Explained with ayahs 211–212
احسان فراموش اسرائیل اور ترغیب صدقات
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو بنی اسرائیل کو میں نے بہت سے معجزات دکھلا دئیے حضرت موسیٰ ؑ کہ ہاتھوں لکڑی ان کے ہاتھ کی روشنی ان کے لئے دریا کو چیر دینا ان پر سخت گرمیوں میں ابر کا سایہ کرنا من وسلویٰ اتارنا وغیرہ وغیرہ جن سے میرا خود مختار فاعل کل ہونا صاف ظاہر تھا اور میرے نبی حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت کی کھلی تصدیق تھی لیکن تاہم ان لوگوں نے میری ان نعمتوں کا کفر کیا اور بجائے ایمان کے کفر پر آرے رہے اور میری نعمتوں پر بجائے شکر کے ناشکری کی پھر بھلا میرے سخت عذاب سے یہ کیسے بچ سکتے ؟ یہی خبر کفار و قریش کے بارے میں بھی بیان فرمائی ارشاد ہے آیت (اَلَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
سورة الْبَقَرَة 229
اس سوال کے لیے بنی اسرائیل کا انتخاب دو وجوہ سے کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ آثار قدیمہ کے بےزبان کھنڈروں کی بہ نسبت ایک جیتی جاگتی قوم زیادہ بہتر سامان عبرت و بصیرت ہے۔ دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل وہ قوم ہے، جس کو کتاب اور نبوت کی مشعل دے کر دنیا کی رہنمائی کے منصب پر مامور کیا گیا تھا، اور پھر اس نے دنیا پرستی، نفاق اور علم و عمل کی ضلالتوں میں مبتلا ہو کر اس نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلیا۔ لہٰذا جو گروہ اس قوم کے بعد امامت کے منصب پر مامور ہوا ہے، اس کو سب سے بہتر سبق اگر کسی کے انجام سے مل سکتا ہے، تو وہ یہی قوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
ربط آیات
اوپر فرمایا تھا کہ بعد دلائل واضحہ آجانے کے حق کی مخالفت کرنا موجب سزا پہلی آیت میں اس کی دلیل بیان فرماتے ہیں کہ جیسے بنی اسرائیل کو ایسی ہی مخالفت پر سزادی گئی
خلاصہ تفسیر
آپ (علماء) بنی اسرائیل سے (ذرا) پوچھئے (تو سہی) ہم نے ان کو (یعنی ان کے بزرگوں کو) کتنی واضح دلیلیں دی تھیں (مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ اس سے ہدایت حاصل کرتے اور الٹی گمراہی پر کمر باندھی پھر دیکھو سزائیں بھی بھگتیں مثلا توراۃ ملی، چاہئے تو یہ تھا کہ اس کو قبول کرتے مگر انکار کیا آخر کوہ طور گرانے کی ان کو دھمکی دی گئی اور مثلا حق تعالیٰ کا کلام سنا چاہئے تھا سر آنکھوں پر رکھتے مگر شبہات نکالے آخر بجلی سے…
Read the full tafseer →یہ اس فریب نظر کی طرف اشارہ ہے جس میں مبتلا ہونے کے سبب سے اہل باطل اپنی باطل پرستیوں ہی میں مگن زندگی گزارتے چلتے جاتے ہیں اور ان کو نبی اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے جب ان کی اس غفلت کے انجامِ بد کی خبر دی جاتی ہے تو ان کا مذاق اڑانے اور ان کو زچ کرنے کے لیے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں، جیسا کہ اوپر والی آیت میں اشارہ ہوچکا ہے۔ فریب نظر یہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں حق اور باطل اور کفر و ایمان دونوں کو مہلت ملی ہوئی ہے۔ کوئی شخص اگر نیکی اور اطاعت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ ابتلاء کے قانون سے بالا تر ہوجائے بلکہ بعض حالات میں اس کا ابتلاء اس کے ایمان کے اعتبار سے سخت سے سخت تر…
Read the full tafseer →212۔ 1 چونکہ مسلمان کی اکثریت غربا پر مشتمل تھی جو دینوی آسائشوں اور سہولتوں سے محروم ہے اس لئے کافر یعنی قریش مکہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، جیسا کہ اہل ثروت کا ہر دور شیوا رہا ہے۔
212۔ 2 اہل ایمان کے فقر اور سادگی کا کفار مذاق اڑاتے، اس کا ذکر فرما کر کہا جا رہا ہے کہ قیامت والے دن یہی فقراء اپنے تقویٰ کی بدولت بلند بالا ہونگیں بےحساب روزی کا تعلق آخرت کے علاوہ دنیا سے بھی ہوسکتا ہے کہ چند سالوں کے بعد ہی اللہ تعالیٰ نے فقراء پر بھی فتوحات کے دروازے کھول دیئے۔ جن سے سامان دنیا اور رزق کی فروانی ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–216
140: یہ فقرہ دراصل کفار کے اس باطل دعوی کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہمیں خوب رزق دے رہا ہے، اس لئے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہمارے عقائد اور اعمال سے ناراض نہیں ہے، جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں، دنیوی رزق کے لئے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے، یہاں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
Read the full tafseer →کافروں کے لئے اس دنیا کی حقیر عارضی چیزوں اور چھوٹی چھوٹی ضروریات کو ہی اہم اور مزین بنایا گیا ہے ۔ یہ چیزیں انہیں اتنی بھلی لگیں کہ وہ انہی کے ہوکررہ گئے ۔ اور آگے نہ بڑھے ۔ ان کی نظریں انہی پر ٹک گئیں اور ان سے آگے حقائق تک نہ پہنچ سکیں ۔ ان لوگوں کو ان حقیر چیزوں کے علاوہ ، بلند اقدار کا علم ہی نہیں ہے اور جو شخص دنیا میں پھنس جاتا ہے ، دنیا کی آخری حد پر جا کے ہی دم لیتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ان کی عقل وفکر ان بلند مقاصد تک رسائی اختیار کرسکے جو مرد مومن کی توجہ کا مرکز ہیں اور جن کو مومن کی نگاہ بلند نے بہت دور اور بلند آفاق میں پالیا ہے ۔
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک مومن بنیادی ساز و سامان…
Read the full tafseer →10 یعنی کافر جو اللہ کے صاف احکام اور اس کے پیغمبروں کی مخالفت کرتے ہیں جو اوپر مذکور ہوچکا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نظروں میں دنیا کی خوبی اور اس کی محبت ایسی سما گئی ہے کہ اس کے مقابلہ میں آخرت کے رنج اور راحت کو خیال ہی میں نہیں لاتے بلکہ مسلمان جو فکر آخرت میں مصروف اور اللہ کے احکام کی تعمیل میں مشغول ہیں الٹا ان کو ہنستے ہیں اور ذلیل سمجھتے ہیں سو ایسے احمق نفس کے بندوں سے تعمیل احکام الہٰی ہو تو کیونکر ہو۔ روسائے مشرکین حضرت بلال اور عمار اور صہیب اور فقرائے مہاجرین کو دیکھ کر تمسخر کرتے کہ ان نادانوں نے آخرت کے خیال پر دنیا کی تکالیف اور مصائب کو اپنے سر لیا اور محمد ﷺ کو تو دیکھو کہ…
Read the full tafseer →آیت 212 زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا
یہاں کی چمک دمک اور شان و شوکت ان کے لیے بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے۔ ویسے تو نئے ماڈل کی لمبی لمبی چمکیلی کاریں ‘ اونچی اونچی عمارتیں اور وسیع و عریض کو ٹھیاں کس کو اچھی نہیں لگتیں ‘ لیکن کفار کے دلوں میں مال و اسباب دنیوی کی محبت اتنی گھر کر جاتی ہے کہ پھر کوئی اچھی بات ان کی زندگی میں نہیں رہتی ‘ اور نہ ہی کوئی اچھی بات ان کے اوپر اثر کرتی ہے۔ اہل ایمان کو بھی اگر ایمان کے ساتھ یہ نعمتیں ملیں تو یہ مستحسن ہیں۔ ازروئے الفاظ قرآنی : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ط…
Read the full tafseer →280 یعنی وہ دنیوی مال و دولت میں مگن رہ کر حضرت بلال ؓ ، عمار ؓ ، صہیب ؓ اور دوسرے فقرائے مہاجرین کا تمسخر اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس قسم کے لوگوں کو محمد ﷺ اپنے ساتھ ملا کر عرب کے سرداروں پر غالب آنے کے خواب دیکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ دنیا کا رزق کامیابی اور اخروی نجات کا کوئی معیار نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں یہ رزق کافروں کو چاہے تو زیادہ بھی دے دیتا ہے۔ رہی کامیابی کی بات تو یہی ناتواں اور پرہیزگار لوگ قیامت کے دن جنت میں بلند تر مقامات پر ہوں گے اور یہ دنیا پر فریفتہ کافر ان سے بہت نیچے جہنم میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →768 ۔ (اور اس کا ساز و سامان، جاہ وحشم، باغ ومکان، موٹر اور ریڈیو، کوٹھی اور فرنیچر، سب باوجود فانی وبے حقیقت ہونے کے انہیں نہایت اہم وقابل وقت نظر آتا ہے، اور ان کے دلوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے) جو کافر ہے وہ اسی دنیوی زندگی کی مادی لذت و دولت، عیش و عشرت پر مٹارہتا ہے۔ اسی کو مہتم بالشان سمجھے ہوئے، اسی پیمانہ سے سب کو ناپتا رہتا ہے۔ وہ بےحد تنگ نظر ہوتا ہے۔ وہ اس برائے نام عیش پر عیش سرمدی و عشرت لازوال کو قربان کیے رہتا ہے۔ آیت کا یہ مطلب نہیں کہ کافر اس باب میں معذور ہے۔ حب دنیا طبعا اس پر اتنی غالب کردی گئی ہے کہ وہ اس کے ترک ہی پر قادر نہیں، ایسا ہرگز نہیں، کافر تو کہتے ہی اس کو ہیں،…
Read the full tafseer →زُیَّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (الآیۃ) زُیِنَ ، مجہول ہے ایک قراءت میں معروف بھی پڑھا گیا ہے اس کے معنی ہیں زینت دیا گیا حقیقت میں زینت دینے والا تو اللہ ہے مگر یہاں زینت سے مغالطہ دینا اور سبز باغ دکھانا مراد ہے یعنی حیات دنیا کو جو کہ فانی اور ناپائیدار ہے کفار کی نظروں میں شیطان نے باقی اور پائیدار اور محبوب کرکے دکھایا ہے۔ اور اسی ناپائیداری اور زوال پذیر دنیا کے بل بوتے پر قریش، ابن مسعود، عمار، صہیب، بلالو خباب ؓ وغیرہ جیسے غریب اور نادار مسلمانوں کو دیکھ کر ہنسا کرتے تھے، مگر دنیا پر فریفتہ اور مغرور ہونے والے کافر سرداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آخر کار غلبہ اور عزت و راحت مومنین ہی کے…
Read the full tafseer →زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ( دنیاوی زندگانی ان لوگوں کے لیے خوشنما کردی گئی جنہوں نے کفر کیا) اور خوشنما کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے کیونکہ تمام خوبصورت چیزوں اور عجیب منظروں کو اسی نے پیدا کیا ہے علیٰ ہذا القیاس ان لوگوں میں قوت شہوانیہ بھی اسی نے پیدا کی تھی اور ان کے دلوں میں ان چیزوں کی محبت یہاں تک ملائی کہ وہ ان ہی پر مر مٹے۔ زجاج کہتے ہیں کہ شیطان نے ان کے لیے خوشنما کردی یعنی ان لوگوں کو شہوانی خیالات سوجھا دیئے۔
میں (صاحب تفسیر ‘ 12) کہتا ہوں کہ بندوں کے سب افعال کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور شیاطین بھی بندوں ہی میں سے ہیں لہٰذا خوشنما کرنے والا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
(211۔ 212) آپ حضرت یعقوب ؑ کی اولاد سے پوچھیے کہ کتنی مرتبہ ہم نے ان سے اوامرو نواہی کے ساتھ کلام کیا ہے اور موسیٰ ؑ کے زمانہ میں ہم نے ان کو دین کے ساتھ عزت عطا فرمائی مگر انہوں نے دین کو کفر کے ساتھ تبدیل کردیا اور جو شخص رسول اکرم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی کتاب کو کفر کے ساتھ بدلے تو اللہ تعالیٰ کافر کو شدید ترین عذاب دینے والا ہے، ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے لیے دنیاوی زندگی فراخی اور خوشحالی کے ساتھ سجائی گئی ہے مگر یہ لوگ حضرت سلمان ؓ اور صہیب ؓ ، حضرت بلال ؓ اور ان کے ساتھیوں کی معاشی تنگی پر ان کا مذاق اڑاتے ہیں مگر جو حضرات کفر وشرک سے بچے ہوئے ہیں یعنی حضرت…
Read the full tafseer →یعنی کفار کے ایمان نہ لانے کا باعث ان کی نگاہ میں دنیا کا بہت مزین ہونا ہے۔ مومن جو آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں دنیا کی زیب و زینت کو کچھ نہیں سمجھتے، کفار کے خیال میں بھولے بھالے اور دیوانے ہیں، اس لیے انھوں نے ان کا مذاق اڑانے اور انھیں ذلیل کرنے کو اپنا مشغلہ بنا رکھا ہے، مگر قیامت کے دن اہل تقویٰ ہر اعتبار سے ان سے بلند درجہ ہوں گے، کیونکہ مومنوں کا نام علیین میں ہوگا اور کفار اسفل السافلین ہوں گے۔ یہاں ”بِغَيْرِ حِسَابٍ“ فرمایا، سورة نبا میں ”عَطَاۗءً حِسَابًا“ فرمایا، تطبیق کے لیے دیکھیے سورة نبا کی آیت (36) کے فوائد۔
Read the full tafseer →ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” زین للذین کفروا الحیوۃ الدنیا “ میں ” الحیوۃ الدنیا “ مفعول مالم یسم فاعلہ ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ اور اس سے مراد سرداران قریش ہیں (زین فعل مجہول ذکر کیا گیا ہے) مجاہد اور حمید بن قیس نے فعل کو معروف یعنی علی بناء الفاعل پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ قراءت سے شاذ ہے، کیونکہ فاعل کا پہلے ذکر موجود نہیں۔ ابن ابی عبلہ نے ” زینت “ یعنی علامت تانیث کے اظہار کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بھی جائز ہے کیونکہ تانیث غیر حقیقی ہے۔
اور مزین کرنے والا ہی اس کا خالق اور اس کا موجد ہے اور وہی خالق الکفر بھی ہے اور اسے شیطان بھی اپنے وسوسہ اور اپنے دھوکہ کے ساتھ آراستہ کرتا ہے۔ اور یہاں…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” زین للذین کفروا الحیوۃ الدنیا “ سے مراد ہے کہ وہ کافر دنیا طلب کرتے ہیں جس کو تلاش کرتے ہیں۔ لفظ آیت ” ویسخرون من الذین امنوا “ اور مسلمان جو آخرت کی طلب کرتے ہیں تو وہ ان سے مذاق کرتے ہیں ابن جریر (رح) نے فرمایا میں اس کو عکرمہ (رح) سے گمان کرتا ہوں کافروں نے کہا اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو اس کی اتباع ہمارے سردار اور اشرف کرتے۔ اللہ کی قسم اس کی اتابع نہیں کی مگر غریب لوگوں نے جیسے ابن مسعود ؓ اور اس کے ساتھی۔
دنیا کی حرص و لالچ قابل مذمت ہے
(2) ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” زین للذین کفروا…
Read the full tafseer →[ زُیِّنَ : سجایا گیا ] [ لِلَّذِیْنَ : ان کے لیے جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : ناشکری کی ] [ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا : دنیوی زندگی کو ] [ وَیَسْخَرُوْنَ : اور وہ لوگ مذاق کرتے ہیں ] [ مِنَ الَّذِیْنَ : ان سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جنہوں نے ] [ اتَّقَوْا : تقویٰ کیا ] [ فَوْقَہُمْ : ان سے بالاتر ہوں گے ] [ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یَرْزُقُ : عطا کرتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ یَّشَآئُ : وہ چاہتا ہے ] [ بِغَیْرِ حِسَابٍ : کسی شمار کے بغیر ]
ز ی ن
زَانَ (ض) زَیْنًا : کسی چیز کو خوبصورت بنانا ‘ سجانا ‘ آراستہ کرنا۔
زِیْنَۃٌ…
Read the full tafseer →کافروں کے لیے دنیا کا مزین ہونا اور ان کا ایمان والوں پر ہنسنا
اس آیت میں کافروں کے کفر پر جمنے اور کفر اختیار کرنے کا سبب بتایا ہے اور وہ یہ کہ دنیاوی زندگی اور اس سے متعلقہ سازو سامان آرائش اور زیبائش ان کی نظروں میں بھایا ہوا ہے۔ اسی حسن ظاہر کو دیکھ کر وہ دنیا پر پلے پڑے ہیں۔ چونکہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے میں انہیں دنیا اور اسباب دنیا میں کمی ہوتی نظر آتی ہے اس لیے کفر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دنیا کے سازو سامان مال اور جائیداد ہی کو کامیابی سمجھے ہوئے ہیں اس لیے اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان سے تمسخر کرتے ہیں (کیونکہ ان کے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں) یہ دنیا چند روزہ ہے اس کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–214
تنبیہات وتہدیدات۔
قال تعالی، سل بنی اسرائیل کم۔۔۔ الی۔۔۔ قریب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں دلائل واضحہ آجانے کے بعد حق کی مخالفت پر تنبیہ اور تہدید تھی آئندہ آیات میں اور چند تنبیہات اور تہدیدات کو ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کے صریح اور واضح حکم کے بعد عدولی حکمی موجب عذاب ہے اگر تم کو اس میں کچھ تردد ہے تو بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ ہم نے ان کو کتنی واضح اور روشن دلیلیں عطا کی تھیں تاکہ حق واضح اور روشن ہوجائے یہ اللہ جل شانہ کی ایک نعمت کبری تھی اس نعمت کا شکر اور حق یہ تھا کہ دل وجان سے حق کو قبول کرتے لیکن دیدہ دانستہ حق سے انحراف کیا نتیجہ یہ نکلا کہ عذاب میں مبتلا ہوئے اور طرح طرح کی ذلتیں…
Read the full tafseer →401 یہ مقابل کی علت ہے۔ یعنی جن لوگوں نے خدا کی ہدایت سے منہ موڑا، اس کے انبیاء کی تکذیب کی، اس کی آیات کو جھٹلایا اور اس کی توحید کا انکار کیا انہیں اس پر کس چیز نے آمادہ کیا اور اس کا سبب کیا تھا ؟ فرمایا ان لوگوں کے دلوں میں دنیا کی دولت اور ظاہری شان و شوکت کی محبت بس چکی ہے۔ دین کے مقابلہ میں دنیوی وقار واقتدار، زندگی کی مادی آسائشیں اور ٹھاٹھ باٹھ انہیں بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو قبول کیا ہے جس سے انہیں تمام دنیوی مقاصد اور مادی خواہشات کے پورا ہوجانے کی قوی امید ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام قبول کر کے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
واضح نشانیاں
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے متنبہ کیا تھا۔ کہ اس کے واضح احکامات آجانے کے بعد ان کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ احکام الٰہی کی تعمیل ہونی چاہئے واضح نشانات کے بعد بھی اگر کوئی شخص پھسل جائے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آسکتا ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بطور مثال ارشاد فرمایا ہے۔ سل بنی اسرآئیل ، آپی ذرا بنی اسرائیل سے دریافت تو کریں کم اتینھم من ایۃ بینہ ہم نے ان کو کتنی واضح نشانیاں عطا کیں۔ واضح یا کھلی نشانیوں میں تعلیم بھی آتی ہے۔ اور معجزات بھی آتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے توسط سے تمہیں کس قدر واضح معجزات عطا کئے۔ ان کی تفصیل پہلے آ…
Read the full tafseer →زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا 0 ۘ وَالَّذِيْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ 0 ۭ وَاللہُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ 212
زين
الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين،
( زی ن ) الزینہ
زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–213
ترکیب : زین فعل مجہول للذین کفروا متعلق ہے زین کے الحیوہ الدنیا صفت و موصوف مفعول مالم یسم فاعلہ اور زین کہا زینت نہ کہا کس لیے کہ زین اور الحیوۃ الخ میں فاصلہ آگیا۔ دوم یہ کہ مونث حقیقی نہیں ہے ویسخرون معطوف ہے زین پر۔ والذین اتقوا مبتداء وفوقہم خبر القیامۃ طرف سے مبشرین و منذرین حال ہے النبین سے وانزل موضع حال میں ہے کتاب سے بالحق بھی ہے اے مشتملا علی الحق لیحکم ای الکتاب اور لام متعلق ہے انزل سے فیہ ای الحق اوتوہ ای الکتاب من بعد الخ جملۃ متعلقہ ہے اختلف سے بغیًا مفعول لہ ہے اختلف کا من الحق حال ہے ضمیر فیہ یا ما سے باذنہ حال ہے الذین آمنوا سے ای ماذو نالہم
تفسیر : پہلی آیت میں اشارہ تھا…
Read the full tafseer →زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَیَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا م وَالَّذِیْنَ اتَّـقَوْا فَوْقَھُمْ یَوْمَ الْقَیٰـمَۃِ ط وَاللّٰہُ یَرْزُقُُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِحِسَابٍ
(مزین کردی گئی ہے دنیا کی زندگی کافروں کی نگاہوں میں اور یہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو ایمان لائے ہیں ‘ حالانکہ جو لوگ تقویٰ اختیار کیے ہوئے ہیں ‘ قیامت کے دن وہ ان پر بالا ہوں گے ‘ اور اللہ جسے چاہے بےحساب رزق دیتا ہے) (212)
حیات دنیا کی تزئین کا مفہوم
دعوت الی اللہ اور غلبہ دین کی خاطر انبیائے کرام کی جدوجہد ان کی قربانیوں ‘ ان کے ایثاروخلوص ‘ پھر ان کے متبعین کی وفاشعاریوں کو دیکھتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے مطالبات کے بعد ان سے سوال کیا گیا کہ تم مزید معجزات اور دلائل کا مطالبہ کرتے ہو یہ بتاؤ کہ تم نے پہلے دلائل اور معجزات کا کیا مثبت جواب دیا ہے ؟ دراصل تم دنیا پر فریفتہ ہونے کی وجہ سے حق سے جی چراتے ہو دنیا تو عارضی ہے جب کہ آخرت ہمیشہ کے لیے ہے۔
مکہ والوں کے سامنے بیشمار حقائق اور دلائل واضح ہوچکے تھے لیکن اس کے باوجودوہ مزید براہین کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اگر انہیں مزید دلائل کی ضرورت ہے تو بنی اسرائیل کے منصف مزاج لوگوں کو خاص کر ان میں جو مسلمان ہوچکے ہیں ان سے پوچھیں کہ جب ان کے آباء و اجداد کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا…
Read the full tafseer →آیت 212:
زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَیَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ۔ (دنیا کی زندگی ان کے لئے خوش نما بنادی گئی جنہوں نے کفر کیا اور یہ کفار ان لوگوں سے ہنستے ہیں جو ایمان لائے اور وہ لوگ جو متقی ہیں۔ ان سے اوپر ہونگے قیامت کے دن اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے)
دُنیا کا پسندیدہ بنایا جانا :
زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا۔ کافروں کے لئے دنیا کی زندگی کو مزین کردیا گیا۔ یہ تزیین کرنے والا شیطان ہے اس نے دنیا کو مزین اور اپنے وساوس سے خوبصورت…
Read the full tafseer →(تفسیر) 212۔:
(آیت)” زین للذین کفروا الحیاۃ الدنیا “ اکثر حضرات کامؤقف یہ ہے کہ مزین کرنے والے خود اللہ تعالیٰ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تزیین کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خوبصورت اشیاء اور عجیب غریب مناظر پیدا فرمائے ، مخلوق نے ان کو خوب دیکھا تو وہ اشیاء ان کو اچھی لگیں ۔ پس ان میں مفتون ہو کر رہ گئے (لٹو ہوگئے) زجاج (رح) کہتے ہیں ان کے لیے شیطان نے یہ سب کچھ مزین کیا ، کہا گیا ہے یہ آیت کریمہ مشرکین عرب ابوجہل اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ لوگ جو کچھ کہ اللہ تعالیٰ نے مال کو دنیا میں پھیلایا ہے نفع حاصل کرتے لطف اندوز ہوتے اور آخرت کا انکار کرتے ۔
(آیت)” ویسخرون من…
Read the full tafseer →حضرت بلال ؓ اور عمار بن یاسر ؓ اور اس طرح کے غریب صحابہ پر کفار ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ یہی کنگال لوگ محمد ﷺ کے ساتھ ہیں جن کے بھروسہ پر وہ بڑے بڑے شہر فتح کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور کافروں کو تنبیہ فرما دی کہ تمہارا سارا دارومدار دنیا کی چند روزہ خوش حال پر ہے اور آخرت کے تم منکر ہو لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے وہ جن کو چاہتا ہے دنیا کی چند روزہ خوش حالی دے دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے دنیا میں تو اس کو تنگ حال رکھتا ہے مگر عقبیٰ میں اس نے اپنی تنگ حال متقی بندوں کے لئے بڑے بڑے عالی درجہ کے عیش رکھتے ہیں۔ اس لئے اب تو تمہیں ان غریب مسلمانوں کا حال…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ ، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی شریعت کے مطابق زندگی بسر نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کے سامنے دنیاوی زندگی کو مزین اور آراستہ کردیتا ہے۔ دنیا کی یہ زندگی ان کے دلوں میں اور ان کی آنکھوں کے سامنے خوشنما بنادی جاتی ہے، پس وہ اس دنیا میں مگن اور اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات، ان کے ارادے اور ان کا عمل سب دنیا کے لئے ہوجاتے ہیں۔ وہ دنیا کی طرف بھاگتے ہیں، اسی کے حصول میں ہمہ تن مغشول رہتے ہیں، وہ اس دنیا اور اپنے جیسے دنیا داروں کی تعظیم کرتے ہیں اور اہل ایمان سے نہایت حقارت سے پیش آتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–213
قول باری ہے (کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبیین ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلاف رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے) اس کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ تمام لوگ کفر کے طریقے پر تھے اگرچہ ان کے مذاہب مختلف تھے اور یہ ممکن ہے کہ ا ن میں مسلمان بھی ہوں اگرچہ ان کی تعداد تھوڑی تھی، اس صورت حال کے تحت کافروں کی جماعت پر امت کے لفظ کا اطلاق درست ہوگیا اس لئے کہ ایک لفظ کا اطلاق اکثریت اور عمومیت کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ ضحاک اور قتادہ کا قول ہے کہ پہلے تما م لوگ حق کے راستے پر ایک امت تھے لیکن پھر ان میں اختلافات پیدا ہوگئے۔
قول باری ہے (فھدی اللہ الذین امنوا لما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–213
582 حب دنیا ہلاکت و بربادی کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بیماری کی جڑ بنیاد دنیا کے متاع فانی پر ریجھ جانا اور اس کی محبت میں گرفتار ہوجانا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ پس اس ارشاد سے اصل مرض کی تشخیص فرما دی گئی ہے کہ ان لوگوں کی اس محرومی اور بدنصیبی کی اصل وجہ یہ ہے، کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی اور اس کے متاع فانی پر ریجھ گئے، اور انہوں نے اس کے متاع فانی اور حطام زائل ہی کو سب کچھ سمجھ لیا، جس کی بناء پر یہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ اور اس وجہ سے انہوں نے آخرت کی اصل، حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا جو کہ خساروں کا خسارہ اور دائمی…
Read the full tafseer →مؤمن کا مذاق نہ اڑاؤ
تشریح : درس القرآن میں اس آیت کے نازل ہونے کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ مشرکوں کے رئیس مسلمانوں پر ہنستے تھے۔ حضرت بلال، عمار، صہیب اور دوسرے غریب صحابہ ؓ کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے کہ آنحضرت ﷺ ان غریب لوگوں کی امداد سے عرب کے سرداروں پر غالب آنا چاہتے ہیں انہیں لوگوں کے مذاق اڑانے پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ ان کا اس طرح سوچنا جہالت اور نادانی ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ یہی غریب اور تنگدست قیامت کے دن ان رئیسوں سے اعلیٰ اور بہترین ہونگے۔ اللہ جسے چاہے بیشمار روزی عطا فرماتا ہے چناچہ ایک دن آیا کہ انہی غریبوں کو بنو قریظہ اور بنو نصیر کی دولتیں ملیں اور اس زمانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–216
آیات 211- 216
اسرارو معارف
سل بنی اسرائیل………………وانتم لا تعلمون۔
آپ ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھئے ان کی تاریخ دیکھئے کہ اللہ نے انہیں کس قدر واضح دلائل عطا فرمائے اور اللہ کے نبی ان کے پاس کتنی دلیلیں لائے جن سے ان کی اصلاح مقصود تھی مگر جب انہوں نے سرکشی کی اور ان دلائل کو پس پشت ڈالا تو ان پر کیسے کیسے عذاب نازل ہوئے اور یہ تو قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نعمت کو ٹھکراتا ہے یعنی ایسے دائل جو اسے راہ ہدایت سمجھانے کے لئے اللہ کی طرف سے اس کے پاس پہنچے ان کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کا یقینی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رحمت باری سے محروم ہو کر اللہ کے غضب کا نشانہ بنتا ہے اور خدا کے عذاب بہت سخت ہیں جس…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی ان کے اعراض اوکفر کا سبب یہ ہے کہ دنیا کے چند روز عیش و عشرت اور رنگ رلیوں میں بد مست ہو کر رہ گئے ہیں اور اہل حق کی تذلیل اور ان کی سادہ زندگی مذاق اڑانے کو انہوں ن مشغلہ بنا رکھا ہے مگر قیامت کے دن اہل تقوی ہر اعتبار سے ان پر فائق ہوں گے کیونکہ مومن علی علیین میں ہوں گے اور کفار اسفل السافلین میں۔ بیضاوی) جنت میں رزق کا بغیر حساب ہونا یا تو دائمی اور غیر فانی ہونے کے اعتبار سے ہے۔ (دیکھئے ہود آیت 108) یا اس اعتبار سے کہ انہیں مزید اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نوازا جائے گا۔ (دیکھئے غافر آیت :40) لہذا یہ عطاء حسابا ( النساء 36) کے منافی نہیں ہے۔ رازی)
Read the full tafseer →(2:212) زین۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ تبدیل (تفعیل) مصدر (وہ سنوارا گیا۔ وہ مزین کیا گیا۔ اسے اچھا (کرکے) دکھایا گیا۔ مطلب یہ کہ دنیا کی زندگی اسے پرکشش اور مزین کر کے دکھائی گئی ۔
الحیوۃ الدنیا۔ موصوف و صفت مل کر مفعول مالم یسم فاعلہ۔
ویسخرون۔ میں واؤ عاطفہ ہے یسخرون کا عطف زین پر ہے۔ سخر (باب سمع) مصدر سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے وہ مذاق بناتے ہیں۔ وہ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ من کے صلہ کے ساتھ ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ ہے ان تسخروا منا فانا نسخر منکم (11:38) اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو ہم سے تمسخر کریں گے۔
فوقھم۔ فوق۔ ظرف منصوب۔ مضاف۔ ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ مضاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
لغات القرآن : آیت نمبر 211 تا 212
سل (پوچھئے، سوال کیجئے) ۔ کم اتینا (کتنی ہم نے دیں) ۔ زین (خوبصورت بنا دیا گیا) ۔ یسخرون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں (وہ مذاق کرتے ہیں) ۔ یرزق (وہ روزی دیتا ہے) ۔ بغیر حساب (حساب) ۔
تشریح : آیت نمبر 211 تا 212
بنی اسرائیل وہ قوم ہے جس کو کتاب و نبوت کی روشنی دے کر دنیا کی رہنمائی کے ایک بڑے مقام پر کھڑا کیا گیا تھا ان پر اللہ تعالیٰ نے ہزاروں انعامات کئے تھے مگر انہوں نے ناشکری کے راستے پر چل کر اپنے آپ کو اللہ کی رحمتوں سے محروم کرلیا تھا اور انہوں نے اللہ کے غضب کو دعوت دی تھی۔ فرمایا جارہا ہے کہ اے مسلمانو ! آج تمہیں جس عظیم منصب پر فائز کیا جا رہا ہے تمہیں اس بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 212–214
شان نزول : حضرت بلال اور حضرت عمار بن یاسر اور اسی طرح کے غریب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کفار ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ یہی کنگال لوگ محمد ﷺ کے ساتھی ہیں جن کے بھروسہ پر وہ بڑے بڑے شہر فتح کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور کافروں کو تنبیہ فرمادی کہ تمہارا سارا دارومدار دنیا کی چند روزہ خوشحالی پر ہے اور آخرت کے تم منکر ہو، لیکن یہ اللہ کی مصلحت ہے وہ جسے چاہتا ہے دنیا کی چند روزہ خوشحالی دے دیتا ہے۔ جن کو چاہتا ہے دنیا میں تو اس کو تنگ حال رکھتا ہے مگر عقبیٰ میں ان کو عالی درجے ملتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–213
[142] اللہ کی نعمت سے مراد ہدایت وسعادت کی راہ ہے، بنی اسرائیل کو اللہ نے ہدایت وسعادت کی راہ دکھائی لیکن انہوں نے یہ نعمت پا کر اسے محرومی و شقاوت سے بدل ڈالا تو مبتلائے عذاب ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
شاہان فقر :
(ف 2) ابتدائے اسلام میں مسلمان بیچارے غریب اور مفلس تھے ، روسائے قریش انہیں دیکھ دیکھ کر ہنستے اور کہتے کیا وہ لوگ ہیں جو دنیا کو بدل دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں ان کے خیال میں غربت و افلاس ایک جرم تھا ناقابل عفو ، قرآن حکیم نے بتایا کہ ان کے پاس گو دولت دنیا کی فراوانی نہیں ، مگر ان کے دل ایمان کی دولت گرانمایہ سے مالا مال ہیں ، گو وہ بیش قیمت ملبوسات سے محروم ہیں ، مگر رضائے الہی کا پر فخر تاج انہیں کے لئے تکلیف دہ ہے مگر جنات ونعیم اور کوثر وتسنیم کی نعمتیں انہیں شاہان فقر کے حصہ میں آئیں گی اور تم جو سرداریوں کے مالک اور خزانوں کے سمیٹنے والے ہو ، خدا کی بادشاہت میں مفلس وقلاش…
Read the full tafseer →ف 3 جن لوگوں نے کفر اور انکار کی روش اختیار کر رکھی ہے ان کے لئے دنیوی زندگی خوش نما اور مزین و آراستہ کردی گئی ہے اور منکروں کی حالت یہ ہے کہ مسلمانوں سے تمسخر کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ یہ مسلمان جو کفر و شرک سے بچتے ہیں اور اللہ و رسول ﷺ کے فرمانبردار ہیں ان کافروں سے قیامت کے دن بلند وبالا تر ہوں گے اور اعلیٰ مراتب و درجات پر فائز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےحساب اور بہ کثرت روز کی عنایت کرتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ کفار کے لئے چونکہ دنیوی زندگی کو خوش نما اور خوش منظر کردیا گیا ہے اس لئے وہ دنیوی زندگی پر قانع ہیں اور آخرت کی زندگی کا ان کو خیال بھی نہیں آتا…
Read the full tafseer →ف 5۔ پس اس کا مدار قسمت پر ہے نہ کہ کمال اور مقبولیت پر۔
Read the full tafseer →کفار کی نگاہوں میں دنیا کی زندگی ہی زندگی ہے :
362: جو لوگ مذہب کو نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جب ان کے سامنے صحیح تعلیم پیش کی جاتی ہے تو اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے سامنے صرف یہی چند روزہ عیش و نشاط زندگی ہے۔ اگر یہ اس پر قناعت کرتے تو بھی ایک بات تھی مگر وہ ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ تمسخر و استہزاء کرتے ہیں اور ان پر آوازے کستے ہیں حالانکہ قیامت کے روز فرزندان اسلام ہی مدارج عالیہ کے مالک ہوں گے کیونکہ وہ اخلاق فاضلہ کے طالب ہیں دولت کی انہیں پرواہ نہیں۔
مجاہدین فی سبیل اللہ کا اولین فرض یہ ہوگا کہ ان کفار کو اتنا ذلیل و رسوا کریں کہ آئندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
Immediately earlier, it was said that opposing truth after clear signs have come, deserves punishment. The first verse here (211) cites the case of the elders of Bani Isra'il who were punished for their hostility to truth despite clear signs given to them.
Rather than follow the blessed guidance given to them, they chose to stray away from it and, as a result, underwent punishments, for instance, they received the Torah which deserved being accepted but they denied it, consequent to which, they were threatened with Mount Sinai coming down upon them. Again, they heard the Word of Allah which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
229. There are two reasons why this query is addressed to the Children of Israel. In the first place, a group of living human beings provide a better source of instruction and admonition than mute archaeological findings. In the second place, the Israelites were a people who, having been endowed with Scripture and prophethood, were entrusted with the leadership of the world. By falling prey to worldliness, hypocrisy and other errors of belief and conduct they subsequently lost God's favour. A people entrusted with the task of universal leadership could derive no better lesson from another…
Read the full tafseer →