Al-Baqara 2:217

Al-Baqara · from ayah 217

2:217

یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ ؕ— قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ ؕ— وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَكُفْرٌ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۗ— وَاِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ ۚ— وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ؕ— وَلَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ؕ— وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ— وَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ— هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟يَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الشَّهۡرِ الۡحَـرَامِ قِتَالٍ فِيۡهِ‌ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِيۡهِ كَبِيۡرٌ ‌ؕ وَصَدٌّ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَ کُفۡرٌ ۢ بِهٖ وَالۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ وَاِخۡرَاجُ اَهۡلِهٖ مِنۡهُ اَكۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰهِ ‌‌ۚ وَالۡفِتۡنَةُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ‌ؕ وَلَا يَزَالُوۡنَ يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ حَتّٰى يَرُدُّوۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ‌ؕ وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ‌‌ۚ وَاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہےاور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا)۔ اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They ask you about the sacred month - about fighting therein. Say, "Fighting therein is great [sin], but averting [people] from the way of Allah and disbelief in Him and [preventing access to] al-Masjid al-Haram and the expulsion of its people therefrom are greater [evil] in the sight of Allah. And fitnah is greater than killing." And they will continue to fight you until they turn you back from your religion if they are able. And whoever of you reverts from his religion [to disbelief] and dies while he is a disbeliever - for those, their deeds have become worthless in this world and the Hereafter, and those are the companions of the Fire, they will abide therein eternally.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 27 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:217

لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو: اِس میں لڑ نا بہت برا ہے، مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اِس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر اُن کا بس چلے، تو تمہیں اِس دین سے پھرا لے جائیں (اور یہ خوب سمجھ لو کہ) تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہےاور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا)۔ اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا بڑا گناه ہے، لیکن اللہ کی راه سے روکنا، اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناه ہے یہ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناه ہے، یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہوسکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کردیں اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں، ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لوگ آپ سے حرمت والے مہینے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس میں جنگ کرنا کیسا ہے ؟ آپ کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے، مگر لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا، اس کے خلاف کفر کی روش اختیار کرنا، مسجد حرام پر بندش لگانا اور اس کے باسیوں کو وہاں سے نکال باہر کرنا اللہ کے نزدیک زیادہ بڑا گناہ ہے، اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین چیز ہے، اور یہ (کافر) تم لوگوں سے برابر جنگ کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو یہ تم کو تمہارا دین چھوڑنے پر آمادہ کردیں، اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا دین چھوڑ دے، اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہوجائیں گے، ایسے لوگ دوزخ والے ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد قتل سے سخت تر ہے اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کا حکم دریافت کرتے ہیں، فرما دیں: اس میں جنگ بڑا گناہ ہے اور اﷲ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اﷲ کے نزدیک (اس سے بھی) بڑا گناہ ہے، اور یہ فتنہ انگیزی قتل و خون سے بھی بڑھ کر ہے اور (یہ کافر) تم سے ہمیشہ جنگ جاری رکھیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر (وہ اتنی) طاقت پاسکیں، اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے اور پھر وہ کافر ہی مرے تو ایسے لوگوں کے دنیا و آخرت میں (سب) اعمال برباد ہو جائیں گے، اور یہی لوگ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستے سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے (روکنا) اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بڑا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ بڑا ہے۔ اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے، یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں، اگر کرسکیں، اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے، پھر اس حال میں مرے کہ وہ کافر ہو تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور یہی لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوگ آپ سے حرمت والے مہینہ میں لڑائی کرنے سے متعلق پوچھتے ہیں۔ آپ ان سے کہیے کہ حرمت والے مہینہ میں جنگ کرنا (فی الواقعہ) بہت بڑا گناہ ہے۔ مگر اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے باشندوں کو وہاں سے نکال دینا اس سے بھی بڑے گناہ ہیں اور فتنہ انگیزی قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ (اور یہ سب کام تم کرتے ہو) اور یہ لوگ تو ہمیشہ تم سے لڑتے ہی رہیں گے۔ حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کردیں۔ اور تم میں سے اگر کوئی اپنے دین سے برگشتہ ہوجائے پھر اس حالت میں مرے کہ وہ کافر ہی ہو تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے۔ اور یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ تم سے شہر حرام میں جنگ کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو اس میں جنگ بڑی سنگین بات ہے۔ لیکن اللہ کے راستہ سے روکنا، اس کا کفر کرنا، مسجد حرام سے روکنا اور اس کے لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس جنگ سے بھی زیادہ سنگین ہے اور جبر و ظلم کے ذریعہ سے لوگوں کو دین سے پھیرنا قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ اور یہ لوگ تم سے برابر جنگ کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں اگر وہ پھیر سکیں اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھرجائے گا اور حالت کفر میں مرے گا تو یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکرت گئے اور یہی لوگ دوزخ میں پڑنے والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پوچھتے ہو یہ لوگ آپ سے اے پیغمبر حرمت والے مہینے میں لڑائی کے بارے میں تو ان سے کہو کی اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کے ساتھ کفر و شرک کا ارتکاب کرنا مسجد حرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور جو لوگ مسجد حرام کے حقیقی اہل اور حق دار ہیں ان کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی کہیں بڑھ کر برا ہے اور فتنہ و فساد تو قتل سے بھی بڑھ کر جرم ہے اور یہ لوگ تم سے لڑتے ہی رہیں گے اے مسلمانو یہاں تک کے تم کو تمہارے دین سے ہی پھیر دیں اگر ان کا بس چلے مگر اچھی طرح یاد رکھنا کہ تم میں سے جو بھی خدانخواستہ پھر گیا اپنے دین سے اور اس نے کفر ہی کی حالت میں جان دے دی تو اکارت چلے گئے ایسے لوگوں کے سب اعمال دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور یہ لوگ یار ہیں دوزخ کے جہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ سے حرمت والے مہینے کی بابت (یعنی) اس میں قتال کی بابت دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اس میں قتال کرنا بڑا (گناہ) ہے۔ اور اس سے کہیں بڑے (جرم) اللہ کے نزدیک اللہ کی راہ سے روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے روک دینا اور اس سے اس کے رہنے والوں کو نکال دینا ہیں۔ ۔ اور فتنہ سے (کہیں) بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ تم سے جنگ جاری ہی رکھیں گے تاآنکہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر ہی کر ہیں۔ اور جو کوئی بھی تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے اور اس حال میں کہ وہ کافر ہے مرجائے تو یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے۔ اور یہ اہل دوزخ ہیں اسی میں (ہمیشہ) پڑے رہنے والے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) یہ آپ سے پوچھتے ہیں حرمت والے مہینے میں جنگ کے بارے میں کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بہت بڑی (گناہ کی) بات ہے لیکن اللہ کے راستے سے روکنا اس کا کفر کرنا مسجد حرام سے روکنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے کہیں بڑا گناہ ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے اور یہ لوگ تم سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لوٹا دیں تمہیں اپنے دین سے اگر وہ ایسا کرسکتے ہوں اور (سن لو) جو کوئی بھی تم میں سے اپنے دین سے پھر گیا تو یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت جائیں گے اور وہ ہوں گے جہنمّ والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑناکیسا ہے۔ کہو اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور اللہ والوں پر مسجد حرام کا راستہ بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے اور وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں اس دین سے پھیرلے جائیں تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں مرجائے گا اس کے اعمال دنیا و آخرت دونوں میں ضائع ہوجائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہونگے اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They ask you (O Muhammad) concerning warfare in the prohibited month. Say, "Fighting is a heinous offence in this month, but in the sight of Allah it is far worse to hinder people from the Way of Allah and to deny Him and to prevent His worshippers from visiting the Masjidal-Haram, and to expel the dwellers of the sacred place from it; and persecution is far worse than bloodshed. As for them, they will go on fighting with you till they succeed in turning you away from your Faith, if they can. But (note it well that) whosoever renounces his Faith and dies a renegade, all his works shall be fruitless both in this world and in the Hereafter. All such people deserve the Fire and shall abide in Hell for ever.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They ask you about the Sacred Month, that is, about fighting in it. Say, :Fighting in it is something grave, but it is much more grave, in the sight of Allah, to prevent (people) from the path of Allah, to disbelieve in Him, and in Al-Masjid-ul-Haram, and to expel its people from there, and Fitnah (to create disorder) is more grave than killing. They will go on fighting you until they turn you away from your faith if they could, while whoever of you turns away from his faith and dies an infidel, such people are those whose deeds will go to waste in this world and in the Hereafter, and they are people of the Fire. They shall be there forever

— Muhammad Taqi Usmani

They ask you about the Sacred Month, that is, about fighting in it. Say, :Fighting in it is something grave, but it is much more grave, in the sight of Allah, to prevent (people) from the path of Allah, to disbelieve in Him, and in Al-Masjid-ul-Haram, and to expel its people from there, and Fitnah (to create disorder) is more grave than killing. They will go on fighting you until they turn you away from your faith if they could, while whoever of you turns away from his faith and dies an infidel, such people are those whose deeds will go to waste in this world and in the Hereafter, and they are people of the Fire. They shall be there forever

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They ask you concerning fighting in the Sacred Months. Say, "Fighting therein is a great (transgression) but a greater (transgression) with Allah is to prevent mankind from following the way of Allah, to disbelieve in Him, to prevent access to Al-Masjid Al-Haram (at Makkah), and to drive out its inhabitants, and Al-Fitnah is worse than killing." And they will never cease fighting you until they turn you back from your religion (Islamic Monotheism) if they can. And whosoever of you turns back from his religion and dies as a disbeliever, then his deeds will be lost in this life and in the Hereafter, and they will be the dwellers of the Fire. They will abide therein forever.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They question thee (O Muhammad) with regard to warfare in the sacred month. Say: Warfare therein is a great (transgression), but to turn (men) from the way of Allah, and to disbelieve in Him and in the Inviolable Place of Worship, and to expel His people thence, is a greater with Allah; for persecution is worse than killing. And they will not cease from fighting against you till they have made you renegades from your religion, if they can. And whoso becometh a renegade and dieth in his disbelief: such are they whose works have fallen both in the world and the Hereafter. Such are rightful owners of the Fire: they will abide therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They ask you about the sacred month - about fighting therein. Say, "Fighting therein is great [sin], but averting [people] from the way of Allah and disbelief in Him and [preventing access to] al-Masjid al-Haram and the expulsion of its people therefrom are greater [evil] in the sight of Allah. And fitnah is greater than killing." And they will continue to fight you until they turn you back from your religion if they are able. And whoever of you reverts from his religion [to disbelief] and dies while he is a disbeliever - for those, their deeds have become worthless in this world and the Hereafter, and those are the companions of the Fire, they will abide therein eternally.

— Saheeh International

(Muhammad), they ask you about fighting in the sacred month. Tell them that it is a great sin. However, creating an obstacle in the way of God, disbelief in Him and the Sacred Mosque, and driving away the neighbors of the Sacred Mosque is an even greater sin in the sight of God: Disbelief in God is worse than committing murder. (The pagans) still try to fight you to make you give up your religion. The deeds in this life of those of you who give up their religion and who die disbelievers will be made void and in the life hereafter. These people will be the dwellers of Hell wherein they will remain forever.

— Muhammad Sarwar

They ask you concerning the sacred month about fighting in it. Say: Fighting in it is a grave matter, and hindering (men) from Allah's way and denying Him, and (hindering men from) the Sacred Mosque and turning its people out of it, are still graver with Allah, and persecution is graver than slaughter; and they will not cease fighting with you until they turn you back from your religion, if they can; and whoever of you turns back from his religion, then he dies while an unbeliever-- these it is whose works shall go for nothing in this world and the hereafter, and they are the inmates of the fire; therein they shall abide.

— Muhammad Habib Shakir

They ask thee of the sacred month, of fighting therein. Say thou; fighting therein is grievous; and hindering people from the way of Allah and unbelief in Him and in the sanctity of the Sacred Mosque and driving out its dwellers therefrom are more grievous with Allah, and such temptation is far more grievous than that slaughter. And they will not cease fighting you so that they might make you apostatize from your religion, if they can. And whosoever of you apostatizeth from his faith and dieth an Infidel, then these it is whose works shall be of none effect in this world and the Hereafter, and they shall be the fellows of the Fire; therein they shall be abiders.

— Abdul Majid Daryabadi

They ask thee concerning fighting in the Prohibited Month. Say: "Fighting therein is a grave (offence); but graver is it in the sight of Allah to prevent access to the path of Allah, to deny Him, to prevent access to the Sacred Mosque, and drive out its members." Tumult and oppression are worse than slaughter. Nor will they cease fighting you until they turn you back from your faith if they can. And if any of you Turn back from their faith and die in unbelief, their works will bear no fruit in this life and in the Hereafter; they will be companions of the Fire and will abide therein.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:217

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 217–218

حضرمی کا قتل رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کو بھیجا اور اس کا امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو بنایا جب وہ جانے لگے تو حضور ﷺ سے جدائی کے صدمہ سے رو دئیے آپ نے انہیں روک لیا اور ان کے بدلے حضرت عبداللہ بن جحش ؓ کو سردار لشکر مقرر کیا اور انہیں ایک خط لکھ کردیا اور فرمایا کہ جب تک بطن نخلہ نہ پہنچو اس خط کو نہ پڑھنا اور وہاں پہنچ کر جب اس مضمون کو دیکھو تو ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا چناچہ حضرت عبداللہ اس مختصر سی جماعت کو لے کر چلے جب اس مقام پر پہنچے تو فرمان نبی پڑھا اور کہا میں فرمانبرداری کے لئے تیار ہوں پھر اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور واقعہ بیان کیا دو شخص تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 232 یہ بات ایک واقعہ سے متعلق ہے۔ رجب سن 2 ہجری میں نبی ﷺ نے آٹھ آدمیوں کا ایک دستہ نَخْلہ کی طرف بھیجا تھا (جو مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے) اور اس کو ہدایت فرمادی تھی کہ قریش کی نقل و حرکت اور ان کے آئندہ ارادوں کے متعلق معلومات حاصل کرے۔ جنگ کی کوئی اجازت آپ ﷺ نے نہیں دی تھی۔ لیکن ان لوگوں کو راستے میں قریش کا ایک چھوٹا سا تجارتی قافلہ ملا اور اس پر انہوں نے حملہ کر کے ایک آدمی کو قتل کردیا اور باقی لوگوں کو ان کے مال سمیت گرفتار کر کے مدینے لے آئے۔ یہ کاروائی ایسے وقت ہوئی، جب کہ رجب ختم اور شعبان شروع ہو رہا تھا اور یہ امر مشتبہ تھا کہ آیا حملہ رجب (یعنی ماہ حرام)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 217–218

اشہر حرم میں قتال کا حکم آیات مذکورہ میں سے دوسری آیت اس پر شاہد ہے کہ اشہر حرم یعنی چار مہینے رجب، ذیقعدہ، ذی الحجۃ، محرم میں قتال حرام ہے اسی طرح قرآن کریم کی متعدد آیتوں میں پوری تصریح کے ساتھ اشہر حرم میں قتال کی ممانعت آئی ہے، مثلاً مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ (اور حجۃ الوداع کے معروف و مشہور خطبہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منہا اربعۃ حرم ثلاث متوالیات ورجب مضر۔ ان آیات وروایات سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ چار مہینوں میں قتال حرام ہے اور یہ حرمت ہمیشہ کے لئے ہے۔ اور امام تفسیر عطاء بن ابی رباح قسم کھا کر فرماتے تھے کہ یہ حکم ہمیشہ کے لئے باقی ہے اور بھی متعدد حضرات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اشہر حُرُم سے متعلق مزید سوال اور ان کے جواب : اوپر آیات 190-195 میں اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا تھا کہ اگر مشرکین تمہارے ارادہ حج میں مزاحم ہوں اور ان کی مزاحمت کے سبب سے جنگ کی نوبت آجائے تو تم ان سے جنگ کرو اور ان کو قتل کرو اگرچہ یہ جنگ اشہر حرم میں بلکہ عین حدود حرم میں لڑنی پڑے یہ بات اگرچہ واضح تھی لیکن اشہر حرم کے معاملہ میں زمانہ جاہلیت سے عربوں کی روایات اتنی سخت تھیں اور ان میں جنگ و خونریزی کو وہ اتنا بڑا گناہ سمجھتے تھے کہ بہت سے لوگوں کے دلوں میں یہ بات آسانی سے نہیں اتر سکتی تھی۔ اس طرح کے معاملات میں چونکہ جذبات کو بڑا دخل ہوتا ہے اس وجہ سے مخالفین کو پروپیگنڈے کا بھی بڑا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 217–218

217۔ 1 رجب، ذیقعد، ذوالحجہ اور محرم۔ یہ چار مہینے زمانہ جاہلیت میں بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے جن میں قتال اور جدال ناپسندیدہ تھا اسلام نے بھی ان کی حرمت کو برقرار رکھا نبی ﷺ کے زمانے میں ایک مسلمان فوجی دستے کے ہاتھوں رجب کے مہینے میں ایک کافر قتل ہوگیا اور بعض کافر قیدی بنا لئے گئے۔ مسلمانوں کے علم میں یہ نہیں تھا کہ رجب شروع ہوگیا ہے کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ دیکھو یہ حرمت والے مہینے کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھتے جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور کہا گیا کہ یقینا حرمت والے مہینے میں قتال بڑا گناہ ہے لیکن حرمت کی دہائی دینے والوں کو اپنا عمل نظر نہیں آتا یہ خود اس سے بھی بڑے جرائم کے مرتکب…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 217–218

تشریح : سورة توبہ (9: 36) میں چار مہینوں کو اشہر حرم کہا گیا ہے، یعنی حرمت والے مہینے، آنحضرت ﷺ نے ان کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چار مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں، ان مہینوں میں جنگ منع ہے، البتہ اگر کوئی دشمن حملہ کردے تو اپنا دفاع کیا جاسکتا ہے، ایک مرتبہ ایک سفر کے دوران چند صحابہ کی کچھ مشرکین سے جھڑپ ہوگئی اور مشرکین میں سے ایک آدمی عمرو بن ضمری مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا، یہ واقعہ جمادی الثانیہ کی 29 تاریخ کی شام کو واقع ہوا، لیکن اس شخص کے قتل ہوتے ہی رجب کا چاند نظر آگیا، اس پر مشرکین نے مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان مچادیا کہ یہ لوگ حرمت والے مہینوں کا بھی پاس نہیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

متعدد روایات میں آیا ہے کہ یہ آیات عبداللہ ابن حجش کے سریہ کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک سیل شدہ خط دیا اور آٹھ افراد ان کے ساتھ روانہ کئے جو سب کے سب مہاجر تھے ، انصار کا ان میں کوئی نہ تھا۔ آپ ﷺ نے عبداللہ کو حکم دیا کہ وہ دو رات دن کے سفر سے پہلے اس خط کو نہ کھولے ۔ جب اس نے مقررہ وقت پر خط پڑھا تو اس کی عبارت یہ تھی جب تم میرے اس خط کو پڑھو تو آگے بڑھو یہاں تک کہ وادی بطن نخلہ میں جا اترو ۔ جو مکہ اور طائف کے درمیان ہے ۔ یہاں تم قریش کے حالات نگاہ میں رکھو اور ہمیں ان کی اطلاع دیتے رہو ۔ لیکن اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ لے جانے پر مجبو رنہ کرنا ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 حضرت فخر عالم ﷺ نے اپنی ایک جماعت کافروں کے مقابلہ کو بھیجی انہوں نے کافروں کو مارا اور مال لوٹ لائے۔ مسلمان تو جانتے تھے کہ وہ اخیر دن جمادی الثانی کا ہے اور وہ رجب کا غرہ تھا ' جو کہ اشہر حرم میں داخل ہے کافروں نے اس پر بہت طعن کیا کہ محمد ﷺ نے حرام مہینہ کو بھی حلال کردیا اور اپنے لوگوں کو حرام مہینہ میں لوٹ مار کی اجازت دے دی مسلمانوں نے حاضر ہو کر آپ ﷺ سے پوچھا کہ ہم سے شبہ میں یہ کام ہوا اس کا کیا حکم ہے تب یہ آیت اتری۔ 6 یعنی شہر حرام میں قتال کرنا بیشک گناہ کی بات ہے لیکن حضرات صحابہ نے تو اپنے علم کے موافق جمادی الثانی میں جہاد کیا تھا شہر حرام یعنی رجب میں نہیں کیا اس لیے مستحق…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 217 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ ط قتال کا حکم آنے کے بعد اب وہ پوچھتے تھے کہ یہ جو حرمت والے مہینے ہیں ان میں جنگ کرنا کیسا ہے ؟ اس لیے کہ سیرت میں یہ واقعہ آتا ہے کہ ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحش رض کو چند افراد کے دستے کا کمانڈر بنا کر ہدایت فرمائی تھی کہ مکہ اور طائف کے درمیان جا کر وادئ نخلہ میں قیام کریں اور قریش کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں۔ وادئ نخلہ میں قیام کے دوران وہاں قریش کے ایک مختصر سے قافلے کے ساتھ مڈبھیڑ ہوگئی اور مسلمانوں کے ہاتھوں ایک مشرک عمرو بن عبداللہ الحضرمی مارا گیا۔ اس روز رجب کی آخری تاریخ تھی اور رجب کا مہینہ اشہر حرم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

286 رسول اللہ ﷺ نے آٹھ آدمیوں پر مشتمل ایک دستہ جمادی الثانی 2 ھ کے آخر میں نخلہ کی طرف بھیجا (جو مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے) تاکہ کفار مکہ کی نقل و حرکت کے متعلق معلومات حاصل کرے۔ کیونکہ ان کی طرف سے مدینہ پر چڑھائی کا ہر آن خطرہ موجود تھا اس دستہ کو کفار کا ایک تجارتی قافلہ ملا۔ جس پر انہوں نے حملہ کردیا اور ایک آدمی کو قتل کردیا اور باقی لوگوں کو گرفتار کر کے مال سمیت مدینہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے جس کا آپ کو افسوس ہوا۔ کیونکہ آپ ﷺ نے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ لڑنے کے لیے نہیں بھیجا تھا اور جس دن یہ لڑائی کا واقعہ ہوا اس دن مسلمانوں کے خیال کے مطابق تو 30 جمادی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

793 ۔ الشھر الحرام بالشھر الحرام ‘ کی ذیل میں اوپر گزر چکا ہے کہ قمری سال کے چار مہینے، محرم، رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ، عرب جاہلیت میں متبرک ومحترم تھے، قتل و غارت تو ان لوگوں کا پیشہ تھا، لیکن اس زمانہ میں ہر قسم کی جنگ بندرہتی تھی۔ (آیت) ” الشھرالحرام “ سے یہاں مراد ماہ رجب ہے۔ ہوا یہ کہ 2 ہجری میں یعنی ہجرت مدینہ سے کوئی 17 مہینے بعد ایک بار سفر میں بعض صحابیوں کا مقابلہ مشرکین سے ہوگیا، اور ایک مشرک مقابلہ میں جان سے مارا گیا۔ واقعہ کی تاریخ صحابیوں کے خیال میں 30 جمادی الثانی کی تھی، بعد کو علم ہوا (جیسا کہ آج بھی قمری مہینوں میں بارہا ہوتا رہتا ہے) کہ چاند 29 کا ہوگیا تھا، اور وہ تاریخ یک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 217–218

آیت نمبر 217 تا 219 ترجمہ : نبی ﷺ نے اپنے سرایا (جنگی یونٹ) میں سے پہلا سریہ (یونٹ) روانہ فرمایا، اور اس کا امیر عبد اللہ بن جحش کو بنایا، چناچہ ان لوگوں نے مشرکین سے قتال کیا اور جمادی الاخری کے آخری دن ابن حضرمی کو قتل کردیا، اور ان کو جمادی الاخری کا رجب کے پہلے سن سے اشتباہ ہوگیا، تو کفار نے ماہ رجب کو حلال سمجھنے پر عار دلائی تو، یَسْئلُونَکَ نازل ہوئی، لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام (یعنی) ماہ محترم میں لڑنا کیسا ہے ؟ قِتَال فیہِ (عن الشھر الحرام) سے بدل الاشتمال ہے آپ ان کو بتادو کہ ان میں قتال کرنا بہت برا ہے (یعنی) گناہ کے اعتبار سے بڑا جرم ہے (قتال فیہ) مبتداء خبر ہیں، اور لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ( اے محمد ﷺ ! مسلمان) آپ ﷺ سے ماہ حرام میں جنگ کرنے کی بابت پوچھتے ہیں) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اور طبرانی نے کبیر میں اور ابن سعد اور بیہقی نے اپنی اپنی سنن میں جندب بن عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ جنگ بدر سے دو مہینے پہلے ماہ جمادی الاخریٰ 2 ھ میں آنحضرت ﷺ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی عبد اللہ بن جحش کو ان کی اردلی میں آٹھ نفر مہاجرین دے کر بھیجا ان مہاجرین کے نام یہ ہیں۔ سعد بن ابی وقاص زہری۔ عکاشہ بن محصن اسدی۔ عتبہ بن غزوان اسلمی۔ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ۔ سہیل بن بیضا۔ عامر بن ربیعہ۔ واقد بن عبد اللہ۔ خالد بن بکیر اور بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(217) حرمت کے مہینے یعنی رجب کے مہینے میں آپ سے لڑائی کرنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیجیے کہ رجب کے مہینے میں لڑائی کرنا بہت بڑے گناہ کا باعث ہے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی اطاعت سے پھیرنا اور ان کو مسجد حرام داخل ہونے سے روکنا اللہ تعالیٰ کے ہاں عمرو بن حضرمی کے قتل سے بھی بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، قتل سے بڑا گناہ ہے اور یہ اہل مکہ تم لوگوں کو دین اسلام سے منحرف کرنے کی کوشش میں ہیں اور جو اسلام سے پھر کر اسی حالت میں مرجائے تو اس کے سارے اعمال اور تمام نیکیاں برباد گئیں اور آخرت میں ان کو کوئی بدلہ نہیں ملے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، نہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قِتَالٌ فِيْهِ : یہ ”الشَّهْرِ الْحَرَامِ“ سے بدل اشتمال ہے۔ ”قِتَالٌ“ مبتدا اور ”كَبِيْرٌ“ خبر ہے۔ ”صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ“ مبتدا ہے، ”وَكُفْرٌۢ بِهٖ“ اور ”اِخْرَاجُ اَھْلِهٖ“ کا اس پر عطف ہے اور ان سب کی خبر ”اَكْبَرُ عِنْدَ اللہ“ ہے اور ”وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ“ کا عطف ”سَبِيْلِ اللّٰهِ“ پر ہے اور ”وَكُفْرٌۢ بِهٖ“ میں ”بِهٖ“ کی ضمیر ”سَبِيْلِ اللّٰهِ“ میں مذکور لفظ ”اللّٰهِ“ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور ”الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۤ“ کو پہلے لانے کے بجائے ”َكُفْرٌۢ بِه“ کو پہلے لانے میں یہ حکمت ہے کہ سبیل اللہ (اسلام) سے روکنے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر مسجد حرام سے روکنے سے بڑا جرم ہے، اس لیے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں بارہ مسئلہ ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یسئلونک “ اس لفظ کے بارے گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ جریر بن عبدالحمید اور محمد بن فضیل نے عطا بن سائب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا : میں نے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اصحاب سے زیادہ بہتر قوم کوئی نہیں دیکھی۔ انہوں نے آپ ﷺ سے صرف تیرہ مسائل کے بارے میں سوال کیا اور وہ تمام کے تمام قرآن کریم میں موجود ہیں۔ مثلا (آیت) ” یسئلونک عن المحیض “۔ (آیت) ” یسئلونک عن الشھر الحرام “۔ اور (آیت) ” یسئلونک عن الیتمی “۔ اور وہ سوال نہ کرتے تھے مگر ایسی شے سے متعلق جو ان کے لئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 217–218

(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، بیہقی نے اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ جندب بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان کے اوپر ابو عبیدہ بن جراح یا عبیدہ بن حارث ؓ کو (امیر بنا کر) بھیجا۔ جب وہ جانے لگے تو غلبہ عشق سے رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ کر رونے لگے اور بیٹھ گئے۔ آپ نے پھر ان کی جگہ عبد اللہ بن جحش کو بھیجا۔ اور اس کو ایک خط لکھ کردیا اور حکم فرمایا کہ اس کو نہ پڑھنا یہاں تک کہ فلاں مقام پر پہنچ جاؤ۔ اور (یہ بھی) فرمایا کہ اپنے اصحاب میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا۔ جب انہوں نے خط کو پڑھا تو لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ یَسْئَلُوْنَکَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ : محترم مہینوں کے بارے میں ] [ قِتَالٍ فِیْہِ : (یعنی) ان میں جنگ کرنے کے بارے میں ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے ] [ قِتَالٌ : جنگ کرنا ] [ فِیْہِ : ان میں ] [ کَبِیْرٌ: بڑا (گناہ) ہے ] [ وَصَدٌّ : اور روکنا ] [ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کے راستے سے ] [ وَکُفْرٌ: اور انکار کرنا ] [ بِہٖ : اس کا ] [ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : اور مسجد حرام (سے روکنا) ] [ وَاِخْرَاجُ اَہْلِہٖ : اور اس کے لوگوں کو نکالنا ] [ مِنْہُ : اس سے ] [ اَکْبَرُ : زیادہ بڑا (گناہ) ہے ] [ عِنْدَ اللّٰہِ : اللہ کے نزدیک ] [ وَالْفِتْنَۃُ : اور ہر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ کی راہ سے اور مسجد حرام سے روکنا اور فتنہ پر دازی کرنا جرم کے اعتبار سے قتل سے بڑھ کر ہے رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن جحش ؓ کی امارت میں چند مہاجرین سے فرمایا کہ مقام بطن نخلہ میں پہنچ کر قریش کے قافلہ کا انتظار کرنا، ممکن ہے کہ کوئی خیر کی خبر لے آؤ، بطن نخلہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے، یہ حضرات وہاں پہنچے تو قریش کا قافلہ گزرتا ہوا نظر آیا جو طائف سے سامان تجارت کشمش وغیرہ لے کر آ رہا تھا، یہ قافلہ عمرو بن الحضرمی اور حکم بن کیسان اور عثمان بن عبداللہ بن مغیرہ اور نوفل بن عبداللہ پر مشتمل تھا۔ ان لوگوں نے حضرات صحابہ کرام کو دیکھا تو ڈر گئے، حضرت عبداللہ بن جحش ؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 216–218

حکم چہاردھم، متعلق بہ فرضیت جہاد و قتال درشہرحرام۔ قال تعالی، کتب علیکم القتال وھو۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔ گزشتہ آیات میں حضرات انبیاء کرام کے ابتلاء اور مصائب کا ذکر فرمایا اور یہ بتلایا کہ جنت میں داخل ہونا ابتلاء کے وقت صبر اور تحمل پر موقوف ہے اس سلسلہ میں اولا جہاد مالی یعنی انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر فرمایا اب اس کے بعد جہاد جانی کا ذکر فرماتے ہیں اے مسلمانو تم پر جہاد فرض کیا گیا اور تمہیں طبعا ناگوار ہے کیونکہ اس میں جان پر مشقت اور مال کا خرچ ہے اور شاید کہ کوئی شے تم کو طبعا ناگوا رہے فی الواقع وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جہاد فی سبیل اللہ بھی اسی قسم میں داخل ہے اس لیے جہاد سے اسلام کو فتح…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

417 قتال فیہ، الشھر الحرام سے بدل الاشتمال ہے اور الشہر الحرام سے مراد یہاں رجب ہے۔ اور یسئلون کا فاعل مشرکین ہیں۔ ایک دفعہ مقام نخلہ میں مسلمانوں کا مشرکین سے مقابلہ ہوگیا جس میں ایک مشرک عمر بن الحضرمی مارا گیا۔ مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ آج جمادی الاخر کی آخری یعنی تیس تاریخ ہے مگر اتفاق سے چاند انتیس کا تھا اور اس دن رجب کی پہلی تاریخ تھی۔ کانوا یظنون تلک اللیلۃ من جمادی وکانت اول رجب ولم یشعروا (ابن جریر ص 197 ج 2) جب اس واقعہ کا علم مشرکین قریش کو ہوا تو ان کا ایک وفدحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور آپ سے سوال کیا کہ کیا رجب جو کہ شہر حرام ہے اس میں قتال جائز ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 216–218

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ دروس میں مال کے مصارف کا بیان تھا۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ لوگ اپنا مال کن امور پر خرچ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھیجا کہ مال خرچ کرتے وقت سب سے پہلے والدین ، پھر قرابت داروں پھر یتیموں اور مسکینوں اور اس کے بعد مسافروں کو پیش نظر رکھیں۔ تاہم کلیہ کے طور پر اس بات کی وضاحت فرما دی کہ نیکی کا جو بھی کام انجام دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہے تو اسے سب سے پہلے زکوۃ ادا کرنی چاہئے۔ پھر صدقات واجبہ کا حکم آتا ہے۔ اس کے بعد نفلی صدقات پر خرچ کرے جس کے لئے صاحب نصاب ہونا ضروری نہیں۔ البتہ اجر وثواب کی خاطر اچھی سے اچھی چیز خرچ کرنا چاہئے۔ جیسا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْہِ۝ 0 ۭ قُلْ قِتَالٌ فِيْہِ كَبِيْرٌ۝ 0 ۭ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ وَكُفْرٌۢ بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۝ 0 ۤ وَاِخْرَاجُ اَھْلِہٖ مِنْہُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللہِ۝ 0 ۚ وَالْفِتْنَۃُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ۝ 0 ۭ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا۝ 0 ۭ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِہٖ فَيَمُتْ وَھُوَكَافِرٌ فَاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۝ 0 ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝ 0 ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ 217 سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 217–218

ترکیب : یسئلون فعل بافاعل کا مفعول ینفقون فعل بافاعل ماذا اس کا مفعول اور ممکن ہے کہ ما استفہام کے لیے ہو بمعنی اے شی اور ذا بمعنی الذین اور ینفقون اس کا صلہ اور عائد محذوف پس مامبتدا اور ذامع صلہ کے اس کی خبر پھر یہ تمام جملہ مفعول ثانی ہوگا۔ یسئلون کا وقیل تفسیرہ ما شرطیہ انفقتم الخ شرط فللوالدین الخ جواب شرط پھر یہ تمام جملہ محلا منصوب ہے۔ قل کا مفعول ہو کر اور ممکن ہے ما بمعنی الذی ہو اور مبتداء قرار دیا جاوے اور من خیر حال ہو محذوف سے فللو الدین خبر۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ مومنوں کو دنیا کی بےثباتی بتا چکا اور آخرت کے لیے صبر اور استقلال کی تاکید فرما چکا کہ اس کے لیے جان و مال بھی دریغ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِالْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ ط قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌط وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌم بِہٖ وَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ ق وَاِخْرَاجُ اَھْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَاللّٰہِ ج وَالْفِتْـنَـۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِِ ط وَلَایَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ط وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَھُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ج وَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (تم سے پوچھتے ہیں کہ حرمت والے مہینہ میں لڑنا کیسا ہے ؟…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : سوال و جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں قتال فی سبیل اللہ کے بارے میں یہ وضاحت کردی گئی ہے کہ حرمت کے مہینوں میں قتال کرنے میں ابتدا نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی جائے تو پھر حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کی مکمل طور پر اجازت ہے۔ سورۃ التوبۃ کی آیت 36 میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی اسی وقت سے سال کے بارہ مہینے مقرر کیے اور ان میں چار مہینوں کو حرمت والے قرار دیا جن کے نام حدیث میں ذی قعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اسی وقت سے لے کر لوگوں میں ان کا احترام پایا جاتا ہے۔ اہل عرب اپنی خود غرضی کی بنا پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 217: یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌط وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌم بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ اِخْرَاجُ اَہْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓپکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۔ (اے محمد ﷺ وہ آپ سے ماہ حرام میں جنگ کے متعلق پوچھتے ہیں ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 217۔: (آیت)” یسئلونک عن الشھر الحرام “ ۔ رجب کے بارے میں رجب کو شھر حرام حرمت کا مہینہ اس لیے کہا گیا کہ اس میں قتال حرام ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” قتال فیہ “ اس ماہ میں قتال کرنے سے متعلق (قل) یا محمد ﷺ فرمادیجئے (آیت)” قتل فیہ کبیر “ اس میں لڑائی عظیم ہے (یعنی بڑا گناہ ہے) یہ کلام یہاں تک مکمل ہوگئی ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نئے سرے سے کلام کا آغاز فرمایا (آیت)” وصد عن سبیل اللہ “ اے مشرکو ! تمہارا مسلمانوں کو اسلام سے روکنا (آیت)” وکفر بہ “ اور تمہارا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا (آیت)” والمسجد الحرام ای مسجد الحرام “ کے ساتھ (کفر کرنا) اور کہا گیا ہے کہ ” وصدکم عن المسجد الحرام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 217–218

(217 ۔ 218) ۔ اس آیت کی شان نزول قصہ طلب ہے اس قصہ کا یہ ہے کہ جنگ بدر سے دو مہینے پہلے آنحضرت کو معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ کے کچھ لوگ کسی قدر کھانے پینے کا سامان بطن نخلہ کے راستہ سے مکہ کو لا رہے ہیں۔ بطن نخلہ طائف اور مکہ کے بیچ میں ایک مقام ہے آپ نے یہ خبر سن کر حضرت عبد اللہ بن حجش ؓ صحابی کو اور جو آپ کے چچا زاد بھائی ہیں ایک خط دے کر چند صحابہ کے ہمراہ روانہ کیا اور کچھ یہ نہیں فرمایا کہ ان کو اور ان کے ساتھیوں کو کہاں اور کس ضرورت سے بھیجا جاتا ہے۔ بلکہ عبد اللہ بن حجش ؓ سے یہ فرما دیا کہ بسم اللہ کر کے مدینہ سے سفر کرو دو منزلیں جب تک طے نہ ہوں اس وقت تک یہ خط جو تم کو دیا گیا اس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں قتال کی حرمت اس آیت کے ذریعے سے منسوخ ہوگئی ہے جس میں حکم ہے کہ مشرکوں سے لڑو جہاں کہیں بھی ان کو پاؤ۔ (اشارہ ہے البقرہ /191، النساء /89، 91 کی طرف۔ مترجم) اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں، کیونکہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے یہ آیت کریمہ قتال کے عام اور مطلق حکم کو مقید کرتی ہے۔ نیز اس لئے بھی کہ حرام مہینوں کی جملہ خوبیوں میں سے ایک خوبی، بلکہ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان مہینوں میں لڑائی حرام ہے۔ یہ حکم لڑائی کی ابتدا کرنے کے بارے میں ہے۔ رہی دفاعی جنگ تو یہ حرام مہینوں میں بھی جائز ہے جیسے حرم کے اندر دفاعی جنگ لڑنا جائز ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے یسئلونک عن الشھرالحرام قتال فیہ، قل قتال فیہ کبیر و صدعن سبیل اللہ وکفر بہ والمسجد الحرام و اخراج اھلہ منہ اکبر عنداللہ۔ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو اس میں لڑنا بہت برا ہے مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ کے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا کے بندوں پر بند کردینا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے) ۔ یہ آیت اشہر حرام میں تحریم قتال کے حکم کو متضمن ہے۔ اس مضمون پر دلالت میں اس کی طرح یہ قول باری ہے (الشھرالحرام بالشھرالحرام و الحرمات قصاص ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

599 حرمت والے مہینے کے بارے میں ایک سوال و اعتراض اور اس کا جواب : کہ اس میں لڑائی کرنا کیسا ہے ؟ صحیح ہے یا غلط ؟ جائز ہے یا ناجائز وغیرہ۔ روایات کے مطابق نبئ اکرم ﷺ نے غزوہ بدر سے کوئی دو ماہ پیشتر اپنے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبداللہ بن حجش ؓ کی قیادت میں آٹھ یا بارہ آدمیوں کا ایک جتھا کفار کی سرکوبی کے لئے روانہ فرمایا۔ ان حضرات کا مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان واقع وادی نخلہ کے مقام پر کفار قریش کے ایک قافلے سے مقابلہ ہوا، جو طائف سے سامان تجارت لے کر لوٹ رہا تھا۔ اس حملے میں کفار کے ان رؤسا میں سے جو اس قافلے میں موجود تھے، عمرو بن الحضرمی مارا گیا، اور حکم بن کیسان اور عثمان بن عبداللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 216–219

جنگ کا حکم تشریح : جہاد کا حکم مسلمانوں کو مکہ سے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد ملا۔ اس وقت گو کہ مسلمان زیادہ مضبوط نہ تھے مگر اب وقت آگیا تھا کہ نئی اسلامی ریاست کی بنیاد کو مضبوط کیا جائے جس کے لیے کھلے بندوں تبلیغ کا کام بہت ضروری تھا۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا جب مسلمان اس سے قدرے پریشان ہوئے۔ کیونکہ ان کی تعداد اور سامان جنگ نہ ہونے کے برابر تھا تو اس پر رب العزت نے فرمایا کہ تم گھبراؤ نہیں، ہوسکتا ہے تم جنگ کو مشکل سمجھ رہے ہو جو کہ اللہ کے حکم سے تمہارے لیے آسان اور انتہائی فائدہ مند ثابت ہو۔ یہ مصلحت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس وقت تمہاری ترقی، مضبوطی اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 217–221

217- 221 اسرارو معارف اشہر حرم : جب جہاد کا ذکر شروہ ہوا تو اس کے احکام ارشاد ہوتے ہیں جن میں بنیادی بات اشہر حرم کی ہے کہ سال میں چار مہینے رجب اور ذی قعد ، ذی الحجہ اور محرم ہیں۔ قبل اسلام بھی ان میں لڑنا مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا اور اسلام نے بھی ان کی حرمت بحال رکھی لیکن اس کے ساتھ یہ امکان بھی موجود تھا کہ مسلمان تو بالکل ہاتھ نہ اٹھائیں اور کافر جنگ کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں۔ تو اللہ کریم نے ایک ضابطہ ارشاد فرمایا کہ فرما دیجئے ان مذکورہ مہینوں میں لڑنا بہت بڑا جرم ہے اور عنداللہ بڑے گناہ کی بات ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا ، اللہ سے کفر کرنا اور بیت اللہ سے منع کرنا بلکہ جو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ذوالقعدہ، ذولحجہ، محرم اور رجب، یہ چارمہینے حرمت والے ہیں۔ عہد جاہلیت سے ہی ان میں لوٹ مار اور خون ریزی حرام سمجھی جاتی تھی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ 2 ھ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحش کی سر کردی میں ایک دستہ فوج جہاد پر روانہ کیا۔ انہوں نے کافروں کے ایک قافلہ پر حملہ کیا جس سے ایک آدمی مارا گیا اور بعض کو ان کے مال سمیت گرفتار کر کے مدنیہ میں لے آئے۔ یہ واقعہ ماہ رجب میں پیش آیا کفار نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ تم نے رجب میں جنگ کر کے اس کی حرمت کو توڑا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مارہ رجب میں جنگ کرنا اگرچہ واقعی گناہ ہے مگر تم اس سے بھی برے گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہو ( جو آیت میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:217) الشھر الحرام۔ موصوف و صفت۔ حرمت والا مہینہ۔ فائدہ : جمادی الثانی سنہ 2 ھ کو آنحضرت ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن حجش ؓ کو آٹھ (یا بعض کے نزدیک بادہ) مہاجرین کا سردار بنا کر قریش کے ایک قافلہ کے مقابلہ میں بھیجا۔ جس شب یہ مقابلہ ہوا جس میں قریش کے چند آدمی مارے گئے تھے وہ رجب کی پہلی تاریخ تھی۔ لیکن حضرت عبد اللہ ؓ اور ان کے ساتھی اسے جمادی الثانی کی آخری تاریخ سمجھ رہے تھے۔ چونکہ رجب کا مہینہ ماہ حرم ہے جس میں قتال ممنوع تھا۔ اس لئے حضرت عبد اللہ اور ان کے ساتھی سخت دلگیر ہوئے کہ ان سے ایسی غلطی سرزد ہوئی۔ اس پر یہ آیت نازل کوئی کہ اہل مکہ نے جو گناہ قصداً اور عناداً کئے تھے مثلاً لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 217–218

لغات القرآن : آیت نمبر 217 تا 218 کبیر (بڑا۔ گناہ) ۔ اخراج (نکالنا) ۔ اھلہ (اس کے رہنے والے ) ۔ اکبر زیادہ بڑا (بہت بڑا گناہ ہے ) ۔ لا یزالون (ہمیشہ) ۔ ان استطاعوا (اگر ان میں طاقت ہو) ۔ یرتدد (جو پلٹ گیا (مرتد ہوگیا ) ۔ یمت (وہ مرجاتا ہے ) ۔ حبطت (ضائع ہوگئی (ضائع ہوگئے ) ۔ ھاجروا (ہجرت کی ) ۔ جاھدوا (انہوں نے جہاد کیا) ۔ یرجون (امید رکھتے ہیں ) ۔ تشریح : آیت نمبر 217 تا 218 ان آیات کی تشریح یہ ہے کہ : رجب ، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان چار مہینوں کو عرب والے (اشھر الحرم) عزت و حرمت والے مہینے کہا کرتے تھے۔ ان چاروں مہینوں کے بارے میں زمانہ جہالت ہی سے عربوں کی روایات اس قدر سخت تھیں کہ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 217–218

شان نزول : آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک جماعت مشرکین کے مقابلہ کو بھیجی۔ انہوں نے مشرکین کو مارا اور مال لوٹ کر لائے۔ مسلمان تو سمجھتے تھے کہو وہ تو اخیر دن جمادی الثانی کا ہے جبکہ وہ رجب کا غرہ (پہلا دن) تھا جو کہ اشہر حرام میں داخل ہے۔ مشرکین نے اس پر غل مچایا کہ محمد ﷺ نے حرمت والے مہینہ میں لڑائی اور لوٹ مار جائز کرلی اور مسلمانوں کو بھی خدشہ پیدا ہوا کہ خدا کے نزدیک اس لڑائی کا کچھ اجر ملے گا یا نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا کہ ان کا یہ عمل جہاد مقبول ہے اور اس پر انہیں امیدوار رحمت الہی رہنا چاہیے اور یہ امید قطعاً ہوگی۔ (خازن)

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[144] 2 ھ میں صحابہ کرام کی ایک جماعت کا مقابلہ مشرکین سے ہوگیا اور ایک مشرک لڑائی میں مارا گیا۔ واقعہ کی تاریخ صحابہ کے خیال میں 30/ جمادی الثانی کی تھی بعد کو علم ہوا کہ چاند 29 کو ہوگیا تھا اور وہ تاریخ یکم رجب کی تھی۔ مشرکین نے سہواً غلطی کو رائی کا پہاڑ بنادیا اور طعن کرنا شروع کردیا کہ مسلمانوں کو اب حرمت والے مہینوں کا بھی احترام نہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [145] مگر صحابہ سے یہ گناہ سرزد ہی نہیں ہوا کیونکہ انہیں چاند کے ہونے کی خبر ہی نہ تھی۔ ان کے نزدیک وہ دن ماہ حرام رجب کا نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) مکہ والے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال چکے انہیں ہر طرح کی تکلیفیں پہنچا چکے ، اب الٹے مسلمانوں پر معترض ہیں کہ یہ کیوں شہرحرام میں ہم سے نبرد آزمائیں ۔ اعتراض کا جواب یہ دیا کہ اشہر حرم کی حرمت وعزت مسلم ، و لیکن تمہاری شرارتیں کیا اس جہاد سے زیادہ خطرناک نہیں ؟ مقصد یہ ہے کہ مسلمان ہر رواداری کے لئے تیار ہے ، مگر حق کی فی بین وہ ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔ حل لغات : صد : روکنا ۔ مرتد کے عمل ضائع جاتے ہیں : (ف 2) کفر کی ہمیشہ یہ کوشش وہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اسلام کو اپنا ہمنوا بنالے ۔ کفار مکہ اور یہودیوں نے ارتداد کے لئے ذلیل سے ذلیل وسائل اختیار کئے ، مگر ایمان کے پکے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے شہر حرام میں لڑنے اور جنگ کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں اور یہ بات دریافت کرتے ہیں کہرجب جو حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے اس مہینے میں جنگ کرنا کیسا ہے آپ فرما دیجئے کہ شہر حرام میں جان بوجھ کر لڑنا اور قتال کرنا بڑا جرم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ سے اور اس کے دین سے لوگوں کو روکنا اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا اور اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام یعنی کعبہ سے لوگوں کو روکنا اور مسلمانوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے منع کرنا اور جو لوگ مسجد حرام کے حقیقی اہل اور اس کی تولیت اور نگرانی کے اپنی پرہیز گاری اور تقوے کے باعث حقیقی مستحق تھے ان کو وہاں سے نکالنا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 217–218

ف 1۔ نبی اکرم ﷺ کے چند صحابہ کا ایک سفر میں اتفاق سے کفار کے ساتھ مقابلہ ہوگیا ایک کافر ان کے ہاتھ سے مارا گیا اور جس روز یہ قصہ ہوارجب کی پہلی تاریخ تھی مگر صحابہ اس کو جمادی الاخری کی تیس تاریخ سمجھتے تھے اور رجب اشہر حرم سے ہے کفار نے اس واقعہ پر طعن کیا کہ مسلمانوں نے شہر حرم کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا مسلمانوں کو اس کی فکر ہوئی اور نبی ﷺ سے پوچھا اس آیت میں اسی کا جواب ارشاد ہے از خلاصہ جواب یہ ہے کہ اول تو مسلمانوں نے کوئی گناہ نہیں کیا اور علی سبیل الفرض اگر کیا ہے تو معترضین اس سے بڑے بڑے گناہ یعنی کفر ومزاحمت دین حق میں مبتلا ہیں پھر ان کو مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا کب منصب ہے۔ 2۔…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا وہ حرمت کے مہینوں کے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں ؟ 368: جیسا کہ یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ قمری سال کے چار مہینے محرم ، رجب ، ذی قعدہ اور ذی الحجہ عرب جاہلیت میں متبرک خیال کئے جاتے تھے اور پھر اسلام نے بھی ان کا احترام کیا ۔ قتل و غارت تو ان لوگوں کا پیشہ تھا لیکن ان چار مہینوں میں جنگ بند رہتی تھی ۔ اس جگہ حرمت کے مہینے سے مراد دراصل رجب ہے۔ ہوا یہ کہ 2 ھ میں ایک بار سفر میں بعض صحابہ کا مقابلہ مشرکین سے ہوگیا اور ایک مشرک مقاتلہ میں جان سے مارا گیا واقعہ کی تاریخ صحابہ کے خیال میں 30/ جمادی الثانی تھی لیکن بعد کو علم ہوا کہ چاند 29 کا ہوگیا تھا جیسا کہ اکثر قمری مہینوں میں آج بھی ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 217–218

The injunction relating to fighting in the 'sacred' months: The second of the three verses under comment here proves that fighting is forbidden in Rajab, Dhul-Qa'dah, Dhul-Hijjah and Muharram, the four 'sacred' months. In the same way, there are several verses of the Holy Qur'an where fighting has been very clearly forbid-den during the sacred months, for instance:' ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ :'Four of them are sacred. That is the right religion' (9:36). Then there is the saying of the Holy Prophet ﷺ in the famous address of the Last Hajj: نھا اربعہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

232. This relates to a certain incident. In Rajab 2 A. H. the Prophet sent an expedition of eight persons to Nakhlah (which lies between Makka and Ta'if) . He directed them to follow the movements of the Quraysh and gather information about their plans, but not to engage in fighting. On their way they came across a trade caravan belonging to the Quraysh and ambushed it. They killed one person and captured the rest along with their belongings and took them to Madina. They did this at a time when the month of Rajah was approaching its end and Sha'ban was about to begin. It was, therefore,…

Read the full tafseer →