Al-Baqara 2:208

Al-Baqara · from ayah 208

2:208

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً ۪— وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ؕ— اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ۟يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِى السِّلۡمِ کَآفَّةً ۖ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ‌ؕ اِنَّهٗ لَـکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ

مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, enter into Islam completely [and perfectly] and do not follow the footsteps of Satan. Indeed, he is to you a clear enemy.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 25 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:208

اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آ جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وه تمہارا کھلا دشمن ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو، یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت میں پورے پورے داخل ہوجآ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو داخل ہوجاؤ تم اسلام کے حظیرہ قدس میں پورے کے پورے اور خبردار شیطان کی پیروی نہیں کرنا کہ بیشک وہ تمہارا دشمن ہے کھلم کھلا

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہوجاؤ۔ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو وہ تو تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان ! اسلام میں داخل ہوجاؤ پورے کے پورے اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو وہ تو یقیناً تمہارا بڑا کھلا دشمن ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ایمان والو ! تم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Believers, enter completely into Islam and do not follow in" the footsteps of Satan, for he is your avowed enemy.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, enter Islam completely, and do not follow the footsteps of Satan. Surely, he is an open enemy for you;

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, enter Islam completely, and do not follow the footsteps of Satan. Surely, he is an open enemy for you;

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Enter Silm perfectly, and follow not the footsteps of Shaytan (Satan). Verily, he is to you a plain enemy.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Come, all of you, into submission (unto Him); and follow not the footsteps of the devil. Lo! he is an open enemy for you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, enter into Islam completely [and perfectly] and do not follow the footsteps of Satan. Indeed, he is to you a clear enemy.

— Saheeh International

Believers, submit yourselves to the will of God as a whole. Do not follow the footsteps of Satan; he is your sworn enemy.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! enter into submission one and all and do not follow the footsteps of Shaitan; surely he is your open enemy.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! enter into Islam wholly, and follow not the foot steps of the Satan, verily he is unto you an enemy manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Enter into Islam whole-heartedly; and follow not the footsteps of the evil one; for he is to you an avowed enemy.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:208

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 208–209

مکمل اطاعت ہی مقصود ہے اللہ تعالیٰ اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور اپنے نبی کی تصدیق کرنے والوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ کل احکام کو بجا لائیں کل ممنوعات سے بچ جائیں کامل شریعت پر عمل کریں سلم سے مراد سلام ہے اطاعت اور صلح جوئی بھی مراد ہے کافۃ کے معنی سب کے سب پورے پورے پورے، عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اسد بن عبید ثقلیہ وغیرہ جو یہود سے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے حضور ﷺ سے گزارش کی ہمیں ہفتہ کے دن کی عزت اور راتوں کے وقت توراۃ پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے جس پر یہ آیت اتری کہ اسلامی احکام پر عمل کرتے رہو، لیکن اس میں حضرت عبداللہ کا نام کچھ ٹھیک نہیں معلوم وہ اعلیٰ عالم تھے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 226 یعنی کسی استثنا کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ۔ تمہارے خیالات، تمہارے نظریات، تمہارے علوم، تمہارے طور طریقے، تمہارے معاملات، اور تمہاری سعی و عمل کے راستے سب کے سب بالکل تابع اسلام ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے بعض حصوں میں اسلام کی پیروی کرو اور بعض حصوں کو اس کی پیروی سے مستثنیٰ کرلو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 208–210

ربط آیات اوپر مخلص کی مدح تھی بعض اوقات اس اخلاص میں غلطی سے غلو اور افراط ہوجاتا ہے یعنی قصد تو ہوتا ہے زیادہ اطاعت کا مگر وہ اطاعت بنظر غائر حد شریعت وسنت سے متجاوز ہوتی ہے اس کو بدعت کہتے ہیں، چناچہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ جو پہلے علماء یہود سے تھے اور اس مذہب میں ہفتہ کا روز معظم تھا اور اونٹ کا گوشت حرام تھا ان صاحبوں کو بعد اسلام کے یہ خیال ہوا کہ شریعت موسوی میں ہفتہ کی تعظیم واجب تھی اور شریعت محمدی میں اس کی بےتعظیمی واجب نہیں اسی طرح شریعت موسویہ میں اونٹ کا گوشت کھانا حرام تھا اور شریعت محمدی میں اس کا کھانا فرض نہیں سو اگر ہم بدستور ہفتہ کی تعظیم کرتے رہیں اور اونٹ کا گوشت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سِلْمْ کے معنی اطاعت کے ہیں اور مراد اس سے اللہ و رسول کی اطاعت ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی اسلام کے لیے ہیں۔ لیکن یہ فرق محض ظاہر کا فرق ہے، اس لیے کہ اسلام کی اصل حقیقت اللہ و رسول کی اطاعت ہی ہے۔ یہ لفظ حرب کا ضد بھی آتا ہے اس صورت میں اس کے معنی صلح و امن کے ہوتے ہیں، اس مفہوم میں بھی اسلام کی روح موجود ہے، اس لیے کہ صلح و ام کی اصل راہ اللہ و رسول کی اطاعت ہی ہے۔ کافۃ کے معنی جماعت کے ہیں اور یہ یہاں حال پڑا ہوا ہے۔ قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی یہ اسی شکل میں استعمال ہوا ہے۔ منافقین کو مخلصانہ اطاعت کی دعوت : خطاب اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے عام یعنی تمام مسلمانوں سے ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 208–209

28 ا۔ 1 اہل ایمان کو کہا جا رہا ہے کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اس طرح نہ کرو جو باتیں تمہاری مصلحتوں اور خواہشات کے مطابق ہوں ان پر تو عمل کرلو دوسرے حکموں کو نظر انداز کردو اس طرح جو دین تم چھوڑ آئے ہو اس کی باتیں اسلام میں شامل کرنے کی کوشش مت کرو بلکہ صرف اسلام کو مکمل طور پر اپناؤ اس سے دین میں بدعات کی بھی نفی کردی گئی اور آجکل کے سیکولر ذہن کی تردید بھی جو اسلام کو مکمل طور پر اپنانے کے لئے تیار نہیں بلکہ دین کو عبادت یعنی مساجد تک محدود کرنا اور سیاست اور ایوان حکومت سے دین کو نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس طرح عوام کو بھی سمجھایا جا رہا ہے جو رسوم و رواج اور علاقائی ثقافت و روایات کو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 207–208

137: یہ ان صحابہ کرام کا ذکر ہے جنہوں نے اپنی جانیں اسلام کے مقاصد کے لیے کھپا رکھی تھیں۔ ایسے کئی صحابہ کے واقعات مفسرین نے ذکر کیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اہل ایمان کو بلایا جاتا ہے ایمان کے لقب کے ساتھ جو انہیں بہت ہی پیاری ہے ، جو انہیں امتیاز بخشتی ہے ۔ انہوں اوروں سے ممتاز بناتی ہے۔ جو ان کے اور ان کے پکارنے والے ، ان کے اپنے رب کے درمیان واحد رابطہ ہے ۔ اہل ایمان کو پکار کر دعوت دی جاتی ہے کہ پورے پورے اسلام میں آجاؤ ! اس دعوت کا پہلا اور ابتدائی مفہوم یہ ہے کہ اہل ایمان کلیتاً اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیں۔ اور ان کا پورا وجود ، اپنے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملے میں ، اللہ کے لئے ہوجائے ۔ ان کے تصور اور ان کے شعور ، ان کی نیت اور ان کے عمل ، ان کی خواہش اور ان کی قناعت کا کوئی حصہ بھی آزاد نہ رہ جائے ۔ وہ پورے کے پورے اسلام میں آجائیں ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 پہلی آیت میں مومن مخلص کی مدح فرمائی تھی جس سے نفاق کا ابطال منظور تھا، اب فرماتے ہیں کہ اسلام کو پورا پورا قبول کرو یعنی ظاہر اور باطن اور عقیدہ اور عمل میں صرف احکام اسلام کا اتباع کرو یہ نہ ہو کہ اپنی عقل یا کسی دوسرے کے کہنے سے کوئی حکم تسلیم کرلو یا کوئی عمل کرنے لگو سو اس سے بدعت کا قلع قمع مقصود ہے کیونکہ بدعت کی حقیقت یہی ہے کہ کسی عقیدہ یا کسی عمل کو کسی وجہ سے مستحسن سمجھ کر اپنی طرف سے دین میں شمار کرلیا جائے مثلا نماز اور روزہ جو کہ افضل عبادات ہیں اگر بدون حکم شریعت کوئی اپنی طرف سے مقرر کرنے لگے جیسے عید کے دن عید گاہ میں نوافل کا پڑھنا یا ہزارہ روزہ رکھنا یہ بدعت ہوگا، خلاصہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 208 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص اہل ایمان سے اب وہ بات کہی جا رہی ہے جس کا معکوس converse ہم بنی اسرائیل سے خطاب کے ذیل میں آیت 85 میں پڑھ چکے ہیں : اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ الاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ الآی اَشَدِّ الْعَذَابِ ط کیا تم ہماری کتاب اور دین و شریعت کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو ردّ کردیتے ہو ؟ سو جو کوئی بھی تم میں سے یہ روش اختیار کریں ان کی کوئی سزا اس کے سوا نہیں ہے کہ دنیا میں ذلت ‘ و خواری ان پر مسلط…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

276 یعنی تمہارے عقائد، تمہارے خیالات، تمہارے نظریات، تمہارے علوم، تمہارے طور طریقے تمہارے رسم و رواج اور تمہاری کاروباری زندگی سب کچھ ہی اسلام کے تابع ہونا چاہیے۔ یہ نہ ہونا چاہیے کہ دعویٰ تو اسلام کا کرو اور اپنا معاشی نظام روس سے مستعار لے لو اور سیاسی نظام انگریز سے۔ یا مسجد میں تو تم اللہ کو یاد کرو اور کاروبار کرتے وقت اللہ یاد ہی نہ رہے۔ اور ناجائز طریقوں سے کمائی کرنا شروع کردو یا ڈھنڈورا تو اطاعت رسول ﷺ کا پیٹتے جاؤ اور سب بدعات میں حصے دار بنتے رہو۔ یا لا الہ الا اللہ کا ورد بھی کرتے رہو اور پیروں اور بزرگوں سے استمداد بھی طلب کرتے رہو۔ غرض یہ ہے کہ تمہاری زندگی کا ہر ہر پہلو اسلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

760 ۔ حکم خاص طور پر قابل غور ہے۔ اسلام صرف چند عقائد یا صرف چند عبادات یا صرف چند قوانین کا نام نہیں۔ وہ تو ایک جامع ومانع نظام حیات ہے، ایک مکمل ومنظم دستور زندگی ہے۔ انسانیت کے ایک ایک شعبہ ہر ہر گوشہ پر حاوی۔ اور اس کا ہر جزو، اس کے کل سے، اس کے دوسرے اجزاء سے نہایت درجہ ملحق ومرتبط، یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص توحید تو اسلام سے لے لے، لیکن عبادات کے لیے مسجد، مندر، کلیسا سب کو یکساں سمجھے یا رسالت پر تو ایمان لے آئے، لیکن معاشیات کے قاعدے کارل مارکس سے اور اخلاق کے ضابطے گوتم بدھ سے لینے جائے، معادیات، معاشیات، اخلاقیات اجتماعیات، اسلام کے سب اپنے ہیں، کسی اور فلسفہ کسی اور دین کسی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 208–209

یَآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا ادْخُلُوْا فِی السِّلْم کَافَّۃً ، یعنی کسی استثناء اور تخصیص کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ، تمہارے خیالات نظریات تمہارے علوم تمہارے طور و طریقے تمہارے معاملات تمہاری سعی وعمل کے راستے سب کے سب باکل تابع اسلام ہوں ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کے مختلف حصوں کو اس کی پیروی سے مستثنیٰ کرلو۔ ربط آیات اور شان نزول : ابن جریر نے عکرمہ سے نقل کیا ہے فرمایا : کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ہمیں اجازت عطا فرمائیں کہ ہم یوم السبت کا احترام کریں اور اونٹ کا گوشت ترک کریں تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً ۠ ( اے ایمان والو ! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے) سلم کسرہ اور فتحہ سین سے صلح اور طاعت کو کہتے ہیں اور اسی واسطے اس کا اطلاق اسلام پر بھی آیا ہے اور یہاں مراد اسلام ہی سے ہے۔ نافع اور ابن کثیر اور کسائی نے السلم کو یہاں فتح سین سے اور باقی قراء نے کسرہ سے پڑھا ہے اور ابوبکر نے اسی لفظ کو سورة انفال میں کسرہ سے اور باقی قراء نے فتح سے پڑھا ہے کافہ کے معنی کل ہیں کیونکہ کف کہتے ہیں روکنے کو چونکہ کل بھی اجزائی پراگندگی سے مانع ہوجاتا ہے اس لیے اس کو کافہ کہنے لگے اور کافہ یا تو ادخلوا کے ضمیر سے اور یا اسلم سے حال ہے اسلم بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(208) مومنو ! پورے طور پر رسول اکرم ﷺ کے دین میں داخل ہوجاؤ ہفتہ اور اونٹ کے گوشت کی حرمت وغیرہ میں شیطان کی جعل سازی میں مت آؤ وہ تمہارا کھلا ہوا دشنمن ہے۔ س شان نزول : (آیت) ”یا ایھا الذین امنوا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ثعلبہ ؓ ابن یامین ؓ اسد بن کعب ؓ اسید بن کعب ؓ سعید بن عمرو ؓ اور قیس بن زید ؓ اہل کتاب میں سے ان سب حضرات نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ! یا رسول اللہ ﷺ ہفتہ کے دن کی ہم تعظیم کرتے ہیں ہمیں اس کی تعظیم کی اجازت دیجئے اور توریت بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ہمیں رات کو اس پر عمل کرنے کی اجازت دیجیے، اس پر یہ آیت مبارکہ اتری کہ ”اے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مخلص مومن کی مدح و ستائش کے بعد تمام مومنوں کو حکم ہوتا ہے کہ تم بھی پورے اسلام اور ساری شریعت پر چلو، یہ نہیں کہ اسلام کے کچھ احکام پر عمل کرلیا، باقی چھوڑ دیے۔ نماز روزہ کی پابندی کرلی اور عقیدے میں شرک، تجارت میں سود، عدالتوں میں غیر اللہ کا قانون، معاشرت میں ہندو، نصرانی، یہودی تہذیب اختیار کیے رکھی اور اسے زمانے کا تقاضا اور ترقی پسندی قرار دے لیا۔ یہود کی رسوائی کا باعث بھی یہی طرز عمل تھا، جیسا کہ فرمایا : (اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۚ) [ البقرۃ : 85 ]”پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو۔“ اس میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جب اللہ تعالیٰ لوگوں کے مومن، کافر اور منافق ہونے کے بارے میں بیان کرچکا تو فرمایا : تم ایک دین پر ہوجاؤ اور اسلام پر جمع ہوجاؤ اور اسی پر ثابت قدم ہوجاؤ۔ پس اس آیت میں ” السلم “ بمعنی اسلام ہے۔ مجاہد نے اسی طرح کہا ہے، اور اسے ابو مالک (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور اسی کے مطابق کندی شاعر کا قول بھی ہے : دعوت عشیرتی للسلم لما رأیتھم تولوا مدبرینا ؛ میں نے اپنے خاندان کو اسلام کی دعوت دی جب میں نے انہیں دیکھا تو وہ پیٹھیں پھیر کر واپس چلے گئے۔ یعنی میں نے انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جبکہ اہل کندہ حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد اشعث بن قیس کندی کے ساتھ مرتد ہوگئے۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 208–209

اسلام میں مکمل داخل ہونا (1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ “ کہ انہوں نے ” کافۃ “ کو نصب کے ساتھ پڑھا یعنی اہل کتاب کے ایمان والے لوگ جبکہ وہ اللہ پر ایمان کے ساتھ تھے مضبوطی سے پکڑے ہوئے تو رات پر بعض حکم اور شرائع کو جو ان کے بارے میں نازل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد ﷺ کے دین کی شریعت میں مکمل طور پر داخل ہوجاؤ اور اس میں سے کوئی چیز نہ چھوڑو اور کافی ہے تمہارا ایمان لانا تورات کے ساتھ اور جو کچھ اس میں ہے۔ (2) ابن جریر نے عکرمہ (رح) عنہ سے لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [ ادْخُلُوْا : تم لوگ داخل ہو ] [ فِی السِّلْمِ : اسلام میں ] [ کَآفَّۃً : کل کے کل ] [ وَلاَ تَـتَّبِعُوْا : اور پیروی مت کرو ] [ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ : شیطان کے نقوش قدم کی ] [ اِنَّــہٗ : یقینا وہ ] [ لَــکُمْ : تم لوگوں کے لیے ] [ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ: ایک کھلا دشمن ہے ] کف کَفَّ (ن) کَفًّا : (1) ہتھیلی مار کر کسی کو روکنا۔ (2) ہتھیلیوں سے کوئی چیز جمع کرنا۔ { وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِ ‘ یْلَ عَنْکَ } (المائدۃ :110) ” اور جب میں نے روکا بنواسرائیل کو آپ (علیہ السلام) سے۔ “ کَفٌّ (اسم ذات بھی ہے) : ہتھیلی ۔ { اِلَّا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اسلام میں پورے طور پر داخل ہونے کا حکم آیت کے شان نزول کے بارے میں لکھا ہے کہ بعض صحابہ ؓ جو پہلے یہودی تھے انہوں نے سنیچر کے دن کی تعظیم کو باقی رکھنا چاہا جو شریعت موسوی میں تھی اور اونٹ کا گوشت کھانے سے پرہیز کرنا چاہا کیونکہ یہودیت کے زمانہ میں نہیں کھاتے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ توریت بھی تو اللہ کی کتاب ہے، ہم اس کو تہجد کی نماز میں پڑھ لیا کریں (جیسا کہ قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی ہے) اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور حکم فرمایا کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ، شریعت محمدیہ کے آنے کے بعد اب کوئی شریعت باقی نہیں رہی۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 208–210

حکم دوازدھم، استسلام تام و قبول جمیع احکام اسلام۔ قال تعالی، یا ایھا الذین امنو ادخلوا۔۔۔ الی۔۔ الامور۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں ایمان اور اخلاص کا ذکر تھا اس آیت میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایمان اور اخلاص کا مقتضی یہ ہے کہ دین اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور اسلام میں داخل ہونے کے بعد دین سابق یعنی یہودیت اور نصرانیت کی رعایت سے کوئی کام نہ کرو ایک دین میں داخل ہونے کے بعد دوسرے دین کی طرف بھی نظر رکھنا یہ اخلاص کے منافی ہے نیز جو شخص اپنے نفس کو اللہ کے ہاتھ فروخت کرے اور اس کی رضا اور خوشنودی کا طلب گار ہو اور اس کی اس خاص رحمت ورافت کا امیدوار ہو جو عباد مخلصین پر نازل ہوتی ہے تو اس کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

396 یہ جہاد کی تیسری ترغیب ہے۔ کَافَّةً ادخلوا کی ضمیر سے حال ہے اور سلم کے معنی استسلام اور اطاعت کلی کے ہیں۔ یعنی تم سارے کے سارے مکمل طور پر اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ اور کوئی اس اطاعت سے باہر نہ رہے۔ ای استسلموا اللہ واطیعوہ۔ کافة لا یخرج احد منکم یدہ عن طاعتہ (مدارک ص 82 ج 1) یا اس کے معنی امن اور صلح وآشتی کے ہیں اور اس سے مراد دین اسلام ہے۔ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۔ احکام کی جگہ جاہلانہ رسوم کی پابندی مت کرو۔ اور نہ ہی ایسا کرو کہ اسلام کے بعض احکام کو مانو اور بعض احکام کو نہ مانو۔ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے وہ ہمیشہ تمہیں گمراہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 208–210

مکمل اسلام گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت اور مخلص ایمان والوں کی تعریف بیان کی گئی تھی کہ وہ اپنی جان اور مال ہر چیز اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے قربانی کرنے کو تیار ہوتے ہیں اب ان مخلص مئومنین سے خطاب ہے۔ یایھا الذین امنوا داخلوا فی السلم کآفۃ اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو۔ کافۃ کا معنی جمیعاً ہوتا ہے۔ یعنی انسان اپنے جسم کے لحاظ سے اور ادھر احکام شریعت کے لحاظ سے پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجائیں۔ وفاداری صرف اور صرف اسلام سے ہو ، باقی تمام ادیان ، بدعات ، رسومات باطلہ وغیرہ سے مکمل طور پر علیحدگی ہو۔ کیونکہ یہ چیزیں اسلام کے منافی ہیں۔ اگر اسلام کے ساتھ ساتھ ایسی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً۝ 0 ۠ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۝ 208 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 208–211

ترکیب : کافۃ من الکف کانہم کفوا ان یخرج منہم احد باجتماعہم۔ حال ہے فاعل ادخلو فی السلم سے ای فی السلم من جمیع وجوہیہ فان زللتم شرط فاعلموا الخ جملہ جواب فی ظلل جمع ظلۃ یہ ظرف ہے اور ممکن ہے کہ حال ہو من الغمام صفت ہے ظلل کی۔ سل فعل انت اس کا فاعل بنی اسرائیل مفعول اول کم استفہامیہ اتینا فعل بافاعل ھم مفعول اول اور کم من اٰیۃ بینۃ اس کی تمیز مجموعہ مفعول ثانی پھر یہ تمام جملہ مفعول ثانی ہوا سل کا محلا یہ جملہ منصوب ہے اور یہ سوال بطور تہدید کے ہے یہ خطاب صرف آنحضرت ﷺ کو نہیں بلکہ ہر مخاطب کو۔ تفسیر : اگلی آیت میں ذکر تھا کہ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جن کا ظاہر حال اچھا معلوم ہوتا ہے مگر درپردہ برے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 207–208

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَـآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ رَئُ وْفٌ م بِالْعِبَادِ ۔ ( اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضاجوئی کے لیے اپنے آپ کو بیچ دیتے ہیں ‘ اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے) (207) اسلامی قافلے کا اصل اثاثہ منافقین کی اس مایوس کن اور حوصلہ شکن تصویر کشی کے بعد پروردگار اس آیت کریمہ میں ایک اور تصویر دکھا رہے ہیں۔ اس تصویر دکھانے سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے گردوپیش میں ایسے ہی کم ظرف اور تھڑدلے لوگ موجود ہیں جن پر کسی طرح بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ انھیں دکھایا جارہا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 208–210

فہم القرآن ربط کلام : منافق اور سب لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی سوچ اور کردار کو کلی طور پر دائرہ اسلام میں داخل کرو یہی سلامتی کا راستہ اور شیطان کی پیروی سے محفوظ رہنے کا طریقہ ہے۔ اس کے سوا گمراہی ہے۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ جو رسول اللہ ﷺ کی ہجرت مدینہ کے معًا بعد مسلمان ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک مجلس میں ان خیالات کا اظہار کیا کہ کیا حرج ہے اگر ہم ہفتہ کے دن کی تعظیم کریں اور اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیں ؟ اس طرح ہمارے اور یہودیوں کے درمیان مفاہمت کی فضا پید اہوسکتی ہے۔ اس صورت حال پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے مسلمانو ! لوگوں کے دباؤ یا مفاہمت کے جذبہ کی خاطر باطل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

208۔ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہ ‘ لَکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْم بَعْدِ مَاجَآئَ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ: (اے ایمان والو داخل ہوجائو اسلام میں پورے پورے اور شیطان کے قدموں پر مت چلو۔ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ پھر اگر تم پھسل گئے اس کے بعد کہ واضح دلائل تمہارے پاس آچکے تو یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والے ہیں) قراءت : یٰٓـاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِِ ٗ علی اور حجازی نے سین کے فتح کے ساتھ پڑھا ہے سلم کا معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 208۔: (آیت)” یا ایھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ “ اہل حجاز اور کسائی (رح) نے اس جگہ ” السلم “ سین کی زبر کے ساتھ پڑھا اور باقیوں نے سلم سین کی زیر کے ساتھ پڑھا اور سورة انفال میں سین کی زیر کے ساتھ اور ابوبکر اور باقیوں نے سین کی زیر کے ساتھ اور ابوبکر اور باقیوں نے سین کی زبر کے ساتھ اور سورة محمد ﷺ میں زیر کے ساتھ حمزہ (رح) اور ابوبکر (رح) پڑھا ہے یہ آیت کریمہ مؤمنین اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ، حضرت عبداللہ بن سلام نضیری اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اور یہ اس طرح کہ وہ حضرات ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے اور اونٹ کے گوشت اور اونٹنی کے دودھ سے اسلام لانے کے بعد بھی اظہار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 208–209

(208 ۔ 209) ۔ بعض اہل کتاب جو اسلا لے آئے تھے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے ایک دن عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دے دیں تو ہمارا جی چاہتا ہے کہ جس طرح ہفتہ کے دن کی تعظیم ہم لوگ یہود ہو کر ادا کیا کرتے تھے ایک رات ہم پھر وہ رسم ادا کرلیں اور رات تورات کی چند آیتوں کے موافق عمل کرنے کا ہمارے دین میں حکم تھا وہ بھی بجا لائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ناسخ حکم کے معلوم ہوجانے کے بعد منسوخ حکم پر عمل کرنے کا خیال دل میں لانا شیطان کی پیروی ہے اللہ کے حکم کی پیروی نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ سِلْمُ کے معنی اس آیت میں اسلام کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 207–208

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ ” اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو بیچ دیتا ہے اپنے آپ کو اللہ کی رضا جوئی میں اور اللہ بڑا مہربان ہے بندوں پر “۔ یہی لوگ توفیق یافتہ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو ارزاں داموں میں بیچ دیا اور اللہ کی رضا کے حصول اور ثواب کی امید پر اپنی جانوں کو قربان کردیا۔ پس انہوں نے ” بندوں کے ساتھ انتہائی مہربان، پورا بدلہ دینے والے مال دار کو قیمت ادا کی ہے، وہ مہربان کہ جس کی شفقت و رحمت ہی سے ہے کہ اس نے ان کو اس قربانی کی توفیق بخشی اور اس نے اس قربانی کے پورے بدلے کا وعدہ فرمایا (آیت) ان اللہ اشتری من…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 206–209

قول باری ہے (فاعلموا ان اللہ عزیز حکیم۔ جان لو کہ اللہ عزیز و حکیم ہے) عزیزوہ ذات ہے جو غالب و قوی ہو اور اسے اس بات کی پوری قدرت ہو کہ جو چاہے روک دے اور جو چاہے نہ روکے۔ اس لئے کہ عزت کے اصل معنی امتناع کے ہیں۔ اسی محاورہ ہے : ایسی سر زمین جو شدت اور صعوبت کی بنا پر ممتنع الوصول ہو۔ لفظ الحکیم کا اطلاق اللہ کی صفت میں دو معنوں پر ہوتا ہے۔ ایک العالم (جاننے والا) جب یہ معنی مراد ہو تو یہ کہنا جائز ہے کہ اس کا علم ہمیشہ سے ہے۔ دوسرا معنی متفن و محکم فعل یعنی پختہ اور محکم کام کرنے والا جب یہ معنی مراد ہو تو یہ کہنا جائز نہیں ہوگا وہ ہمیشہ سے حکیم ہے جس طرح کہ یہ کہنا جائز نہیں کہ وہ ہمیشہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

574 اسلام کے حظیرہ قدس میں پورے کے پورے داخل ہونے کا حکم و ارشاد : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اسلام میں داخل ہوجاؤ پورے کے پورے۔ اپنے عقیدہ و عمل اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے۔ اور زندگی کے تمام احکام و مسائل میں اسلام ہی کی طرف رجوع کرو۔ یہ نہیں کہ کچھ احکام یہاں سے لو، اور کچھ وہاں سے، اور کسی کام کیلئے ادھر رجوع کرو، اور کسی کے لئے ادھر۔ روایات میں ہے کہ اہل کتاب میں سے بعض حضرات نے ایمان لانے کے بعد ایک موقع پر آنحضرت ﷺ سے یہ درخواست کی کہ اگر ہم تورات کے بھی کچھ ایسے احکام پر عمل کرلیں جو کہ اسلامی تعلیمات سے متصادم نہیں ہیں، تاکہ اس طرح دونوں کتابوں پر عمل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 208–210

مکمل ضابطہ حیات اور منکرین کی ہٹ دھرمی تشریح : یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہ یہودی علماء میں سے تھے۔ اسلام لانے کے بعد ان کو خیال ہوا کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو یہودی مذہب میں جائز تھیں کیوں نہ ان کو بھی اپنے عمل میں جاری رکھا جائے۔ وہ باتیں یہ تھیں یہودی ہفتہ کے دن کو مقدس سمجھتے تھے، اونٹ کے گوشت اور دودھ کو حرام سمجھتے تھے۔ حضرت عبداللہ ؓ اور کچھ دوسرے نو مسلم یہودی علماء نے سوچا کہ چلو کچھ یہودیت کے عقیدوں کو مانے رکھتے ہیں اور کچھ اسلام کے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات جاری کی گئیں کہ یہ رویہ بالکل غلط ہے۔ اگر مسلمان ہونا ہے تو پھر پورے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 197–210

آیات 197- 210 اسرارو معارف الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔ احکام حج : عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 مومن مخلص کی مدح و ستائش کے بعد تمام مومنوں کو حکم ہوتا ہے کہ تم بھی پورے اسلام اور ساری شریعت پر چلو۔ اس آتی کا نزر ان اہل کتاب کے بارے میں ہوا ہے جو مسلمان ہونے کے بعد بھی خود ساختہ بد عات اومحد ثات پر عمل پیرا رہنا چاہتے تھے۔ (شوکانی۔ ترجمان) ان کو متنبہ کیا کہ اسلام قبول کرلینے کے بع اب زندگی کے دوسرے فلسفوں کو چھوڑ کر عقائد و اعمال اور اخلاق و معاشرت کے باب میں السلم یعنی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا پڑے گا اور اس سے کسی طور انحراف بھی شیطان کے نقش قدم پر چلنا ہے۔ گمراہی کا سر چشمہ یا تو روشن خیالی اور جدت پسندی ہے اور یا پھر توہم پرستی اور اہل تصوف کی بد عات ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:208) فی السلم۔ اسلام۔ اسم ہے مذکر مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ کافۃ۔ ادخلوا فی السلم کے فاعل سے حال ہے۔ اسم فاعل مفرد ہے۔ مؤنث منصوب ۔ کاف مذکر۔ کا فات جمع کف مادہ ومصدر۔ دفع کرنا۔ اسم فاعل مفرد مذکر منصوب بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ۃ علامت مبالغہ ہے یہ تنقیح لفظی ساخت کی ہے۔ استعمال میں کافۃ ہمیشہ حال منصوب اور نکرہ آتا ہے جس کے معنی ہیں سب کے سب پورے کے پورے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے۔ وقاتلوا المشرکین کافۃ (9:36) تم سب کے سب کافروں سے لڑو۔ اور وما ارسلنک الا کافۃ للناس (34:27) اور ہم نے تم کو سب لوگوں کے لئے بھیجا ہے۔ ولا تتبعوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم اتباع مت کرو۔ تم پیروی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 208–210

لغات القرآن : آیت نمبر 208 تا 210 السلم (سلامتی ) ۔ کافۃ (پوری طرح۔ پورے پورے) ۔ زللتم (تم بھٹک گئے) ۔ ظلل (سائے (ظل، سایہ) ۔ قضی (فیصلہ کردیا) ۔ الامر (کام، حکم ) ۔ ترجع (لوٹائے جائیں گے) ۔ الامور (تمام کام (الامر، کام) ۔ تشریح : آیت نمبر 208 تا 210 دین اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور دنیا کے تمام نظاموں اور ازموں میں ایک امتیازی شان رکھتا ہے۔ قرآن کریم کے ابدی اصولوں اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور ارشادات نے زندگی کے ہر شعبہ میں کامل رہنمائی فرمائی ہے۔ عقائد، عبادات ، معاملات، معاشرت ، معیشت ، حکومت ، سیاست ، تجارت، زراعت ، صنعت و حرفت غرض یہ کہ زندگی کے ایک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 204–210

شان نزول : بعضے مفسرین نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص اخنس بن شریک منافق کی شان میں یہ آیت اتری ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ کے پاس آتا تھا تو اسلام کی تائید میں بڑی میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور جب آپ کے پاس سے جاتا تھا تو اسلام کی بد خواہی کی باتیں کرتا تھا اور طرح طرح کے جھگڑے اور فساد کھڑے کرتا تھا اور بعضوں نے کہا ہے کہ واقعہ رجیع کی خبر جب مدینہ میں پہنچی تو بعضے منافقوں نے ظاہر میں تو مسلمانوں کی ہمدردی کے کلمات ان شہداء کی شان میں منہ سے نکالے لیکن باطن میں ان شہداء اور مسلمانوں کی ہجو اور مذمت مقصود تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کی مذمت میں شہدائے رجیع کی مدح میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 208–209

[140] یعنی اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ جو ایک مکمل نظام حیات ہے اور تمام شعبہ ہائے زندگی پر حاوی ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ تم زندگی کے بعض حصوں میں تو اسلام کی پیروی کرو اور بعض حصوں کو اس کی پیروی سے خارج کردو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

پورا پورا اسلام : (ف 2) اسلام ایک نظام عمل عقائد ہے ، جب تک کسی نظام کو پوری طرح نہ مانا جائے متوقع فوائد کا مرتب ہونا ناممکن ہے ، اسی طرح وہ لوگ جو چند باتوں کو تو مان لیتے ہیں لیکن اکثر کا عملا انکار کردیتے ہیں ، وہ اسلام کو بحیثیت ایک نظام کے نہیں مانتے ، یہودیوں اور عیسائیوں میں آخر کار یہی مرض پیدا ہوگیا تھا ، جس پر قرآن حکیم نے ڈانٹا (آیت) ” افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض “۔ (کہ تم کتاب کے بعض مفید مطلب حصوں پر تو عمل پیرا ہو ، مگر اہم اور ایثار طلب حصے تمہارے دائرہ عمل سے خارج ہیں ، یہ کیا تماشہ ہے ؟ مسلمانوں سے بھی قرآن حکیم کا مطالبہ یہی ہے کہ اگر اسلام ہمہ صداقت ہے تو پھر کوئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 208–210

ف 1 اے ایمان والو ! تم اسلام میں پوری طرح داخل ہوجائو اور اسلام کے تمام احکام مانو ! اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو اور اس امر کا یقین کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے پھر اگر اس کے بعد بھی کہ تم کو صاف صاف احکام اور واضح اور روشن دلائل پہونچ چکے ہیں تم سیدھی راہ سے ڈگمگا جائو گے اور پھسل جائو گے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست اور بڑی رحمت کا مالک ہے کیا یہ لوگ جو دلائل کی روشنی حاصل ہونے کے بعد بھی راہ مستقیم سے ہٹتے ہیں صرف اس بات کی راہ دیکھ رہے ہیں اور صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس آئیں اور تمام کاموں کا فیصلہ ہی کردیاجائے اور تمام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 205–209

ف 1۔ کوئی شخص تھا اخنس بن شریق، بڑا فصیح وبلیغ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آکر قسمیں کھاکر جھوٹا دعو اسلام کا کیا کرتا تھا اور مجلس سے اٹھ کرجاتا تو فساد و شرارت وایذارسانی خلق میں لگ جاتا اس منافق کے باب میں یہ آیت فرمائی ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پورے پورے مسلم بن جاؤ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ 358: جس طرح اخلاص اور حسن نیت کے ساتھ تم نے احکام حج ادا کئے ہیں ایسے ہی تم میں سے ہر شخص جہاد فی سبیل اللہ میں شریک اور آئندہ تمہیں جو حکم دیا جائے اس کو پوری پابندی کے ساتھ ادا کرو۔ اسلام یہی نہیں کہ نماز ، روزہ ادا کردیا اور مطمئن ہوگئے بلکہ تمام احکام کو پورا کرنا اورانَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ00162 ( الانعام 6 : 163) کی حقیقت کو اپنے اوپر طاری کرلینا اسلام ہے۔ اس کے وجود سے دنیا میں ہر نیکی کا قیام اور برائی دور ہو ، عیش پر ستی اور آرام طلبی شیطان کی تعلیم ہے اور تباہی و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 208–210

The previous verses ended with a word of praise for the sincere. As sincerity (ikhlas اخلاص) can sometimes touch the limits of excess inadvertently, that is, one does intend to come up with more obedience, but that obedience, when observed carefully, turns out to be exceeding the limits set by the Shari'ah and Sunnah. This is called bid'ah بدعت . This can be explained through the example of the blessed Companion ` Abdullah ibn Salam ؓ and others who were, previous to their Islam, known scholars among the Jews. Since Saturday was the sacred day of rest (the Sabbath اَسَّبت) in Judaism, and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

226. God demands that man should submit, without reservation, the whole of his being to His will. Man's outlook, intellectual pursuits, behaviour, interaction with other people and modes of endeavour should all be completely subordinate to Islam. God does not accept the splitting up of human life into separate compartments, some governed by the teachings of Islam and others exempt.

Read the full tafseer →