آدم ؑ سے حضرت نوح ؑ تک
حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ حضرت نوح اور حضرت آدم کے درمیان دس زمانے تھے ان زمانوں کے لوگ حق پر اور شریعت کے پابند تھے پھر اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث فرمایا، بلکہ آپ کی قرأت بھی یوں ہے آیت (وَمَا كَان النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا) 10۔ یونس :19) ابی بن کعب کی قرأت بھی یہی ہے، قتادہ ؓ نے اس کی تفسیر اسی طرح کی ہے کہ جب ان میں اختلاف پیدا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا پہلا پیغمبر بھیجا یعنی حضرت نوح ؑ ، حضرت مجاہد بھی یہی کہتے ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک روایت مروی ہے کہ پہلے سب کے سب کافر تھے، لیکن اول قول معنی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 230
ناواقف لوگ جب اپنی قیاس و گمان کی بنیاد پر ”مذہب“ کی تاریخ مرتب کرتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ انسان نے اپنی زندگی کی ابتدا شرک کی تاریکیوں سے کی، پھر تدریجی ارتقا کے ساتھ ساتھ یہ تاریکی چھٹتی اور روشنی بڑھتی گئی یہاں تک کہ آدمی توحید کے مقام پر پہنچا۔ قرآن اس کے برعکس یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں انسان کی زندگی کا آغاز پوری روشنی میں ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس انسان کو پیدا کیا تھا اس کو یہ بھی بتادیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور تیرے لیے صحیح راستہ کون سا ہے۔ اس کے بعد ایک مدت تک نسل آدم راہ راست پر قائم رہی اور ایک امت بنی رہی۔ پھر لوگوں نے نئے نئے راستے نکالے اور مختلف طریقے…
Read the full tafseer →ربط آیات
اوپر دین حق سے اختلاف کرنے کی علت حب دنیا کو بتایا ہے آگے اسی مضمون کی تائید فرماتے ہیں کہ مدت سے یہی قصہ چلا آرہا ہے کہ ہم دلائل واضحہ دین حق پر قائم کرتے ہیں اور طالبان دنیا اپنی دنیوی اغراض کے سبب اس سے خلاف کرتے رہے۔
خلاصہ تفسیر
(ایک زمانہ میں) سب آدمی ایک ہی طریق پر تھے (کیونکہ اول دنیا میں حضرت آدم ؑ مع اپنی بی بی کے تشریف لائے اور جو اولاد ہوتی گئی ان کو دین حق کی تعلیم فرماتے رہے اور وہ ان کی تعلیم پر عمل کرتے رہے ایک مدت اسی حالت میں گذر گئی پھر اختلاف طبائع سے اغراض میں اختلاف ہونا شروع ہوا حتی ٰکہ ایک عرصہ کے بعد اعمال و عقائد میں اختلاف کی نوبت آگئی) پھر (اس اختلاف کے…
Read the full tafseer →اہل ایمان کی حوصلہ افزائی : اوپر اہل ایمان کے ساتھ کفار و منافقین کے مذاق و استہزا کا ذکر ہوا ہے، اب اس آیت میں اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ اطمینان رکھو، موقف حق پر تم ہی ہو، اختلافات و نزاعات کے درمیان فیصلہ کرنے والی حقیقت تمہارے ہی پاس ہے اور کفر وضلالت کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے کے اندر صرف تمہی ہو جن کو صراط مستقیم کی ہدایت نصیب ہوئی ہے۔ یہ کفار و منافقین جو تمہاری مخالفت کر رہے ہیں اور تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں یہ سب اس باہمی ضد اور عناد کا کرشمہ ہے جس میں یہ ہمیشہ سے مبتلا ہیں اور اس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ خا کی ہدایت کے ایسے دشمن ہوگئے ہیں کہ نہ اس کو خود پانا چاہتے اور…
Read the full tafseer →213۔ 1 یعنی توحید پر۔ یہ حضرت آدم ؑ سے حضرت نوح ؑ ، یعنی دس صدیوں تک لوگ توحید پر، جس کی تعلیم انبیاء دیتے رہے قائم رہے۔ آیت مفسرین صحابہ نے فاختَلَفُوْا منسوخ مانا ہے یعنی اس کے بعد شیطان کی وسوسہ اندازی سے ان کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا اور شرک و ظاہر پرستی عام ہوگئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اختلاف کا فیصلہ اور حق اور توحید قائم اور واضح کریں (ابن کثیر)
213۔ 2 اختلاف ہمیشہ راہ حق سے انحراف کی وجہ سے ہوتا ہے اور انحراف کا منبع بغض اور عناد بنتا ہے امت مسلمہ میں بھی جب تک یہ انحراف نہیں آیا یہ امت اپنی اصل پر قائم اور اختلاف کی شدت سے محفوظ رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–216
140: یہ فقرہ دراصل کفار کے اس باطل دعوی کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہمیں خوب رزق دے رہا ہے، اس لئے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہمارے عقائد اور اعمال سے ناراض نہیں ہے، جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں، دنیوی رزق کے لئے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے، یہاں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
Read the full tafseer →یہ ہے وہ کہانی ۔ پہلے سب لوگ ایک امت ہی کے افراد تھے ۔ ایک تصور زندگی اور ایک ہی طرز عمل تھا۔ یہ اشارہ ہے اس چھوٹے انسانی خاندان کی طرف ، جو حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کی ان اولاد پر مشتمل تھا ۔ اور ابھی ابن آدم کے درمیان افکار ونظریات کا اختلاف پیدا نہ ہوا تھا ۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کا آغاز ایک چھوٹے سے خاندان سے محض اس لئے کیا کہ انسانی زندگی میں خاندانی نظام خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ابتدا میں انسانیت پر ایک ایسا دور گزرا ہے ، جس میں سب انسان ایک ہی سطح کے تھے ، ان کا ایک ہی رخ تھا ، ایک ہی نظریہ تھا ۔ وہ صرف ایک ہی خاندان…
Read the full tafseer →2 حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت سے ایک ہی سچا دین رہا ایک مدت تک اس کے بعد دین میں لوگوں نے اختلاف ڈالا تو خدا تعالیٰ نے انبیاء کو بھیجا جو اہل ایمان وطاعت کو ثواب کی بشارت دیتے تھے اور اہل کفر و معصیت کو عذاب سے ڈراتے تھے اور ان کے ساتھ سچی کتاب بھی بھیجی تاکہ لوگوں کا اختلاف اور نزاع دور ہو اور دین حق ان کے اختلافات سے محفوظ اور قائم رہے اور احکام الٰہی میں انہی لوگوں نے اختلاف ڈالا جن کو وہ کتاب ملی تھی جیسے یہود و نصاریٰ تورات و انجیل میں اختلاف و تحریف کرتے تھے اور یہ نزاع بےسمجھی سے نہیں کرتے تھے بلکہ خوب سمجھ کر محض حب دنیا اور ضد اور حسد سے ایسا کرتے تھے سوا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے…
Read the full tafseer →آیت 213 کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف
اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدا میں سب کے سب انسان ایک ہی امت تھے۔ تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام نبی ہیں۔ چناچہ امت تو ایک ہی تھی۔ جب تک ان میں گمراہی پیدا نہیں ہوئی ‘ اختلافات پیدا نہیں ہوئے ‘ شیطان نے کچھ لوگوں کو نہیں ورغلایا ‘ اس وقت تک تو تمام انسان ایک ہی امت تھے۔ اب یہاں پر ایک لفظ محذوف ہے : ثُمَّ اخْتَلَفُوْا پھر ان میں اختلافات ہوئے۔ اختلاف کے نتیجے میں فساد پیدا ہوا اور کچھ لوگوں نے گمراہی کی روش اختیار کرلی۔ آدم علیہ السلام کا ایک بیٹا اگر ہابیل تھا تو دوسرا قابیل بھی تھا۔
فَبَعَثَ اللّٰہُ…
Read the full tafseer →281 اس امت واحدہ کا طریق اور دین کیا تھا ؟ وہ تھا توحید خالص اور صرف اللہ اکیلے کی اطاعت اور بندگی۔ یہی چیز انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں سب سے پہلے انسان ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) خود نبی تھے۔ لہذا آپ (علیہ السلام) کی ساری اولاد اور آپ (علیہ السلام) کی امت اسی دین پر قائم تھی۔ مگر موجودہ دور کے مغربی علماء (جنہیں ہم مسلمانوں نے آج کل ہر شعبہ علم میں انہیں اپنا استاد تسلیم کرلیا ہے) جب مذہب کی تاریخ لکھنے بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان نے اپنی زندگی کا آغاز شرک کی تاریکیوں سے کیا، پھر اس پر کئی ادوار آئے اور بالآخر انسان توحید کے مقام پر پہنچا ہے اور یہی نظریہ ہمارے…
Read the full tafseer →772 ۔ (آغاز فطرت میں) آیت نے ایک بڑی گرہ کھول دی، فرنگی ” محققین “۔ حسب معمول مدتوں اس باب میں بھٹکتے رہے، اور ان میں سے اکثر یہی کہے گئے کہ انسان کا ابتدائی مذہب شرک یا تعدد الہہ تھا۔ شروع شروع وہ ایک چیز کو خدا سمجھتا تھا۔ اور عقیدۂ توحید تک تو نسل انسانی بہت سی ٹھوکریں کھانے کے بعد، اور عقلی ودماغی ارتقاء کے بڑے طویل سفر کے بعد پہنچی ہے۔ قرآن مجید نے اس خرافی نظریہ کو ٹھکراکر صاف اعلان کردیا کہ نسل انسانی آغاز فطرت میں دینی حیثیت سے ایک، اور واحد تھی، اس میں ” مذہب “ و ” ادیان “ کے یہ تفرقے کچھ بھی نہ تھے۔ (آیت) ” امۃ واحدۃ “ میں جس وحدت کا ذکر ہے ظاہر ہے کہ اس سے دینی واعتقادی ہی وحدت…
Read the full tafseer →کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ، ابتداء میں لوگ ایک ہی طریقہ یعنی توحید پر تھے پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے، حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت نوح (علیہ السلام) یعنی دس صدیوں تک لوگ توحید پر رہے اس آیت میں مفسرین صحابہ نے، فَاخْتَلَفُوْا، محذوف مانا ہے یعنی اس کے بعد شیطان کی وسوسہ اندازی سے ان کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا اور شرک و مظاہر پرستی عام ہوگئی فَبَعَثَ ، کا عطف فاختلفوا، (محذوف) پر ہے پس اللہ نے نبیوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اختلاف کا فیصلہ اور حق و توحید کو قائم اور واضح کریں۔ ناواقف لوگ جو اپنے قیاس و گمان کی بنیاد پر مذہب کی تاریخ مرتب…
Read the full tafseer →كَان النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۣ ( پہلے سب لوگ ایک ہی دین رکھتے تھے) بزار نے اپنی مسند میں اور ابن جریر۔ ابن ابی حاتم۔ ابن منذر نے اپنی اپنی تفسیر میں اور حاکم نے مستدرک میں ابن عباس سے صحیح سند سے نقل کی ہے ابن عباس فرماتے ہیں کہ آدم اور نوح ( علیہ السلام) کے درمیان میں دس قرن کا فاصلہ تھا یہ سب لوگ ایک ہی حق دین پر تھے پھر ان میں اختلاف ہوگیا اور اسی طرح ابن ابی حاتم نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ یہ سب دس قرن تھے۔ سب لوگ علماء اور ہدایت یافتہ تھے پھر ان میں اختلاف پڑگیا اس وقت اللہ پاک نے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجا اللہ نے سب سے پہلے زمین پر حضرت نوح ( علیہ السلام) ہی کو پیغمبر بنا کر…
Read the full tafseer →(213) انسان حضرت نوح ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ میں ایک ملت یعنی کفر پر قائم تھے اور یہ بھی تفسیر کی گئی کہ حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ میں مسلمان تھے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے ایسے انبیاء کرام کو بھیجا جو مومنین کو جنت کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں کو دوزخ کے عذاب سے ڈراتے اور ان پر جبریل امین کے ذریعے ایسی کتاب کو بھی نازل کیا گیا جو حق اور باطل کو بیان کرنے والی تھی تاکہ ہر ایک نبی دینی مسائل میں اپنی کتاب کے ذریعے سے فیصلہ کرسکے تاکہ وہ کتاب آپس میں فیصلہ کرسکے اور اگر (آیت) ”لیحکم“۔ لتحکم، تاء کے ساتھ پڑھا جائے تو اس سے رسول اکرم ﷺ کی ذات…
Read the full tafseer →اس آیت میں اس تاریخی حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ انسانیت کی ابتدا کفر و شرک اور عظیم الشان مخلوقات، مثلاً سورج، چاند، آگ، ہوا، پانی، فرشتوں اور نیک انسانوں وغیرہ کی پرستش سے نہیں ہوئی، بلکہ خالص توحید سے ہوئی ہے۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین توحید رکھتے تھے اور ان کی ایک ہی ملت تھی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”آدم اور نوح ؑ کے درمیان دس قرن (ایک ہزار سال) تھے۔ یہ سب شریعت حقہ (توحید) پر تھے، پھر (شیطان کے بہکانے سے ان میں شرک آیا اور) ان میں اختلافات پیدا ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے (نوح ؑ اور دوسرے) انبیاء بھیجے۔“ [ طبری و حاکم 2؍442، ح : 3654، بسند صحیح ] پھر مسلسل انبیاء آتے رہے اور ان پر…
Read the full tafseer →ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” کان الناس امۃ واحدۃ “ کا معنی ہے سب لوگ ایک دین پر تھے۔
حضرت ابی بن کعب اور ابن زید نے کہا ہے کہ ” الناس “ سے مراد بنی آدم (اولاد آدم) ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں روحوں کی صورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا۔
حضرت مجاہد نے کہا ہے : ” الناس “ سے مراد صرف حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، (پھر اس پر یہ سوال ہوتا ہے) کہ واحد کو لفظ جمع کا نام کیوں دیا گیا ہے ؟ (تو جواب یہ ہے کہ اس لئے) کیونکہ آپ ہی ساری نسل کی اصل اور بنیاد ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” الناس “ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت مائی حوا…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم، ابو یعلی، طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کان الناس امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے سارے لوگ اسلام پر تھے۔
(2) البزار ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس صدیاں تھیں۔ سب کے سب سچے دین پر تھے۔ پھر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے دوسرے نبیوں کو بھیجا۔ (اور) فرمایا کہ اسی طرح عبد اللہ (ابن مسعود) کی قرأت میں ہے لفظ آیت ” کان الناس امۃ واحدۃ فاختلفوا “
(3) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابی ابن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (لوگ) ایک امت تھے جب آدم (علیہ…
Read the full tafseer →[ کَانَ النَّاسُ : لوگ تھے ] [ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً : ایک امت ] [ فَـبَعَثَ : تو بھیجا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ النَّبِیّٖنَ : انبیاء کو ] [ مُبَشِّرِیْنَ : بشارت دینے والے ہوتے ہوئے ] [ وَمُنْذِرِیْنَ : اور خبردار کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ وَاَنْزَلَ : اور اس نے اتاری ] [ مَعَہُمُ : ان کے ساتھ ] [ الْـکِتٰبَ : کتاب ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ لِیَحْکُمَ : تاکہ وہ فیصلہ کرے ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے ] [ مابین ] [ فِیْمَا : اس میں ] [ اخْتَلَفُوْا : انہوں نے اختلاف کیا ] [ فِیْہِ : جس میں ] [ وَمَا اخْتَلَفَ : اور اختلاف نہیں کیا ] [ فِیْہِ : اس میں ] [ اِلاَّ الَّذِیْنَ : مگر ان لوگوں…
Read the full tafseer →سارے انسان امت واحدہ تھے، حق واضح ہونے کے بعد عناد اور ضد کی وجہ سے مختلف فرقے ہوگئے
تفسیر درمنثور ص 243 ج 1 میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کے درمیان جو قرنیں تھیں یہ سب ہدایت پر اور حق شریعت پر تھے، پھر لوگوں نے اختلاف کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھیجا جو (اس اختلاف کے بعد) سب سے پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا، اور ایسے وقت میں بھیجا جب کہ لوگوں میں اختلاف ہوچکا تھا اور حق کو چھوڑ چکے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں جو مخلوق پر حجت ہیں۔
اور تفسیر قرطبی ص 31 ج 2 میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–214
تنبیہات وتہدیدات۔
قال تعالی، سل بنی اسرائیل کم۔۔۔ الی۔۔۔ قریب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں دلائل واضحہ آجانے کے بعد حق کی مخالفت پر تنبیہ اور تہدید تھی آئندہ آیات میں اور چند تنبیہات اور تہدیدات کو ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کے صریح اور واضح حکم کے بعد عدولی حکمی موجب عذاب ہے اگر تم کو اس میں کچھ تردد ہے تو بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ ہم نے ان کو کتنی واضح اور روشن دلیلیں عطا کی تھیں تاکہ حق واضح اور روشن ہوجائے یہ اللہ جل شانہ کی ایک نعمت کبری تھی اس نعمت کا شکر اور حق یہ تھا کہ دل وجان سے حق کو قبول کرتے لیکن دیدہ دانستہ حق سے انحراف کیا نتیجہ یہ نکلا کہ عذاب میں مبتلا ہوئے اور طرح طرح کی ذلتیں…
Read the full tafseer →404 یہاں وحدت سے دین اور عقیدے کی وحدت مراد ہے یعنی شروع میں لوگ ایک ہی دین پر تھے اور سارے کے سارے دین اسلام کے پابند اور توحید پرست تھے۔ متفقین علی عین الاسلام (مدارک ص 83 ج 1 متفقین علی التوحید مقرین لعبودیتہ (روح ص 100 ج 2) اس سے معلوم ہوا کہ آغاز فطرت میں انسان توحید پرست تھا۔ اور شرک کی بیماری بعد میں پھیلی ہے۔ پہلی کتابوں میں مسئلہ توحید موجود تھا بعض پلیدوں نے بسبب بغاوت توحید کی مخالفت کی اور پچھلے لوگ باغیوں کی عبارتیں دیکھ کر مسئلہ توحید کے بارے میں شبہات میں پڑگئے۔ لیکن ان کا شبہ خدا کے یہاں کتاب اللہ کی موجودگی میں قبول نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کرو۔ ٖ 405 یہ ماقبل پر…
Read the full tafseer →گزشتہ سے پیوستہ
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی تھی کہ جو شخص نعمت الٰہی کے حصول کے بعد اس کی تکذیب کرتا ہے ، وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ اللہ جل جلالہ ، نے بنی اسرائیل کا بطور مثال ذکر فرمایا کہ ہم نے انہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا مگر اس قوم نے ناشکر گزاری کی اور طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار ہوئی۔ گویا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنی۔ گزشتہ درس میں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ فتنہ و فساد کی اصل جڑ حب دنیا ہے۔ دنیا کی محبت میں گرفتار کفار اہل ایمان سے ٹھٹا کرتے ہیں اور ان کو حقیر جانتے ہیں۔ حالانکہ کامیابی کا اصل دار و مدار مال و دولت پر نہیں بلکہ تقویٰ و پرہیز گاری پر ہے۔ اہل تقویٰ…
Read the full tafseer →كَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً 0 ۣ فَبَعَثَ اللہُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ 0 ۠ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِــيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِـيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْہِ 0 ۭ وَمَا اخْتَلَفَ فِيْہِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْہُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْہُمُ الْبَيِّنٰتُ بَغْيًۢا بَيْنَہُمْ 0 ۚ فَہَدَى اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْہِ مِنَ الْحَقِّ بِـاِذْنِہٖ 0 ۭ وَاللہُ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ 213
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–213
ترکیب : زین فعل مجہول للذین کفروا متعلق ہے زین کے الحیوہ الدنیا صفت و موصوف مفعول مالم یسم فاعلہ اور زین کہا زینت نہ کہا کس لیے کہ زین اور الحیوۃ الخ میں فاصلہ آگیا۔ دوم یہ کہ مونث حقیقی نہیں ہے ویسخرون معطوف ہے زین پر۔ والذین اتقوا مبتداء وفوقہم خبر القیامۃ طرف سے مبشرین و منذرین حال ہے النبین سے وانزل موضع حال میں ہے کتاب سے بالحق بھی ہے اے مشتملا علی الحق لیحکم ای الکتاب اور لام متعلق ہے انزل سے فیہ ای الحق اوتوہ ای الکتاب من بعد الخ جملۃ متعلقہ ہے اختلف سے بغیًا مفعول لہ ہے اختلف کا من الحق حال ہے ضمیر فیہ یا ما سے باذنہ حال ہے الذین آمنوا سے ای ماذو نالہم
تفسیر : پہلی آیت میں اشارہ تھا…
Read the full tafseer →کَانَ النَّاسُ اُمَّـۃً وَّاحِدَۃً قف فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ص وَاَنْزَلَ مَعَھُمُ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَااخْتَلَفُوْا فِیْہِ ط وَمَااخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًا م بَیْنَھُمْ ج فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ ط وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَـقِیْمٍ
(لوگ ایک امت تھے۔ پھر اللہ نے نبیوں کو بھیجا، بشارت دینے والے اور ڈرانے والے اور ان پر کتاب برحق اتاری تاکہ وہ فیصلہ کریں لوگوں میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دنیاوی فوائد، سماجی، سیاسی، اور مذہبی اختلافات کی وجہ سے امت کی وحدت ختم ہوگئی۔ وحدت اور دین حق کے احیاء کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء مبعوث فرمائے۔ لوگوں نے ان سے بھی اختلاف کیا حالانکہ انبیاء ‘ اختلافات مٹانے کے لیے آئے تھے۔
قرآن و حدیث کے علم سے بےبہرہ دین دشمن مستشرقین اور نام نہاد دانش مندوں نے کئی نسلوں سے یہ پروپیگنڈہ کر رکھا ہے کہ انسان تخلیقی طور پر تاریکی اور شرک کے ماحول میں پیدا ہوا ہے۔ اسی لیے انسان نے نسل در نسل ارتقاء کے بعد آہستہ آہستہ اپنے خالق کو پہچانا ہے۔ یہ باطل نظریات انگلش لٹریچر میں منظم طریقے کے ساتھ پھیلائے گئے ہیں اسی نظریے کی بنیاد پر عیسائیوں…
Read the full tafseer →آیت 213:
کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلاَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْم بََعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ وَاللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (سب لوگ ایک ہی دین رکھتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( علیہ السلام) کو بھیجا۔ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے اور ان کے ساتھ سچی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 213۔:
(آیت)” کان الناس امۃ واحدہ “ ایک دین پر تھے حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد صرف حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں کہ وہ امت واحدہ تھے حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ ایک آدم کو لفظ جمع (امۃ) سے ذکر کیا گیا کیونکہ وہ نسل انسانی کی بنیاد اور ابو البشر ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے حضرت حوا کو پیدا فرمایا ، پھر ان دونوں سے انسانوں کو پھیلایا ، پس وہ پھیل گئے اور سب مسلمان تھے یہاں تک کہ ھابیل قتل کیا گیا ، پس انہوں نے اختلاف کیا (آیت)” بعث اللہ النبیین “ حضرت حسن (رح) اور حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ لوگ وفات آدم سے بعثت نوح (علیہ السلام) تک ایک امت تھے ملت کفر پر تھے جانوروں کی مانند…
Read the full tafseer →حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کے مابین کے زمانے تک دس قرن گذرے ہیں ان دس قرنوں میں سب لوگ موحد تھے بت پرستی سر زمین پر کہیں نہیں تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) سے پہلے اس قوم کے چند نیک آدمی مرگئے جو لوگ ان وفات یافتہ لوگوں کے معتقد تھے ان کو ان نیک لوگوں کی وفات کا ان کی صورتیں آنکھوں کے سامنے اٹھ جانے کا بڑا صدمہ ہوا شیطان نے موقع پاکر ان لوگوں کے جی میں یہ وسوسہ ڈالا کہ اگر ان مرے ہوئے بزرگ لوگوں کی صورت کے موافق پیتل اور تانبے کی صورتیں بنا کر جہاں عبادت خانوں میں وہ نیک لوگ بیٹھا کرتے تھے وہاں مورتیں رکھ لی جائیں اور ان مورتوں کے وہی نام رکھے جائیں جو ان اصل نیک شخصوں…
Read the full tafseer →یعنی وہ سب ہدایت پر جمع تھے اور یہ سلسلہ آدم ( علیہ السلام) کے بعد دس صدیوں تک جاری رہا۔ پھر جب انہوں نے دین میں اختلاف کیا تو ایک گروہ کافر ہوگیا اور دوسرا گروہ دین پر قائم رہا اور ان کے درمیان اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان فیصلے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لئے رسول بھیجے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام لوگ کفر، ضلالت اور شقاوت پر مجتمع تھے۔ ان کے سامنے کوئی روشنی اور ایمان کی کوئی کرن نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف انبیاء و رسل ( علیہ السلام) بھیج کر ان پر رحم فرمایا (آیت) مُبَشِّرِيْنَ ” بشارت دینے والے “ یعنی یہ رسول لوگوں کو خوشخبری سناتے کہ اللہ کی اطاعت کے ثمرات،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–213
قول باری ہے (کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبیین ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلاف رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے) اس کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ تمام لوگ کفر کے طریقے پر تھے اگرچہ ان کے مذاہب مختلف تھے اور یہ ممکن ہے کہ ا ن میں مسلمان بھی ہوں اگرچہ ان کی تعداد تھوڑی تھی، اس صورت حال کے تحت کافروں کی جماعت پر امت کے لفظ کا اطلاق درست ہوگیا اس لئے کہ ایک لفظ کا اطلاق اکثریت اور عمومیت کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ ضحاک اور قتادہ کا قول ہے کہ پہلے تما م لوگ حق کے راستے پر ایک امت تھے لیکن پھر ان میں اختلافات پیدا ہوگئے۔
قول باری ہے (فھدی اللہ الذین امنوا لما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–213
582 حب دنیا ہلاکت و بربادی کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بیماری کی جڑ بنیاد دنیا کے متاع فانی پر ریجھ جانا اور اس کی محبت میں گرفتار ہوجانا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ پس اس ارشاد سے اصل مرض کی تشخیص فرما دی گئی ہے کہ ان لوگوں کی اس محرومی اور بدنصیبی کی اصل وجہ یہ ہے، کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی اور اس کے متاع فانی پر ریجھ گئے، اور انہوں نے اس کے متاع فانی اور حطام زائل ہی کو سب کچھ سمجھ لیا، جس کی بناء پر یہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ اور اس وجہ سے انہوں نے آخرت کی اصل، حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا جو کہ خساروں کا خسارہ اور دائمی…
Read the full tafseer →اتحاد امت عقیدہ کی وجہ سے
تشریح : اللہ تعالیٰ نے تاریخ ابن آدم کا ہلکا سا ذکر کیا ہے۔ وہ اس طرح کہ جب آدم (علیہ السلام) دنیا میں آئے تو ان کو حقیقت بتا دی گئی تھی اور یہ سمجھا دیا گیا تھا کہ کونسا راستہ ٹھیک ہے اور کونسا غلط اس کے بعد ایک لمبی مدت تک انسان ایک ہی نیک راستہ پر چلتے رہے اور اس طرح ایک امت کہلائے۔ لیکن پھر جیسے جیسے آبادی بڑھتی گئی لوگوں میں نئے نئے طریقے پیدا ہوتے گئے اور یوں لوگ مختلف گروہوں اور جماعتوں میں بٹنے شروع ہوگئے۔ یہ اس لیے نہیں ہوا تھا کہ ان کو حق اور ناحق کا علم نہیں تھا بلکہ وہ جانتے تھے کہ سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے۔ کچھ لوگ صرف اس لیے کہ اپنی بدفطرت سے مجبور ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–216
آیات 211- 216
اسرارو معارف
سل بنی اسرائیل………………وانتم لا تعلمون۔
آپ ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھئے ان کی تاریخ دیکھئے کہ اللہ نے انہیں کس قدر واضح دلائل عطا فرمائے اور اللہ کے نبی ان کے پاس کتنی دلیلیں لائے جن سے ان کی اصلاح مقصود تھی مگر جب انہوں نے سرکشی کی اور ان دلائل کو پس پشت ڈالا تو ان پر کیسے کیسے عذاب نازل ہوئے اور یہ تو قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نعمت کو ٹھکراتا ہے یعنی ایسے دائل جو اسے راہ ہدایت سمجھانے کے لئے اللہ کی طرف سے اس کے پاس پہنچے ان کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کا یقینی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رحمت باری سے محروم ہو کر اللہ کے غضب کا نشانہ بنتا ہے اور خدا کے عذاب بہت سخت ہیں جس…
Read the full tafseer →ف 4 اس آیت میں اس تاریخی حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ انسان یت کی ابتدا کفرو شرک اور بظاہر پرستی سے نہیں بلکہ خالص دین توحید سے ہوتی ہے ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین توحید رکھتے تھے اور ایک ہی ان کی ملت تھی، حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد حسب تصریح ابن عباس دس قرنوں (ایک ہزار سال) تک تمام لوگ موجود تھے اس کے بعد شیطان کے بیکانے ان میں شرک آیا اور اختلاف پیدا ہوئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھیجا اور پھر مسلسل انبیاء آتے رہے اور ان پر کتابیں نازل ہوتی رہیں تاکہ ان کو اختلافات سے نکال کر ہدایت الہی کی طرف لایا جائے پس آیت میں فبعث اللہ الخ۔ ا کا عطف مخذف پر ہے یعنی فاختلفو…
Read the full tafseer →(2:213) امۃ واحدۃ۔ موصوف صفت مل کر کان کی خبر۔ امۃ بمعنی امت ۔ جماعت، مدت ، دین، یہاں بمعنی دین مستعمل ہے۔ امۃ واحدۃ ای علی دین واحد۔
فبعث اللہ النبیین۔ بعث ماضی واحد مذکر غائب بعث (باب فتح) مصدر۔ اس نے بھیجا اس نے بھیجے (نبی) جملہ ہذا سے قبل فاختلفوا محذوف ہے عبارت یوں ہوگی : کان الناس امۃ واحدۃ فاختلفوا فیعث اللہ النبین (ابتداء میں لوگ ایک ہی دین پر تھے۔ پھر ان کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجا۔
مبشرین ومنذرین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب بوجہ مال نبیین سے (اہل ایمان کو جنت کے دیگر انعامات کی) خوشخبری دینے والے اور (منکرین کو ان کے گناہوں کی پاداش میں سزا سے) ڈرانے…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 213
کان الناس (لوگ تھے) ۔ امۃ واحدۃ (ایک جماعت) ۔ بعث (بھیجا) ۔ مبشرین (خوش خبری دینے والے (اچھے کاموں پر خوش خبری دینے والے) ۔ منذرین (ڈرانے والے (برے کاموں کے انجام سے ڈرانے والے) ۔ لیحکم (تا کہ وہ فیصلہ کر دے) ۔
تشریح : آیت نمبر 213
حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت آدم و حوا نے اس زمین پر قدم رکھا تھا اللہ نے آپ کی اولاد میں برکت عطا فرمائی اور وہ پھیلتے چلے گئے حضرت ادریس (علیہ السلام) تک جو تقریباً ایک ہزار سال کا عرصہ ہوتا ہے اس میں تمام لوگ ایک ہی شریعت کے پیروکار اور اللہ کی بھیجی ہوئی تعلیمات پر عمل کرتے رہے ان میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–214
شان نزول : حضرت بلال اور حضرت عمار بن یاسر اور اسی طرح کے غریب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کفار ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ یہی کنگال لوگ محمد ﷺ کے ساتھی ہیں جن کے بھروسہ پر وہ بڑے بڑے شہر فتح کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور کافروں کو تنبیہ فرمادی کہ تمہارا سارا دارومدار دنیا کی چند روزہ خوشحالی پر ہے اور آخرت کے تم منکر ہو، لیکن یہ اللہ کی مصلحت ہے وہ جسے چاہتا ہے دنیا کی چند روزہ خوشحالی دے دیتا ہے۔ جن کو چاہتا ہے دنیا میں تو اس کو تنگ حال رکھتا ہے مگر عقبیٰ میں ان کو عالی درجے ملتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–213
[142] اللہ کی نعمت سے مراد ہدایت وسعادت کی راہ ہے، بنی اسرائیل کو اللہ نے ہدایت وسعادت کی راہ دکھائی لیکن انہوں نے یہ نعمت پا کر اسے محرومی و شقاوت سے بدل ڈالا تو مبتلائے عذاب ہوئے۔
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیات میں پہلی بات تو یہ بتلائی کہ ابتداء تمام لوگ ایک ہی خیال وفکر کے تھے ، آہستہ آہستہ ضروریات بڑھیں اور اختلاف ہوتا گیا اور جب اختلاف حد سے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء مبعوث فرمائے ، تاکہ وہ اختلافات میں انسانی جماعت کی صحیح رہنمائی فرمائیں ، دوسری بات یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو کتابیں اور صحیفے دیئے گئے ، اس لئے کہ ان کے بغیر اختلاف کا مٹنا ناممکن تھا اور میری بات یہ کہ مومنین کی جماعت میں اختلاف نہیں ہوتا ، وہ مشکوۃ نبوت کی روشنی میں اپنے خیالات و انکار کو پرکھتے رہتے ہیں ۔ اس لئے ان میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی ، ان آیات سے مندرجہ ذلیل اصول معلوم ہوئے : ۔
(1)…
Read the full tafseer →ف 1 سب لوگ ابتدا میں ایک ہی جماعت اور ایک ہی خیال اور ایک ہی طریق کے تھے پھر باہم مختلف ہوگئے اور ان میں اختلاف رونما ہوا تو اس اختلاف کے رفع کرنے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا جن کا حال یہ تھا کہ وہ حق کے قبول کرنے والوں کو بشارت دیا کرتے تھے اور منکرین حق کو ان کے انجام سے ڈرایا کرتے تھے اور ان پیغمبروں کے ہمراہ مختلف کتابیں اور صحیفے بھی برحق اور برحمل نازل فرمائے تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے مابین ان کے امور مختلفہ کا فیصلہ فرما دے اور جس امر حق میں انہوں نے جھگڑا شروع کر رکھا تھا اس کو صاف کردے لیکن واقعہ یہ ہوا کہ اس کتاب میں اور کسی نے اختلاف پیدا نہیں کیا مگر…
Read the full tafseer →ف 1۔ اول دنیا میں حضرت آدم (علیہ السلام) مع اپنی بی بی کے تشریف لائے اور جو اولاد ہوتی گئی ان کو دین حق کی تعلیم فرماتے رہے اور وہ ان کی تعلیم پر عمل کرتے رہے ایک مدت اسی حالت میں گزر گئی پھر اختلاف طبائع سے اغراض میں اختلاف ہوناشروع ہوا حتی کہ ایک عرصہ کے بعد اعمال و عقائد میں اختلاف کی نوبت آگئی۔
Read the full tafseer →ایک وقت تھا کہ سب انسان ایک ہی جماعت تھے اور کوئی گروہ بندی نہ تھی :
363: دین کی اس اصل عظیم کا اعلان کہ ابتداء میں سب انسان ایک ہی قوم و جماعت تھے اور فطری زندگی کی سادگی پر قانع تھے پھر ایسا ہوا کہ نسل انسانی کی کثرت و وسعت سے طرح طرح کے تفرقے پیدا ہوگئے اور تفرقے کا نتیجہ ظلم و فساد کی صورت میں ظاہر ہوا تب وحی الٰہی نمودار ہوئی اور یکے بعد دیگرے اللہ کے رسول مبعوث ہوتے رہے۔ ہر رسول کی دعوت کا مقصد ایک ہی تھا یعنی خدا پرستی اور نیک عملی کی تلقین اور تفرقہ و اختلاف کی جگہ وحدت و اجتماع کا قیام ۔ کتاب اللہ ہمیشہ اس لئے نازل ہوئی تاکہ دین کے تفرقہ و اختلاف میں فیصلہ کرنے والی ہو اور لوگوں اور…
Read the full tafseer →Earlier, the real cause of the opposition to truth has been identified as the love of the worldly life. Now, the present verses point out that, all along the lanes of time, Allah has been showing clear signs to establish the true faith, yet the seekers of the mundane benefits have been working against it to safeguard their material interests.
Commentary
Stated in the verse is the fact that there was a time when all Human beings used to belong to one single community having common religion and belief - a faith, true and natural. Then came differences in temperaments and tastes, opinions and…
Read the full tafseer →230. When ignorant people attempt to trace the history of 'religion' they tend to the view that man began his life in the darkness of polytheisrn and that in the course of time, corresponding to man's progress, this darkness gradually receded and light increased till man arrived at monotheism.
The Qur'anic version, however, proclaims that man began his life in full light of the Truth. God revealed this Truth to the very first man He created, one to whom He intimated the right way of life for man. Thereafter the human race remained on the Right Way for some time and lived as one community.…
Read the full tafseer →