جہاد بقائے ملت کا بنیادی اصول
دشمنان اسلام سے دین اسلام کے بچاؤ کے لئے جہاد کی فرضیت کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے زہری فرماتے ہیں جہاد ہر شخص پر فرض ہے، خواہ لڑائی میں نکلے خواہ بیٹھا رہے سب کا فرض ہے کہ جب ان سے مدد طلب کی جائے تو وہ امداد کریں جب ان سے فریاد کی جائے یہ فریاد رسی کریں جب انہیں میدان میں بلایا جائے یہ نکل کھڑے ہوں صحیح حدیث شریف میں ہے جو شخص مرجائے اور اس نے نہ تو جہاد کیا ہو نہ اپنے دل میں جہاد کی بات چیت کی ہو وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور حدیث میں ہے، فتح مکہ کے بعد ہجرت تو نہیں رہی لیکن جہاد اور نیت موجود ہے اور جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو نکل کھڑے ہو یہ حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–216
سورة الْبَقَرَة 231
اوپر کی آیت اور اس آیت کے درمیان ایک پوری داستان کی داستان ہے، جسے ذکر کیے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے، کیونکہ یہ آیت خود اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور قرآن کی مکی سورتوں میں (جو سورة بقرہ سے پہلے نازل ہوئی تھیں) یہ داستان تفصیل کے ساتھ بیان بھی ہوچکی ہے۔ انبیا (علیہم السلام) جب کبھی دنیا میں آئے، انہیں اور ان پر ایمان لانے والے لوگوں کو خدا کے باغی و سرکش بندوں سے سخت مقابلہ پیش آیا اور انھوں نے اپنی جانیں جوکھوں میں ڈال کر باطل طریقوں کے مقابلہ میں دین حق کو قائم کرنے کی جدوجہد کی۔ اس دین کا راستہ کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہا کہ اٰ مَنَّا کہا اور چین سے لیٹ گئے۔ اس ”اٰ مَنَّا“…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
تیرہواں حکم فرضیت جہاد
جہاد کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے اور وہ تم کو (طبعا) گراں (معلوم ہوتا) ہے اور یہ بات ممکن ہے کہ تم کسی بات کو گراں سمجھو اور (واقع میں) وہ تمہارے حق میں خیر (اور مصلحت) ہو اور یہ (بھی) ممکن ہے کہ تم کسی امر کو مرغوب سمجھو اور (واقع میں) وہ تمہارے حق میں (باعث) خرابی کا ہو اور (ہر شے کی حقیقت حال کو) اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم (پورا پورا) نہیں جانتے (اچھے برے کا فیصلہ اپنی خواہش کی بنیاد نہ کرو جو کچھ اللہ کا حکم ہوجائے اسی کو اجمالا مصلحت سمجھ کر اس پر کار بند رہا کرو)
چودہواں حکم تحقیق قتال در شہر حرام
(حضور ﷺ کے چند صحابہ کرام ؓ اجمعین کا ایک سفر میں اتفاق…
Read the full tafseer →جہادِ مالی اور جہادِ جانی : اوپر یہ بات تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے کہ یہ انفاق اور یہ جنگ دونوں ایک ہی سلسلے کی باتیں ہیں اس لیے کہ جہاد جان اور مال دونوں سے ہوتا ہے۔ اوپر والی آیت میں اس تردد کو دور کیا ہے جو بعض ذہنوں میں مالی قربانی سے متعلق پیدا ہوا اب اس آیت میں وہ تردد رفع کیا جا رہا ہے جو جان کی قربانی کے معاملہ میں تھا۔ اس تردد کو رفع کرنے کے لیے ایک اصولی حقیقت جو واضح فرمائی وہ یہ ہے کہ انسان اپنے لیے فوز و فلاح اور عروج و کمال کا راستہ خود نہیں طے کرسکتا ہے بلکہ وہ خدا ہی طے کرسکتا ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، اس لیے کہ اسی کو علم ہے کہ انسانی فطرت کے مضمرات اور اس کی صلاحیتیں کیا…
Read the full tafseer →216۔ 1 جہاد کے حکم کی ایک مثال دے کر اہل ایمان کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اللہ کے ہر حکم پر عمل کرو چاہے تمہیں وہ گراں اور ناگوار ہی لگے اس لئے کہ اس کے انجام اور نتیجے کو صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے تم نہیں جانتے ہوسکتا ہے اس میں تمہارے لئے بہتری ہو جیسے جہاد کے نتیجے میں تمہیں فتح اور غلبہ، عزت اور سر بلندی اور مال و اسباب مل سکتا ہے اسی طرح تم جس کو پسند کرو (یعنی جہاد کے بجائے گھر میں بیٹھے رہنا) اس کا نتیجہ تمہارے لئے خطرناک ہوسکتا ہے یعنی دشمن تم پر غالب آجائے اور تمہیں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–216
140: یہ فقرہ دراصل کفار کے اس باطل دعوی کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہمیں خوب رزق دے رہا ہے، اس لئے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہمارے عقائد اور اعمال سے ناراض نہیں ہے، جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں، دنیوی رزق کے لئے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے، یہاں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
Read the full tafseer →قتال فی سبیل اللہ بہت بارگراں فریضہ ہے ۔ اس کے باوجود یہ ایسا ہے کہ اس کی ادائیگی واجب ہے ۔ اس لئے کہ اس میں ایک مسلمان کے لئے بھی بڑی خیر ہے ، اسلامی جماعت کے لئے بھی خیر کثیر ہے بلکہ اس میں پوری انسانیت کی عظیم بھائی ہے ۔ یہ فریضہ محض سچائی کے لئے ہے ، بھلائی کے لئے ہے اور اصلاح احوال کے لئے ہے ۔
اسلام چونکہ ایک فطری دین ہے ، اس لئے وہ ہر معاملے میں اپنا موقف اور نقطہ نظر بھی عین فطرت کے مطابق اختیار کرتا ہے ۔ اس فریضے کی ادائیگی میں جو مشقتیں اور دشواریاں ہیں اللہ ان کا انکار نہیں کرتا۔ نہ اسے آسان اور ہلکا تصور کیا جاتا ہے۔ نہ اس بات کا انکار کیا جاتا ہے کہ نفس انسانی اسے بتقاضائے فطرت…
Read the full tafseer →2 یعنی دین کے دشمنوں سے لڑنا فرض ہوا۔
فائدہ : جب تک آپ ﷺ مکہ میں رہے آپ ﷺ کو مقاتلہ کی اجازت نہ ہوئی جب مدینہ کو ہجرت فرمائی تو مقابلہ کی اجازت ہوئی مگر صرف ان کفار سے کہ جو خود اہل اسلام سے مقاتلہ کریں اس کے بعد علیٰ العموم کفار سے مقاتلہ کی اجازت ہوگئی اور جہاد فرض ہوا اگر دشمنان دین مسلمانوں پر چڑھائی کریں تو مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہے ورنہ فرض کفایہ بشرطیکہ جملہ شرائط جہاد جو کتب فقہ میں مذکور ہیں پائی جائیں البتہ جن لوگوں سے مسلمان مصالحت اور معاہدہ کرلیں یا ان کی امن اور حفاظت میں آجائیں تو ان سے لڑائی کرنا یا ان کے مقابلہ میں ان کے کسی مخالف کو مدد دینا ہرگز مسلمانوں کو جائز نہیں۔
3…
Read the full tafseer →آیت 216 کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ ج
واضح رہے کہ سورة البقرۃ سے پہلے سورة محمد ﷺ نازل ہوچکی تھی اور اس میں قتال کی فرضیتّ آچکی تھی۔ چنانچہ اس کا ایک نام سورة القتال بھی ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے کچھ لوگ پریشان ہو رہے تھے۔ خاص طور پر منافقین یہ کہتے تھے کہ بھائی صلح جوئی سے کام لو ‘ بس دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف لاؤ ‘ یہ جنگ وجدال اور لڑائی بھڑائی تو کوئی اچھا کام نہیں ہے ‘ اس میں تو بہت خرابی ہے۔ ان کے علاوہ ایسے مسلمان جن کا ایمان قدرے کمزور تھا ‘ اگرچہ وہ منافق تو نہیں تھے ‘ لیکن ان کا ایمان ابھی پختہ نہیں تھا ‘ ابھی تازہ تازہ ایمان لائے تھے اور…
Read the full tafseer →285 مکی دور میں بعض جوشیلے مسلمان جہاد کی اجازت مانگتے رہے مگر انہیں جہاد کی بجائے صبر کی تلقین کی جاتی رہی اور یہاں مدینہ میں آ کر جب اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی اور جہاد فرض کیا گیا تو بعض مسلمانوں نے اسے دشوار سمجھا۔ کیونکہ ہر معاشرہ میں تمام آدمی ایک ہی جیسے نہیں ہوتے، بعض جوشیلے، دلیر اور جوان بہت ہوتے ہیں تو بعض بوڑھے کمزور اور کم ہمت بھی ہوتے ہیں۔ یہ خطاب اسی دوسری قسم کے لوگوں سے ہے اور انہیں سمجھایا جا رہا ہے کہ جو چیز تمہیں بری معلوم ہوتی ہے، ہوسکتا ہے وہ فی الحقیقت بری نہ ہو، بلکہ تمہارے حق میں بہت مفید ہو اور اس کے برعکس بھی معاملہ ہوسکتا ہے اور بالخصوص یہ بات جہاد کے سلسلہ میں…
Read the full tafseer →789 ۔ (جب اس کے شرائط کا تحقق ہوجائے، اے مسلمانو ! ) قتال کے آداب، شرائط وقواعد میں سے کچھ پہلے اسی پارہ میں بیان ہوچکے ہیں، کچھ آئندہ حسب موقع بیان ہوتے رہیں گے، غیرمصافی کو قتل نہ کرنے پر اسلام نے جو ” زور “ دیا ہے، اس کو یاد رکھ کے ذرا ذیل کا اقتباس ملاحظہ ہو، ایسی کتاب سے جو یہود ونصاری دونوں کے نزدیک مقدس ہے :۔ ” سو اب تو جاء اور عمالیق کو مار، اور جو کچھ اس کا ہے یکلخت ختم کر، اور ان پر رحم مت کر، بلکہ مرد اور عورت، ننھے بچے شیر خوار اور بیل، بھیڑ، اور اونٹ اور گدھے تک کو سب کو قتل کر “۔ ( 1 ۔ سموئیل۔ 15:2)
790 ۔ جیسا کہ بالکل قدرتی اور طبعی ہے۔ اپنی جان کس کو عزیز نہیں ہوتی، اور اپنی…
Read the full tafseer →کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ (الآیۃ) قتال و جہاد مسلمانوں پر اس وقت فرض ہے جب اس کے شرائط متحقق ہوجائیں قتال کے آداب و شرائط کچھ تو اسی پارہ میں بیان ہوچکے ہیں کچھ آئندہ حسب موقع بیان ہوتے رہیں گے غیر مصافی کو قتل نہ کرنے پر اسلام نے جو زور دیا ہے اس کو سامنے رکھ کر ذرا ذیل کا اقتباس ملاحظہ ہو اسی کتاب سے جو یہودو نصاریٰ دونوں کے یہاں مقدس ہے۔ سو اب تو جا، اور عمالیق کو مار، اور جو کچھ اس کا ہے یک لخت ختم کر اور اس پر رحم مت کر بلکہ مرد، عورت، ننھے بچے شیر خوار اور بیل، بھیڑ اور اونٹ اور گدھے تک سب کو قتل کر۔ (سموئیل، 2: 15)
وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ ، اپنی جان کس کو عزیز نہیں ہوتی، اپنی جان خطرہ…
Read the full tafseer →كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ ( مسلمانو) تم پر جہاد فرض کردیا گیا ہے) عطا کہتے ہیں ( اب) جہاد نفل ہے اور اس آیت میں جو جہاد کا حکم کیا گیا ہے یہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ کے ساتھ مخصوص تھا اوروں کو یہ حکم نہیں ہے یہی مذہب امام ثوری کا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کو وہ اپنی حجت کہتے ہیں کہ فَضَّل اللہ المجاہدین باموالھم و انفسم علی القاعدین درجۃ و کلا وعد اللہ الحسنیٰ ( یعنی مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے فضیلت دی ہے ( اور ان دونوں میں سے) ہرا یک کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے) عطا اور ثوری دونوں فرماتے ہیں کہ اگر جہاد سے بیٹھ رہنے والا فرض کا…
Read the full tafseer →(216) تم پر رسول اکرم ﷺ کے ساتھ عام کوچ کرنے میں جہاد فرض کیا گیا ہے اور یہ تم پر بہت گراں تھا اور تم اسے گراں سمجھتے ہو، مگر درحقیقت یہ تمہارے لیے بہتر ہے، تمہیں اس کی وجہ سے شہادت اور مال غنیمت ملے گا اور جہاد نہ کرنے سے شہادت حاصل ہوتی ہے اور نہ مال غنیمت، اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ جہاد کرنا تمہارے لیے بہتر اور جہاد نہ کرنا تمہارے لیے برا ہے یہ آیت حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ اور مقداد بن اسود ؓ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق اتری ہے۔
حضرت عبداللہ بن جحش ؓ اور ان کے ساتھیوں نے عمرو بن حضرمی کو جمادی الثانی کو شام کو رجب کا چاند نظر آنے سے پہلے قتل کردیا تھا کفار نے انہیں اس پر برا بھلا کہا، انہوں…
Read the full tafseer →كُرْهٌ“ یہ مصدر بمعنی ”کَرَاہِیَۃٌ“ ہے۔ مصدر کو اسم مفعول ”مَکْرُوْہٌ“ کی جگہ مبالغہ کے لیے لایا گیا ہے، جیسا کہ ”زَیْدٌ عَدْلٌ“ ”زید سراپا عدل ہے۔“ تو یہاں ”كُرْهٌ“ کا معنی ہوگا ”سراسر ناپسند ہے۔“ ”كُتِب“ یہ وہی ”كُتِب“ ہے جو اس سے پہلے قصاص، وصیت اور صیام کے لیے آیا ہے۔
پچھلی آیت میں مال خرچ کرنے کی ترغیب کے بعد اب جان خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ ”الْقِتَالُ“ سے ہر لڑائی مراد نہیں، بلکہ عہد کا الف لام ہونے کی وجہ سے خاص یعنی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے لڑائی ہے۔
ابن کثیر ؓ نے فرمایا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ وہ جہاد کریں اور دشمنوں سے اسلام کا دفاع کریں۔ امام زہری نے…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” کتب “ اس کا معنی ہے :” فرض کیا گیا ہے۔ “ اس کیا گیا ہے۔ “ اس کی مثل پہلے گزر چکا ہے۔ ایک قوم نے اس کی قرات ” کتب علیکم القتل “ کی ہے۔ اور شاعر نے کہا ہے :
کتب القتل والقتال علینا وعلی الغائیات جر الذیول۔
ہمارے اوپر جنگ و قتال فرض کیا گیا ہے اور حسن و جمال والیوں پر (فقط کپڑوں کے) دامنوں کو کھینچنا۔
یہ جہاد کی فرضیت کا ذکر ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیان فرمایا ہے : یہ وہی ہے جس کے ساتھ انہیں آزمایا گیا ہے اور اسے جنت تک پہنچنے کا وسیلہ اور ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اس میں قتال سے مراد کفار دشمنوں کے ساتھ لڑنا اور جنگ کرنا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کا علم انہیں…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے سعیدبن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں نبی اکرم ﷺ اور ایمان والوں کو توحید کا حکم فرمایا (اور) نماز قائم کرنے کا اور زکوٰۃ ادا کرنے کا (حکم فرمایا) اور قتال سے اپنے ہاتھوں کو روکنے کا (یعنی کافروں سے قتال نہ کریں) جب آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو سارے فرائض نازل فرمائے اور ان کو (کافروں سے) قتال کی اجازت (بھی) فرمائی۔ اور نازل فرمایا لفظ آیت ” کتب علیکم القتال “ یعنی تم پر (قتال) فرض کیا گیا۔ اور ان کو جنگ کی اجازت دی گئی۔ جو پہلے ان کو اس سے روکا گیا تھا ” وجوہ کرہ لکم “ یعنی قتال اور وہ تمہارے لئے مشقت ہے۔ لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ عَلَـیْکُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْقِتَالُ : جنگ کرنا ] [ وَہُوَ : اور وہ ] [ کُرْہٌ : ناگوار ہے ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَعَسٰٓی : اور ہوسکتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَکْرَہُوْا : تم لوگ ناپسند کرو ] [ شَیْئًا : کسی چیز کو ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [ ہُوَ : وہ ] [ خَیْرٌ : بھلائی ہے ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَعَسٰٓی : اور ہوسکتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ تُحِبُّوْا : تم لوگ محبت کرو ] [ شَیْئًا : کسی چیز سے ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [ ہُوَ : وہ ] [ شَرٌّ : برائی ہے ] [ لَّــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ وَاَنْتُمْ : اور…
Read the full tafseer →جہاد کی فرضیت اور ترغیب
مکہ مکرمہ کے زمانہ قیام میں مسلمان بہت ہی ضعیف تھے، تھوڑے سے تھے۔ کافروں کا تسلط تھا ان سے لڑنے اور جنگ کرنے کا کوئی موقعہ نہ تھا اور نہ جنگ کرنے کی اجازت تھی، بالآخر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ قیام پذیر ہوگئے، یہاں قیام کرنے کے بعد ان لوگوں سے جنگ کرنے کی اجازت دی گئی جو لڑنے کے لیے آمادہ ہوجائیں جیسا کہ سوررۂ حج میں فرمایا : (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا) اس کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ عام مشرکین سے قتال کرنے کا حکم ہوگیا اگرچہ وہ ابتداء نہ کریں۔ (قرطبی ص 38 ج 3)
آیت بالا کے عموم سے بظاہر یہی مستفاد ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–218
حکم چہاردھم، متعلق بہ فرضیت جہاد و قتال درشہرحرام۔
قال تعالی، کتب علیکم القتال وھو۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔
گزشتہ آیات میں حضرات انبیاء کرام کے ابتلاء اور مصائب کا ذکر فرمایا اور یہ بتلایا کہ جنت میں داخل ہونا ابتلاء کے وقت صبر اور تحمل پر موقوف ہے اس سلسلہ میں اولا جہاد مالی یعنی انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر فرمایا اب اس کے بعد جہاد جانی کا ذکر فرماتے ہیں اے مسلمانو تم پر جہاد فرض کیا گیا اور تمہیں طبعا ناگوار ہے کیونکہ اس میں جان پر مشقت اور مال کا خرچ ہے اور شاید کہ کوئی شے تم کو طبعا ناگوا رہے فی الواقع وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جہاد فی سبیل اللہ بھی اسی قسم میں داخل ہے اس لیے جہاد سے اسلام کو فتح…
Read the full tafseer →415 مضمونِ جہاد کا تیسری باز ذکر۔ کُرْہْ سے طبعاً ناپسندیدہ چیز مراد ہے۔ مال وجان کا ضیاع ہمیشہ انسانی طبیعت کو گراں محسوس ہوتا ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ صحابہ کرام کو اللہ تعالیٰ کا امر بالجہاد ناپسند تھا۔ ای شاق علیکم قال بعض اھل المعانی ھذا لکرہ من حیث نفور الطبع عنہ لما فیہ من مؤنۃ الحال ومشقۃ النفس وخطر الروح لا انھم کر ھو امر اللہ تعالیٰ (معالم ص 171 ج 1) عَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ بعض چیزیں اپنے ظاہری اور مادی نقصانات کی وجہ سے تمہیں ناپسند ہوں اور تم انہیں اچھا نہ سمجھتے ہو مگر انجام کے لحاظ سے اور پوشیدہ فوائد کے لحاظ سے وہ تمہارے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–218
گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ دروس میں مال کے مصارف کا بیان تھا۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ لوگ اپنا مال کن امور پر خرچ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھیجا کہ مال خرچ کرتے وقت سب سے پہلے والدین ، پھر قرابت داروں پھر یتیموں اور مسکینوں اور اس کے بعد مسافروں کو پیش نظر رکھیں۔ تاہم کلیہ کے طور پر اس بات کی وضاحت فرما دی کہ نیکی کا جو بھی کام انجام دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہے تو اسے سب سے پہلے زکوۃ ادا کرنی چاہئے۔ پھر صدقات واجبہ کا حکم آتا ہے۔ اس کے بعد نفلی صدقات پر خرچ کرے جس کے لئے صاحب نصاب ہونا ضروری نہیں۔ البتہ اجر وثواب کی خاطر اچھی سے اچھی چیز خرچ کرنا چاہئے۔ جیسا…
Read the full tafseer →كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَكُرْہٌ لَّكُمْ 0 ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَخَيْرٌ لَّكُمْ 0 ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَشَرٌّ لَّكُمْ 0 ۭ وَاللہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 216 ۧ
كتب ( فرض)
ويعبّر عن الإثبات والتّقدیر والإيجاب والفرض والعزم بِالْكِتَابَةِ ، ووجه ذلك أن الشیء يراد، ثم يقال، ثم يُكْتَبُ ، فالإرادة مبدأ، والکِتَابَةُ منتهى. ثم يعبّر عن المراد الذي هو المبدأ إذا أريد توكيده بالکتابة التي هي المنتهى، قال : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي
[ المجادلة/ 21] ، وقال تعالی: قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–216
ترکیب : ام بمنزلہ اہل اور ہمزہ استفہام یعنی منفطعہ حسبتم فعل بافاعل ان تدخلوا الجنۃ سارا جملہ قائم مقام دو مفعولون کے ولما الخ جملہ مستفائفہ ہے۔ شرح احوال کے لیے اور ممکن ہے کہ قد مضمرمان کر حال قرار دیا جاوے الرسول فاعل یقول والذین آمنوا اس پر معطوف معہ متعلق ہے یقول کے اور ممکن ہے کہ آمنوا کے ہو متی نصر اللّٰہ جملہ مقولہ۔
تفسیر : پہلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ دنیا اور اس کی زینت کفار کو دی گئی اور وہ مسلمانوں سے ہنسی اور تمسخر کرتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کو صبر اور توکل اور ثابت قدمی کی ترغیب دیتا ہے تاکہ اسلام میں جس قدر مصیبتیں اور تکالیف اور تنگدستی اور ناامیدی اور دنیا کی ناکامی اور…
Read the full tafseer →کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَکُرْہٌ لَّـکُمْ ج وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّھُوَ خَیْرٌلَّـکُمْ ج وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَھُوَ شَرٌّلَّـکُمْ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ ۔ ع
(تم پر جنگ فرض کی گئی اور وہ تمہارے لیے ایک ناگوار شے ہے۔ ممکن ہے تم ایک شے کو ناگوار خیال کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک شے کو پسندیدہ سمجھو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے) ( 216)
جہاد و قتال کا مفہوم
اس سے پہلے میں عرض کرچکا ہوں کہ انفاق اور جنگ دونوں ایک ہی سلسلے کی باتیں ہیں۔ پہلے انفاق کا ذکر فرمایا اب قتال کا ذکر فرمایا جا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اور جان قربان کرنا دونوں مشکل ترین کام ہیں۔ اس لیے انہیں ایک دوسرے کے بعد ذکر کیا ہے جہاد میں دونوں لازم وملزوم ہوتے ہیں۔
ہرمعاشرے اور قوم میں ایسے لوگ بھی ہوا کرتے ہیں جو مشکل حالات میں جذباتی ہو کر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجایا کرتے ہیں۔ لیکن کفار کے ساتھ باضابطہ مقابلے کے وقت آگے بڑھنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ میدان کارزار میں اترنا ہر کسی کے دل گردہ کی بات نہیں۔ لہٰذا لوگوں کو انگیخت دینا اور تیار کرنا پڑتا ہے۔ اس فرمان میں ایسی ہی صورت حال کی طرف اشارات پائے جارہے ہیں۔ جس سے اس الزام کی از خود نفی ہورہی ہے جو غیر مسلم مسلمانوں پر…
Read the full tafseer →آیت 216:
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْئًا وَّ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ہُوَ شَرٌّلَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (تم پر جہادفرض کیا گیا اور وہ تمہیں ناگوار ہے اور شاید تمہیں ایک چیز بری لگے۔ حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور شاید ایک چیز تمہیں اچھی معلوم ہو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہے اور اللہ تعالیٰ (تمہاری بھلائی اور برائی کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے) کتب علیکم القتال۔ تم پر کفار سے جہاد فرض کیا گیا۔
صفت سے مقصود اظہار مبالغہ :
وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ ۔ یہاں مصدر کو صفت کی…
Read the full tafseer →216۔ (آیت)” کتب علیکم القتال “۔ تم پر جہاد فرض کیا گیا ، اس آیت کے حکم میں علماء کرام نے اختلاف کیا ، حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں جہاد نفلی ہے اور آیت سے مراد اصحاب رسول اکرم ﷺ نہ کہ کوئی اور اسی طرح امام ثوری گئے ہیں جن حضرات کا یہ مؤقف ہے ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے (آیت)” فضل اللہ المجاھدین فاموالھم وانفسھم علی القاعدین درجہ وکلا وعداللہ حسنی “ (اگر جہاد نفل نہ ہوتا بلکہ فرض ہوتا) اور اگر جہاد سے بیٹھ رہنے والا تارک فرض ہوتا تو جہاد کے بعد حسنی کا کوئی درجہ نہ ہوتا اور بعض حضرات نے ظاہر آیت کے مطابق مؤقف اختیار کیا اور کہا جہاد تمام مسلمانوں پر قیامت تک فرض ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ…
Read the full tafseer →جہاد کے حکم کی تعمیل میں جا نے جانے کے خوف کو زخمی ہوجانے کے اندیشہ کو گھر اہل و عیال چھوٹنے کی تکلیف کو خیال کر کے بعض لوگ جہاد کے حکم کی تعمیل سے گھبراتے تھے ایسی لوگوں کی ہمت بڑھانے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ تم لوگوں کو علم غیب نہیں ہے اس لئے دنیا کی اکثر چیزوں کی ظاہری حالت دیکھ کر تم ان کو اچھا نہیں جانتے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ان کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ جہاد بھی اسی طرح کی چیز ہے کہ اس کا انجام اچھا ہے۔ چناچہ جہاد کے حکم کی تعمیل میں مسلمانوں کو یا درجہ شہادت عقبیٰ میں ملا دیا دنیا میں بادشاہت ہاتھ آئی۔
Read the full tafseer →اس آیت کریمہ میں اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راستے میں (کافروں کے ساتھ) قتال فرض کیا گیا ہے اس سے قبل وہ ترک قتال پر مامور تھے، کیونکہ وہ کمزور تھے اور قتال کے متحمل نہیں تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ آگئے، مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی اور وہ طاقتور ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قتال کا حکم دے دیا۔ ان کو یہ بھی بتادیا کہ مشقت، تکان، مختلف قسم کے خوف اور ہلاکت کے خطرے کی وجہ سے نفس کو جہاد اور قتال ناپسند ہے۔ اس کے باوجود قتال خالص نیکی ہے جس میں بہت بڑا ثواب، جہنم کے عذاب سے حفاظت، دشمن پر فتح و نصرت اور مال غنیمت وغیرہ کا حصول ہے۔ یہ تمام چیزیں قتال کے ناپسند ہونے کے باوجود…
Read the full tafseer →قول باری ہے کتب علیکم القتال وھوکرہ لکم تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ آیت کے الفاظ قتال کی فرضیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے کہ کتب علیکم کے معنی فرض علیکم کے ہیں یعنی تم پر جنگ فرض کردی گئی ہے جس طرح کہ روزے کے سلسلے میں فرمایا گیا کہ کتب علیکم الصیام۔ آیت میں مذکورہ القتال میں الف لام یا تو معہود کے لئے ہے جس سے مخاطبین آگاہ ہیں یا معہود کے لئے نہیں بلکہ ہم جنس کے لئے ہے اس لئے کہ اسم نکرہ پر داخل ہونے والے الف لام یا تو معہود کے لئے ہوتے ہیں یا جنس کے لئے۔ اگر اس سے مراد وہ جنگ ہے جس کا مخاطبین کو علم ہے تو یہ کلام اسی کی طرف راجع ہوگا جس طرح کہ قول باری ہے وقاتلوا…
Read the full tafseer →597 جہاد فی سبیل اللہ کی فرضیت کا بیان : سو تم پر جہاد فرض کردیا گیا تاکہ فتنہ و فساد کی جڑ کٹ سکے، اور حق کا بول بالا ہو، اور باطل والے حق کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں، جیسا کہ عام دواؤں سے جب فائدہ نہیں ہوتا تو پھر آخری علاج آپریشن ہی ہوتا ہے، تاکہ جسم کا وہ مسموم حصہ کاٹ پھینکا جائے، اور اس طرح جسم کے باقی اجزاء اس زہر کے اثر سے سالم و محفوظ رہیں۔ سو اسی طرح جہاد کو سمجھو، جو دنیا کو زہریلے عناصر اور فاسد مواد سے پاک صاف کرتا ہے، تاکہ اللہ کے دین حق کا بول بالا رہے اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہے کہ اللہ کا کلمہ ہی بلند وبالا اور سب سے افضل و اعلی ہے۔ اور جہاد میں چونکہ جان اور مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 216–219
جنگ کا حکم
تشریح : جہاد کا حکم مسلمانوں کو مکہ سے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد ملا۔ اس وقت گو کہ مسلمان زیادہ مضبوط نہ تھے مگر اب وقت آگیا تھا کہ نئی اسلامی ریاست کی بنیاد کو مضبوط کیا جائے جس کے لیے کھلے بندوں تبلیغ کا کام بہت ضروری تھا۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا جب مسلمان اس سے قدرے پریشان ہوئے۔ کیونکہ ان کی تعداد اور سامان جنگ نہ ہونے کے برابر تھا تو اس پر رب العزت نے فرمایا کہ تم گھبراؤ نہیں، ہوسکتا ہے تم جنگ کو مشکل سمجھ رہے ہو جو کہ اللہ کے حکم سے تمہارے لیے آسان اور انتہائی فائدہ مند ثابت ہو۔ یہ مصلحت تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس وقت تمہاری ترقی، مضبوطی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–216
آیات 211- 216
اسرارو معارف
سل بنی اسرائیل………………وانتم لا تعلمون۔
آپ ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھئے ان کی تاریخ دیکھئے کہ اللہ نے انہیں کس قدر واضح دلائل عطا فرمائے اور اللہ کے نبی ان کے پاس کتنی دلیلیں لائے جن سے ان کی اصلاح مقصود تھی مگر جب انہوں نے سرکشی کی اور ان دلائل کو پس پشت ڈالا تو ان پر کیسے کیسے عذاب نازل ہوئے اور یہ تو قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نعمت کو ٹھکراتا ہے یعنی ایسے دائل جو اسے راہ ہدایت سمجھانے کے لئے اللہ کی طرف سے اس کے پاس پہنچے ان کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کا یقینی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رحمت باری سے محروم ہو کر اللہ کے غضب کا نشانہ بنتا ہے اور خدا کے عذاب بہت سخت ہیں جس…
Read the full tafseer →ف 4 آیت میں اتصتال سے مراد قتل نوع انسانی نہیں بلکہ جہاد ہے اور اسلام میں جہاد سے مقصود اللہ تعالیٰ کے دین کو سربلندی کرنا کفر وشرک کی بیخ کنی کرنا اور مسلمانوں کی کفار کے شر سے بجانا ہے اور امت مسلمہ پر یہ فریضہ قیامت تک عائد رہے گا، حدیث میں ہے کہ میری امت قیامت تک جہاد کرتی رہے گی یہاں تک کہ خیر امت دجال سے جنگ کردے گی اور فتح کے روز آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اب فتح مکہ کے بعد مدینہ ہجرت کی ضرورت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ (ابن کثیر، وحیدی)
Read the full tafseer →(2:216) کتب علیکم۔ کتب علی۔ واجب قرار دینا۔ فرض کردینا۔ القتال ای الجھاد۔
کرۃ۔ ناگوار چیز۔ کریہہ۔ مشقت۔ مصدر بمعنی مفعول (مکروہ) ہے جیسے نقص بمعنی منقوص ہے۔
عسی۔ عنقریب ہے، شتاب ہے ، ممکن ہے، توقع ہت۔ اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے افعال مقاربہ میں سے ہے۔ محبوب چیز میں امبد کے لئے اور مکروہ بات میں خوف کے لئے ہے۔
تکرھوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ کرہ (باب سمع) مصدر۔ تم ناپشند کرتے ہو۔ تم ناپسند کرو۔ تم مکروہ سمجھو، تم کو ناگوار معلوم ہو، تم کو برا لگے۔ تم کو دشوار لگے۔
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 216
القتال (جہاد، جنگ) ۔ کرہ (ناگوار، ناپسندیدہ ) ۔ ان تکرھو (یہ کہ تم برا سمجھو) ۔ خیر (بہتر) ۔ ان تحبوا (یہ کہ تم پسند کرتے ہو) ۔ شر (برا) ۔ یعلم (وہ جانتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 216
انسانی فطرت اور مزاج کا یہ عجب پہلو ہے کہ جو چیزیں اسے انتہائی پسندیدہ اور مرغوب ہیں وہی اس کو پست کرنے والی ہیں اور جو چیزیں انسان کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچانے والی ہیں وہ عموماً اس کے نفس پر بڑی بھاری اور شاق ہیں۔ انسان اکثر ان چیزوں کو جو اس کی بھلائی اور بہتری کے لئے ہیں ان سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے لیکن چونکہ انبیاء ورسل کے ذریعہ اللہ نے انسانی بھلائی اور بہتری کا ذمہ لیا ہوا ہے اس…
Read the full tafseer →شان نزول : جہاد کے حکم کی تعمیل میں جان کے جانے کے خوف کو، زخمی ہوجانے کے اندیشہ کو، گھر اور اہل و عیال کے چھوٹنے کی تکلیف کو خیال کر کے لوگ جہاد کے حکم کی تعمیل سے گھبرا تے تھے۔ ایسے لوگوں کی ہمت بڑھانے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ تم لوگوں کو علم نہیں ہے اس لئے دنیا کی اکثر چیزوں کی ظاہری حالت دیکھ کر تم ان کو اچھا نہیں جانتے اللہ کے علم میں ان کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ پس تم کو لازم ہے کہ حکم الہٰی کی اطاعت کرو اور اسی کو بہتر چاہے وہ تمہارے نفس پر گراں ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–216
[143] مطلب یہ کہ سابقہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہمیشہ اللہ کے باغی اور سرکش بندوں سے سخت مقابلہ پیش آیا ہے اور انہوں نے جان کی بازی لگا کر اقامت دین کے لئے جدوجہد کی ہے تب کہیں وہ جنت کے مستحق ہوئے۔ اللہ کی جنت اتنی سستی نہیں ہے کہ تم نے ایمان کا اقرار کرلیا اور جنتی ہوگئے۔
Read the full tafseer →فرضیت جہاد :
(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ منجملہ تمام آزمائشوں کے سب سے بڑی آزمائش جہاد ہے ، مال و دولت کی قربانی آسان ہے ، گر سربکف ہو کر میدان جہاد میں نکل آنا مشکل ۔ ہوسکتا ہے کہ بعض طبیعتیں اسے زیادہ کڑی آزمائش تصور کریں ، لیکن اس کے فوائد کے مقابلہ میں یہ کوئی چیز نہیں ، قوموں کی زندگی ان کے جذبہ جہاد سے وابستہ ہے ، وہ جو جنگ سے جی چراتے ہیں ، ان کا قدرت سخت ترین امتحان لیتی ہے ، وہ جن کے ہاتھ اپنی حفاظت میں نہیں رہتے ‘ وہ کچل دیئے جاتے ہیں ، بزدیوں اور کمزوریوں کو جو اپنے سامنے حق کا خون ہوتا دیکھیں اس دنیا میں رہنے کا کوئی حق نہیں ۔
Read the full tafseer →ف 1 مسلمانو ! تم پر جہاد کرنا فرض کیا گیا ہے اور وہ جہادتم پر اپنی طبیعت کے اعتبار سے شاق اور گراں معلوم ہوتا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم پر گراں اور شاق ہو اور وہ حقیقت میں تمہارے لئے بہتر ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی کام کو پسند کرتے ہو اور کوئی امر تم کو مرغوب و محبوب ہو اور وہ حقیقتاً تمہارے لئے شر اور موجب خرابی اور ہلاکت ہو اور ہر شے کی بری بھلی حقیقت کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم صحیح طورپر نہیں جانتے کہ تمہارے حق میں کیا چیز اچھی اور نافع ہے اور کیا چیز بری اور ضرر رساں ہے۔
جہا د و قتال کے متعلق ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں کہ جہاد ایک آئینی لڑائی کو کہتے ہیں جو محض اپنے تحفظ اور…
Read the full tafseer →ف 4۔ جہاد فرض ہے جبکہ اس کے وہ شرائط پائے جاویں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ اور فرض دو طرح کا ہوتا ہے فرض عین، فرض کفایہ۔ سو اعداء دین جب مسلمانوں پر چڑھ آویں تب جہاد فرض عین ہے ورنہ فرض کفایہ۔
Read the full tafseer →جنگ تم پر فرض کی گئی ہے اس کی حقیقت سمجھ میں آئے گی تو نا گواری ختم ہوجائے گی :
367: جنگ ؟ آخر کیوں ؟ اس لئے کہ تم زندہ رہو گے اور تمہاری قوم کو دائمی زندگی نصیب ہوگی اور تمہاری انفرادی و اجتماعی حیات کا راز اسی میں پوشیدہ ہے ۔ جنگ کی حالت کوئی ایسی حالت نہیں ہے جو تمہارے لئے خوشگوار ہو لیکن یاد رکھنے کی بات تو یہ ہے کہ اس دنیا میں کتنی ہی خوشگواریاں ہیں جو ناگواریوں سے پیدا ہوتی ہیں اور کتنی ہی خوشگوار باتیں ہیں جن کا نتیجہ ناگوار ہوتا ہے۔
جنگ ” برائی “ ہے لیکن انسانی طاقت کا ظلم و فساد اس سے بھی بڑھ کر برائی ہے۔ پس جب ایسی حالت پیش آجائے کہ ظلم کا ازالہ اور کسی طرح ممکن نہ ہو تو جنگ کے سوا…
Read the full tafseer →Explanation in brief:
Verse 216 establishes the obligatory nature of Jihad even though it may be burdensome for some temperaments. In this case, the truth is that it is Allah Almighty who knows the reality of everything while man does not possess the full range of that knowledge. Therefore, one should not decide on things being good or bad as prompted by personal desires, rather, one must say yes to the command of Allah and follow it consistently as the most expedient course of action.
Verse 217 begins with a question which was asked by some disbelievers from the tribe of Quraysh. It has…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–216
231. In between this verse and the one above comes a whole story which has been left untold, a story which is alluded to in the present verse and which is mentioned in some detail in the Makkan surahs of the Our'an (these were revealed earlier than the present surah) . The point emphasized here is that whenever the Prophets came into the world they, and their followers, were confronted with severe resistance from those in rebellion against God. At grave risk to themselves they strove to establish the hegemony of the true religion over the false ways of life. To follow this religion has,…
Read the full tafseer →