Al-Baqara 2:215

Al-Baqara · from ayah 215

2:215

یَسْـَٔلُوْنَكَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ؕ۬— قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰكِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ؕ— وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ ۟يَسۡــئَلُوۡنَكَ مَاذَا يُنۡفِقُوۡنَ ؕ قُلۡ مَآ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They ask you, [O Muhammad], what they should spend. Say, "Whatever you spend of good is [to be] for parents and relatives and orphans and the needy and the traveler. And whatever you do of good - indeed, Allah is Knowing of it."

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 26 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:215

لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ سے پوچھتے ہیں کہ وه کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیئے جو مال تم خرچ کرو وه ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہداروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ (اللہ کی خوشنودی کے لیے) کیا خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہونا چاہیے، اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو بیشک اللہ اسے جانتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ سے پوچھتے ہیں کہ (اﷲ کی راہ میں) کیا خرچ کریں، فرما دیں: جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے)، مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتہ دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں، اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو بیشک اﷲ اسے خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا چیز خرچ کریں ؟ کہہ دے تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو سو وہ ماں باپ اور زیادہ قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لیے ہے اور تم نیکی میں سے جو کچھ بھی کرو گے تو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کیا کہ خرچ کریں ؟ آپ ان سے کہیے کہ جو بھی مال تم خرچ کرو وہ والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے اور جو بھی بھلائی کا کام تم کرو گے یقینا اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کتنا خرچ کریں ؟ کہہ دو جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو تو وہ والدین، قرابت مندوں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پوچھتے ہیں آپ سے اے پیغمبر کہ کیا خرچ کریں تو کہو کہ جو بھی مال تمہیں خرچ کرنا ہو تو وہ حق ہے تمہارے ماں باپ رشتہ داروں یتیموں مسکینوں اور مسافروں کا اور یاد رکھو اور مطمئن رہو کہ جو بھی کوئی بھلائی تم لوگ صدق و اخلاص سے کرو گے تو اس کا اجرو ثواب تم یقینا پاؤ گے کہ بیشک اللہ اس کو پوری طرح جانتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں۔ آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ تمہیں مال سے خرچ کرنا ہے۔ سو وہ حق ہے والدین کا اور عزیزوں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا۔۔ اور جو بھی نیکی کروگے اللہ کو اس کا پورا علم رہتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ کہہ دیجیے جو بھی تم خرچ کرو مال و اسباب میں سے تو والدین رشتے داروں یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے (خرچ کرو) اور جو خیر بھی تم کماؤ گے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں ؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

The people ask, "What should we spend?" Tell them, "Whatever you spend, spend for your parents, your relatives, orphans, the needy and the wayfarer; and whatever good you do, Allah has knowledge of it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They ask you as to what they should spend. Say: :Whatever good you spend should be for parents, kinsmen, orphans, the needy and the wayfarer; and whatever good you do, Allah is all-aware of it.

— Muhammad Taqi Usmani

They ask you as to what they should spend. Say: :Whatever good you spend should be for parents, kinsmen, orphans, the needy and the wayfarer; and whatever good you do, Allah is all-aware of it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They ask you (O Muhammad) what they should spend. Say: "Whatever you spend of good must be for parents and kindred and orphans and Al-Masakin (the poor) and the wayfarer, and whatever you do of good deeds, truly, Allah knows it well."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They ask thee, (O Muhammad), what they shall spend. Say: that which ye spend for good (must go) to parents and near kindred and orphans and the needy and the wayfarer. And whatsoever good ye do, lo! Allah is Aware of it.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They ask you, [O Muhammad], what they should spend. Say, "Whatever you spend of good is [to be] for parents and relatives and orphans and the needy and the traveler. And whatever you do of good - indeed, Allah is Knowing of it."

— Saheeh International

They ask you what to spend for the cause of God. (Muhammad) tell them that whatever you spend, give it to your parents, the orphans, the destitute, and those who may be in urgent need of money whilst on a journey. Whatever good you do, God certainly is Aware of it.

— Muhammad Sarwar

They ask you as to what they should spend. Say: Whatever wealth you spend, it is for the parents and the near of kin and the orphans and the needy and the wayfarer, and whatever good you do, Allah surely knows it.

— Muhammad Habib Shakir

They ask thee regarding whatsoever they shall expend. Say thou: whatsoever ye expend of wealth, let it be for the parents and kindred and orphans and the needy and the wayfarer and whatever good ye do, verily Allah is the Knower thereof.

— Abdul Majid Daryabadi

They ask thee what they should spend (In charity). Say: Whatever ye spend that is good, is for parents and kindred and orphans and those in want and for wayfarers. And whatever ye do that is good, -Allah knoweth it well.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:215

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

نفلی خیرات مقاتل فرماتے ہیں یہ آیت نفلی خیرات کے بارے میں ہے، سدی کہتے ہیں اسے آیت زکوٰۃ نے منسوخ کردیا۔ لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے، مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے نبی لوگ تم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کس طرح خرچ کریں تم انہیں کہہ دو کہ ان لوگوں سے سلوک کریں جن کا بیان ہوا۔ حدیث میں ہے کہ اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر اور قریبی اور قریبی لوگوں سے یہ حدیث بیان فرما کر حضرت میمون بن مہران نے اس آیت کی تلاوت کیا اور فرمایا یہ ہیں جن کے ساتھ مالی سلوک کیا جائے اور ان پر مال خرچ کیا جائے نہ کہ طبلوں باجوں تصویروں اور دیواروں پر کپڑا چسپاں کرنے میں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 214–216

سورة الْبَقَرَة 231 اوپر کی آیت اور اس آیت کے درمیان ایک پوری داستان کی داستان ہے، جسے ذکر کیے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے، کیونکہ یہ آیت خود اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور قرآن کی مکی سورتوں میں (جو سورة بقرہ سے پہلے نازل ہوئی تھیں) یہ داستان تفصیل کے ساتھ بیان بھی ہوچکی ہے۔ انبیا (علیہم السلام) جب کبھی دنیا میں آئے، انہیں اور ان پر ایمان لانے والے لوگوں کو خدا کے باغی و سرکش بندوں سے سخت مقابلہ پیش آیا اور انھوں نے اپنی جانیں جوکھوں میں ڈال کر باطل طریقوں کے مقابلہ میں دین حق کو قائم کرنے کی جدوجہد کی۔ اس دین کا راستہ کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہا کہ اٰ مَنَّا کہا اور چین سے لیٹ گئے۔ اس ”اٰ مَنَّا“…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بارہواں حکم صدقہ کے مصارف لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ (ثواب کے واسطے) کیا چیز خرچ کیا کریں (اور کس موقع پر صرف کیا کریں) آپ فرما دیجئے کہ جو مال تم کو صرف کرنا ہو سو (اس کی تعیین تو تمہاری ہمت پر ہے مگر ہاں موقع ہم بتلائے دیتے ہیں کہ) ماں باپ کا حق ہے اور قرابت داروں اور بےباپ کے بچوں کا اور محتاجوں کا اور مسافر کا اور جونسا نیک کام کرو گے (خواہ راہ خدا میں خرچ کرنا ہو یا اور کچھ ہو) سو اللہ تعالیٰ کو اس کی خوب خبر ہے (وہ اس پر ثواب دیں گے) معارف و مسائل اس سے پہلی آیتوں میں مجموعی حیثیت سے یہ مضمون بہت تاکید کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ کفر ونفاق کو چھوڑو اور اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس سورة میں شروع ہی سے انفاق اور زکوۃ کا حکم بار بار آ رہا ہے۔ خاص طور پر آیت 95 میں بیت اللہ کی کی آزادی کے جہاد کے سلسلے میں بڑی تاکید سے انفاق پر ابھارا ہے۔ وہاں ہم نے اشارہ کیا ہے کہ اگرچہ الفاظ کے لحاظ تو خطاب عام ہے لیکن روئے سخن درحقیقت ان مسلمانوں کی طرف ہے جو جان و مال کی قربانی میں کمزور تھے۔ قاعدہ ہے کہ آدمی کے دل میں اگر کسی چیز سے متعلق کمزوری ہو، وہ اس کے کرنے کی ہمت نہ کر رہا ہو تو وہ اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے بار بار سوال کرتا ہے اور اس طرح گویا وہ یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ جہاں تک اصل کام کا تعلق ہے اس کو کرنے کے لیے تو وہ جی جان سے حاضر ہے لیکن کرے کیا کہ ابھی تو اصل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

215۔ 1 بعض صحابہ کرام کے استفسار پر مال خرچ کرنے کے اولین مصارف بیان کئے جا رہے ہیں یعنی یہ سب سے زیادہ تمہارے مالی تعاون کے مستحق ہیں۔ اس لئے معلوم ہوا کہ نفاق کا یہ حکم صدقات نافلہ سے متعلق ہے زکوٰۃ سے متعلق نہیں کیونکہ ماں باپ پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنی جائز نہیں ہے حضرت میمون بن مہران نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا مال خرچ کرنے کی ان جگہوں میں نہ طبلہ سارنگی کا ذکر ہے اور نہ چوبی تصویروں اور دیواروں پر لٹکائے جانے والے آرائشی پردوں کا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں پر مال خرچ کرنا ناپسندیدہ اور اسراف ہے افسوس ہے کہ آج یہ مسرفانہ اور ناپسندیدہ اخراجات ہماری زندگی کا اس طرح لازمی حصہ بن گئے کہ اس…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 212–216

140: یہ فقرہ دراصل کفار کے اس باطل دعوی کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہمیں خوب رزق دے رہا ہے، اس لئے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہمارے عقائد اور اعمال سے ناراض نہیں ہے، جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں، دنیوی رزق کے لئے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے، یہاں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جیسا کہ واضح ہے ، سورت کے اس حصے میں احکام کے سوال و جواب کی فضا ہے ۔ جیسا کہ ہم آیت یسئلونک عن الاھلۃ کی تفسیر میں بیان کر آئے ہیں کہ یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کس قدر بیدار تھا ، جماعت کے افراد کے دلوں پر کس طرح چھایا ہوا تھا اور یہ کہ مسلمان اپنی روزمرہ کی زندگی کے ہر معاملے میں اپنے نظریے کا حکم معلوم کرنے کے لئے کس قدر بےتاب تھے تاکہ ان کا طرز عمل ان کے نظریہ حیات کے مطابق ہو اور یہ ایک صحیح مسلمان کی پختہ علامت ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اسلام کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کرے ۔ اور وہ اس وقت تک عملی قدم نہ اٹھائے جب تک یہ معلوم نہ کرلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 آیات سابقہ میں کلیۃً یہ مضمون بہت تاکید سے بیان ہوا کہ کفر و نفاق کو چھوڑو اور اسلام میں پوری طرح داخل ہو حکم الٰہی کے مقابل کسی کی مت سنو اللہ کی خوشی میں جان و مال خرچ کرو اور ہر طرح کی شدت اور تکلیف پر تحمل کرو اب یہاں سے اسی کلیہ کے متعلق جزئیات کی تفصیل بیان ہوتی ہے جو کہ مال اور جان اور دیگر معاملات مثل نکاح و طلاق وغیرہ کے متعلق ہیں تاکہ اس کلیہ کی تحقیق و تاکید خوب ذہن نشین ہوجائے۔ 1 بعض اصحاب جو مالدار تھے انہوں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا تھا کہ مال میں سے خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں اس پر یہ حکم ہوا کہ قلیل خواہ کثیر جو کچھ خدا کے لیے خرچ کرو وہ والدین اوراقارب اور یتیم محتاج اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 215 یَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط یعنی انفاق کے لیے جو کہا جا رہا ہے تو ہم کیا خرچ کریں ؟ کتنا خرچ کریں ؟ انسان بھلائی کے لیے جو بھی خرچ کرے تو اس میں سب سے پہلا حق کن کا ہے ؟ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ط سب سے پہلا حق والدین کا ہے ‘ اس کے بعد درجہ بدرجہ قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ تم جو بھی اچھا کام کرو گے تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم میں ہے۔ ضرورت نہیں ہے کہ دنیا اس سے واقف ہو ‘ تمہیں اگر اللہ سے اجر لینا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

274 یعنی اسکا پندار نفس یا انا اسے غرور وتکبر ہی کی راہ دکھلاتا ہے اور متکبرین کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پروردگار کے سامنے جنت اور دوزخ میں جھگڑا ہوا۔ جنت کہنے لگی، پروردگار ! میرا تو یہ حال ہے کہ مجھ میں تو وہی لوگ آ رہے ہیں جو دنیا میں ناتواں اور حقیر تھے اور دوزخ کہنے لگی کہ مجھ میں وہ لوگ آ رہے ہیں جو دنیا میں متکبر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے۔ (بخاری کتاب التوحید، باب ماجاء فی قول اللہ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین) اور ایک دفعہ آپ ﷺ نے فرمایا، کہ میں تمہیں بتلاؤں کہ بہشتی کون ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

785 ۔ (اور کن موقعوں پر) سال ال مومن ون رسول اللہ ﷺ این یضعون اموالھم (روح۔ عن ابن جریح) المطلوب بالسوال ان مصرفہ ای شئی ھو (کبیر۔ عن القفال) مرادھم من قولھم لیس ھو طلب الماھیۃ بل طلب المصرف (کبیر) سوال مسلمانوں کی طرف سے تھا، اور اس باب میں تھا کہ اپنی حسب ہمت وحیثیت اور خوشدلی سے کب خرچ کریں۔ باقی جو خرچ کہ فرض ہوچکا تھا، یعنی زکوٰۃ، اس کا حساب کھلا ہوا تھا سوال اس کی بابت نہ تھا، الاکثرون علی ان الایۃ فی التطوع (روح) عن الحسنھی فی التطوع (مدارک) قرآن جو مکمل دستور حیات ہے، اس میں معاشیات کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے، اپنی جگہ پر وہ پوری اہمیت اس کے اندر رکھتے ہیں۔ 786 ۔ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 215 تا 216 ترجمہ : اے محمد ﷺ آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ مَاذَا بمعنی اَلَّذِیْ ہے اور سائل عمرو بن جموح تھے، جو کہ مالدار بوڑھے تھے، تو انہوں نے آپ سے سوال کیا کہ کیا خرچ کریں ؟ آپ ان کو جواب دو کہ تم جو مال خرچ کرو (مِن خیر) مَا کا بیان ہے جو کہ قلیل و کثیر سب کو شامل ہے اور اس میں خرچ کی جانے والی چیز کا بیان ہے جو کہ سوال کی دو شقوں میں سے ایک ہے اور مصرف کا جواب دیا اپنے قول فللوالدین سے جو کہ سوال کی دوسری شق ہے (یعنی اپنے) والدین پر، رشتہ داروں پر، یتیموں پر، مسکینوں پر اور مسافروں پر (خرچ کرو) یہ لوگ انفاق کے زیادہ مستحق ہیں، انفاق وغیرہ جو بھی عمل خیر تم کرو گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ڛ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰىٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ( اے محمد ﷺ ! لوگ) ( آپ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں تم کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو تو (ا وّل) ماں باپ اور رشتہ داروں کو اور ( اس کے بعد) یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کو دو ) اللہ تعالیٰ نے : ما انفقتم من خیرعام فرما کر خرچ کرنے کی مدوں کو صراحتاً اور سائل کے جواب کو اشارۃً بیان فرما دیا ہے اس لیے کہ مصرف کا خیال رکھنا زیادہ اہتمام کے قابل ہے کیونکہ خرچ کرنے کا اعتبار مصرف ہی کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(215) یہ سوال میراث کی آیتوں کے اترانے سے پہلے کا ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ سے پوچھتے ہیں کہ صدقہ کسے دیں آپ فرما دیجعے کہ اپنا مال، والدین اور رشتہ داروں (مگر اس کے بعد میراث کی آیت سے والدین کو صدقہ دینا منسوخ ہوگیا) یتیموں، مسکینوں اور نووارد لوگوں پر خرچ کرو اور تم جو کچھ ان لوگوں پر خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو اور تمہاری نیتوں کو خوب جاننے والا ہے اور تمہیں اس کا بدلہ دینے والا ہے۔ شان نزول : یسئلونک ماذا ینفقون“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے ابن جریج ؓ سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم اپنا مال کہاں کرچ کریں، اس پر یہ آیت مبارکہ اتری اور ابن منذر ؒ نے ابوحبان ؒ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے حیات دنیا کے مزین کیے جانے کا ذکر فرمایا، بنی اسرائیل کے باہمی اختلاف کا باعث بھی حسد، ضد اور سرکشی بیان فرمایا، جو عموماً مال سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس پر صحابہ کرام ؓ کے سوال کا ذکر فرمایا کہ وہ (اس فتنے سے بچنے کے لیے) کیا خرچ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی دیا اور یہ بھی بتادیا کہ کہاں خرچ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے، حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ خرچ کرنے کی جگہیں بھی بتائی جائیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ صفراء (گرمی) کا کوئی مریض کسی مہربان طبیب سے پوچھے کہ میں شہد پی لوں تو وہ جواب میں کہے، پی لو، مگر سرکہ ملا کر، کیونکہ سرکہ اس کی گرمی کو کم کر دے گا۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” یسئلونک اس آیت کریمہ میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اس میں اگر ہمزہ کو مخفف کردیا جائے تو اس کی حرکت سین کو دے کر اسے مفتوح پڑھا جائے اور ہمزہ کو حذف کردیا جائے تو تو اسے پڑھے گا : (آیت) ” یسلؤنک “ یہ آیت حضرت عمرو بن جموح ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ آپ شیخ کبیر (بہت زیادہ بوڑھے) تھے۔ تو عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ بلاشبہ میرا مال کثیر اور بہت زیادہ ہے، تو میں اسے کیونکر صدقہ کروں اور کس پر خرچ کروں ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” یسئلونک ماذا ینفقون ‘ (1) (اسباب النزول للواحدی، صفحہ 60) مسئلہ نمبر : (2) ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” ماذا ینفقون “ میں مامبتدا ہونے کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

مال خرچ کرنے کے مصارف (1) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے سعدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یسئلونک ماذا ینفقون “ سے مراد ہے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی۔ اس دن زکوٰۃ (فرض) نہیں تھی۔ یہ وہ نفقہ تھا جو آدمی اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے۔ اور یہ صدقہ وہ ہے جو آدمی اس کو صدقہ کرتا ہے زکوٰۃ (کے حکم) نے اس کو منسوخ کردیا۔ (2) ابن جریر، ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ایمان والوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اپنے مالوں کو کہاں خرچ کریں ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” یسئلونک ماذا ینفقون، قل ما انفقتم من خیر “ (الآیہ) یہ نفقہ نفلی تھا۔ اور زکوٰۃ ان سب کے علاوہ ہے۔ (3) ابن المنذر نے ابن حبان (رح) سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ یَسْئَلُوْنَکَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے کہ ] [ مَاذَا : کتنا ] [ یُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ خرچ کریں ] [ قُلْ : ( آپ ﷺ ) کہہ دیجیے کہ ] [ مَآ : جو ] [ اَنْفَقْتُمْ : تم لوگ خرچ کرو گے ] [ مِّنْ خَیْرٍ : جتنا بھی مال ] [ فَلِلْوَالِدَیْنِ : تو وہ ہے والدین کے لیے ] [ وَالْاَقْرَبِیْنَ : اور قرابت داروں کے لیے ] [ وَالْیَتٰمٰی : اور یتیموں کے لیے ] [ وَالْمَسٰکِیْنِ : اور مسکینوں کے لیے ] [ وَابْنِ السَّبِیْلِ : اور مسافروں کے لیے ] [ وَمَا : اور جو ] [ تَفْعَلُوْا : تم لوگ کرو گے ] [ مِنْ خَیْرٍ : کسی قسم کی کوئی بھلائی ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ بِہٖ : اس کو ] [ عَلِیْمٌ: ہر حال…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کن مواقع میں مال خرچ کیا جائے اسباب النزول ص 60 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت عمرو بن جموح انصاری ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، وہ بوڑھے آدمی تھے اور بہت مال والے تھے، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم کیا صدقہ کریں اور کس پر خرچ کریں ؟ اس پر آیت نازل ہوئی، تفسیر درمنثور ص 243 ج 1 میں ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ اس آیت میں نفلی صدقات کا ذکر ہے اور زکوٰۃ اس کے علاوہ ہے۔ سبب نزول کے بارے میں جو روایت نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ دو باتوں کا سوال کیا گیا تھا، اول یہ کہ کیا خرچ کریں، دوم یہ کہ کس پر خرچ کریں، اللہ جل شانہ نے اولاً دوسرے سوال کا جواب دیا کہ والدین پر اور دیگر رشتہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم سیزدھم متعلق بمصارف انفاق۔ قال تعالی، یسئلونک ماذا ینفقون۔۔ الی۔۔۔ علیم۔ شروع سے احکام عملیہ کا بیان چلا آرہا ہے درمیان میں ضمنا ایمان اور اخلاص کی ترغیب اور دنیا کی محبت کی مذمت کا ذکر آیا اب آگے پھر احکام عملیہ کی طرف رجوع فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو اگر تم اپنی جانوں کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ فروخت کرنا چاہتے ہو تو خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جان ومال سے کسی قسم کا دریغ نہ کرو اور اس کی راہ میں جو تکلیف پیش آئے اس کا تحمل کرو اب اس کلمہ طیبہ کے تحت کچھ مصارف انفاق اور جہاد اور نکاح اور طلاق اور خلع اور ایلاء کے احکام بیان فرماتے ہیں جو باہمی معاشرت سے متعلق ہیں چناچہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

413 مضمون انفاق کا دوسری بار بیان۔ آیت سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ سوال منفَق کے متعلق ہے یعنی کیا اور کس قدر خرچ کریں اور جواب میں خرچ کے مصارف بیان کیے گئے ہیں۔ اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ اس بات کو چھوڑو کہ کیا اور کتنا خرچ کرنا چاہیے۔ اصل چیز تو مصرف ہے۔ اس لیے تم جو کچھ بھی خرچ کرو خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ وہ صحیح مصرف میں خرچ ہو۔ ظاھر الایۃ انہ سئل عن المنفق فاجاب ببیان المصرف صریحا لانہ اھم فان اعتداد النفقۃ باعتبارہ (روح ص 105 ج 2) حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ سوال یہ تھا کہ کتنا خرچ کریں تو جواب ملا کہ جتنا چاہے خرچ کرو مجھے تو کچھ نہیں دینا بلکہ اپنے والدین وغیرہ ہی کو دینا ہے۔414414 ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 214–215

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ابتداء میں سب لوگ ایک ہی مذہب و ملت پر تھے۔ پھر جب انہوں نے دین حق سے اختلاف کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے سچا دین واضح کرنے کے لئے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث فرمایا اور یہ اختلاف کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں تھا۔ بلکہ واضح دلائل آنے کے بعد محض حسد ، خود غرضی اور مفاد پرستی کی وجہ سے تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی راہ حق کی طرف راہنمائی فرما دی اور ان پر حق واضح کردیا۔ کیونکہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے جسے چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ کافر لوگ دنیا کی محبت اور غرور کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ۝ 0ۥۭ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝ 0 ۭ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِيْمٌ۝ 215 ( ماذا) يستعمل علی وجهين : أحدهما . أن يكون ( ما) مع ( ذا) بمنزلة اسم واحد، والآخر : أن يكون ( ذا) بمنزلة ( الذي) ، فالأوّل نحو قولهم : عمّا ذا تسأل ؟ فلم تحذف الألف منه لمّا لم يكن ما بنفسه للاستفهام، بل کان مع ذا اسما واحدا، وعلی هذا قول الشاعر : دعي ماذا علمت سأتّقيه أي : دعي شيئا علمته . وقوله تعالی: وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] ، فإنّ من قرأ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 214–216

ترکیب : ام بمنزلہ اہل اور ہمزہ استفہام یعنی منفطعہ حسبتم فعل بافاعل ان تدخلوا الجنۃ سارا جملہ قائم مقام دو مفعولون کے ولما الخ جملہ مستفائفہ ہے۔ شرح احوال کے لیے اور ممکن ہے کہ قد مضمرمان کر حال قرار دیا جاوے الرسول فاعل یقول والذین آمنوا اس پر معطوف معہ متعلق ہے یقول کے اور ممکن ہے کہ آمنوا کے ہو متی نصر اللّٰہ جملہ مقولہ۔ تفسیر : پہلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ دنیا اور اس کی زینت کفار کو دی گئی اور وہ مسلمانوں سے ہنسی اور تمسخر کرتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کو صبر اور توکل اور ثابت قدمی کی ترغیب دیتا ہے تاکہ اسلام میں جس قدر مصیبتیں اور تکالیف اور تنگدستی اور ناامیدی اور دنیا کی ناکامی اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط قُلْ مَآاَنْفَقْـتُمْ مِّنْ خَیْرٍفَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَالْـیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ط وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ (وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کتنا خرچ کریں ؟ کہہ دو جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو وہ والدین ‘ قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو اللہ اسے جاننے والے ہیں) (215) انفاق کے سلسلہ میں سوال کا جواب آیاتِ بالا میں جو کچھ آپ نے پڑھاوہ حج کے مضمون سے بطور التفات کے پیدا ہوگیا تھا۔ پھر اس کی مناسبت سے منافقین کی طرف روئے سخن پھر گیا۔ پھر منافقین پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اس سوال کا جواب یہاں اس لیے دیا گیا ہے کہ لوگو ! مشکلات اور مصائب میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ کیونکہ صدقہ رد بلا ہوتا ہے۔ اللہ کی رضا کے طالب عسر و یسر میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ مومنوں کی صفت ہے۔ یہاں پے در پے چھ سوالات کے جواب دیئے جارہے ہیں۔ جب کہ دو سوالوں کے جواب دعا اور چاند کے متعلق دیئے جاچکے ہیں۔ قرآن مجیدنے زیادہ سوالات کرنے کی حوصلہ شکنی کی ہے لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ ضرورت کے تحت بھی سوال نہ کیا جائے۔ بعض سوال اس قدر ناگزیرہوتے ہیں جن کے بغیر سامعین حقیقت حال کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔ لہٰذا جائز سوال کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

215۔ یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنَِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ۔ آپ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں تم کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو۔ تو ماں ٗ باپ اور رشتہ داروں کو یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کو دو اور تم جو کچھ نیکی کرو پس بیشک اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے۔ مسئلہ : جب حضرت عمرو بن جموح ؓ نے سوال کیا کہ ہم کس قسم کے اموال اور کہاں کہاں خرچ کریں تو یہ آیت اتری۔ (ابن حبان) صراحت مصارف میں حکمت : یَسْئَلُوْنَکَ اللہ تعالیٰ نے مَآ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 215۔: (آیت)” یسئلونک ماذا ینفقون “ یہ آیت کریمہ حضرت عمر بن جموع ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ بہت بوڑھے مالدار تھے ، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم کیا کچھ صدقہ کریں اور کس پر خرچ کریں ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” یسئلونک ماذا ینفقون “ اللہ تعالیٰ کے قول ” ماذا “ میں اعراب کے لحاظ سے وہ وجہیں ہیں ۔ (1) ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس کے اعراب کا محل زبر ہے بوجہ قول خداوندی ” ینفقون “ کے تقدیر عبارت ہوگی ۔ ” ای شیء ینفقون “ ماذا بمعنی ” ای شی “ کے ” ینفقون “ کا مفعول ہوگا اور اعراب کی دوسری وجہ ہے کہ بوجہ ماء کے رفع ہوگی ، اس کا معنی ہوگا ” ماالذی ینفقون “ ؟ کہ کیا کچھ خرچ کریں ۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

ابن جریر 1۔ نے اپنی تفسیر میں ابن جریج سے روایت کی ہے کہ بعض صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے نفل صدقہ کے خرچ کا محل اور موقع دریافت کیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس صورت میں جب کہ نزول اس آیت کا خود نفلی صدقہ کے حکم میں ہے تو زکوٰۃ کی آیت سے اس آیت کو منسوخ ٹھہرانے کی ضرورت نہیں زکوٰۃ کا حکم اور زکوٰۃ کے خرچ کا محل موقع جدا ہے اور اس آیت میں نفلی صدقہ کا حکم اور اس کے خرچ کے محل کا موقع بیان ہوا ہے جو زکوٰۃ سے بالکل جدا ہے خرچ کے محل و موقعوں میں سے ایک موقع جہاد کا بھی ہے کس لئے کہ جہاد میں ہتھیار سواری وغیرہ ضروریات کے لئے خرچ درکار ہوتا ہے اس لئے اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

لوگ آپ سے خرچ کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ یہ سوال خرچ کرنے والے اور جس پر خرچ کیا جائے، ان کے بارے میں عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ان کو جواب عطا فرمایا : (آیت) قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ ” کہہ دیجیے، جو مال تم خرچ کرنا چاہو۔ “ یعنی تھوڑا یا زیادہ جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو، اس مال کے سب سے زیادہ اور سب سے پہلے مستحق والدین ہیں جن کے ساتھ نیکی کرنا فرض اور ان کی نافرمانی حرام ہے اور والدین کے ساتھ سب سے بڑی نیکی ان پر خرچ کرنا اور ان کی سب سے بڑی نافرمانی ان پر خرچ کرنے سے گریز کرنا ہے۔ اس لئے صاحب کشائش بیٹے کے والدین پر خرچ کرنا فرض ہے۔ والدین کے بعد رشتہ داروں پر ان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 214–215

خرچ کی ابتداء کس سے کی جائے قول باری ہے (لیسئلونک ماذا ینفقون قل ما انفقتم من خیر خلق الدین و الاقربین والیتامی والمساکین و ابن السبیل، وما تفعلوا من خیر فان اللہ بہ علیم۔ لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں۔ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہوگا۔ ) ۔ سوال کے ذریعے خرچ کی مقدار پوچھی گئی ہے اور جواب میں کہا گیا ہے کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے خواہ اس کی مقدار تھوڑی ہو یا بہت۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کردیا گیا ہے کہ کن لوگوں پر خرچ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل ماانفقتم من خیر یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

595 جواب علی اسلوب الحکیم کا ایک نمونہ : سو ایسے جواب کو " جو اب علٰی اُسْلُوْب الْحکیم " کہا جاتا ہے۔ یعنی حکیمانہ انداز سے جواب دینا، یعنی جواب میں وہ پہلو اختیار کرنا جو کہ سائل کیلئے زیادہ مفید اور بہتر ہو۔ یہاں پر سوال یہ تھا کہ کیا خرچ کریں ؟ تو جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان اور ان لوگوں پر خرچ کرو۔ یعنی خرچ جو بھی کچھ کرنا ہو کرو، وہ تمہاری اپنی مرضی و اختیار، اور حالات پر منحصر ہے، کیونکہ نفلی صدقات میں صدقہ کرنے والے کا اپنا ارادہ اور اس کی صوابدید ہی اصل بنیاد ہوتی ہے، مگر تم خرچ جو بھی کچھ کرو، وہ ان اور ان مصارف میں کرو، تاکہ وہ اپنے صحیح محل اور مصرف میں لگے، اور تمہارے لئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

مال کہاں خرچ کریں ؟ تشریح : خرچ کرنے کے بارے میں پہلے بھی ہدایات آچکی ہیں۔ اس آیت میں صحابہ کرام کا آنحضرت ﷺ سے سوال کرنے کا ذکر ہے کہ مال کس جگہ خرچ کریں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی پاکیزہ اور نیک دولت کو سلیقہ سے خرچ کرو درجہ بندی اس طرح کی گئی ہے۔ سب سے پہلے والدین پھر رشتہ دار پھر یتیم، پھر مسکین اور مسافر۔ یہ سب لوگ تمہاری کمائی کے مستحق ہیں اس کے علاوہ اپنے مال کو جس قدر بھلائی کے کاموں میں تم خرچ کرو گے تو اس کا بدلہ پاؤ گے کیونکہ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 211–216

آیات 211- 216 اسرارو معارف سل بنی اسرائیل………………وانتم لا تعلمون۔ آپ ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھئے ان کی تاریخ دیکھئے کہ اللہ نے انہیں کس قدر واضح دلائل عطا فرمائے اور اللہ کے نبی ان کے پاس کتنی دلیلیں لائے جن سے ان کی اصلاح مقصود تھی مگر جب انہوں نے سرکشی کی اور ان دلائل کو پس پشت ڈالا تو ان پر کیسے کیسے عذاب نازل ہوئے اور یہ تو قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نعمت کو ٹھکراتا ہے یعنی ایسے دائل جو اسے راہ ہدایت سمجھانے کے لئے اللہ کی طرف سے اس کے پاس پہنچے ان کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کا یقینی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رحمت باری سے محروم ہو کر اللہ کے غضب کا نشانہ بنتا ہے اور خدا کے عذاب بہت سخت ہیں جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ایک شخص عمر و بن جمبوح بہت مالدار تھا اس نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ ہم کیا خرچ کریں اور کن لوگوں پر خرز کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا کہ خرچ تو ہر آدمی اپنی طاقت کے مطابق کرے مگر ترتیب کے ساتھ خرچ کے مصارف بتا دیئے۔ میمون مہران اس آیت کو پڑھ کر کہنے لگے یہ ہیں مسلمان کے خرچ کرنے کی جگہیں۔ ان میں طلبہ۔ سارنگی۔ ، چوبی تصویروں اور گھر کی آرائش کا ذکر نہیں ہے ، (ابن کثیر، رازی) معلوم ہوا کہ اس قسم کے تمام فضول مصارف باطل اور اسراف میں داخل ہیں۔ آخر میں بتایا کہ جو خرچ نیک راہ میں ہوگا اللہ تعالیٰ اس کی قدر دانی ضرور فرمائے گا اور اس کا پورا بدلہ دے گا۔ مسئلہ آیت میں صدقہ تطوع کا بیان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:215) ماذا۔ کیا چیز ہے، کیا ہے، ما حرف استفہام ہے اور ذا فصل کے لئے آیا ہے تاکہ ما نافیہ اور ما استفہامیہ میں تمیز ہوسکے۔ یا ما استفہامیہ ہے اور ذا موصولہ ہے۔ یا ما استفہامیہ ہے اور ذا زائد ہے۔ ینفقون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ خرچ کرتے ہیں۔ وہ خرچ کریں۔ انفاق (افعال) مصدر ما انفقتم۔ میں ما موصولہ ہے بمعنی الذی۔ من خیر۔ ای من مال۔ خیر کے معنی بہتر، بھلائی۔ نیکی، نیک کام۔ پسندیدہ چیز ۔ شر کی ضد ہے۔ خیر بمعنی مال قرآن مجید میں اور جگہ بھی آیا ہے جیسے ان ترک خیران الوصیۃ (2:18) (جب تم میں سے کسی پر موت کا وقت آجائے اور) اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانیوالا ہو تو تم پر دستور کے مطابق والدین اور اقرباء کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن : آیت نمبر 215 ماذا (کیا) ۔ ینفقون (وہ خرچ کریں گے) ۔ ما تفعلوا (جو کچھ تم کرتے ہو) ۔ من خیر (بھلائی (کے جذبے) سے) ۔ تشریح : آیت نمبر 215 اس آیت میں یہ ارشاد کیا گیا ہے کہ انسان جو بھی نیکی یا بھلائی کا کام کرتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں جاتا، نہ وہ اللہ کے علم سے باہر ہے نہ وہ کسی چیز کو فراموش کرتا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ عظیم اجر ہے جو دس درجوں سے لے کر سات سو درجوں تک ہوتا ہے۔ مکہ مکرمہ کے مشرکین نے بےبس مسلمانوں پر جو ظلم ڈھا رکھے تھے ان کا سلسلہ مدینہ منورہ جا کر بھی ختم نہیں ہوا لہٰذا جہاد فرض ہونے کے بعد ان کی پوری توجہ مکہ کو مشرکین کے قبضہ سے آزاد کرانا تھا اس لئے مسلمانوں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حکم جہاد اور مصارف مال شان نزول : بعضے صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ سے نفل صدقہ کے خرچ کا اور موقع دریافت کیا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تھوڑا یا بہت جو کچھ خدا کے لئے خرچ کرو وہ والدین اور اقارب اور یتیم اور محتاج اور مسافر کے لئے ہو۔ یہ نفلی صدقہ کا حکم اور اس کے خرچ کا محل موقع بیان ہوا ہے جو زکوٰۃ سے بلکل جدا ہے۔ خرچ کے محل وموقع میں سے ایک موقع جہاد کا بھی ہے اس لئے کہ جہاد میں ہتھیار سواری وغیرہ ضروریات کے لئے خرچ درکار ہوتا ہے اسی لئے اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا بھی ذکر فرمادیا۔ مسئلہ : جہاد فرض ہے جب اس کی شرائط پائی جائیں، اگر کافر مسلمانوں کے ملک پر چڑھائی کریں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 214–216

[143] مطلب یہ کہ سابقہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہمیشہ اللہ کے باغی اور سرکش بندوں سے سخت مقابلہ پیش آیا ہے اور انہوں نے جان کی بازی لگا کر اقامت دین کے لئے جدوجہد کی ہے تب کہیں وہ جنت کے مستحق ہوئے۔ اللہ کی جنت اتنی سستی نہیں ہے کہ تم نے ایمان کا اقرار کرلیا اور جنتی ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یہ ضروری نہیں کہ (آیت) ” یسئلونک “ سے پہلے کوئی سوال بھی ہو ۔ بات یہ ہے کہ قرآن حکیم ضروریات انسانی کے موافق نازل ہوا ۔ اس لئے وہ چیزیں جن کی ہم کو ضرورت ہوتی ہے ‘ وہ اسے (آیت) ” یسئلونک “ کے رنگ میں ذکر کردیتا ہے ، یہ انداز بیان ہے اس لئے اچھے ہر موقع پر شان نزول کی تلاش چنداں مفید نہیں ۔ یہ بھی قرآن حکیم کا مخصوص طرز بیان ہے کہ وہ سوالات جو پیدا ہوتے ہیں ان کا رخ زیادہ اہم اور زیادہ سائستہ اعتناباتوں کی طرف پھیر دیتا ہے ۔ ان آیات میں سوال بظاہر یہ ہے کہ کیا خرچ کریں ، جواب یہ ہے کہ ان ان مقامات پر خرچ کرو ، مقصد یہ ہے کہ بتایا جائے کہ کچھ بھی خرچ کرو ، بہرحال اس کا مصرف صحیح ہونا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کیا چیز خرچ کریں اور کیا چیز خیرات کیا کریں آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے مال میں سے جو کچھ بھی خیرات کرو تمہاری مرضی اور تمہاری استطاعت پر موقوف ہے لیکن یہ سن لو کہ وہ ماں باپ کے لئے حق ہے اور قرابت داروں کا حق ہے اور یتامی اور مساکین کا حق ہے اور مسافر کا حق ہے اور تم جو نیک کام بھی کرو خواہ خیرات ہو یا خیرات کے علاوہ کوئی اور نیک کام ہو بہرحال اللہ تعالیٰ اس سے واقف اور با خبر ہے (تیسیر) شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صدقہ اور خیرات کے فضائل بیان فرمائے تھے اس پر ایک صاحب جن کا نام عمرو بن الجموح ہے انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ہم اپنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ ماں باپ کو زکوة اور دوسرے صدقات واجبہ دنیا درست نہیں اس آیت میں نفلی خیرات کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ روپیہ کا مصرف کیا ہے ؟ 366: خیرات کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس غلطی کا ازالہ بھی کیا جا رہا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ خیرات صرف غیروں ہی کو دی جاسکتی ہے۔ اپنوں اور عزیزوں کی مدد کرنا خیرات نہیں ہے۔ یہ خیرات کے مصارف بتاتے ہوئے واضح کردیا گیا کہ اس کا اولین مصرف تمہارے عزیز و اقارب ہیں بشرطیکہ وہ محتاج ہوں۔ زیر نظر آیت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا استفتاء یعنی سوال ان الفاظ میں نقل فرمایا گیا ہے یَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ ؟ لوگ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ اور پھر یہی سوال دو آیات چھوڑ کر پھر دہرایا گیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Imperatives such as - 'leave disbelief and hypocrisy and enter Islam completely', 'listen to none when it comes to obeying the command of Allah', 'spend your wealth and give your life to seek the pleasure of Allah' and 'show fortitude against all sorts of hardships and sufferings' - have been emphatically mentioned in previous verses. Now, from this point onwards, there appear some details concerning this obedience which relate to one's wealth, life and other matters of marriage and divorce. All these form part of the general theme of righteousness which continues. This statement…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 214–216

231. In between this verse and the one above comes a whole story which has been left untold, a story which is alluded to in the present verse and which is mentioned in some detail in the Makkan surahs of the Our'an (these were revealed earlier than the present surah) . The point emphasized here is that whenever the Prophets came into the world they, and their followers, were confronted with severe resistance from those in rebellion against God. At grave risk to themselves they strove to establish the hegemony of the true religion over the false ways of life. To follow this religion has,…

Read the full tafseer →