Al-Baqara 2:210

Al-Baqara · from ayah 210

2:210

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ ؕ— وَاِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۟۠هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمُ اللّٰهُ فِىۡ ظُلَلٍ مِّنَ الۡغَمَامِ وَالۡمَلٰٓئِکَةُ وَقُضِىَ الۡاَمۡرُ‌ؕ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آنازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do they await but that Allah should come to them in covers of clouds and the angels [as well] and the matter is [then] decided? And to Allah [all] matters are returned.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 25 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:210

(اِن ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں، تو) کیا اب وہ اِس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے سا تھ لیے خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے؟ آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آنازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام انتہا تک پہنچا دیا جائے، اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ (کفار ایمان لانے کے لیے) اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ خود بادل کے سائبانوں میں ان کے سامنے آموجود ہو، اور فرشتے بھی (اس کے ساتھ ہوں) اور سارا معاملہ ابھی چکا دیا جائے ؟ حالانکہ آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف تو لوٹ کر رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کاہے کے انتظار میں ہیں مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ اسی بات کے منتظر ہیں کہ بادل کے سائبانوں میں اﷲ (کا عذاب) آجائے اور فرشتے بھی (نیچے اتر آئیں) اور (سارا) قصہ تمام ہو جائے، تو سارے کام اﷲ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اللہ بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور کام تمام کردیا جائے اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ تو بس اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے بادلوں کے سایہ میں ان کے پاس آئیں اور قصہ ہی پاک کردیا جائے اور تمام معاملات اللہ ہی کے ہاں لوٹائے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اب تو یہ لوگ صرف اسی بات کے منتظر ہیں کہ اللہ نمودار ہوجائے بدلیوں کے سایہ میں اور اس کے فرشتے اور معاملے کا فیصلہ کردیا جائے۔ یہ امور اللہ ہی کے حوالے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا اب یہ لوگ اسی آخری انجام کے منتظر ہیں کہ آجائے ان کے پاس اللہ بادلوں کے سایہ بانوں میں اور اس کے فرشتے بھی اور تمام کردیا جائے سارا معاملہ اپنی آخری شکل میں اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب معاملات

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ لوگ) تو بس اسی کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس خدا بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے (بھی) ۔ اور قصہ ہی ختم ہوجائے اور اللہ ہی کی طرف (سارے) معاملات رجوع کئے جائیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ آجائے ان پر اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائبانوں میں اور فرشتے اور فیصلہ چکا دیا جائے ؟ اور یقیناً تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں تو) کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ خود اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

(If people do not follow the right way even after receiving such clear admonitions), do they await that Allah Himself should come down to them in the canopies of clouds with a retinue of angels, and seal their doom Ultimately every thing shall be presented before Allah (for judgement).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They are looking for nothing (to accept the truth) but that Allah (Himself) comes upon them in canopies of cloud with angels, and the matter is closed. To Allah shall all matters be returned.

— Muhammad Taqi Usmani

They are looking for nothing (to accept the truth) but that Allah (Himself) comes upon them in canopies of cloud with angels, and the matter is closed. To Allah shall all matters be returned.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do they then wait for anything other than that Allah should come to them over the shadows of the clouds and the angels (Then) the case would be already judged. And to Allah return all matters (for decision).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Wait they for naught else than that Allah should come unto them in the shadows of the clouds with the angels? Then the case would be already judged. All cases go back to Allah (for judgment).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do they await but that Allah should come to them in covers of clouds and the angels [as well] and the matter is [then] decided? And to Allah [all] matters are returned.

— Saheeh International

Have they decided not to believe until God comes down in a shadow of clouds with the angels so that then the matter is settled? To God do all matters return.

— Muhammad Sarwar

They do not wait aught but that Allah should come to them in the shadows of the clouds along with the angels, and the matter has (already) been decided; and (all) matters are returned to Allah.

— Muhammad Habib Shakir

Await they only that Allah shall come unto them in the shadows of the Clouds, and also the angels, and the affair is decreed! And unto Allah are all affairs returned.

— Abdul Majid Daryabadi

Will they wait until Allah comes to them in canopies of clouds, with angels (in His train) and the question is (thus) settled? but to Allah do all questions go back (for decision).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:210

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

تذکرہ شفاعت اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کو دھمکا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت ہی کا انتظار ہے جس دن حق کے ساتھ فیصلے ہوجائیں گے اور ہر شخص اپنے کئے کو بھگت لے گا، جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (كَلَّآ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا) 89۔ الفجر :21) یعنی جب زمین کے ریزے ریزے اور تیرا رب خود آجائے گا اور فرشتوں کی صفیں کی صفیں بندھ جائیں گی اور جہنم بھی لا کر کھڑی کردی جائے گی اس دن یہ لوگ عبرت و نصیحت حاصل کریں گے لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ اور جگہ فرمایا آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ) 6۔ الانعام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 228 یہ الفاظ قابل غور ہیں۔ ان سے ایک اہم حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ اس دنیا میں انسان کی ساری آزمائش صرف اس بات کی ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھے بغیر مانتا ہے یا نہیں اور ماننے کے بعد اتنی اخلاقی طاقت رکھتا ہے یا نہیں کہ نافرمانی کا اختیار رکھنے کے باوجود فرماں برداری اختیار کرے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انبیا کی بعثت میں، کتابوں کی تنزیل میں، حتّٰی کہ معجزات تک میں عقل کے امتحان اور اخلاقی قوت کی آزمائش کا ضرور لحاظ رکھا ہے اور کبھی حقیقت کو اس طرح بےپردہ نہیں کردیا ہے کہ آدمی کے لیے مانے بغیر چارہ نہ رہے۔ کیونکہ اس کے بعد تو آزمائش بالکل بےمعنی ہوجاتی ہے اور امتحان میں کامیابی و ناکامی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 208–210

ربط آیات اوپر مخلص کی مدح تھی بعض اوقات اس اخلاص میں غلطی سے غلو اور افراط ہوجاتا ہے یعنی قصد تو ہوتا ہے زیادہ اطاعت کا مگر وہ اطاعت بنظر غائر حد شریعت وسنت سے متجاوز ہوتی ہے اس کو بدعت کہتے ہیں، چناچہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ جو پہلے علماء یہود سے تھے اور اس مذہب میں ہفتہ کا روز معظم تھا اور اونٹ کا گوشت حرام تھا ان صاحبوں کو بعد اسلام کے یہ خیال ہوا کہ شریعت موسوی میں ہفتہ کی تعظیم واجب تھی اور شریعت محمدی میں اس کی بےتعظیمی واجب نہیں اسی طرح شریعت موسویہ میں اونٹ کا گوشت کھانا حرام تھا اور شریعت محمدی میں اس کا کھانا فرض نہیں سو اگر ہم بدستور ہفتہ کی تعظیم کرتے رہیں اور اونٹ کا گوشت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نظر ینظر کے معنی جس طرح دیکھنے کے آتے ہیں اسی طرح اس کے معنی انتظار کرنے کے بھی آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان بینات اور ان تنبیہات و تہدیدات کے بعد بھی جو لوگ جادہ مستقیم پر ہموار نہ ہوسکے بلکہ شیطان کے پیچھے بھٹکتے ہی رہ گئے۔ اب سنت اللہ کے تحت تو ان پر اتمام حجت کے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اب بھی اگر وہ کس چیز کے منتظر ہیں تو اس کے میں یہ ہیں کہ اب وہ اس بات کے خواہش ند ہیں کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اس طرح ان کو اپنا جلال دکھائے کہ اس کے ساتھ بدلیوں میں اس کا عذاب چھپا ہوا ہو اور اس کے جلو میں اس فرشتوں کی افواج قاہر ہوں اور حق وابطل کی اس کشمکش کا آخر فیصلہ کردیا جائے۔ لیکن یہ فیصلہ نبی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

210۔ 1 یہ تو قیامت کا منظر ہے (جیسا کہ بعض تفسیری روایات میں ہے (ابن کثیر) یعنی کیا یہ قیامت برپا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ؟ یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلوے اور بادلوں کے سایہ میں ان کے سامنے آئیں اور فیصلہ چکائیں تب وہ ایمان لائیں گے۔ لیکن ایسا اسلام قابل قبول نہیں اس لئے قبول اسلام میں تاخیر مت کرو اور فوراً اسلام قبول کر کے اپنی آخرت سنوار لو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 210–211

139: مختلف کفار اور خاص طور پر یہود مدینہ اس قسم کے مطالبات کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ براہ راست ہمیں نظر آکر ہمیں ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا ؟ یہ آیت اس قسم کے مطالبات کا جواب دے رہی ہے، اور وہ یہ کہ یہ دنیا آزمائش کے لئے بنائی گئی ہے کہ انسان اپنی عقل استعمال کرے اور کائنات میں پھیلے ہوئے واضح دلائل کی روشنی میں اللہ کی توحید اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اسی لئے اس آزمائش میں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے، اگر اللہ تعالیٰ براہ راست نظر آجائیں تو آزمائش کیا ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب غیب کی چیزیں انسان کو آنکھوں سے نظر آجائیں تو پھر ایمان معتبر نہیں ہوتا اور ایسا اسی وقت…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھل ، کے لفظ کے ساتھ عربی میں ایسا سوال ہوتا ہے جس میں ناپسندیدگی کا اظہار بھی ہو۔ اس کے جواب میں وہ وجوہات بیان کی گئیں ہیں جن کی وجہ سے بعض مخالفین ، اسلام کو قبول کرنے میں پش وپیش کررہے ہیں اور پورے کے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوتے ۔ وہ کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ؟ وہ کس چیز کا انتطار کررہے ہیں ۔ یہ اسی طرح بغیر کسی وجہ کے انتظار کرتے رہیں گے ، اور اللہ تعالیٰ بادلوں کا کا چتر لگائے آجائے گا۔ فرشتے آجائیں گے ؟ بالفاظ دیگر کیا یہ لوگ اس خوفناک دن کا انتظارکر رہے ہیں ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے ہوئے آئیں گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جو لوگ حق تعالیٰ کے صاف صاف احکام کے بعد بھی اپنی کجروی سے باز نہیں آتے تو ان کو رسول اور قرآن پر تو یقین اور اعتماد نہ ہوا اب صرف اس کی کسر ہے کہ خدائے پاک خود اور اس کے فرشتے ان پر آئیں اور جزا اور سزا کا قصہ جو قیامت کو ہونے والا ہے آج ہی فیصل کیا جائے سو آخرکار سب امور حساب اور عذاب وغیرہ کا مرجع اللہ ہی کی طرف ہے تمام حکم اسی کے حضور سے صادر ہوں گے اس میں کوئی تردّد کی بات نہیں گھبراتے کیوں ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 210 ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآءِکَۃُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ ط یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح احکامات اور تنبیہات آجانے کے بعد بھی کج روی سے باز نہیں آتے تو کیا وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا جلال دکھائے اور فرشتوں کی افواج قاہرہ کے ساتھ ظاہر ہو کر ان کا حساب چکا دے ؟ انسان کا نفس اسے ایک تو یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ دین کے اس حصے پر تو آرام سے عمل کرتے رہوجو آسان ہے ‘ باقی پھر دیکھا جائے گا۔ گویا میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو۔ دوسری پٹی یہ پڑھاتا ہے کہ ٹھیک ہے یہ بھی اللہ کا حکم ہے اور دین کا بھی تقاضا ہے ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

278 یعنی ایسی نشانی کے انتظار میں جس سے انہیں قطعی اور حتمی طور پر ہر بات کا یقین آجائے۔ ایسا یقین جیسے ہر انسان کو یہ یقین ہے کہ اسے موت آ کے رہے گی تو اسے خوب سمجھ لینا چاہیے کہ جب ایسی نشانی آجائے گی تو پھر ایمان لانے کی کچھ قدر و قیمت نہ ہوگی۔ ایمان لانے کی قدر و قیمت تو صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ امور غیب حواس ظاہری سے پوشیدہ ہیں۔ اگرچہ ان کے لیے بیشمار دلائل موجود ہیں اور اسی بات میں انسان کی آزمائش کی جا رہی ہے، اور یہ دنیا آزمائش گاہ بنی ہوئی ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے اور جب کوئی حتمی علامت جیسے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یا وقت موت یا قیامت آگئی تو پھر یہ معاملہ ہی ختم ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

764 (جن کا کام ہی تعمیل ارشاد کرنا ہوتا ہے) اب پھر اشارہ انہی نو مسلم یہود کی طرف ہے، جن کا ذکر دو آیت قبل آچکا ہے۔ یہ اسلام میں ابھی داخل ہوئے ہیں، لیکن کفر ویہودیت سے پوری طرح نہیں نکل پائے ہیں۔ (آیت) ” یاتیھم اللہ والملئکۃ “ عقائد کا یہ اصولی اور مسلم مسئلہ ہے کہ ذات باری کے لیے نہ محل ہے نہ ظرف۔ اس لیے اسلامی عقیدہ کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے ” آنے “ یا ” جانے “ کے کوئی معنی ہی نہیں۔ امام رازی (رح) کہتے ہیں، اجمع المعتبرون من العقلاء علی انہ سبحانہ وتعالیٰ منزۃ عن المجیء او الذھاب (کبیر) اور آگے اس پر متعدد دلائل قائم کرنے کے بعد پھر لکھتے ہیں : ثبت انہ تعالیٰ لیس بجسم ولا بمتحیزوانہ لایصح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْ تِیَھُمُ اللہُ فِیْ ظُلَلٍٍ مِّنَ الْغَمَامِ (الآیۃ) اس دنیا میں انسان کی آزمائش کا تمام تر دارو مدار اس بات پر ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھے بغیر مانتا ہے یا نہیں جس کو ایمان بالغیب کہتے ہیں اور ماننے کے بعد اتنی اخلاقی طاقت رکھتا ہے یا نہیں کہ نافرمانی کی طاقت رکھنے کے باوجود فرنبرداری اختیار کرے چناچہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثیت میں، کتابوں کی تنزیل میں عقل کے امتحان اور اخلاقی قوت کی آزمائش کا ضرور لحاظ رکھا ہے اور کبھی حقیقت کو اس طرح بےنقاب نہیں کیا کہ آدمی کے لئے مانے بغیر چارہ ہی نہ رہے کیونکہ اس سے تو آزمائش بالکل بےمعنی ہوجاتی ہے اور امتحان و آزمائش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ ( کیا وہ اس کے منتظر ہیں کہ آجائے ان پر اللہ ابر کے سائبانوں میں) ینظرونیہاں نظر بمعنی انتظار ہی ظلل ظُلَّۃٌ کی جمع ہے الغمام علامہ بغوی کا قول ہے کہ غمام پتلے سفید ابر کو کہتے ہیں کیونکہ غم کا معنی ہے ڈھانک لینا اور غمام بھی ڈھک لیتا ہے اور مجاہد فرماتے ہیں کہ غمام سحاب کے علاوہ ہوتا ہے بنی اسرائیل پر تیہ میں یہی عمام سایہ کے ہوئے تھے حسن کہتے ہیں کہ فی ظلل من الغمام کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ غمام کے پردہ میں آئے جس کو زمین والے نہ دیکھ سکیں۔ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ ( اور فرشتے) ابو جعفر نے غمام پر عطف کرکے یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(210) کیا اہل مکہ اس چیز کا انتظار کررہے ہیں کہ بغیر کسی کیفیت کے قیامت کا دن آجائے اور اللہ تعالیٰ اس کام سے فارغ ہوجائے، اہل جنت کو جنت میں اور اہل دوزخ کو دوزخ میں داخل کردے اور آخرت میں تمام کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 209–210

اسلام کا بنیادی عقیدہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا سچا رسول مانتے ہوئے ان کے بتائے ہوئے غیب یعنی بن دیکھی حقیقتوں پر ایمان ہے۔ حدیث جبریل ؑ میں اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنے کو ایمان کہا گیا ہے۔ [ مسلم، الإیمان : 8 ] دنیا میں آزمائش اسی بات کی ہے کہ بغیر دیکھے کون ان پر ایمان لاتا ہے اور کسی جبر کے بغیر اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کرتا ہے۔ چناچہ فرمایا : (لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بالْغَيْبِ) [ المائدۃ : 94 ] ”تاکہ اللہ جان لے کون اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔“ مزید دیکھیے سورة انبیاء (49) ، فاطر (18) ، سورة یس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ارشاد باری تعالیٰ ” ھل ینظرون “ یعنی اسلام میں داخل نہ ہونے والے، اور ” ھل “ یہاں سے مراد انکار ہے۔ یعنی وہ انتظار نہیں کر رہے ہیں (آیت) ” الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ “ نظرتہ اور انتظرتہ “ ایک ہی معنی میں ہیں۔ اور النظر اور الانتظار بھی ہم معنی ہیں۔ حضرت قتادہ، ابو جعفر یزید بن قعقاع اور ضحاک نے فی ظلال من الغمام پڑھا ہے۔ اور ابو جعفر نے والملائکۃ کو الغمام پر عطف کرتے ہوئے مجرور پڑھا ہے۔ اور اس کی تقدیر عبارت ہے مع الملائکۃ یعنی ملائکہ کے ساتھ۔ عرب کہتے ہیں : اقبل الامیر فی العسکر۔ امیر آیا لشکر کے ساتھ، یعنی اس میں فی بمعنی مع ہے۔ ظلل یہ ظلۃ کی جمع مکسر ہے، جیسا کہ ظلمۃ کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ اولین و آخرین کو دن قیامت مقرر وقت پر جمع فرمائیں گے۔ ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی آسمان کی طرف وہ فیصلہ کے منتظر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ نزول فرمائیں گے بادلوں کے سایہ میں عرش سے کرسی پر (اپنی شان کے لائق) (2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے العظمہ میں عبد اللہ بن عمرو ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا (اللہ تعالیٰ ) اتریں گے ان کے اور ان کی مخلوق کے درمیان ستر ہزار حجاب ہوں گے۔ ان میں سے کچھ نور، ظلمت اور پانی کے ہوں گے اس ظلمت میں پانی آواز دے گا کہ جس سے دل دہل جائیں گے۔ (3) عبد بن حمید،…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ہَلْ یَنْظُرُوْنَ : وہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] [ اِلَّآ : سوائے اس کے ] [ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ : کہ آئے ان کے پاس ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ فِیْ ظُلَلٍ : سائبانوں میں ] [ مِّنَ الْغَمَامِ : بادلوں کے ] [ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ : اور فرشتے ] [ وَقُضِیَ : اور فیصلہ کیا جائے ] [ الْاَمْرُ : سارے مسئلے کا ] [ وَاِلَی اللّٰہِ : اور اللہ کی طرف ہی ] [ تُرْجَعُ : لوٹائے جائیں گے ] [ الْاُمُوْرُ : تمام مسئلے ] ترکیب : ” اَنْ یَّاْتِیَ “ کا مفعول ” ھُمْ “ کی ضمیر ہے ‘ جبکہ ” اللّٰہُ “ اور ” الْمَلٰئِکَۃُ “ اس کے فاعل ہیں۔ ” اَلْغَمَامِ “ اسم جنس ہے۔ اُردو میں یہ مفہوم بادلوں سے ادا ہوگا۔ ” قُضِیَ “ کا نائب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حق قبول نہ کرنے پر وعید جو لوگ واضح دلائل کے بعد بھی دین اسلام میں داخل نہیں ہوتے انہیں کیا انتظار ہے ان کے طور طریق سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بس اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے بادلوں کے سائبانوں میں آجائیں اور ان کو ان کے کفر کی سزا مل جائے، اور سارا فیصلہ ہوجائے، پھر آگے اسلام قبول کرنے کا موقعہ ہی نہیں ہے۔ کیونکہ عذاب سامنے آنے کے بعد اسلام قبول نہیں ہوتا، پھر فرمایا کہ تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ وہ قاضی روز جزا ہے۔ اس دن مجازی صاحب اختیار بھی کوئی نہ ہوگا۔ وہ حق کے ساتھ فیصلے فرمائے گا، اھل کفر کے بارے میں دائمی عذاب کا فیصلہ ہوگا۔ لہٰذا اپنا انجام سوچ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 208–210

حکم دوازدھم، استسلام تام و قبول جمیع احکام اسلام۔ قال تعالی، یا ایھا الذین امنو ادخلوا۔۔۔ الی۔۔ الامور۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں ایمان اور اخلاص کا ذکر تھا اس آیت میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایمان اور اخلاص کا مقتضی یہ ہے کہ دین اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد دین سابق یعنی یہودیت اور نصرانیت کی رعایت سے کوئی کام نہ کرو ایک دین میں داخل ہونے کے بعد دوسرے دین کی طرف بھی نظر رکھنا یہ اخلاص کے منافی ہے نیز جو شخص اپنے نفس کو اللہ کے ہاتھ فروخت کرے اور اس کی رضا اور خوشنودی کا طلب گار ہو اور اس کی اس خاص رحمت ورافت کا امیدوار ہو جو عباد مخلصین پر نازل ہوتی ہے تو اس کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

398 یہ تخویف دنیوی ہے۔ وہ شریر لوگ جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر وقت شرارتوں میں مصروف رہتے ہیں اور جن کی شرارتیں اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب وہ قیامت سے پہلے شروفساد سے باز نہیں آئیں گے۔ ان سے کیوں جہاد نہیں کرتے ہو۔ یُنْظَرُوْنَ کی ضمیر یہود کی طرف راجع ہے (روح ص 98 ج 2) یہودی اللہ تعالیٰ کے جسم کے قائل تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جب ٹھاٹھ اور شان و شوکت سے آتا ہے تو بادلوں پر سواری کر کے آتا ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تجلی ڈالی تھی وہ بادلوں ہی سے ڈالی تھی۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں کے خیال کے مطابق فرمایا کہ یہ یہودی جو اسلام کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 208–210

مکمل اسلام گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت اور مخلص ایمان والوں کی تعریف بیان کی گئی تھی کہ وہ اپنی جان اور مال ہر چیز اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے قربانی کرنے کو تیار ہوتے ہیں اب ان مخلص مئومنین سے خطاب ہے۔ یایھا الذین امنوا داخلوا فی السلم کآفۃ اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو۔ کافۃ کا معنی جمیعاً ہوتا ہے۔ یعنی انسان اپنے جسم کے لحاظ سے اور ادھر احکام شریعت کے لحاظ سے پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجائیں۔ وفاداری صرف اور صرف اسلام سے ہو ، باقی تمام ادیان ، بدعات ، رسومات باطلہ وغیرہ سے مکمل طور پر علیحدگی ہو۔ کیونکہ یہ چیزیں اسلام کے منافی ہیں۔ اگر اسلام کے ساتھ ساتھ ایسی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَہُمُ اللہُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ۝ 0 ۭ وَاِلَى اللہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۝ 210 ۧ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 208–211

ترکیب : کافۃ من الکف کانہم کفوا ان یخرج منہم احد باجتماعہم۔ حال ہے فاعل ادخلو فی السلم سے ای فی السلم من جمیع وجوہیہ فان زللتم شرط فاعلموا الخ جملہ جواب فی ظلل جمع ظلۃ یہ ظرف ہے اور ممکن ہے کہ حال ہو من الغمام صفت ہے ظلل کی۔ سل فعل انت اس کا فاعل بنی اسرائیل مفعول اول کم استفہامیہ اتینا فعل بافاعل ھم مفعول اول اور کم من اٰیۃ بینۃ اس کی تمیز مجموعہ مفعول ثانی پھر یہ تمام جملہ مفعول ثانی ہوا سل کا محلا یہ جملہ منصوب ہے اور یہ سوال بطور تہدید کے ہے یہ خطاب صرف آنحضرت ﷺ کو نہیں بلکہ ہر مخاطب کو۔ تفسیر : اگلی آیت میں ذکر تھا کہ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جن کا ظاہر حال اچھا معلوم ہوتا ہے مگر درپردہ برے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآاَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ ط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ ع (کیا یہ لوگ منتظر ہیں کہ اللہ نمودار ہوجائے بدلیوں کے سایہ میں اور اس کے فرشتے اور معاملے کا فیصلہ کردیا جائے اور اللہ کی طرف معاملات لوٹائے جاتے ہیں) (210) سب سے پہلے اس آیت کے الفاظ پر غور فرمائیے۔ ینظرون ‘ ینتظرون کے معنی میں ہے اور باقی الفاظ اپنے مفہوم ومعنی میں بالکل واضح ہیں۔ لیکن اگر ان میں سے ہر لفظ کا لغوی معنی مراد لیا جائے تو ہمارے مسلمہ عقائد کے اعتبار سے بڑی الجھن پیدا ہوگی۔ ہم اللہ کریم کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 208–210

فہم القرآن ربط کلام : منافق اور سب لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی سوچ اور کردار کو کلی طور پر دائرہ اسلام میں داخل کرو یہی سلامتی کا راستہ اور شیطان کی پیروی سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے۔ اس کے سوا گمراہی ہے۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ جو رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ کے معًا بعد مسلمان ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک مجلس میں ان خیالات کا اظہار کیا کہ کیا حرج ہے اگر ہم ہفتہ کے دن کی تعظیم کریں اور اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیں ؟ اس طرح ہمارے اور یہودیوں کے درمیان مفاہمت کی فضا پید اہوسکتی ہے۔ اس صورت حال پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے مسلمانو ! لوگوں کے دباؤ یا مفاہمت کے جذبہ کی خاطر باطل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

210۔ ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلآَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِی ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓپکَۃُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ (نہیں وہ انتظار کر رہے مگر اس بات کا کہ آئے اللہ تعالیٰ ان کے پاس بادل کے سائبانوں میں اور فرشتے اور معاملے کا فیصلہ کردیا جائے گا اور اللہ ہی کی طرف تمام کاموں کا لوٹنا ہے۔ ہَلْ یَنْظُرُوْنَ ہَلْ ۔ یہاں مانافیہ کے معنی میں ہے۔ نہیں وہ انتظار کر رہے اور یا تیکم اللّٰہ کا مطلب اللہ کا حکم اور اس کی پکڑ کا آنا ہے جیسا کہ سورة النحل آیت نمبر 32 میں فرمایا او یاتی امر ربک اور سورة اعراف آیت نمبر 4 میں فرمایا : فَجَآئَ ہَا بَاْسُنَآ۔ دوسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 210۔: فرمان الہی (آیت)” ھل ینظرون “ نہیں انتظار کرتے وہ لوگ جو اسلام میں داخل ہونا چھوڑنے والے ہیں اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں ، ” نظرتہ اور انتظرتہ “ کا معنی ایک ہے (گویا یا ہیں ” ینظرون بمعنی ینتظرون “ ہے جب لفظ نظر کے ساتھ لفظ وجہہ (چہرہ) ملا ہوا ہو یا نظر کے ساتھ لفظ ” الی “ مذکور ہو تو اس وقت نظر کا معنی آنکھ سے دیکھنا ہوگا ۔ ” الا ان یاتیھم اللہ فی ضلل “ ظلل ظلۃ کی جمع ہے (معنی سایہ) ” من الغمام “ غمام سفید اور پتلے بادل کو کہتے ہیں بادل کو غمام اس لیے کہتے ہیں کہ غم کا معنی ستر ہے یعنی چھپانا اور بادل بھی ستر (چھپانے) کا کام کرتا ہے ، حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اس قسم کی آیات اور احادیث میں دو مذہب ہیں ایک مذہب تو زمانہ سلف کے متقدمین کا ہے کہ اس طرح کی آیا اور احادیث میں وہ کسی طرح کی تاویل نہیں کرتے بلکہ ان کو ظاہر معنوں میں چھوڑ کر ان کی تلاوت کرتے ہیں۔ اور ان کی پوری کیفیت اور حالت کو اللہ کے علم پر سونپ دیتے ہیں اور ایک مذہب متاخرین کا ہے جن میں اکثر متاخرین کے فرقہ کے لوگ ہیں اب جن علماء مفسرین نے اپنی تفسیروں کا مدار سلف کے مذہب پر رکھا ہے انہوں نے اس قسم کی آیات کے تحت میں اس مضمون کی حدیثیں بھی نقل کیں ہیں اور بلا کیفیت کے ظاہر معنی پر آیت کو زیادہ واضح کردیا ہے۔ 1۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ بہت سخت وعید اور تہدید ہے جس سے دل کانپ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے، زمین میں فساد پھیلانے والے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو رد کرنے والے روز جزا کے منتظر ہیں جو ہولناکیوں، سختیوں اور خوفناک مناظر سے بھرپور ہوگا اور بڑے بڑے ظالموں کے دل دہلا دے گا اور جس میں فساد برپا کرنے والوں کو ان کے اعمال کی بری جزا گھیر لے گی۔ یہ سب کچھ یوں ہوگا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ زمین و آسمان کو لپیٹ دے گا، ستارے بکھر جائیں گے، سورج اور چاند بےنور ہوجائیں گے۔ مکرم فرشتے نازل ہوں گے اور تمام خلائق کو گھیرے میں لے لیں گے اور اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں نزول…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں تو) کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آ موجود ہو) یہ آیت متشابہات میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو محکمات کی طرف لوٹایا جائے۔ قول باری ہے (ھو الذی انزل علیک الکتب منہ ایات محکمات ھن ام الکتاب واخرمتشابھات، فاما الذین فی قلوبھم ذیغ فیتبعون ماتشابہ منہ وہی خدا ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں۔ ایک محکمات جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات جن لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

577 منکرین کے عناد اور ہٹ دھرمی کا ذکر وبیان : سو منکرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اب یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ آجائے ان کے پاس اللہ بادلوں کے سایہ بانوں میں اور اس کے فرشتے بھی اور معاملہ تمام کردیا جائے ؟۔ یعنی امر حق کی وضاحت اور اس کے بیان میں تو اب کوئی کمی اور کسرباقی نہیں رہ گئی۔ سب کچھ دلائل وبراہین کے ساتھ پوری طرح اور روز روشن کی طرح واضح ہوگیا ہے۔ اب بھی اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو گویا اب یہ قیامت ہی کے منتظر ہیں، کہ وہ ان کے پاس آجائے، اور یہ سب کچھ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، اور اپنے آخری انجام سے ہمکنار ہوجائیں، تو تب مانیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 208–210

مکمل ضابطہ حیات اور منکرین کی ہٹ دھرمی تشریح : یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہ یہودی علماء میں سے تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کو خیال ہوا کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو یہودی مذہب میں جائز تھیں کیوں نہ ان کو بھی اپنے عمل میں جاری رکھا جائے۔ وہ باتیں یہ تھیں یہودی ہفتہ کے دن کو مقدس سمجھتے تھے، اونٹ کے گوشت اور دودھ کو حرام سمجھتے تھے۔ حضرت عبداللہ ؓ اور کچھ دوسرے نو مسلم یہودی علماء نے سوچا کہ چلو کچھ یہودیت کے عقیدوں کو مانے رکھتے ہیں اور کچھ اسلام کے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات جاری کی گئیں کہ یہ رویہ بالکل غلط ہے۔ اگر مسلمان ہونا ہے تو پھر پورے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 197–210

آیات 197- 210 اسرارو معارف الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔ احکام حج : عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 209–210

ف 1 رجز وتہدید ہے یعنی یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یہی تاکہ جو کچھ قیامت میں ہونے والا ہے وہ آج ہی ہوجائے۔ (قرطبی) قیامت کے دن مذکورہ صورت میں اللہ تعالیٰ کا نزول احادیث سے ثابت ہوتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ کے دوسرے صفات و افعال اور شوؤن کی طرح اس پر بھی بلا کیف اور بغیر تاویل کے ایمان لانا ضروری ہے۔ سلف صالح کا یہی مسلک ہے متکلمین اور عقل پر ستوں کی تاویلات مذہب اہل حدیث اور سلف امت کے خلاف میں۔ (روح۔ ترجمان) اور بقول اما رازی اگر یہ کہہ دیا جائے کہ اس آیت میں یہود کے عقیدہ کی حکایت اور ان کے خیال کی ترجمانی ہے قطع نظر اس سے کہ ان کا یہ خیال غلط ہے یا صحیح اور یہود چونکہ تشبیہ کے قائل تھے لہذا آیت سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

ہل۔ حرف استفہام ہے۔ یہاں استفہام انکاری کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ہل ینظرون۔ ای ما ینظرون۔ ینظرون بمعنی ینتظرون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ نظر (باب نصر) مصدر سے ضمیر فاعل، ان لوگوں کے لئے ہے جو اسلام میں پورے پورے داخل نہیں ہوئے۔ ای من یترک الدخول فی السلم کافۃ۔ ہل ینظرون ای ما ینتظرون۔ الا۔ حرف استثنائ۔ ظلل۔ سائبان۔ بدلیاں۔ ظللۃ کی جمع ہے جیسے غرفۃ کی جمع غرف ہے۔ الغمام۔ ابر۔ سفیدابر۔ غمامۃ کی جمع۔ ہل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ۔ یہ انتظار نہیں کر رہے مگر (اس بات کی) کہ اللہ اور اس کے فرشتے (ان کے اعتقاد کے موافق) سفید بادلوں کے سائبانوں کے سایہ تلے۔ ان کے اوپر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 208–210

لغات القرآن : آیت نمبر 208 تا 210 السلم (سلامتی ) ۔ کافۃ (پوری طرح۔ پورے پورے) ۔ زللتم (تم بھٹک گئے) ۔ ظلل (سائے (ظل، سایہ) ۔ قضی (فیصلہ کردیا) ۔ الامر (کام، حکم ) ۔ ترجع (لوٹائے جائیں گے) ۔ الامور (تمام کام (الامر، کام) ۔ تشریح : آیت نمبر 208 تا 210 دین اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور دنیا کے تمام نظاموں اور ازموں میں ایک امتیازی شان رکھتا ہے۔ قرآن کریم کے ابدی اصولوں اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور ارشادات نے زندگی کے ہر شعبہ میں کامل رہنمائی فرمائی ہے۔ عقائد، عبادات ، معاملات، معاشرت ، معیشت ، حکومت ، سیاست ، تجارت، زراعت ، صنعت و حرفت غرض یہ کہ زندگی کے ایک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 204–210

شان نزول : بعضے مفسرین نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص اخنس بن شریک منافق کی شان میں یہ آیت اتری ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ کے پاس آتا تھا تو اسلام کی تائید میں بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور جب آپ کے پاس سے جاتا تھا تو اسلام کی بد خواہی کی باتیں کرتا تھا اور طرح طرح کے جھگڑے اور فساد کھڑے کرتا تھا اور بعضوں نے کہا ہے کہ واقعہ رجیع کی خبر جب مدینہ میں پہنچی تو بعضے منافقوں نے ظاہر میں تو مسلمانوں کی ہمدردی کے کلمات ان شہداء کی شان میں منہ سے نکالے لیکن باطن میں ان شہداء اور مسلمانوں کی ہجو اور مذمت مقصود تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کی مذمت میں شہدائے رجیع کی مدح میں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 209–210

خدا کی آمد : (ف 1) وہ لوگ جو منکر ہیں ان کو ہرچند دلائل وبراہین سے قائل کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن وہ بغض وعناد پر ہی قانع رہے یعنی جب انہیں عاقبت کی سختی سے ڈرایا جاتا تو وہ کہتے ، ہم نہیں ماننے کے ، ہم پر کیوں عذاب نہیں آجاتا ، آخر اس میں تامل کیا ہے ؟ چناچہ قرآن حکیم نے ان کے اس مقولے کو نقل فرمایا کہ (آیت) ” فاسقط علینا کسفا “۔ یعنی ہم پر آسمان ٹوٹے پڑے ، ہم بالکل اس کے لئے آمادہ ہیں ۔ اس آیت میں بھی ان کی اس ذہنیت کو ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کی سرکشیاں حد سے گزر گئی ہیں اور عذاب الہی کے سوا یہ مجاز ہے مقصد عذاب الہی کی آمد ہے ، قرآن حکیم نے اس طرح کے انداز بیان کو دوسری جگہوں میں استعمال…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 208–210

ف 1 اے ایمان والو ! تم اسلام میں پوری طرح داخل ہوجائو اور اسلام کے تمام احکام مانو ! اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو اور اس امر کا یقین کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے پھر اگر اس کے بعد بھی کہ تم کو صاف صاف احکام اور واضح اور روشن دلائل پہونچ چکے ہیں تم سیدھی راہ سے ڈگمگا جائو گے اور پھسل جائو گے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور بڑی رحمت کا مالک ہے کیا یہ لوگ جو دلائل کی روشنی حاصل ہونے کے بعد بھی راہ مستقیم سے ہٹتے ہیں صرف اس بات کی راہ دیکھ رہے ہیں اور صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس آئیں اور تمام کاموں کا فیصلہ ہی کردیاجائے اور تمام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ روح المعانی میں بسند ابن مردویہ بروایت ابن مسعود پیغمبر ﷺ سے حدیث نقل کی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمام اولین وآخرین کو جمع فرمائیں گے اور سب منتظر حساب و کتاب کے ہوں گے اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں عرش پر تجلی فرمائیں گے اور ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ ان سائبانوں کے گرد ملائکہ ہوں گے سو آیت میں اس قصہ کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہوا کہ قیامت کے منتظر ہیں پھر اس وقت کیا ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اعلیٰ ترین قانون تمہارے پاس ہے لیکن عمل کا انحصار تو تم پر ہے : 360: قرآن کریم کا علیٰ ترین قانون تمہارے پاس ہے۔ اس پر عمل کر کے نتائج بھی سامنے آگئے۔ اب کیوں نہیں اس پر عمل کرتے اور کس انتظار میں ہو ؟ کیا یہ چاہتے ہو کہ اللہ خود نزول اجلال کرے۔ ملائیکہ اول اجنحتہ کا لشکر جرار اس کے جلو میں ہو اور بایں شان و شوکت تم سے آکر کہے کہ یہ حکم میرا ہے اسے مانو اور اس پر عمل کرو۔ تمہارے لئے اتنا بس کرتا ہے کہ نبی عربی نے اس قانون کی تبلیغ کردی۔ عمل کرنا تمہارا فرض ہے اور اگر باوجود ان دلائل واضح کے تمہیں یقین نہیں تو انتظار کرو اللہ کا عذاب آکر تمہاری بیخ کنی کر دے گا۔ عذاب کے فرشتے تمہیں نیست ونابود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 208–210

The previous verses ended with a word of praise for the sincere. As sincerity (ikhlas اخلاص) can sometimes touch the limits of excess inadvertently, that is, one does intend to come up with more obedience, but that obedience, when observed carefully, turns out to be exceeding the limits set by the Shari'ah and Sunnah. This is called bid'ah بدعت . This can be explained through the example of the blessed Companion ` Abdullah ibn Salam ؓ and others who were, previous to their Islam, known scholars among the Jews. Since Saturday was the sacred day of rest (the Sabbath اَسَّبت) in Judaism, and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

228. These words are indicative of an important fact. Man's test lies in showing whether he accepts reality even though he cannot perceive it directly through his senses; and whether, after having accepted it, he has the required moral stamina to obey God even though he is endowed with the capacity to disobey Him. In sending the Prophets, in revealing the Scriptures, indeed, even in performing miracles, God has always taken care to leave scope for testing man's power of judgement and his moral stamina. He has never disclosed reality to such a degree that man would be inevitably compelled to…

Read the full tafseer →