ہم سب کو آزمائش سے گزرنا ہے
مطلب یہ ہے کہ آزمائش اور امتحان سے پہلے جنت کی آرزوئیں ٹھیک نہیں اگلی امتوں کا بھی امتحان لیا گیا، انہیں بھی بیماریاں مصیبتیں پہنچیں، بأساء کے معنی فقیری وضراء کے معنی سخت بیماری بھی کیا گیا ہے۔ (زلزلوا) ان پر دشمنوں کا خوف اس قدر طاری ہوا کہ کانپنے لگے ان تمام سخت امتحانوں میں وہ کامیاب ہوئے اور جنت کے وارث بنے، صحیح حدیث میں ہے ایک مرتبہ حضرت خباب بن ارت ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہماری امداد کی دعا نہیں کرتے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا بس ابھی سے گھبرا اٹھے سنو تم سے اگلے موحدوں کو پکڑ کر ان کے سروں پر آرے رکھ دئیے جاتے تھے اور چیر کر ٹھیک دو ٹکڑے کر دئیے جاتے تھے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–216
سورة الْبَقَرَة 231
اوپر کی آیت اور اس آیت کے درمیان ایک پوری داستان کی داستان ہے، جسے ذکر کیے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے، کیونکہ یہ آیت خود اس کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور قرآن کی مکی سورتوں میں (جو سورة بقرہ سے پہلے نازل ہوئی تھیں) یہ داستان تفصیل کے ساتھ بیان بھی ہوچکی ہے۔ انبیا (علیہم السلام) جب کبھی دنیا میں آئے، انہیں اور ان پر ایمان لانے والے لوگوں کو خدا کے باغی و سرکش بندوں سے سخت مقابلہ پیش آیا اور انھوں نے اپنی جانیں جوکھوں میں ڈال کر باطل طریقوں کے مقابلہ میں دین حق کو قائم کرنے کی جدوجہد کی۔ اس دین کا راستہ کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہا کہ اٰ مَنَّا کہا اور چین سے لیٹ گئے۔ اس ”اٰ مَنَّا“…
Read the full tafseer →ربط آیات
اوپر کی آیت میں کفار کا ہمیشہ سے انبیاء ومؤ منین کے ساتھ اختلاف اور خلاف کرتے رہنا مذکور تھا جس میں ایک گونہ مسلمانوں کو اس طور پر تسلی دینا بھی مقصود تھا جن کو استہزاء کفار سے ایذاء ہوتی تھی کہ یہ خلاف تمہارے ساتھ نیا نہیں ہے ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے آگے ان کفار مخالفین سے انبیاء ومؤ منین کو انواع انواع کی ایذائیں اور شدائد پہنچنے کی حکایت بیان فرماتے ہیں اور اس سے بھی مسلمانوں کو تسلی دلاتے ہیں کہ تم کو بھی کفار سے جو ایذائیں پہنچتی ہیں ان پر صبر کرنا چاہئے کیونکہ کامل راحت تو آخرت کی محنت ہی اٹھانے سے ہے۔
خلاصہ تفسیر
(دوسری بات سنو) کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ جنت میں (بےمشقت) جا داخل…
Read the full tafseer →حاملین حق کے لیے امتحان کی کسوٹی : یہ اس سنت اللہ کی طرف اشارہ ہے جس کی کسوٹی پر ہر وہ جماعت پرکھی جاتی ہے جو اصل حق کی حامل بن کر اٹھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ منافقین اور کفار کی اس مخالفت اور اس استہزاء سے سے گھبرا نہ جاؤ، ابھی تو اس راہ عشق کی یہ ابتدا ہے، آگے اس سے کہیں کٹھن مقامات آتے ہیں، تمہیں بھی ان سارے مراحل سے گزرنا ہے جن سے تم سے پہلے اٹھنے والے حاملینِ حق کو گرزنا پڑا ہے، تم سے پہلے جنہوں نے اس راہ میں قدم رکھے ان کو ایسے مصائب و شدائد پیش آئے اور وہ آزمائشوں کے ہاتھوں اس طرح جھنجھوڑ دئیے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھی سب متی نصر اللہ پکار اٹھے۔ حَتّٰى يَقُوْلَ ہمارے نزدیک حال کے معنی…
Read the full tafseer →214۔ 1 ہجرت مدینہ کے بعد جب مسلمانوں کو یہودیوں، منافقوں اور مشرکین عرب سے مختلف قسم کی ایذائیں اور تکلیفیں پہنچیں تو بعض مسلمانوں نے نبی ﷺ سے شکایت کی جس پر مسلمانوں کی تسلی کے لئے یہ آیت بھی نازل ہوئی اور خود نبی ﷺ نے بھی فرمایا تم سے پہلے لوگوں کو ان کے سر سے لے کر پیروں تک آرے سے چیرا گیا اور لوہے کی کنگھی سے ان کے گوشت پوست کو نوچا گیا لیکن یہ ظلم اور تشدد ان کو ان کے دین سے نہیں پھیر سکا پھر فرمایا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ اس معاملے کو مکمل (یعنی) اسلام کو غا لب فرمائے گا۔
214۔ 2 اس لیے (ہر آنے والی چیز قریب ہے) اور اہل ایمان کے لئے اللہ کی مدد یقینی ہے اس لئے وہ قریب ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–216
140: یہ فقرہ دراصل کفار کے اس باطل دعوی کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہمیں خوب رزق دے رہا ہے، اس لئے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہمارے عقائد اور اعمال سے ناراض نہیں ہے، جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں، دنیوی رزق کے لئے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے، یہاں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
Read the full tafseer →یہ تھا اللہ تعالیٰ کا خطاب ، پہلی اسلامی جماعت سے ۔ فرماتے ہیں کہ میری ایک سنت ہے کہ میں اپنے بندوں میں سے جس کے ہاتھ میں اپنا علم پکڑاتا ہوں ۔ جنہیں میں اس دنیا میں اپنا امین بنالیتا ہوں ، جن کے ذریعے میں اسلامی نظام قائم کرتا ہوں ، اور شریعت نافذ کرتا ہوں انہیں پہلے مصائب کی بھٹی میں ڈال کر ان کی تربیت کرتا ہوں ، یہ میری تاریخی سنت ہے۔
ذرا انسانی تاریخ میں اسلامی تحریکات کا مطالعہ تو کرو ۔ یہ خطاب صرف مدینہ طیبہ کی پہلی تحریک اسلامی کے لئے مخصوص نہ تھا ، بلکہ یہ خطاب ہر اس تحریک کے لئے ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کائنات میں یہ عظیم رول ادا کرنے کے لئے منتخب کرلیتا ہے جو اسلامی نظام کے داعی ہوں ،…
Read the full tafseer →3 پہلے مذکور ہوا کہ دشمنوں کے ہاتھ سے انبیاء اور ان کی امتوں کو ہمیشہ ایذائیں ہوئیں تو اب اہل اسلام کو ارشاد ہے کہ کیا تم کو اس بات کی طمع ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ حالانکہ اگلی امتوں کو جو ایذائیں پیش آئیں وہ تم کو پیش نہیں آئیں کہ ان کو فقر و فاقہ اور مرض اور خوف کفار اس درجہ کو پیش آئے کہ مجبور اور عاجز ہو کر نبی اور ان کی امت بول اٹھی کہ دیکھئے اللہ نے جس مدد اور اعانت کا وعدہ فرمایا تھا وہ کب آئے گی ' یعنی بتقضائے بشریت پریشانی کی حالت میں مایوسانہ کلمات سرزد ہونے لگے۔ انبیاء اور مومنین کا یہ کہنا کچھ شک کی وجہ سے نہ تھا حضرت مولانا اسی کی بابت مثنوی میں فرماتے ہیں درگماں افتاد جان انبیاء…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ ط مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا
حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ ط اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ
یعنی اللہ تو اہل ایمان کو آزماتا ہے ‘ اسے کھوٹے اور کھرے کو الگ کرنا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے انیسویں رکوع کے بالکل آغاز میں آچکی ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط آیت 155 اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے…
Read the full tafseer →283 مکی دور میں حکومت اور امن کی بشارت :۔ پھر جب کوئی نیا نبی مبعوث ہوتا ہے تو اسے کئی فرقوں میں بٹی ہوئی امت کو پھر سے ایک طریقہ پر لانے اور ایک امت بنانے پر بہت محنت صرف کرنا پڑتی ہے اور بہت سے مصائب اور دشواریاں پیش آتی ہیں۔ انبیاء کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو ابتدء انبیاء کا ساتھ دیتے ہیں۔ کیونکہ باطل قوتیں جو مالی اور افرادی قوت کے لحاظ سے اس نئے نبی اور اس کے چند پیروؤں سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں ان کے مقابلہ پر اتر آتی ہیں اور کچل دینے سے بھی دریغ نہیں کرتیں اور یہ مصائب اتنے شدید ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ انبیاء اور ان کے متبعین بہ تقاضائے بشریت پکار اٹھتے ہیں کہ اللہ کی مدد کب آئے…
Read the full tafseer →779 ۔ (بلامشقت اور بغیر امتحان، اے گروہ مومنین ! ) خطاب براہ راست عہد رسالت کے مومینن سے ہے۔ ایھا ال مومن ون باللہ ورسلہ (ابن جریر)
780 ۔ یعنی ان مومنین سابقین، ان انبیاء قدیم کی امتوں کی سی آزمائش اور مصیبتیں۔ مثل کے معنی غیر معمولی حالات وتجربات کے ہوتے ہیں۔ المثل الشبہ الا انہ مستعار لحال غیریبۃ اوقضیۃ عجیبۃ لھا شان (بحر) یہاں مراد ان پچھلی امتوں کے تحمل شدائد سے ہے۔ ما ینال من اذی الکفار والفقر والمجاھدۃ فی سبیل اللہ (بحر) حالھم التیھی مثل فی الشدۃ (کشاف) آیت سے یہ مراد نہیں کہ کوئی مومن محض ایمان کی برکت اور فضل خدا سے جنت میں داخل ہی نہ ہوسکے گا، جب تک کہ مجاہدات شدیدہ کی منزل سے نہ…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ (الآیۃ) کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوں ہی جنت میں داخل ہوجائے گا حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گذرا جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے ؟
شان نزول : عبد الرزاق وابن جریر و ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت غزوہ احزاب (غزوہ ضندق) کے وقت نازل ہوئی، اس کا مقصد آپ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تسلی دینا ہے۔
غزوہ احزاب : غزوہ احزاب جس کو غزوہ خندق بھی کہتے ہیں صحیح قول کے مطابق 5 ھ میں پیش آیا ابو سفیان جو کہ ابھی حلقہ بگوش اسلام نہیں ہوئے تھے دس ہزار کی ایک بڑی جمعیت لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے، اس غزوہ میں مسلمانوں کو بہت دقت…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبْتُمْ ( کیا تم نے یہ سمجھا ہے) ام مقطعہ ہے اس لیے کہ ام متصلہ کو ہمزہ لازم ہوتا ہے اور یہ ام بمعنی بل اور ہمزہ کے ہے لفظ بلْ کلام سابق سے اعراض کے لیے آتا ہے یہاں یہود و نصاریٰ کے اختلاف سے اعراض کرنے کے لیے ہے اور ہمزہ مؤمنین کے خیال کے انکار اور استبعاد کے واسطے۔
اس سے غرض یہ ہے کہ مؤمنین صبر سے سختی اور تکلیف میں کام لیں۔ قراء کا قول ہے کہ اس کے معنی ہیں اَحَسِبْتُمْ اور میم زائد ہے۔ زجاج نے کہا ہے کہ اسی کے معنی بل حسبتم ہیں یہ آیت جنگ احزاب کے دن نازل ہوئی تھی جس وقت آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو سخت مصیبت اور محاصرہ اور شدت خوف اور سردی اور طرح طرح کی تکلیفیں پہنچیں جس کے بارے…
Read the full tafseer →(214) اے مومنو ! کی جماعت کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ بغیر اس طرح امتحان وآزمائش کے جیسا کہ تم سے پہلے سابقہ مومنین کی آزمائش کی گئی ہے تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے، اس کو اس قدر پریشانیوں اور سختیوں اور بیماریوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ ان کے رسول اور وہ حضرات جو ان پر ایمان لائے تھے پکار اٹھے، دشمنوں کے مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کب آئے گی، اللہ تعالیٰ نے اس نبی ؑ یعنی ان کے نبی ؑ سے فرمایا کہ دشمنوں سے تمہاری نجات کا وقت قریب ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ام حسبتم ان“۔ (الخ)
عبدالرزاق ؒ ، معمر ؒ ، قتادہ ؒ ، بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ غزوہ احزاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس…
Read the full tafseer →الْبَاْسَاۗءُ“ سے مراد فقر و فاقہ اور ”وَالضَّرَّاۗءُ“ سے مراد بیماری اور جسمانی تکالیف اور ”زُلْزِلُوْا“ کا مطلب ہے سخت ہلائے گئے۔
مدینہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کو جب مشرکین، منافقین اور یہود سے سخت تکالیف پہنچیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی کہ دین کی راہ میں یہ مصیبتیں اور تکلیفیں صرف تم پر نہیں آ رہیں، بلکہ تم سے پہلے لوگ تو فقر و فاقہ، جانی و مالی نقصان اور سخت قسم کے خوف و ہراس میں مبتلا کیے گئے، یہاں تک کہ اس زمانے کا رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے ”اللہ کی مدد کب ہوگی“ پکار اٹھے۔ پھر جس طرح ان پر اللہ کی طرف سے مدد نازل ہوئی تمہاری بھی مدد کی جائے گی۔ چناچہ…
Read the full tafseer →ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ “۔ میں حسبتم “ بمعنی ظننتم “ (تم نے گمان کیا) ہے۔ حضرت قتادہ، سدی اور اکثر مفسرین نے کہا : یہ آیت غزوہ خندق کے دوران نازل ہوئی جب کہ مسلمانوں کو مشقت، شدت، گرمی، سردی، تلخ اور تکلیف دہ زندگی اور طرح طرح کی تکالیف اور مصائب آپہنچے اور ان کی کیفیت یہ ہوگئی جیسا کہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا
(آیت) ” وبلغت القلوب الحناجر “۔ (الاحزاب : 10)
ترجمہ : اور کلیجے منہ کو آنے لگے :
اور بعض نے کہا ہے : یہ آیت جنگ احد کے دوران نازل ہوئی۔ اس کی مثل آل عمران میں بھی ہے۔
(آیت) ” ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یعلم اللہ الذین لجھدوا منکم “۔ (آل عمران :…
Read the full tafseer →(1) عبد الرزاق، ابن جریر، ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” ام حسبتم “ (الآیہ) کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت یوم احزاب میں نازل ہوئی۔ اس دن نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ (دشمن کی طرف سے) مصیبت اور گھیراؤ میں مبتلا ہوئے۔
اللہ تعالیٰ مخلص بندوں کا امتحان لیتا ہے
(2) ابن ابی حاتم، ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمن کو خبر دی کہ دنیا مصیبت کا گھر ہے اور وہ ان کو اس میں مبتلا کرے گا اور ان کو بتایا گیا کہ اسی طرح دوسرے انبیاء اور ان کے برگزیدہ لوگوں کے ساتھ بھی ایسا کیا گیا تاکہ ان کے نفسوں کو پاک کردیا جائے۔ پھر فرمایا لفظ آیت ” مستھم الباساء والضراء “ اس سے…
Read the full tafseer →[ اَمْ حَسِبْتُمْ : کیا تم لوگوں نے گمان کیا ] [ اَنْ تَدْخُلُوا : کہ تم لوگ داخل ہو جائو گے ] [ الْجَنَّۃَ : جنت میں ] [ وَ : حالانکہ ] [ لَمَّا یَاْتِکُمْ : ابھی تک نہیں پہنچے تم کو ] [ مَّثَلُ الَّذِیْنَ : ان کی مانند جو ] [ خَلَوْا : گزرے ] [ مِنْ قَبْلِکُمْ : تم سے پہلے ] [ مَسَّتْہُمُ : پہنچیں ان کو ] [ الْبَاْسَآئُ : سختیاں ] [ وَالضَّرَّآئُ : اور تکالیف ] [ وَزُلْزِلُوْا : اور وہ لوگ ہلا ] [ مارے گئے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَقُوْلَ : کہنے لگے ] [ الرَّسُوْلُ : (وقت کے) رسول ] [ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے ] [ مَعَہٗ : ان کے ساتھ ] [ مَتٰی : کب ] [ نَصْرُ…
Read the full tafseer →مصائب میں مسلمانوں کو صبر کی تلقین اور امم سابقہ کے مسلمانوں سے عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
مسلمانوں کو مشرکین اور یہود و منافقین سے برابر تکلیفیں پہنچتی رہتی تھیں۔ مکہ معظمہ میں جب تک رہے مشرکین برابر تکلیفیں پہنچاتے رہے پھر جب مدینہ منورہ ہجرت کرکے آگئے تو یہودیوں سے اور منافقوں سے واسطہ پڑا اور مشرکین مکہ نے یہاں بھی چین سے نہ رہنے دیا۔ ان کی دشمنی کی وجہ سے بدر اور احد اور خندق کے غزوات پیش آئے۔ دشمنوں کی ایذار سانیوں کے علاوہ بھوک پیاس وغیرہ کی تکلیفیں بھی پہنچتی رہتی تھیں۔
اسباب النزول ص 60 میں ہے کہ یہ آیت غزوۂ خندق کے موقعہ پر نازل ہوئی جبکہ مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچی، دشمنوں کا خوف بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–214
تنبیہات وتہدیدات۔
قال تعالی، سل بنی اسرائیل کم۔۔۔ الی۔۔۔ قریب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں دلائل واضحہ آجانے کے بعد حق کی مخالفت پر تنبیہ اور تہدید تھی آئندہ آیات میں اور چند تنبیہات اور تہدیدات کو ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کے صریح اور واضح حکم کے بعد عدولی حکمی موجب عذاب ہے اگر تم کو اس میں کچھ تردد ہے تو بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ ہم نے ان کو کتنی واضح اور روشن دلیلیں عطا کی تھیں تاکہ حق واضح اور روشن ہوجائے یہ اللہ جل شانہ کی ایک نعمت کبری تھی اس نعمت کا شکر اور حق یہ تھا کہ دل وجان سے حق کو قبول کرتے لیکن دیدہ دانستہ حق سے انحراف کیا نتیجہ یہ نکلا کہ عذاب میں مبتلا ہوئے اور طرح طرح کی ذلتیں…
Read the full tafseer →410 مثل سے گذشتہ انبیاء کی امتوں کے سے شدائد اور مصائب مراد ہیں۔ ای حالھم التیھی مثل فی الشدۃ (مدارک ص 84 ج 1) اس میں خطاب صحابہ کرام سے ہے۔ اور یہ بھی ترغیب الی الجہاد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت کے جن بلند مقامات کے تم طالب ہو۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ تم تکلیفوں اور آزمائشوں میں پڑے بغیر ہی وہاں تک پہنچ جاؤگے۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ بلند درجات حاصل کرنے کے لیے تمہیں مال وجان کی قربانی دینی پڑے گی۔ تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کرنا پڑیں گی۔ مال وجان اور اولاد کے ذریعے جہاد کرنا پڑے گا۔ ٖ 411 یہ امم سابقہ کے حال کا بیان ہے۔ باساء سے مالی نقصان اور معاشی بدحالی مراد ہے۔ اور ضراء سے جانی نقصان اور جسمانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–215
گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ابتداء میں سب لوگ ایک ہی مذہب و ملت پر تھے۔ پھر جب انہوں نے دین حق سے اختلاف کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے سچا دین واضح کرنے کے لئے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث فرمایا اور یہ اختلاف کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں تھا۔ بلکہ واضح دلائل آنے کے بعد محض حسد ، خود غرضی اور مفاد پرستی کی وجہ سے تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی راہ حق کی طرف راہنمائی فرما دی اور ان پر حق واضح کردیا۔ کیونکہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے جسے چاہتے ہیں کرتے ہیں۔
اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ کافر لوگ دنیا کی محبت اور غرور کی وجہ سے…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ 0 ۭ مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰى نَصْرُ اللہِ 0 ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِيْبٌ 214
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–216
ترکیب : ام بمنزلہ اہل اور ہمزہ استفہام یعنی منفطعہ حسبتم فعل بافاعل ان تدخلوا الجنۃ سارا جملہ قائم مقام دو مفعولون کے ولما الخ جملہ مستفائفہ ہے۔ شرح احوال کے لیے اور ممکن ہے کہ قد مضمرمان کر حال قرار دیا جاوے الرسول فاعل یقول والذین آمنوا اس پر معطوف معہ متعلق ہے یقول کے اور ممکن ہے کہ آمنوا کے ہو متی نصر اللّٰہ جملہ مقولہ۔
تفسیر : پہلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ دنیا اور اس کی زینت کفار کو دی گئی اور وہ مسلمانوں سے ہنسی اور تمسخر کرتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کو صبر اور توکل اور ثابت قدمی کی ترغیب دیتا ہے تاکہ اسلام میں جس قدر مصیبتیں اور تکالیف اور تنگدستی اور ناامیدی اور دنیا کی ناکامی اور…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ ط مَسَّتْھُمُ الْبَاْسَآئُ وَالضَّرَّآئُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُاللّٰہِ ط اَلآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔
(کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تمہیں ان حالات سے سابقہ پیش نہیں آیا جن سے تمہارے اگلوں کو پیش آیا۔ ان کو آفتیں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ اس قدر جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب نمودار ہوگی ؟ بشارت ہو کہ اللہ کی مدد قریب ہے)…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مومن دنیا کی لذات اور باہمی اختلافات سے بچنے کے لیے اکثر اوقات نقصان اٹھاتے ہیں۔ اس سے انہیں تسلی دی جارہی ہے کہ جنت کی بیش بہا نعمتوں کے لیے یہ نقصان اٹھانا ہی پڑے گا۔ اس کے لیے اپنے سے پہلے ایمان والوں کا کردار سامنے رکھو کہ انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا تب جا کر اللہ تعالیٰ کی مدد کے مستحق قرار پائے۔
مکہ میں مسلمانوں کا ہر طرف سے حلقۂ حیات تنگ کردیا گیا، معاشی بائیکاٹ اور کمزوروں کو ہر قسم کے مظالم کا تختۂ مشق بنایا گیا۔ یہاں تک کہ معصوم خواتین پر جور و استبداد سر عام ہورہا تھا۔ ان حالات میں مجبوروں اور مظلوموں کے دلوں کا غم سے چور چور ہونا اور ان کا رسول کریم ﷺ کی خدمت…
Read the full tafseer →214۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمَ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ ط مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَآئُ وَالضَّرَّآئُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ اَلَآٓ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔ (کیا تم نے یہ سمجھا کہ جنت میں یونہی چلے جائو گے حالانکہ جو تم سے پہلے (انبیاء مؤمنین) گزرے ان کی سی حالت (تنگی) تمہیں پیش نہیں آئی انہیں سختی پہنچی اور (فقر و بیماری کی) تکلیف سے بھی اور ان کو جھنجھوڑا گیا یہاں تک کہ رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے وہ کہنے لگے کہ خدا کی مدد کب آئے گی آگاہ رہو اللہ تعالیٰ کی مدد…
Read the full tafseer →(تفسیر) 214۔:
(آیت)” ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ “ حضرت قتادہ (رح) اور سدی (رح) کہتے ہیں یہ آیت کریمہ غزوہ خندق کے موقع پر نازل ہوئی ، مسلمانوں کو مشقت اور سخت خوف اور سردی اور تنگدستی اور مختلف قسم کی تکلیفیں پہنچیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” وبلغت القلوب الحناجر “ (کہ دل شدت غم کے باعث گلے تک آگئے) اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت کریمہ جنگ احد کے موقع پر نازل ہوئی ۔
حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو انہیں سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ بغیر مال کے نکلے تھے اور اپنے گھر بار اور مال ومتاع مشرکوں…
Read the full tafseer →علماء مفسرین نے کہا ہے کہ جن احزاب کے دنوں میں جس کو جنگ خندق بھی کہتے ہیں۔ تین دن کے فاقوں کی تکلیف مہینہ بھر تک دشمنوں کی محاصرہ کی تکلیف سخت جاڑہ اور مہاوٹ کے موسم میں مہینہ بھر تک جنگل میں بلا سایہ پڑے رہنے کی تکلیف اس قسم کی تکلیفات سے جب مسلمان بہت ہراساں ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تسکین کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ تم پر انوکھی یہ مصیبتیں نہیں آئی ہیں بلکہ تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ بھی اس قسم کی مصیبتیں جھیل چکے ہیں اور جنت کا عیش اٹھانے کے لئے کچھ مصیبت کا جھیلنا ضرور ہے تاکہ مصیبت کے بعد نعمت کی قدر ہو خندق کی لڑائی اس لڑائی کو اس لئے کہتے ہیں کہ لشکر اسلام کے گردا گرد…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خوشحالی، بدحالی اور مشقت کے ذریعے سے ضرور اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا۔ یہ اس کی سنت جاریہ ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا جو کوئی اس کے دین اور شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ضرور آزماتا ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر صبر کرتا ہے اور اس کی راہ میں پش آنے والے مصائب اور تکالیف کی پرواہ نہیں کرتا تو وہ اپنے دعوے میں سچا ہے اور کامل ترین سعادت اور سیادت کی منزل کو پالے گا اور جو کوئی لوگوں کے فتنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتا ہے بایں طور کہ لوگوں کی اذائیں اور تکالیف اس کو اپنے راستے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–215
خرچ کی ابتداء کس سے کی جائے
قول باری ہے (لیسئلونک ماذا ینفقون قل ما انفقتم من خیر خلق الدین و الاقربین والیتامی والمساکین و ابن السبیل، وما تفعلوا من خیر فان اللہ بہ علیم۔ لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں۔ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہوگا۔ ) ۔ سوال کے ذریعے خرچ کی مقدار پوچھی گئی ہے اور جواب میں کہا گیا ہے کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے خواہ اس کی مقدار تھوڑی ہو یا بہت۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کردیا گیا ہے کہ کن لوگوں پر خرچ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل ماانفقتم من خیر یہ…
Read the full tafseer →592 سنت ابتلاء و آزمائش کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے ؟۔ یعنی نہیں ایسا نہیں ہونے کا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے دستور عام کے خلاف ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ابتلاء و آزمائش کے مراحل سے گزارتا ہے، تاکہ کھرے اور کھوٹے میں علیحدگی اور تمییز ہو سکے۔ { لِیَمِیْزَ اللّٰہُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ } ۔ اور اسی ابتلاء و آزمائش کے بعد جو جس کے لائق ہوتا ہے اس کو اس سے نوازا جاتا ہے جو کہ تقاضا ہے اس کے قانون عدل و انصاف کا۔ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کھرے کھوٹے اور صحیح اور غلط کے درمیان فرق وتمیز کا ذریعہ…
Read the full tafseer →اہل ایمان کی آزمائش
تشریح : اس آیت مبارکہ میں مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ جو سختیاں اور مصیبتیں تمہیں پیش آرہی ہیں قبول اسلام اور تبلیغ ان پر گھبراؤ نہیں یہ سب کام راہ اللہ اور رضائے الٰہی کے لیے تم کرتے ہو جس کے بدلہ میں تم کو جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے تو جان لو اور کہ جنت بڑی محنت اور مشقت کے بعد ملتی ہے اس کا حصول اتنا آسان کام نہیں ہے، لوگوں کو چاہیے جو کہ اپنے سے پہلی قوموں کو اور انبیاء کو دیکھیں تو ان کو پتہ چلے گا کہ شیطان سے لڑنا اور برائی کو ختم کرنا اور حق کا بول بالا کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔ پچھلے لوگوں نے اور انبیاء نے اس قدر تکلیفیں اور مصیبتیں راہ حق میں اٹھائیں کہ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–216
آیات 211- 216
اسرارو معارف
سل بنی اسرائیل………………وانتم لا تعلمون۔
آپ ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھئے ان کی تاریخ دیکھئے کہ اللہ نے انہیں کس قدر واضح دلائل عطا فرمائے اور اللہ کے نبی ان کے پاس کتنی دلیلیں لائے جن سے ان کی اصلاح مقصود تھی مگر جب انہوں نے سرکشی کی اور ان دلائل کو پس پشت ڈالا تو ان پر کیسے کیسے عذاب نازل ہوئے اور یہ تو قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نعمت کو ٹھکراتا ہے یعنی ایسے دائل جو اسے راہ ہدایت سمجھانے کے لئے اللہ کی طرف سے اس کے پاس پہنچے ان کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کا یقینی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رحمت باری سے محروم ہو کر اللہ کے غضب کا نشانہ بنتا ہے اور خدا کے عذاب بہت سخت ہیں جس…
Read the full tafseer →ف 2 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کو (مشرکین منافقین اور یہود سے سخت تکالیف پہنچیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (رازی) اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی کہ دین کی راہ میں یہ مصائب وشدائد کچھ تم پر ہی نہیں آرہے ہیں بلکہ تم سے پہلے لوگ تو فقرفاقہ۔ جانی ومالی نقصان اور سخت قسم کے خوف وہراس میں مبتا کردیے گئے تھے حتی کہ الرسول یعنی اس زمانے کا پیغمبر) اور اس کے متبعین متی نصر اللہ) پکار اٹھے تھے پھر جیسے ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نازل ہوئی تمہاری بھی مدد کی جائے گی۔ چناچہ غزؤہ احراب میں جب یہ مرحلہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ (دیکھئے سورت احرزاب آیت 10…
Read the full tafseer →(2:214) ام۔ ام منقطعہ ہے اور بمعنی بل (حرف اضراب آیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہمزہ مقدر ہے۔ لفظ بل کلام سابق سے اعراض کے لئے ہے ۔ یہاں یہود اور نصاری کے اختلاف اور ان کے متاع حیات دنیوی پر فخر بےجاہ اور پھر اس کے بل بوتے پر مومنوں سے تمسخر سے اعراض کرنے کے لئے آیا ہے اور ہمزہ استفہامیہ مؤمنین کے خیال کے انکار و استبعاد کے واسطے سے پہلے کے انبیاء اور مؤمنین کی طرح تمہیں بھی تنگی و سختی ۔ فقرو بیماری اور طرح طرح کی بلاؤں اور مصیبتوں کی آگ سے گزرنا پڑے گا۔ تب جاکر تم جنت کے مستحق بنوگے۔
تفسیر مظہری میں ہے کہ فراء کا قول ہے کہ ام کے معنی احسبتم اور میم زائد ہے۔ (ام پر تفصیلی نوٹ 18:9 پر ملاحظہ…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 214
ام حسبتم (کیا تم گما ن کر بیٹھے ) ۔ ان تدخلوا (یہ کہ تم داخل ہوجاؤ گے) ۔ لما یا تکم (نہیں آئیں تمہارے پاس) ۔ خلوا (جو گذر گئے ) ۔ مستھم (ان کو پہنچیں۔ (ان کو چھوا) ۔ زلزلوا (ہلا دئیے گئے، ہلا ڈالا گیا) ۔ متی نصر اللہ (اللہ کی مدد کب آئے گی) ۔
تشریح : آیت نمبر 214
امت محمدیہ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ فرما کر یہ بتایا جا رہا ہے کہ اے مومنو ! منافقین اور کفار کی مخالفت، ایذارسانیوں اور مذاق اڑانے سے تم گھبرا مت جانا۔ ابھی تو راہ عشق میں تمہاری ابتداء ہے آگے اس سے کہیں زیادہ مشکل اور کٹھن مقامات آنے والے ہیں جن حالات سے تمہیں گزرنا ہے اور یہ بات رکھو کہ اس دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–214
شان نزول : حضرت بلال اور حضرت عمار بن یاسر اور اسی طرح کے غریب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کفار ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ یہی کنگال لوگ محمد ﷺ کے ساتھی ہیں جن کے بھروسہ پر وہ بڑے بڑے شہر فتح کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور کافروں کو تنبیہ فرمادی کہ تمہارا سارا دارومدار دنیا کی چند روزہ خوشحالی پر ہے اور آخرت کے تم منکر ہو، لیکن یہ اللہ کی مصلحت ہے وہ جسے چاہتا ہے دنیا کی چند روزہ خوشحالی دے دیتا ہے۔ جن کو چاہتا ہے دنیا میں تو اس کو تنگ حال رکھتا ہے مگر عقبیٰ میں ان کو عالی درجے ملتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–216
[143] مطلب یہ کہ سابقہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہمیشہ اللہ کے باغی اور سرکش بندوں سے سخت مقابلہ پیش آیا ہے اور انہوں نے جان کی بازی لگا کر اقامت دین کے لئے جدوجہد کی ہے تب کہیں وہ جنت کے مستحق ہوئے۔ اللہ کی جنت اتنی سستی نہیں ہے کہ تم نے ایمان کا اقرار کرلیا اور جنتی ہوگئے۔
Read the full tafseer →راہ عشق کی دشواریاں :
(ف 1) غزوہ احزاب میں جب مسلمانوں کے خلاف عرب کی تمام قومیں جمع ہو کر چڑھ آئیں اور اسلام کفر کے عین درمیان گھر گیا تو اس وقت بعض کمزور دل مسلمان گھبرا گئے ، منافقین کو موقع ملا اور انھوں نے ان کی کمزوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی ٹھانی اور کہا کہ دیکھو اگر محمد ﷺ سچے ہوتے تو آج اس طرح کیونکر کفار کے نرغے میں پھنس جاتے ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ، جس سے دل مضبوط ہوگئے اور نور یقین سے جگمگا اٹھے اور منافقین کا پھیلایا ہوا ہم رنگ زمین جال تار تار ہوگیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اتنی سی آزمائش میں گھبرا گئے ہو ، ہم تک پہنچنے کے لئے کس قدر…
Read the full tafseer →ف 2 مسلمانو ! کیا تم نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجائو گے اور بدون کسی محنت و مشقت کو برداشت کئے تم بہشت میں چلے جائو گے حالانکہ ابھی تک تم کو اپنے سے پہلے مسلمانوں کی طرح کے حالات و واقعات سے سابقہ نہیں پڑا اور جو مسلمان تم سے پہلے ہو گزرے ہیں جیسے عجیب و غریب حالات ان کو پیش آئے تھے وہ ابھی تم کو پیش نہیں آئے ان پر ان کے مخالفین کی جانب سے بڑی سختی اور تکلیف واقع ہوئی اور مصائب و آلام سے وہ ہلا ہلا دئیے گئے یہاں تک کہ اس وقت کے پیغمبر اور اس کے ساتھی مسلمان بےچین و مضطرب ہوکر کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی اس پر ان کو تسلی دی گئی کہ آگاہ رہو اور سن لو ! اللہ تعالیٰ کی مدد…
Read the full tafseer →ف 2۔ انبیاء اور مومنین کا اس طرح کہنا نعوذ باللہ شک کی وجہ سے نہ تھا بلکہ وجہ یہ تھی کہ وقت امداد اور غلبہ کا مقابلہ مخالفین میں ان حضرات کو نہ بتلایا گیا ابہام وقت سے ان کو جلدی ہونے کا انتظار رہتا تھا جب انتظار سے تھک جاتے تب اس طرح عرض معروض کرنے لگتے جس کا حاصل دعا ہے الحاح کے ساتھ اور الحاح خلاف رضاوتسلیم کے نہیں ہے بلکہ جب الحاح کا پسندیدہ ہونا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ثابت ہے توالھاح عین رضاء حق سے رضا ہے البتہ خلاف رضا اور وہ دعا ہے جس کے قبول نہ ہونے سے دعا کرنے والا ناخوش ہو سع معاز اللہ اس کا انبیاء اور مومنین کاملین میں ثبوت ہے نہ احتمال۔
Read the full tafseer →صرف ایمان دعویٰ سے جنت نہیں ملتی یہاں لوہے کے چنے چبانا ہی پڑتے ہیں :
364: تم دنیا کے اختلاف مٹانے کے لئے آئے ہو اور تمہیں خلافت ارضی کے لئے چن لیا گیا ہے مگر کیا اس بہشت زار ارضی میں بغیر کسی محنت و تکلیف کے داخل ہوجائو گے حالانکہ ابھی ان مشکلات و موانع کی ابتداء نہیں ہوئی جو انبیاء و رسل کو راہ حق و صدق میں پیش آتی ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان ارباب صدق و صفا کو چاروں طرف سے مصیبتوں نے گھیر لیا۔ غنیم کی فوجیں محاصرہ کئے ہوئے تھیں قدم قدم پر دشمن کا خوف دامن گیر تھا۔ جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ سامان خوراک کے تمام ذرائع و وسائل مسدود تھے۔ بھوک اور پیاس کے مارے تڑپ رہے تھے۔ یہ تو بیرونی تکلیفوں کی…
Read the full tafseer →The previous verse has said how hostile the disbelievers have been to prophets (علیہم السلام) and believers and, in a way, has comforted Muslims hurt by the mockery of disbelievers that there is nothing new about this antagonism. This has been there all the time. Further from this point, the present verse recounts the enormous amount of suffering faced by past prophets and believers at the hands of hostile disbelievers. This too is to console Muslims that they should be patient against the hostility of disbelievers as ideal happiness can only be achieved by getting ready and working hard for…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–216
231. In between this verse and the one above comes a whole story which has been left untold, a story which is alluded to in the present verse and which is mentioned in some detail in the Makkan surahs of the Our'an (these were revealed earlier than the present surah) . The point emphasized here is that whenever the Prophets came into the world they, and their followers, were confronted with severe resistance from those in rebellion against God. At grave risk to themselves they strove to establish the hegemony of the true religion over the false ways of life. To follow this religion has,…
Read the full tafseer →