے مشرکین سے قتال کیا اور جمادی الاخری کے آخری دن ابن حضرمی کو قتل کردیا، اور ان کو جمادی الاخری کا رجب کے پہلے سن سے اشتباہ ہوگیا، تو کفار نے ماہ رجب کو حلال سمجھنے پر عار دلائی تو، یَسْئلُونَکَ نازل ہوئی، لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام (یعنی) ماہ محترم میں لڑنا کیسا ہے ؟ قِتَال فیہِ (عن الشھر الحرام) سے بدل الاشتمال ہے آپ ان کو بتادو کہ ان میں قتال کرنا بہت برا ہے (یعنی) گناہ کے اعتبار سے بڑا جرم ہے (قتال فیہ) مبتداء خبر ہیں، اور لوگوں…
Read the full tafseer →يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ( اے محمد ﷺ ! مسلمان) آپ ﷺ سے ماہ حرام میں جنگ کرنے کی بابت پوچھتے ہیں) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اور طبرانی نے کبیر میں اور ابن سعد اور بیہقی نے اپنی اپنی سنن میں جندب بن عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ جنگ بدر سے دو مہینے پہلے ماہ جمادی الاخریٰ 2 ھ میں آنحضرت ﷺ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی عبد اللہ بن جحش کو ان کی اردلی میں آٹھ نفر مہاجرین دے کر بھیجا ان مہاجرین کے نام یہ ہیں۔ سعد بن ابی وقاص زہری۔ عکاشہ بن محصن اسدی۔ عتبہ بن غزوان اسلمی۔ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ۔ سہیل بن بیضا۔ عامر بن ربیعہ۔ واقد بن عبد اللہ۔ خالد بن بکیر اور بعض…
Read the full tafseer →(217) حرمت کے مہینے یعنی رجب کے مہینے میں آپ سے لڑائی کرنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔
آپ فرما دیجیے کہ رجب کے مہینے میں لڑائی کرنا بہت بڑے گناہ کا باعث ہے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی اطاعت سے پھیرنا اور ان کو مسجد حرام داخل ہونے سے روکنا اللہ تعالیٰ کے ہاں عمرو بن حضرمی کے قتل سے بھی بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، قتل سے بڑا گناہ ہے اور یہ اہل مکہ تم لوگوں کو دین اسلام سے منحرف کرنے کی کوشش میں ہیں اور جو اسلام سے پھر کر اسی حالت میں مرجائے تو اس کے سارے اعمال اور تمام نیکیاں برباد گئیں اور آخرت میں ان کو کوئی بدلہ نہیں ملے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، نہ…
Read the full tafseer →قِتَالٌ فِيْهِ : یہ ”الشَّهْرِ الْحَرَامِ“ سے بدل اشتمال ہے۔ ”قِتَالٌ“ مبتدا اور ”كَبِيْرٌ“ خبر ہے۔ ”صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ مبتدا ہے، ”وَكُفْرٌۢ بِهٖ“ اور ”اِخْرَاجُ اَھْلِهٖ“ کا اس پر عطف ہے اور ان سب کی خبر ”اَكْبَرُ عِنْدَ اللہ“ ہے اور ”وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ“ کا عطف ”سَبِيْلِ اللّٰهِ“ پر ہے اور ”وَكُفْرٌۢ بِهٖ“ میں ”بِهٖ“ کی ضمیر ”سَبِيْلِ اللّٰهِ“ میں مذکور لفظ ”اللّٰهِ“ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور ”الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۤ“ کو پہلے لانے کے بجائے ”َكُفْرٌۢ بِه“ کو پہلے لانے میں یہ حکمت ہے کہ سبیل اللہ (اسلام) سے روکنے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر مسجد حرام سے روکنے سے بڑا جرم ہے، اس لیے…
Read the full tafseer →اس میں بارہ مسئلہ ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یسئلونک “ اس لفظ کے بارے گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ جریر بن عبدالحمید اور محمد بن فضیل نے عطا بن سائب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا : میں نے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اصحاب سے زیادہ بہتر قوم کوئی نہیں دیکھی۔ انہوں نے آپ ﷺ سے صرف تیرہ مسائل کے بارے میں سوال کیا اور وہ تمام کے تمام قرآن کریم میں موجود ہیں۔
مثلا (آیت) ” یسئلونک عن المحیض “۔ (آیت) ” یسئلونک عن الشھر الحرام “۔ اور (آیت) ” یسئلونک عن الیتمی “۔ اور وہ سوال نہ کرتے تھے مگر ایسی شے سے متعلق جو ان کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، بیہقی نے اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ جندب بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان کے اوپر ابو عبیدہ بن جراح یا عبیدہ بن حارث ؓ کو (امیر بنا کر) بھیجا۔ جب وہ جانے لگے تو غلبہ عشق سے رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ کر رونے لگے اور بیٹھ گئے۔ آپ نے پھر ان کی جگہ عبد اللہ بن جحش کو بھیجا۔ اور اس کو ایک خط لکھ کردیا اور حکم فرمایا کہ اس کو نہ پڑھنا یہاں تک کہ فلاں مقام پر پہنچ جاؤ۔ اور (یہ بھی) فرمایا کہ اپنے اصحاب میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا۔ جب انہوں نے خط کو پڑھا تو لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “…
Read the full tafseer →[ یَسْئَلُوْنَکَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ : محترم مہینوں کے بارے میں ] [ قِتَالٍ فِیْہِ : (یعنی) ان میں جنگ کرنے کے بارے میں ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ قِتَالٌ : جنگ کرنا ] [ فِیْہِ : ان میں ] [ کَبِیْرٌ: بڑا (گناہ) ہے ] [ وَصَدٌّ : اور روکنا ] [ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کے راستے سے ] [ وَکُفْرٌ: اور انکار کرنا ] [ بِہٖ : اس کا ] [ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : اور مسجد حرام (سے روکنا) ] [ وَاِخْرَاجُ اَہْلِہٖ : اور اس کے لوگوں کو نکالنا ] [ مِنْہُ : اس سے ] [ اَکْبَرُ : زیادہ بڑا (گناہ) ہے ] [ عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے نزدیک ] [ وَالْفِتْنَۃُ : اور ہر…
Read the full tafseer →اللہ کی راہ سے اور مسجد حرام سے روکنا اور فتنہ پر دازی کرنا جرم کے اعتبار سے قتل سے بڑھ کر ہے
رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن جحش ؓ کی امارت میں چند مہاجرین سے فرمایا کہ مقام بطن نخلہ میں پہنچ کر قریش کے قافلہ کا انتظار کرنا، ممکن ہے کہ کوئی خیر کی خبر لے آؤ، بطن نخلہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے، یہ حضرات وہاں پہنچے تو قریش کا قافلہ گزرتا ہوا نظر آیا جو طائف سے سامان تجارت کشمش وغیرہ لے کر آ رہا تھا، یہ قافلہ عمرو بن الحضرمی اور حکم بن کیسان اور عثمان بن عبداللہ بن مغیرہ اور نوفل بن عبداللہ پر مشتمل تھا۔ ان لوگوں نے حضرات صحابہ کرام کو دیکھا تو ڈر گئے، حضرت عبداللہ بن جحش ؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–218
حکم چہاردھم، متعلق بہ فرضیت جہاد و قتال درشہرحرام۔
قال تعالی، کتب علیکم القتال وھو۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔
گزشتہ آیات میں حضرات انبیاء کرام کے ابتلاء اور مصائب کا ذکر فرمایا اور یہ بتلایا کہ جنت میں داخل ہونا ابتلاء کے وقت صبر اور تحمل پر موقوف ہے اس سلسلہ میں اولا جہاد مالی یعنی انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر فرمایا اب اس کے بعد جہاد جانی کا ذکر فرماتے ہیں اے مسلمانو تم پر جہاد فرض کیا گیا اور تمہیں طبعا ناگوار ہے کیونکہ اس میں جان پر مشقت اور مال کا خرچ ہے اور شاید کہ کوئی شے تم کو طبعا ناگوا رہے فی الواقع وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جہاد فی سبیل اللہ بھی اسی قسم میں داخل ہے اس لیے جہاد سے اسلام کو فتح…
Read the full tafseer →417 قتال فیہ، الشھر الحرام سے بدل الاشتمال ہے اور الشہر الحرام سے مراد یہاں رجب ہے۔ اور یسئلون کا فاعل مشرکین ہیں۔ ایک دفعہ مقام نخلہ میں مسلمانوں کا مشرکین سے مقابلہ ہوگیا جس میں ایک مشرک عمر بن الحضرمی مارا گیا۔ مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ آج جمادی الاخر کی آخری یعنی تیس تاریخ ہے مگر اتفاق سے چاند انتیس کا تھا اور اس دن رجب کی پہلی تاریخ تھی۔ کانوا یظنون تلک اللیلۃ من جمادی وکانت اول رجب ولم یشعروا (ابن جریر ص 197 ج 2) جب اس واقعہ کا علم مشرکین قریش کو ہوا تو ان کا ایک وفدحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور آپ سے سوال کیا کہ کیا رجب جو کہ شہر حرام ہے اس میں قتال جائز ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–218
گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ دروس میں مال کے مصارف کا بیان تھا۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ لوگ اپنا مال کن امور پر خرچ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھیجا کہ مال خرچ کرتے وقت سب سے پہلے والدین ، پھر قرابت داروں پھر یتیموں اور مسکینوں اور اس کے بعد مسافروں کو پیش نظر رکھیں۔ تاہم کلیہ کے طور پر اس بات کی وضاحت فرما دی کہ نیکی کا جو بھی کام انجام دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہے تو اسے سب سے پہلے زکوۃ ادا کرنی چاہئے۔ پھر صدقات واجبہ کا حکم آتا ہے۔ اس کے بعد نفلی صدقات پر خرچ کرے جس کے لئے صاحب نصاب ہونا ضروری نہیں۔ البتہ اجر وثواب کی خاطر اچھی سے اچھی چیز خرچ کرنا چاہئے۔ جیسا…
Read the full tafseer →يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْہِ 0 ۭ قُلْ قِتَالٌ فِيْہِ كَبِيْرٌ 0 ۭ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ وَكُفْرٌۢ بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ 0 ۤ وَاِخْرَاجُ اَھْلِہٖ مِنْہُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللہِ 0 ۚ وَالْفِتْنَۃُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ 0 ۭ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا 0 ۭ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِہٖ فَيَمُتْ وَھُوَكَافِرٌ فَاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ 0 ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ 0 ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ 217
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
ترکیب : یسئلون فعل بافاعل کا مفعول ینفقون فعل بافاعل ماذا اس کا مفعول اور ممکن ہے کہ ما استفہام کے لیے ہو بمعنی اے شی اور ذا بمعنی الذین اور ینفقون اس کا صلہ اور عائد محذوف پس مامبتدا اور ذامع صلہ کے اس کی خبر پھر یہ تمام جملہ مفعول ثانی ہوگا۔ یسئلون کا وقیل تفسیرہ ما شرطیہ انفقتم الخ شرط فللوالدین الخ جواب شرط پھر یہ تمام جملہ محلا منصوب ہے۔ قل کا مفعول ہو کر اور ممکن ہے ما بمعنی الذی ہو اور مبتداء قرار دیا جاوے اور من خیر حال ہو محذوف سے فللو الدین خبر۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ مومنوں کو دنیا کی بےثباتی بتا چکا اور آخرت کے لیے صبر اور استقلال کی تاکید فرما چکا کہ اس کے لیے جان و مال بھی دریغ…
Read the full tafseer →یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِالْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ ط قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌط وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌم بِہٖ وَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ ق وَاِخْرَاجُ اَھْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَاللّٰہِ ج وَالْفِتْـنَـۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِِ ط وَلَایَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ط وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَھُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ج وَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔
(تم سے پوچھتے ہیں کہ حرمت والے مہینہ میں لڑنا کیسا ہے ؟…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ حرمت کے مہینوں میں قتال کرنے میں ابتدا نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی جائے تو پھر حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کی مکمل طور پر اجازت ہے۔
سورۃ التوبۃ کی آیت 36 میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی اسی وقت سے سال کے بارہ مہینے مقرر کیے اور ان میں چار مہینوں کو حرمت والے قرار دیا جن کے نام حدیث میں ذی قعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اسی وقت سے لے کر لوگوں میں ان کا احترام پایا جاتا ہے۔ اہل عرب اپنی خود غرضی کی بنا پر…
Read the full tafseer →آیت 217:
یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌط وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌم بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ اِخْرَاجُ اَہْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓپکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔
(اے محمد ﷺ وہ آپ سے ماہ حرام میں جنگ کے متعلق پوچھتے ہیں ان سے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 217۔:
(آیت)” یسئلونک عن الشھر الحرام “ ۔ رجب کے بارے میں رجب کو شھر حرام حرمت کا مہینہ اس لیے کہا گیا کہ اس میں قتال حرام ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” قتال فیہ “ اس ماہ میں قتال کرنے سے متعلق (قل) یا محمد ﷺ فرمادیجئے (آیت)” قتل فیہ کبیر “ اس میں لڑائی عظیم ہے (یعنی بڑا گناہ ہے) یہ کلام یہاں تک مکمل ہوگئی ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نئے سرے سے کلام کا آغاز فرمایا (آیت)” وصد عن سبیل اللہ “ اے مشرکو ! تمہارا مسلمانوں کو اسلام سے روکنا (آیت)” وکفر بہ “ اور تمہارا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا (آیت)” والمسجد الحرام ای مسجد الحرام “ کے ساتھ (کفر کرنا) اور کہا گیا ہے کہ ” وصدکم عن المسجد الحرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
(217 ۔ 218) ۔ اس آیت کی شان نزول قصہ طلب ہے اس قصہ کا یہ ہے کہ جنگ بدر سے دو مہینے پہلے آنحضرت کو معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ کے کچھ لوگ کسی قدر کھانے پینے کا سامان بطن نخلہ کے راستہ سے مکہ کو لا رہے ہیں۔ بطن نخلہ طائف اور مکہ کے بیچ میں ایک مقام ہے آپ نے یہ خبر سن کر حضرت عبد اللہ بن حجش ؓ صحابی کو اور جو آپ کے چچا زاد بھائی ہیں ایک خط دے کر چند صحابہ کے ہمراہ روانہ کیا اور کچھ یہ نہیں فرمایا کہ ان کو اور ان کے ساتھیوں کو کہاں اور کس ضرورت سے بھیجا جاتا ہے۔ بلکہ عبد اللہ بن حجش ؓ سے یہ فرما دیا کہ بسم اللہ کر کے مدینہ سے سفر کرو دو منزلیں جب تک طے نہ ہوں اس وقت تک یہ خط جو تم کو دیا گیا اس کو…
Read the full tafseer →جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں قتال کی حرمت اس آیت کے ذریعے سے منسوخ ہوگئی ہے جس میں حکم ہے کہ مشرکوں سے لڑو جہاں کہیں بھی ان کو پاؤ۔ (اشارہ ہے البقرہ /191، النساء /89، 91 کی طرف۔ مترجم) اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں، کیونکہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے یہ آیت کریمہ قتال کے عام اور مطلق حکم کو مقید کرتی ہے۔ نیز اس لئے بھی کہ حرام مہینوں کی جملہ خوبیوں میں سے ایک خوبی، بلکہ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان مہینوں میں لڑائی حرام ہے۔ یہ حکم لڑائی کی ابتدا کرنے کے بارے میں ہے۔ رہی دفاعی جنگ تو یہ حرام مہینوں میں بھی جائز ہے جیسے حرم کے اندر دفاعی جنگ لڑنا جائز ہے۔
اس…
Read the full tafseer →قول باری ہے یسئلونک عن الشھرالحرام قتال فیہ، قل قتال فیہ کبیر و صدعن سبیل اللہ وکفر بہ والمسجد الحرام و اخراج اھلہ منہ اکبر عنداللہ۔ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ کے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا کے بندوں پر بند کردینا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے) ۔ یہ آیت اشہر حرام میں تحریم قتال کے حکم کو متضمن ہے۔ اس مضمون پر دلالت میں اس کی طرح یہ قول باری ہے (الشھرالحرام بالشھرالحرام و الحرمات قصاص ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے…
Read the full tafseer →599 حرمت والے مہینے کے بارے میں ایک سوال و اعتراض اور اس کا جواب : کہ اس میں لڑائی کرنا کیسا ہے ؟ صحیح ہے یا غلط ؟ جائز ہے یا ناجائز وغیرہ۔ روایات کے مطابق نبئ اکرم ﷺ نے غزوہ بدر سے کوئی دو ماہ پیشتر اپنے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبداللہ بن حجش ؓ کی قیادت میں آٹھ یا بارہ آدمیوں کا ایک جتھا کفار کی سرکوبی کے لئے روانہ فرمایا۔ ان حضرات کا مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان واقع وادی نخلہ کے مقام پر کفار قریش کے ایک قافلے سے مقابلہ ہوا، جو طائف سے سامان تجارت لے کر لوٹ رہا تھا۔ اس حملے میں کفار کے ان رؤسا میں سے جو اس قافلے میں موجود تھے، عمرو بن الحضرمی مارا گیا، اور حکم بن کیسان اور عثمان بن عبداللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–219
جنگ کا حکم
تشریح : جہاد کا حکم مسلمانوں کو مکہ سے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد ملا۔ اس وقت گو کہ مسلمان زیادہ مضبوط نہ تھے مگر اب وقت آگیا تھا کہ نئی اسلامی ریاست کی بنیاد کو مضبوط کیا جائے جس کے لیے کھلے بندوں تبلیغ کا کام بہت ضروری تھا۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا جب مسلمان اس سے قدرے پریشان ہوئے۔ کیونکہ ان کی تعداد اور سامان جنگ نہ ہونے کے برابر تھا تو اس پر رب العزت نے فرمایا کہ تم گھبراؤ نہیں، ہوسکتا ہے تم جنگ کو مشکل سمجھ رہے ہو جو کہ اللہ کے حکم سے تمہارے لیے آسان اور انتہائی فائدہ مند ثابت ہو۔ یہ مصلحت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس وقت تمہاری ترقی، مضبوطی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–221
217- 221
اسرارو معارف
اشہر حرم :
جب جہاد کا ذکر شروہ ہوا تو اس کے احکام ارشاد ہوتے ہیں جن میں بنیادی بات اشہر حرم کی ہے کہ سال میں چار مہینے رجب اور ذی قعد ، ذی الحجہ اور محرم ہیں۔ قبل اسلام بھی ان میں لڑنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا اور اسلام نے بھی ان کی حرمت بحال رکھی لیکن اس کے ساتھ یہ امکان بھی موجود تھا کہ مسلمان تو بالکل ہاتھ نہ اٹھائیں اور کافر جنگ کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں۔ تو اللہ کریم نے ایک ضابطہ ارشاد فرمایا کہ فرما دیجئے ان مذکورہ مہینوں میں لڑنا بہت بڑا جرم ہے اور عنداللہ بڑے گناہ کی بات ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا ، اللہ سے کفر کرنا اور بیت اللہ سے منع کرنا بلکہ جو…
Read the full tafseer →ف 1 ذوالقعدہ، ذولحجہ، محرم اور رجب، یہ چارمہینے حرمت والے ہیں۔ عہد جاہلیت سے ہی ان میں لوٹ مار اور خون ریزی حرام سمجھی جاتی تھی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ 2 ھ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحش کی سر کردی میں ایک دستہ فوج جہاد پر روانہ کیا۔ انہوں نے کافروں کے ایک قافلہ پر حملہ کیا جس سے ایک آدمی مارا گیا اور بعض کو ان کے مال سمیت گرفتار کر کے مدنیہ میں لے آئے۔ یہ واقعہ ماہ رجب میں پیش آیا کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ تم نے رجب میں جنگ کر کے اس کی حرمت کو توڑا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مارہ رجب میں جنگ کرنا اگرچہ واقعی گناہ ہے مگر تم اس سے بھی برے گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہو ( جو آیت میں…
Read the full tafseer →(2:217) الشھر الحرام۔ موصوف و صفت۔ حرمت والا مہینہ۔
فائدہ : جمادی الثانی سنہ 2 ھ کو آنحضرت ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن حجش ؓ کو آٹھ (یا بعض کے نزدیک بادہ) مہاجرین کا سردار بنا کر قریش کے ایک قافلہ کے مقابلہ میں بھیجا۔ جس شب یہ مقابلہ ہوا جس میں قریش کے چند آدمی مارے گئے تھے وہ رجب کی پہلی تاریخ تھی۔ لیکن حضرت عبد اللہ ؓ اور ان کے ساتھی اسے جمادی الثانی کی آخری تاریخ سمجھ رہے تھے۔ چونکہ رجب کا مہینہ ماہ حرم ہے جس میں قتال ممنوع تھا۔ اس لئے حضرت عبد اللہ اور ان کے ساتھی سخت دلگیر ہوئے کہ ان سے ایسی غلطی سرزد ہوئی۔ اس پر یہ آیت نازل کوئی کہ اہل مکہ نے جو گناہ قصداً اور عناداً کئے تھے مثلاً لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
لغات القرآن : آیت نمبر 217 تا 218
کبیر (بڑا۔ گناہ) ۔ اخراج (نکالنا) ۔ اھلہ (اس کے رہنے والے ) ۔ اکبر زیادہ بڑا (بہت بڑا گناہ ہے ) ۔ لا یزالون (ہمیشہ) ۔ ان استطاعوا (اگر ان میں طاقت ہو) ۔ یرتدد (جو پلٹ گیا (مرتد ہوگیا ) ۔ یمت (وہ مرجاتا ہے ) ۔ حبطت (ضائع ہوگئی (ضائع ہوگئے ) ۔ ھاجروا (ہجرت کی ) ۔ جاھدوا (انہوں نے جہاد کیا) ۔ یرجون (امید رکھتے ہیں ) ۔
تشریح : آیت نمبر 217 تا 218
ان آیات کی تشریح یہ ہے کہ :
رجب ، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان چار مہینوں کو عرب والے (اشھر الحرم) عزت و حرمت والے مہینے کہا کرتے تھے۔ ان چاروں مہینوں کے بارے میں زمانہ جہالت ہی سے عربوں کی روایات اس قدر سخت تھیں کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
شان نزول : آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک جماعت مشرکین کے مقابلہ کو بھیجی۔ انہوں نے مشرکین کو مارا اور مال لوٹ کر لائے۔ مسلمان تو سمجھتے تھے کہو وہ تو اخیر دن جمادی الثانی کا ہے جبکہ وہ رجب کا غرہ (پہلا دن) تھا جو کہ اشہر حرام میں داخل ہے۔ مشرکین نے اس پر غل مچایا کہ محمد ﷺ نے حرمت والے مہینہ میں لڑائی اور لوٹ مار جائز کرلی اور مسلمانوں کو بھی خدشہ پیدا ہوا کہ خدا کے نزدیک اس لڑائی کا کچھ اجر ملے گا یا نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ ان کا یہ عمل جہاد مقبول ہے اور اس پر انہیں امیدوار رحمت الہی رہنا چاہیے اور یہ امید قطعاً ہوگی۔ (خازن)
Read the full tafseer →[144] 2 ھ میں صحابہ کرام کی ایک جماعت کا مقابلہ مشرکین سے ہوگیا اور ایک مشرک لڑائی میں مارا گیا۔ واقعہ کی تاریخ صحابہ کے خیال میں 30/ جمادی الثانی کی تھی بعد کو علم ہوا کہ چاند 29 کو ہوگیا تھا اور وہ تاریخ یکم رجب کی تھی۔ مشرکین نے سہواً غلطی کو رائی کا پہاڑ بنادیا اور طعن کرنا شروع کردیا کہ مسلمانوں کو اب حرمت والے مہینوں کا بھی احترام نہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
[145] مگر صحابہ سے یہ گناہ سرزد ہی نہیں ہوا کیونکہ انہیں چاند کے ہونے کی خبر ہی نہ تھی۔ ان کے نزدیک وہ دن ماہ حرام رجب کا نہ تھا۔
Read the full tafseer →(ف 1) مکہ والے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال چکے انہیں ہر طرح کی تکلیفیں پہنچا چکے ، اب الٹے مسلمانوں پر معترض ہیں کہ یہ کیوں شہرحرام میں ہم سے نبرد آزمائیں ۔
اعتراض کا جواب یہ دیا کہ اشہر حرم کی حرمت وعزت مسلم ، و لیکن تمہاری شرارتیں کیا اس جہاد سے زیادہ خطرناک نہیں ؟ مقصد یہ ہے کہ مسلمان ہر رواداری کے لئے تیار ہے ، مگر حق کی فی بین وہ ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔
حل لغات :
صد : روکنا ۔
مرتد کے عمل ضائع جاتے ہیں :
(ف 2) کفر کی ہمیشہ یہ کوشش وہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اسلام کو اپنا ہمنوا بنالے ۔ کفار مکہ اور یہودیوں نے ارتداد کے لئے ذلیل سے ذلیل وسائل اختیار کئے ، مگر ایمان کے پکے…
Read the full tafseer →ف 2 اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے شہر حرام میں لڑنے اور جنگ کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں اور یہ بات دریافت کرتے ہیں کہرجب جو حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے اس مہینے میں جنگ کرنا کیسا ہے آپ فرما دیجئے کہ شہر حرام میں جان بوجھ کر لڑنا اور قتال کرنا بڑا جرم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ سے اور اس کے دین سے لوگوں کو روکنا اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا اور اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام یعنی کعبہ سے لوگوں کو روکنا اور مسلمانوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے منع کرنا اور جو لوگ مسجد حرام کے حقیقی اہل اور اس کی تولیت اور نگرانی کے اپنی پرہیز گاری اور تقوے کے باعث حقیقی مستحق تھے ان کو وہاں سے نکالنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
ف 1۔ نبی اکرم ﷺ کے چند صحابہ کا ایک سفر میں اتفاق سے کفار کے ساتھ مقابلہ ہوگیا ایک کافر ان کے ہاتھ سے مارا گیا اور جس روز یہ قصہ ہوارجب کی پہلی تاریخ تھی مگر صحابہ اس کو جمادی الاخری کی تیس تاریخ سمجھتے تھے اور رجب اشہر حرم سے ہے کفار نے اس واقعہ پر طعن کیا کہ مسلمانوں نے شہر حرم کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا مسلمانوں کو اس کی فکر ہوئی اور نبی ﷺ سے پوچھا اس آیت میں اسی کا جواب ارشاد ہے از خلاصہ جواب یہ ہے کہ اول تو مسلمانوں نے کوئی گناہ نہیں کیا اور علی سبیل الفرض اگر کیا ہے تو معترضین اس سے بڑے بڑے گناہ یعنی کفر ومزاحمت دین حق میں مبتلا ہیں پھر ان کو مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا کب منصب ہے۔
2۔…
Read the full tafseer →کیا وہ حرمت کے مہینوں کے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں ؟
368: جیسا کہ یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ قمری سال کے چار مہینے محرم ، رجب ، ذی قعدہ اور ذی الحجہ عرب جاہلیت میں متبرک خیال کئے جاتے تھے اور پھر اسلام نے بھی ان کا احترام کیا ۔ قتل و غارت تو ان لوگوں کا پیشہ تھا لیکن ان چار مہینوں میں جنگ بند رہتی تھی ۔ اس جگہ حرمت کے مہینے سے مراد دراصل رجب ہے۔ ہوا یہ کہ 2 ھ میں ایک بار سفر میں بعض صحابہ کا مقابلہ مشرکین سے ہوگیا اور ایک مشرک مقاتلہ میں جان سے مارا گیا واقعہ کی تاریخ صحابہ کے خیال میں 30/ جمادی الثانی تھی لیکن بعد کو علم ہوا کہ چاند 29 کا ہوگیا تھا جیسا کہ اکثر قمری مہینوں میں آج بھی ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 217–218
The injunction relating to fighting in the 'sacred' months:
The second of the three verses under comment here proves that fighting is forbidden in Rajab, Dhul-Qa'dah, Dhul-Hijjah and Muharram, the four 'sacred' months. In the same way, there are several verses of the Holy Qur'an where fighting has been very clearly forbid-den during the sacred months, for instance:' ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ :'Four of them are sacred. That is the right religion' (9:36). Then there is the saying of the Holy Prophet ﷺ in the famous address of the Last Hajj: نھا اربعہ…
Read the full tafseer →232. This relates to a certain incident. In Rajab 2 A. H. the Prophet sent an expedition of eight persons to Nakhlah (which lies between Makka and Ta'if) . He directed them to follow the movements of the Quraysh and gather information about their plans, but not to engage in fighting. On their way they came across a trade caravan belonging to the Quraysh and ambushed it. They killed one person and captured the rest along with their belongings and took them to Madina. They did this at a time when the month of Rajah was approaching its end and Sha'ban was about to begin. It was, therefore,…
Read the full tafseer →