Explained with ayahs 211–212
احسان فراموش اسرائیل اور ترغیب صدقات
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو بنی اسرائیل کو میں نے بہت سے معجزات دکھلا دئیے حضرت موسیٰ ؑ کہ ہاتھوں لکڑی ان کے ہاتھ کی روشنی ان کے لئے دریا کو چیر دینا ان پر سخت گرمیوں میں ابر کا سایہ کرنا من وسلویٰ اتارنا وغیرہ وغیرہ جن سے میرا خود مختار فاعل کل ہونا صاف ظاہر تھا اور میرے نبی حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت کی کھلی تصدیق تھی لیکن تاہم ان لوگوں نے میری ان نعمتوں کا کفر کیا اور بجائے ایمان کے کفر پر آرے رہے اور میری نعمتوں پر بجائے شکر کے ناشکری کی پھر بھلا میرے سخت عذاب سے یہ کیسے بچ سکتے ؟ یہی خبر کفار و قریش کے بارے میں بھی بیان فرمائی ارشاد ہے آیت (اَلَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
سورة الْبَقَرَة 229
اس سوال کے لیے بنی اسرائیل کا انتخاب دو وجوہ سے کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ آثار قدیمہ کے بےزبان کھنڈروں کی بہ نسبت ایک جیتی جاگتی قوم زیادہ بہتر سامان عبرت و بصیرت ہے۔ دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل وہ قوم ہے، جس کو کتاب اور نبوت کی مشعل دے کر دنیا کی رہنمائی کے منصب پر مامور کیا گیا تھا، اور پھر اس نے دنیا پرستی، نفاق اور علم و عمل کی ضلالتوں میں مبتلا ہو کر اس نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلیا۔ لہٰذا جو گروہ اس قوم کے بعد امامت کے منصب پر مامور ہوا ہے، اس کو سب سے بہتر سبق اگر کسی کے انجام سے مل سکتا ہے، تو وہ یہی قوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
ربط آیات
اوپر فرمایا تھا کہ بعد دلائل واضحہ آجانے کے حق کی مخالفت کرنا موجب سزا پہلی آیت میں اس کی دلیل بیان فرماتے ہیں کہ جیسے بنی اسرائیل کو ایسی ہی مخالفت پر سزادی گئی
خلاصہ تفسیر
آپ (علماء) بنی اسرائیل سے (ذرا) پوچھئے (تو سہی) ہم نے ان کو (یعنی ان کے بزرگوں کو) کتنی واضح دلیلیں دی تھیں (مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ اس سے ہدایت حاصل کرتے اور الٹی گمراہی پر کمر باندھی پھر دیکھو سزائیں بھی بھگتیں مثلا توراۃ ملی، چاہئے تو یہ تھا کہ اس کو قبول کرتے مگر انکار کیا آخر کوہ طور گرانے کی ان کو دھمکی دی گئی اور مثلا حق تعالیٰ کا کلام سنا چاہئے تھا سر آنکھوں پر رکھتے مگر شبہات نکالے آخر بجلی سے…
Read the full tafseer →“ ایات بینات ”سے مراد ہیں وہ کھلے کھلے معجزات جو بنی اسرائیل کو دیے گئے۔ ان کا حوالہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ ایمان و ہدیت کا راستہ ان لوگوں پر کھلتا ہے جو عقل اور سمجھ سے کام لیتے ہیں، جو عقل اور سمجھ سے کام نہیں لیتے وہ دنیا جہان کے معجزے دیکھ کر بھی بدستور اپنے تذبذب اور اپنی بےاعتقادی ہی میں پڑے رہتے ہیں۔ آخر دیکھو، بنی اسرائیل نے کتنے معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھے، ان معجزات سے قطع نظر جو حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھوں سرزمین مصر پر طاہر ہوئے، خود بنی اسرائیل کے لیے سمندر خشک ہو، کوہ طور شق ہوا، ایک خشک پہاڑ سے اکٹھے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، ایک صحرائے بےآب وگیاہ میں ان کے لیے من وسلوی کا خوان نعمت بچھا…
Read the full tafseer →211۔ 1 مثلاً عصائے موسیٰ جس کے ذریعے سے ہم نے جادوگروں کا توڑ کیا سمندر سے راستہ بنایا پتھر سے بارہ چشمے جاری کیے، بادلوں کا سایہ، من و سلوا کا نزول وغیرہ جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ہمارے پیغمبر ﷺ کی صداقت کی دلیل تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے احکام الٰہی سے انکار کیا۔
211۔ 2 نعمت کے بدلنے کا مطلب یہی ہے کہ ایمان کے بدلے انہوں نے کفر کا راستہ اپنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–211
139: مختلف کفار اور خاص طور پر یہود مدینہ اس قسم کے مطالبات کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ براہ راست ہمیں نظر آکر ہمیں ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا ؟ یہ آیت اس قسم کے مطالبات کا جواب دے رہی ہے، اور وہ یہ کہ یہ دنیا آزمائش کے لئے بنائی گئی ہے کہ انسان اپنی عقل استعمال کرے اور کائنات میں پھیلے ہوئے واضح دلائل کی روشنی میں اللہ کی توحید اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اسی لئے اس آزمائش میں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے، اگر اللہ تعالیٰ براہ راست نظر آجائیں تو آزمائش کیا ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب غیب کی چیزیں انسان کو آنکھوں سے نظر آجائیں تو پھر ایمان معتبر نہیں ہوتا اور ایسا اسی وقت…
Read the full tafseer →بات پھر بنی اسرائیل کی طرف پلٹتی ہے اور یہ ایک قدرتی امر ہے ۔ ڈرایا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل جیسا موقف اختیار نہ کرو ، اس میں تو ہلاکت ہے۔ جو تردد اور انکار حق کا موقف ہے ۔ بغاوت اور سلامتی سے دور بھاگنے کا موقف ہے ۔ ہٹ دھرمی اور بار بار طلب معجزات کا موقف اور معجزات دیکھ کر بھی بغض وعناد رکھتے اور انکار کرتے چلے جانے کا موقف ۔ یہ ہیں وہ مقامات جہاں یہ قدم ڈگمگاسکتے ہیں ، پائے استقامت پھسل سکتا ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پہلے سے خبردار کردیتا ہے ، تاکہ مسلمان بنی اسرائیل کی طرح تلخ انجام تک نہ پہنچ جائیں۔
سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ ” بنی اسرائیل سے…
Read the full tafseer →8 اس سے پہلے فرمایا تھا کہ حق تعالیٰ کے صاف حکم کے بعد اس کی مخالفت کرنا موجب عذاب ہے اب اسی کی تائید میں فرماتے ہیں کہ خود بنی اسرائیل ہی سے پوچھو کہ ہم نے ان پر کتنی آیات واضحات اور صریح احکام بھیجے جب ان سے انحراف کیا تو مبتلائے عذاب ہوئے یہ نہیں کہ ہم نے اول ہی ان کو عذاب دیا ہو۔
9 یعنی یہ قاعدہ البتہ محقق ہے کہ جو کوئی اللہ کے احکام سراپا ہدایت کو بدلے اور اس کے انعامات اور احسانات کا کفران کرے تو پھر اس کا عذاب سخت ہے آیات کے بدلنے والے پر کہ دنیا میں مارا جائے اور لوٹا جائے یا جزیہ دے اور ذلیل ہو۔ اور قیامت کو دوزخ میں جائے ہمیشہ کے لئے۔
فائدہ : نعمت کے پہنچ چکنے کا یہ مطلب کہ اس کا…
Read the full tafseer →آیت 211 سَلْ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ ‘ یْلَ کَمْ اٰتَیْنٰہُمْ مِّنْ اٰیَۃٍم بَیِّنَۃٍ ط
یعنی اے مسلمانو ! دیکھو کہیں تم بھی ان ہی کے راستے پر نہ چلنا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے آگاہ فرمایا تھا :
لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ‘ حَتّٰی لَوْ سَلَکُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَکْتُمُوْہُ قُلْنَا : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی ؟ قَالَ : فَمَنْ ؟ 26
تم لازماً اپنے سے پہلوں کے طور طریقوں کی پیروی کرو گے ‘ بالشت کے مقابلے میں بالشت اور ہاتھ کے مقابلے میں ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی گھس کر رہو گے۔ ہم نے عرض کیا : اے اللہ…
Read the full tafseer →279 اور اگر واضح دلائل اور نشانیوں ہی کی بات ہے تو بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے کیا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تھوڑے معجزات عطا کئے تھے ؟ تو پھر کیا یہ سب کے سب لوگ ایمان لے آئے تھے ؟ اور اگر لائے بھی تو کیا پورا ایمان لائے ؟ اور کب تک اس پر قائم رہے ؟ پھر جب ان لوگوں نے اللہ کے انعامات کی قدر نہ کی تو اللہ نے انہیں بری طرح سزا دی۔ بنی اسرائیل سے پوچھنے کو اس لیے کہا کہ یہ امت مسلمانوں کے قریب زمانہ میں موجود تھی اور اب بھی موجود ہے اگر اے مسلمانو ! تم نے بھی اللہ کے انعامات کی قدر نہ کی تو تمہارا بھی حشر یہی ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →766 (اور پھر وہ ہر آیت کا انکار وکفران بھی کس شدومد سے کرتے رہے) (آیت) ” ایۃ بینۃ۔ یہ کھلی ہوئی نشانیاں کس چیز کی تھیں ؟ خدائے تعالیٰ کے مخصوص فضل وکرم کی، اور بنی اسرائیل کی مخصوص سرافرازیوں کی مثلا کتاب توریت اور دوسرے آسمانی صحیفوں کا نزول یا اس نسل میں انبیائے کرام کا مسلسل ظہور، وقس علی ھذا۔ سل لفظ سل سے مستنبط ہوتا ہے کہ یہ وہ تاریخی حقائق ہیں کہ اسرایلی ان سے انکار کر ہی نہیں سکتے۔
767 (عام اس سے کہ اس سزا کا ظہور فوری اور اسی دنیا میں ہو، یا بہ تاخیر عالم آخرت میں) (آیت) ” نعمۃ اللہ “۔ نعمت ادنی بھی ہو، جب بھی نعمت ہی ہے۔ اور بہر صورت قابل قدر، چہ جائیکہ ایسی اعلی نعمتیں جن سے بنی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 211 تا 214
ترجمہ : اے محمد ﷺ بنی اسرائیل سے لا جواب کرنے کے لئے پوچھو تو، کہ ہم نے انہیں کس قدر روشن نشانیاں عطا کیں ! مثلاً دریا کا دولخت ہوجانا، اور مَنْ و سَلْوٰی کا نازل کرنا، مگر انہوں نے ان نشانیوں (نعمتوں) کا بدلہ ناشکری سے دیا کَمْ استفہامیہ ہے جو سَلْ ، کو مفعول ثانی (آتَیْنٰھُمْ ) میں عمل کرنے سے مانع ہے اور کَمْ آتَیْنَا کا مفعول ثانی ہے اور مُمَیّز ہے اور مِن آیَۃٍ اس کی تمیز ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بدلتا ہے کفر کے ساتھ یعنی ان نعمتوں کو جو اسے بطور انعام نشانیوں کی شکل میں عطا فرمائیں۔ (اور وہ آیات نعمت اس لئے ہیں) کہ وہ سبب ہدایت ہیں تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →سَلْ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ ( اے محمد ﷺ آپ بنی اسرائیل سے پوچھئے) یہاں بنی اسرائیل سے مراد خاص مدینہ منورہ کے یہودی ہیں اور اس سوال سے مقصود ان کو زجر و توبیخ کرنی ہے۔
كَمْ اٰتَيْنٰھُمْ ( انکو ہم نے کتنی کچھ دی ہیں) ھم ضمیر سے موجودہ یہود کے باپ دادا مراد ہیں اور کم یا تو استفہامیہ ہے اس صورت میں یہ سل کو مفعول ثانی سے مانع ہے ( یعنی سل جو پہلے سے دو مفعولوں کو چاہتا تھا اب کم کے آنے سے مفعول ثانی کی اسے ضرورت نہ رہی) اور یا کم خبریہ ہے اس صورت میں کم مع اپنی ممیز کے سل کا مفعول ثانی ہے اور آیہ الخ کا ممیز۔
مِّنْ اٰيَةٍۢ بَيِّنَةٍ ( کھلی نشانیاں) احتمال ہے کہ کم مبتدا اور ضمیر جو مبتدا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
(211۔ 212) آپ حضرت یعقوب ؑ کی اولاد سے پوچھیے کہ کتنی مرتبہ ہم نے ان سے اوامرو نواہی کے ساتھ کلام کیا ہے اور موسیٰ ؑ کے زمانہ میں ہم نے ان کو دین کے ساتھ عزت عطا فرمائی مگر انہوں نے دین کو کفر کے ساتھ تبدیل کردیا اور جو شخص رسول اکرم ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی کتاب کو کفر کے ساتھ بدلے تو اللہ تعالیٰ کافر کو شدید ترین عذاب دینے والا ہے، ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے لیے دنیاوی زندگی فراخی اور خوشحالی کے ساتھ سجائی گئی ہے مگر یہ لوگ حضرت سلمان ؓ اور صہیب ؓ ، حضرت بلال ؓ اور ان کے ساتھیوں کی معاشی تنگی پر ان کا مذاق اڑاتے ہیں مگر جو حضرات کفر وشرک سے بچے ہوئے ہیں یعنی حضرت…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کے مطالبے پر یا مطالبے کے بغیر انبیاء کو کئی معجزے عطا فرمائے، مگر جب وہ معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تو ان پر مختلف عذاب آئے، جیسے قوم ثمود و قوم فرعون اور بنی اسرائیل، اب جب اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے اترنے کا مطالبہ حد سے زیادہ ہونے لگا تو کفار عرب سے کہا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل سے پوچھ لو، ہم نے انھیں کتنے واضح معجزات دکھائے، یعنی عصائے موسیٰ ، ید بیضا، طوفان، ٹڈیاں، سمندر کا پھٹنا، صحرا میں بادل کا سایہ، بارہ چشموں کا پھوٹنا، من وسلویٰ کا نزول وغیرہ، تو انھوں نے ان نعمتوں سے کوئی فائدہ اٹھایا جو تم اٹھاؤ گے ؟ پھر نعمتوں کی ناشکری کا نتیجہ تو عذاب ہی ہے،…
Read the full tafseer →ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” سل بنی اسرائیل کم اتینھم من ایۃ بینۃ “۔ اس میں سل السوال سے ماخوذ ہے۔ تخفیف ہمزہ کے تحت ہمزہ کی حرکت سین کو دے کر اسے حذف کردیا، اور جب سین متحرک ہوگئی تو پھر ہمزہ وصل کی ضرورت نہ رہی (یعنی سل دراصل اسئل تھا۔ تخفیف ہمزہ کے مذکورہ قاعدہ کے تحت یہ سل ہوگیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام عرب میں سل میں ہمزہ وصل کے ساقط ہونے اور اسئل میں اس کے ثابت رہنے کی دو وجہیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک ہمزے کو حذف کرنا اور دوسرے میں اسے ثابت رکھنا ہے۔ اور قرآن مجید میں دونوں مذکور ہیں پس تو ہمزے کو ثابت رکھنے اور اسے گرانے میں خط مصحف کی اتباع کر۔
اور دوسری…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی اسرائیل سے یہودی مراد ہیں۔ لفظ آیت ” کم اتینھم من ایۃ بینۃ “ وہ نشانیاں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمائیں اور جو نہیں ذکر فرمائیں لفظ آیت ” کم اتینتم من ایۃ بینۃ “ یعنی جو اس (نعمت) کا انکار کرے گا۔
(2) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو واضح نشانیاں عطا فرمائیں تھیں موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور ان کا ہاتھ چمکنا اور ان کے لئے دریا کو پھاڑ دینا۔ اور ان کے دشمن کا غرق کردینا۔ اور وہ (یعنی بنی اسرائیل) اس کو دیکھ رہے تھے۔ اور ان پر بادل کا سایہ کرنا اور ان پر من اور سلویٰ…
Read the full tafseer →[ سَلْ : آپ ﷺ پوچھیں ] [ بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ : بنی اسرائیل سے ] [ کَمْ : کتنی ] [ اٰتَیْنٰـہُمْ : ہم نے دی ان کو ] [ مِّنْ اٰیَۃٍم بَـیِّنَۃٍ : واضح نشانی ] [ وَمَنْ یُّـبَدِّلْ : اور جو بدلتا ہے ] [ نِعْمَۃَ اللّٰہِ : اللہ کی نعمت کو ] [ مِنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ جَآئَ تْہُ : وہ آئی اس کے پاس ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ شَدِیْدُ الْعِقَابِ : پکڑنے میں سخت ہے ]
ترکیب : ” کَمْ “ استفہامیہ ہے۔ ” اٰیَۃٍ بَیِّنَۃٍ “ اس کی تمیز ہے لیکن ” مِنْ “ کی وجہ سے مجرور ہے۔ ” اٰتَیْنَا “ کی ضمیر مفعولی ” ھُمْ “ ” بَنِیْ اِسْرَائِ یْلَ “ کے لیے ہے۔ ” مَنْ “ شرطیہ ہے۔ ” یُبَدِّلْ “…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی ناشکری اور اس پر عذاب
بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی واضح دلیلیں عنایت فرمائی تھیں۔ وہ ان دلائل سے کام لیتے اور حق پر جمتے تو ان کے حق میں اچھا تھا۔ لیکن انہوں نے الٹی ہی چال چلی ہدایت کے بجائے گمراہیوں کو پسند کیا، اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو نقمت سے بدل دیا۔ جس کی وجہ سے دنیا و آخرت میں مستحق عذاب و عقاب ہوئے۔ بنی اسرائیل کو جو دلائل واضحہ دیئے گئے تھے ان کے بارے میں صاحب معالم التنزیل ص 184 ج 1 لکھتے ہیں کہ اس سے وہ دلائل مراد ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بارے میں عطا کئے گئے تھے۔ مثلاً عصا موسوی اور ید بیضاء اور سمندر کو پھاڑ کر بنی اسرائیل کو پار کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–214
تنبیہات وتہدیدات۔
قال تعالی، سل بنی اسرائیل کم۔۔۔ الی۔۔۔ قریب۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں دلائل واضحہ آجانے کے بعد حق کی مخالفت پر تنبیہ اور تہدید تھی آئندہ آیات میں اور چند تنبیہات اور تہدیدات کو ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کے صریح اور واضح حکم کے بعد عدولی حکمی موجب عذاب ہے اگر تم کو اس میں کچھ تردد ہے تو بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ ہم نے ان کو کتنی واضح اور روشن دلیلیں عطا کی تھیں تاکہ حق واضح اور روشن ہوجائے یہ اللہ جل شانہ کی ایک نعمت کبری تھی اس نعمت کا شکر اور حق یہ تھا کہ دل وجان سے حق کو قبول کرتے لیکن دیدہ دانستہ حق سے انحراف کیا نتیجہ یہ نکلا کہ عذاب میں مبتلا ہوئے اور طرح طرح کی ذلتیں…
Read the full tafseer →399 یہ نافرمانی کے انجام اور تخویف دنیوی کا ایک نمونہ بیان فرمایا ہے۔ یعنی اللہ کی طرف حق واضح ہوجانے کے بعد جو لوگ نہیں مانتے ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے انہیں حق سمجھانے کے لیے کس قدر واضح نشانیاں دیں۔ تورات نازل کی پیغمبروں کے معجزے ان کو دکھلائے مگر انہوں نے جد وعناد سے ان کا انکار کیا پھر ان کو کیسے کیسے عذابوں میں مبتلا کیا گیا۔ 400 نعمت سے مراد اللہ تعالیٰ کی آیتیں اور وہ دلائل ہیں جو رشد وہدایت کا سبب تھے کیونکہ ہدایت اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اور تبدیل نعمت سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ان اسباب ہدایت سے کام نہ لیا اور جو ہدایت ان سے حاصل کرنی چاہئے تھی اسے حاصل نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
واضح نشانیاں
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے متنبہ کیا تھا۔ کہ اس کے واضح احکامات آجانے کے بعد ان کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ احکام الٰہی کی تعمیل ہونی چاہئے واضح نشانات کے بعد بھی اگر کوئی شخص پھسل جائے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آسکتا ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بطور مثال ارشاد فرمایا ہے۔ سل بنی اسرآئیل ، آپی ذرا بنی اسرائیل سے دریافت تو کریں کم اتینھم من ایۃ بینہ ہم نے ان کو کتنی واضح نشانیاں عطا کیں۔ واضح یا کھلی نشانیوں میں تعلیم بھی آتی ہے۔ اور معجزات بھی آتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے توسط سے تمہیں کس قدر واضح معجزات عطا کئے۔ ان کی تفصیل پہلے آ…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 10
سَلْ بَـنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ كَمْ اٰتَيْنٰھُمْ مِّنْ اٰيَۃٍؚ بَيِّنَۃٍ 0 ۭ وَمَنْ يُّبَدِّلْ نِعْمَۃَ اللہِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْہُ فَاِنَّ اللہَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ 211
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–211
ترکیب : کافۃ من الکف کانہم کفوا ان یخرج منہم احد باجتماعہم۔ حال ہے فاعل ادخلو فی السلم سے ای فی السلم من جمیع وجوہیہ فان زللتم شرط فاعلموا الخ جملہ جواب فی ظلل جمع ظلۃ یہ ظرف ہے اور ممکن ہے کہ حال ہو من الغمام صفت ہے ظلل کی۔ سل فعل انت اس کا فاعل بنی اسرائیل مفعول اول کم استفہامیہ اتینا فعل بافاعل ھم مفعول اول اور کم من اٰیۃ بینۃ اس کی تمیز مجموعہ مفعول ثانی پھر یہ تمام جملہ مفعول ثانی ہوا سل کا محلا یہ جملہ منصوب ہے اور یہ سوال بطور تہدید کے ہے یہ خطاب صرف آنحضرت ﷺ کو نہیں بلکہ ہر مخاطب کو۔
تفسیر : اگلی آیت میں ذکر تھا کہ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جن کا ظاہر حال اچھا معلوم ہوتا ہے مگر درپردہ برے…
Read the full tafseer →سَلْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ کَمْ اٰتَیْنٰـھُمْ مِّنْ اٰیَۃٍ م بَیِّنَۃٍ ط وَمَنْ یُّـبَدِّلْ نِعْمَۃَ اللّٰہِ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْـہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُالْعِقَابِ ۔
( بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے ان کو کتنی کھلی کھلی نشانیاں دیں اور جو اللہ کی نعمت کو اس کے پانے کے بعد بدل ڈالے تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے) (211)
روئے سخن کس کی طرف ہے
سیاق کلام سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا روئے سخن بھی منافقین کی طرف ہے۔ لیکن اس کے مفہوم کو اگر غور سے سمجھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساتھ ساتھ مسلمانوں سے بھی کچھ کہا جارہا ہے۔ بات لپیٹ کے کہی جارہی ہے لیکن روشنی کا سامان دونوں کے لیے ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے مطالبات کے بعد ان سے سوال کیا گیا کہ تم مزید معجزات اور دلائل کا مطالبہ کرتے ہو یہ بتاؤ کہ تم نے پہلے دلائل اور معجزات کا کیا مثبت جواب دیا ہے ؟ دراصل تم دنیا پر فریفتہ ہونے کی وجہ سے حق سے جی چراتے ہو دنیا تو عارضی ہے جب کہ آخرت ہمیشہ کے لیے ہے۔
مکہ والوں کے سامنے بیشمار حقائق اور دلائل واضح ہوچکے تھے لیکن اس کے باوجودوہ مزید براہین کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ ان کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اگر انہیں مزید دلائل کی ضرورت ہے تو بنی اسرائیل کے منصف مزاج لوگوں کو خاص کر ان میں جو مسلمان ہوچکے ہیں ان سے پوچھیں کہ جب ان کے آباء و اجداد کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا…
Read the full tafseer →211۔ سَلْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ کَمْ ٰاتَیْنٰہُمْ مِّنْ ٰایَۃٍم بَیِّنَۃٍ وَمَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَۃَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ (اے محمد ﷺ آپ بنی اسرائیل سے پوچھیں کہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتنی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جس نے اللہ کی نعمت کو بدل دیا۔ ان کے آجانے کے بعد پس بیشک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے) سَلْ اصل میں اسئل ہے۔ ہمزہ کو فتح سے بدل کر سین کردیا اور ہمزہ کو حذف کردیا۔ اب سین کے متحرک ہونے کی وجہ سے ہمزئہ وصل کی بھی ضرورت نہ رہی پس یہ سَلْ ہوگیا اس میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا۔ یا ہر مخاطب کو۔ یہ سوال تو بیخ کیلئے ہے۔ جس طرح کہ…
Read the full tafseer →211۔ (آیت)” سل بنی اسرائیل “ یا محمد ﷺ یہود مدینہ سے پوچھئے ” کم اتیناھم “ ان کے آباء اور اسلاف کو کتنا کچھ ہم نے ” من آیۃ بینہ “ (واضح نشانیاں دیں) اہل حجاز اور قتیبہ نے ” بینہ “ کے لفظ کی باء اور یاء کو شد کے ساتھ پڑھا اور باقیوں نے یاء کی شد کے ساتھ پڑھا ۔ ” بینہ “ کا معنی واضح دلالت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر جیسے کہ عصاء یدبیضا سمندر کو پھاڑنا وغیرہ اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ دلالتیں ہیں جو ان کو تورات و انجیل کے حوالے سے حضور ﷺ کی نبوت کے بارے میں ملیں ۔ (آیت)” ومن یبدل “ جو بدلے (آیت)” نعمۃ اللہ “ کتاب اللہ (مراد ہے) اور کہا گیا ہے عہد اللہ اور کہا گیا ہے کہ (آیت)” من…
Read the full tafseer →اوپر یہ تو گذر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش اور نبوت سے پہلے یہود لوگ آپ کو اچھی طرح آپ کے اوصاف سے جانتے تھے اور لڑائیوں میں آپ کے نام سے فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے اب جب آپ کے تشریف لانے کے بعد وہ آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب ٹھہرا کر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ آپ قائل کرنے کے طور پر ان سے ذرا پوچھئے تو سہی کہ سلف سے لے کر اللہ تعالیٰ نے ان کو کیا کچھ اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلائیں جن میں کی ہر ایک نشانی خود ایک نعمت ہے یا کسی بڑی نعت کا سبب ہے مثلاً من وسلویٰ کا آسمان سے اترنا نشان قدرت الٰہی بھی ہے ور خود نعمت بھی ہے اور ہلاکت فرعون ایسی نشانی ہے جو…
Read the full tafseer →آیت 211
(آیت) سَلْ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ كَمْ اٰتَيْنٰھُمْ مِّنْ اٰيَةٍۢ بَيِّنَةٍ ۭ ” بنی اسرائیل سے پوچھیں، کتنی ہی واضح نشانیاں ہم نے ان کو دیں ؟ “ ایسی آیتیں جو حق اور رسولوں کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں، انہوں نے ان آیات کو پہچان لیا اور ان کی حقانیت کا انہیں یقین بھی ہوگیا مگر وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر اس کا شکر نہ بجا لائے جو اس نعمت کا تقاضا ہے، بلکہ انہوں نے اس نعمت کی ناشکری کی اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو کفران نعمت سے بدل ڈالا۔ پس وہ اس بات کے مستحق بن گئے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کرے اور ان کو اپنے ثواب سے محروم رکھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفران نعمت کو ” نعمت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–213
قول باری ہے (کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبیین ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلاف رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے) اس کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ تمام لوگ کفر کے طریقے پر تھے اگرچہ ان کے مذاہب مختلف تھے اور یہ ممکن ہے کہ ا ن میں مسلمان بھی ہوں اگرچہ ان کی تعداد تھوڑی تھی، اس صورت حال کے تحت کافروں کی جماعت پر امت کے لفظ کا اطلاق درست ہوگیا اس لئے کہ ایک لفظ کا اطلاق اکثریت اور عمومیت کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ ضحاک اور قتادہ کا قول ہے کہ پہلے تما م لوگ حق کے راستے پر ایک امت تھے لیکن پھر ان میں اختلافات پیدا ہوگئے۔
قول باری ہے (فھدی اللہ الذین امنوا لما…
Read the full tafseer →579 بنی اسرائیل کی نشانیوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے کتنی ہی کھلی نشانیاں عطا کیں بنی اسرائیل کو تاکہ حق پوری طرح ان کے سامنے واضح ہوجائے، اور اس کی روشنی میں یہ لوگ اپنی سعادت و کامرانی کی راہیں استوار کرسکیں، اور ظاہر ہے کہ یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ان لوگوں کیلئے نعمت کبریٰ تھی، جس کا شکر اداء کرنا ان کے ذمے فرض تھا۔ اور اس کا تقاضا تھا کہ یہ لوگ صدق دل سے اس پر ایمان لاتے، اور اس طرح یہ دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوتے، مگر انہوں نے اس کے برعکس دیدہ و دانستہ اس سے روگردانی کی، اور حق کا انکار کیا، اور اس طرح یہ حرمان نصیبی کا شکار ہو کر سب سے بڑے خسارے میں مبتلا ہوگئے ۔…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل سے عبرت
تشریح : اس سوال کے لیے بنی اسرائیل کو اس لیے چنا گیا ہے کہ دور جانے سے بہتر ہے کہ جیتی جاگتی ایسی قوم کو سامنے رکھ کر بات کی جائے جو کہ عبرت کا باعث بن چکی ہے اور اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی کی وجہ سے امامت کا درجہ بھی ان سے چھین لیا گیا۔ بنی اسرائیل کے انعامات، فضیلتیں، برکتیں اور رحمتیں یہ سب سورة البقرہ کی آیت 40 سے شروع ہو کر آیت 117، پر ختم ہوجاتی ہیں اور اس تاریخی قرآنی حقائق کو دو باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ختم کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ مقبول ترین قوم بنی اسرائیل ہی رہی۔ دوسری بات یہ کہ ناشکری اور نافرمانی پر تمام نعمتیں چھن گئیں اور امامت کا شرف بھی ان سے چھین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–216
آیات 211- 216
اسرارو معارف
سل بنی اسرائیل………………وانتم لا تعلمون۔
آپ ﷺ بنی اسرائیل سے پوچھئے ان کی تاریخ دیکھئے کہ اللہ نے انہیں کس قدر واضح دلائل عطا فرمائے اور اللہ کے نبی ان کے پاس کتنی دلیلیں لائے جن سے ان کی اصلاح مقصود تھی مگر جب انہوں نے سرکشی کی اور ان دلائل کو پس پشت ڈالا تو ان پر کیسے کیسے عذاب نازل ہوئے اور یہ تو قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نعمت کو ٹھکراتا ہے یعنی ایسے دائل جو اسے راہ ہدایت سمجھانے کے لئے اللہ کی طرف سے اس کے پاس پہنچے ان کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کا یقینی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رحمت باری سے محروم ہو کر اللہ کے غضب کا نشانہ بنتا ہے اور خدا کے عذاب بہت سخت ہیں جس…
Read the full tafseer →ف 2 یہ سوال بطور زجر توبخ ہے اور توجہ دلائی ہے کہ مسلمانوں کا چاہیے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ سے عبرت حاصل کریں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اودوسرے انبیاء کے ذریعہ ان کے پاس کس قدر دلائل بھیجے گئے لیکن وہ ان دلائل وآیات سے ہدایت اور راہ نجات حاصل کرنے کی بجائے ان میں تحریف و تاویل کر کے ضلالت و ہلاکت میں پڑگئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں دنیا میں بھی سزا ملی اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچ سکے گے۔ (رازی۔ ابن کثیر)
Read the full tafseer →(2:211) کم۔ استفہام کے لئے آئے تو اس کی تمیز مفرد منصوب ہوتی ہے جیسے کہ درھما عندک تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ اور اگر خبر یہ ہو اور مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرے تو تمیز مفرد مجرور ہوتی ہے جیسے وکم قریۃ اہلکناھا۔ ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کردیا۔
کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسے کم من قریۃ اہلکناھا (7:4) یا آیت ہذا میں : کم من ایۃ بینۃ کتنی ہی کھلی نشانیاں اتینھم ہم نے ان کو دیں۔
من شرطیہ ہے اور ومن یبدل ۔۔ ماجاء تہ۔ جملہ شرطیہ ہے اور فان اللہ شدید العقاب جواب شرط ہے۔ یبدل مضارع مجزوم (بوجہ شرط) واحد مذکر غائب تبدیل (تفعیل) مصدر (جو) بدل ڈالے۔ یعنی بجائے شکر کے کفر کرے۔
نعمۃ اللہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
لغات القرآن : آیت نمبر 211 تا 212
سل (پوچھئے، سوال کیجئے) ۔ کم اتینا (کتنی ہم نے دیں) ۔ زین (خوبصورت بنا دیا گیا) ۔ یسخرون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں (وہ مذاق کرتے ہیں) ۔ یرزق (وہ روزی دیتا ہے) ۔ بغیر حساب (حساب) ۔
تشریح : آیت نمبر 211 تا 212
بنی اسرائیل وہ قوم ہے جس کو کتاب و نبوت کی روشنی دے کر دنیا کی رہنمائی کے ایک بڑے مقام پر کھڑا کیا گیا تھا ان پر اللہ تعالیٰ نے ہزاروں انعامات کئے تھے مگر انہوں نے ناشکری کے راستے پر چل کر اپنے آپ کو اللہ کی رحمتوں سے محروم کرلیا تھا اور انہوں نے اللہ کے غضب کو دعوت دی تھی۔ فرمایا جارہا ہے کہ اے مسلمانو ! آج تمہیں جس عظیم منصب پر فائز کیا جا رہا ہے تمہیں اس بات…
Read the full tafseer →یہود کی بےدینی شان نزول : اوپر یہ تو گزر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش اور نبوت سے پہلے یہود اچھی طرح آپ کے اوصاف سے واقف تھے، اور لڑائیوں میں آپ کے وسیلہ سے فتح کی دعا مانگا کرتے تھے۔ اب جب آپ کے تشریف لانے کے بعد وہ آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی ﷺ کو مخاطب ٹھہرا کر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ آپ قائل کرنے کے طور پر ان سے ذرا پوچھیئے تو سہی کہ سلف سے لے کر اللہ تعالیٰ نے ان کو کیا کچھ اپنی قدرت کی نشانیاں دکھلائیں جن میں کی ہر ایک نشانی خود ایک نعمت ہے یا کسی بڑی نعمت کا سبب ہے۔ مثلاً من سلویٰ کا آسمان سے اترنا نشان قدرت الہٰی بھی ہے، اور خود نعمت بھی ہے، اور ہلاکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–213
[142] اللہ کی نعمت سے مراد ہدایت وسعادت کی راہ ہے، بنی اسرائیل کو اللہ نے ہدایت وسعادت کی راہ دکھائی لیکن انہوں نے یہ نعمت پا کر اسے محرومی و شقاوت سے بدل ڈالا تو مبتلائے عذاب ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
شاہان فقر :
(ف 2) ابتدائے اسلام میں مسلمان بیچارے غریب اور مفلس تھے ، روسائے قریش انہیں دیکھ دیکھ کر ہنستے اور کہتے کیا وہ لوگ ہیں جو دنیا کو بدل دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں ان کے خیال میں غربت و افلاس ایک جرم تھا ناقابل عفو ، قرآن حکیم نے بتایا کہ ان کے پاس گو دولت دنیا کی فراوانی نہیں ، مگر ان کے دل ایمان کی دولت گرانمایہ سے مالا مال ہیں ، گو وہ بیش قیمت ملبوسات سے محروم ہیں ، مگر رضائے الہی کا پر فخر تاج انہیں کے لئے تکلیف دہ ہے مگر جنات ونعیم اور کوثر وتسنیم کی نعمتیں انہیں شاہان فقر کے حصہ میں آئیں گی اور تم جو سرداریوں کے مالک اور خزانوں کے سمیٹنے والے ہو ، خدا کی بادشاہت میں مفلس وقلاش…
Read the full tafseer →ف 2 اے پیغمبر ﷺ ! آپ بنی اسرائیل کے علماء سے دریافت تو کیجئے کہ ہم نے ان بنی اسرائیل کو کتنے واضح دلائل عطا کئے تھے اور عام قاعدہ ہمارا یہی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بعد اس کے کہ وہ نعمت اس شخص کے پاس پہنچ چکی ہو بدلتا ہے تو یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے ناسپاس اور نافرمان کو سخت سزا دینے والا ہے (تیسیر)
نعمت یہاں سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ انعامات ہیں جو دقتاً فوقتاً بنی اسرائیل کے بزرگوں پر ہوتے رہے مثلاً ًتوریت کا ملنا انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا پے درپے آتے رہنا دریا کو پھاڑنا من اور سلویٰ کا نازل فرمانا وغیرہ وغیرہ تبدیل نعمت کا مطلب یہ ہے کہ واضح دلیلیں عطا ہوئیں تھیں ۔…
Read the full tafseer →ف 3۔ مثلا تورات ملی، چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے مگر انکار کیا آخر طور گرانے کی دھمکی دی گئی اور مثلا حق تعالیٰ کا کلام سنا چاہیے تھا کہ سرآنکھوں پر رکھتے مگر شبہات نکالے آخر بجلی سے ہلاک ہوئے اور مثلا دریا کو شگافتہ کرکے فرعون سے نجات دی گئی احسان مانتے مگر گوالہ پرستی شروع کردی سزائے قتل دی گئی اور مثلا من وسلوی نازل ہواشکر کرنا چاہیے تھا بےحکمی کی وہ سڑنے لگا اور اس سے نفرت ظاہر کی تو وہ موقوف ہوگیا اور کھیتی کی مصیبت سر پر پڑی اور مثلا انبیاء کا سلسلہ ان میں جاری رہا غنیمت سمجھتے ان کو قتل کرنا شروع کردیا انتزاع سلطنت کی سزا دی گئی۔ وعلی ھذا بہت سے معاملات اس سورة بقرہ کے شروع میں بھی…
Read the full tafseer →اللہ کا قانون مکافات بھی سزا دینے میں بہت سخت ہے :
361 : اگر تمہیں کسی قسم کا شک و اشتباہ ہو کہ یہ قانون کس طرح ایک قوم کے لئے زندگی بخش ہو سکتا ہے اور محض جہاد فی سبیل اللہ پر کیسے حیات قومی کا انحصار ہے تو بنی اسرائیل سے پوچھ لو۔ ان کو توراۃ دی گئی کہ اس کے ذریعہ سے دنیا میں ترقی کرسکیں اور جہاد فی سبیل اللہ ان پر فرض کیا گیا۔ جب تک وہ ان دونوں کے پابند رہے خلافت ارضی ان کے پاس تھی اور جہاں انہوں نے ان سے بعد وہجر اختیار کیا ۔ فنا ہوگئے ۔ ان کے تنزل وانحطاط کے اعظم ترین اسباب یہی دو تھے ۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے :
الف۔ کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ نَبَذَ فَرِیْقٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
Immediately earlier, it was said that opposing truth after clear signs have come, deserves punishment. The first verse here (211) cites the case of the elders of Bani Isra'il who were punished for their hostility to truth despite clear signs given to them.
Rather than follow the blessed guidance given to them, they chose to stray away from it and, as a result, underwent punishments, for instance, they received the Torah which deserved being accepted but they denied it, consequent to which, they were threatened with Mount Sinai coming down upon them. Again, they heard the Word of Allah which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–212
229. There are two reasons why this query is addressed to the Children of Israel. In the first place, a group of living human beings provide a better source of instruction and admonition than mute archaeological findings. In the second place, the Israelites were a people who, having been endowed with Scripture and prophethood, were entrusted with the leadership of the world. By falling prey to worldliness, hypocrisy and other errors of belief and conduct they subsequently lost God's favour. A people entrusted with the task of universal leadership could derive no better lesson from another…
Read the full tafseer →