Al-Baqara 2:213

Al-Baqara · from ayah 213

2:213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۫— فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ۪— وَاَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ ؕ— وَمَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًا بَیْنَهُمْ ۚ— فَهَدَی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ ؕ— وَاللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۟كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ ۖ وَاَنۡزَلَ مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ بِالۡحَـقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ النَّاسِ فِيۡمَا اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ ‌ؕ وَمَا اخۡتَلَفَ فِيۡهِ اِلَّا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡهُ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنٰتُ بَغۡيًا ۢ بَيۡنَهُمۡ‌ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَا اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ مِنَ الۡحَـقِّ بِاِذۡنِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ

(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Mankind was [of] one religion [before their deviation]; then Allah sent the prophets as bringers of good tidings and warners and sent down with them the Scripture in truth to judge between the people concerning that in which they differed. And none differed over the Scripture except those who were given it - after the clear proofs came to them - out of jealous animosity among themselves. And Allah guided those who believed to the truth concerning that over which they had differed, by His permission. And Allah guides whom He wills to a straight path.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 26 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:213

ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقہ پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے، اور اُن کے ساتھ کتاب بر حق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے، ان کا فیصلہ کرے (اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا نہیں،) اختلاف اُن لوگوں نے کیا، جنہیں حق کا عمل دیا چکا تھا اُنہوں نے روشن ہدایات پا لینے کے بعد محض اس کے لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے پس جو لوگ انبیا پر ایمان لے آئے، انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اُس حق کا راستہ دکھا دیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا اللہ جسے چاہتا ہے، راہ راست دکھا دیتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

دراصل لوگ ایک ہی گروه تھے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہوجائے۔ اور صرف ان ہی لوگوں نے جنھیں کتاب دی گئی تھی، اپنے پاس دﻻئل آچکنے کے بعد آپس کے بغض وعناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا اس لئے اللہ پاک نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیئت سے رہبری کی اور اللہ جس کو چاہے سیدھی راه کی طرف رہبری کرتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(شروع میں) سارے انسان ایک ہی دین کے پیرو تھے، پھر (جب ان میں اختلاف ہوا تو) اللہ نے نبی بھیجے جو (حق والوں کو) خوشخبری سناتے، اور (باطل والوں کو) ڈراتے تھے، اور ان کے ساتھ حق پر مشتمل کتاب نازل کی، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں ان کا اختلاف تھا۔ اور (افسوس کی بات یہ ہے کہ) کسی اور نے نہیں بلکہ خود انہوں نے جن کو وہ کتاب دی گئی تھی، روشن دلائل آجانے کے بعد بھی، صرف باہمی ضد کی وجہ سے اسی (کتاب) میں اختلاف نکال لیا، پھر جو لوگ ایمان لائے اللہ نے انہیں اپنے حکم سے حق کی ان باتوں میں راہ راست تک پہنچایا جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا، اور اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست تک پہنچا دیتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

لوگ ایک دین پر تھے پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف اُنہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ابتداء میں) سب لوگ ایک ہی دین پر جمع تھے، (پھر جب ان میں اختلافات رونما ہو گئے) تو اﷲ نے بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبروں کو بھیجا، اور ان کے ساتھ حق پر مبنی کتاب اتاری تاکہ وہ لوگوں میں ان امور کا فیصلہ کر دے جن میں وہ اختلاف کرنے لگے تھے اور اس میں اختلاف بھی فقط انہی لوگوں نے کیا جنہیں وہ کتاب دی گئی تھی، باوجود اس کے کہ ان کے پاس واضح نشانیاں آچکی تھیں، (اور انہوں نے یہ اختلاف بھی) محض باہمی بغض و حسد کے باعث (کیا) پھر اﷲ نے ایمان والوں کو اپنے حکم سے وہ حق کی بات سمجھا دی جس میں وہ اختلاف کرتے تھے، اور اﷲ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرما دیتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

لوگ ایک ہی امت تھے، پھر اللہ نے نبی بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے، اور ان کے ہمراہ حق کے ساتھ کتاب اتاری، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اس میں اختلاف انھی لوگوں نے کیا جنھیں وہ دی گئی تھی، اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیلیں آچکیں، آپس کی ضد کی وجہ سے، پھر جو لوگ ایمان لائے اللہ نے انھیں اپنے حکم سے حق میں سے اس بات کی ہدایت دی جس میں انھوں نے اختلاف کیا تھا اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(ابتدا میں) سب لوگ ایک ہی طریق (دین) پر تھے (پھر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا) تو اللہ نے انبیاء کو بھیجا جو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے۔ ان انبیاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حق کو واضح کرنے والی کتاب بھی نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا۔ اور واضح دلائل آجانے کے بعد جن لوگوں نے اختلاف کیا تو (اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہیں حق بات کا علم نہ تھا بلکہ اصل وجہ یہ تھی) کہ ان میں ضد بازی اور انا کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ پھر جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے اذن سے ان اختلافی امور میں حق کا راستہ دکھا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ راست دکھلا دیتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

لوگ ایک ہی امت بنائے گئے، انہوں نے اختلاف پیدا کیا تو اللہ نے اپنے انبیاء بھیجے جو خوشخبری سناتے اور خبردار کرتے ہوئے آئے اور ان کے ساتھ کتاب بھیجی قول فیصل کے ساتھ تاکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں، ان میں فیصلہ کردے، اور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر ان ہی لوگوں نے جن کو یہ دی گئی تھی، بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات آچکی تھیں، محض باہمی ضدم ضدا کے سبب سے۔ پس اللہ نے اپنی توفیق بخشی سے اہل ایمان کی اس حق کے معاملے میں رہنمائی فرمائی جس میں لوگوں نے اختلاف کیا۔ اللہ جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سب لوگ شروع شروع میں ایک ہی طریقے پر تھے پھر ان میں اختلاف پڑنے پر اللہ نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے بنا کر اور ان کے ساتھ اپنی کتابیں بھی اتاریں حق کے ساتھ تاکہ اس طرح وہ فیصلہ فرمائے لوگوں کے درمیان ان تمام باتوں کے بارے میں جن میں وہ اختلاف میں پڑے ہوئے تھے اور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر انہی لوگوں نے جن کو وہ کتاب حق دی گئی تھی اس کے بعد کہ آچکیں تھیں ان کے پاس حق و ہدایت کی کھلی نشانیاں محض آپس کی ضد کی وجہ سے سو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرما دیا ان لوگوں کو جو ایمان کی روشنی رکھتے تھے اس حق و صواب کے لئے جس کے بارے میں یہ لوگ اختلاف میں پڑے ہوئے تھے اپنے اذن سے اور اللہ اپنے کمال علم و حکمت کی بناء پر جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے ہدایت کے نور سے سیدھے راستے کی طرف

— مولانا اسحاق مدنی

لوگ ایک ہی امت تھے۔۔ پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے۔ اور ان کے ساتھ کتب حق نازل کیں۔ کہ وہ لوگوں کے درمیان اس باب میں فیصلہ کرے جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے۔ اور کسی نے اس میں اختلاف نہیں کیا مگر انہی نے جنہیں وہ ملی تھی انہی کی ضد کے باعث بعد اس کے کہ انہیں کھلی ہوئی نشانیاں پہنچ چکی تھیں۔ پھر اللہ نے اپنے فضل سے انہیں جو ایمان والے تھے وہ امر حق بتادیا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے تھے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست بتا دیتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تمام انسان ایک ہی امت تھے تو اللہ نے (اپنے) نبی بھیجے جو خوشخبری سناتے اور خبردار کرتے ہوئے آئے اور ان کے ساتھ (اپنی) کتاب نازل فرمائی حق کے ساتھ تاکہ وہ فیصلہ کر دے لوگوں کے مابین ان امور میں جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا اور کتاب میں اختلاف نہیں کیا مگر ان ہی لوگوں نے جنہیں یہ دی گئی تھی اس کے بعد کہ ان کے پاس روشن ہدایات آچکی تھیں محض باہمی ضدم ضدا کے سبب سے پس اللہ نے ہدایت بخشی ان لوگوں کو جو ایمان لائے اس حق کے معاملے میں جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا اپنے حکم سے اور اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(دنیا کی ابتداء میں) سب لوگ ایک ہی طریقہ پر تھے (پھر اختلافات رونما ہونے لگے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کجروی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے، ان کا فیصلہ کرے اختلاف ان لوگوں نے کیا جن کو حق کا علم ہوچکا تھا۔ انہوں نے روشن ہدایات پانے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے، پس جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھا دیا جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

In the beginning all the people followed the same way. (Afterwards there came a change and differences arose). Then Allah sent Prophets to give good tidings to those who followed the Right Way and warnings to those who swerved from it. And He sent down with them the Book based on the Truth so that it should judge between the people concerning their differences. (Differences arose not because people were not given the knowledge of the Truth in the beginning, nay), differences arose between those very people who had been given clear teachings, and (for no other reasons than that) they wanted to tyrannize over one another. So Allah, by His leave, guided those who believed in the Prophets to the Truth about which they had differed; AIIah guides whomever He pleases to the Right Way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

All men used to be a single ‘Ummah (i.e. on a single faith) . Then (after they differed in matters of faith) , Allah sent prophets carrying good news and warning, and sent down with them the Book with Truth to judge between people in matters of their dispute. But it was no other than those to whom it (the Book) was given who, led by envy against each other, disputed it after the clear signs had come to them. Then Allah, by His will, guided those who believed to the truth over which they disputed; and Allah guides whom He wills to the straight path.

— Muhammad Taqi Usmani

All men used to be a single ‘Ummah (i.e. on a single faith) . Then (after they differed in matters of faith) , Allah sent prophets carrying good news and warning, and sent down with them the Book with Truth to judge between people in matters of their dispute. But it was no other than those to whom it (the Book) was given who, led by envy against each other, disputed it after the clear signs had come to them. Then Allah, by His will, guided those who believed to the truth over which they disputed; and Allah guides whom He wills to the straight path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Mankind was one community and Allah sent Prophets with glad tidings and warnings, and with them He sent down the Scripture in truth to judge between people in matters wherein they differed. And only those to whom (the Scripture) was given differed concerning it, after clear proofs had come unto them, through hatred, one to another. Then Allah by His leave guided those who believed to the truth of that wherein they differed. And Allah guides whom He wills to the straight path.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Mankind were one community, and Allah sent (unto them) prophets as bearers of good tidings and as warners, and revealed therewith the Scripture with the truth that it might judge between mankind concerning that wherein they differed. And only those unto whom (the Scripture) was given differed concerning it, after clear proofs had come unto them, through hatred one of another. And Allah by His Will guided those who believe unto the truth of that concerning which they differed. Allah guideth whom He will unto a straight path.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Mankind was [of] one religion [before their deviation]; then Allah sent the prophets as bringers of good tidings and warners and sent down with them the Scripture in truth to judge between the people concerning that in which they differed. And none differed over the Scripture except those who were given it - after the clear proofs came to them - out of jealous animosity among themselves. And Allah guided those who believed to the truth concerning that over which they had differed, by His permission. And Allah guides whom He wills to a straight path.

— Saheeh International

At one time all people were only one nation. God sent Prophets with glad news and warnings. He sent the Book with them for a genuine purpose to provide the people with the ruling about disputed matters among them. No one disputed this matter except those who had already received evidence before. Their dispute was only because of their own hostility. To deal with this dispute, God, through His will, sent guidance to the believers. God guides to the right path whomever He wants.

— Muhammad Sarwar

(All) people are a single nation; so Allah raised prophets as bearers of good news and as warners, and He revealed with them the Book with truth, that it might judge between people in that in which they differed; and none but the very people who were given it differed about it after clear arguments had come to them, revolting among themselves; so Allah has guided by His will those who believe to the truth about which they differed and Allah guides whom He pleases to the right path.

— Muhammad Habib Shakir

Mankind was one community; thereafter Allah raised prophets as bearers of glad tidings and warners, as He sent down the Book With truth that He may judge between mankind in that wherein they disputed. And none differed therein save those unto whom it was vouchsafed after the evidences had come to them, out of spite among themselves; then Allah guided those who believed unto the truth of that regarding which they differed, by His leave. Allah guideth whomsoever He listeth unto a path straight.

— Abdul Majid Daryabadi

Mankind was one single nation, and Allah sent Messengers with glad tidings and warnings; and with them He sent the Book in truth, to judge between people in matters wherein they differed; but the People of the Book, after the clear Signs came to them, did not differ among themselves, except through selfish contumacy. Allah by His Grace Guided the believers to the Truth, concerning that wherein they differed. For Allah guided whom He will to a path that is straight.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:213

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

آدم ؑ سے حضرت نوح ؑ تک حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ حضرت نوح اور حضرت آدم کے درمیان دس زمانے تھے ان زمانوں کے لوگ حق پر اور شریعت کے پابند تھے پھر اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث فرمایا، بلکہ آپ کی قرأت بھی یوں ہے آیت (وَمَا كَان النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا) 10۔ یونس :19) ابی بن کعب کی قرأت بھی یہی ہے، قتادہ ؓ نے اس کی تفسیر اسی طرح کی ہے کہ جب ان میں اختلاف پیدا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا پہلا پیغمبر بھیجا یعنی حضرت نوح ؑ ، حضرت مجاہد بھی یہی کہتے ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک روایت مروی ہے کہ پہلے سب کے سب کافر تھے، لیکن اول قول معنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 230 ناواقف لوگ جب اپنی قیاس و گمان کی بنیاد پر ”مذہب“ کی تاریخ مرتب کرتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ انسان نے اپنی زندگی کی ابتدا شرک کی تاریکیوں سے کی، پھر تدریجی ارتقا کے ساتھ ساتھ یہ تاریکی چھٹتی اور روشنی بڑھتی گئی یہاں تک کہ آدمی توحید کے مقام پر پہنچا۔ قرآن اس کے برعکس یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں انسان کی زندگی کا آغاز پوری روشنی میں ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس انسان کو پیدا کیا تھا اس کو یہ بھی بتادیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور تیرے لیے صحیح راستہ کون سا ہے۔ اس کے بعد ایک مدت تک نسل آدم راہ راست پر قائم رہی اور ایک امت بنی رہی۔ پھر لوگوں نے نئے نئے راستے نکالے اور مختلف طریقے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات اوپر دین حق سے اختلاف کرنے کی علت حب دنیا کو بتایا ہے آگے اسی مضمون کی تائید فرماتے ہیں کہ مدت سے یہی قصہ چلا آرہا ہے کہ ہم دلائل واضحہ دین حق پر قائم کرتے ہیں اور طالبان دنیا اپنی دنیوی اغراض کے سبب اس سے خلاف کرتے رہے۔ خلاصہ تفسیر (ایک زمانہ میں) سب آدمی ایک ہی طریق پر تھے (کیونکہ اول دنیا میں حضرت آدم ؑ مع اپنی بی بی کے تشریف لائے اور جو اولاد ہوتی گئی ان کو دین حق کی تعلیم فرماتے رہے اور وہ ان کی تعلیم پر عمل کرتے رہے ایک مدت اسی حالت میں گذر گئی پھر اختلاف طبائع سے اغراض میں اختلاف ہونا شروع ہوا حتی ٰکہ ایک عرصہ کے بعد اعمال و عقائد میں اختلاف کی نوبت آگئی) پھر (اس اختلاف کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اہل ایمان کی حوصلہ افزائی : اوپر اہل ایمان کے ساتھ کفار و منافقین کے مذاق و استہزا کا ذکر ہوا ہے، اب اس آیت میں اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ اطمینان رکھو، موقف حق پر تم ہی ہو، اختلافات و نزاعات کے درمیان فیصلہ کرنے والی حقیقت تمہارے ہی پاس ہے اور کفر وضلالت کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے کے اندر صرف تمہی ہو جن کو صراط مستقیم کی ہدایت نصیب ہوئی ہے۔ یہ کفار و منافقین جو تمہاری مخالفت کر رہے ہیں اور تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں یہ سب اس باہمی ضد اور عناد کا کرشمہ ہے جس میں یہ ہمیشہ سے مبتلا ہیں اور اس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ خا کی ہدایت کے ایسے دشمن ہوگئے ہیں کہ نہ اس کو خود پانا چاہتے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

213۔ 1 یعنی توحید پر۔ یہ حضرت آدم ؑ سے حضرت نوح ؑ ، یعنی دس صدیوں تک لوگ توحید پر، جس کی تعلیم انبیاء دیتے رہے قائم رہے۔ آیت مفسرین صحابہ نے فاختَلَفُوْا منسوخ مانا ہے یعنی اس کے بعد شیطان کی وسوسہ اندازی سے ان کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا اور شرک و ظاہر پرستی عام ہوگئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اختلاف کا فیصلہ اور حق اور توحید قائم اور واضح کریں (ابن کثیر) 213۔ 2 اختلاف ہمیشہ راہ حق سے انحراف کی وجہ سے ہوتا ہے اور انحراف کا منبع بغض اور عناد بنتا ہے امت مسلمہ میں بھی جب تک یہ انحراف نہیں آیا یہ امت اپنی اصل پر قائم اور اختلاف کی شدت سے محفوظ رہی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 212–216

140: یہ فقرہ دراصل کفار کے اس باطل دعوی کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہمیں خوب رزق دے رہا ہے، اس لئے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہمارے عقائد اور اعمال سے ناراض نہیں ہے، جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں، دنیوی رزق کے لئے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے، یہاں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ ہے وہ کہانی ۔ پہلے سب لوگ ایک امت ہی کے افراد تھے ۔ ایک تصور زندگی اور ایک ہی طرز عمل تھا۔ یہ اشارہ ہے اس چھوٹے انسانی خاندان کی طرف ، جو حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کی ان اولاد پر مشتمل تھا ۔ اور ابھی ابن آدم کے درمیان افکار ونظریات کا اختلاف پیدا نہ ہوا تھا ۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کا آغاز ایک چھوٹے سے خاندان سے محض اس لئے کیا کہ انسانی زندگی میں خاندانی نظام خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ابتدا میں انسانیت پر ایک ایسا دور گزرا ہے ، جس میں سب انسان ایک ہی سطح کے تھے ، ان کا ایک ہی رخ تھا ، ایک ہی نظریہ تھا ۔ وہ صرف ایک ہی خاندان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 حضرت آدم (علیہ السلام) کے وقت سے ایک ہی سچا دین رہا ایک مدت تک اس کے بعد دین میں لوگوں نے اختلاف ڈالا تو خدا تعالیٰ نے انبیاء کو بھیجا جو اہل ایمان وطاعت کو ثواب کی بشارت دیتے تھے اور اہل کفر و معصیت کو عذاب سے ڈراتے تھے اور ان کے ساتھ سچی کتاب بھی بھیجی تاکہ لوگوں کا اختلاف اور نزاع دور ہو اور دین حق ان کے اختلافات سے محفوظ اور قائم رہے اور احکام الٰہی میں انہی لوگوں نے اختلاف ڈالا جن کو وہ کتاب ملی تھی جیسے یہود و نصاریٰ تورات و انجیل میں اختلاف و تحریف کرتے تھے اور یہ نزاع بےسمجھی سے نہیں کرتے تھے بلکہ خوب سمجھ کر محض حب دنیا اور ضد اور حسد سے ایسا کرتے تھے سوا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 213 کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدا میں سب کے سب انسان ایک ہی امت تھے۔ تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام نبی ہیں۔ چناچہ امت تو ایک ہی تھی۔ جب تک ان میں گمراہی پیدا نہیں ہوئی ‘ اختلافات پیدا نہیں ہوئے ‘ شیطان نے کچھ لوگوں کو نہیں ورغلایا ‘ اس وقت تک تو تمام انسان ایک ہی امت تھے۔ اب یہاں پر ایک لفظ محذوف ہے : ثُمَّ اخْتَلَفُوْا پھر ان میں اختلافات ہوئے۔ اختلاف کے نتیجے میں فساد پیدا ہوا اور کچھ لوگوں نے گمراہی کی روش اختیار کرلی۔ آدم علیہ السلام کا ایک بیٹا اگر ہابیل تھا تو دوسرا قابیل بھی تھا۔ فَبَعَثَ اللّٰہُ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

281 اس امت واحدہ کا طریق اور دین کیا تھا ؟ وہ تھا توحید خالص اور صرف اللہ اکیلے کی اطاعت اور بندگی۔ یہی چیز انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں سب سے پہلے انسان ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) خود نبی تھے۔ لہذا آپ (علیہ السلام) کی ساری اولاد اور آپ (علیہ السلام) کی امت اسی دین پر قائم تھی۔ مگر موجودہ دور کے مغربی علماء (جنہیں ہم مسلمانوں نے آج کل ہر شعبہ علم میں انہیں اپنا استاد تسلیم کرلیا ہے) جب مذہب کی تاریخ لکھنے بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان نے اپنی زندگی کا آغاز شرک کی تاریکیوں سے کیا، پھر اس پر کئی ادوار آئے اور بالآخر انسان توحید کے مقام پر پہنچا ہے اور یہی نظریہ ہمارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

772 ۔ (آغاز فطرت میں) آیت نے ایک بڑی گرہ کھول دی، فرنگی ” محققین “۔ حسب معمول مدتوں اس باب میں بھٹکتے رہے، اور ان میں سے اکثر یہی کہے گئے کہ انسان کا ابتدائی مذہب شرک یا تعدد الہہ تھا۔ شروع شروع وہ ایک چیز کو خدا سمجھتا تھا۔ اور عقیدۂ توحید تک تو نسل انسانی بہت سی ٹھوکریں کھانے کے بعد، اور عقلی ودماغی ارتقاء کے بڑے طویل سفر کے بعد پہنچی ہے۔ قرآن مجید نے اس خرافی نظریہ کو ٹھکراکر صاف اعلان کردیا کہ نسل انسانی آغاز فطرت میں دینی حیثیت سے ایک، اور واحد تھی، اس میں ” مذہب “ و ” ادیان “ کے یہ تفرقے کچھ بھی نہ تھے۔ (آیت) ” امۃ واحدۃ “ میں جس وحدت کا ذکر ہے ظاہر ہے کہ اس سے دینی واعتقادی ہی وحدت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ، ابتداء میں لوگ ایک ہی طریقہ یعنی توحید پر تھے پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے، حضرت آدم (علیہ السلام) سے حضرت نوح (علیہ السلام) یعنی دس صدیوں تک لوگ توحید پر رہے اس آیت میں مفسرین صحابہ نے، فَاخْتَلَفُوْا، محذوف مانا ہے یعنی اس کے بعد شیطان کی وسوسہ اندازی سے ان کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا اور شرک و مظاہر پرستی عام ہوگئی فَبَعَثَ ، کا عطف فاختلفوا، (محذوف) پر ہے پس اللہ نے نبیوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اختلاف کا فیصلہ اور حق و توحید کو قائم اور واضح کریں۔ ناواقف لوگ جو اپنے قیاس و گمان کی بنیاد پر مذہب کی تاریخ مرتب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

كَان النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۣ ( پہلے سب لوگ ایک ہی دین رکھتے تھے) بزار نے اپنی مسند میں اور ابن جریر۔ ابن ابی حاتم۔ ابن منذر نے اپنی اپنی تفسیر میں اور حاکم نے مستدرک میں ابن عباس سے صحیح سند سے نقل کی ہے ابن عباس فرماتے ہیں کہ آدم اور نوح ( علیہ السلام) کے درمیان میں دس قرن کا فاصلہ تھا یہ سب لوگ ایک ہی حق دین پر تھے پھر ان میں اختلاف ہوگیا اور اسی طرح ابن ابی حاتم نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ یہ سب دس قرن تھے۔ سب لوگ علماء اور ہدایت یافتہ تھے پھر ان میں اختلاف پڑگیا اس وقت اللہ پاک نے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجا اللہ نے سب سے پہلے زمین پر حضرت نوح ( علیہ السلام) ہی کو پیغمبر بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(213) انسان حضرت نوح ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ میں ایک ملت یعنی کفر پر قائم تھے اور یہ بھی تفسیر کی گئی کہ حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ میں مسلمان تھے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے ایسے انبیاء کرام کو بھیجا جو مومنین کو جنت کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں کو دوزخ کے عذاب سے ڈراتے اور ان پر جبریل امین کے ذریعے ایسی کتاب کو بھی نازل کیا گیا جو حق اور باطل کو بیان کرنے والی تھی تاکہ ہر ایک نبی دینی مسائل میں اپنی کتاب کے ذریعے سے فیصلہ کرسکے تاکہ وہ کتاب آپس میں فیصلہ کرسکے اور اگر (آیت) ”لیحکم“۔ لتحکم، تاء کے ساتھ پڑھا جائے تو اس سے رسول اکرم ﷺ کی ذات…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس آیت میں اس تاریخی حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ انسانیت کی ابتدا کفر و شرک اور عظیم الشان مخلوقات، مثلاً سورج، چاند، آگ، ہوا، پانی، فرشتوں اور نیک انسانوں وغیرہ کی پرستش سے نہیں ہوئی، بلکہ خالص توحید سے ہوئی ہے۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین توحید رکھتے تھے اور ان کی ایک ہی ملت تھی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”آدم اور نوح ؑ کے درمیان دس قرن (ایک ہزار سال) تھے۔ یہ سب شریعت حقہ (توحید) پر تھے، پھر (شیطان کے بہکانے سے ان میں شرک آیا اور) ان میں اختلافات پیدا ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے (نوح ؑ اور دوسرے) انبیاء بھیجے۔“ [ طبری و حاکم 2؍442، ح : 3654، بسند صحیح ] پھر مسلسل انبیاء آتے رہے اور ان پر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” کان الناس امۃ واحدۃ “ کا معنی ہے سب لوگ ایک دین پر تھے۔ حضرت ابی بن کعب اور ابن زید نے کہا ہے کہ ” الناس “ سے مراد بنی آدم (اولاد آدم) ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں روحوں کی صورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا۔ حضرت مجاہد نے کہا ہے : ” الناس “ سے مراد صرف حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، (پھر اس پر یہ سوال ہوتا ہے) کہ واحد کو لفظ جمع کا نام کیوں دیا گیا ہے ؟ (تو جواب یہ ہے کہ اس لئے) کیونکہ آپ ہی ساری نسل کی اصل اور بنیاد ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” الناس “ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت مائی حوا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی حاتم، ابو یعلی، طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” کان الناس امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے سارے لوگ اسلام پر تھے۔ (2) البزار ابن المنذر، ابن ابی حاتم، حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان دس صدیاں تھیں۔ سب کے سب سچے دین پر تھے۔ پھر انہوں نے آپس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے دوسرے نبیوں کو بھیجا۔ (اور) فرمایا کہ اسی طرح عبد اللہ (ابن مسعود) کی قرأت میں ہے لفظ آیت ” کان الناس امۃ واحدۃ فاختلفوا “ (3) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے ابی ابن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (لوگ) ایک امت تھے جب آدم (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ کَانَ النَّاسُ : لوگ تھے ] [ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً : ایک امت ] [ فَـبَعَثَ : تو بھیجا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ النَّبِیّٖنَ : انبیاء کو ] [ مُبَشِّرِیْنَ : بشارت دینے والے ہوتے ہوئے ] [ وَمُنْذِرِیْنَ : اور خبردار کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ وَاَنْزَلَ : اور اس نے اتاری ] [ مَعَہُمُ : ان کے ساتھ ] [ الْـکِتٰبَ : کتاب ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ لِیَحْکُمَ : تاکہ وہ فیصلہ کرے ] [ بَیْنَ النَّاسِ : لوگوں کے ] [ مابین ] [ فِیْمَا : اس میں ] [ اخْتَلَفُوْا : انہوں نے اختلاف کیا ] [ فِیْہِ : جس میں ] [ وَمَا اخْتَلَفَ : اور اختلاف نہیں کیا ] [ فِیْہِ : اس میں ] [ اِلاَّ الَّذِیْنَ : مگر ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سارے انسان امت واحدہ تھے، حق واضح ہونے کے بعد عناد اور ضد کی وجہ سے مختلف فرقے ہوگئے تفسیر درمنثور ص 243 ج 1 میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کے درمیان جو قرنیں تھیں یہ سب ہدایت پر اور حق شریعت پر تھے، پھر لوگوں نے اختلاف کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھیجا جو (اس اختلاف کے بعد) سب سے پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا، اور ایسے وقت میں بھیجا جب کہ لوگوں میں اختلاف ہوچکا تھا اور حق کو چھوڑ چکے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں جو مخلوق پر حجت ہیں۔ اور تفسیر قرطبی ص 31 ج 2 میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 211–214

تنبیہات وتہدیدات۔ قال تعالی، سل بنی اسرائیل کم۔۔۔ الی۔۔۔ قریب۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں دلائل واضحہ آجانے کے بعد حق کی مخالفت پر تنبیہ اور تہدید تھی آئندہ آیات میں اور چند تنبیہات اور تہدیدات کو ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کے صریح اور واضح حکم کے بعد عدولی حکمی موجب عذاب ہے اگر تم کو اس میں کچھ تردد ہے تو بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ ہم نے ان کو کتنی واضح اور روشن دلیلیں عطا کی تھیں تاکہ حق واضح اور روشن ہوجائے یہ اللہ جل شانہ کی ایک نعمت کبری تھی اس نعمت کا شکر اور حق یہ تھا کہ دل وجان سے حق کو قبول کرتے لیکن دیدہ دانستہ حق سے انحراف کیا نتیجہ یہ نکلا کہ عذاب میں مبتلا ہوئے اور طرح طرح کی ذلتیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

404 یہاں وحدت سے دین اور عقیدے کی وحدت مراد ہے یعنی شروع میں لوگ ایک ہی دین پر تھے اور سارے کے سارے دین اسلام کے پابند اور توحید پرست تھے۔ متفقین علی عین الاسلام (مدارک ص 83 ج 1 متفقین علی التوحید مقرین لعبودیتہ (روح ص 100 ج 2) اس سے معلوم ہوا کہ آغاز فطرت میں انسان توحید پرست تھا۔ اور شرک کی بیماری بعد میں پھیلی ہے۔ پہلی کتابوں میں مسئلہ توحید موجود تھا بعض پلیدوں نے بسبب بغاوت توحید کی مخالفت کی اور پچھلے لوگ باغیوں کی عبارتیں دیکھ کر مسئلہ توحید کے بارے میں شبہات میں پڑگئے۔ لیکن ان کا شبہ خدا کے یہاں کتاب اللہ کی موجودگی میں قبول نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کرو۔ ٖ 405 یہ ماقبل پر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی تھی کہ جو شخص نعمت الٰہی کے حصول کے بعد اس کی تکذیب کرتا ہے ، وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ اللہ جل جلالہ ، نے بنی اسرائیل کا بطور مثال ذکر فرمایا کہ ہم نے انہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا مگر اس قوم نے ناشکر گزاری کی اور طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار ہوئی۔ گویا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنی۔ گزشتہ درس میں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ فتنہ و فساد کی اصل جڑ حب دنیا ہے۔ دنیا کی محبت میں گرفتار کفار اہل ایمان سے ٹھٹا کرتے ہیں اور ان کو حقیر جانتے ہیں۔ حالانکہ کامیابی کا اصل دار و مدار مال و دولت پر نہیں بلکہ تقویٰ و پرہیز گاری پر ہے۔ اہل تقویٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً۝ 0 ۣ فَبَعَثَ اللہُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ۝ 0 ۠ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِــيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِـيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْہِ۝ 0 ۭ وَمَا اخْتَلَفَ فِيْہِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْہُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْہُمُ الْبَيِّنٰتُ بَغْيًۢا بَيْنَہُمْ۝ 0 ۚ فَہَدَى اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْہِ مِنَ الْحَقِّ بِـاِذْنِہٖ۝ 0 ۭ وَاللہُ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ۝ 213 نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 212–213

ترکیب : زین فعل مجہول للذین کفروا متعلق ہے زین کے الحیوہ الدنیا صفت و موصوف مفعول مالم یسم فاعلہ اور زین کہا زینت نہ کہا کس لیے کہ زین اور الحیوۃ الخ میں فاصلہ آگیا۔ دوم یہ کہ مونث حقیقی نہیں ہے ویسخرون معطوف ہے زین پر۔ والذین اتقوا مبتداء وفوقہم خبر القیامۃ طرف سے مبشرین و منذرین حال ہے النبین سے وانزل موضع حال میں ہے کتاب سے بالحق بھی ہے اے مشتملا علی الحق لیحکم ای الکتاب اور لام متعلق ہے انزل سے فیہ ای الحق اوتوہ ای الکتاب من بعد الخ جملۃ متعلقہ ہے اختلف سے بغیًا مفعول لہ ہے اختلف کا من الحق حال ہے ضمیر فیہ یا ما سے باذنہ حال ہے الذین آمنوا سے ای ماذو نالہم تفسیر : پہلی آیت میں اشارہ تھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کَانَ النَّاسُ اُمَّـۃً وَّاحِدَۃً قف فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ص وَاَنْزَلَ مَعَھُمُ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَااخْتَلَفُوْا فِیْہِ ط وَمَااخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًا م بَیْنَھُمْ ج فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ ط وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَـقِیْمٍ (لوگ ایک امت تھے۔ پھر اللہ نے نبیوں کو بھیجا، بشارت دینے والے اور ڈرانے والے اور ان پر کتاب برحق اتاری تاکہ وہ فیصلہ کریں لوگوں میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : دنیاوی فوائد، سماجی، سیاسی، اور مذہبی اختلافات کی وجہ سے امت کی وحدت ختم ہوگئی۔ وحدت اور دین حق کے احیاء کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء مبعوث فرمائے۔ لوگوں نے ان سے بھی اختلاف کیا حالانکہ انبیاء ‘ اختلافات مٹانے کے لیے آئے تھے۔ قرآن و حدیث کے علم سے بےبہرہ دین دشمن مستشرقین اور نام نہاد دانش مندوں نے کئی نسلوں سے یہ پروپیگنڈہ کر رکھا ہے کہ انسان تخلیقی طور پر تاریکی اور شرک کے ماحول میں پیدا ہوا ہے۔ اسی لیے انسان نے نسل در نسل ارتقاء کے بعد آہستہ آہستہ اپنے خالق کو پہچانا ہے۔ یہ باطل نظریات انگلش لٹریچر میں منظم طریقے کے ساتھ پھیلائے گئے ہیں اسی نظریے کی بنیاد پر عیسائیوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 213: کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلاَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْم بََعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ فَہَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ وَاللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (سب لوگ ایک ہی دین رکھتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء ( علیہ السلام) کو بھیجا۔ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے اور ان کے ساتھ سچی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 213۔: (آیت)” کان الناس امۃ واحدہ “ ایک دین پر تھے حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد صرف حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں کہ وہ امت واحدہ تھے حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ ایک آدم کو لفظ جمع (امۃ) سے ذکر کیا گیا کیونکہ وہ نسل انسانی کی بنیاد اور ابو البشر ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے حضرت حوا کو پیدا فرمایا ، پھر ان دونوں سے انسانوں کو پھیلایا ، پس وہ پھیل گئے اور سب مسلمان تھے یہاں تک کہ ھابیل قتل کیا گیا ، پس انہوں نے اختلاف کیا (آیت)” بعث اللہ النبیین “ حضرت حسن (رح) اور حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ لوگ وفات آدم سے بعثت نوح (علیہ السلام) تک ایک امت تھے ملت کفر پر تھے جانوروں کی مانند…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کے مابین کے زمانے تک دس قرن گذرے ہیں ان دس قرنوں میں سب لوگ موحد تھے بت پرستی سر زمین پر کہیں نہیں تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) سے پہلے اس قوم کے چند نیک آدمی مرگئے جو لوگ ان وفات یافتہ لوگوں کے معتقد تھے ان کو ان نیک لوگوں کی وفات کا ان کی صورتیں آنکھوں کے سامنے اٹھ جانے کا بڑا صدمہ ہوا شیطان نے موقع پاکر ان لوگوں کے جی میں یہ وسوسہ ڈالا کہ اگر ان مرے ہوئے بزرگ لوگوں کی صورت کے موافق پیتل اور تانبے کی صورتیں بنا کر جہاں عبادت خانوں میں وہ نیک لوگ بیٹھا کرتے تھے وہاں مورتیں رکھ لی جائیں اور ان مورتوں کے وہی نام رکھے جائیں جو ان اصل نیک شخصوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی وہ سب ہدایت پر جمع تھے اور یہ سلسلہ آدم ( علیہ السلام) کے بعد دس صدیوں تک جاری رہا۔ پھر جب انہوں نے دین میں اختلاف کیا تو ایک گروہ کافر ہوگیا اور دوسرا گروہ دین پر قائم رہا اور ان کے درمیان اختلاف ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان فیصلے اور ان پر حجت قائم کرنے کے لئے رسول بھیجے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام لوگ کفر، ضلالت اور شقاوت پر مجتمع تھے۔ ان کے سامنے کوئی روشنی اور ایمان کی کوئی کرن نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف انبیاء و رسل ( علیہ السلام) بھیج کر ان پر رحم فرمایا (آیت) مُبَشِّرِيْنَ ” بشارت دینے والے “ یعنی یہ رسول لوگوں کو خوشخبری سناتے کہ اللہ کی اطاعت کے ثمرات،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 211–213

قول باری ہے (کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبیین ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلاف رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے) اس کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ تمام لوگ کفر کے طریقے پر تھے اگرچہ ان کے مذاہب مختلف تھے اور یہ ممکن ہے کہ ا ن میں مسلمان بھی ہوں اگرچہ ان کی تعداد تھوڑی تھی، اس صورت حال کے تحت کافروں کی جماعت پر امت کے لفظ کا اطلاق درست ہوگیا اس لئے کہ ایک لفظ کا اطلاق اکثریت اور عمومیت کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ ضحاک اور قتادہ کا قول ہے کہ پہلے تما م لوگ حق کے راستے پر ایک امت تھے لیکن پھر ان میں اختلافات پیدا ہوگئے۔ قول باری ہے (فھدی اللہ الذین امنوا لما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 212–213

582 حب دنیا ہلاکت و بربادی کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بیماری کی جڑ بنیاد دنیا کے متاع فانی پر ریجھ جانا اور اس کی محبت میں گرفتار ہوجانا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ پس اس ارشاد سے اصل مرض کی تشخیص فرما دی گئی ہے کہ ان لوگوں کی اس محرومی اور بدنصیبی کی اصل وجہ یہ ہے، کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی اور اس کے متاع فانی پر ریجھ گئے، اور انہوں نے اس کے متاع فانی اور حطام زائل ہی کو سب کچھ سمجھ لیا، جس کی بناء پر یہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ اور اس وجہ سے انہوں نے آخرت کی اصل، حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا جو کہ خساروں کا خسارہ اور دائمی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اتحاد امت عقیدہ کی وجہ سے تشریح : اللہ تعالیٰ نے تاریخ ابن آدم کا ہلکا سا ذکر کیا ہے۔ وہ اس طرح کہ جب آدم (علیہ السلام) دنیا میں آئے تو ان کو حقیقت بتا دی گئی تھی اور یہ سمجھا دیا گیا تھا کہ کونسا راستہ ٹھیک ہے اور کونسا غلط اس کے بعد ایک لمبی مدت تک انسان ایک ہی نیک راستہ پر چلتے رہے اور اس طرح ایک امت کہلائے۔ لیکن پھر جیسے جیسے آبادی بڑھتی گئی لوگوں میں نئے نئے طریقے پیدا ہوتے گئے اور یوں لوگ مختلف گروہوں اور جماعتوں میں بٹنے شروع ہوگئے۔ یہ اس لیے نہیں ہوا تھا کہ ان کو حق اور ناحق کا علم نہیں تھا بلکہ وہ جانتے تھے کہ سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے۔ کچھ لوگ صرف اس لیے کہ اپنی بدفطرت سے مجبور ہو کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 211–216

آیات 211- 216 اسرارو معارف سل بنی اسرائیل………………وانتم لا تعلمون۔ آپ ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھئے ان کی تاریخ دیکھئے کہ اللہ نے انہیں کس قدر واضح دلائل عطا فرمائے اور اللہ کے نبی ان کے پاس کتنی دلیلیں لائے جن سے ان کی اصلاح مقصود تھی مگر جب انہوں نے سرکشی کی اور ان دلائل کو پس پشت ڈالا تو ان پر کیسے کیسے عذاب نازل ہوئے اور یہ تو قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نعمت کو ٹھکراتا ہے یعنی ایسے دائل جو اسے راہ ہدایت سمجھانے کے لئے اللہ کی طرف سے اس کے پاس پہنچے ان کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کا یقینی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رحمت باری سے محروم ہو کر اللہ کے غضب کا نشانہ بنتا ہے اور خدا کے عذاب بہت سخت ہیں جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 اس آیت میں اس تاریخی حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ انسان یت کی ابتدا کفرو شرک اور بظاہر پرستی سے نہیں بلکہ خالص دین توحید سے ہوتی ہے ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین توحید رکھتے تھے اور ایک ہی ان کی ملت تھی، حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد حسب تصریح ابن عباس دس قرنوں (ایک ہزار سال) تک تمام لوگ موجود تھے اس کے بعد شیطان کے بیکانے ان میں شرک آیا اور اختلاف پیدا ہوئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھیجا اور پھر مسلسل انبیاء آتے رہے اور ان پر کتابیں نازل ہوتی رہیں تاکہ ان کو اختلافات سے نکال کر ہدایت الہی کی طرف لایا جائے پس آیت میں فبعث اللہ الخ۔ ا کا عطف مخذف پر ہے یعنی فاختلفو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:213) امۃ واحدۃ۔ موصوف صفت مل کر کان کی خبر۔ امۃ بمعنی امت ۔ جماعت، مدت ، دین، یہاں بمعنی دین مستعمل ہے۔ امۃ واحدۃ ای علی دین واحد۔ فبعث اللہ النبیین۔ بعث ماضی واحد مذکر غائب بعث (باب فتح) مصدر۔ اس نے بھیجا اس نے بھیجے (نبی) جملہ ہذا سے قبل فاختلفوا محذوف ہے عبارت یوں ہوگی : کان الناس امۃ واحدۃ فاختلفوا فیعث اللہ النبین (ابتداء میں لوگ ایک ہی دین پر تھے۔ پھر ان کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجا۔ مبشرین ومنذرین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب بوجہ مال نبیین سے (اہل ایمان کو جنت کے دیگر انعامات کی) خوشخبری دینے والے اور (منکرین کو ان کے گناہوں کی پاداش میں سزا سے) ڈرانے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن : آیت نمبر 213 کان الناس (لوگ تھے) ۔ امۃ واحدۃ (ایک جماعت) ۔ بعث (بھیجا) ۔ مبشرین (خوش خبری دینے والے (اچھے کاموں پر خوش خبری دینے والے) ۔ منذرین (ڈرانے والے (برے کاموں کے انجام سے ڈرانے والے) ۔ لیحکم (تا کہ وہ فیصلہ کر دے) ۔ تشریح : آیت نمبر 213 حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت آدم و حوا نے اس زمین پر قدم رکھا تھا اللہ نے آپ کی اولاد میں برکت عطا فرمائی اور وہ پھیلتے چلے گئے حضرت ادریس (علیہ السلام) تک جو تقریباً ایک ہزار سال کا عرصہ ہوتا ہے اس میں تمام لوگ ایک ہی شریعت کے پیروکار اور اللہ کی بھیجی ہوئی تعلیمات پر عمل کرتے رہے ان میں کوئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 212–214

شان نزول : حضرت بلال اور حضرت عمار بن یاسر اور اسی طرح کے غریب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کفار ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ یہی کنگال لوگ محمد ﷺ کے ساتھی ہیں جن کے بھروسہ پر وہ بڑے بڑے شہر فتح کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور کافروں کو تنبیہ فرمادی کہ تمہارا سارا دارومدار دنیا کی چند روزہ خوشحالی پر ہے اور آخرت کے تم منکر ہو، لیکن یہ اللہ کی مصلحت ہے وہ جسے چاہتا ہے دنیا کی چند روزہ خوشحالی دے دیتا ہے۔ جن کو چاہتا ہے دنیا میں تو اس کو تنگ حال رکھتا ہے مگر عقبیٰ میں ان کو عالی درجے ملتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 211–213

[142] اللہ کی نعمت سے مراد ہدایت وسعادت کی راہ ہے، بنی اسرائیل کو اللہ نے ہدایت وسعادت کی راہ دکھائی لیکن انہوں نے یہ نعمت پا کر اسے محرومی و شقاوت سے بدل ڈالا تو مبتلائے عذاب ہوئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) ان آیات میں پہلی بات تو یہ بتلائی کہ ابتداء تمام لوگ ایک ہی خیال وفکر کے تھے ، آہستہ آہستہ ضروریات بڑھیں اور اختلاف ہوتا گیا اور جب اختلاف حد سے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء مبعوث فرمائے ، تاکہ وہ اختلافات میں انسانی جماعت کی صحیح رہنمائی فرمائیں ، دوسری بات یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو کتابیں اور صحیفے دیئے گئے ، اس لئے کہ ان کے بغیر اختلاف کا مٹنا ناممکن تھا اور میری بات یہ کہ مومنین کی جماعت میں اختلاف نہیں ہوتا ، وہ مشکوۃ نبوت کی روشنی میں اپنے خیالات و انکار کو پرکھتے رہتے ہیں ۔ اس لئے ان میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی ، ان آیات سے مندرجہ ذلیل اصول معلوم ہوئے : ۔ (1)…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 سب لوگ ابتدا میں ایک ہی جماعت اور ایک ہی خیال اور ایک ہی طریق کے تھے پھر باہم مختلف ہوگئے اور ان میں اختلاف رونما ہوا تو اس اختلاف کے رفع کرنے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا جن کا حال یہ تھا کہ وہ حق کے قبول کرنے والوں کو بشارت دیا کرتے تھے اور منکرین حق کو ان کے انجام سے ڈرایا کرتے تھے اور ان پیغمبروں کے ہمراہ مختلف کتابیں اور صحیفے بھی برحق اور برحمل نازل فرمائے تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے مابین ان کے امور مختلفہ کا فیصلہ فرما دے اور جس امر حق میں انہوں نے جھگڑا شروع کر رکھا تھا اس کو صاف کردے لیکن واقعہ یہ ہوا کہ اس کتاب میں اور کسی نے اختلاف پیدا نہیں کیا مگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اول دنیا میں حضرت آدم (علیہ السلام) مع اپنی بی بی کے تشریف لائے اور جو اولاد ہوتی گئی ان کو دین حق کی تعلیم فرماتے رہے اور وہ ان کی تعلیم پر عمل کرتے رہے ایک مدت اسی حالت میں گزر گئی پھر اختلاف طبائع سے اغراض میں اختلاف ہوناشروع ہوا حتی کہ ایک عرصہ کے بعد اعمال و عقائد میں اختلاف کی نوبت آگئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایک وقت تھا کہ سب انسان ایک ہی جماعت تھے اور کوئی گروہ بندی نہ تھی : 363: دین کی اس اصل عظیم کا اعلان کہ ابتداء میں سب انسان ایک ہی قوم و جماعت تھے اور فطری زندگی کی سادگی پر قانع تھے پھر ایسا ہوا کہ نسل انسانی کی کثرت و وسعت سے طرح طرح کے تفرقے پیدا ہوگئے اور تفرقے کا نتیجہ ظلم و فساد کی صورت میں ظاہر ہوا تب وحی الٰہی نمودار ہوئی اور یکے بعد دیگرے اللہ کے رسول مبعوث ہوتے رہے۔ ہر رسول کی دعوت کا مقصد ایک ہی تھا یعنی خدا پرستی اور نیک عملی کی تلقین اور تفرقہ و اختلاف کی جگہ وحدت و اجتماع کا قیام ۔ کتاب اللہ ہمیشہ اس لئے نازل ہوئی تاکہ دین کے تفرقہ و اختلاف میں فیصلہ کرنے والی ہو اور لوگوں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Earlier, the real cause of the opposition to truth has been identified as the love of the worldly life. Now, the present verses point out that, all along the lanes of time, Allah has been showing clear signs to establish the true faith, yet the seekers of the mundane benefits have been working against it to safeguard their material interests. Commentary Stated in the verse is the fact that there was a time when all Human beings used to belong to one single community having common religion and belief - a faith, true and natural. Then came differences in temperaments and tastes, opinions and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

230. When ignorant people attempt to trace the history of 'religion' they tend to the view that man began his life in the darkness of polytheisrn and that in the course of time, corresponding to man's progress, this darkness gradually receded and light increased till man arrived at monotheism. The Qur'anic version, however, proclaims that man began his life in full light of the Truth. God revealed this Truth to the very first man He created, one to whom He intimated the right way of life for man. Thereafter the human race remained on the Right Way for some time and lived as one community.…

Read the full tafseer →