Explained with ayahs 208–209
مکمل اطاعت ہی مقصود ہے
اللہ تعالیٰ اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور اپنے نبی کی تصدیق کرنے والوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ کل احکام کو بجا لائیں کل ممنوعات سے بچ جائیں کامل شریعت پر عمل کریں سلم سے مراد سلام ہے اطاعت اور صلح جوئی بھی مراد ہے کافۃ کے معنی سب کے سب پورے پورے پورے، عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اسد بن عبید ثقلیہ وغیرہ جو یہود سے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے حضور ﷺ سے گزارش کی ہمیں ہفتہ کے دن کی عزت اور راتوں کے وقت توراۃ پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے جس پر یہ آیت اتری کہ اسلامی احکام پر عمل کرتے رہو، لیکن اس میں حضرت عبداللہ کا نام کچھ ٹھیک نہیں معلوم وہ اعلیٰ عالم تھے اور…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 227
یعنی وہ زبردست طاقت بھی رکھتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اپنے مجرموں کو سزا کس طرح دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–210
ربط آیات
اوپر مخلص کی مدح تھی بعض اوقات اس اخلاص میں غلطی سے غلو اور افراط ہوجاتا ہے یعنی قصد تو ہوتا ہے زیادہ اطاعت کا مگر وہ اطاعت بنظر غائر حد شریعت وسنت سے متجاوز ہوتی ہے اس کو بدعت کہتے ہیں، چناچہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ جو پہلے علماء یہود سے تھے اور اس مذہب میں ہفتہ کا روز معظم تھا اور اونٹ کا گوشت حرام تھا ان صاحبوں کو بعد اسلام کے یہ خیال ہوا کہ شریعت موسوی میں ہفتہ کی تعظیم واجب تھی اور شریعت محمدی میں اس کی بےتعظیمی واجب نہیں اسی طرح شریعت موسویہ میں اونٹ کا گوشت کھانا حرام تھا اور شریعت محمدی میں اس کا کھانا فرض نہیں سو اگر ہم بدستور ہفتہ کی تعظیم کرتے رہیں اور اونٹ کا گوشت…
Read the full tafseer →“ بینات ”سے مراد وہ تنبیہاو تہدیدات بھی ہیں جو شیطان کی چالوں اور اس کے فتنوں سے آگاہ کرنے کے لیے نہایت تفصیل کے ساتھ قرآن میں بیان ہوئی ہیں اور وہ واضح اور قطعی ہدایت بھی جو ایمان و اسلام کے تقاضوں کو بیان کرنے کے لیے وارد ہوئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر سورج کی طرح روشن ہدایت و تنبیہات کے بعد بھی تم نے (خطاب منافقین ہی سے ہے) اپنے ازلی اور کھلے ہوئے دشمن ہی کے نقش قدم کی پیروی کی تو اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ خدا کی پکڑ سے تم کسی طرح نہیں بچ سکتے۔ خدا عزیز و حکیم ہے۔
عزیز کی صفت کے حوالہ سے دو حقیقتوں کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ ایک تو اس حقیقت کی طرف کہ خدا کوئی کمزور و ناتواں ہستی نہیں ہے بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–209
28 ا۔ 1 اہل ایمان کو کہا جا رہا ہے کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اس طرح نہ کرو جو باتیں تمہاری مصلحتوں اور خواہشات کے مطابق ہوں ان پر تو عمل کرلو دوسرے حکموں کو نظر انداز کردو اس طرح جو دین تم چھوڑ آئے ہو اس کی باتیں اسلام میں شامل کرنے کی کوشش مت کرو بلکہ صرف اسلام کو مکمل طور پر اپناؤ اس سے دین میں بدعات کی بھی نفی کردی گئی اور آجکل کے سیکولر ذہن کی تردید بھی جو اسلام کو مکمل طور پر اپنانے کے لئے تیار نہیں بلکہ دین کو عبادت یعنی مساجد تک محدود کرنا اور سیاست اور ایوان حکومت سے دین کو نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس طرح عوام کو بھی سمجھایا جا رہا ہے جو رسوم و رواج اور علاقائی ثقافت و روایات کو…
Read the full tafseer →138: ان دو صفتوں کو ساتھ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ اس کا اقتدار کامل ہے اس لیے وہ کسی وقت بھی تمہاری بد عملی کی سزا دے سکتا ہے، لیکن چونکہ اس کی حکمت بھی کامل ہے، اس لیے وہی اپنی حکمت سے یہ طے کرتا ہے کہ کس کو کب اور کتنی سزا دینی ہے۔ لہذا اگر ایسے کافر فوری طور سے عذاب میں پکڑے نہیں جارہے تو اس سے یہ سمجھ بیٹھنا حماقت ہے کہ وہ سزا سے ہمیشہ کے لیے بچ گئے۔
Read the full tafseer →اب بتایا جاتا ہے کہ اگر ان ہدایات اور واضح ہدایات کے بعد بھی تم لغزش کھاتے ہو تو تمہارا انجام اچھا نہ ہوگا ۔ فَإِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں ، اگر ان کے پالینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی ، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حاکم ہے ۔ “
وہ عزیز ہے اور غالب ہے ۔ اشارہ اس طرف ہے کہ وہ قوت اور غلبے کا مالک ہے ۔ اگر وہ اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے تو انہیں اللہ کی قوت قاہرہ کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور وہ حکیم ہے ، صاحب حکمت ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ اس نے تمہارے لئے جو نظام زندگی تجویز…
Read the full tafseer →6 یعنی شریعت محمدی کے صاف صاف احکام معلوم ہونے کے بعد بھی اگر کوئی اس پر قائم نہ ہو بلکہ دوسری طرف بھی نظر رکھے تو خوب سمجھ لو کہ اللہ سب پر غالب ہے جس کو چاہے سزا دے کوئی اس کے عذاب کو روک نہیں سکتا بڑا حکمت والا ہے جو کرتا ہے حق اور مصلحت کے موافق کرتا ہے خواہ عذاب دے یا کچھ ڈھیل دے یعنی نہ جلد باز ہے نہ بھولنے والا نہ خلاف انصاف اور غیر مناسب امر کو کرنے والا۔
Read the full tafseer →آیت 209 فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا جَآءَ ‘ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ
اس میں تہدید اور دھمکی کا پہلو ہے کہ پھر اللہ کی پکڑ بھی بہت سخت ہوگی۔ اور پھر یہ کہ وہ حکیم بھی ہے ‘ اس کی پکڑ میں بھی حکمت ہے ‘ اگر اس کی طرف سے پکڑ کا معاملہ نہ ہو تو پھر دین کا پورا نظام بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر اللہ کی طرف سے کسی گناہ پر پکڑ ہی نہیں ہے تو پھر یہ آزمائش کیا ہوئی ؟ پھر جزا و سزا اور جنت و دوزخ کا معاملہ کیا ہوا ؟
Read the full tafseer →277 یعنی اسلام کے انسانی زندگی کے ہر پہلو میں واضح احکام آجانے کے بعد تم اسلام میں پوری طرح داخل نہ ہوئے اور دوغلی پالیسی اختیار کی اور جن احکام پر چاہا عمل کرلیا اور جہاں کوئی بات طبیعت کو ناگوار محسوس ہوئی یا کسی نقصان کا خطرہ محسوس ہوا وہاں اپنی مرضی کرلی اور اسلام کے احکام کو پس پشت ڈال دیا تو خوب سمجھ لو کہ اللہ بڑا زبردست ہے حکمت والا ہے، وہ تمہیں سزا بھی دے سکتا ہے، ذلیل و خوار بھی کرسکتا ہے اور دنیا کی حکمرانی تمہارے سوا کسی دوسرے کو بھی دے سکتا ہے۔
Read the full tafseer →763 (ہر سزا پر قادر، اور سزا کو وقت مناسب ہی پر دینے والا) (آیت) ” البینت “ مراد اس سے کھلے ہوئے احکام بھی ہوسکتے ہیں جن میں کسی قسم کا خفایا ابہام نہیں، مثلا عقیدۂ توحید، عقیدۂ رسالت، حکم نماز، حکم جہاد اور ہر وہ چیز بھی اس میں داخل ہے جو دین اسلام کی حقانیت یا قانون اسلام کی صداقت پر روشن دلیل کا کام دے سکے۔ یہ بینات خواہ جس معنی میں بھی لیے جائیں، بہرحال ان نومسلم یہود کے پاس پہنچ چکے تھے۔ اور انہیں کوئی وجہ اب قدم پیچھے ہٹانے یا لڑکھڑانے کی نہیں رہی تھی۔ ” زللتم “ زلت کے لفظی معنی پھسل جانے کے ہیں، جو بےاختیاری میں بھی ہوتا ہے۔ یہ لفظ لاکر ڈرادیا ہے کہ قصدا وادانستہ مخالفت تو پھر بڑی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–209
یَآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا ادْخُلُوْا فِی السِّلْم کَافَّۃً ، یعنی کسی استثناء اور تخصیص کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ، تمہارے خیالات نظریات تمہارے علوم تمہارے طور و طریقے تمہارے معاملات تمہاری سعی وعمل کے راستے سب کے سب باکل تابع اسلام ہوں ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کے مختلف حصوں کو اس کی پیروی سے مستثنیٰ کرلو۔
ربط آیات اور شان نزول : ابن جریر نے عکرمہ سے نقل کیا ہے فرمایا : کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ہمیں اجازت عطا فرمائیں کہ ہم یوم السبت کا احترام کریں اور اونٹ کا گوشت ترک کریں تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبد…
Read the full tafseer →فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْكُمُ الْبَيِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ( پھر اگر تم بچلے (لڑکھڑائے) اس کے بعد کے آچکیں تمہارے پاس نشانیاں تو جان رکھو کہ اللہ زبردست، حکمت والا ہے) یعنی پھر اگر تمہارے قدموں نے لغزش کھائی اور اسلام پر مستقیم نہ رہے۔ البینات سے مراد وہ نشانیاں اور دلائل ہیں جو حقانیت اسلام کا پتہ دے رہی ہیں۔ فاعلموا ان اللہ عزیز یعنی اگر تم نے لغزش کھائی تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے بدلہ لینے سے اس کو کوئی امر مانع نہیں۔ حکیم یعنی حکمت والا ہے انتقام حق پر لیتا ہے کسی حکمت کی وجہ سے مہلت دے رکھی ہے لفظ عزیز سے وہم ہوتا تھا کہ جب زبردست…
Read the full tafseer →(209) پھر اگر اپنی کتاب میں اس چیز کا بیان اور وضاحت آجانے کے بعد بھی تم رسول اکرم ﷺ کی شریعت سے دور ہٹو تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے جو اپنے رسول ﷺ کی پیروی نہ کرے زبردست بدلہ لینے والا ہے اور اللہ تعالیٰ پہلی شریعتوں کے منسوخ کرنے کے بارے میں زیادہ جانتا ہے، یہ آیت مبارکہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے کیوں کہ وہ ہفتہ کے دن اور اونٹ کے گوشت کے معاملے میں حساس تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 209–210
اسلام کا بنیادی عقیدہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا سچا رسول مانتے ہوئے ان کے بتائے ہوئے غیب یعنی بن دیکھی حقیقتوں پر ایمان ہے۔ حدیث جبریل ؑ میں اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنے کو ایمان کہا گیا ہے۔ [ مسلم، الإیمان : 8 ] دنیا میں آزمائش اسی بات کی ہے کہ بغیر دیکھے کون ان پر ایمان لاتا ہے اور کسی جبر کے بغیر اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کرتا ہے۔ چناچہ فرمایا : (لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بالْغَيْبِ) [ المائدۃ : 94 ] ”تاکہ اللہ جان لے کون اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔“ مزید دیکھیے سورة انبیاء (49) ، فاطر (18) ، سورة یس…
Read the full tafseer →ارشاد باری تعالیٰ ” فان زللتم “ کا معنی ہے اگر تم صراط مستقیم سے دور ہٹنے لگو۔ دراصل زلل یعنی پھسلاہٹ قدم میں ہوتی ہے، بعد ازاں یہ لفظ اعتقادات، آراء اور دیگر چیزوں میں (سیدھی راہ سے ہٹ جانے کے لئے) استعمال کیا جانے لگا ہے۔ کہا جاتا ہے : زل زلا و زللا وزلولا “ ، یعنی اس کا پاؤں پھسل گیا۔
ابو السمال العدوی نے ” زللتم “ لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں، حرف کی اصل الزلق سے ہے اور معنی ہے : ” تم حق سے بھٹک گئے اور بہک گئے۔ “
اور ارشاد خدا وندی (آیت) ” من بعد ماجآء تکم البینت “ میں ” البینت “ سے مراد معجزات اور آیات قرآن ہیں۔ اگر آیت میں خطاب مومنین کو ہے اور اگر خطاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–209
اسلام میں مکمل داخل ہونا
(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ “ کہ انہوں نے ” کافۃ “ کو نصب کے ساتھ پڑھا یعنی اہل کتاب کے ایمان والے لوگ جبکہ وہ اللہ پر ایمان کے ساتھ تھے مضبوطی سے پکڑے ہوئے تو رات پر بعض حکم اور شرائع کو جو ان کے بارے میں نازل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ کے دین کی شریعت میں مکمل طور پر داخل ہوجاؤ اور اس میں سے کوئی چیز نہ چھوڑو اور کافی ہے تمہارا ایمان لانا تورات کے ساتھ اور جو کچھ اس میں ہے۔
(2) ابن جریر نے عکرمہ (رح) عنہ سے لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[ فَاِنْ : پھر اگر ] [ زَلَلْتُمْ : تم لوگوں نے لغزش کھائی ] [ مِّنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ جَآئَ تْکُمُ : آئیں تمہارے پاس ] [ الْبَـیِّنٰتُ : واضح (نشانیاں) ] [ فَاعْلَمُوْآ : تو جان لو ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰہَ : اللہ ] [ عَزِیْزٌ : بالادست ہے ] [ حَکِیْمٌ: دانا ہے ]
ترکیب : ” اِنْ “ شرطیہ ہے۔ ” زَلَلْتُمْ “ سے ” اَلْبَیِّنٰتُ “ تک شرط ہے اور ” فَاعْلَمُوْا “ سے آخر تک جوابِ شرط ہے۔ ” جَائَ تْ “ کا مفعول ” کُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” اَلْبَیِّنٰتُ “ اس کا فاعل ہے اور یہ صفت ہے ‘ اس کا موصوف ” الْاٰیٰتُ “ محذوف ہے۔
Read the full tafseer →(فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) ” سو اگر تم لغزش کھا جاؤ اس کے بعد کہ تمہارے پاس واضح دلیلیں آچکی ہیں، تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ “
اس آیت میں بتایا کہ واضح دلائل آجانے کے بعد پھر بھی اسلام میں داخل نہ ہوئے تو اس کو معمولی بات نہ سمجھنا یہ اللہ تعالیٰ کی بغاوت ہے۔ وہ غالب ہے اس کے عذاب اور انتقام سے بچ نہیں سکتے، اور وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت کے موافق وہ سزا دینے میں جلدی نہ کرے تو اس سے دھوکہ نہ کھانا اور یہ نہ سمجھنا کہ گرفت نہ ہوگی اور انتقام سے محفوظ رہیں گے۔
قال صاحب الروح ص 98 ج 2 غالب علمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–210
حکم دوازدھم، استسلام تام و قبول جمیع احکام اسلام۔
قال تعالی، یا ایھا الذین امنو ادخلوا۔۔۔ الی۔۔ الامور۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں ایمان اور اخلاص کا ذکر تھا اس آیت میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایمان اور اخلاص کا مقتضی یہ ہے کہ دین اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد دین سابق یعنی یہودیت اور نصرانیت کی رعایت سے کوئی کام نہ کرو ایک دین میں داخل ہونے کے بعد دوسرے دین کی طرف بھی نظر رکھنا یہ اخلاص کے منافی ہے نیز جو شخص اپنے نفس کو اللہ کے ہاتھ فروخت کرے اور اس کی رضا اور خوشنودی کا طلب گار ہو اور اس کی اس خاص رحمت ورافت کا امیدوار ہو جو عباد مخلصین پر نازل ہوتی ہے تو اس کو…
Read the full tafseer →397 یہ زجر اور تخویف ہے اور چوتھی ترغیب ہے۔ یعنی جب دلائل واضحہ تمہارے پاس آچکے ہیں اور دین اسلام کی صداقت وحقانیت تم پر واضح ہوچکی ہے تو اب بھی اگر تم پھسل گئے اور ڈگمگا گئے یعنی اسلام کے بعض احکام پر عمل نہ کیا مثلاً جہاد کرنا چھوڑ دیا تو پھر سن لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست اور صاحب حکمت ہے اسے سزا دینے سے کوئی نہیں روک سکتا اور بتقاضائے حکمت جو سزا دینا چاہے اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–210
مکمل اسلام
گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت اور مخلص ایمان والوں کی تعریف بیان کی گئی تھی کہ وہ اپنی جان اور مال ہر چیز اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے قربانی کرنے کو تیار ہوتے ہیں اب ان مخلص مئومنین سے خطاب ہے۔ یایھا الذین امنوا داخلوا فی السلم کآفۃ اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو۔ کافۃ کا معنی جمیعاً ہوتا ہے۔ یعنی انسان اپنے جسم کے لحاظ سے اور ادھر احکام شریعت کے لحاظ سے پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجائیں۔ وفاداری صرف اور صرف اسلام سے ہو ، باقی تمام ادیان ، بدعات ، رسومات باطلہ وغیرہ سے مکمل طور پر علیحدگی ہو۔ کیونکہ یہ چیزیں اسلام کے منافی ہیں۔ اگر اسلام کے ساتھ ساتھ ایسی…
Read the full tafseer →فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْكُمُ الْبَيِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 209
زل
الزَّلَّةُ في الأصل : استرسال الرّجل من غير قصد، يقال : زَلَّتْ رِجْل تَزِلُّ ، والْمَزِلَّةُ : المکان الزّلق، وقیل للذّنب من غير قصد : زَلَّةٌ ، تشبيها بزلّة الرّجل . قال تعالی: فَإِنْ زَلَلْتُمْ [ البقرة/ 209] ،
( ز ل ل ) الزلۃ
کے اصل معیل بلا قصد کے قدم پھسل جانے کے ہیں کہا جاتا ہے : ۔ زلت ( ض ) رجل تزل اور پھسلنے کی جگہ کو زکۃ کہا جاتا ہے نیز جو گناہ بلا قصد سرزد ہوجائے اسے بھی بطور تشبیہ زلۃ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَإِنْ زَلَلْتُمْ [ البقرة/ 209] اگر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–211
ترکیب : کافۃ من الکف کانہم کفوا ان یخرج منہم احد باجتماعہم۔ حال ہے فاعل ادخلو فی السلم سے ای فی السلم من جمیع وجوہیہ فان زللتم شرط فاعلموا الخ جملہ جواب فی ظلل جمع ظلۃ یہ ظرف ہے اور ممکن ہے کہ حال ہو من الغمام صفت ہے ظلل کی۔ سل فعل انت اس کا فاعل بنی اسرائیل مفعول اول کم استفہامیہ اتینا فعل بافاعل ھم مفعول اول اور کم من اٰیۃ بینۃ اس کی تمیز مجموعہ مفعول ثانی پھر یہ تمام جملہ مفعول ثانی ہوا سل کا محلا یہ جملہ منصوب ہے اور یہ سوال بطور تہدید کے ہے یہ خطاب صرف آنحضرت ﷺ کو نہیں بلکہ ہر مخاطب کو۔
تفسیر : اگلی آیت میں ذکر تھا کہ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جن کا ظاہر حال اچھا معلوم ہوتا ہے مگر درپردہ برے…
Read the full tafseer →فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْـکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔
اگر تم ان کھلی ہوئی تنبیہات کے بعد بھی جو تمہارے پاس آچکی ہیں پھسل گئے تو جان رکھو اللہ غالب اور حکمت والا ہے) (209)
اتمام حجت کے بعد
بینات سے مراد وہ تنبیہات ہیں جو قرآن کریم نے شیطان کی چالوں سے بچانے اور اس کے فتنوں سے آگاہ کرنے کے لیے جا بجا بیان فرمائی ہیں۔ تخلیق آدم اور خلافتِ آدم کے واقعہ سے لے کر پورے قرآن کریم میں یہ تفصیلات پھیلی ہوئی ہیں اور اس سے پہلے جو کتابیں نازل ہوچکی ہیں ان میں سے کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں شیطان کے حملوں سے بچنے کی تاکید نہ کی گئی ہو اور نہ بچنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–210
فہم القرآن
ربط کلام : منافق اور سب لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی سوچ اور کردار کو کلی طور پر دائرہ اسلام میں داخل کرو یہی سلامتی کا راستہ اور شیطان کی پیروی سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے۔ اس کے سوا گمراہی ہے۔
اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ جو رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ کے معًا بعد مسلمان ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک مجلس میں ان خیالات کا اظہار کیا کہ کیا حرج ہے اگر ہم ہفتہ کے دن کی تعظیم کریں اور اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیں ؟ اس طرح ہمارے اور یہودیوں کے درمیان مفاہمت کی فضا پید اہوسکتی ہے۔ اس صورت حال پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے مسلمانو ! لوگوں کے دباؤ یا مفاہمت کے جذبہ کی خاطر باطل…
Read the full tafseer →209۔ فَاِنْ زَلَلْتُمْ ۔ پس اگر تم پھسل گئے یعنی اسلام میں داخل ہونے سے تمہارے قدموں نے لغزش کھائی۔ مِّنْ م بَعْدِ مَا جَآئَ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ ۔ تمہارے پاس دلائل آنے کے بعد بینات سے مراد واضح ثبوت اور روشن شواہد ہیں۔ جس چیز میں داخل ہونے کے لئے تمہیں دعوت دی گئی ہے وہ برحق ہے فَاعْلَمُوْٓ ا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ پس تم یقین کرلو اللہ زبردست حکمت والے ہیں۔ عزیز ایسے غلبے والے کو کہتے ہیں۔ جس کو کوئی چیز بھی مانع نہ بن سکے۔ حکیم کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی حکمت والا ہے کہ وہ حق پر انتقام لیتا ہے۔
نکتہ : ایک قاری نے اس آیت میں عزیز حکیم کی بجائے غفور رحیم پڑھ دیا ایک بدو نے اس آیت کو اس…
Read the full tafseer →209۔ (آیت)” فان زللتم “ تم بھٹک گئے، کہا گیا ہے تم ہٹ گئے، کہا جاتا ہے ” زلت قدمہ تزل زلا وزلا “ جب وہ پھسل جائے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اس سے مراد شرک ہے ، حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جان لیا عنقریب بعض لوگ پھسل جائیں گے پس اسے مقدم کیا اور اس میں وعید سنائی تاکہ اللہ تعالیٰ کی ہاں ان کے خلاف حجت ہوجائے ، (آیت)” من بعد ما جاء تکم البینات “ یعنی واضح دلالتیں ”(آیت)” فاعلموا ان اللہ “۔
(آیت)” عزیز “ انتقام لینے میں (غالب ہے) (حکیم) اپنے معاملہ میں (حکیم ہے) پس عزیز اور غالب جس کے (قبضہ قدرت) سے کوئی شیء باہر نہیں اور حکیم اپنے معاملات میں درست پہنچنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–209
(208 ۔ 209) ۔ بعض اہل کتاب جو اسلا لے آئے تھے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے ایک دن عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دے دیں تو ہمارا جی چاہتا ہے کہ جس طرح ہفتہ کے دن کی تعظیم ہم لوگ یہود ہو کر ادا کیا کرتے تھے ایک رات ہم پھر وہ رسم ادا کرلیں اور رات تورات کی چند آیتوں کے موافق عمل کرنے کا ہمارے دین میں حکم تھا وہ بھی بجا لائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ناسخ حکم کے معلوم ہوجانے کے بعد منسوخ حکم پر عمل کرنے کا خیال دل میں لانا شیطان کی پیروی ہے اللہ کے حکم کی پیروی نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ سِلْمُ کے معنی اس آیت میں اسلام کے ہیں۔
Read the full tafseer →یہ اہل ایمان کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ وہ مکمل طور پر اسلام میں داخل ہوجائیں۔ یعنی دین کے تمام احکام پر عمل کریں اور ان احکام میں سے کسی حکم کو ترک نہ کریں اور ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا۔ اگر شرعی حکم ان کی خواہش نفس کے مطابق ہوتا ہے تو اس پر عمل کرلیتے ہیں اگر یہ حکم خواہش نفس کے خلاف ہو تو اسے چھوڑ دیتے ہیں، بلکہ یہ فرض ہے کہ بندے کی خواہش دین کے تابع ہو، بھلائی کا ہر وہ کام کرے جس پر اسے قدرت حاصل ہو اور جس کام کے کرنے سے وہ عاجز ہو، اس کی کوشش کرے اور اس کو بجا لانے کی نیت رکھے، پس اپنی نیت سے وہ اسے پالے گا۔ چونکہ دین میں مکمل طور پر داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 206–209
قول باری ہے (فاعلموا ان اللہ عزیز حکیم۔ جان لو کہ اللہ عزیز و حکیم ہے) عزیزوہ ذات ہے جو غالب و قوی ہو اور اسے اس بات کی پوری قدرت ہو کہ جو چاہے روک دے اور جو چاہے نہ روکے۔ اس لئے کہ عزت کے اصل معنی امتناع کے ہیں۔ اسی محاورہ ہے : ایسی سر زمین جو شدت اور صعوبت کی بنا پر ممتنع الوصول ہو۔
لفظ الحکیم کا اطلاق اللہ کی صفت میں دو معنوں پر ہوتا ہے۔ ایک العالم (جاننے والا) جب یہ معنی مراد ہو تو یہ کہنا جائز ہے کہ اس کا علم ہمیشہ سے ہے۔ دوسرا معنی متفن و محکم فعل یعنی پختہ اور محکم کام کرنے والا جب یہ معنی مراد ہو تو یہ کہنا جائز نہیں ہوگا وہ ہمیشہ سے حکیم ہے جس طرح کہ یہ کہنا جائز نہیں کہ وہ ہمیشہ سے…
Read the full tafseer →576 اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز و حکیم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا زبردست نہایت ہی حکمت والا ہے : پس اس کی گرفت اور پکڑ سے نہ کوئی نکل سکتا ہے اور نہ کہیں بھاگ کر بچ سکتا ہے، مگر وہ چونکہ حکیم بھی ہے اس لئے فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ ڈھیل دیتا ہے۔ سو اس کی پکڑ بھی بڑی سخت اور نہایت حکیمانہ ہوتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ۔ اللّھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ بِکُل حَالٍ مِّنَ الاَحْوَالِ ، وَفِیْ کُل مَوْطِنٍ مِّنَ الْمَوَاطِنِ ، یَا مَنْ رَحْمَتُہٗ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ وسَبَقَتْ غَضَبَہٗ ۔ سو اس کے امہال اور ڈھیل سے کسی کو دھوکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–210
مکمل ضابطہ حیات اور منکرین کی ہٹ دھرمی
تشریح : یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہ یہودی علماء میں سے تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کو خیال ہوا کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو یہودی مذہب میں جائز تھیں کیوں نہ ان کو بھی اپنے عمل میں جاری رکھا جائے۔ وہ باتیں یہ تھیں یہودی ہفتہ کے دن کو مقدس سمجھتے تھے، اونٹ کے گوشت اور دودھ کو حرام سمجھتے تھے۔ حضرت عبداللہ ؓ اور کچھ دوسرے نو مسلم یہودی علماء نے سوچا کہ چلو کچھ یہودیت کے عقیدوں کو مانے رکھتے ہیں اور کچھ اسلام کے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات جاری کی گئیں کہ یہ رویہ بالکل غلط ہے۔ اگر مسلمان ہونا ہے تو پھر پورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–210
آیات 197- 210
اسرارو معارف
الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔
احکام حج :
عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 209–210
ف 1 رجز وتہدید ہے یعنی یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یہی تاکہ جو کچھ قیامت میں ہونے والا ہے وہ آج ہی ہوجائے۔ (قرطبی) قیامت کے دن مذکورہ صورت میں اللہ تعالیٰ کا نزول احادیث سے ثابت ہوتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ کے دوسرے صفات و افعال اور شوؤن کی طرح اس پر بھی بلا کیف اور بغیر تاویل کے ایمان لانا ضروری ہے۔ سلف صالح کا یہی مسلک ہے متکلمین اور عقل پر ستوں کی تاویلات مذہب اہل حدیث اور سلف امت کے خلاف میں۔ (روح۔ ترجمان) اور بقول اما رازی اگر یہ کہہ دیا جائے کہ اس آیت میں یہود کے عقیدہ کی حکایت اور ان کے خیال کی ترجمانی ہے قطع نظر اس سے کہ ان کا یہ خیال غلط ہے یا صحیح اور یہود چونکہ تشبیہ کے قائل تھے لہذا آیت سے…
Read the full tafseer →(2:209) زللتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ زل۔ زلل۔ زلول۔ (باب ضرب۔ سمع) پاؤں یا زبان کا پھسل جانا۔ تم ڈگمگائے۔ تم نے لغزش کی۔ تم نے ٹھوکر کھائی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ ولا تتخذوا ایمانکم دخلا م بینکم فتزل قدم بعد ثبوتھا (16:94) اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں) کے قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں۔
البینت ۔ بینۃ کی جمع ۔ کھلے دلائل۔ روشن دلیلیں۔
فان زللتم ۔۔ البیت۔ جملہ شرطیہ۔ فاعلموا ۔۔ حکم۔ جواب شرط۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–210
لغات القرآن : آیت نمبر 208 تا 210
السلم (سلامتی ) ۔ کافۃ (پوری طرح۔ پورے پورے) ۔ زللتم (تم بھٹک گئے) ۔ ظلل (سائے (ظل، سایہ) ۔ قضی (فیصلہ کردیا) ۔ الامر (کام، حکم ) ۔ ترجع (لوٹائے جائیں گے) ۔ الامور (تمام کام (الامر، کام) ۔
تشریح : آیت نمبر 208 تا 210
دین اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور دنیا کے تمام نظاموں اور ازموں میں ایک امتیازی شان رکھتا ہے۔
قرآن کریم کے ابدی اصولوں اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور ارشادات نے زندگی کے ہر شعبہ میں کامل رہنمائی فرمائی ہے۔ عقائد، عبادات ، معاملات، معاشرت ، معیشت ، حکومت ، سیاست ، تجارت، زراعت ، صنعت و حرفت غرض یہ کہ زندگی کے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 204–210
شان نزول : بعضے مفسرین نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص اخنس بن شریک منافق کی شان میں یہ آیت اتری ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ کے پاس آتا تھا تو اسلام کی تائید میں بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور جب آپ کے پاس سے جاتا تھا تو اسلام کی بد خواہی کی باتیں کرتا تھا اور طرح طرح کے جھگڑے اور فساد کھڑے کرتا تھا اور بعضوں نے کہا ہے کہ واقعہ رجیع کی خبر جب مدینہ میں پہنچی تو بعضے منافقوں نے ظاہر میں تو مسلمانوں کی ہمدردی کے کلمات ان شہداء کی شان میں منہ سے نکالے لیکن باطن میں ان شہداء اور مسلمانوں کی ہجو اور مذمت مقصود تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کی مذمت میں شہدائے رجیع کی مدح میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–209
[140] یعنی اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ جو ایک مکمل نظام حیات ہے اور تمام شعبہ ہائے زندگی پر حاوی ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ تم زندگی کے بعض حصوں میں تو اسلام کی پیروی کرو اور بعض حصوں کو اس کی پیروی سے خارج کردو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 209–210
خدا کی آمد :
(ف 1) وہ لوگ جو منکر ہیں ان کو ہرچند دلائل وبراہین سے قائل کرنے کی کوشش کی گئی ، لیکن وہ بغض وعناد پر ہی قانع رہے یعنی جب انہیں عاقبت کی سختی سے ڈرایا جاتا تو وہ کہتے ، ہم نہیں ماننے کے ، ہم پر کیوں عذاب نہیں آجاتا ، آخر اس میں تامل کیا ہے ؟ چناچہ قرآن حکیم نے ان کے اس مقولے کو نقل فرمایا کہ (آیت) ” فاسقط علینا کسفا “۔ یعنی ہم پر آسمان ٹوٹے پڑے ، ہم بالکل اس کے لئے آمادہ ہیں ۔ اس آیت میں بھی ان کی اس ذہنیت کو ظاہر کیا گیا ہے کہ ان کی سرکشیاں حد سے گزر گئی ہیں اور عذاب الہی کے سوا یہ مجاز ہے مقصد عذاب الہی کی آمد ہے ، قرآن حکیم نے اس طرح کے انداز بیان کو دوسری جگہوں میں استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–210
ف 1 اے ایمان والو ! تم اسلام میں پوری طرح داخل ہوجائو اور اسلام کے تمام احکام مانو ! اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو اور اس امر کا یقین کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے پھر اگر اس کے بعد بھی کہ تم کو صاف صاف احکام اور واضح اور روشن دلائل پہونچ چکے ہیں تم سیدھی راہ سے ڈگمگا جائو گے اور پھسل جائو گے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور بڑی رحمت کا مالک ہے کیا یہ لوگ جو دلائل کی روشنی حاصل ہونے کے بعد بھی راہ مستقیم سے ہٹتے ہیں صرف اس بات کی راہ دیکھ رہے ہیں اور صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس آئیں اور تمام کاموں کا فیصلہ ہی کردیاجائے اور تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–209
ف 1۔ کوئی شخص تھا اخنس بن شریق، بڑا فصیح وبلیغ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آکر قسمیں کھاکر جھوٹا دعو اسلام کا کیا کرتا تھا اور مجلس سے اٹھ کرجاتا تو فساد و شرارت وایذارسانی خلق میں لگ جاتا اس منافق کے باب میں یہ آیت فرمائی ہیں۔
Read the full tafseer →اگر تم نے پرواہ کی تو سمجھ لو کہ اللہ تو پہلے ہی بےپرواہ ہے :
359: ” الْبَیِّنٰتُ “ سے مراد کھلے ہوئے احکام ہیں جن میں کسی قسم کا اخفا یا ابہام نہ ہو۔ مثلاً عقیدہ توحید و رسالت۔ حکم نماز اور حکم جہاد اور ہر وہ چیز اس میں داخل ہے جو دین اسلام کی حقانیت یا قانون اسلام کی صداقت پر روشن دلیل کا کام دے سکے۔ یہ بینات ان نومسلم یہود کے پاس بھی پہنچ چکے تھے اور انہیں کوئی وجہ اب قدم پیچھے ہٹانے یالڑکھڑانے کی نہیں رہی تھی۔
زَلَلْتُمْ : زلت کے لفظی معنی پھسل جانے کے ہیں جو بےاختیاری میں ہوتا ہے۔ یہ لفظ استعمال کرکے گویا ڈرایا گیا ہے کہ قصداً اور دانستہ مخالفت تو پھر بڑی چیز ہے غلطی یا بےخیالی سے بہک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–210
The previous verses ended with a word of praise for the sincere. As sincerity (ikhlas اخلاص) can sometimes touch the limits of excess inadvertently, that is, one does intend to come up with more obedience, but that obedience, when observed carefully, turns out to be exceeding the limits set by the Shari'ah and Sunnah. This is called bid'ah بدعت . This can be explained through the example of the blessed Companion ` Abdullah ibn Salam ؓ and others who were, previous to their Islam, known scholars among the Jews. Since Saturday was the sacred day of rest (the Sabbath اَسَّبت) in Judaism, and…
Read the full tafseer →227. The point is that God has enormous power and knows well how to punish criminals.
Read the full tafseer →